18/02/2026
*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*
*فقہ الصبر (صفحہ نمبر859)*
جوچیزصبرمیں عیب لگاتی ہے/صبرکوخوبصورت نہیں رہنے دیتی وہ مصیبت کااظہارکرناہے۔کبھی کسی کوبتانااورکبھی کسی کوبتانااورساتھ ہی کہنا کہ میں بہت صبرکررئی ہوں اوراسکوبیان کرنااوراس سےمتعلق باتیں کرنااورمصیبت کوچھپاناصبرکانچوڑہےاورجزع فزع کرناصبرکےمنافی ہےاورجزع فزع مصیبت کے وقت بے چینی کااظہارکرناہےاورجب نعمت واردہوتواسکےاظہارکوروک لینا۔کسی کوبھی نہ بتانا۔اسکاذکرہی نہ کرنا۔جیساکہ اللہ سبحان وتعالی نے فرمایا کہ
ان الانسان خلق ھلوعااذامسہ الشرجزوعا۔واذامسہ خیرمنوعا۔
بےشک انسان تھڑدلاپیداکیاگیاہے۔جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہےتوبہت جزع فزع کرنےلگتاہےاورجب اسےبھلائی پہنچتی ہےتوبہت روکنےوالابن جاتاہے۔
اس سےپتاچلتاہےکہ زندگی ایک امتحان ہے۔
خلق الموت والحیوہ لیبلوکم ۔موت اورزندگی اسی لیےبنائےگئےکہ تمھیں امتحان میں ڈالا جائے۔
تاکہ دیکھا جائے کہ ایکم احسن عملا کہ کسکےعمل اچھےاورخوبصورت ہیں؟دل،زبان،انکھوں،ہاتھوں وکانوں وغیرہ کےجوبھی اچھےاچھےعمل ہم کرتےہیں۔ان اعمال کواچھےسےکرنایہ انسان کو کامیاب بناتاہے۔صبرچونکہ دل کاعمل ہے۔اسمیں انسان کاارادہ ہوتاتوانسان کوصبربھی اچھےطریقےسےکرناچاہیے۔صبرمیں بھی خوبصورتی ہونی چاہیے۔اب صبرکوکونسی چیزعیب داروبدخوبصورت کرتی ہے؟وہ تکلیف کاباربارذکرکرنا۔صبرپرشکوہ وشکایت شروع کردینا۔جزع وفزع کرنا۔یہ صبرکےمنافی ہے؟
*صبرکےرنگ*
صبرکےکئی رنگ ہیں۔
1- شرعی تکالیف جیسے نمازوروزہ وغیرہ اورذمہ داریوں کےاداکرنےپرصبرکرنا۔ہیں۔
2- اللہ کےاحکامات کواداکرنےمیں صبرکرناجیسےحجاب اوراسطرح کی چیزیں پرصبرکرناکہ جن پرصبرکرنامشکل لگتاہے۔
3- عبادات،دعوت الی اللہ اورجھادپرصبرکرنا۔
4- نعمتوں اور تکالیف پرصبرکرنا۔تکالیف پرصبرکیاجاتاہےیہ توسمجھ اتاہےاب نعمت پرصبرکیسےہوتاہے؟اپےسےباہرنہ۔ہونا،اسراف نہ کرنا،نعمتوں کوغلط استعمال نہ کرنا،،show offنہ کرنا،دوسرےکوبتاناکہ میرےپاس یہ ہےاورتمھارےپاس کچھ بھی نہیں۔یہ بھی ٹھیک نہیں۔
5- لوگوں کی حماقتوں پہ صبرکرنا۔یہ بہت مشکل ہے۔یہ واقعی صبرمانگتاہے۔جب آپ کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں اوروہ کچھ اورسمجھتےہیں۔جیسےکسی کی شادی کےموقع پرکوئی موت سےکسی کی کاذکرکردے۔
