Quran for All

Quran for All Tadabar ul Quran Wal Amal ,Fiqh ul Quloob and so on all Material taken from Ustaza Farhat Hashmi,s Audio,s.

12/06/2026
09/06/2026

*سورہ الشعراء*

*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*
وَاَنْجَيْنَا مُوْسٰى وَمَنْ مَّعَهٝٓ اَجْـمَعِيْنَ (65)
ترجمہ:
اور ہم نے موسٰی کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو نجات دی۔
اور
ثُـمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِيْنَ (66)
ترجمہ:
پھر ہم نے دوسروں کو غرق کر دیا۔
موسی علیہ السلام اوران پرایمان لانے والوں کواللہ نےنجات دی اور فرعون اوراسکالشکرجب اسی رستےسےگزرنےلگاجس سےموسی اوراسکےساتھی نجات پاگئےتھےتواللہ نےسمندرکوملادیاجس سے فرعون سمندرمیں اپنےلشکرسمیت غرق ہوگیاتو انجینا ن ج و اسکاroot wordہےنجات اسی سےہےیعنی انجینا ہم نے نجات دی موسی کو ومن معہ اوروہ باقی جواپکےساتھ تھے اصحاب موسی اجمعین سب کےسب یعنی بنی اسرائیل کا آخری شخص بھی باہر نکل گیا۔ہوتاہےناکہ کچھ لوگ تیزنکل جاتے ہیں۔کچھ اگےاگےنکل جاتےہیں۔کچھ لوگ ہیچھےرہ جاتےہیں اورزیادہ آہستہ چلتےہیں۔جب تک سب کےسب سارے نہیں نکل گئے۔اسوقت تک سمندر نہیں ملااورجب بنی اسرائیل کےبعدفرعونی سارے کےسارےاندراگئےتواسوقت پانی مل گیا مااغرقنااخرین یعنی جب قوم فرعون کا آخری شخص سمندرمیں داخل ہوگیاتواللہ نےسمندرکومل جانےکاحکم دیا۔بنی اسرائیل کا آخری شخص نکل گیااورقوم فرعون کا آخری شخص اندر داخل ہوگیاتوواپس سمندرایک ہوگیا۔اب موسی علیہ السلام کوتوپورایقین تھاناکہ سمندرواپس نہیں ملےگا۔اللہ کےبھروسےپروہ اسمیں گئےتھے۔ورنہ توکیاہوتااپ خودسوچیں کہ جودورسےجواپکوپانی نظرارہاتھاوہ اپکوسڑک نظرارہی ہےتواپ سوچیں کہ آپ پاؤں رکھتےہوئےڈرینگےنہیں؟ایک خوف توہوگالیکن پھربھی بھروسہ اورتوکل ہی توکل ہےکہ کچھ نہیں ہوتا کواللہ کاحکم ہےناخیرہی خیراسمیں ہوگی۔اب ہوا کیا کہ فرعون کےلشکرکوتوسمندرنےڈھانپ لیا۔سورہ طہ میں اتاہےکہ۔ فاتبعھافرعون بجنودہ فغشیھم من الغم ماغشیھم پس فرعون نےاپنےلشکروں کےساتھ انکاپیچھاکیاپھرانھیں سمندرسےاس چیزنےڈھانپ لیا۔جسنےانھیں ڈھانپا۔پانیںنےیعنی سمندران پرچھاگیاتواسطرح فرعون خودبھی گمراہ ہوااوراسنےاہنی قوم کوبھی گمراہ کیا۔سورہ طہ میں اتاہےکہ واضل فرعونہ قومہ وماھدی فرعون نےاپنی قوم کو گمراہ کردیااورصحیح رہنمائی نہ کی۔اسلئےوہ سب کےسب سمندرمیں ڈوب گئے۔اب سوچیں کہ وہ ربوبیت کادعوی کرناتھاکہ اناربکم الاعلیٰ کوزمین پر سرکشی اورفسارکررہاتھا۔جوموسی علیہ السلام کوجھٹلارہاتھا۔جوبنی اسرائیل پر ظلم کرتاتھا۔