13/10/2026
*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*
*سورہ الشعراء:*
*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*
اِنِّـىٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْـمٍ (135)
ترجمہ:
میں تم پر ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
اور
قَالُوْا سَوَآءٌ عَلَيْنَـآ اَوَعَظْتَ اَمْ لَمْ تَكُنْ مِّنَ الْوَاعِظِيْنَ (136)
ترجمہ:
کہنے لگے تو نصیحت کر یا نہ کر ہمارے لیے سب برابر ہے۔
اور
اِنْ هٰذَآ اِلَّا خُلُقُ الْاَوَّلِيْنَ (137)
ترجمہ:
یہ تو بس پہلے لوگوں کی ایک عادت ہے۔
اور
وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِيْنَ (138)
ترجمہ:
اور ہمیں عذاب نہیں ہوگا۔پیچھےھودعلیہ السلام کی قوم کو نعمتوں کاذکرکرکےاللہ تعالیٰ کےاحسانات یادکرواکےاللہ کی عبادت کی طرف بلایا،توحیدکی دعوت دی لیکن جب انہوں نے جب اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہیں کی۔ھودعلیہ السلام کی بات نہیں مانی تواسکےبعدانہوں نےانکوعذاب کی خبردی۔نعمتوں کاذکرکرنےکےبعدکےاوریہ بتانےکےبعدکہ نعمتیں ہمیشہ نہیں رہیں گی بلکہ نعمتیں اسکےلیےباقی رہتیں ہیں۔جوشکراداکرتاہے۔جوشکراداکرتاہے۔انکی نعمتوں کو دوام حاصل ہوتاہےلیکن جوناشکری کرتاہےاسکی نعمتیں زائل ہو جاتیں ہیں۔اسکی نعمتیں اللہ تعالیٰ واپس لےلیتاہے۔لحاظ اب انہوں نے بشارت اورانذارکاطریقہ اختیارکیا جوکہ تمام انبیاءکاطریقہ رہاہے۔اب انکواللہ کےعذاب کےبارےمیں ڈرارئےہیں لیکن یہ فاسق،ضدی وہٹ دھرم قوم مان کرنہ دی۔اب دیکھیےکہ یہ سرکشی کی انتہاءہےنااورجب کوئی قوم اس حدتک جا پہنچتی ہےکہ نصیحت کرنےوالوں کی نصیحت کوسمجھنےکی کوشش ہی نہیں کرتی/مانتی ہیں نہیں بلکہ اپنی ہی بات پہ آتی رہتی ہےتوپھراللہ سبحان وتعالی ان عذاب کاکوڑابرسادیتےہیں۔یہ پھر کسی کی بدبختی کی آخری حد ہےکہ وہ کسی خیرخواہ کی خیرخواہی کونہ سمجھےاوراسکواسقدراپنی طاقت پرزعم وتکبرہےانکوخیال ہواوراسکاانکواتناخیال ہوکہ وہ سب کچھ اپنے ہاتھ میں ہے۔شایدسارےکنٹرول انکےپاس ہیں اورانکوکوئی عذاب نہیں دےسکتااور نعوذباللہ وہ اللہ کامقابلہ بھی کرسکتےہیں توپھرانکی یہ حالت ہوتی ہےاورپھراپ دیکھیں کہ انہوں نےیہ جوکہاناکہ ان ھذاالاخلق الاولین یعنی یہ نعمتیں یہ احوال اوریہ سب کچھ تو پہلے لوگوں کےپاس بھی تھا۔کبھی وہ مالدارہوتےتھےاورکبھی محتاج ہوتے تھے یعنی یہ زمانے کے حالات ہیں۔یہ گردش کرتے رہتے ہیں اوراسکاکوئی نتیجہ نہیں نکلنے والا کوئی عذاب نہیں انےوالا۔ایت نمبر135میں ھودعلیہ السلام کہتےہیں کہ
انی اخاف علیکم عذاب یوم عظیم۔
انی اخاف علیکم بےشک میں تمھارےبارےمیں ڈرتاہوں عذاب یومئذ ایک بڑے دن کےعذاب سے۔یہ بڑادن کونساہوسکتاہے؟دنیامیں بھی جس قوم پراللہ کاعذاب اتاہےاورجس دن وہ عذاب اتاہےوہ ایک بڑااورتاریخی دن بن جاتاہے۔اس سےمرادقیامت اوراخرت کاعذاب بھی ہے۔دونوں معنی لیےگئےہیں۔یعنی جورب انعام نعمتیں دینے پہ قادرہےوہی رب پوری طرح عذاب دینےپر بھی قادرہے۔نعمتئں بھی اسی کی طرف سے ہیں اوراگرکوئی نعمتوں کی قدر نہ کرےتونعمتیں چھیننے پربھی وہ قادرہے۔عذاب دینےپر بھی پوری قدرت رکھتاہے۔اگراپ پچھلی آیات میں دیکھیں تو ھودعلیہ السلام نے نصیحت کی ابتداء بھی ڈرانےسےکی تھی اورپھراختتام بھی اسی پرہورہاہے۔ڈراورخوف ایسی چیزہوتی ہےجوانسان کوغلط رستےپرخواہ وہ کچھ دورہی جاچکاہوپلٹنےپرامادہ کردیتاہے۔خوف کی وجہ سے جیسےاپ موثروےپرجارئےہیں۔جارئےہیں اور کافی فاضلہ آپ نےطےکرلیاہے۔اپ منزل کےقریب تھےکہ اپکوپتاچلاکہ اگےزمین پھٹ چکی ہے۔زمین دھنس چکی ہےکہ اگرآپ اس رستےپرجائینگےتواپکی گاڑی اسمیں دھنس جائےگی۔اپ کیاکرینگےپھر؟ڈرجائینگےناکہ اپکےپاس پہلےسےایساہوچکاہےکہ اسکےساتھ ایساہوجائےگاکہ اگرآپ اس رستےپرچلےتواگےکھڈاہےاوراسمیں لازمی گرینگےاوراگراپ گرےتوہلاکت لازمی ہے۔