Jamia Masjid wa Imam Bargah Muhammadia saww V Block Farid Town Sahiwal

Jamia Masjid  wa Imam Bargah Muhammadia  saww V Block Farid Town Sahiwal Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Jamia Masjid wa Imam Bargah Muhammadia saww V Block Farid Town Sahiwal, Religious Center, جامع مسجد و امام بارگاہ محمدیہ (ص) وی بلاک فرید ٹاون, Sahiwal.

04/09/2025

ﺷﺐ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﮯ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﮨﻢ ﭼﻨﺪ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﮯ ﺫﮐﺮ ﭘﺮ ﺍﮐﺘﻔﺎﺀ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﻭﻝ : ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﺐ ﺟﻤﻌﮧ ﺭﺍﺕ ﮐﺎ ﻧﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺯ ﺟﻤﻌﮧ ﺭﻭﺷﻦ ﺗﺮﯾﻦ ﺩﻥ ﮨﮯ ﻟﮩﺬﺍﺍﺱ ﺷﺐ ﻭﺭﻭﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﺜﺮﺕ ﺩﺭﻭﺩ ﺷﺮﯾﻒ ﺍﻭﺭ ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﺫﮐﺮ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﯿﮟ ۔

ﺳُﺒْﺤَﺎﻥَ ﺍﻟﻠﻪِ ﻭَﺍﻟﻠﻪُ ﺃَﮐْﺒَﺮُ ﻭَﻻَ ﺇِﻟﮧَ ﺇِﻻَّ ﺍﻟﻠﻪُ

ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﺳﻮ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺩﺭﻭﺩ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﻗﺪﺭ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﮍﮪ ﺳﮑﯿﮟ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ۔

ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺟﻌﻔﺮ ﺻﺎﺩﻕ ‏( ﻉ ‏) ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﺐﺟﻤﻌﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻤﺪﻭﺁﻝ ﻣﺤﻤﺪ ﭘﺮ ﺩﺭﻭﺩ ﺑﮭﯿﺠﻨﮯ ﺳﮯ ﮨﺰﺍﺭ ﻧﯿﮑﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺛﻮﺍﺏ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﺰﺍﺭ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎﻑ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﺰﺍﺭ ﺩﺭﺟﮯ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻤﻌﺮﺍﺕ ﮐﯽ ﻋﺼﺮ ﺳﮯ ﺭﻭﺯ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﺗﮏ ﻣﺤﻤﺪﻭﺁﻝ ﻣﺤﻤﺪ ﭘﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﺭﻭﺩ ﺑﮭﯿﺠﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﮧ ﺳﻨﺪ ﺻﺤﯿﺢ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺟﻌﻔﺮ ﺻﺎﺩﻕ ‏( ﻉ ‏) ﺳﮯ ﻣﻨﻘﻮﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻤﻌﺮﺍﺕ ﮐﯽ ﻋﺼﺮ ﮐﻮﻣﻼﺋﮑﮧ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﺗﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻃﻼﺋﯽ ﻗﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﻧﻘﺮﺋﯽ ﮐﺎ ﻏﺬ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻌﺮﺍﺕ ﮐﯽ ﻋﺼﺮ ﺳﮯ ﺭﻭﺯ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﺗﮏ ﻣﺤﻤﺪﻭﺁﻝ ﻣﺤﻤﺪ ﭘﺮ ﺑﮭﯿﺠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﺭﻭﺩ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﮯ۔
ﺷﯿﺦ ﻃﻮﺳﯽ ‏( ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤﮧ ‏) ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻤﻌﺮﺍﺕ ﮐﮯ ﺩﻥ ﻣﺤﻤﺪ ﻭﺁﻝ ﻣﺤﻤﺪ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺩﺭﻭﺩ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺩﺭﻭﺩ ﭘﮍﮬﯿﮟ
ﺍَﻟﻠّٰﮭُﻢَّ ﺻَﻞِّ ﻋَﻠﯽ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭَﺁﻝِ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭَﻋَﺠِّﻞْ ﻓَﺮَﺟَﮭُﻢْ ، ﻭَﺃَﮬْﻠِﮏْ ﻋَﺪُﻭَّﮬُﻢْ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﺠِﻦِّ ﻭَﺍﻟْﺎِﻧْﺲِ ﻣِﻦَ ﺍﻻَﻭَّﻟِﯿﻦَ ﻭَﺍﻻْﺧِﺮِﯾﻦ

ﺟﻤﻌﺮﺍﺕ ﮐﯽ ﻋﺼﺮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﮯ ﺭﻭﺯ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﺗﮏ ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﺩﺭﻭﺩ ﮐﺎ ﺳﻮ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺑﮩﺖ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ

ﻧﯿﺰ ﺷﯿﺦ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻤﻌﺮﺍﺕ ﮐﻮ ﺩﻥ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﮯَ

ﺃَﺳْﺘَﻐْﻔِﺮُ ﺍﻟﻠﻪَ ﺍﻟَّﺬِﯼ ﻻ ﺇِﻟﮧَ ﺇِﻻَّ ﮬُﻮَ ﺍﻟْﺤَﯽُّ ﺍﻟْﻘَﯿُّﻮﻡُ ، ﻭَﺃَﺗُﻮﺏُ ﺇِﻟَﯿْﮧِ ﺗَﻮْﺑَﺔَ ﻋَﺒْﺪٍ ﺧﺎﺿِﻊٍ ﻣِﺴْﮑِﯿﻦٍ ﻣُﺴْﺘَﮑِﯿﻦٍ ، ﻻَ ﯾَﺴْﺘَﻄِﯿﻊُ ﻟِﻨَﻔْﺴِﮧِ ﺻَﺮْﻓﺎً ﻭَﻻَ ﻋَﺪْﻻً ﻭَﻻَ ﻧَﻔْﻌﺎً ﻭَﻻَ ﺿَﺮّﺍً ﻭَﻻَﺣَﯿَﺎﺓً ﻭَﻻَ ﻣَﻮْﺗﺎً ﻭَﻻَ ﻧُﺸُﻮﺭﺍً ، ﻭَﺻَﻠَّﯽ ﺍﻟﻠﻪُ ﻋَﻠَﯽ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭَﻋِﺘْﺮَﺗِﮧِ ﺍﻟﻄَّﯿِّﺒِﯿﻦَ ﺍﻟﻄَّﺎﮬِﺮِﯾﻦَ ﺍﻟْﺎَﺧْﯿﺎﺭِ ﺍﻻَﺑْﺮﺍﺭِ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﺗَﺴْﻠِﯿﻤﺎً

ﺷﺐ ﺟﻤﻌﮧ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺍﻥ ﺳﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﮯ ﻓﻮﺍﺋﺪ ﮐﺜﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺛﻮﺍﺏ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ :
ﺳﻮﺭۃ ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ، / ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻹﺳﺮﺍﺀ
ﺳﻮﺭۃ ﮐﮩﻒ ، ﻃٰﺲ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﯿﻦ ﺳﻮﺭﺗﯿﮟ - ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺸﻌﺮﺍﺀ , ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻨﻤﻞ , ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻘﺼﺺ، ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺴﺠﺪﮦ، ﺳﻮﺭۃ ﯾٰﺴﮟ ، ﺳﻮﺭۃ ﺹٓ ،ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﺣﻘﺎﻑ ، ﺳﻮﺭۃ ﻭﺍﻗﻌﮧ ، ﺳﻮﺭﺓ ﻓﺼﻠﺖ ، ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻘﻤﺮ

✦ حضرت حبیب بن مظاہر الاسدی (رضوان اللہ علیہ)❖ نسب اور کنیت:نام: حبیبکنیت: ابوقاسموالد: مظاہر بن رئاب الاسدیقبیلہ: بنی ا...
14/07/2025

