15/09/2023
جوتے پہن کر نماز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت سے مواقع ایسے ہوتے ہیں کہ جب بندہ وضو سے ہوتا ہے اور وہاں جوتے پہن کر نماز پڑھ لینا اہسان ہوتا ہے۔ مثلا کسی کھیت یا فیلڈ میں کام کرتے ، کسی کھیل کے میدان میں ، کسی ایکسرسائز کے لئے گئے ہوئے ، دفتر میں بیٹھے ہوئے وغیرہ وغیرہ ۔ ایسی صورتحال میں بھی دیکھا گیا ہے لوگ پورے تردد سے جوتے اتار کر نماز پڑھتے ہیں۔ غالبا ہمارے ہاں عوام میں جوتے اتار کر نماز پڑھنے کو نماز کے لئے لازم سمجھا جاتا ہے۔ میں ایسے مواقع پر جوتوں میں ہی نماز پڑھ لیتا ہوں ۔ مثلاً کسی دفتر میں جائے نماز بھی ہو لیکن جوتے تسموں والے ہوں تو سجدے والی جگہ کو جانماز کے سینٹر میں رکھ کر خود جانماز سے نیچے کھڑے ہوکر ۔ مجھے بھی بعض اوقات جاننے والے حیرت سے دیکھتے لیکن پھر چُپ کر جاتے ہیں کہ اسکی بقیہ باتیں بھی کچھ مختلف مختلف سی ہوتی ہیں اسلئے جو کرتا ہے لگا رہنے دو ۔ جوتے پہن کر نماز پڑھنے کو خلاف تقویٰ سمجھنا یہود کا وطیرہ رہا ہے۔ اس لئے رسول اللہ ص نے اس خود ساختہ تقوی کی مخالفت کرنے اور جوتے پہن کر نماز پڑھنے کی تاکید فرمائی ۔ رسول اللہ ص کے دور میں چونکہ مسجد میں ٹائلز اور قالین وغیرہ نہیں تھے بلکہ نارمل زمین ہی مسجد کا صحن ہوتی تھی تو وہاں بھی جوتوں سمیت نماز پڑھ لی جاتی تھی ۔ عام خیال یہ ہے کہ جوتے پاک نہیں ہوتے ۔ اللہ جانے اس پاکی سے کیا مراد ہے ؟ اگر کوئی نجاست لگی بظاہر نظر آرہی ہے تو اسے گھاس پر رگڑ لینا چاہئے ورنہ اگر کوئی نجاست بظاہر لگی نظر نہیں آرہی تو ہر جوتا نماز پڑھنے کے لئے بالکل ٹھیک ہوتا ہے۔
۱: شداد بن اوس رض فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ص نے فرمایا کہ : یہودیوں کے اس عمل کی مخالفت کیا کرو کہ وہ جوتے اور موزے پہن کر نماز نہیں پڑھتے۔ (أبي داود )
۲: -عبداللہ بن عمرو بن عاص رض فرماتے کہ میں نے اللہ کے رسول ص کو ننگے پاؤں بھی اور جوتوں سمیت بھی نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ (أبي داود)
۳: انس بن مالک رض سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ ص خود بھی اپنے جوتوں میں نماز پڑھ لیتے تھے ؟ انس رض نے بتایا کہ ہاں ۔ ( بخاری )
۴: ابوسعیدالخدری رض نے بتایا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ص اپنے اصحاب کو نماز پڑھا رہے تھے کہ دوران نماز ہی آپ نے جوتے اتار کر بائیں طرف رکھ دئے ـ یہ دیکھتے ہی اصحاب رسول نے بھی دوران نماز ہی جوتے اتار دئیے ۔آپ نماز پڑھا چکے تو پوچھا کہ آپ لوگوں نے جوتے کیوں اتار دئے ۔ اصحاب نے جواب دیا کہ آپ کو دیکھ کر ہم نے بھی اُتار دئے ۔آپ ص نے فرمایا کہ مجھے تو جبریل نے دوران نماز خبر دی کے میرے جوتوں کی نچلی طرف نجاست لگی ہے تو میں نے جوتے ہی اتار دئے۔ پھر آپ ص نے فرمایا کہ جب بھی تم میں سے کوئی مسجد آئے تو اپنے جوتے دیکھ لے ـ اگر تو کوئی گندگی وغیرہ لگی ظاہر ہورہی ہو تو انھیں صاف کرلو اور پھر انھی جوتوں کے ساتھ نماز پڑھ لو ـ
( أبي داود ، مسند احمد )