Oswa-e-Hasna Foundation

Oswa-e-Hasna Foundation Oswa e Hasna program intends to provide diversified opportunities to humanity to spread the teachings of Islam through love of Holy Prophet Muhammad SAWW

Today insha'Allah...
09/08/2026

Today insha'Allah...

01/08/2026
With special thanks to Dr. Azam Raza Tabassum for introduction you compiled MashAllah. Be blessed forever and best wishe...
23/07/2026

With special thanks to Dr. Azam Raza Tabassum for introduction you compiled MashAllah. Be blessed forever and best wishes for your unique future endeavours🌹🌺🌹
https://www.facebook.com/share/p/1E6Az84hRq/

ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ: اسلامی معاشیات، تحقیق اور فکری رہنمائی کا ایک معتبر نام
تعارف از قلم ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم (چئیرمین گلوبل ہینڈز پاکستان )
Dr. Syed Muhammad Abdul Rehman Shah
Islamic Economist | Researcher | Author | Educator | Shariah Advisor | Academic Speaker
PhD in Islamic Banking & Finance | Bridging Islamic Wisdom with Contemporary Economics through Research, Teaching & Thought Leadership
Dedicated to Knowledge, Innovation and Service to Society
بعض شخصیات اپنے عہد کی محض ایک فرد نہیں ہوتیں بلکہ ایک فکر، ایک روایت اور ایک علمی و تربیتی مکتب کی نمائندہ ہوتی ہیں۔ ان کی زندگی علم و عمل، تحقیق و تدریس اور کردار و خدمت کا ایسا حسین امتزاج بن جاتی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے بھی مشعلِ راہ ثابت ہوتا ہے۔ ایسے ہی اہلِ علم کے حالاتِ زندگی صرف سوانح نہیں ہوتے بلکہ علم، اخلاص، استقامت اور خدمتِ دین کی ایک زندہ داستان بن جاتے ہیں۔
ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ بھی انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے دینی روایت اور جدید علمی دنیا کے درمیان ایک مضبوط علمی پل قائم کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ان کی شخصیت میں ایک عالمِ دین کی بصیرت، ایک محقق کی گہرائی، ایک استاد کی شفقت، ایک مقرر کی اثر آفرینی اور ایک داعی کا اخلاص یکجا دکھائی دیتا ہے۔ یہی اوصاف انہیں اپنے عہد کی ان علمی شخصیات میں ممتاز کرتے ہیں جو علم کو صرف محفوظ نہیں کرتیں بلکہ اسے معاشرے کی فکری اور عملی تعمیر کا ذریعہ بھی بناتی ہیں۔ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ پاکستان کے ممتاز ماہرِ اسلامی معاشیات، اسلامی بینکاری اور مالیات ہیں، جنہوں نے تدریس، تحقیق، تصنیف، شریعہ ایڈوائزری اور دعوتی و تربیتی خدمات کے میدان میں ایک نمایاں علمی مقام حاصل کیا ہے۔ روایتی دینی علوم اور جدید معاشی و مالیاتی علوم پر یکساں دسترس رکھنے کے باعث آپ کا شمار ان اہلِ علم میں ہوتا ہے جو اسلامی مالیاتی نظام کو معاصر تقاضوں کے مطابق علمی، تحقیقی اور عملی بنیادوں پر سمجھنے اور پیش کرنے میں مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔آپ کی شخصیت ایک ایسے محقق کی آئینہ دار ہے جس نے علمی روایت کو جدید تحقیق سے، اور دینی بصیرت کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی مسلسل کوشش کی۔ تدریس ہو یا تحقیق، تصنیف ہو یا شریعہ ایڈوائزری، قومی علمی فورمز ہوں یا بین الاقوامی کانفرنسیں، ہر میدان میں آپ کی کاوشیں سنجیدگی، علمی دیانت اور فکری توازن کی مظہر ہیں۔اسلامی معاشیات، اسلامی بینکاری، مالیاتی پالیسی، فقہ المعاملات اور جدید معاشی مسائل پر آپ کی تحقیقات ملکی و بین الاقوامی علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ اسی طرح تدریسی میدان میں آپ نے مختلف جامعات میں ہزاروں طلبہ کی علمی رہنمائی کرتے ہوئے علم کو محض معلومات کی منتقلی نہیں بلکہ فکری و اخلاقی تربیت کا ذریعہ بنانے کی روایت کو فروغ دیا۔
خاندانی پس منظر اور روحانی وراثت
ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ کا تعلق ساداتِ حسنی عمادی کے اس معزز اور علمی خانوادے سے ہے جو حضرت امام حسن مثنیٰ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں شمار ہوتا ہے۔ آپ کے جدِ امجد حضرت سید عمادالدین دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ہیں، جن کی درگاہ آج بھی دہلی (بھارت) میں مرجعِ خاص و عام ہے اور اہلِ محبت و عقیدت کے لیے مرکزِ فیض کی حیثیت رکھتی ہے۔ گزشتہ تقریباً تین سو برس سے آپ کا خاندان چکوال، راولپنڈی، اسلام آباد، کراچی اور اٹک سمیت مختلف علاقوں میں آباد ہے، جہاں اس نے علم، روحانیت، اصلاح اور خدمتِ خلق کی اپنی روشن روایت کو برقرار رکھا ہے۔
آپ کو اپنے آباؤ اجداد سے ایک مضبوط روحانی نسبت بھی ورثے میں ملی۔ آستانۂ عالیہ سیال شریف کے جلیل القدر خلیفہ حضرت پیر سید حیات شاہ ہمدانیؒ (علاول شریف) نے ڈاکٹر صاحب کے پردادا حضرت پیر سید امام الدین شاہ صاحبؒ کو خرقۂ خلافتِ چشتیہ نظامیہ سے سرفراز فرمایا۔ (فوز المقال فی خلفائے پیر سیال، جلد سوم)۔ یہ روحانی فیضان نسل در نسل منتقل ہوتا ہوا آج بھی اسی تسلسل کے ساتھ قائم ہے۔ڈاکٹر صاحب کے والدِ گرامی حضرت پیر سید عبدالغفور شاہ صاحب سیالویؒ ایک باوقار دینی، تعلیمی اور سماجی شخصیت تھے۔ آپ سجادۂ نشین ہونے کے ساتھ اپنے گاؤں کی مرکزی مسجد میں خطبۂ جمعہ ارشاد فرماتے اور دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ اسی کے ساتھ آپ نے بتیس سال تک گورنمنٹ اسکول میانی میں ہیڈ ماسٹر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں اور اپنی علمی بصیرت، حسنِ اخلاق اور تربیتی انداز سے کئی نسلوں کی تعلیم و تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اکتوبر 2020ء میں آپ کا وصال ہوا اور آپ کا مزار میانی، ضلع چکوال میں مرجعِ عقیدت ہے۔
ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ کی شخصیت کی علمی و روحانی تشکیل میں خاندان کی ممتاز علمی شخصیت حضرت پیر سید ذاکر حسین شاہ صاحب سیالویؒ کا بھی گہرا اثر ہے۔ آپ صاحبِ تصانیف عالم، شیخ الاسلام والمسلمین خواجہ محمد قمر الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ کے فیض یافتہ اور مجاز خلیفہ تھے۔ بھیرہ شریف سے فراغت کے بعد جب ڈاکٹر صاحب نے عصری جامعات میں اعلیٰ تعلیم کا آغاز کیا تو اسی دوران حضرت پیر سید ذاکر حسین شاہ صاحبؒ کی علمی و روحانی تربیت بھی مسلسل حاصل کرتے رہے۔ اسی نسبت کا ایک روشن ثمر یہ بھی ہے کہ آپ نے حضرت شاہ صاحب کے سنن ترمذی پر ہونے والے دروس کو بڑی محنت سے "النور البہی فی شرح ترمذی" کے عنوان سے تین جلدوں میں مرتب کیا، جو استاذ سے محبت، علمی امانت اور تحقیقی ذوق کا قابلِ قدر نمونہ ہے۔یہی خاندانی روایت، روحانی فیضان اور علمی ماحول آگے چل کر ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ کی شخصیت کی بنیاد بنا، جس نے انہیں علم، تحقیق، تدریس اور خدمتِ دین کے میدان میں ایک متوازن اور ہمہ جہت علمی شخصیت کے طور پر نمایاں کیا۔
بچپن اور دینی تعلیم
ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ کی ابتدائی زندگی ایک ایسے دینی، علمی اور تربیتی ماحول میں گزری جہاں علم کو عبادت اور کردار سازی کو زندگی کا بنیادی مقصد سمجھا جاتا تھا۔ یہی ماحول ان کی شخصیت کی فکری اور روحانی تشکیل کا نقطۂ آغاز بنا۔ بچپن ہی سے حصولِ علم کا شوق، دینی ذوق اور علمی انہماک ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا، جس نے انہیں روایتی دینی تعلیم کے باقاعدہ سفر کی طرف راغب کیا۔اسی جذبۂ علم کے تحت 1998ء میں آپ نے دارالعلوم محمدیہ غوثیہ، بھیرہ شریف میں داخلہ لیا، جو برصغیر کے معروف علمی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ مسلسل محنت، استقامت اور اساتذہ کی رہنمائی میں 2007ء میں آپ نے اسی ادارے سے الشہادۃ العالمیہ فی العلوم العربیہ والاسلامیہ (درسِ نظامی) مکمل کی۔دورانِ تعلیم آپ نے "فقہ المعاملات المالیہ (البیوع) کے فقہی تصورات اور جدید تعبیرات" پر فتویٰ نویسی کے اسلوب میں تحقیقی مقالہ تحریر کیا، جو الاستاذ مفتی شیر محمد خان صاحب کی نگرانی میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ یہ تحقیق فقہِ معاملات کے کلاسیکی ذخیرے اور جدید معاشی مسائل کے درمیان علمی ربط کو سمجھنے کی جانب آپ کے تحقیقی ذوق اور فکری پختگی کا ابتدائی مظہر تھی، جس نے آگے چل کر اسلامی معاشیات اور اسلامی مالیات میں آپ کی تخصص کی مضبوط بنیاد فراہم کی۔
