WĀ ÃALAY HÊÊ

WĀ ÃALAY HÊÊ اَلّلَھُمَّ صَلٌِ عَلٰی مُحَمَّدٍوٌَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍوٌَعَجٌَل فَرَجَھُم

22/02/2026
03/02/2026
03/02/2026

🕌*“کربلا بمقابلہ پیٹرو‑ڈالر”*☠️
👈اسلام کی دو راہیں — حسینی اور درباری۔
اسلام ایک ہے… لیکن کربلا کے بعد سے آج تک، دو اسلام چل رہے ہیں۔
ایک کربلا کا اسلام اور دوسرا درباری اسلام۔
کربلا کا اسلام کہتا ہے:
👉 “ظلم کے سامنے کھڑے ہو جاؤ، حق کہو، ظالم کی ہاں میں ہاں مت ملاؤ”
درباری اسلام کہتا ہے:
👉 “حالات سمجھو… چپ رہو… سمجھوتہ کرو” طاقتور حاکموں کی ہاں میں ہاں ملاؤ اور خاموشی سے زندگی گزارو۔
ایک نے سر کٹایا، سر نہیں جھکایا۔
دوسرے نے سر سلامت رکھا اور روز سر جھکایا۔
اور آج ایک ہی سوال ہے— تم کس اسلام کے ساتھ کھڑے ہو؟
🩸 کربلا — خون سے لکھا گیا اسلام۔
کربلا کوئی میدان نہیں تھا— وہ ایک فیصلہ تھا جہاں 72 لوگ پوری سلطنت کے سامنے کھڑے تھے۔ جن کے ساتھ بھوک تھی، پیاس تھی، بچے تھے، عورتیں تھیں لیکن ضمیر کا سودا نہیں تھا اور اسی میدانِ کربلا سے امام حسین نے کہا—
“مجھ جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔”
یہ حسینی اسلام تھا— جو طاقت نہیں حق دیکھتا ہے۔ یہ اسلام تھا— جو جیت نہیں سچ دیکھتا ہے۔
💰 پیٹرو‑ڈالر پر — خریدا ہوا درباری اسلام۔
انگریزوں کے تلوے چاٹے، اصلی اسلام چھوڑ کر درباری اسلام لے لیے۔ ان کے اشارے پر قتل و غارت گری کی چھوٹی چھوٹی حکومتیں ملیں۔ انگریزوں نے تیل نکالا، ڈالر آیا، محل بنے، عیش و عشرت ہونے لگی اور اصلی اسلام کو مٹانے کی سازش شروع ہوئی۔
💵 پیٹرو‑ڈالر سے دنیا بھر میں مسجدیں بنوائی گئیں۔
📦 قرآن فری بانٹے گئے۔
🎓 مدرسے کھڑے کیے گئے۔
🎤 ملا تیار کیے گئے۔
ایک خوبصورت اور دھوکہ دینے والا نعرہ سکھایا—
👉 “صرف اللہ کے آگے جھکو، کسی اور کے آگے جھکنا شرک ہے”
اور حقیقت؟ یہ ہے کہ یہی لوگ خدا کے آگے کبھی نہیں جھکے، برطانیہ اور امریکہ کے آگے جھک گئے اور اسرائیل کے بنتے ہی اسرائیل کے آگے جھک گئے، یورپ کے آگے جھک گئے اور اب تو پوری طرح لیٹے ہوئے ہیں۔ اور ایسے ہی مسلم حکمرانوں کے پیچھے پیچھے پیٹرو ڈالرز پر پلنے والے امامِ کعبہ سے لے کر دن رات شرک شرک کرنے والا ایک ایک ملا منہ کے بل لیٹا ہوا ہے اور بہت پریشان ہے کہ کہیں پیٹرو ڈالر نہ رک جائے۔ حالاتِ حاضرہ پر جب ان سے سوال کیجئے کہ یہ عرب ممالک فلسطین کی حمایت میں امریکہ اسرائیل کے خلاف فوج کیوں نہیں بھیجتے، کیوں قرآن پر عمل نہیں کرتے، قرآن بانٹتے ہیں مگر مظلوم فلسطینیوں کی مدد نہیں کرتے، اور کیوں قرآن کے منع کرنے کے باوجود مسلمانوں پر ظلم کرنے والے یہود و نصاریٰ کو سرپرست بنائے ہوئے ہیں، تو شرک شرک رٹنے والا ملا کہتا ہے: وہ لوگ ہم سے بہتر سمجھتے ہیں، امریکہ اسرائیل سے لڑنا خودکشی ہے، دعا کیجئے دعا، اللہ کرم فرمائیں گے۔
