30/08/2026
آخرکار ماں یہ بچہ گنوا ہی دے گی۔ اپنے سابق شوہر کے لیے اپنے بغض اور نفرت کو بچے کے احساسات پر حاوی ہونے دے کر، اس نے احقمانہ طریقے سے خود باپ کو بچے کی زندگی کا سب سے اہم اور مرکزی کردار بنا دیا ہے۔ جیسے جیسے بچہ بڑا ہوگا، وہ اپنے باپ کی طرف داری کرے گا اور باپ کے پاس بھاگ جائے گا۔ کیونکہ مرد کو قبیلہ نام اور خاندان رکھ رکھاؤ چاہیے جو اسے روایتی طور پر باپ کی جانب سے ملتا ہے۔
میرے خاندان میں ایسا کیس سامنے آیا۔ بچہ سولا سترہ سال ماں کے پاس رہا۔ ماموں پالتے رہے۔ ماں باپ کے خلاف کانا پھونسی بھی کرتی ہو گی ، ممکنہ حد تک دور رکھا۔ جیسے ہی لڑکا جوان ہوا۔ باپ کے پاس بھاگ گیا۔ پھر واپس پلٹ کر ماں کی جانب نہیں دیکھا۔ شادی کی اولادیں پیدا کی ۔ سب باپ کے پاس رہ کر کیا۔ مطلب باپ کے پاس ہی خاندان بنایا۔اکلوتی اولاد تھا۔ یوں ماں پیچھے اکیلی رہ گئی۔ لہذا اس عورت کی اس نادانی اور غلط فیصلے کے نتیجے میں اس کے ہاتھ میں بھی صرف خالی پن اور تنہائی ہی آئے گی۔
ہماری آجکل عدالتیں بے جا عورتوں کے حق میں فیصلے کر کے مردوں پر ظلم کر رہی ہیں۔ اگر ایک مرد اپنے بچے کی دیکھ بھال کر رہا ہے اور دونوں میں گہرا لگاؤ ہے تو بچے کو والد کے پاس رہنے کا حق ہے۔ صرف جنس کی بنیاد پر “ماں” کارڈ کی بنیاد پر فیصلے نہیں ہونے چاہیں۔عورتیں بھی معشیت اور انا کی خاطر اپنی اولاد کی دشمن بن بیٹھی ہیں۔