✦ حضرت حبیب بن مظاہر الاسدی (رضوان اللہ علیہ)

❖ نسب اور کنیت:

نام: حبیب

کنیت: ابوقاسم

والد: مظاہر بن رئاب الاسدی

قبیلہ: بنی اسد

لقب: فارس کربلا

حوالہ:

شیخ عباس قمی، منتهی الآمال، ج1، ص 396

علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج 44، ص 289

---

❖ بچپن اور رسول خدا ﷺ کا زمانہ:

حبیب بن مظاہر کے بچپن میں ہی آپ ﷺ کا وصال ہو گیا تھا۔

امام علی علیہ السلام کے اصحاب میں شامل تھے۔

بہت چھوٹی عمر میں علم و معرفت حاصل کی اور اہل بیتؑ سے محبت رکھتے تھے۔

اہل کوفہ کے مشہور اور معزز شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔

---

❖ حضرت علی علیہ السلام کے زمانے میں:

حضرت علیؑ کے خاص اصحاب اور مجاہدین میں تھے۔

جنگ صفین، جمل، اور نہروان میں امام علیؑ کے ساتھ شریک رہے۔

صفین میں نمایاں جنگجو اور علمداروں میں شمار ہوتے تھے۔

حوالہ:

علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج 44، ص 287-288

---

❖ امام حسن علیہ السلام کے دور میں:

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے جانثار اصحاب میں تھے۔

صلح کے وقت بھی امام حسنؑ کے ساتھ رہے۔

---

❖ امام حسین علیہ السلام سے تعلق:

بچپن سے ہی امام حسینؑ کے دوست اور ہم مکتب تھے۔

ایک روایت کے مطابق امام حسینؑ اور حبیب بن مظاہر ساتھ قرآن پڑھتے تھے۔

یہ دوستی جوانی اور بڑھاپے تک برقرار رہی۔

حوالہ:

شیخ عباس قمی، منتهی الآمال، ج 1، ص 396

---

❖ کوفہ کا قیام اور تحریک کربلا:

امام حسینؑ کے خطوط کے جواب میں آپ کوفہ کے شیعوں میں سرگرم رہے۔

مسلم بن عقیل کے ساتھ بیعت کے وقت آپ کوفہ کے سرکردہ شیعہ تھے۔

حوالہ:

شیخ مفید، الارشاد، ج 2، ص 48-50

---

❖ کوفہ سے کربلا آمد:

جب مسلم کی شہادت کے بعد حالات بگڑے تو حبیب چھپ کر رہے۔

امام حسینؑ کے کوفہ کے باہر پہنچنے پر رات کے اندھیرے میں مخفی طریقے سے کربلا پہنچے۔

اپنے دوست مسلم بن عوسجہ کے ساتھ امام حسینؑ کی نصرت کے لیے حاضر ہوئے۔

حوالہ:

شیخ عباس قمی، نفس المهموم، ص 253

---

❖ واقعہ کربلا میں کردار:

امام حسینؑ نے انہیں "علمدار میمنہ" (دایاں پرچم) بنایا۔

اہل بیت کے خیموں کے محافظوں میں شامل تھے۔

امام حسینؑ کی اجازت سے دشمن کو نصیحتیں کیں اور اتمام حجت کیا۔

جنگ کے دوران کئی دشمنوں کو واصل جہنم کیا۔

آخری وقت تک امام حسینؑ کے ساتھ رہے۔

حوالہ:

علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج 44، ص 293

---

❖ شہادت:

سن 61 ہجری، 10 محرم الحرام کو

ظہر کے قریب شدید جنگ کے بعد دشمن کے وار سے شہید ہوئے۔

عمر اس وقت 75 سال تھی۔

سر مبارک کو کاٹ کر عمر بن سعد کے سامنے پیش کیا گیا۔

حوالہ:

شیخ عباس قمی، نفس المهموم، ص 255

علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج 44، ص 293

---

❖ امام حسینؑ کا حبیب بن مظاہر کی شہادت پر گریہ:

امام حسینؑ بنفس نفیس تشریف لائے اور حبیب کے سرہانے بیٹھ کر فرمایا:
❝ عند الله أحتسب نفسي وحماة أصحابي ❞
(میں اللہ کی بارگاہ میں اپنے جانثار اصحاب کی قربانی کا اجر چاہتا ہوں)

حوالہ:

علامہ مجلسی، بحار الانوار، ج 44، ص 293

---

❖ زیارت ناحیہ مقدسہ میں ذکر:

زیارت ناحیہ میں امام زمانہ عجل اللہ فرجہ نے سلام فرمایا:
❝ السلام على حبيب بن مظاهر الأسدي ❞

---

✦ خلاصہ:

حضرت حبیب بن مظاہرؒ امام علیؑ کے صحابی، امام حسنؑ کے مددگار، اور امام حسینؑ کے جاں نثار تھے۔
آپ نے پوری عمر اہل بیت علیہم السلام کی محبت اور نصرت میں گزاری۔
واقعہ کربلا میں ان کا کردار ایمان، وفاداری، اور شہادت کا عظیم نمونہ ہے۔

حسینؑ (ع) پر آنسو بہانا... انسان کے عادل ہونے پر دلیل ہےحجۃ الاسلام والمسلمین شیخ جواد کربلائیؒ روایت کرتے ہیں:🔸 ایک طال...
11/07/2025

حسینؑ (ع) پر آنسو بہانا... انسان کے عادل ہونے پر دلیل ہے

حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ جواد کربلائیؒ روایت کرتے ہیں:

🔸 ایک طالب علم، آیت اللہ الحاج سیّد حسین طباطبائی قمیؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اس کے لیے ایک عدالت اور وثاقت کی سند لکھ دیں تاکہ وہ کچھ دینی امور کی ذمہ داری سنبھال سکے اور لوگوں کے شرعی مسائل حل کر سکے۔

🔹 آیت اللہ قمیؒ نے فرمایا:
"اے شیخ! میں تمہیں جانتا نہیں، تو تمہارے حق میں کیسے لکھوں؟"
پھر فرمایا:
"کیا تم سید الشہداء علیہ السلام پر گریہ کرتے ہو؟"
طالب علم نے عرض کیا:
"جی ہاں، میرے آقا!"

🔸 آیت اللہ قمیؒ نے فرمایا:
"تو تم، میری نظر میں، عادل ہو۔"

پھر اس عظیم حدیث کو بطورِ دلیل پیش فرمایا:
«بے شک امام حسینؑ پر آنسو بہانا بڑے بڑے گناہوں کو بھی گرا دیتا ہے۔»

📗 حوالہ: سیرۃ الفضلاء، تألیف: عبد الحسن بزرگمہرنیا،
ناشر: سامان دانش
منقول از: قناة أسرة الطباطبائي القمّي

عزاداری کے متعلق چالیس حدیثیںحرارت عشق حسینؑی� قاَلَ رَسُوْ لُ اللہ  ۖ :اِنَّ لِقَتْلِ الْحسینؑ ـحَرَارَة فِیْ قُلُوْبِ ...
11/07/2025

عزاداری کے متعلق چالیس حدیثیں

حرارت عشق حسینؑی�
قاَلَ رَسُوْ لُ اللہ ۖ :اِنَّ لِقَتْلِ الْحسینؑ ـحَرَارَة فِیْ قُلُوْبِ الْمُوْمِنِیْنَ لَاتَبْرَدُ اَبَداً