عصری تعلیم اور تحقیقی سفر
درسِ نظامی کی تکمیل کے بعد ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ نے عصری علوم کی جانب اسی سنجیدگی اور عزم کے ساتھ قدم بڑھایا جس کا مظاہرہ انہوں نے دینی تعلیم کے دوران کیا تھا۔ ان کے نزدیک دینی اور عصری علوم ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں، اور یہی فکر ان کے پورے علمی سفر میں نمایاں دکھائی دیتی ہے۔2007ء سے 2009ء تک آپ نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم ایس سی (معاشیات) مکمل کی۔ بعد ازاں 2012ء میں یونیورسٹی آف سرگودھا سے ایم اے اسلامیات کی ڈگری حاصل کی۔ اسی دوران آپ نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے اسلامی بینکاری و مالیات میں ایم ایس کیا، جس میں آپ کا تحقیقی مقالہ اسلامی بینکاری کی صنعت میں سرمائے کی ساخت کے فیصلوں (Capital Structure Decisions) پر تھا۔
بعد ازاں اسی جامعہ سے آپ نے اسلامی بینکاری و مالیات میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ آپ کا تحقیقی موضوع "Monetary Policy Transmission Mechanism: Exploring the Role of Islamic versus Conventional Channels" تھا، جس میں اسلامی اور روایتی بینکوں کے ذریعے مالیاتی پالیسی کی ترسیل کے طریقۂ کار کا جامع اور تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا۔پی ایچ ڈی کے دوران آپ نے تحقیق کے سلسلے میں سات ممالک کا علمی سفر کیا اور مختلف بین الاقوامی کانفرنسوں میں اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے۔ اس سفر کا ایک نمایاں سنگِ میل جامعہ الازہر، قاہرہ (مصر) میں دو ماہ پر مشتمل تحقیقی و تربیتی قیام تھا، جہاں آپ نے علمی استفادے کے ساتھ ساتھ لیکچرز کی ایک خصوصی سیریز بھی پیش کی۔ یہ بین الاقوامی علمی تجربات آپ کی تحقیقی بصیرت کو مزید وسعت دینے کا ذریعہ بنے اور آپ کی علمی شخصیت کو عالمی علمی حلقوں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔
علمی و روحانی تربیت
ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ کی شخصیت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان کی علمی ترقی کے ساتھ ساتھ روحانی اور اخلاقی تربیت کا سلسلہ بھی مسلسل جاری رہا۔ انہوں نے علم کو صرف معلومات کے حصول تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے کردار، اخلاص اور عمل سے وابستہ کیا، جو ان کے اساتذہ اور مشائخ کی تربیت کا نمایاں اثر ہے۔بھیرہ شریف سے فراغت کے بعد جب آپ نے مختلف جامعات میں عصری علوم کی تحصیل کا آغاز کیا تو اسی دوران خاندان کی ممتاز علمی و روحانی شخصیت حضرت پیر سید ذاکر حسین شاہ صاحب سیالوی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت اور تربیت سے بھی مسلسل فیض یاب ہوتے رہے۔ حضرت شاہ صاحب، شیخ الاسلام والمسلمین خواجہ محمد قمر الدین سیالوی رحمۃ اللہ علیہ کے فیض یافتہ، مجاز خلیفہ اور متعدد علمی و دینی تصانیف کے مصنف تھے۔ ان کی علمی مجالس اور دروس نے ڈاکٹر صاحب کے فکری ذوق، تحقیقی مزاج اور دعوتی شعور کو مزید جِلا بخشی۔اسی علمی تعلق کا ایک روشن اظہار یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے حضرت پیر سید ذاکر حسین شاہ صاحبؒ کے سنن ترمذی پر ہونے والے دروس کو بڑی محنت، تحقیق اور امانت کے ساتھ "النور البہی فی شرح ترمذی" کے عنوان سے تین جلدوں میں مرتب کیا۔ یہ خدمت نہ صرف ان کے تحقیقی ذوق کا ثبوت ہے بلکہ اپنے استاذ کے علمی ورثے کو محفوظ کرنے کی ایک قابلِ قدر کاوش بھی ہے۔