جوڈرجائےگاوہ کیاکریگاوہ اس سےنکلنےکاکوئی راستہ تلاش کریگاکہ مجھےواپس چلےجاناچاییےکیونکہ اگےجانےمیں خطرہ ہے۔اس حدکوکراس کرنےمیں خطرہ ہے۔یی خطرہ میں مول نہیں لےسکتا۔بہترہےکہ میں گھرچلاجاو۔اسوقت آپ یہ نہیں سوچیں گےکہ اب تک مجھےکچھ نہیں ہوا۔تین سومیل میں نےطےکرلیے۔اب آپ کہتےہیں کہ اگےخطرہ ہے۔میں نہیں مانتا کہ کوئی خطرہ ہے۔ایسابھی کیاڈرنا۔چلوکوئی نہ کوئی رستہ بن جائےگا۔کسی نہ کسی طرح ہم پارہی کرجائینگے۔ایساشخص self-deceptionوخودفریبی کاشکارہوتاہے۔جوکسی خیرخواہ کی نصیحت کوسنتانہیں۔مانتانہیں اورانبیاءسےبڑھ کرکون خیرخواہ ہوسکتاہے۔انبیاءسےبڑھ کرکون کسی کاہمدردہوسکتاہے۔اسکی ساری زندگی پاکیزہ ہوتی ہےاعکورقابل اعتباروtrustworthyہوتےہیں۔اپنی قوم کی خیرخواہی ہوتےہیں۔وہ کہتےہیں کہ میں اسپرتم سے کوئی اجرنہیں مانگتا۔وہ کہتےہیں کہ اسپردنیاکےکسی مطلب یامفادکےلیےلوگوں کو نصیحت نہیں کرتے لیکن اگر کوئی شخص عقل سےکام ہی نہ لےاوراسکوکسی خیرخواہ کی خیرخواہی نظرہی نہ ائے۔وہ کسی کی بات پہ کان ہی نہ دھرےتوپھرلازم ہےکہ اسکاایساہی انجام ہو۔
پھراپ دیکھیےکہ انہوں نے یہاں دن کوبڑادن کہاہے۔ یوم عظیم کہاہے۔ یوم عظیم اگرقیامت کےلیےپیداکیاہےتووہ دن واقعی ہی بہت بڑادن ہے۔اپنی طوالت کےاعتبارسےپچاس ہزارسال کےبرابرہےاوراس دن کے حالات دنیاکےدن کی طرح نہیں ہونگے۔وہ یوم الحساب ہے۔ یوم الدین ہےتواسلئےاسکو یوم الدین کہاگیاہےاوراگروہ دن بڑاہےتواسکاعذاب کتنابڑاہوگا؟اس سے آپ اندازہ لگائے اگرکسی کی یہ بھول ہےکہ اس دن کاعذاب معمولی سی چیز ہوگی۔اسےہم آسانی سے برداشت کرلینگےتویہ بہت بڑی بھول ہوگی۔اس دن اگرکسی کواگرہلکےسےہلکاعذاب دیاگیا تووہ دنیاکی تکلیف سےبہت بڑی تکلیف ہوگی۔بہت بڑاعذاب ہوگا۔اگراس عذاب کی جھلک دنیامیں دکھادی جائےتوکیاہوگا؟آخرت کےعذاب کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اگرزقوم کے درخت کاایک قطرہ دنیامیں ڈالاجائےتوکیاہوگا؟ساری vegetation ختم ہوجائےگی۔زمین اگانےکےقابل نہیں رئےگی اورجھنمیوں کاکھاناکیاہوگا؟زقوم ہوگاتوہم انسان بڑی کمزورچیزہیں۔اخرٹ کاعذاب برداشت کرنا کوئی آسان نہیں ہے۔اسلئےیہ بات صرف قوم ھوداورقوم عاد کےلیےنہیں بلکہ ہمیں اپنےلیےبھی لینی چاہیے کہ ہمیشہ اللہ کےعذاب سےڈرتےرہناچاہیے۔اللہ کی پکڑسےبچتےرہناچاہیےکیونکہ جب اللہ کی پکڑ آتی ہےتوپھرکوئی بچانہیں سکتااورخوف کیاچیزہے؟خوف دل کی بے چینی کانام ہےجواسوقت آپ ٹھوڑاسامحسوس کررئےہیں۔توھودعلیہ السلام اپنی قوم کےبارےمیں بے چین ہوگئے کہ یہ مان نےنہیں دےرئے انی اخاف مجھےپریشانی ہےجیسےاجکل کےدورہم anxiety کانام بھی لیتےہیں۔مستقبل کےبارےمیں ہماری worries وخیالات ہوتےہیں بحرحال وہ اللہ سےڈرتےہیں اوراللہ کی عظمت کوجانتےہیں اور علم رہتےہیں۔وہ اللہ سےڈرتےبھی بہت ہیں انمایخشی اللہ من عبادہ العلماء جتنی جتنی اللہ کی معرفت ہوتی ہے۔اتنی ہی محبت بھی ہوتی ہےاور ڈربھی اتناہی ہوتاہےاوراللہ کاڈرمومن سے مطلوب بھی ہے۔اخرت کاخوف مومن سے مطلوب بھی ہے۔یہ خوف ایک عبادت بھی ہے۔اللہ سےڈرناایک عبادت بھی ہےاوراللہ کاڈرسب چیزوں سےزیادہ بھی ہوناچاہیے۔انسانوں کےڈرسےزیادہ ہوناچاہیےکیوں؟ہم بہت سےکام انسانوں کےڈرسےچھوڑدیتےہیں۔ایساہوتاہے؟کبھی آپ نےکہاکہ ہائےامی کیا کہیں گی؟ٹیچریہ کہیں گی۔فلاں یہ کہےگا؟لحاظ مجھے یہ کام کرلیناچاہیےیانہیں کرناچاہیے؟ہم ڈرکی بنیادپرفیصلہ کرتےہیں۔اسمیں آپ دیکھیے کہ یہ ڈربڑاضروری ہےاوریہ دین کی اصل روح ہےاوریہ ڈرہوتاہےتوانسان سیدھارہتاہے۔اطاعت کرتاہےورنہ ہمارانفس ہمیں برےکاموں کاحکم دیتاہی ہے۔ ان النفس لامارہ بالسوء نفس انسان کو برائیوں پہ اکساتارہتاہےاورانسان اپنےنفس نےاس سرکش گھوڑے کوروک نہیں پاتا۔