(١)�پیغمبر اکرمۖ نے فرمایا :مومنین کے دلوں میں امام حسینؑ کی شہادت کی ایسی حرارت ہے جو کبھی خاموش نہ ہوگی دنیا میں کئی انقلاب آئے اور آج کتابوں میں ان کا صرف نام باقی ہے جبکہ عملی طور پر آثار نہیں ملتے۔ واقعہ کربلا ایک ایسا واقعہ ہے جسے ہزاروں سال گزر گئے ہیں لیکن آج بھی زندہ و جاوید ہے دشمن نے بڑی کوشش کی لوگ کربلا کو بھول جائیں لیکن یہ ایک زندہ معجزہ ہے کہ عشق حسینؑ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

��عاشورا، غم کا دن�
قَالَ الرَّضٰاؑ: مَنْ کَانَ یَوْمُ عٰاشُوْرَا یَوْمَ مُصِیْبَتِہِ وَحُزْنِہِ وَبُکٰائِہِ جَعَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ الْقِیٰامَةِ یَوْمَ فَرَحِہِ وَسُرُوْرِہِ

(٢)� امام رضاؑ نے فرمایا: جو شخص عاشورا کے دن مصیبت اور حزن کی حالت میں رہے تو خداوند عالم ایسے شخص کے لئے روز قیامت خوشی وخرم قرار دیگا یعنی اس دن وہ شخص خوشحال ہوگا۔� رسول خداؐ نے فرمایا کہ حسینؑ مجھ سے ہے اور میں حسینؑ سے ہوں ایک اور جگہ فرمایا: اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسینؑ سے محبت کرے�اب امام حسینؑ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ حسینؑ کا غم ہمارا غم، حسینؑ کی خوشی ہماری خوشی، ولادت ہوتو خوشی منائیں اور عاشورا آئے تو غم واندوہ کی حالت میں رہیں، لہذا عاشورا کے دن غمگین آنکھ روز قیامت خوشحال ہوگی۔

(٣)��محرم، ماہ سوگواری�
قَالَ الرَّضٰا: کَانَ اَبِیْ اِذَا دَخَلَ شَھْرُ الْمُحَرَّمِ لاٰ یُرٰی ضَاحِکًا وَکَانَتِ الْکِابَہ تَغْلِبُ عَلَیْہِ حَتّٰی یَمْضِیَ مِنْہُ عَشْرَة اَیَّامٍ ،فَاِذَا کَانَ الْیَوْمُ الْعٰاشِرُ کَانَ ذٰلِکَ الْیَوْمُ یَوْمَ مُصِیْبَتِہِ وَحُزْنِہِ وَبُکٰائِہِ ....

(٤)� امام رضاؑ: نے فرمایا:جب محرم کا مہینہ آتا تو میرے والد محترم امام موسی کاظمؑ کو کوئی ہنستے نہیں دیکھتا بلکہ غم کی حالت میں رہتے اور جب دس محرم کا دن آتا تو سارا دن آہ وبکا اور رونے میں گذرتا تھا۔�
امام خمینیؓ فرماتے ہیں: اسلام محروصفر کی وجہ سے زندہ ہے، خود اہل بیتؑ نے محرم میں عملی طور پر لوگوں کو بتایا کہ یہ غم کا مہینہ ہے۔

��قیامت کے دن وہ آنکھیں
� قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِۖ :یٰا فَاطِمَةُ ! کُلُّ عَیْنٍ بٰاکِیَة یَوْمَ الْقِیٰامَةِ اِلَّا عَیْن بَکَتْ عٰلی مُصٰابِ الْحسینؑ فَاِنَّھٰا ضٰاحِکَة مُسْتَبْشِرَة بِنَعِیْمِ الْجَنَّةِ.

(٥)� پیغمبر اکرمۖ فرماتے ہیں: اے فاطمہ! روز قیامت غم حسینؑ میں رونے والی آنکھ کے علاوہ ہر آنکھ روئے گی بلکہ ایسی آنکھ خوشحال ہوگی اور اسے جنت کی نعمتوں کی بشارت دی جائے گی۔ روایت میں ملتا ہے جو شخص خود روئے یا رولائے یا رونے جیسی شکل بنائے خداوند عالم سب کو ثواب عطا کرتا ہے۔ روز قیامت حشرو نشر کا وقت ہوگا۔ دوسری آنکھیں روئیں گی لیکن غم حسینؑ میں رونے والی آنکھ مسرور ہوگی۔
��سوگ حضرت امام حسینؑ
� عَنْ الصَّادِقِ عَلَیْہِ السَّلاٰم ُ: نِیْحَ عَلَی الْحسینؑ بْنِ عَلِیِّ سَنَة فِیْ کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَةٍ وَثَلاٰثَ سِنِیْنَ مِنَ الْیَوْمِ الَّذِیْ اُصِیْبُ فِیْہِ
(٦)� حضرت صادقؑ فرماتے ہیں: پورا ایک سال دن رات امام حسینؑ کے لئے نوحہ خوانی ہوئی اور روز شہادت سے لےکر تین سال تک سوگواری برپا رہی۔� اس حدیث میں امامؑ بیان فرما رہے ہیں نوحہ خوانی اور ماتم داری آج شروع نہیں ہوئی بلکہ شہادت کے فوراً بعد عزاداری کے مراسم برپا ہوئے تاکہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ عزاداری ونوحہ خوانی بعد کی ایجاد ہے بلکہ اس کی بنیاد خود اہل بیتؑ نے رکھی ہے۔

��عزاداری کے لئے خرچ کرنا
� قَالَ الصَّادِقُ: قَالَ لِیْ اَبِیْ : یٰا جَعْفَرُ ! اَوْقِفْ لِیْ مِنْ مٰالِیْ کَذَا وَکَذَا النَّوٰادِبَ تَنْدُبُنِیْ عَشْرَ سِنِیْنَ بِمِنٰی اَیَّامَ مِنٰی.

(٧)� امام صادقؑ فرماتے ہیں: میرے والد امام باقرؑ نے فرمایا: اے جعفر! اپنے مال سے اتنی مقدار مال نوحہ خوانوں کے لئے وقف کرو تاکہ لوگ حج کے دوران منی میں دس سال تک سوگ منائیں ۔ اس حدیث سے یہ ملتا ہے کہ اگر عزاداری پر خرچ کرنا پڑے تو درایغ نہ کرو، لہذا پہلے خود امامؑ نے کچھ مال عزاداری اور نوحہ خوانوں پر وقف کرکے بتایا کہ تم بھی ذکر حسینؑ پر مال خرچ کرنے سے کنجوسی نہ کرو بلکہ عزاداری عبادت ہے اور عبادت پرخرچ کرنے سے ثواب ملتا ہے، قیامت کے دن یہی مال کام آئے گا۔

��روایتی نوحہ خوانی
� عَنْ اَبِیْ ھٰارُوْنَ الْمَکْفُوْفِ قَالَ :دَخَلْتُ عَلٰی اَبِیْ عَبْدِاللّٰہِ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ فَقَالَ لِیْ: اَنْشِدْنِیْ فَانْشَدْتُہُ فَقَالَ: لَا۔ کَمَا تُنْشِدُوْنَ وَکَمٰا تَرْثِیْہِ عِنْدَ قَبْرِہِ ...