🧨 پیٹرو‑ڈالر والے درباری اسلام کا اصلی ایجنڈا
یہ اسلام ظالم سے لڑنا نہیں، مظلوم کو صبر کرنا سکھاتا ہے۔
درباری اسلام کہتا ہے—
❌ فلسطین مٹا دیا جائے مت بولو۔
❌ قبلۂ اوّل گرا دیا جائے مت بولو۔
❌ اسرائیل کا نام مت لو۔
❌ امریکہ پر سوال مت اٹھاؤ۔
❌ صرف زبان سے مذمت کرو اور دل سے امریکہ اسرائیل کے ساتھ رہو۔
یہ درباری اسلام یزید کو حکمران اور حسین کو فسادی بتاتا ہے۔
🧨 پیٹرو‑ڈالر والے درباری اسلام کو آج بھی کربلا سے ڈر لگتا ہے؟
کیونکہ کربلا پوچھتا ہے—
👉 “ظالم امریکہ اسرائیل کے ساتھ کیوں ہو؟”
👉 “چپ کیوں ہو؟”
👉 “سچ بولنے سے ڈر کیوں؟”
کربلا کرسی نہیں بچاتا، کربلا ضمیر جگاتا ہے۔
اسی لیے پیٹرو‑ڈالر والا درباری اسلام— سب سے زیادہ کربلا سے ڈرتا ہے۔ کربلا کو سسٹم نہیں بننے دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ درباری اسلام والے کربلا کے ذکر کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ ان کی سب سے بڑی دشمنی کربلا کے ذکر سے ہے۔
🧨 خامَنَہ آئی — کربلا کا زندہ چہرہ
یہیں سے ❌ خامَنَہ آئی اور ایران کا انقلاب سمجھ میں آتا ہے۔
❌ خامَنَہ آئی پیٹرو‑ڈالر سے نہیں بنے، وہ کربلا سے بنے ہیں، وہ کربلا کے ذکر کا صدقہ ہیں۔
وہ کہتے ہیں—
👉 “اگر امریکہ اور اسرائیل ظالم ہیں تو اُسکی مخالفت عبادت ہے۔”
👉 “اگر امریکہ ظلم کرتا ہے تو اس سے ڈرنا گناہ ہے۔”
اسی لیے وہ نہیں جھکتے، کیونکہ حسینی اسلام والے ہیں، درباری نہیں ہیں۔
ان کے سامنے صرف ایک راستہ ہے اور وہ حق اور شہادت کا راستہ ہے۔
💣 اصلی ٹکراؤ
آج جنگ ایران اور امریکہ کی نہیں ہے— آج جنگ ہے—
🩸 کربلا بمقابلہ پیٹرو‑ڈالر
🕌 ضمیر بمقابلہ وائٹ ہاؤس اور محل۔
ایک طرف ڈالر سے چلنے والا درباری اسلام، دوسری طرف خون دے کر حاصل کیا گیا اسلام۔
⚡ نتیجہ: آخری فیصلہ
جو اسلام ظالم سے سوال نہیں کرتا وہ اسلام نہیں— درباری مذہب ہے۔
اور جو اسلام ظلم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے— وہی کربلا والا اصلی حسینی اسلام ہے، وہی اصلی اسلام ہے۔
اب فیصلہ تمہارا ہے—
👉 کربلا؟ یا 👉 پیٹرو‑ڈالر؟
حسینی اسلام یا پیٹرو ڈالر والا درباری اسلام!
یاد رکھیے، یہ دونوں کبھی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