6- فتنوں آزمائشوں اور مصیبتوں پرصبرکرنااورمومن ان تمام حالات میں اپنےرب کوراضی کرنےکےلیےصبرکرتےہیں۔اس بات سے تنگ ہوتے ہوئے نہیں کہ لوگ کہیں گے کہ یہ بےصبری کا مظاہرہ کررئےییں۔کسی کودکھانےکےلیےنہیں صبرکرتاکہ لوگ کیاکہیں گےکہ کسی نےصبرہی نہیں کیا۔کسی کودکھانےکےلیےنہیں کرنالی یہ بےصبری کررہاہےاورنہ ہی لوگوں کےسامنےاچھابننےکےلیےصبرکرتاہےکہ لوگ کہیں کہ یہ کتناصابرہےاورنہ صبرکےنتیجےمیں کسی انرجی امیدکرتےہوئےصبرکرتاہےکہ میں صبرکروں تومجھےاجرملےاورنہ ہی اس نقصان کودورکرنےکےلیےجوںےصبری کی وجہ سےپیداہوتاہےکہ اگرصبرنہ کیاتونقصان ہوجائےگااوراللہ نےاپنےاس قول سےان لوگوں کےساتھ وعدہ کیاہےکہ
انمایوفی الصابرون اجرھم غیرحساب۔
بےشک صںرکرنےوالوں کوانکااجربےحساب دیاجائےگا۔
اگرصبراجر،نقضان سےبچنےکےلیے،دکھاوےکےلیے،کسی کی نظر میں اچھابننےکی نیت سےبھی نہیں کرنےکاحکم ہےتوپھرکس نیت سےصبرکیاجائےگا؟۔ ابتغاءوجھ ربکم اپنےرب کی رضا کے حصول کےلیےصںرکیاجائےتونیکی کا کوئی کام کرتےہوئے۔ہم کتنی دفعہ یہ سمجھتےہیں کہ ہم یہ کام اپنےرب کی رضا کے حصول کےلیےکررئےہیں؟اسکاخودکوباربارreminderدیناپڑتاہےکہ ہم یہ کام کیوں کررئےہیں؟توجب نیت رب کی رضا کاحصول ہوتاہےتوسارےمسئلےختم ہوجاتےہیں اورانسان وہ کام کرنےکےلیےتازہ دم ہوجاتاہے۔
صبرکی ہمیشہ مدد ونصرت کی گئی ہے۔اگرایساادمی حق پرہوگاتواسکی مدد کی جائے گی اور دنیااوراخرت میں اسکاانجام اچھاہوگا۔اگروہ غلط ہوگاتواسکاانجام اچھانہیں ہوگا۔
*صبرکی اقسام*
صبرکی تین اقسام
اللہ کی اطاعت میں صبر
اللہ کی نافرمانی سےرک جانےپرصبرکرنا
اللہ کی تکلیف دہ تقدیروں پرصبرکرناہیں۔
پہلی دوقسموں کاصبروہ ہےتوانسان کےاپنےاعمال کےساتھ تعلق رکھتاہےیعنی اطاعت کرناہےاورگناہ سےبچناہے۔اسکاتعلق عمل سےہےاورتیسری قسم اس چیزپرصبرہےجسمیں انسان کا کوئی عمل ہی نہیں۔پس یوسف علیہ السلام کاعزیزکی عورت کی اطاعت سےصبرکرناجووہ یوسف سےچاہتی تھی یہ وہ صبرہےجواس صبرسےزیادہ کامل تھاجوانہوں نےاپنےبھائیوں کے کنوئیں میں ڈالنےپرکیاتھااورانکوبیچ دیاگیااورانکےاورانکےباپ کےدرمیان جدائی ڈال دی یہ اس سےبھی بڑاصبرتھاکہ انہوں نےاس عورت کےمطالبےپراسکی بات نہیں مانی۔کیونکہ یہ وہ سارے معاملات تھےجویوسف علیہ السلام کےاوپرہوئےتھے انکاان ہرکوئیchoiceہی نہیں تھی۔بھائیوں نےکنوئیں میں ڈالا،کنوئیں سےنکالنےوالوں نےبیچ دیااسمیں انکااپناکوئی اختیاروع
ل دخل نہیں تھااوراسمیں بندےکےلیےسوائےصبرکےاورکوئی حیلہ ہی نہیں ہوتا۔جہاں تک نافرمانی سےانکےرکنےکاصبرتھاتویہ صبراختیاری اوررضامندی سےتھااورنفس اور نفس کی خواہشات کےساتھ جنگ کرنےکےلیےتھا۔خصوصاان اسباب کےہوتےہوئےجنکےساتھ رضامندی کے اسباب طاقتورہوتےہیں۔یعنی ایسی چیزیں جو دل کواس طرف مائل کردہتیں ہیں۔
