Islamic Info

Islamic Info Islam Is The Best Religion In The World. i add the word Islamic Info

https://www.facebook.com/pages/Islamic-Info/277593355681435

i create this page for a purpose, but its really not means that our love can be prove after becoming the fan of this page.

21/11/2025

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 جُمادى الأولى 1447ھ 21 نومبر 2025 ء

سرورق
دارالافتاء
بینات
کتابیں
دعائیں
تلاش کریں

دارالافتاء


سید کو زکوۃ اور صدقات دینے کا حکم
سوال
سادات پر زکوۃ اور صدقہ کے متعلق مدلل مسئلہ مطلوب ہے?

جواب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے: '' یہ صدقات (زکاۃ اور صدقاتِ واجبہ ) لوگوں کے مالوں کا میل کچیل ہیں، ان کے ذریعہ لوگوں کے نفوس اور اموال پاک ہوتے ہیں اور بلاشبہ یہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے اور آلِ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لیے حلال نہیں ہے۔

«إن هذه الصدقات إنما هي أوساخ الناس، وإنها لا تحل لمحمد، ولا لآل محمد»۔ (صحيح مسلم (2/ 754)

لہذا سید کو زکاۃ اور صدقات واجبہ دینا جائز نہیں ہے، اگر سید غریب اور محتاج ہے تو صاحبِ حیثیت مال داروں پر لازم ہے کہ وہ سادات کی امداد زکاۃ اور صدقات واجبہ کے علاوہ رقم سے کریں اور ان کو مصیبت اور تکلیف سے نجات دلائیں اور یہ بڑا اجروثواب کا کام ہے اور حضور اکرم ﷺ کے ساتھ محبت کی دلیل ہے۔ اور ان شاء اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی شفاعت کی قوی امید کی جاسکتی ہے۔

صحیح بخاری میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قول منقول ہے: "ارقبوا محمداً في أهل بيته". یعنی رسولِ اقدس ﷺ کے اہلِ بیت کا لحاظ وخیال کرکے نبی کریم ﷺ کے حق کی حفاظت کرو۔

اگر صاحبِ نصاب کی اپنی گنجائش نہ ہو کہ وہ ضرورت مند سید کی زکات کے علاوہ حلال مال سے امداد کرسکے اور اس سے خود کوئی صورت نہ بن سکے تو دردِ دل رکھنے والے اصحابِ خیر کو اس نیک کام کی طرف متوجہ کردے کہ وہ سید کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے اس کی ضرورت پوری کردیں۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (2/ 265):

'' (قوله: وبني هاشم ومواليهم) أي لا يجوز الدفع لهم ؛ لحديث البخاري: «نحن - أهل بيت - لا تحل لنا الصدقة»، ولحديث أبي داود: «مولى القوم من أنفسهم، وإنا لا تحل لنا الصدقة» ''۔فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144111201203

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری

20/11/2025

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْكَبَائِرِ أَنْ يَشْتُمَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏‏‏‏‏‏وَهَلْ يَشْتُمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ ؟ قَالَ نَعَمْ ‏‏‏‏‏‏يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَشْتُمُ أَبَاهُ وَيَشْتُمُ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ۔
حضرت عبداللہ بن عمرو سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے ماں باپ کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بھلا کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو بھی گالی دے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں وہ کسی کے باپ کو گالی دے گا، تو وہ بھی اس کے باپ کو گالی دے گا اور وہ کسی کی ماں کو گالی دے گا تو وہ بھی اس کی ماں کو گالی دے گا“۔
سنن ترمذی:1902

28/12/2024

Subkhan Allah

Address

Shop # 62/11 Basement Faisal Plaza Meezan Bank Street Bank Road Saddar Rawalpindi
Rawalpindi
46000

Telephone

+923125659685

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Info posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Islamic Info:

Share