10/12/2023
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جنتیوں کو ملنے والی نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ بھی بیان کی کہ انہیں جنت میں عورتیں ملیں گی ۔۔۔
اُن عورتوں کی خصوصیات میں سے چند یہ بھی ہیں کہ
*ان میں نیچی نگاہ والی عورتیں ہیں، جنھیں ان سے پہلے نہ کسی انسان نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ کسی جن نے۔* (سورہ الرحمن 56)
اس کی تفسیر میں عبدالسلام بھٹوی نے کہا ہے
” اللہ تعالیٰ نے پہلے ان کا معنوی حسن بیان فرمایا کہ ان کی آنکھیں خاوندوں کے سوا کسی اور کی طرف نہیں اٹھیں گے اور نہ ہی ان کی نگاہ میں ان کے خاوندوں سے بڑھ کر کوئی ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک وصف ہی ہزاروں اوصاف پر بھاری ہے، کوئی عورت کتنی ہی حسین و جمیل ہو، اس وصف سے عاری ہو تو مرد غیور کی نگاہ میں اس کی کچھ قدر و قیمت نہیں رہتی۔ “
اللہ ہمیں بھی اپنی نگاہوں کی حفاظت کی توفیق دے آمین
آگے ایک اور صفت اُن عورتوں کی بیان ہوئی
*ان میں کئی خوب سیرت، خوبصورت عورتیں ہیں۔* (سورہ الرحمن 70)
خوبصورتی سے پہلے اللہ نے اُن کی خوب سیرت کا ذکر فرمایا
اللہ ہم سب کو بھی نیک سیرت بنائے آمین
آگے سورہ الواقعہ میں تین گروہوں کا ذکر ہے "دائیں ہاتھ والے" "بائیں ہاتھ والے" اور (السابقون السابقون )"پہل کرنے والے" اور ان گروہوں میں سب سے اوپر درجہ السابقون کا ہے۔۔۔
ان کو جو نعمتیں اور انعامات ملیں گے اُن میں ایک بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں بھی ہیں اور اِن حوروں کی ایک بہت خوبصورت اور پیاری صفت بیان ہوئی ہے
*اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں۔چھپا کر رکھے ہوئے موتیوں کی طرح۔* (سورہ الواقعہ 22٫23)
کہ وہ حوریں چھپے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں جسے چھپا کر رکھا گیا، اس کو کسی کے ہاتھ لگے نہ گرد وغبار اسے پہنچا ہو۔ چھپی ہوئی چیز جو بڑی انمول ہے جن تک ہر کسی کو رسائی حاصل نہیں۔نایاب چیز ہی ہمیشہ چھپا کر سنبھال کر رکھی جاتی ہے۔۔۔
یہاں سے پتا چلتا ہے کہ اللہ کو یہ صفات اتنی پسند ہیں کہ جنتیوں کو ملنے والی عورتوں کے اوصاف میں یہ خوبیاں ہیں کہ وہ نیچی نگاہوں والی خوب سیرت ہیں چھپے ہوئے موتیوں کی طرح ہیں۔۔۔۔
اللہ ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم بھی یہ انمول اور نایاب خصوصیات اپنائیں اور اپنی قدروقیمت کو صحیح معنوں میں جانیں ویسے ہی اپنے آپ کو ہر نامحرم کی آنکھ سے چھپا کر رکھیں اور وہ بنیں جن تک ہر کسی کو رسائی حاصل نہ ہو۔۔جو اپنے حسن کی نمائش نہ کرتی پھریں آمین
~🖊️ ماہین اقبال