ایسےدعوےکرتاتھاجسمیں کوئی سچائی نہ تھی۔تونتیجہ کیاہوا؟اللہ نےاسکوپکڑکراسکوپانی میں ڈبودیا غرق کردیا۔سورہ القمر میں اتاہےکہ کذبوابایاتناکلھافاخذناہ اخذعزیزمقتدر۔ انہوں نےہماری تمام نشانیاں جھٹلادیں توہم نےانکوپکڑلیا۔بہت زبردست اقتدارووالےکی طرح پکڑنایعنی یہ ادھرادھربھاگ کرنہ جاسکیں اس سےپتاچلتاہےکہ ظالم کواللہ تعالیٰ مہلت دیتاہےلیکن پکڑتا بھی ہے۔جب ظالم کو مہلت ملی ہوئی ہوتی ہے توہم کیاسوچتےہیں؟کہ یہ کبھی ختم نہیں ہوگا لیکن چیز expired ہوجاتی ہےمطلب ہر آزمائش کاایک دن ہوتاہےاورجب وہ دن ختم ہوتاہےتوپھروہ آزمائش ختم ہوجاتی ہےلیکن انسان کوئی نقصان مظلوم ہوکراٹھاتاہےناتواسکےلیےکچھ اورانسان ہےاورجب ظلم ہوکر نقصان اٹھاتاہےتواسکاانجام کچھ اورہے۔مظلوم کاگھراگرجلتاہےاوروہ اگرصبرکرتاہےتواسکےلیےااجرہی اجرہےلیکن اگرظالم کاگھراگرجلتاہےتو خسرالدنیاولاخرہ تودنیاکابھی نقصان اوراخرٹ کابھی نقصان۔ہاتھ پلےکچھ بھی نہیں۔کتنی بڑی عبرت اللہ تعالیٰ دکھاتاہےاورایمان جوہےوہ کتنی بڑی دولت ہےاورایمان دل میں ہوتاہےاورایمان کی وجہ سےنتیجےفرق ہیں وکذالک اخذربک اذااخذالقری وھی ظالمہ ان اخذہ علیم شدید۔ اورمیرےرب کی پکڑاسی طرح ہےجب وہ کسی بستی کوپکڑتاہے۔جواپنےاوپرظلم کرتےہیں۔ہس اسکی پکڑیقینابڑی تکلیف دینے والی ہےاوربڑی ہی سخت ہے۔

اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً ۖ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُـمْ مُّؤْمِنِيْنَ (67)
ترجمہ:
البتہ اس میں بڑی نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں۔
اور
وَاِنَّ رَبَّكَ لَـهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْـمُ (68)
ترجمہ:
اور بے شک تیرا رب زبردست رحم کرنے والا ہے۔
یہاں موسی علیہ السلام کےقصےکااختتام ہوتاہےاوریہ قصہ اور واقعہ بڑاہی عبرت انگیزہےاوراسمیں اللہ تعالیٰ کی بہت سی قدرتیں نظرآتیں ہیں کہ کسطرح اللہ سبحان وتعالی ایمان والوں کااورحق کے ساتھ چلنےوالوں کاساتھ دیتاہےلیکن اسکےباوجوداکثرلوگ ایمان ہی نہیں لاتے۔سب کچھ سنتے،دیکھتےاورپڑھتےہوئےبھی جوکرنےکاکام ہےوہ نہیں کرتے تو ان فی ذالک ذالک سےمراداس غرق کرنےمیں لایہ البتہ نشانی ہے.کسکےلیے؟سب کےلیےاورخاص طورپرظالموں کےلیےکہ وہ اپنے ظلم سے باز آجائیں۔ وماکانوااکثرھم لمومنین لیکن انکےاکثرمومن نہیں/ایمان نہیں لائے اوروہ لائے بھی توکسوقت؟جب ایمان لانا مقصود نہیں تھا۔اس واقعےکوپڑھنےکےبعدانسان کے ذہن میں چیزیں آتی رہتیں ہیں۔جیسےفرعون کےجادوگروں کےسامنےجب حق ایاتوانہوںبنےکیاکیا؟قبول کرلیااوروقت کےاندرکرلیاتوانکوھدایت اور نجات مل گئی۔