✍️*شوکت بھارتی*

03/02/2026

☠️معاویہ بن ابوسفیان نے بدھ کے دن جمعہ کی نماز پڑھائی
1️⃣ تاريخ دمشق — ابن عساكر (اصل و بنیادی ماخذ)
نص:
قال المدائني:
أنَّ معاويةَ صلّى بالناسِ الجمعةَ يومَ الأربعاء.
حوالہ:
تاريخ دمشق، ابن عساكر
ج 59، ص 140–141
🔹 یہ اصل تاریخی روایت ہے
🔹 تمام بعد کے مؤرخین نے یا تو اسی سے لیا یا اسی پر سکوت کیا
2️⃣ سير أعلام النبلاء — امام ذہبی (تثبیت بالاشارہ)
امام ذہبی نے معاویہ کے ترجمہ میں مدائنی کے عجائب و غرائب میں سے اس واقعے کی طرف اشارہ کیا:
حوالہ:
الذهبي، سير أعلام النبلاء
ج 3، ص 132
🔹 امام ذہبی:
نہ اس واقعے کو جھٹلاتے ہیں
نہ مدائنی پر جرح کرتے ہیں
بلکہ اشارہ کر کے گزر جاتے ہیں
یہ اہلِ سنت کے ہاں قبولِ تاریخی مع السکوت کی واضح مثال ہے۔
3️⃣ ميزان الاعتدال — امام ذہبی (مدائنی کا تعارف)
یہ حوالہ بہت اہم ہے، کیونکہ یہاں مدائنی کی حیثیت واضح ہوتی ہے:
نص (خلاصہ):
المدائني…
إمام في أخبار الناس وأيامهم
حوالہ:
ميزان الاعتدال، الذهبي
ج 3، ص 140
🔹 یعنی:
مدائنی حدیث کے امام نہیں
مگر تاریخ و ایّام کے امام ہیں
پس ان کے تاریخی واقعات اصولاً معتبر مانے جاتے ہیں
4️⃣ لسان الميزان — ابن حجر عسقلانی
ابن حجر نے بھی مدائنی کے بارے میں وہی منہج اپنایا:
مفہوم:
وہ تاریخ میں وسیع العلم ہیں،
اگرچہ حدیث میں ان پر اعتماد نہیں
حوالہ:
لسان الميزان، ابن حجر
ج 4، ص 223
🔹 اس کا لازمی نتیجہ:
مدائنی کی تاریخی روایات رد نہیں کی جاتیں
جب تک ان میں صریح انکار یا معارض ثابت نہ ہو
5️⃣ تاريخ الإسلام — امام ذہبی (اجمالی قبول)
امام ذہبی نے تاريخ الإسلام میں معاویہ کے سیاسی تصرفات کو ذکر کرتے ہوئے:
بعض امور تفصیل سے
بعض کو اجمالاً بیان کیا
بدھ کے دن جمعہ والا واقعہ:
یہاں تفصیل سے نہیں
مگر نفی بھی نہیں
یہ بھی اسی قاعدے کے تحت ہے:
ما لم يُنكر، فهو مقبول تاريخاً
6️⃣ البدایة والنهاية — ابن کثیر (معروف طرزِ سکوت)
ابن کثیر:
مدائنی سے بکثرت نقل کرتے ہیں
مگر بعض حساس واقعات پر خاموشی اختیار کرتے ہیں
یہی وجہ ہے کہ:
وہ اس واقعے کو نہ نقل کرتے ہیں
نہ اس کا رد لکھتے ہیں
اور اہلِ سنت کے اصول کے مطابق:
یہ سکوت = تاریخی اضطراب، نہ کہ تکذیب
7️⃣ کیا کسی سنی عالم نے صراحتاً انکار کیا؟
یہ سب سے فیصلہ کن سوال ہے، اور جواب نہایت واضح ہے:
کسی معتبر اہلِ سنت عالم نے یہ نہیں لکھا:
“یہ واقعہ جھوٹ ہے”
“مدائنی نے یہاں غلط بیانی کی”
“یہ ناممکن ہے”
یہ خاموش اتفاق (Silent Acceptance)
تاریخی قبولیت کی سب سے مضبوط علامت ہے۔
8️⃣ نتیجہ (مختصر مگر قطعی)
✔️ یہ واقعہ اہلِ سنت کے تاریخی مصادر میں موجود ہے
✔️ اصل ماخذ: مدائنی → ابن عساكر
✔️ امام ذہبی، ابن حجر، ابن کثیر نے:
نہ انکار کیا
نہ تضعیف
✔️ یہ حدیث نہیں بلکہ سیاسی تاریخ ہے
✔️ اہلِ سنت کے اصول کے مطابق:
تاریخی واقعہ جب رد نہ ہو → معتبر سمجھا جاتا ہے

