Fazail e Ahal e Bait as

Fazail e Ahal e Bait as Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Fazail e Ahal e Bait as, Religious Center, Sahiwal.

10/03/2026
وقت رخصت مولائے کائنات علیہ السلام نے اپنے سب بچوں کو اپنے پاس بلایا تھا۔ سب کا ہاتھ امام حسن مجتبی علیہ السلام کے ہاتھ ...
05/01/2026

وقت رخصت مولائے کائنات علیہ السلام نے اپنے سب بچوں کو اپنے پاس بلایا تھا۔ سب کا ہاتھ امام حسن مجتبی علیہ السلام کے ہاتھ میں دیا تھا اور امام حسین علیہ السلام کا ہاتھ مولا عباس علیہ السلام کے ہاتھ میں۔ مجالس میں یہ بھی بیان ہوتا ہے کہ امام علی علیہ السلام نے اپنی دختر سیدہ زینب سلام اللہ علیھا کو ایک بار اکیلے میں بھی اپنے پاس بلایا تھا اور اپنی بیٹی کو کچھ اس انداز سے وصیتیں کی تھیں کہ سیدہ زینب سلام اللہ علیھا کا سر اپنے بابا کے کاندھے پر تھا اور وہ بغور اپنے بابا کی باتیں سنتی جاتی تھیں اور اثبات میں سر ہلاتی جاتی تھیں۔

علامہ طالب جوہری اعلی اللہ مقامہ بیان کیا کرتے تھے کہ باپ اور بیٹی کے درمیان کیا باتیں ہوئی تھیں، تاریخ میں اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ ہاں یہ تذکرہ ضرور ملتا ہے کہ جب واقعہ کربلا کے بعد اسیران کربلا کا قافلہ کوفہ پہنچا تھا تو ابن زیاد ملع ون کے دربار میں جانے سے قبل ایک بار سیدہ زینب سلام اللہ علیھا زمین پر بیٹھ گئیں تھیں جس پر سید سجاد علیہ السلام نے یہ دریافت کیا تھا کہ پھوپھی جان کیا آپ تھک گئی ہیں؟ سیدہ زینب سلام اللہ علیھا نے جواب دیا تھا کہ نہیں میں اپنے بابا علی مرتضی علیہ السلام ک انتظار کر رہی ہوں، بابا نے وقت رخصت مجھے بتایا تھا کہ ایک روز تمہیں دربار میں جانا ہوگا۔ جب وہ وقت آئے تو گھبرانا مت، میں تمہارے ساتھ دربار میں جاوں گا۔ یہ کہہ کر سیدہ زینب سلام اللہ علیھا نے ایک بار بلند آواز سے السلام علیک یا امیر المومنین کہا تھا اور دربار کی جانب چلنا شروع کر دیا تھا۔ جیسے بابا علی مرتضی علیہ السلام اپنے وعدے کئے مطابق وہاں آ چکے ہوں۔
۔
وقت رخصت کے منظر کو دوبارہ یاد کریں تو ہم محسوس کریں گے کہ یہاں ایک باپ، دنیا سے (ظاہراً) رخصت ہونے سے پہلے اپنے بچوں کیلئے فکرمندی کا اظہار کر رہا ہے۔ وہ سب بچوں کو وصیتیں اور نصیحتیں کر رہا ہے۔ چھوٹے بچوں کو بڑے بھائی کے سپرد کر رہا ہے، کربلا کو یاد کرتے ہوئے اپنے فرزند عباس علیہ السلام کو نصیحت کر رہا ہے کہ خود کو حسین علیہ السلام کا غلام سمجھنا، بھائی نہیں۔ محسوس ہوتا ہے جیسے وہ باپ رخصت ہونے سے قبل یہ اطمینان کر لینا چاہتا ہے کہ اس کے بچے محفوظ ہیں۔ وہ سب کو وصیتیں اور نصیحتیں کر لیتا ہے تو اسے یاد آتا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب میرے سب بچے شہید ہو چکے ہونگے، جس بیٹے کے سپرد سب بچوں کو کیا تھا وہ بھی، جس کا ہاتھ عباس علمدار علیہ السلام کے ہاتھ میں دیا تھا وہ بھی اور جس علمدار کے ذمے بیٹیوں کی چادر کی حفاظت تھی وہ بھی۔

وہ باپ یہ سوچ رہا ہے کہ یہ وہ وقت ہوگا جب سوائے میری دختر زینب سلام اللہ علیھا کے کوئی اور موجود نہ ہوگا۔ اس وقت کون میری بیٹی کی دلجوئی کرے گا؟ کون اسے حوصلہ دے گا؟ کون اس کی حفاظت اور مدد کرے گا؟ اس وقت کو یاد کرتے ہوئے وہ باپ اپنی بیٹی کو بلاتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب تم تنہا ہوگی، تمہارے بھائی شہید ہو چکے ہونگے۔ ایسے میں گھبرانا مت۔ میں خود تمہاری دلجوئی کیلئے آؤں گا، تمہارے ساتھ دربار میں جاوں گا۔ وہاں خطبہ تم دو گی اور لہجہ میرا ہوگا۔

یا علی ع، یا زینب ع

۱۵ رجب، سیدہ زینب سلام اللہ علیھا کے دنیا سے رخصت ہونے کا دن۔ دربار میں بیٹی کے ساتھ جانے کا وعدہ کرنے والے حیدر کرار علیہ السلام بیٹی کے جنازے پر بھی یقیناً آئے ہونگے۔
۔

Address

Sahiwal
56000

Telephone

+923217212912

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Fazail e Ahal e Bait as posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share