اسکےبرعکس فرعون نےبھی ایمان کااظہارکیالیکن وقت گزرچکاتھاتوفائدہ نہ ہوا۔تووقت پرکام کرناکسقدرضروری ہےاوربروقت کسی بھی چیزکےبارےمیں actionلینااوربروقت فیصلےکرناکتناضروری ہےکیونکہ آج ہم جہاں بھی ہیں ناتواپنےفیصلوں کی وجہ سےہی ہیں۔مختلف کاموں میں ہم نےجوفیصلےکیےتھےکہ ہم نےکیاکرناہے۔یہاں اکثرھم سےمرادصرف وہ لوگ نہیں جو فرعون کےساتھ ائےتھےوہ سارےتوغرق ہی ہوگئےاور ایمان لائے بھی توفائدہ نہیں ہوااورویسےبھی قوم فرعون میں سےجوایمان لائے بھی توبہت کم لوگ ہی ایمان لائے تھے جسمیں فرعون کےجادوگر،حضرت آسیہ اور فرعون کی قوم کےچندنوجوان لڑکےاوریہ جوکہاگیاناکہ ان فی ذالک لایہ اسمیں بڑی نشانی ہےتونشانی کیاہے؟کہ ایک ہی پانی میں ایک بچ گیااوراسی پانی میں دوسراگیااوریہ ایک انوکھااورحیرت انگیزواقعہ ہے۔بہت بڑامعجزہ ہےاورپھرایک اورعبرت کی چیزیہ ہےکہ جادوگرایک لمحہ میں ایمان لے آئے لیکن فرعونی سالہاسال تک معجزےدیکھ پربھی ایمان نہیں لائے۔حقیقت یہ ہےکہ اسمیں۔ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کےلیےتسلی ہےکہ اہلیہ لوگ اگر ایمان نہیں لاتے توآپ اسپردلگرفتہ نہ ہوں۔پچھلےپیغمبروں کےساتھ بھی یہی ہواکہ انکی طویل ترین کوششوں کے باوجودبھی اکثریت ایمان نہیں لائی۔حقیقت میں اسکی۔ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کےلیےتسلی ہےکہ یہ جواپکےلوگ اگر ایمان نہیں لاتے توآپ اسپردلگرفتہ نہ ہوں۔پچھلےپیغمبروں کےساتھ بھی یہی ہواکہ انکی طویل ترین کوششوں کے باوجودبھی اکثریت ایمان نہیں لائی۔ایسی طرح یہ بات بھی پتاچلتی ہےکہ موت کےوقت ایمان لانا فائدہ نہیں دیتا۔ وان ربک للھوالعزیزالحکیم اوربےشک اپکارب وہی زبردست اورحکمت والاہےیعنی اپنےدشمنوں سےانتقام لینےوالاہےاوررحم فرمانےوالاہے۔کسطرح اسنےدشمنوں کودم بھرمیں غرق کردیااوربنی اسرائیل کونجات دےکربادشاہ بنادیااورمسلماںوں کو ہجرت کےلئےتیار بھی کیاجاتاہےکہ دیکھوکہ جسطرح موسی علیہ السلام کی ہجرت کےموقع پرمددکی تھی تو نبی کریم صلی اللہ وسلم کی بھی اللہ سبحان وتعالی ضرورمددفرمائےگا۔اگریہ قریش توانکاانجام بھی فرعونیوں جیساہوگااورویسےہرطرح کے لوگوں کےلیےپریشانی ہے۔ظالموں کےلیےتوہےہی ایمان لانے والوں کےلیےبھی نشانی ہےکیا؟ایمان والوں کےلیےکیانشانی ہے؟اللہ ہرچیزپہ قادر ہے اغلبن اناورسلی انمامعی ربی یہاں سےبہت سےسبق سیکھنےکوملتےہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق دے۔

*واخردعوناعن الحمدللہ رب العالمین:*

08/06/2026

*سورہ الشعراء*

*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*
فَلَمَّا تَـرَآءَ الْجَمْعَانِ قَالَ اَصْحَابُ مُوْسٰٓى اِنَّا لَمُدْرَكُـوْنَ (61)