(٨)� ابو ہارون مکفوف نے کہا: میں امام صادقؑ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھ سے اشعار پڑھنے کی فرمائیش کی میں نے شعر پڑھے لیکن آپ نے فرمایا، اس طرح نہیں ! بلکہ جس طرح تم اپنے لئے اشعار پڑھتے ہو اور جس طرح تم امام حسینؑ کی قبر پر مرثیہ خوانی کرتے ہو ۔
� اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عزاداری میں شعر پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں بلکہ اس سے احساسات میں شدت بڑھتی ہے اس کے علاوہ خود امام صادق۔ نے عزاداری کا انتظام کیا اور غم حسینؑ میں شعر پڑھنے کا حکم دیا۔

��امام حسینؑ کے لئے اشعار پڑھنے کا ثواب
� قَالَ الصَّادِقُ: مٰا مِنْ اَحَدٍ قَالَ فِیْ الْحسینؑ شِعْراً فَبَکَی وَاَبْکٰی بِہِ اِلَّا اَوْجَبَ اللّٰہُ لَہُ الْجَنَّة وَغَفَرَ لَہُ

(٩)� امام صادقؑ فرماتے ہیں: جو شخص غم حسینؑ میں اشعار پڑھے اور اس سے روئے اور دوسروں کو بھی رولائے تو خدا وند عالم ایسے شخص پر جنت واجب کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے۔� امام حسینؑ کے غم میں اشعار پڑھنا یا دوسروں کو ان کے غم میں رلانا جنت کا باعث ہے اور انسان کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں یاد رہے۔

��مدح اہل بیت
� قَالَ الصَّادِقُ: مَنْ قَالَ فِیْنَا بَیْتَ شِعْرٍ بَنَی اللّٰہُ لَہُ بَیْتاً فِیْ الْجَنَّةِ .

(١٠)�امام صادقؑ: فرماتے ہیں: جو شخص ہم اہل بیتؑ کے لئے ایک شعر پڑھے، خداوند عالم اسے جنت میں ایک گھر عطا کرے گا۔� اس حدیث میں امام کا یہ بتانا کہ غم حسینؑ میں اگر خلوص سے ایک شعر بھی پڑھا جائے تو جنت ملتی ہے۔ بعض لوگ کمیت کو دیکھتے اور کیفیت کو نہیں جانتے، خدا وند عالم عمل احسن یعنی بہترین عمل چاہتا ہے اسے ایسا عمل کثیر بھی پسند نہیں جس میں خلوص نہ ہو۔ لہذا ایک شعر پڑھ کر یہ نہ سمجھ لینا کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ یہ ایک شعر جنت میں لے جائے گا۔

��اہل بیتؑ کے مدح خوان
� قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :اَلْحَمْدُ لَلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَ فِیْ النَّاسِ مَنْ یُفِدُ اِلَیْنَا وَیَمْدَحُنَا وَیَرْثِیْ لَنَا .

(١١)� امام صادقؑ فرماتے ہیں: خدا کا شکر ہے کہ اس نے لوگوں میں سے کچھ ایسے مدح خوان قرار دئے جو ہم اہل بیت کے پاس آتے ہیں اور مرثیہ خوانی کرتے ہیں۔� سب سے پہلے ہم اس بات پر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں اہل بیتؑ کے ماننے والوں میں قرار دیا اور خدا کی طرف سے ہمارے لئے یہ ایک بڑی نعمت ہے، لہذا اس نعمت کی قدر کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

��ایام محرم میں اشعار پڑھنا
� قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :یٰا دِعْبَلُ ! اُحِبُّ اَنْ تَنْشِدَنِی شِعْراً فَاِنَّ ھٰذِہِ الْاَیَّامَ اَیَّامُ حُزْنِ کَانَتْ عَلَیْنَا اَھْلَ الْبَیْتِ عَلَیْھِمُ السَّلاٰمُ .

(١٢)� امام صادقؑ نے دعبل شاعر سے فرمایا: اے دعبل! مجھے غم حسینؑ کے اشعار پسند ہیں کیونکہ یہ دن ہم خاندان اہل بیتؑ کےلئے غم و اندوہ کے دن ہے، اہل بیتؑ کی مدح میں اشعار پڑھنے کی بڑی تاکید کی گئی ہے اور پڑھنے والے کی بڑی اہمیت ہے لیکن یاد رکھو! عزاداری ہو یا ماتم داری شعر ہو یا نثر، غنا کی طرز پر نہ پڑھنا کیونکہ غنا حرام ہے، بعض اوقات گانوں کی طرز پر پر نوحہ خوانی ہوتی ہے جو اسلام میں جائز نہیں ہے۔ حتیٰ قرآن کو غنا کی طرز پر پڑھنا حرام ہے، البتہ خوش لحن افراد موجود ہیں جو پڑھتے ہیں لیکن غنا نہیں لہذا یہ افراد مستثنیٰ ہیں۔

��مرثیہ خوانی اہل بیت کی نصرت ہے
� عَنِ الرَّضَا ـ:یٰا دِعْبَلُ ! اِرْثِ الْحسینؑ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ فَانْتَ نَاصِرُنَا وَمَادِحُنٰا مٰا دُمْتَ حَیّاً فَلاٰ تُقْصِرْ عَنْ نَصْرِنَا مٰا اسْتطَعْتَ .

(١٣)� امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: اے دعبل! حسین بن علیؑ کے لئے مرثیہ پڑھو ،تم جب تک زندہ ہو ہمارے مددگار اور مدح خوان رہو اور جتنا ممکن ہوسکے ہمارے ذکر سے کوتاہی نہ کرو۔� اس حدیث میں امام رضاؑ فرما رہے ہیں امام حسینؑ کی عزاداری کے لئے مرثیہ خوانی کرنا درحقیقت اہل بیت کی نصرت ہے۔ مدح خوان اہل بیت کا مددگار اور ناصر ہوتا ہے۔

��خوشی اور غم
� قَالَ عَلِیّ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ اِنَّ اللّٰہَ ... اِخْتَارَ لَنَا شِیْعَة یَنْصُرُوْنَنَا وَیَفْرَحُوْنَ بِفَرْحِنَا وَیَحْزَنُوْنَ لِحُزْنِنَا

(١٤)� علی علیہ السلام فرماتے ہیں: خدا وند عالم نے ہمارے لئے شیعہ لوگوں کو ہماری مدد کے لئے انتخاب کیا جو کہ ہماری خوشی میں خوشحال اور غم میں غمگین ہوتے ہیں۔� ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ ہمیں سب سے بڑا افتخار یہ ہے کہ آل محمدۖ کے ماننے والوں میں سے ہیں امام اس حدیث میں ہماری طرف سے ان کے ذکر کرنے کو ان کی مدد فرمایا . ہم اہل بیت کی کیا مدد کرسکتے ہیں ؟�شیعہ کی خوبی یہ ہے کہ وہ اہل بیت کے غم کو غم اور خوشی کو خوشی سمجھتے ہیں، جیساکہ انہوں نے فرمایا کہ غم کا دن ہے تو یہ دن ہمارے لئے غمگین ہوگا اور جس دن خوشی ہو اسی دن ہم بھی خوش ہوتے ہیں۔

��عبرت آموزشہادت
� قاَلَ الْحسین عَلَیْہِ السَّلاٰمُ اَنَا قَتِیْلُ الْعِبْرَةِ لَاَیَذْکُرُنِیْ مُوْمِن اِلَّا بَکٰی.

(١٥)� حضرت امام حسینؑ فرماتے ہیں: میں عبرت آموز مقتول ہوں اور ہر مومن مجھ پر میری مصیبت کے لئے روئے گا۔� آپ کی شہادت ایک عبرت ناک شہادت ہوئی۔ کربلا کے صحرا میں اہل بیتؑ اور اہل وعیال سمیت بھوکے پیاسے شہید ہوئے۔ علی اصغر کی شہادت کتنی عبرت ناک ہے۔ عصر عاشورا کو حسینؑ کی شہادت کے بعد خیام کو آگ لگائی گئی۔ چادریں لوٹی گئیں۔

��آنسو کا ایک قطرہ
� قاَلَ الْحسینؑ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ: مَنْ دَمِعَتْ وَعَیْنَاہُ فِیْنَا قَطَرَة بَوَّاہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ .

(١٦)� حسین بن علی علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص ہماری مصیبت پر آنسو کا ایک قطرہ بہائے خدا وند عالم اسے جنت نصیب فرمائےگا۔� اس حدیث میں امام حسینؑ کے غم میں آنسو کا ایک قطرہ بہانے والے کا ثواب جنت ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ تم کو غم حسینؑ میں آنسو بہانےکا بہت ثواب ملتا ہے لیکن یاد رکھو! خدا خالص غم کو پسند کرتا ہے ریا کاری دکھاوا ثواب کو ختم کردیتے ہیں، آج بھی ہمارے معاشرے میں اگر کوئی دس محرم کے دوران مرجائے تو دفن کردیتے ہیں اور فاتحہ کے مراسم دس محرم کے بعد برپاہوتے ہیں، یعنی لوگ اپنے غم پر حسینؑ کے غم کو مقدم جانتے ہیں۔

��عزاداری کا ثواب
� قَالَ عَلِیُّ بْن الْحسینؑ السَّجَّادِ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :اَیُّمٰا مُوْمِن دَمِعَتْ عَیْنٰاہُ لِقَتْلِ الْحسینؑ وَمَنْ مَعَہُ حَتّیٰ یَسِیْلَ عَلٰی خَدَّیْہِ بَوَّاہُ اللّٰہُ فِیْ الْجَنَّةِ غُرَفاً.

(١٧)� امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں: ہر وہ مومن جو امام حسینؑ اور آپ کے شہداء کے غم میں روئے تو خداوند عالم اس کے بدلے اسے جنت میں ایک مقام عطا کرے گا۔�اس دوسری حدیث میں بھی آنسو بہانے کے ثواب کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ جس شخص کا صرف ایک آنسو جاری ہوکر رخسار تک آجائے تو اسے جنت نصیب ہوگی۔

��اولاد فاطمہؑ کی یاد
� قَالَ السَّجَّادُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :اِنِّی لَمْ اَذْکُرْ مَصْرَعَ بَنِیْ فَاطِمَةَ اِلَّا خَنَقَتَنِیْ لِذٰلِکَ عَبْرَة .

(١٨)� امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں :مجھے جب بھی اولاد فاطمہؑ کی شھادت یاد آتی ہے تو میری آنکھوں سے آنسوجاری ہوجاتے ہیں۔� اس میں تمام اہل بیتؑ کے غم میں آنسو بہانے کے لئے فرمایا گیا ہے، امام فرماتے ہیں اولاد فاطمہ میں سے مجھے جب کسی کی شہادت یاد آتی ہے تو میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں، ہمارے لئے صرف کربلا کا غم نہیں بلکہ مولا علیؑ کو مسجد میں شہید کیا گیا اور امام حسن کو زہر دیا گیا، ہمارے ہر امام یا زہر سے یا تلوار سے شہیدہوئے۔

�گھروں میں عزاداری برپا کرنا
� قَالَ الْبَاقِرُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :ثُمَّ لِیَنْدُبِ الْحسینؑ وَیَبْکِیْہِ وَیَاْمُرُ مَنْ فِیْ دَارِہِ بِالْبُکَائِ عَلَیْہِ وَیُقِیْمُ فِیْ دَارِہِ مُصِیْبَتَہُ بِاظْھَارِ الْجَزَعِ عَلَیْہِ وَیَتَلاقُوْنَ بِالْبُکَائِ بَعْضُھُمْ بَعْضاً فِیْ الْبُیُوْتِ وَلِیُعَزِّ بَعْضُھُمْ بَعْضاً بِمُصَابِ الْحسینؑ عَلْیَہِ السَّلاٰمُ .

(١٩)�امام باقر علیہ السلام نے ان افراد کے لئے جو عاشورا کو امام حسینؑ کی زیارت نہیں کرسکتے،فرمایا: ہر شخص اپنے گھر امام حسینؑ پر نوحہ خوانی وعزاداری کرے اور اپنے اہل خانہ کو بھی ایسا ہی دستور دے اور گھر میں عزاداری کے مراسم برپا کرے اور ایک دوسرے کو تعزیت پیش کرے۔

� � شہداء کربلا کے لئے حضرت علیؑ کے آنسو
� قَالَ الْبَاقِرُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :مَرَّ عَلِیّ بِکَرْبَلاَ فِیْ اِثْنَیْنِ مِنْ اَصْحَابِہِ قَالَ :فَلَمَّا مَرَّ بِھَا تَرَقْرَقَتْ عَیْنَاہُ لِلْبُکَائِ ثُمَّ قَالَ : ھَذَا مَنَاخُ رِکَابِھِمْ وَھَذَا مُلْقَی رِحَاِلھِمْ وَھَیْھُنَا تُھْراقُ دِمَاوُھُم ،طُوْبٰی لَکِ مِنْ تُرْبَةٍ عَلَیْکِ تُھْراقُ دِمَائُ الْاَحِبَّةِ .

(٢٠)� امام باقرعلیہ السلام فرماتے ہیں: حضرت علیؑ اپنے دو اصحاب کے ہمراہ کربلا سے گزرے اور جب کربلا کی سر زمین پر پہنچے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور فرمانے لگے: اس سر زمین پر شہداء کی سواریاں رکیں گی اور اسی جگہ ان کا خون بہایا جائے گا، اے زمین! تو کتنی خوش نصیب ہے کہ تیرے اوپر شہداء کا خون بہایا جائے گا۔

��آنسو بہانے کا فائدہ
� قَالَ الْبَاقِرُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :مَا مِنْ رَجُلٍ ذَکَرَنَا اَوْ دُکِرْنَا عِنْدَہُ یَخْرُجُ مِنْ عَیْنَیْہِ مَائ وَلَوْ مِثْلَ جَنَاحِ الْبَعُوْضَةِ اِلَّا بَنَی اللّٰہُ لَہُ بَیْتاً فِیْ الْجَنَّةِ وَجَعَلَ ذَلِکَ الدَّمْعَ حِجَاباً بَیْنَہُ وَبَیْنَ النَّارِ .

(٢١)� امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: جس شخص کے سامنے ہمارا ذکر کیا جائے اور اگر وہ مچھر کے پر کے برابر بھی آنسو بہائے تو خدا وند عالم اس کے بدلے جنت میں گھر عطا کرے گا اور یہ آنسو انسان اور دوزخ کی آگ کے درمیان حائل ہونگے۔� جو شخص غم حسینؑ میں روئے یا رلائے یا رونے کی شکل بنائے اس پر جنت واجب ہے، اس حدیث میں امامؑ فرمارہے ہیں کہ اگر غم حسینؑ میں مچھر کے پر کے برابر بھی آنسو بہایا جائے تو اس کو کم نہ سمجھو بلکہ اس کی بھی بڑی قدر وقیمت ہے اور ایسے شخص کو بھی جنت نصیب ہوگی اس کے علاوہ غم حسینؑ میں بہنے والے آنسو دوزخ کی آگ سے ڈھال کا ہونگے۔

بیس سال گریہ
� قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :بَکَی عَلِیُّ بْنُ الْحسینؑ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ عِشْرِیْنَ سَنَة وَمَا وُضِعَ بَیْنَ یَدَیْہِ طَعَام اِلَّا بَکَی۔

(٢٢)� امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :امام زین العابدین علیہ السلام کربلا کی یاد میں بیس سال روئے اور جب بھی ان کے سامنے کھانا رکھا جاتا تو رونا شروع کردیتے تھے۔�(روایت میں ملتا ہے کہ جب کوئی مومن پانی پیے تو امام حسینؑ کی پیاس کو ضرور یاد کرے) ۔