اسکےہاتھوں بےبس ہوجاتاہےاورغلط کام کرجاتاہےلیکن اس نفس کے سرکش گھوڑےکوکونسی چیزلگام دےسکتی ہے۔اللہ واخرت کاڈر۔قران مجیدمیں خوف سےمتعلق کئی الفاظ ائےہیں جیسےتقوی اتقوا کیسے انذار نذیربشیراونذیرا خوف وجل انماالنومنین الذین اذاذکراللہ وجلت قلوبھم کانپ جاتےہیں یعنی ڈرکےمارےانکےدل کانپنےلگتےہیں۔جب کوئی خوف کاشکارہوتاہےتوکہتاہےکہ یہاں ہاتھ رکھ کردیکھومیرادل جتنازیادہ دھڑک رہاہے۔اسی طرح خشیت۔ جوعلم والوں کی ہوتی ہے۔ رھبت بھی وایای فرھبون اوراسی طرح رھق بھی۔بحرحال بہت سے الفاظ استعمال ہوتےہیں۔جنکےاندرباہم فرق بھی ہے۔اگراپ اس علم میں دلچسپی رکھتے ہیں تو عبد الرحمان کیلانی کی کتاب مترادفات القرآن تیئسر القرآن یعنی قرآن کو آسان طریقےسےپیش کیاگیا۔یہ لفظ یسر سےہے۔انہوں نےایک بڑےہی کام کی کتاب لکھی ہے۔یہ قرآن کی deeper understanding کےلیےبہترین کتاب ہےاورجوتدبرکےstudentsہیں۔انکوچاہیےکہ اس کتاب سےلازمافائدہ اٹھائیں اوراسمیں ایک لفظ آیا تواس سےملتےجلتےلفظ ڈھونڈیں۔اسمیں اپکولفظ کی پوری لسٹ کےساتھ ساتھ دلائل بھی لینگےکہ کہاں کہاں یہ لفظ ایاہےاوراسکےساتھ یہ بھی ائےگاکہ اس لفظ لغوی معنی میں فرق کیاہے؟خوف اور خشیت میں کیافرق ہے؟اسی طرح انذارورھبت میں کیافرق ہے؟اسی طرح عربی میں فروق ولغویہ پہ کتابیں لکھی گئیں ہیں۔لغت کےاعتبارسےجوفرق ہیں۔یہ بھی ایک بڑا دلچسپ علم ہے۔اگراپ چاہتےہیں کہ قرآن کی deeper understanding اپکوہوتواسکاویسےبھی آپ مطالعہ کرسکتےہیں۔ڈرکامستحق صرف اللہ ہے.لیکن ہمارےدل میں کس کس کاڈرہے؟بندوں کاڈرکچھ لوگ بہت criminalsہوتےہیں۔کچھ لوگ بڑےmenopulatorsواپکےجذبات سےکھیلنےہوتےہیں۔لڑکیوں کےجذبات سےکھیلتےہیں۔شادی شدہ ہوتےہیں۔پھرایک وقت میں کئی کئی لڑکیوں سے دوستیاں کیں ہوئیں ہوتیں ہیں۔لڑکیاں چاری جذباتی ہوتیں ہیں جب ان سےattachedہوجاتیں ہیں تواپناسب کچھ عزت،ماں باپ ہرچیزلٹانےپہ تیارہوتیں ہیں۔حتی کہ اپنی عزت اورسب کچھ ختم تواس چیزکاڈربھی ہوناچاہیےکہ اللہ نےاپنی حدودجومردوں اور عورتوں کےدرمیان کیں ہیں۔انکوبھی قائم رکھنا چاہیےورنہ اللہ کا کچھ بھی نقصان نہیں ہوگابلکہ انسان کا نقصان ہی ہوتاہےتواسمیں بھی ایک طرح سےاپکو کوڈرہی روکتاہے۔بندوں کاروکتاہےلیکن بندوں کاڈراپکواللہ کی اطاعت سےنہ روکے۔جیسےایک جگہ جہاں ماحول conduciveوسازگارہےوہاں تواپ حجاب کرلیں لیکن جہاں حجاب کی لوگ مخالفت کرتےہوں۔وہاں آپ حجاب چھوڑدیں۔قران کی محفل میں توآپ حجاب لےلیں لیکن جب آپ یونیورسٹی جائیں تو حجاب کوخیرابادکردیں یاڈھیلاڈھالاکردیں۔کتنی عجیب بات ہے۔نہ لوگوں نےہمیں پیداکیا،نہ لوگ ہمیں کھانادیتےہیں،نہ لوگ ہمیں رازق ہیں نہ ہمارے مالک ہیں اورنہ ہی ہم نے انکاحساب دیناتوپھربھی لوگوں کاخوف عجیب ہی ہےاوربہت سےکام تواپناجائزہ لیں کہ کونسے کام میں اللہ کاڈربھول کرلوگوں کےڈرکی وجہ سے کرتی ہوں۔جب کبھی لوگوں کاڈرائےنااوراپ حجاب ڈھیلاکرنےلگیں ناتورک کوسوچاکریں۔تھوڑاوقت خودکودیاکریں،سوچا کریں کہ جسکی خاطر میں حجاب اتارنے لگی ہوں یہ میراکیابگاڑلےگا؟ہاں میں اسکی good booksمیں نہیں رہونگی توکیااپکانفع ونقصان اسکےساتھ میں ہے؟نہیں آپ یقین کریں کہ بعض لوگ اپنے ایمان میں اتنا پختہ ہوتےہیں۔اپنےاوپرکام کرتےہیں۔اپنی قابلیت بڑھاتےہیں۔اپنےاوپرمحنت کرتےہیں کہ لوگوں کی ضرورت بن جائیں۔اپکےبغیرانکابزنس وکام نہ چلےاورانھیں مڑدھڑکواپکوہی ہائرکرناپڑےتوانکوپرواہ نہیں ہوگی کہ آپ حجاب کریں یانہ کریں؟لیکن اگرآپ نکمےہیں۔اپکوکچھ نہیں آتا اوراپ کسی کاری کے نہیں توپھراپ دیکھیں کہ صرف اسطرح کی عجیب حرکتیں کرکے،دوسروں ومردوں کادل لبھاکریاانکےساتھ ہنسی مذاق کرکےیاان سے کوئی چھپی دوستی کرکےان سے کوئی فائدہ اٹھانا چاہتےہیں اوربعض لوگ اس حدتک چلےجاتےہیں کی دنیاکےچندپیسوں کی خاطر اپنی عزتیں بھی لٹادیتےہیں تواپ خودسوچئےکہ ہروہ چیزجس سےاللہ کی حدیں ٹوٹ رہیں ہوں۔