یوسف علیہ السلام نوجوان،اجنبی اورکنوارےتھےاورعورت خوبصورت اور منصب والی تھی اوراپکی مالکن تھی اور گھرکی نگرانی کرنےوااغائب تھا۔وہ گھرپرہی نہیں تھااوروہ عورت خودانکواپنےنفس کی دعوت دینےوالی تھی اوران اسباب کےہوتےہوئےیہ صبراپنی مرضی اور اختیارکی صورت میں تھااوراس ثواب کی ترجیع دینے کی صورت میں تھاجواللہ کےپاس ہے۔
ولقدھمت بہ وھمت بھالولاان رابرھان ربہ کذالک لنصرف عنہ السوءوالفحشاءانہ من عبادنالمخلصین۔
اجربھی انہی کاموں پرہوتاہےجن میں انسان اپنی مرضی،ارادہ،اختیار،جوش،جذبہ وغیرہ رکھتےہیں۔کسی کاپریشرانسان پہ نہیں ہوتا۔کوئی انسان کوکہتاوسکھاتانہیں اورکچھ بھی نہیں ہوتابلکہ انسان کےسامنےصرف اللہ کی رضا ہوتی ہےاورجب کوئی بھی کچھ نہیں دیکھ رہاہوتاتواسوقت آپ اللہ کی رضا کی خاطراپنےنفس کوروک لیتےہیں۔
حرام کاموں کوکرنےسےبچنےاطاعت پرصبرکرنازیادہ کامل اور افضل ہےتویقینانافرمانی کوچھوڑنےسےزیادہ نیک اعمال کاکرنااللہ کو زیادہ محبوب ہےاورنافرمانی کےپائےجانےسےزیادہ نیکی نہ کرنااللہ کی زیادہ ناراضگی کاباعث سےزیادہ ناپسندیدہ ہے۔جیسےاپ بچےسےکوئی کام کرنےکوکہتےہیں تووہ کہتاہےمیں کرتا ہوں اور نہیں کرتاتوایسےشخص پر ہمیں کتناغصہ اتاہےبلکل ایسے ہی اللہ کے ہم پر بہت سےاحسانات ہیں اورجب ہم کوئی نیک کام نہیں کرتےتواللہ کوکتںابرالگتاہوگا؟صبرکاایمان سےوہی تعلق ہےجوسرکاجسم سےہوتاہے۔صبرہماری زندگی میں ایسے ہی ہےجیسےہمارےوجودمیں سرہے۔
*صبرکی اقسام*
صبرکی تین اقسام
اللہ کی توفیق کےساتھ صںرکرنا۔
اللہ کی رضا کےلیےصبرکرنا
اللہ کےساتھ صبرہیں۔
1- اللہ کی توفیق کےساتھ صبرکرنا
اللہ سےمددطلب کرنااوراس چیزکوملحوظ رکھنا کہ اللہ ہی صبردینےوالاہےاوریہ کہ بندےکاصبرکرنااپنےرب کی توفیق سےہےنہ کہ اپنےاوپربھروسہ کرنےسےہےجیساکہ اللہ سبحان وتعالی نے فرمایا کہ
واصبروماصبرک الاباللہ
اورصبرکیجئےاوراپکاصبراللہ ہی کی توفیق سےہے۔
اگرپیغمبرکاصبراللہ کی توفیق سےہےتوہماراصبراللہ کی توفیق کےبغیرکیسےہوسکتاہے۔
2۔- اللہ کی رضا کےلیےصبرکرنا
وہ یہ ہےکہ اسکوصبرپرامادہ کرنےوالی چیزاللہ کی محبت،اسکےچہرےکاارادہ اوراسکاقرب حاصل کرناہو۔اپنےنفس کی قوت کا اظہاریالوگوں کی تعریف طلب کرنا نہیں اوراسطرح کی اورچیزیں صبرایک عمل ہےاوراس عمل کےلیےضروری ہےکہ خالص اللہ کےلیےہو۔
اللہ کےلیےصبرکیسےہوگا؟صبےپرامادہ کرنےوالی چیزاللہ کی محبت اوراسکےچہرےکی طلب ہوکہ قیامت والے دن اسکادیدارکریں نہ کہ اپنی بہادری کی تعریف کروانا۔
3- اللہ کےساتھ صبرہیں۔