ترجمہ:
پھر جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو موسٰی کے ساتھیوں نے کہا ہم تو پکڑے گئے۔
اور
قَالَ كَلَّا ۖ اِنَّ مَعِىَ رَبِّىْ سَيَـهْدِيْنِ (62)
ترجمہ:
کہا ہرگز نہیں، میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے راہ بتائے گا۔
بنی اسرائیل نےجب دیکھا کہ اگےسمندرہےاورپیچھےفرعون کالشکرتووہ گھبراگئے۔اب توہم مارئےگئے۔اب ہم نہیں بچتےتوموسی علیہ السلام نے انکوتسلی دی کہ تمھارااندیشہ ٹھیک نہیں۔اب فرعون دوبارہ تمھاراکچھ نہیں بگاڑسکتا۔میرارب میرےساتھ ہےوہ مجھےرستہ دکھائےگا۔یہاں لفظ تراء استعمال ہوا ہے۔ تراء کامطلب ہوتاہےایک دوسرےکودیکھنا راء کامطلب دیکھنااور تراء تفعل میں ایک دوسرے کو دیکھنا یعنی بنی اسرائیل فرعونیوں کودیکھ دئےاورفرعونی اہکودیکھ رئےتھے۔امناسامناہوگیا۔ایک طرف موسی علیہ السلام کی جماعت تھی اور دوسری طرف فرعون اوراسکےلشکرتھےتوبعض نےبعض کودیکھا۔موسی علیہ رات کواپنی قوم کولےکرنکلےتھےاوربڑی خاموشی سےنکلےتھےاورخاموشی سےہی چل رئےتھےاورفرعون اپنےلشکراورہتھیارجمع کرکےنکلاتھایعنی پوری فوج لےکراورصبح کےوقت نکلاتھااورشایدانکےپاس سواریاں تھیں۔اسلئےرات کووہ پہلےسےنکلےہوئےتھےاوروہ ابھی راستےمیں ہی تھےاوریہ پیچھےسےپہنچ گئے ورنہ کہی گھنٹےکچھ لوگ پیدل جائیں تووہ پہنچ ہی نہیں سکتے۔اس سے اندازہ ہوتاہےکہ وہ گھوڑے اونٹوں یاکسی بھی چیزپہ سوارہونگے۔یہاں دیکھتےہی بنی اسرائیل کوخوف نے پکڑلیا۔ قال اصحاب موسی انالمدرکون یہ توہمیں پالیں گے۔یہ توہمیں پکڑلینگے۔ہم توپکڑلیےگئے۔ہم تومارےگئے۔یہ خوف کی شدت کی وجہ سے۔ انالمدرکون ان اور لام تاکید سےان سےشدیدخوف کااظہارہورہاہے۔اب یہ ہرصورت ہمیں پکڑینگے۔اب تونکلنےکاکوئی رستہ ہی نہیں۔یہاں ایک دلچسپ بات ہےکہ قال اصحاب موسی یہ نہیں کہاکہ بنی اسرائیل قال اصحاب موسی تواسکےبارےمیں مفسرین کہتےہیں کہ ہجرت کرکے آنے والوں میں بنی اسرائیل کےعلاوہ قوم فرعون کےبھی کچھ لوگ ساتھ تھےجوکہ چپکےسےمسلمان ہوئےتھے۔موسی علیہ السلام کی دعوت تھی۔اسمیں وہ شخص بھی تھاجسکےعلاوہ بھی کچھ خاموش مسلمان ہونگے۔جادوگربھی تھے۔کئی قسم کے ایسے لوگ تھے۔اسی لئے یہاں پر اصحاب موسی کالفظ ایاہے۔قابل غوروتدبرکےلائق ہے۔اسکوصرف بنی اسرائیل نہیں کہہ سکتے قال کلاان معی ربی سیھدین توموسی علیہ السلام نےکہاہرگزنہیں بلکل نہیں پکڑسکتےایسانہیں ہوگاکبھی نہیں ہوگا ان معی ربی بلکہ میرارب میرےساتھ ہے سیھدین وہ مجھےراستہ دکھائےگا کیونکہ اسی کے حکم سے میں نکلا ہوں اوراللہ نے وعدہ کیاتھانا ان معکم مستمعون بےشک ہم تمھارےساتھ ہیں۔خوب سننےوالےہیں۔مطلب یہ کہ میں اللہ کے حکم سے ایاہوں۔یہ کیسے ہوسکتا کہ وہ مجھےبےیارومددگارچھوڑدے۔وہ مجھےضروراس سےنکالےگا۔کیسایقین ہے کہتےہیں کہ