اس سے کیاکرناچاہیے؟پیچھےہٹ جاناچاہیےکہ میں یہ افورڈ نہیں کرسکتی کہ اللہ کوناراض کرکےبندےکوخوش کروں۔چاہیےاسمیں میرانفس ہی بڑاخوش ہوتاہےکیونکہ ہمارااپنانفس بھی خوش ہورہاہوراہےنابعض اوقات لوگوں کی ایسی demandہوتی ہےکہ ہم صرف اسلئے پوری کرتےہیں کیونکہ ہمیں بھی اسمیں مزاارہاہوتاہےتواس مزےکاکیاکہناجوچندلمحوں کےلیےہواوراسکےںعدہمیشہ کی آگ ہو۔اللہ کی طرف سے لعنت برس رہی ہو۔جب کوئی زانی زناکرتاہےتواسکاایمان اس سےنکل کرالگ ہوجاتاہے۔دل سے ایمان ہی نکل جاتاہےکیونکہ زناکاعمل اور ایمان دونوں دل میں اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ایمان والایہ کام نہیں کر سکتا۔اسلئےان اعمال میں بہت عقلمندی ہوشمندی وسمنھداری کا مظاہرہ کرناہےاوردنیاکی ذلت سےبھی بچناہےاوراخرت کےعذاب سےبھی بچناہے۔ایک حدیث میں ہےکہ نبی کریم صلی اللہ وسلم کودوفرشتےخواب میں ایک جگہ لےگئےاورمختلف چیزیں دکھائیں۔جن میں سے ایک ایک تنور میں آگ بھڑک رہی تھی اوراسمیں سے سخت بدبوبھی تھی اورکچھ مرد اور عورتیں اسمیں جل رئےتھےاوراگ کےشعلےاوپراتےتووہ اوپراتےاوراگرنیچےجاتےتونیچےاتےتوانجےساتھ مسلسل ایساہی ہورہاتھا۔پوچھاگیاکہ یہ کون لوگ ہیں؟بتایا گیاکہ یہ زانی وزناکرنےوالےمردوعورتیں ہیں۔کچھ برائیاں معاشرےمیں نارمل ہوتیں جارہیں ہیں اوراللہ کاڈرنہیں رہاکہ کونساماں باپ دیکھتے ہیں اوراب توسبھی ایساکرتےہیں۔افسوس سےکہناپڑرہاہےکہ بعض اوقات manipulatorوہیراپھیری کرنےوالاکوئی باس ہوسکتا ہےاس سےشدیدافسوس کی بات کی وہ کوئی teacher بھی ہوسکتاہے۔کچھ ایسے واقعات ہورہےہیں کہ معصوم بچیاں مردوں کے ہاتھ چڑھ جاتیں ہیں۔پریگیننٹ ہوتیں ہیں اوردنیااوراخرت دونوں میں ہی ذلت صرف خواہش نفس توجنت کسکےلیےہے؟سورہ النازعات کےاخرمیں اتاہےناکہ
وامامن خاف مقام ربہ۔ونھی النفس عن الھوی۔فان الجنہ ھی الماوی۔
جوشخص اپنےرب کےسامنےکھڑےہونےسےڈرگیااوراپنےنفس کو خواہش سےروک لیا۔یعنی خواہش نفس پہ کنٹرول کرلیاتوجنت اسکاٹھکانہ ہے۔
جویہ نہ کرے؟
فاماطغی واثارالحیوہ الدنیافان الجحیم فھی الماوی۔
توجودنیاکی زندگی کو ترجیع دے(توپھرکیاہوگا)خواہشات کےپیچھےچلےسرکشی کرےتواسکاٹھکانہ پھرکیاہے؟جحیم بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
دونوں راستےبتادئےگئے ھدیناھم ونجدین اسلئےاگرساری دنیا بھی حرام کام کررئی ہوناتواپکےاندراللہ کاڈرہوناچاہیے۔وہ سات لوگ جو قیامت کے ہولناک دن میں عرش الٰہی کےسائےتلےہونگے۔ان میں سےایک شخص کون ہوگا؟جسکوکسی خاندانی/بڑے خاندان کی لڑکی نےزناکی دعوت دی اوراسنےکیاکہا؟ انی اخاف اللہ میں اللہ سےڈرتاہوں۔میں یہ کام نہیں کرسکتےتواللہ کاڈرہونااورنہ ہونایہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ہم سب کااپناجائزہ لیناچاہیےکہ کیامیرےدل میں بندوں کاڈرہےیااللہ کاڈرہے؟کیامیں بندوں کوخوش کرنا چاہتی ہوں؟یااللہ کوخوش کرنا چاہتی ہوں؟کیامیں اللہ کو راضی و خوش کرنا چاہتی ہوں کااپنےنفس کو راضی و خوش کرنا چاہتی ہوں؟choiceاپکودی گئی ہے۔جوکرینگے۔نتیجہ اسکےمطابق نکل ائےگا۔پھراسی طرح ایک طرح سےبھی بندوں سےڈرناہوتاہےاوروہ اسطرح کےڈرنےسےمختلف ہوتاہےاوروہ کیاہے؟کہ وہ مجھے غیبی طورپرکوئی نقصان دےدیگا۔میں نےاگرفلاں مزارپرچڑھاوانہ چڑھایایاگیارہویں شریف پر میں نے دودھ نہ بانٹاتوکیاہوگا؟میری بھینس مرجائےگی۔لوگوں کایہ عقیدہ ہےنا؟یہ شرک کی ایک قسم ہےکہ یہ یقین رکھنا کہ وہ اللہ کےعلاوہ خودسےخودکوئی نقصان پہنچاسکتاہے۔کسی بے،صاحب قبرکےبارےمیں یہ سوچنا،کسی جن وخیالی روح کےبارےمیں یہ سوچنااگرمیں نےیہ کام نہ کیاتووہ مجھےنقصان دیگی۔کوئی بھی اپکونقصان نہیں دےسکتا۔