یہ بندےکااللہ کی دینی مراداوراسکےدینی احکام کےساتھ اپنےنفس کوان احکامات کاپابندکرتےہوئےچلناہےاورانکےچلنےپرچلتےہوئےاورانکےرکنےپررکتےہوئے۔جہاں بھی انکارخ ہو۔انکےساتھ جائےاورجہاں وہ پڑاوکریں۔انکےساتھ پڑاوکرے۔اسنےاپنےنفس جواپنےرب کی محبوب چیزوں اور احکامات پر وقف کردیاہے۔اپنےاپکواللہ کےحوالےکردیاہے۔جدھروہ چاہتاہے۔ادھرہی مڑجاتاہےجواللہ چاہتا ہےوہ کرتاہےاورجس چیزسےوہ روکتاہے۔اس سےرک جاتاہے۔یہی اللہ کےساتھ صبرکرنا۔
یہ صبرکی سب سےزیادہ شدید اورسب سے مشکل قسم ہےاوریہ صدیقین کاصبرہےاورنفس کااللہ کی طرف صبرکرنابہت ہی مشکل صبرہے۔اللہ کےساتھ صبرکرنااس سےبھی زیادہ سخت ہےاوریہ اللہ کےساتھ ثابتقدمی کا مظاہرہ کرناہےاوراللہ کی دی ہوئی آزمائشوں کو فراخ دلی اور وسعت کےساتھ قبول کرنااورکتاب وسنت کےاحکام۔پرثابتقدمی کا مظاہرہ کرنا یہاں تک وہ اپنےرب سےجاملے۔تمام کاموں پرصبربندوں کےلیے سب سےزیادہ مددگارہے۔جسنےزندگی میں کچھ کرناہےنااسکےلیےصبرکیےبغیرکوئی چارہ ہی نہیں۔جیساکہ اللہ سبحان وتعالی نے فرمایا کہ
یایھاالذین امنوااستعینوابالصبروالصلوہ ان للہ مع الصابرین۔
اےلوگوجوایمان لائے اللہ سےصبراورنمازکےساتھ مددمانگوبےشک اللہ صںرکرنےوالوں کےساتھ ہے۔
*صبر میں مددگار چیزیں:*
صبر میں مددگار سب سےاہم چیزیں یہ ہیں۔
1- بندےکااس حقیقت کوجان لیناکہ اطاعت میں ایمان زیادہ ہوتاہے۔دلوں کی اصلاح ہوتی ہے۔
2- بندےکااس حقیقت کوجان ناکہ حرام کاموں اور نافرمانیوں میں انسان کو نقصان کاسامناکرناپڑتاہے۔زندگی میں خیرنہیں رہتی۔اچھی مجالس میں دل نہیں لگتا۔
3- بندےکااس حقیقت کوجان ناکہ اللہ کی تقدیروں میں برکت،حقیقت اوررحمت ہوتی ہے۔جوان تقدیروں کےساتھ صبرکےساتھ قائم ہوتےہیں انکوان تقدیروں پرجواجرملتاہےجیساکہ اللہ سبحان وتعالی نے فرمایا کہ
انمایوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب۔
بےشک صںرکرنےوالوں کوانکااجربےحساب دیاجائےگا۔
4- بندےکایہ معلوم کرنا کہ جب وہ تقوی وصںرکریگاتو اللہ کی محبت اسکےساتھ ہےجیساکہ اللہ سبحان وتعالی نے فرمایا کہ
والصبرواان اللہ مع الصابرین۔
اورصبرکروبےشک اللہ صںرکرنےوالوں کےساتھ ہے۔
جسکےساٹھ اللہ ہوتوہرچیزاسکےساتھ ہوتی ہے۔کتنی بڑی بات ہےتوایک مسلمان صبرکےساتھ اپنےنفس کےساتھ جھادکیوں نہیں کریگاجبکہ یہ صبراسکےاجر،برکات اورفائدےمیں ہے۔صبرہی کی وجہ سےبندےکےلیےاطاعت کرنا،اللہ کےحقوق اداکرنااوربندوں کےحقوق اداکرنااسان ہوجاتاہے۔ان حرام کاموں کوچھوڑنااسان ہوجاتاہےجس سےاسکانفس اسکوروکتاہےاوراسطرح انسان پرتمام خواہشات سے صبرکرنااسان ہوجاتاہےاورتمام سختیوں اور تکلیفوں سےصبرکرناجوتقدیرمیں ہوں یا احکامات میں ہوں۔وہ آسان ہوجاتاہے۔