جب حضرت پیر سید ذاکر حسین شاہ صاحبؒ عمر رسیدگی کے باعث اپنی تدریسی اور خطیبانہ مصروفیات محدود کرنے لگے تو 2008ء سے ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ نے جامع مسجد قباء، لین نمبر 5، پشاور روڈ، راولپنڈی کینٹ میں ان کے علمی و دعوتی سلسلے کو بحسن و خوبی آگے بڑھانے کی ذمہ داری سنبھالی۔ اسی مسجد میں حضرت شاہ صاحب تقریباً پینتیس برس تک منبر و محراب کو اپنے علم و حکمت سے منور کرتے رہے تھے۔ اس ذمہ داری کو سنبھالنا ڈاکٹر صاحب کے لیے محض ایک منصب نہیں بلکہ اپنے اساتذہ کی علمی و روحانی امانت کو آگے منتقل کرنے کا ایک مقدس فریضہ تھا۔
تدریسی خدمات: علم کی ترسیل سے فکری تعمیر تک
ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ کی علمی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی تدریسی خدمات ہیں۔ آپ کا تدریسی سفر محض نصابی معلومات کی منتقلی تک محدود نہیں بلکہ علم کو فکر، تحقیق اور عملی بصیرت سے جوڑنے کی ایک مسلسل کوشش ہے۔ آپ کو چودہ سال سے زائد عرصے پر محیط تدریسی، تحقیقی اور علمی خدمات کا وسیع تجربہ حاصل ہے، جس میں جامعات، تحقیقی اداروں اور علمی فورمز پر طلبہ اور محققین کی رہنمائی شامل ہے۔ستمبر 2025ء سے آپ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ اسلامی معاشیات میں بطور فیکلٹی ممبر خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں آپ اسلامی معاشیات، اسلامی مالیات اور عصرِ حاضر کے معاشی مسائل سے متعلق تدریس و تحقیق کے ذریعے نئی نسل کی علمی رہنمائی کر رہے ہیں۔
اس سے قبل آپ نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET)، ٹیکسلا میں تقریباً چودہ سال تک کل وقتی فیکلٹی ممبر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس عرصے میں آپ نے انجینئرنگ کے طلبہ کو انجینئرنگ اکنامکس، پروفیشنل اینڈ سوشل ایتھکس اور اسلامیات جیسے اہم مضامین پڑھائے۔ آپ کی تدریس کا امتیاز یہ تھا کہ آپ نے جدید تکنیکی تعلیم کو اخلاقی اقدار، سماجی ذمہ داری اور فکری شعور کے ساتھ ہم آہنگ کیا، جس کے باعث آپ طلبہ کے لیے محض استاد نہیں بلکہ ایک مربی اور رہنما کی حیثیت اختیار کر گئے۔آپ نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (NUST)، SECP بزنس اسکول، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی اور قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سمیت متعدد ممتاز جامعات میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ ان اداروں میں آپ نے معاشیات، اسلامی معاشیات، اسلامی بینکاری و مالیات، فنانشل مینجمنٹ، کارپوریٹ فنانس، مائیکرو اکنامکس، میکرو اکنامکس، مانیٹری اکنامکس، بین الاقوامی تجارت اور اسلامی قانونِ کاروباری معاہدات جیسے تخصصی مضامین پڑھائے۔آپ کا تدریسی اسلوب تحقیق، تنقیدی فکر، عملی مثالوں اور علمی مکالمے پر مبنی رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی تدریس نے طلبہ میں صرف علم ہی نہیں بلکہ تحقیقی شعور، تجزیاتی صلاحیت اور عصری مسائل کو اسلامی و معاشی تناظر میں سمجھنے کی استعداد بھی پیدا کی۔
تحقیقی خدمات اور تصانیف: علمی بصیرت کا تسلسل
تحقیق ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ کی علمی شناخت کا بنیادی ستون ہے۔ آپ نے اسلامی معاشیات اور اسلامی مالیات کے میدان میں ایسی تحقیقی کاوشیں انجام دی ہیں جو کلاسیکی اسلامی فکر اور جدید معاشی چیلنجز کے درمیان ایک مضبوط علمی رابطہ قائم کرتی ہیں۔ آپ کی تحقیقات میں فقہی بصیرت، جدید معاشی نظریات اور مقداری تحقیقی مناہج کا حسین امتزاج نمایاں نظر آتا ہے۔آپ کے 36 تحقیقی مقالات دنیا کے ممتاز اور عالمی معیار کے Scopus اور Web of Science سے منسلک تحقیقی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان تحقیقات میں اسلامی بینکاری، اسلامی مالیات، مانیٹری پالیسی، مالیاتی نظام، اسلامی اور روایتی بینکاری کا تقابلی جائزہ، مالیاتی استحکام، سرمایہ جاتی فیصلوں اور عصرِ حاضر کے معاشی مسائل جیسے اہم موضوعات کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔
آپ کی علمی خدمات کا ایک اہم پہلو بین الاقوامی علمی اداروں سے شائع ہونے والے تحقیقی ابواب بھی ہیں۔ اب تک آپ کے 10 تحقیقی کتابی ابواب دنیا کے معروف اشاعتی اداروں، جن میں Springer، Springer Nature، Routledge اور IGI Global شامل ہیں، سے شائع ہو چکے ہیں۔ یہ اشاعتیں اس بات کی عکاس ہیں کہ آپ کی علمی کاوشوں کو عالمی علمی حلقوں میں بھی قدر و اعتماد کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔تصنیفی میدان میں بھی آپ کا علمی سفر مسلسل جاری ہے۔ اس وقت آپ کی چار اہم علمی کتب زیرِ طبع ہیں، جن کے موضوعات میں فقہ المعاملات المالیہ، اسلامی تمویل (Islamic Finance)، معاشی منڈیوں کی جدید اسلامی تعبیرات اور معاصر اسلامی مالیاتی مسائل شامل ہیں۔ یہ تصانیف اسلامی فقہ کی علمی روایت کو جدید معاشی نظام اور عالمی مالیاتی چیلنجز کے ساتھ مربوط کرنے کی ایک سنجیدہ علمی کوشش ہیں۔آپ کی تحقیقی و تصنیفی خدمات اس امر کی مظہر ہیں کہ آپ نے اسلامی معاشیات کو صرف نظری بحث تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عصرِ حاضر کے عملی معاشی مسائل کے تناظر میں ایک مؤثر علمی میدان کے طور پر پیش کیا ہے۔
قومی و بین الاقوامی علمی سرگرمیاں: علم کا عالمی سفر
ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ کی علمی سرگرمیوں کا دائرہ قومی حدود سے آگے بڑھ کر بین الاقوامی علمی دنیا تک پھیلا ہوا ہے۔ آپ نے مختلف ممالک کی جامعات، تحقیقی اداروں اور عالمی علمی فورمز پر اسلامی معاشیات، اسلامی بینکاری اور مالیاتی نظام سے متعلق اپنے تحقیقی افکار پیش کیے، جنہیں علمی حلقوں میں پذیرائی حاصل ہوئی۔آپ نے قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں KazGUU University، ترکی کے شہر استنبول میں Marmara University، سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں Ibn Sina University، اور انڈونیشیا کے شہروں سورابایا اور جکارتہ میں Bank Indonesia کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنسوں میں اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے۔
ان علمی اجتماعات میں آپ کی تحقیقات نے اسلامی مالیاتی نظام، مانیٹری پالیسی، اسلامی بینکاری اور معاصر اقتصادی مسائل کے حوالے سے عالمی علمی مکالمے میں اپنا حصہ ڈالا۔ آپ کے بین الاقوامی علمی سفر کا ایک اہم سنگِ میل جامعہ الازہر، قاہرہ میں دو ماہ پر مشتمل تحقیقی و تربیتی قیام بھی ہے، جہاں آپ نے اسلامی معاشیات، اسلامی مالیات اور معاصر فقہی و معاشی مباحث پر علمی نشستوں اور لیکچرز کے ذریعے اپنے افکار پیش کیے۔اس کے علاوہ آپ نے مختلف ممالک کے اساتذہ، محققین اور طلبہ کے لیے اسلامی معاشیات اور اسلامی مالیات کے موضوعات پر متعدد آن لائن لیکچرز، ویبینارز، علمی سمپوزیم اور تحقیقی مکالموں میں بھی حصہ لیا۔یوں ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ کی قومی و بین الاقوامی علمی سرگرمیاں اس حقیقت کی عکاس ہیں کہ علم جب تحقیق، اخلاص اور مکالمے کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو وہ جغرافیائی حدود سے بلند ہو کر عالمی علمی ورثے کا حصہ بن جاتا ہے۔
شریعہ ایڈوائزری اور پیشہ ورانہ خدمات
ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ کی علمی خدمات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ آپ نے تحقیق اور تدریس کے ساتھ ساتھ اسلامی مالیات کے عملی میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ دینی بصیرت، فقہی شعور، جدید معاشی فہم اور مالیاتی نظام کی گہری آگاہی نے آپ کو شریعہ ایڈوائزری اور اسلامی مالیاتی رہنمائی کے میدان میں ایک معتبر مقام عطا کیا ہے۔ آپ نے علمی نظریات کو عملی ادارہ جاتی نظام سے جوڑتے ہوئے اسلامی مالیات کے فروغ، شریعہ گورننس کی مضبوطی اور جدید کاروباری معاملات کو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ کرنے میں قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔آپ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے سرٹیفائیڈ شریعہ ایڈوائزر ہیں، جہاں آپ مختلف کمپنیوں، کاروباری اداروں، ٹرسٹوں، فاؤنڈیشنز اور مالیاتی تنظیموں کو شریعہ کمپلائنس، شریعہ گورننس، شریعہ آڈٹ اور اسلامی مالیاتی معاملات میں علمی و پیشہ ورانہ رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ آپ کی کوششوں کا بنیادی محور یہ ہے کہ جدید معاشی سرگرمیوں کو اسلامی شریعت کے اصولوں، اخلاقی اقدار اور شفاف مالیاتی نظام کے ساتھ مربوط کیا جائے۔