کئی لوگ ان چیزوں کوسمجھ لیتےہیں لیکن ان سےباہرکیوں نہیں نکلتے کہ کہیں ہماراکوئی نقصان نہ ہو جائے۔یہ درست نہیں اسکےپیچھےشیطان ہوتاہےاورشیطان کیاکرتاہے؟شیطان اپنے دوستوں سےڈراتاہے۔اللہ تعالیٰ کیافرماتےہیں۔ انما ذالکم الشیطان یہ شیطان ہی ہےجوتمھیں اپنے دوستوں سےڈراتاہےتوتم ان سےنہ ڈروبلکہ مجھ ہی سے ڈرو۔اگرتم مومن ہوتویہ یقین رکھنا چاہیےکہ نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ ہے۔کسی جن سےنہیں ڈرناکہ وہ نقصان دےدیگا۔کوئی قسمت بگاڑدیگا۔کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ انماذالکم الشیطان یخوف اولیاءہ فلاتخافوھم وخافون ان کنتم مؤمنین۔ یہ ڈراللہ ہی کاہو۔نفع ونقصان کسکےساتھ میں ہے؟اللہ کے ہاتھ میں،مالک وہی ہےکوئی ہماراکچھ نہیں بگاڑسکتا۔سورہ الانعام میں اتاہےکہ وان یمسسک اللہ بضرفلاکاشف لہ الاھووان یمسسک بخیرفھوعلی کل شئ قدیر۔ اوراللہ اگرتمھیں کوئی نقصان پہنچائے تواسکےسواکوئی اسےدورکرنےوالانہیں اوراگروہ تمھیں کوئی خیرپہنچائےتووہ ہرچیزپرخوب قدرت رکھنےوالاہےتواپ جب کوئی دعا مانگتے ہیں تو ساتھ ہی یہ بھی سوچتےہیں کہ یہ سوسکتاہے۔میرےبس میں نہیں لیکن اللہ کرسکتاہےتونفع ونقصان کا مالک کوسمجھنا۔یہ ہماراایمان اورتوحیدکاحصہ ہےلیکن کیاچوہےوکاکروچ سےڈرنایہ بھی ایمان کے منافی ہے نہیں یہ طبعی خوف ہوتاہے۔طبعی خوف مستثنی ہے۔یہ ایک فطری چیزہے۔ہرانسان کےاندراپنیsafety, security واہنی جان کی حفاظت کےلیےیہ مادہ رکھ دیاگیا ہےکہ وہ خوف وخطرےوالی چیزوں سےبچےاوریہ پیغمبروں میں رہاہے۔موسی علیہ السلام کاواقعہ اپکویادہےکہ
فلماراء تھتزکانھاجان ولی مدبراولم یعقب۔یموسی لاتخاف موسی ڈرومت انی لایدی یخاف المرسلون میرے ہاں رسول ڈرانہیں کرتے۔رسولوں کومیری طرف سےامن ہے کوئی انکونقصان نہیں دےسکتا۔
اس سےپتاچلتاہےکہ اگرہمارےاندرطبعی خوف ہےتوکوئی بات نہیں۔کچھ لوگ چھپکلی سےڈرتےہیں۔کوئی heightپہ جانےسےڈرتےہی ۔کوئی پانی سےڈرتےہیں توکوئی بات نہیں اگریہ بھی بیماری ہے۔اسکاعلاج بھی ہوناچاہیے۔شفاکی دعائیں اگرپڑھتےرہیں تویہ بیماریاں بھی ان شاءاللہ ٹھیک ہونگی۔خلاصہ یہ ہےکہ آج ہمیں اللہ کےسواہرچیزکاخوف لگاہواہے۔کبھی ہمیں غربت کا،دشمن کا،نوکری چلےجانےکا،تنخواہ کرنےکا،بیماری کاخوف ہےاوراگرخوف نہیں تواللہ کاخوف نہیں جبکہ ان سب چیزوں میں سب سے اوپر اللہ کاخوف اوراللہ پہ توکل ہوناچاہیےاورمعاملات کواللہ کےسپردکرناچاہیے۔ وایای ترھبون۔وایای فاتقون ہم اپنے اسلاف کودیکھتےہیں کی وہ اللہ ہی سےڈرتےتھے۔حضرت ابوبکر کےخوف خداکاواقعہ ہےکہ ایک چڑیاکودرخت پہ بیٹھےدہکھاتوکیاکہا؟چڑیاتمھارےبشارت ہے۔تم درخت پہ بیٹھتی ہو۔پھل کھاتی ہواوراڑجاتی ہونہ حساب،نہ کتاب نہ ہی عذاب کاش میں بھی تمھاری طرح ہوتا۔حضرت عمرکہتےکہ کاش میںنڈھاہوتااوراسےموٹاتازہ کرکےکھالیاجاتا۔انسان نہ ہوتا کیونکہ حساب دیناہےاورپھرانہوں نےسورہ الطورکی آیت پڑھی۔ ان عذاب ربک لواقع اوررونےلگے۔حتی کہ بیمارڑگئےاورکئی دن بیماررئےاس ڈرسے۔انکےاندراتناڈرتھا۔ہم بڑےامن میں ہیں۔ہمیں اللہ سےڈرہی نہیں لگتا اوروہ اتنے نیک،اتنےاطاعت گزاراوراللہ سےڈرنےوالے۔صحیح بخارہ میں اتاہےکہ حضرت عمرکہتےہیں کہ اللہ کی قسم میرےپاس زمین بھرسوناہوتاتواللہ کےعذاب کاسامناکرنےسےپہلےفدویہ دےکراس سے نجات کی کوشش کرتا یعنی وہ سب دےدیتااوران لوگوں نےاپناسب کچھ ہی دیاہواتھا۔حضرت کے حالات پڑھیں توآپ نےغوروکیاہوگاکی جب انکی شھادت کے باعث جووارکیاگیاتواسوقت انکی فکرکیاتھی؟دنیاسےکٹ چیزکی فکرکرتےہوئےگئے۔اسی طرح حضرت عثمان کسی قبرکےپاس سےگزرتےتوبہت روتےکہ آخرت کی منزلوں میں سےپہلی منزل قبرہے۔اسی طرح حضرت عمر بن عزیزاوراسی طرح کےدیگرلوگوں کےبارےمیں بھی کہ وہ کسطرح اللہ سےڈرتےتھے۔