جوہوذوق یقین پیدا
توکٹ جاتیں ہیں زنجیریں
اور یقین اسوقت پیداہوتاہے۔جب اللہ کےوعدےکےسچاہونےپراعتمادہوتاہء۔trustہوتاہےکہ اللہ کا وعدہ سچاہےاورجتنازیادہ ہمارا یقین بڑھتاچلاجاتاہے۔اتناہی زیادہ ہمارےعمل میں بہتری آتی ہے۔چھوٹی سی بھی نیکی اگرہم یقین کےساتھ کرینگےناکہ اسکااجرملناہی ملناہےتوہم سستی نہیں کرینگے۔سستی ہی چلی جائےگی کہ مجھےاسکافائدہ پہنچےگا۔میرایہ عمل رائیگاں نہیں جائےگا۔میرارب ضروراسکوقبول کریگا۔وہ بڑاہی مہربان رب ہے۔اللہ سبحان وتعالی کی صفات پریقین توآپ خود سوچیں کہ ہماری زندگی کانقشہ ہی بدل جائے اگر اللہ کی اسماء وصفات پرہمارایقین بیٹھ جائے۔یقین کی کمی کی وجہ سے انسان کےاندرخوف انےلگتےہیں۔انسان کےاندرسستی آنےلگتی ہے۔جتنی بھی منفی چیزیں ہیں ناانکامادہ یقین کی کمی ہی ہے۔یہاں پر ان معی ربی یہ معیت خاصہ ہے۔یہ نہیں کہاکہ اللہ میرےساتھ ہے ان معی ربی انہوں نے اللہ کواپنارب کہاکہ میرےساتھ میرارب ہے۔رب کےاندرکیاہےکہ وہی خالق ہے۔وہی مالک ہے۔وہی رازق ہے۔وہی نفع ونقصان کا مالک ہے۔وہی عزت وذلت کا مالک ہے۔ سیھدین وہ مجھےضرورھدایت دیگا۔یعنی وہی میراھادی بھی ہے۔وہی مجھےراستہ بھی دکھلانےوالاہےیعنی جیسےرب معنوی ھدایت دیتاہےایسےہی رب ظاہری ھدایت بھی دیتاہےیعنی راستہ بھی دکھاتا ہےکہ مجھےکسطرف جانا چاہیے یہاں میں سیھدین میں علم اور نیک عمل کی توفیق والی ھدایت مرادنہیں ہےبلکہ یہاں نجات کےرستےپہ چلانامرادہےکہ ادھرسےگزرو،ادھرجاوتم۔بچ جاونگے۔وہ رستہ مرادہےکہ جس پہ موسی علیہ السلام اورانکےساتھی نجات پاگئے۔حسی راستہ اللہ نےانکواس راستے پہ چلادیااپ دیکھیےکہ نبی کریم صلی اللہ وسلم نےجب ہجرت کی توآپ صلی اللہ وسلم کےساتھ کون تھے؟ابوبکرانہوں نے مدینہ جانےسےپہلےرستہ بدل کر کہاں پناہ لی؟غارثورمیں مشرکین ہرپہاڑاورہررستہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے کہاں پہنچ گئے؟غارثورکےپاس پہنچ گئے۔اگروہ ذرابھی جھانک کردیکھتےتونظراجاتےبلکل سامنےاگئےتھے۔عین ٹھکانےپہ اوران کی باتوں کی اوازسن کےاورانکوقریب پاکرobiouslyابوبکررضی اللہ عنہ گھبرااٹھےکہ اب تویہ ہمیں پکڑہی لینگے۔اب تونہیں بچتےتونبی صلی اللہ وسلم نے پورےیقین سےکیاکہاتھا؟۔ لاتحزن ان اللہ معنا اورپھر ماذنک باثنین اللہ ثلتھما ان دوکےبارےمیں کیاخیال ہےجنکاتیسرااللہ ہو۔یعنی اللہ کی مددائےگی ان اللہ معنا اور یہاں ان معی ربی یہ یقین زندگی میں بڑاضروری ہے۔