26/12/2025
26/12/2025

Today,s Best photo
❤❤❤❤❤❤















الہ الا اللہ محمد رسول اللہ علی ولی اللہ
Today's best photo

26/12/2025

🕋 کیا کبھی سورۂ الصافات کی تلاوت کرتے وقت اس آیت پر غور کیا ہے ؟؟
📗 سَلَامٌ عَلَىٰ إِلْ يَاسِينَ
(الصافات: 130)
یہ "اِلْ یاسین" کون ہیں جن پر خود اللہ سلام بھیج رہا ہے؟
اور سورہ الاحزاب میں تمام ایمان والوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ بھی سلام و درود بھیجیں:
اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِكَتَهٗ يُصَلُّوۡنَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَيۡهِ وَسَلِّمُوۡا تَسۡلِيۡمًا
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو جیسے سلام بھیجنے کا حق ہے۔
(الأحزاب: 56)
دوستو!
جب میں اس آیت پر پہنچا تو میرا ذہن فوراً زیارتِ آلِ یٰسین کی طرف گیا۔
یہ زیارت صرف سلام نہیں بلکہ ایک مکمل تعارف ہے ان ہستیوں کا جن سے انسان کا اصلا واسطہ موت کے بعد پڑنے والا ہے۔
زیارتِ آلِ یٰسین میں ہمیں ان مقامات کی نشاندھی بھی یوں کرائی گئی ہے جہاں آل یاسین کی مدد کی اشد ضرورت پڑنے والی ہے
وَأَنَّ الْمَوْتَ حَقٌّ
وَأَنَّ نَاكِرًا وَنَكِيْرًا حَقٌّ
وَأَشْهَدُ أَنَّ النَّشْرَ حَقٌّ
وَ الْبَعْثَ حَقٌّ
وَأَنَّ الصِّرَاطَ حَقٌّ
وَ الْمِرْصَادَ حَقٌّ
وَ الْمِيزَانَ حَقٌّ
وَالْحَشْرَ حَقٌّ
وَ الْحِسَابَ حَقٌّ
وَ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ حَقٌّ
یہ وہ سخت مراحل ہیں جن سے ہر انسان کو گزرنا ہے۔
اور رسولِ خدا ﷺ کیسا حدیث میں ایک حکمت ہے:
الْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ وَعَلِيٌّ مَعَ الْحَقِّ
حق علیؑ کے ساتھ ہے اور علیؑ حق کے ساتھ ہیں
(بحار الأنوار)
قول رسول کی صداقت کے لیے لازم ہے کہ ان تمام مراحل میں علی کا موجود ہونا لازم ہے کیونکہ علی حق کیساتھ ہے اور یہ سارے منازل حق ہیں
دوستو!
زندگی میں زیارت آل یٰس کی تلاوت کرنے والے کی میت کو جب قبر میں اتارا جاتا ہے
ہے تو اس کی میت کے کندھے کو بلا ہلا کر ایک آخری بار پھر انہی الفاظ کو ایک بار پھر دہرایا جاتا ہے تو دراصل اسے یہ بتایا جا رہا ہوتا ہے کہ اب علیؑ سے کہاں کہاں ملاقات ہوگی۔
مثلاً تلقین میں کہا جاتا ہے:
وَأَنَّ الْمَوْتَ حَقٌّ
موت برحق ہے
اور قرآن بھی اعلان کرتا ہے:
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ
ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے
(آلِ عمران: 185)
پھر تلقین کہتی ہے:
وَأَنَّ سُؤَالَ مُنْكَرٍ وَنَكِيرٍ حَقٌّ
منکر و نکیر کا سوال برحق ہے
اسی مقام پر قرآن اہلِ ایمان کو بشارت دیتا ہے:
يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ
اللہ ایمان والوں کو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے
(إبراهيم: 27)
پھر تلقین ہمیں یاد دلاتی ہے:
وَأَنَّ الْبَعْثَ حَقٌّ
وَالْحَشْرَ حَقٌّ
بعث اور حشر برحق ہیں
قرآن فرماتا ہے:
ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ
پھر اس کے بعد تم مر جاؤ گے پھر قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جاؤ گے
(المؤمنون: 15–16)
پھر آتا ہے:
وَالْحِسَابَ حَقٌّ
وَالْمِيزَانَ حَقٌّ
حساب اور میزان برحق ہیں
قرآن کہتا ہے:
وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ
ہم قیامت کے دن عدل کے ترازو قائم کریں گے
(الأنبياء: 47)
آل یاسین والے امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:
نَحْنُ الْمِيزَانُ
ہم ہی میزان ہیں
(بحار الأنوار)
پھر تلقین کا سب سے نازک مرحلہ آتا ہے:
وَالصِّرَاطَ حَقٌّ
صراط برحق ہے
قرآن اعلان کرتا ہے:
وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا
تم میں سے ہر ایک کو اس پر سے گزرنا ہے
(مريم: 71)
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
الصِّرَاطُ هُوَ عَلِيٌّ وَمَعْرِفَتُهُ
صراط علیؑ اور ان کی معرفت کا نام ہے
(تفسير قمي)
اور اسی لیے رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:
مَنْ مَاتَ عَلَى حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ شَهِيدًا
جو آلِ محمدؐ کی محبت پر مرا وہ شہید مرا
(بحار الأنوار)
دوستو!
یہی محبت قبر میں
حشر میں
میزان پر
اور صراط پر کام آئے گی۔
اسی لیے زیارتِ آلِ یٰسین کی روزانہ تلاوت کو کبھی فراموش نہ کریں۔
یہ صرف زیارت نہیں یہ تربیت ہے تیاری ہے
مشق ہے۔
تاکہ انسان سمجھ لے کہ:
اگر دنیا میں آلِ یاسین سے جڑا رہا
تو موت کے بعد کے ان سخت مراحل میں
جہاں انسان بالکل اکیلا ہوگا
وہی آلِ یاسین مدد کے لیے موجود ہوں گے۔
یہ سب منازل حق ہیں
اور علیؑ حق کے ساتھ ہیں۔
دوستو!
آج علیؑ سے اپنا تعلق جوڑ لیجیے
ولایت کی چھتری تلے آ جائیے
تو علیؑ اور آلِ یاسین مشکل کشا بن کر ان کٹھن مراحل میں ساتھ ہوں گے۔
اور اگر
خدانخواستہ
علیؑ سے لاتعلق رہے
اور علی کے غیر سے تعلق جوڑا
تو ان مشکل مراحل سے گزر نہیں پائینگے
آپ بری طرح پھنس جائنگے۔
سَلَامٌ عَلَىٰ إِلْ يَاسِينَ
میرا کام صرف یہ پیغام پہنچانا تھا۔
ماننا یا نہ ماننا آپ کا اپنا فیصلہ ہے:
اسلیئے کہ
لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ
دین میں کوئی جبر نہیں
(البقرة: 256)
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِين

Adeeb Ahsan Syed✍️

14/12/2025
14/12/2025

انا للہ وانا الیہ راجعون

Address

Sargodha

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when WĀ ÃALAY HÊÊ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share