ابن رجب کہتے ہیں کہ خوف کی ضروری حدیہ ہےکہ کوخوف فرائض اداکرنےاورحرام چیزوں سےبچنےپہ ابھارے(اتناخوف توہرایک کےاندرہوناچاہیےکہ وہ نیکی کے طرف لےجائےاوربرائی سے بچائے)اگرخوف حدسےبڑھ جائےاورانسان بےکارہوجائےتویہ خوف مطلوب نہیں ہے۔
ابو حفص کہتے ہیں کہ خوف اللہ کاکوڑاہےجسکےذریعےجس سےاپنےدروازےسےبھاگنےوالوں کوسیدھاکرتاہے۔
ایک اورقوم ہےکہ خوف دل میں چراغ کی رح ہےجوانسان کوہوشمندرکھتاہےیعنی اچھےبرےکافرق بتاتاہے۔ابوسیلمان کہتےہیں کہ وہ دل خراب ہی ہوتاہے۔جس سےخوف نکل جائے اور مسلمان دوخوفوں کےدرمیان ہی رہتاہے۔ایک یہ ہےکہ ایسےنہیں پتاجووہ کررہاہے۔اللہ اسےقبول بھی کریگاکہ نہیں یعنی جوبھی اسنےبولایاکیاتوکل اسکےساتھ اسپرکیامعاملہ ہوگا؟دوسرا یہ کہ دنیاگزراکرجب قبرمیں جائےگاتواسکےساتھ کیا معاملہ ہوگا؟آنکھیں بند ہوتےہی اسکےساتھ کیاہوگا۔اس بات سےڈرناچاہیےاوردوسرےجواگےارہاہےکہ قبرکےاندراوراخرٹ میں کیاہوگا۔اس سےبھی ڈرناچاہیے۔ہاں امیدکےساتھ/امیدبھی ساتھ ہی رئےکہ اللہ سبحان وتعالی اچھاہی معاملہ کریگا۔ایسی امیدنہ ہوکہ کوخوف کوختم وeliminateہی کردےاورایساخوف نہ ہوکہ جسمیں آپ مایوسی کی طرف چلےجائیں اوراپ اسمیں امیدہی ختم کردیں
یہ نہیں ہونا چاہیے۔خوف سےہی انسان کے ایمان کی تکمیل ہوتی ہے عمدہ اخلاق کےپیچھےبھی اللہ کاڈرہی ہتاہے۔کسی منفی ماحول سے اثرانداز نہ ہونااسکےپیچھےبھی اللہ کاخوف ہی ہےکہ آپ کسی مال،پارک وبازار میں ہیں۔بلکل ہی کسی anti Islamماحول میں ہیں۔لیکن آپ اس ماحول کے اثرات قبول نہیں کرتے۔اپ سوچتےہیں کہ یہ میرےلیےنہیں ہے۔اپ اللہ کےڈرکی وجہ سے اسکی اصلاح کرسکتےہیں توکردہں لیکن اپنےاپکوبچالیتےہیں اورخوف کاسب سے بڑافائدہ یہ ہےکہ جودنیامیں ڈرےگاوہ قیامت کےدن وھم من فزئھم یومئذامنون وہ اس دن کےخوف سےبچ جائےگا۔اس دن اسکاامن نصیب ہوگااورپھراگےجنت میں ولمن خاف مقام ربہ جناتان جواپنے رب کےسامنےکھڑےہونےسےڈرگیا۔اسکےلیےدوباغ ہیں۔بحرحال اللہ کاخوف اگردل میں نہیں تواسکی دعابھی کرنی چاہیے کہ اللہ کی مجھےاپناتقوی عطاکر۔وہ خوف تقوی کی شکل میں ہوتاہے۔ اللھم ات نفسی تقواھاوزکھاانت چیرمین زکاھا اسی طرح تدبرکےساتھ قرآن پڑھنا۔اسکی تلاوت کرنا۔سورہ مریم میں اللہ سبحانہ وتعالی فرماتےہیں کہ اذاتتلی علیہ آیات الرحمان خرواسجدوابکیا قرآن پڑھتے ہوئے اپنا جائزہ ضرورلیاکریں کہ تھوڑی سی بھی آنکھ بھیگتی ہےکہ نہیں اوراپنےمصحف پہ اپنا targetوgoalلکھ لیں کہ قرآن پڑھتےہوئے۔میری آنکھ بھیگنی چاہیےاللہ کےبندےکون ہیں جواللہ سےڈرتےہیں واذتتلی علیہ آیات الرحمان خرواسجدوابکیا رحمان کی آیات سنتےہیں اوروہ روتےہیں اورسجدےمیں گرجاتےہیں۔دنیاکےگھرکاخیال کی فکر بھی کرنی چاہیے لیکن اس گھرسےزیادہ آخرت کےگھرکی فکرکرنی چاہیے کیونکہ اس گھرسےکبھی نکلنا ہی نہیں۔اسی طرح قرآن کےبعدحدیث بھی دلوں کوبہت نرم کرتی ہے۔دل کےاندرایک رقت پیدا کرتی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت بھی پتاچلتی ہے۔معاملہ کرنےکااندازبھی اس سے پھریہ چیزانسان کےاندراتی ہے پھر اسی طرح ایسےلیکچر،وعظ وکلاسزجہاں پہ دلوں کو نرم والی باتیں وتذکیر ہو۔نبی صلی اللہ وسلم کایہ طریقہ ہوتاتھاحضرت اربازبن عاریہ کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ وسلم نے ہمیں فکرکی نمازپڑھائی اورمئوثرنصیحت فرمائی کہ جس سے لوگوں کی آنکھیں آنسوؤں سےبھیگ گئیں توقران پڑھتےہوئے،ایسےلیکچر سنتےہوئےہم پہ ایسی کیفیات انی چاہیں۔
آگلی آیت
قالواسواءعلینااوعظت ان لم تکن من الواعظین۔
کسقدربےباکی واعراض کیارویہ ہےاورکتنی بےرخی ہےتم نصیحت کرویانہ کرو۔ہمیں فرق نہیں پڑتا۔ہم تمھاری نصیحتوں سےمتاثرہونےوالےنہیں۔پیچھےہم کیاپڑھاکہ ایسےوعظ سننے چاہیں کہ جس سے دل نرم ہواوراللہ کی یادائےاوراللہ کاڈرپیداہو۔یہاں وہ قوم کیاکہہ رہی ہے کہ آپ واعظ بنیں یانہ بنیں ہم نےنہیں ڈرنا۔