جتنےبھی پیغمبرہیں وہ اس یقین کےساتھ اللہ کاپیغام پہنچاتےرئےہیں کہ ہمارےدشمن ہماراہچھ نہیں بگاڑسکیں گے ہمیں جواللہ نےکام دےکربھیجاہےوہ کرلیناچاہیے۔اگرصرف ایک چیز ہمیں پتاچل جائے ناکہ نفع نقصان کا مالک بس اللہ ہی ہے۔کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ہم کتنےبہادرہوجائیں۔یمارےخوف دورہوجائیں۔بعض اوقات ہم بغیر کسی وجہ کےہم خوف،پریشانیوں وایگزرائٹی میں مبتلاءرہتےہیں لیکن اگر ہمیں یقین ہو جائے کہ اللہ ہےناوہ مجھےتنہانہیں چھوڑےگاوہ مجھےدشمن کے حوالے نہیں کریگا۔کچھ نہیں ہوتاتواپ دیکھیےکہ ہم بےفکراورپرسکون نیندسوسکتےہیں یعنی دشمن کالشکرپیچھےہواورانسان اس تسلی میں ہوکہ کچھ نہیں ہوتا دشمن نظرارہاہو۔پورےلاوولشکرسمیت نظرارہاہواورانسان کہےکچھ نہیں ہوتااسکوکیاکہتےہیں؟یقین کےساتھ ساتھ کیاکہتےہیں؟توکل yesتوکل کہتےہیں۔توکل کامعنی کیاہوتاہےکہ اپنا معاملہ اللہ کےسپردکردینا۔دل سےاسپراعتمادکرنا۔نتائج کواللہ کےسپردکردینایعنی سارےاسباب اختیارکرکےکوشش کرکے معاملات اللہ کےحوالےکردینا۔حدیث میں بھی اتاہےناکہ تم اللہ پہ ویساتوکل کروجیسےحق ہےتووہ تمھیں اسطرح روزی دےجیسےوہ پرندوں کودیتاصبح کوبھوکےاٹھتےہیں اور شام کو پیٹ بھرےہوئےلوٹتےہیں اورکھاناانکومل جاتاہے۔اگرہم اپنےاپکوچڑیاکی جگہ رکھ کر دیکھیں اورنہ ہمارےپاس فریج ہونا ہی کچھ اوراپ دیکھیں کہ چڑیاخالی گھونسلےسےنکلتی ہےاسکونہیں پتاکہ اسنےکہاں سےکھاناہےاورکہاں کہاں گھومتےہیں۔پیٹ بھراجاتی ہےوہ توکل کرکےگھونسلےمیں نہیں بیٹھ رہتی یہ اصول یادرکھئے۔وہ سوچتی ہے منصوبہ بناتی ہے۔اپنی آنکھ سے دیکھتی ہے پروں سےاڑتی ہےاورپھراس جگہ پہنچتی ہے جہاں اسکارزق ہوتاہےاورپھرپوری صلاحیتیں استعمال کرکے۔اپنی عقل استعمال کرکےاورسمجھ بوجھ سےکام لےکراپنارزق تلاش کرتی ہےاورپھرجواسکےمقدرمیں ہوتاہےوہ کھاکرلوٹتی ہے۔خطرات کاسامنا بھی کرتی ہے۔سردی گرمی کاسامنا بھی کرتی ہےاورجوتوکل کرتاہےتواللہ تعالیٰ اسکوکافی ہوجاتاہے۔ ومن یتوکل علی اللہ فھوحسبہ اوردین کےراستےمیں بنیادی طورپراندریاباہرکی جوبھی مشکلات آتیں ہیں۔اللہ پہ بھروسہ کرنا ہوتا ہےکہ وہ کرنےوالاہےوہ بنانے والا ہےاورتمام انبیاءکواسی چیزکی تعلیم دی گئی کہ وہ اس معاملےمیں اللہ پر بھروسہ کریں۔نوح علیہ السلام جب تم تنہا سالہاسال تبلیغ کرتےرئےتوانہوں نےاپنی قوم کوکیاکہاکہ اگرمیرانصیحت کرناتمھیں شادگزرتاہےتومیں نےاللہ پہ بھروسہ کرلیاہےتم اپنی تدبیراستعمال کرو۔شریکوں کوبلالواورپھریہ کہ جوتم میرےساتھ کرناچاہتےہوکرلوکچھ نہ کرسکے۔ایوب علیہ السلام بھی طویل ترین بیماری کےباوجودمایوس نہیں ہوئےاپنےرب کوپکارتےرئےاورایک دن انکی تکلیف دور ہوگئی کیونکہ اسکا وقت مقررتھا۔