��سوگواری کا طریقہ
� قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :لَمَّا مَاتَ اِبْرَاھِیْمُ بْنُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ وَعَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمْ حَمَلَتْ عَیْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ بِالدُّمُوْعِ ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ وَعَلَیْہِ وَآلِہِ :تَدْمَعُ الْعَیْنُ وَیَحْزَنُ الْقَلْبُ وَلاَنَقُوْلُ مَا یُسْخِطُ الرَّبَّ وَاِنَّا بِکَ یَا اِبْرَاھِیمُ لَمَحْزُوْنُوْنَ

(٢٣)�امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جب رسول خداۖکا بیٹا ابراہیم فوت ہوا تو آپۖ کی آنکھیں آنسو سے بھر آئیں اور پھر فرمایا:�آنکھیں روئیں گی اور دل غمگین ہوگا اور خدا سے شکوہ نہیں کریں گے، اے ابراہیم! ہم تیرے سوگ میں غمگین ہیں۔�(اس حدیث سے یہ سبق ملتا ہے کہ رونا فطرتی عمل ہے کیونکہ جب رسول خدا ۖ کے بیٹے ابراہیم دنیا سے گئے تھے تو آپۖ رسول تھے لیکن بیٹے کے غم میں وہ بھی روئے)۔�اگر رونا گناہ ہوتا تو حضرت حمزہؑ کے میت پر رسول خدا ۖ نے عورتوں کو اکٹھا ہو کر نوحہ کرنے کی اجازت کیوں دی؟ خود آنحضرتۖ نے حکم دیا تھا کہ حضرت حمزہؑ کے لئے نوحہ خوانی کی جائے۔ اگر رونا جائز نہ ہوتا تو اللہ کے نبی یعقوبؑ اپنے بیٹے یوسفؑ کے بچھڑنے کے غم میں اتنا کیوں روتے کہ آنکھوں کی بینائی چلی گئی۔

��اشکبار آنکھیں
�قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :مَنْ دُکِرْنَا عِنْدَہُ فَفَاضَتْ عَیْنَاہُ حَرَّمَ اللّٰہُ وَجْھَہُ عَلَی النَّارِ ۔

(٢٤)�امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :جس انسان کے سامنے ہمارا ذکر کیا جائے اور اس کی آنکھیں اشکبار ہو تو خدا وند عالم اس کے چہرے پر دوزخ کی آگ حرام کردے گا۔� (غم حسینؑ میں رونے والی آنکھ پر دوزخ کی آگ حرام ہے ۔ محرم کے مہینے میں تو صرف امام حسینؑ اور ان کے باوفا اصحاب کا نام سنتے ہی انسان کی آنکھوں سے آنسوؤں جاری ہوجاتے ہیں۔ روایت میں ملتا ہے کہ امام سجاد نے فرمایا کہ مسور کی دال کھایا کرو کیونکہ اس کے کھانے سے انسان میں آنسو پیدا ہوتے ہیں)۔

��اہل بیتؑ کا ذکر
�قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :تَزَاوَرُوْا وَتَلاقُوْا وَتَذَاکَرُوْا وَاَحْیُوا اَمْرَنَا۔

(٢٥)� امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ایک دوسرے کی زیارت کیا کرو، ایک دوسرے کی ملاقات کو جائو، مذاکرہ کرتے رہو اور ہماری ولایت کو زندہ رکھو۔� اس حدیث میں تین اخلاقی نکات کی طرف اشارہ ہے۔�١۔ مومنوں کو ایک دوسرے کا دیدار کرنا چاہئے تاکہ صلہ رحمی کا حق ادا ہو۔�٢۔ ایک دوسرے کے ساتھ مصافحہ کرنا، ایک دوسرے کو تذکر دینا۔�٣۔ ولایت اہلبیتؑ کو زندہ رکھنا، اسلام میں ہر مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے، کیونکہ اہل بیت کاذکر عبادت ہے۔�لہذا دینی بھائی کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں جن میں ایک حق یہ ہے کہ اس کے گھر میں اس کی خیرو عافیت کی خبر لینی چاہیے۔

��مجالس حسینؑی
� قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ لِلْفُضَیْلِ :تَجْلِسُوْنَ وَتُحَدِّثُوْنَ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ،قَالَ : اِنَّ تِلْکَ الْمَجَالِسَ اُحِبُّھَا فَاْحْیُوْا اَمْرَنَا فَرَحِمَ اللّٰہُ مَنْ اَحْیِیْ اَمْرَنَا

(٢٦)� امام صادق علیہ السلام نے فضل سے پوچھا: کیا تم اکھٹے بیٹھ کر ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔�آپ نے فرمایا: میں ایسی مجالس پسند کرتا ہوں، ہماری امامت کو زندہ رکھو، خدا اس انسان پر رحم کرے جو ہمارے ذکر کو زندہ کرتا ہے ۔�(اس حدیث میں یہ ملتا ہے کہ انسان مجالس حسینؑی میں ذکر اہل بیت کرے اور ان کے فضائل بیان کئے جائیں)۔

��آنسو کی قدر و منزلت
� قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰم :۔۔۔۔ رَحِمَ اللّٰہُ دَمْعَتَکَ ،اَمَّا اِنَّکَ مِنَ الَّذِیْنَ یُعَدُّوَنَ مِنْ اَھْلِ الْجَزَعِ لَنَا وَالَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ لِفَرَحِنَا وَیَحْزَنُوْنَ لِحُزْنِنَا ، اَمَّا اِنَّکَ سَتَرَی عِنْدَ مَوْتِکَ حُضُوْرَ آبَائِیْ لَکَ

(٢٧)� امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا تیرے آنسو کو تیرے لئے رحمت قرار دے۔ آگاہ رہو ! تم ان افراد میں سے ہے جو ہماری خوشی میں خوشحال اور ہمارے غم سے غمگین ہوتے ہیں، آگاہ رہو ! تم حالت احتضار میں اپنے سرہانے میرے بابا کو پائے گا۔� امام حسینؑ اور دوسرے اہل بیت کے غم میں رونے سے انسان رحمت خدا کا مستحق بن جاتا ہے۔ اور اس کے علاوہ ایک اہم نکتے کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ کہ قبر میں مولا تشریف لائیں گے۔

��غمگین دل
�قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰم:اَللَّھُمَّ ۔۔۔ وَارْحَمْ تِلْکَ الْاَعْیُنَ الَّتِیْ جَرَتْ دُمُوْعُھَا رَحْمَہ لَنَا وَارْحَمْ تِلْکَ الْقُلُوْبَ الَّتِیْ جَزَعَتْ وَاحْتَرَقَتْ لَنَا وَارْحَمِ الَّصَرْخَةِ الَّتِیْ کَانَتْ لَنَا ۔

(٢٨)�امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اے خدا ! ہمارے غم میں آنسو بہانے والی آنکھوں پر رحم فرما، ان دلوں پر رحم فرما جو ہمارے غم غمگین ہوں۔ اور ہمارے لئے آہ وبکا کرنے والوں پر رحم فرما۔�اس حدیث میں امامؑ اپنے ماننے والوں کے لئے دعا کر رہے ہیں کہ خدایا ! غم حسینؑ پر رونے والے لوگوں پر رحم فرما، ہمیں یہ فخر ہے کہ خود امامؑ ہمارے حق میں دعا فرمارہے ہیں اور امام کی دعا یقیناً قبول ہوتی ہے۔

��شیعون کی مظلومیت پر گریہ
� قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰم:مَنْ دَمِعَتْ عَیْنُہُ فِیْنَا دَمْعَہُ لِدَمٍ سُفِکَ لَنَا اَوْ حَقٍّ لَنَا نُقِصْنَاہُ عِرْضِ اُنْتَھکَ لَنَا اَوْ لِاَحْدٍ مِنْ شِیْعَتِنَا بَوَّاْہُ اللّٰہُ تَعَالٰی بِھَا فِیْ الْجَنَّةِ حُقُباً