اسی طرح آپ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذیلی ادارے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس (NIBAF) کے سرٹیفائیڈ اسلامی بینکاری پروفیشنل بھی ہیں، جس کے ذریعے اسلامی بینکاری کے عملی پہلوؤں، مالیاتی مصنوعات اور بینکاری نظام کی شرعی جہات پر آپ کی تخصصی مہارت مزید مستحکم ہوئی۔تحقیق کے میدان میں آپ کی علمی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے آپ کو منظور شدہ ریسرچ سپروائزر کی حیثیت سے تسلیم کیا ہے۔ اس منصب پر آپ ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کی تحقیقی رہنمائی، علمی تربیت اور جدید تحقیقی مناہج کی ترویج میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔یوں ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ کی پیشہ ورانہ شخصیت اس حقیقت کی عکاس ہے کہ ایک صاحبِ علم محقق جب فقہ، معیشت اور جدید ادارہ جاتی تقاضوں کو یکجا کرتا ہے تو وہ نہ صرف علمی دنیا میں بلکہ عملی معاشی نظام میں بھی مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
دعوتی، تربیتی اور سماجی خدمات
ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ کی علمی زندگی کا ایک روشن پہلو یہ بھی ہے کہ آپ نے علم کو محض کتابوں اور درس گاہوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے دعوت، تربیت اور سماجی اصلاح کا ذریعہ بنایا۔ آپ کا یقین ہے کہ علم کا حقیقی مقصد انسان کی فکری رہنمائی، کردار سازی اور معاشرے کی مثبت تعمیر ہے۔ اسی جذبے کے تحت آپ نے مختلف دعوتی، تربیتی اور سماجی منصوبوں کے ذریعے نوجوان نسل اور معاشرے کے مختلف طبقات کی فکری و اخلاقی تربیت میں اپنا حصہ ادا کیا۔علم کو عمل اور دعوت سے جوڑنے کے جذبے کے تحت 2016ء میں آپ نے اپنے رفقائے کار کے ساتھ مل کر اسوۂ حسنہ فاؤنڈیشن قائم کی۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد عشقِ رسول ﷺ کی روشنی میں اسلامی فکر، اخلاقی اقدار اور دینی شعور کو عام کرنا، نوجوان نسل کی فکری تربیت کرنا اور معاشرے میں علم، کردار اور خدمت کے جذبے کو فروغ دینا ہے۔اسوۂ حسنہ فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام مختلف علمی، تربیتی اور دعوتی سرگرمیاں مسلسل جاری ہیں، جن میں سیمینارز، تربیتی پروگرامز، محافلِ ذکر و درود، فکری نشستیں اور نوجوانوں کی شخصیت سازی کے مختلف منصوبے شامل ہیں۔ان نمایاں منصوبوں میں یونیورسٹی سطح کے اساتذہ کے تعاون سے سالانہ سمر کیمپ کا انعقاد شامل ہے، جہاں نوجوانوں کی فکری، اخلاقی اور شخصی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ اسی طرح قباء قرآن انسٹیٹیوٹ کا قیام عمل میں لایا گیا، جہاں بچے حفظِ قرآن کے ساتھ ساتھ مڈل سطح کی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں۔مزید برآں اسوۂ حسنہ انسٹیٹیوٹ آف شریعہ اینڈ ماڈرن ایجوکیشن (OeH-ISME)، بھیرہ شریف (برانچ نمبر 171) کا قیام بھی آپ کی تعلیمی و تربیتی کاوشوں کا اہم مظہر ہے، جہاں میٹرک کے بعد طالبات بھیرہ شریف کے نصاب کے مطابق چھ سالہ شریعہ اسکالر پروگرام (انٹرمیڈیٹ، الشہادۃ العالمیہ، مساوی HEC بی ایس اسلامک اسٹڈیز) میں زیرِ تعلیم ہیں۔