بحرحال اسباب اختیارکرنےچاہیں لیکن بھروسہ اللہ کی ذات پہ ہوناچاہیے۔اللہ تعالی اسباب کےبغیربھی کام۔کرسکتاہےجیسےمریم علیہ السلام کو اسباب کےبغیربیٹادیاتھا۔عیسی علیہ السلام ان سےپیداہوئےتھےلیکن بیچ میں انکوکہاگیاکہ کھجوریں انکےاوپرجھاڑیں اورگھرسےچلی جائیں۔بحرحال اصل چیز ہےکہ انسان اللہ پہ بھروسہ کرےاوراللہ کاکام اللہ پہ بھروسےکےبغیرنہیں ہوسکتا یہ بات یادرکھیں۔

فَاَوْحَيْنَـآ اِلٰى مُوْسٰٓى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ ۖ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيْـمِ (63)
ترجمہ:
پھر ہم نے موسٰی کو حکم بھیجا کہ اپنی لاٹھی کو دریا پر مار، پھر پھٹ گیا پھر ہر ٹکڑا بڑے ٹیلے کی طرح ہو گیا۔
اور
وَاَزْلَفْنَا ثَـمَّ الْاٰخَرِيْنَ (64)
ترجمہ:
اور ہم نے اس جگہ دوسروں کو پہنچا دیا۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو بذریعہ وحی حکم دیاکہ اپنی لاٹھی سمندرکےہانی پرمارئےانہوں نےایساہی کیااوربنی اسرائیل کے بارہ گروہوں کےلیےسمندرمیں بارہ رستےبن گئےاور پانی اونچے پہاڑی طرح دونوں کناروں پہ کھڑےہوگئےجیسےدوپہاڑوں کے بیچ میں سے گزررئےہوں کسی وادی میں سےاوپراللہ تعالیٰ آہستہ آہستہ فرعون اوراسکی فوجوں کوسمندرسےقریب لاتاگیا۔موسی علیہ السلام اورانکےساتھی سمندرکےراستوں سےنکل کردوسری طرف چلےگئےتوفرعون نےبھی اپنی فوج کےساتھ انہی راستوں سےگزرناچاہااورجب وہ بیچ میں پہنچاتوجوپہاڑکھڑےتھےوہ واپس اپنی جگہ پہ آئےاور انہوں نے پانی بن انکوڈبودیا۔ فاوحیناالی موسی ان اضرب بعصاک البحر یہاں فاوحیناالیک کی جگہ فاوحیناالی موسی ایاہے۔کیوں؟انکی شان بلندکرنےکےلیےکیونکہ انہوں نےکہاکہ انمامعی ربی توپھررب نےبھی انکی شان بلندکی فاوحیناالی موسی الیہ نہیں کہا فاوحیناموسی کہااب موسی علیہ السلام کےسامنےسمندرہے۔دشمن پیچھےہےتوموسی علیہ السلام کو وحی کی گئی کہ اس سمندرمیں لاٹھی مارو۔پانی پہ لاٹھی مارو۔ فانفلق فلق کسی چیزکوپھاڑنےاوراسکےایک ٹکڑےکودوسرےسےالگ کرنےکوکہتےہیں۔جیساکہ قل اعوذبرب الفلق ہےتواندھیراروشنی سےجداہوتاہے۔پھٹ کرالگ ہوجاتاہے۔ فکان کل فرق توہرفرقہ وٹکڑاتھایعنی جوکسی بڑےمجموعےسےکاٹ کرالگ کیاگیاہو۔بڑےسمندرمیں سےوہ دوفرقےبن گئے۔ کالطود طود بلندپہاڑکوکہتےہیں تویہ دوطرفہ دیوار بن گئی اور رستہ خشک ہوگیا۔سمندردوحصوں میں پھٹ گیااورہرحصہ پہاڑکی طرح بن گیااورپانی جم گیا۔درمیان کی زمین خشک ہوگئی اور موسی علیہ السلام اسمیں داخل ہوکر نکل گئے۔بعض لوگ جو معجزات کاانکارکرتےہیں ناتووہ پتاہےکیاکہتےہیں ناکہ جب بنی اسرائیل سمندرکےکنارےپہنچےتواسوقت سمندرمیں جذرکی کیفیت تھی۔