اب وعظ کیاہوتاہے؟
ایسالطیف کلام جودل کونرم کرےتوھودعلیہ سلام کےوعظ کےباوجودقوم بےپرواہی برت رہی تھی۔تووعظ اچھےطریقےسےنصیحت کرنا ہوتا ہےکہ جسمیں صرف محبت کی باتیں نہیں ہوتیں۔اسمیں ڈراوا بھی ہوتاہے۔جسکی وجہ سےلوگ ڈرتےہیں اورانکی آنکھیں بہتی ہیں۔یہ بات جواس بات کی گئی۔یہ دراصل ھودعلیہ السلام کی قوم کاجواب ہے جو دراصل ھودعلیہ السلام سے کہہ رئےتھےکہ تم ہمیں نصیحت کرویانہ کرو۔ہم نےتمھارےنصیحت کوئی نہیں ماننی۔سورہ ھودایت نمبر53میں اتاہےکہ انہوں نےکہااےھوتوہمارےلیےواضع دلیل نہیں لایا۔ سبحان اللہ پیغمبرنےسب کچھ بتایا۔جب تم نے سناہی نہیں تو تمھیں کہاں سےیادرئےگا۔اچھاlistenerہونایہ اللہ کی بڑی نعمت ہے۔بڑےفائدےاٹھاتےجیسےہم کوئی اچھی سی چیزکھالیتےہیں تومزااجاتاہے۔جنکی listening skillاچھی ہوتی ہےناتووہ باتوں کی طےتک پہنچ جاتے ہیں اورانکومزااجاتاہے۔وہ محسوس کرلیتےہیں۔انکےاحساسات جاگ رہے ہوتے ہیں کانوں سےسناکہاں جاتاہے؟کہاں جمع ہوتا ہے؟دل پہ توجوکانوں سےگیااوراسنےدل پہ اثرہی نہیں کیاتوپھربتائےکہ کیاہوا؟کیاحاصل ہوا؟بحرحال انہوں نےکہاکہ
تم توہمارےپاس کوئی دلیل وبینہ ہی نہیں لائےنہ ہی ہم تیری بات کی وجہ سےاپنےمعبودوں کوچھوڑنےوالےہیں۔نہ ہی ہم تیری بات ماننےوالےنہیں؟صاف نہ جیسے کہتےہیں ناکہ چٹی نہ جو مرضی کہہ لوہم نہیں ماننےوالے)۔
قالوایھودماجئتناببینہ ومانحن بتارکی الھتناان قولک ومانحن کل بمومنین۔
ان الفاظ سےاس قوم کاھودعلیہ سلام کےساتھ بےپرواہی برتنااورحقارت آمیز سلوک کرنا واضع ہورہاہے۔اس سے ملتی جلتی صورتحال نبی کریم صلی اللہ وسلم کوبھی پیش آرہی تھی۔کفارمکہ بھی آپ صلی اللہ وسلم کےساتھ اسی طرح کیارویہ اختیارکیےہوئےتھے۔انہوں نےکیاکیا؟سورہ الدولت میں اتاہےکہ وقال الذین کفروالاتسمعواولغوافیہ لعلکم تغلبون جنھوں لوگوں نےکفرکیاوہ کہنےلگےکہ قرآن کومت سنواسکی تلاوت کےوقت شوروغل کرو۔شایدکہ تم ہی غالب آجاؤ۔سننانہیں کیونکہ ماننانہیں ٹھانی ہوئی ہےکہ نہیں ماننا۔توجب کوئی نہ ماننے کی ٹھان لیتاہےناتوپھروہ بات نہ سنتاہےنہ ہی سمجھتاہےاوروہیں اٹکاہوارہتاہے۔جووہ سوچ کرایاہواہوتاہے۔جیسےبعدلوگ بتاتےہیں کہ قرآن کی کلاس میں یہ سوچ کراتےہیں کہ اگر پردہ کی بات کی گئی تونہیں ماننی باقی دیکھ لینگےکہ کیا سنناہےاورکیانہیں سننا۔کچھ لوگ پہلےسےارادہ لےکےاتےہیں کہ اگر انہوں نے ایسی اوریہ والی بات کی توپھرنہیں ماننی ٹھان رکھاہوتاہے۔ارادہ کیاہواہوتاہےکہ یہ ہم نہیں کرسکتے۔یہ نہیں کرونگے۔حرام دوستی نہیں چھوڑینگے۔بس قرآن پڑھ لینگے۔اگرعمل نہیں کرناتوپھرپڑھنےکامقصدکیاہے؟بحرحال ایسی طرح ہم دیکھتےہیں کہ قوم نوح نےنوح علیہ السلام کی دعوت پر اپنےکانوں میں انگلیاں ڈال لیں۔سورہ نوح میں اتاہے کہ اورجب بھی میں نے انھیں پکارا تاکہ تو انھیں بخش دے انہوں نے انگلیاں اپنےکانوں میں ٹھونس لیں۔انہوں نےاپنےکپڑےاوڑھ لیےاوراصرارکیااوربہت بڑاتکبرکیا۔قوم نےنہیں مانا۔نتیجہ کیانکلا؟قوم نوح کےساتھ کیاہواتھا؟ڈبادئےگئےتھےنا۔جب نہیں مانناتودنیامیں رہنےکاحق تمھیں پھر نہیں ہے۔تم نےساڑھےنوسوسال تک تم نے پیغمبرکی بات نہیں سنی۔اب تمھارےجینےکاحق ختم۔قعان مجیدکےشروع میں بھی اتاہےکہ
ان اکفرواسواءعلیھم ءانذرتھم ام لن تنذرھم لایومنون۔
کچھ لوگ واقعی ایسےہوتےہیں کہ آپ جتنا چاہیں ل۔انکوسمجھالیں۔وہ سننے والے نہیں ہوتے بات نہیں مانتے لحاظ آپکی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اپنا فرض پوراکریں۔اپنی ذمہ داری بنھائیں۔اپ دعوت وتبلیغ کاکام جاری رکھیں۔نتائج اللہ پہ چھوڑدیں۔
انماانت مذکرلست علیھم بمصیطر
مزیدکیاکہنےلگے۔اگلی آیت
ان ھذاالاخلق اولین۔
یہ تو پہلے لوگوں کےبھی عادات واطوارتھیں۔