*صبرکےدرجات*
صبرکےتین درجات ہیں۔
1- عذاب کے پیش نظرایمان کوقائم کرتےہوئےاورحرام سےبچتےہوئے نافرمانی سےصبرکرنااورسب سے بہترین صبروہ ہےجوحیاکرتےہوئےنافرمانی سےصبرکیاجائےکہ اللہ تعالیٰ میرے بارےمیں کیاسوچےگاکہ میں اس سےڈرتی نہیں۔میں اسکی بات نہیں مانتی۔انسانعں سے جب ہم حیاکرتےہیں ناتومشکل مشکل کام بھی کرجاتےہیں۔پس ایمان کا قائم رہنا نافرمانی کوچھوڑنےپرابھارتاہےکیونکہ ضروری بات ہےکہ نافرمانی ایمان کوکم کریگی۔وہ اسکی رونق اور جمال کوختم کردیگی۔انسان کے چہرے کانورلےجائےگی یااسکانوربجھادےگی۔یااسکی قوت کوکم کردیگی۔جہاں تک حرام سےبچناہےتویہ اس بات سےڈرتےہوئےکہ کہیں وہ حرام یاشکوک وشبھات والی چیزوں کی طرف لےجائےوہ بہت سی مباح چیزوں سےصبرکرناکیونکہ بعض لوگ کچھ جائز چیزوں سےبھی بچ کردیتےہیں کہ کہیں حرام میں ہی نہ جاناپڑجائے۔
اللہ کی معرفت کی قوت اوراللہ کےاسماءوصفات کامشاہدہ انسان کوحیاپرابھارتاہے۔جتنابھی آپ اللہ کے ناموں پرغورکرینگےتواتناہی اپکےاندرحیاائےگی۔اس سےبھی بہتریہ ہےکہ اس نیکی کا محرک محبت کاجذبہ ہو۔
ویطعمون طعام علی حبیب
وہ اسکی محبت میں کھاناکھلاتےہیں۔
پس وہ اللہ کی محبت میں گناہ چھوڑدےاورحیاکرنےوالاڈرنےوالےسےبہترحالت میں ہوتاہےکیونکہ اللہ سےحیاکرنےمیں ایسی چیزہےجواللہ کی نگرانی پر دلالت کرتی ہے۔انسان یہ محسوس کرتاہےکہ اللہ دیکھ رہاہے۔اسکادل اللہ کےساتھ حاضرہے۔وہ اللہ کےبارےمیں سوچتا ہےوہ اللہ کویادکرتاہے۔اسلئےبھی کہ اللہ کی تعظیم ہےاوراللہ سبحان وتعالی کی بزرگی کاپہلوہےجوصرف خوف کے محرک میں نہیں ہوتایعنی اگرآپ کوئی کام اللہ سےڈرکررئےہیں تواسکااتنامزانہیں ائےگاجوکام محبت میں کیاجاتاہے۔محبت میں کیےجانےوالےکام کوچھوڑنےکادل ہی نہیں کرتا۔جسکواسکاخوف روکےتواسکادل سزاکےخیال کےساتھ حاضرہےاورحیاروکےتواسکادل اللہ کےساتھ حاضرہے۔اسکااللہ کےساتھ مضبوط تعلق ہےاوراللہ سےڈرکرنافرمانی چھوڑنےوالااپنےنفس کی رعایت اور حفاظت کےپہلوکوسامنےرکھتاہےاورحیاکرنےوالااپنےرب کےپہلوکوپیش نظررکھتاہےیعنی ڈرنےوالااپنی جان کےپہلوکوپیش نظررکھتاہےکہ مجھے عذاب نہ ہو جبکہ حیاکرنےوالااپنےرب کویادرکھتاہےکہ وہ میں نےاسکےسامنےیہ غلط کام کیوں کیا؟اوراللہ کی عظمت کا مشاہدہ کرتاہےاوریہ دونوں مقام اھل ایمان کے مقامات میں سےہیں۔چاہیےخوف سے کوئی کام کیاجائےیامحبت میں کیاجائے ان دونوں کاتعلق ہی ایمان سے ہےلیکن محبت والا افضل ہے۔
*واخردعوناعن الحمدللہ رب العالمین:*