(٢٩)� امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جو آنکھ ہماری مظلومیت پر روئے یا ہمارا حق غصب ہونے پر روئے یا ہماری اور ہمارے اصحاب کی آبرو کی حرمت پر روئے تو خداوند عالم اسے ہمیشہ رہنے والی جنت میں داخل کرے گا۔�(امام صادقؑ فرمارہے ہیں کہ جو آنکھ ہمارے غم اور ہمارا حق غصب ہونے پر روئے ،اسے جنت نصیب ہوگی صرف یہ نہیں بلکہ اگر ہمارے ماننے والوں پر ظلم ہو اور ان کی آبرو ریزی ہو تو اس پر افسوس کرے اور مومن کی مظلومیت کو اکھٹاذکر کیا ہے۔ امامؑ کو ہماری مظلومیت کا احساس بھی ہے)۔

��بے حد ثواب
�قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰم:لِکُلِّ شَیْیئٍ ثَوٰاب اِلَّا الدَمْعَة فِیْنَا

(٣٠)�امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ہر چیز کا کچھ نہ کچھ ثواب ملتا ہے لیکن ہم پر بہائے گئے آنسو کا بے حساب ثواب ملے گا۔�(بعض روایات میں اعمال کا ثواب معین بیان ہوا ہے لیکن امام حسینؑ اور ان کے باوفا اصحاب کے غم میں آنسو بہانا بے حد ثواب رکھتا ہے)۔

��کوثر اور اشک
�قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰم:مَامِنْ عَیْنٍ بَکَتْ لَنَا اِلَّا نُعِّمَتْ بَالنَّظْرِ اِلَی الْکَوْثَرِ وَسُقِیَتْ مِنْہُ ۔

(٣١)�امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہم پر رونے والی آنکھ کا اجر کوثر سے سیراب ہونا ہے۔�(ہمیں یہ بھی فخر ہے کہ مولا علی کے ہاتھوں حوض کوثر سے سیراب ہوں گے، باپ ساقی کوثر ہیں تو بیٹے جنت کے سردار، ماں جنت کی عورتوں کی سردار اور نانا تمام انبیاء کے سردار)۔
�� آسمان کا گریہ
�عَنْ الصَّادِقِ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :یَا زُرَارَةُ ! اِنَّ السَّّمَائَ بَکَتْ عَلَی الْحسینؑ اَرْبَعِیْنَ صَبَاحاً

(٣٢)�امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :اے زرارہ ! آسمان نےچالیس دن تک امام حسینؑ کے غم میں گریہ کیا ہے۔�(امام جعفر صادقؑ فرمارہے ہیں کہ امام حسینؑ کے غم میں نہ صرف انسان روئے بلکہ دوسری مخلوق نے بھی گریہ کیا۔ آسمان نے امام حسینؑ اور آپ کے باوفا اصحاب کے غم میں چالیس دن تک گریہ کیا)۔

��گریہ مطلوب
� قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰم:کُلُّ الْجَزَعِ وَالْبُکَائِ مَکْرُوْہ سِوَی الْجَزَعُ وَالْبُکَائُ عَلَی الْحسینؑ

(٣٣)� امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: مظلومیت امام حسینؑ کے علاوہ غیر کے لئے گریہ کرنا مکروہ ہے۔� (یعنی دنیا کی کسی چیز کے لئے یا کسی عزیز کےمرجانےپر ان کے لئے آہ وبکا اور رونا مکروہ ہے صرف امام حسینؑ کا غم ایسا غم ہے کہ جس پر رونے سے بہت اجر ملتا ہے۔ غم حسینؑ انبیاء کی

��پیغمبر اکرمۖ کا شہیدوں پر گریہ
�قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰم:اِنَّ النَّبِیَّ لَمَّا جَائَتْہُ وَفَاةُ جَعْفَرِ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ وَزَیْدِبْنِ حَارِثَة کَانَ اِذَا دَخَلَ بَیْتَہُ کَثُرَ بُکَائُہُ عَلَیْھِمَا جَدّاً وَیَقُوْلُ : کَانَا یُحَدِّثَانِیْ وَیُوْانِسَانِیْ فَذَھَبَا جَمِیْعاً

(٣٤)�امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب جعفربن ابی طالبؑ و زید بن حارثؒ کی شہادت کی خبر رسول خدا ۖ کو ملی تو اس کے بعد جب آپۖ گھر میں داخل ہوئے، گریہ کیا اور فرمایا: یہ دونوں شہید مجھ سے باتیں کرتے تھے اور میرے مونس تھے، لیکن دونوں دنیا سے چلے گئے ۔� (رونا فطری عمل ہے، خود رسول خدا ۖ جناب زید بن حارثؒ اور جعفر بن ابی طالبؑ پر روئے اور انہیں بہترین کلمات سے یاد کیا)۔

�� غمگین سانس پر تسبیح کا ثواب
� قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰم:نَفْسُ الْمَھْمُوْمٍ لِظُلْمِنَا تَسْبِیْح وَھَمُّہُ لَنَا عِبَادَة وَکِتْمَانُ سِرَّنَا جِھَاد فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ۔ ثُمَّ قَالَ اَبُوْ عَبْدِاللّٰہِ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :یَجِبُ اَنْ یُکْتَبَ ھَذَا الْحَدِیْثُ بِالذَّھَب

(٣٥)�امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ہماری مظلمومیت پر غمگین سانس لینا تسبیح شمار ہوتا ہے اور یہ غم عبادت ہے، ہمارا راز چھپانا جہاد ہے، اسکے بعد امام صادق علیہ السلام مزید فرماتے ہیں، یہ حدیث سونے سے لکھنے کے قابل ہے۔� (یعنی اہل بیت کے غم میں آہ بھرنا تسبیح اور ذکر شمار ہوتا ہے)۔

�سوگوار فرشتے
� قَالَ الصَّادِقُ عَلَیْہِ السَّلاٰم:اَرْبَعَة اَلاَفِ مَلَکٍ عِنْدَ قَبْرِ الْحسینؑ عَلَیْہِ السَّلاٰمُ شُعْث غُبْر یَبْکُوْنَہُ اِلٰی یَومِ الْقِیَامَةِ

(٣٦)�امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: چار ہزار غبار آلود فرشتے امام حسینؑ کی قبر کے قریب قیامت تک آپ پر روئیں گے۔�(امام حسینؑ کے غم میں مومنین قیامت تک روئیں گے بلکہ ہر حق و باطل میں تمیز رکھنے والا ہمیشہ حق کی پیروی کرے گا)۔

�� امام حسینؑ علیہ السلام پر گریہ
�قَالَ الرِّضَا عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :یَا ابْنَ شَبِیْبٍ ! اِنْ کُنْتَ بَاکِیاً لِشَیْئِ فَابْکِ لِلْحسینؑ بْنِ عَلِیِّ بْن ِاَبِیْ طَالِبٍ عَلَیْہِ السَّلاَمُ فَاِنَّہُ ذُبِحَ کَمَا یُذْبَحُ الْکَبْشُ