خلق ایک خلق خ کی زبرکےساتھ اورایک خلق خ کی پیش کےساتھ ہوتاہے۔عادت،دین،اطوار،طور طریقے اولین اول سےہےپرانے لوگ،پہلے لوگ اساطیر اولین اسکاایک معنی یہ ہےکہ جوکچھ ہم کررئےہیں۔پہلےلوگ ہمارے آپ دادابھی یہی کرتےتھے۔انکادین بھی یہی تھا۔انکاتمدن بھی یہی تھا۔وہ بھی بت پرست تھے اوروہ بھی شاندار عمارتیں بناتےتھے۔پیچھےاللہ سبحان وتعالی نےفرمایاتھاکہ
اتبنون بکل ریع ایہ تعبثون۔وتتخذوں مصانع لعلکم تخلدون۔واذابطشتم بطشتم جبارین۔
اگرہمارےاندریہ عادتیں،یہ طریقےاورکام ہیں تو پہلے لوگ بھی یہی کرتےتھے۔وہ بھی ایساہی کرتےتھے۔ہم انہی کےطریقےپرہیں۔دوسرامعنی یہ کیاگیاہےکہ جو نصیحت کی باتیں تم کررئےہو۔ہمیں سمجھارئےہو۔یہ بھی کوئی نئی نہیں۔تم نےیہ جوبات کی ہے۔یہ مجھےپہلےبھی پتاہے۔پہلےایسےخبطی لوگ گزرےہیں۔ایسی باتیں کرتےرہے ہیں اور ہم ہرکوئی اثر نہیں ہوااورہمارےاباواجدادکوبھی نہیں ہوااور ان پربھی کوئی عذاب نہیں آیا لحاظ ومانحن بمعذبین اس آیت کی ایک اور قراءت بھی ہے۔یہ آیت ان ھذاالاخلق اولین خ زبرکےساتھ اور لام جزم کےساتھ پڑھاگیاہے۔ابن عمرو،کثیر،کسائی اور یعقوب نےاسکو خ کیا زبراور۔ لام کی جزم کےساتھ پڑھاہے۔ خلق خ۔ زبرکےساتھ اور لام جزم کےساتھ من گھڑت بات کوبھی کہتےہیں۔جھوٹ کوبھی کہتےہیں۔جھوٹ عادت کوبھی کہتےہیں لیکن خلق خ کی زبراور لام کی جزم کےساتھ یہ کلام انکی طرف سےنہیں ہوگا یعنی حفص کی قراءت میں صحیح معنی دےرہا ہے۔
ومانحن بمعذبین۔
اورہم عذاب دئےجانےوالےنہیں۔
اپنے بارےمیں اتنے confidentتھےکہ ہمارےباپ داداکوکچھ نہیں ہواتوہمیں بھی کچھ نہیں ہوگا۔اچھاہم لوگ کیاکرتےہیں؟سب لوگ ہی ایساکررئےہیں۔انھیں توکچھ نہیں ہواوہ توحرام کام کرکے،حرام کی دولت اکٹھی کررئےہیں۔ہم نے تھوڑی بہت ڈنڈی مارلی توہماراکیاہوگس؟ہمارا بھی کچھ نہیں ہوتا۔ ان ھذاالاخلق اولین اول وپہلےزمانےسےہیمشہ ایساہی ہوتاارہاہے۔سبھی ایساکرتےہیں۔کیااج بھی ہم ایسی ہی حجتیں نہیں پکڑتے۔یہ توسبھی کرتےہیں۔ہم نےکرلیاتوکیاقیامت ٹوٹ پڑےگی توکیایہ ایک دلیل ہوتی ہےکہ سارےکررئےہوں۔پچھلےکررئےہوں۔موجودہ لوگ کوئی غلط کام کررئےہوں۔بہن بھائی کررئےہوں۔ماں باپ کررئےہوں توہم سوچیں کہ ماں باپ کررئےہیں لحاظ انھیں کچھ نہیں ہوگا۔انھیں کچھ نہیں ہواتوہمیں بھی کچھ نہیں ہوگا۔یہ جھوٹی تسلیاں ہیں۔self deceptions خودفریبی ہےکہ ہمیں عذاب نہیں ہوگایعنی جس طریقےپرہم ہیں۔
ان آیات سے پتاچلتاہےکہ چاہیے کوئی نہ مانے نصیحت کرنایہ کسی بھی قوم کی فلاح کےلیےبہت ضروری ہےاوراپنی ذمہ داری کواداکرناضروری ہے۔ترک نصیحت معاشرےکےاندربگاڑپیداکردیتی ہےاورجب بگاڑعام ہوجاتاہےتوسبھی ڈوب جاتےہیں۔نصیحت ہرانسان کی ضرورت ایسی ہےجیسےاکسیجن وکھانےپینےکی اوراسطرح ہماری دیگوضروریات ہیں۔ایسےہی ہماری ضرورت ہےکہ کوئی ہمیں اچھی نصیحت کردے۔کچھ لوگ بڑے اچھےہوتےہیں۔چلتےپھرتےپوچھ رئےہوتےہیں کہ کوئی نصیحت کردیں۔ہمجں نصیحت کی ضرورت ہوتی ہےلحاظ اگر کوئی ہمیں نصیحت کردےتوہمیں ناراض نہیں ہوناچاہیے۔ہمارےاندرنصیحت قبول کرنےکی صلاحیت ہونی چاہیے ورنہ ہماری مشابہت ان ضدی اقوام کےساتھ ہوگی۔
جب بھی کوئی خرابی شروع ہوتی ہےتو پہلےچھوٹی ہوتی ہےاورپھرکیاہوتاہےاگراسکووہ وہاں نہ روکاجائےتووہ بڑی ہوتی جاتی ہے۔پھرout of controlہوجاتی ہے۔اسکی مثال کشتی والی مثال ہے جسمیں ایک شخص کشتی میں سوراخ کرتاہےتواگرکوئی روکتا نہیں توسارےہی ڈوب جاتےہیں اوراللہ سبحان وتعالی ایسی قوم کاعذاب نہیں دیتا جسمیں کچھ بھی ایسےلوگ موجودہوں۔جونصیحت کرتےرہیں۔نصیحت کوغنیمت جانیں اور نصیحت کرنےسےبھی نہ جھجکیں وشرمائیں لیکن نصیحت عمدہ طریقےسےکرنی چاہیے۔نصیحت سننےوکتنےمیں اسمیں ہماری کامیابی ہےلیکن اگرانسان صرف نصیحتیں ہی سنتارئےاورکرےکچھ نہ تو کیاہوتاہے؟
*واخردعوناعن الحمدللہ رب العالمین:*