منبر و محراب کی خدمت کے میدان میں بھی آپ نے اپنے بزرگوں کی علمی روایت کو آگے بڑھایا۔ 2008ء سے آپ نے جامع مسجد قباء، لین نمبر 5، پشاور روڈ، راولپنڈی کینٹ میں اپنے بزرگ حضرت پیر سید ذاکر حسین شاہ صاحب سیالویؒ کے علمی و دعوتی سلسلے کو جاری رکھا، جہاں خطابات، دروس اور دینی رہنمائی کے ذریعے عوام الناس کی فکری و روحانی تربیت کا سلسلہ قائم ہے۔یوں ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ کی دعوتی اور سماجی خدمات اس حقیقت کی ترجمان ہیں کہ علم جب اخلاص، محبتِ رسول ﷺ اور خدمتِ خلق کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو وہ فرد کی اصلاح سے لے کر معاشرے کی تعمیر تک ایک مؤثر قوت بن جاتا ہے۔
میڈیا، خطابت اور فکری رہنمائی
ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ کی علمی خدمات کا دائرہ درس گاہوں، تحقیقی جرائد اور علمی کانفرنسوں تک محدود نہیں بلکہ آپ نے جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے علمی افکار، معاشی شعور اور فکری رہنمائی کو عام کرنے میں بھی مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ ایک سنجیدہ محقق، صاحبِ نظر دانش ور اور ماہرِ اسلامی معاشیات کی حیثیت سے آپ قومی ذرائع ابلاغ پر معاشی، سماجی اور فکری موضوعات پر متوازن، مدلل اور تحقیقی تجزیے پیش کرتے ہیں۔خصوصاً قومی بجٹ، مالیاتی پالیسی، معاشی اصلاحات، اسلامی بینکاری، مالیاتی استحکام اور عالمی اقتصادی رجحانات جیسے اہم موضوعات پر آپ کی گفتگو اعداد و شمار، تحقیقی بصیرت اور اسلامی معاشی فکر کے امتزاج کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ آپ پیچیدہ معاشی مباحث کو عام فہم انداز میں پیش کرتے ہوئے طلبہ، عوام، پالیسی ساز اداروں اور علمی حلقوں کے لیے فکری رہنمائی کا ذریعہ بنتے ہیں۔خطابت کے میدان میں بھی آپ نے اپنے علمی پس منظر، دینی بصیرت اور تحقیقی مزاج کے ذریعے ایک منفرد شناخت قائم کی ہے۔ مختلف ٹیلی ویژن پروگراموں، علمی مذاکروں اور فکری نشستوں میں آپ علامہ محمد اقبالؒ اور مولانا جلال الدین رومیؒ کی فکری روایت، اسلامی تہذیب، اسلامی معاشیات، عصرِ حاضر کے فکری چیلنجز اور امتِ مسلمہ کو درپیش مسائل پر اظہارِ خیال کرتے ہیں۔آپ کی گفتگو کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں روایت کی گہرائی، تحقیق کی مضبوطی اور عصرِ حاضر کے تقاضوں کا شعور یکجا نظر آتا ہے۔ آپ کا اسلوب محض معلومات کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ فکر کو جِلا بخشنے، شعور کو بیدار کرنے اور علمی مکالمے کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتا ہے۔
شخصیت اور علمی امتیازات
ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ کی شخصیت دینی بصیرت، جدید علمی تحقیق، تدریسی مہارت، تحقیقی دیانت اور عملی بصیرت کا حسین امتزاج ہے۔ آپ کی علمی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ جب روایت کی گہرائی اور عصری علوم کی وسعت ایک شخصیت میں جمع ہو جائیں تو علم محض ذخیرۂ معلومات نہیں رہتا بلکہ معاشرے کی فکری تعمیر کا مؤثر وسیلہ بن جاتا ہے۔آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف یہ ہے کہ آپ نے اسلامی علوم، معاشیات، مالیات اور جدید تحقیقی مناہج کو باہم مربوط کرتے ہوئے ایک متوازن علمی راستہ اختیار کیا۔ دینی روایت سے وابستگی، جدید معاشی نظریات کا شعور، تحقیق کا ذوق، تدریس کی صلاحیت اور عملی میدان میں رہنمائی کی استعداد نے آپ کو معاصر علمی منظرنامے میں ایک ممتاز مقام عطا کیا ہے۔
آپ اردو، انگریزی، عربی اور فارسی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں، جس کے ذریعے آپ کلاسیکی اسلامی مصادر، جدید علمی ذخیرے اور عالمی تحقیقی لٹریچر سے استفادہ کرتے ہیں۔ اسی طرح مقداری تحقیق (Quantitative Research) اور معاشی تجزیاتی مناہج میں مہارت، خصوصاً Stata اور E-Views جیسے اکنامیٹرک سافٹ ویئرز کا استعمال، آپ کی تحقیقی شخصیت کو مزید مضبوط علمی بنیاد فراہم کرتا ہے۔آپ کی علمی شناخت کا ایک اہم امتیاز یہ بھی ہے کہ آپ نے فقہی بصیرت، معاشی فہم، تحقیقی مہارت اور سماجی شعور کو یکجا کرکے اسلامی معاشیات اور اسلامی مالیات کے میدان میں ایک ایسی علمی روایت کو آگے بڑھایا جو ماضی کی علمی میراث کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتی ہے۔آپ بحیثیت استاد، محقق، مصنف، شریعہ ماہر اور فکری رہنما ایک ایسی شخصیت کے طور پر سامنے آتے ہیں جس نے علم کو تحقیق سے، تحقیق کو عمل سے، اور عمل کو معاشرے کی بہتری سے مربوط کیا۔ یہی جامع علمی مزاج آپ کی شخصیت کو منفرد اور قابلِ قدر بناتا ہے۔
ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ کا علمی سفر دراصل علم، تحقیق، تدریس، دعوت اور خدمت کا ایک روشن باب ہے۔ آپ نے دینی علوم کی گہرائی، جدید معاشی علوم کی وسعت اور تحقیقی منہج کی مضبوطی کو یکجا کرکے اسلامی معاشیات اور اسلامی مالیات کے میدان میں ایک منفرد علمی شناخت قائم کی ہے۔ آپ کی شخصیت اس حقیقت کی عملی تصویر ہے کہ جب علم اخلاص، محنت اور مقصدیت کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو وہ نہ صرف ایک فرد کی پہچان بنتا ہے بلکہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر سرمایہ بن جاتا ہے۔آپ کی تحقیقی کاوشوں نے اسلامی اقتصادی فکر کو جدید علمی مباحث سے مربوط کیا، آپ کی تصنیفی خدمات نے علمی ذخیرے میں گراں قدر اضافہ کیا، آپ نے علم کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری، ایک امانت اور ایک قومی خدمت کے طور پر اختیار کیا۔ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ جیسے اہلِ علم کسی بھی ملک کا حقیقی علمی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ایسی شخصیات قوموں کی شناخت بناتی ہیں، علمی روایت کو زندہ رکھتی ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے فکری راستے روشن کرتی ہیں۔ پاکستان کو ایسے ہی محققین، اساتذہ اور دانش وروں کی ضرورت ہے جو اپنی صلاحیتوں کے ذریعے ملک کا نام عالمی علمی دنیا میں بلند کریں اور دینی و عصری علوم کے درمیان مؤثر پل قائم کریں۔یہ امر باعثِ مسرت ہے کہ آپ کے اساتذہ، علمی رفقا اور طلبہ آپ کی علمی دیانت، تحقیقی مزاج اور خدمتِ علم کے جذبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایک شاگرد کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے اساتذہ کے اعتماد کو اپنے کردار، علم اور عمل سے سچ ثابت کرے، اور ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ کی علمی زندگی اسی اعتماد اور تربیت کی خوب صورت ترجمانی کرتی ہے۔
آپ کی شخصیت ان اہلِ علم کی نمائندہ ہے جو خاموشی سے قوموں کی تعمیر کرتے ہیں؛ جو کتاب سے تعلق کو کردار کی قوت بناتے ہیں، تحقیق کو خدمت کا ذریعہ بناتے ہیں اور علم کو معاشرے کی رہنمائی کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ ایسے لوگ کسی بھی قوم کے اصل ہیرو ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی کامیابیاں صرف ان کی ذاتی کامیابیاں نہیں ہوتیں بلکہ پوری ملت کے علمی مستقبل کی بنیاد بنتی ہیں۔بلاشبہ ڈاکٹر سید محمد عبدالرحمن شاہ پاکستان کے ان علمی چہروں میں شمار ہوتے ہیں جن پر ملک، قوم اور اہلِ علم فخر کر سکتے ہیں۔ آپ کی علمی خدمات، تحقیقی کاوشیں اور فکری رہنمائی آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے علم، قلم اور فکر میں مزید برکت عطا فرمائے، آپ کو اسلام، پاکستان اور انسانیت کی خدمت کے مزید مواقع عطا کرے اور آپ کی علمی کاوشوں کو ہمیشہ کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین۔

18/07/2026
18/07/2026

Concluding 9th Day of Summer Camp 2026
Trainer: Dr. Syed Hammad Wajid Talha
Quaid e Azam International Hospital Islamabad

18/07/2026

Concluding 9th Day of Summer Camp 2026
Trainer: Engineer Syed Shaujat Kazmi
Electronics Engineering Department, UET Taxila

Address

Headquarter In Masjid E Quba, Lane #5
Rawalpindi
00000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Oswa-e-Hasna Foundation posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Oswa-e-Hasna Foundation:

Shortcuts

Share