(٣٧)�امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: اے فرزند شبیب! اگر گریہ کرنا چاہتے ہو تو امام حسینؑ پرگریہ کرو کیونکہ انھیں جانور کی طرح ذبح کیا گیا تھا۔�(آج دنیا کے کونے کونے میں مجالس حسینؑ برپا ہو رہی ہیں یہ ایک آفاقی معجزہ ہے، جس طرح قرآن کی حفاظت خود خدا نے کی تاکہ اس میں کوئی تحریف نہ کرسکے اسی طرح ذکر اہل بیت بھی قیامت تک ہوتا رہے گا)۔�اس حدیث میں امام حسینؑ کی عبرت ناک شہادت کی طرف اشارہ ہے ۔ آپ کو اتنی بے دردی سے شہید کیا گیا جیسا کہ ایک جانور کو ذبح کیا جاتا ہے ۔

��ائمہ علیہم السلام کی یاد میں مجلس برپا کرنا
�قَالَ الرِّضَا عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :مَنْ جَلَسَ مَجْلِساً یُحْیِیْ فِیْہِ اَمْرُنَا لَمْ یَمُتْ قَلْبُہُ یَوْمَ تَمُوْتُ الْقُلُوْبُ

(٣٨)�امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص کسی مجلس میں بیٹھ کر ہمارے ذکر کو زندہ کرے تو ایسا دل قیامت میں نہیں مرے گا جس دن تمام دل مردہ ہوں گے۔

��امام حسینؑ پر رونے کا ثواب
�قَالَ الرِّضَا عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :فَعَلَی مِثْلِ الْحسینؑ فَلْیَبْکِ الْبَاکُوْنَ فَاِنَّ الْبُکَائَ عَلَیْہِ یَحُظّ الذُّنُوْبَ الْعِظَام۔

(٣٩)�امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: گریہ کرنے والوں کو حسینؑ جیسی شخصیت پر گریہ کرنا چاہیے کیونکہ آپ پر رونے سے بڑے گناہ معاف ہوتے ہیں۔�( اس حدیث میں بھی امام حسینؑ پر رونے کی فضیلت بتائی گئی ہے امامؑ فرماتے ہیں: گریہ کرنا ہو تو صرف حسینؑ بن علی پر گریہ کرو کیونکہ اس سے انسان کے گناہان کبیرہ معاف ہوتے ہیں)۔

��آنسو باعث مغفرت
�قَالَ الرِّضَا عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :یَابْنَ شَبِیْبٍ ! اِنْ بَکَیْتَ عَلَی الْحسینؑ عَلَیْہِ السَّلَامُ حَتّیٰ تَصِیْرَ دُمُوْعُکَ عَلٰی خَدَّیْکَ غَفَرَ اللّٰہُ لَکَ کُلَّ ذَنْبٍ اَذْنَبْتَہُ صَغِیْراً کَانَ اَوْ کَبِیْراً قَلِیْلاً کَانَ اَوْ کَثِیْراً

(٤٠)�امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: اے فرزند شبیب ! اگر تم امام حسینؑ پر اتنا گریہ کرو کہ آنسو تیرے رخسار پر جاری ہو جائیں تو اس کے بدلے خدا وند عالم تمھارے گناہ معاف کردے گا چاہے وہ گناہ چھوٹے ہوں یا بڑے، کم ہوں یا زیادہ۔

��اہل بیتؑ سے ہمدلی
�قَالَ الرِّضَا عَلَیْہِ السَّلاٰمُ :اِنْ سَرَّکَ اَنْ تَکُوْنَ مَعَنَا فِیْ الدَّرَجَاتِ الْعُلی مِنَ الْجِنَانِ فَاحْزَنْ لِحُزْنِنَا وَافْرَحْ لِفَرَحِنَا

(٤١)� امام رضا علیہ السلام نے ریان بن شبیب سے فرمایا: اگر تم چاہتے ہوجنت میں ہمارے ساتھ درجہ پاکر خوشحال رہو تو ہمارے غم پر غمگین رہو اور ہماری خوشی پر خوش رہو۔�(عملی طور پر کسی امام معصوم کی وفات پر غم منائو اور ولادت پر خوشی کا اظہار کرو ۔ بنوامیہ نے اپنے دور میں عاشورا کے دن عید منائی تاکہ لوگ آہستہ آہستہ حسینؑ اور مظلومیت حسینؑ کو بھول جائیں لیکن اہل بیت کے ماننے والے ہر دور میں رہے ہیں اور انہوں نے حسینؑیت کو زندہ رکھاہے)۔

�� ماخذ:�
(١)۔جامع احادیث الشیعہ ،ج١٢،ص٥٥٦
(٢)۔زمینہ ھای قیام امام حسینؑ ج ٢،ص ١٨١
(٣)۔بحارالانوار ،ج٤٤،ص ٢٨٤
(٤)۔امالی صدوق ،ص١١١
(٥)۔بحارالانوار ، ج ٤٤، ص ٢٩٣ (٦)۔بحارالانوار ،ج ٧٩ ،ص ١٠٢ (٧)۔بحارالانوار ،ج ٤٦ ، ص ٢٢٠
(٨)۔بحارالانوار ،ج ٤٤ ،ص ٢٨٧
(٩)۔رجال شیخ طوسی ،ص ٢٨٩
(١٠)۔ وسائل الشیعہ ،ج١٠،ص٤٦٧ (١١)۔وسائل الشیعہ ،ج١٠،ص٤٦٩
(١٢)۔جامع احادیث الشیعہ ،ج١٢، ص٥٦٧
(١٣)۔جامع احادیث الشیعہ ،ج١٢، ص٥٦٧
(١٤)۔ غررالحکم ،ج١۔ص٢٣٥
(١٥)۔بحارالانوار ،ج٤٤، ص ٢٧٩
(١٦)۔احقاق الحق ،ج٥، ص٥٢٣
(١٧)۔ینابیع المودہ ،ص ٤٢٩
(١٨)۔بحارالانوار ،ج٤٦، ص ١٠٩
(١٩)۔کامل الزیارات ، ص ١٧٥
(٢٠)۔بحارالانوار ،ج ٤٤،ص ٢٥٨
(٢١)۔ الغدیر ،ج٢،ص٢٠٢
(٢٢)۔بحارالانوار ، ج٤٦،ص١٠٨
(٢٣)۔بحار الانوار ،ج ٢٢،ص ١٥٧
(٢٤) بحارالانوار ،٤٤ ،ص ٢٨٥
(٢٥) ۔وسائل الشیعہ ،ج ١٠، ص٣٩٢
(٢٦)بحارالانوار ،ج٧١، ص ٣٥٢
(٢٧)۔وسائل الشیعہ ،ج١٠، ص٣٩٧ (٢٨)۔بحارالانوار ، ج٩٨،ص٨
(٢٩)۔امالی شیخ مفید ،ص ٧٥
(٣٠)۔جامع احادیث الشیعہ ،ج ١٢ ،ص ٥٤٨
(٣١)۔جامع احادیث الشیعہ ،ج ١٢،ص ٥٥٤
(٣٢)۔جامع احادیث الشیعہ ،ج ١٢،ص ٥٥٢ (٣٣)۔بحارالانوار ،ج٥،ص٣١٣
(٣٤)۔من لایحضرہ الفقیہ ، ج١،ص١٧٧
(٣٥)۔امالی شیخ مفید ،ص ٣٣٨
(٣٦)۔ کامل الزیارات ، ص ١١٩
(٣٧)۔بحارالانوار ،ج ٤٤،ص ٢٨٦
(٣٨)۔ بحارالانوار ،ج ٤٤،ص ٢٧٨
(٣٩)۔بحارالانوار ،ج ٤٤،ص ٢٨٤
(٤٠)۔امالی صدوق، ص١١٢
(٤١)۔جامع احادیث الشیعہ ،ج١٢،ص٥٤٩

Address

جامع مسجد و امام بارگاہ محمدیہ (ص) وی بلاک فرید ٹاون
Sahiwal
57000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Masjid wa Imam Bargah Muhammadia saww V Block Farid Town Sahiwal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share