پانی پیچھےہٹ گیاتھاجذدکی کیفیت مدوجذر کی کیفیت جوہوتی ہےمدکامطلب ہےکہ لہرائی ہےاوردورتک چلی گئی۔جیسےسمندرمیں لہریں آتی جاتیں ہیں تومدکامطلب لہرپھیلاواورجذرپیچھےہٹ جاناتواسوقت زمین خشک نظرآتی ہے۔اسوقت کراچی کےسمندرمیں یہ کیفیت پیدا ہوتی ہےاوراسی طرح بعض اوقات دریا بھی اپنا رخ بدل لیتےہیں لیکن ایسا کچھ نہیں ہوایہ مدوجذرنہیں تھی اورنہ ہی وہاں سمندرنےکوئی رستہ بدلاتھابلکہ باقاعدہ لاٹھی مارنےسےزمین خشک ہوئی تھی۔پانی پہاڑوں کی شکل میں دونوں طرف کھڑا ہوگیا۔ وازلفناثم آخرین اورہم دوسری قوم کواسکےقریب لےائےیعنی فرعونیوں کو ازلفنا ز ل ف درجےاورمرٹبےمیں نزدیکی کےلیےبھی اتاہے۔۔ ازلف،یزلف ازلاف اور ثم کامطلب قریب کرناہوتاہے۔مطلب یہ ہےکہ اس موقع پریم نے فرعون اوراسکی قوم کو مسلمانوں کےقریب پہنچادیا۔۔ آخرین کاکیامطلب ہے؟دوسرےلوگ اب دوسرے لوگ کون ہیں؟فرعونی اللہ سبحان وتعالی نے موسی علیہ السلام کےلیےسمندرپھاڑارتھا۔پھراللہ تعالیٰ نےموسی علیہ السلام کوسمندرکوایسی حالت میں چھعڑدینےکاحکم دیا۔یہ نہیں کہاکہ واپس پھرعصاماروکہ پانی چل پڑے۔سووہ الدخان میں اتاہےکہ۔ فاسربعبادی لیل انکم متبعون،واترک البحررھواانکم جندمغرقون پس میرےبندوں کورات ورات لےچلوبےشک تم پیچھاکیےجاونگےاورسمندرکوساکن چھوڑدوبےشک یہ ایسالشکرہےجوغرق کیاجانےوالاہےتواللہ تعالیٰ نےاسی حال میں ساکن ساکن کامطلب ہےکہ ٹہراہوا۔سورہ طہ میں اتاہےکہ ولقداوحیناالی موسی ان اسری بربادی فاضرب لھم فی الطریق فی البحریبسا۔لاتخاف درجاولاتخشی اور بلاشبہ ہم نےموسی کی طرف وحی کی کہ میرےبندوکورات ورات لےچلوپھرانکےلیےسمندرمیں ایک خشک راستہ نکالونہ تمھیں گھیرےجانےکاخوف ہوگااورنہ ہی تم ڈروگے۔یعنی تمھیں پربھی نہیں لگےگااورنہ ہی تمھیں کوئی گھیرےگااوریہاں سمندرکےخشک ہونےکےلیے۔ یبس کالفظ اتاہے۔اب چونکہ انہوں نےوہ خشک چھوڑدیاتھا۔اب کیاہوا؟فرعون کہاں چلاگیا؟اس خشک زمین پہ اورپھرکیاہوا؟پانی املاتوان آیات سےیہ پتاچلتاہےکہ ہرچیزاللہ کے حکم کی فرمابردارہے۔پانی اللہ کے حکم سے چلتاہےاوراللہ کے حکم سےہی ٹہرجاتاہے۔اللہ کے حکم سےہی عصاسمندرکودوٹکڑوں میں کرسکتی ہےاوراللہ کے حکم سے ہی وہ پانی واپس ملتاہے۔وہ آگ جوابراھیم علیہ السلام کو جلاتی ہےوہ اللہ کےحکم سےٹھنڈی ہوگئی۔ان روایات سےدیکھنےکایہ بہت بڑا سبق ہےکہ ہرچیزاللہ کےحکم سے ہوتی ہے۔


*واخردعوناعن الحمدللہ رب العالمین:*

Address

P. O. Box Aliot, Tehsil Kahuta, District Rawalpindi
Rawalpindi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Quran for All posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share