Quran for All

Quran for All Tadabar ul Quran Wal Amal ,Fiqh ul Quloob and so on Material

18/02/2026

*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*
*فقہ الصبر (صفحہ نمبر859)*
جوچیزصبرمیں عیب لگاتی ہے/صبرکوخوبصورت نہیں رہنے دیتی وہ مصیبت کااظہارکرناہے۔کبھی کسی کوبتانااورکبھی کسی کوبتانااورساتھ ہی کہنا کہ میں بہت صبرکررئی ہوں اوراسکوبیان کرنااوراس سےمتعلق باتیں کرنااورمصیبت کوچھپاناصبرکانچوڑہےاورجزع فزع کرناصبرکےمنافی ہےاورجزع فزع مصیبت کے وقت بے چینی کااظہارکرناہےاورجب نعمت واردہوتواسکےاظہارکوروک لینا۔کسی کوبھی نہ بتانا۔اسکاذکرہی نہ کرنا۔جیساکہ اللہ سبحان وتعالی نے فرمایا کہ
ان الانسان خلق ھلوعااذامسہ الشرجزوعا۔واذامسہ خیرمنوعا۔
بےشک انسان تھڑدلاپیداکیاگیاہے۔جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہےتوبہت جزع فزع کرنےلگتاہےاورجب اسےبھلائی پہنچتی ہےتوبہت روکنےوالابن جاتاہے۔
اس سےپتاچلتاہےکہ زندگی ایک امتحان ہے۔
خلق الموت والحیوہ لیبلوکم ۔موت اورزندگی اسی لیےبنائےگئےکہ تمھیں امتحان میں ڈالا جائے۔
تاکہ دیکھا جائے کہ ایکم احسن عملا کہ کسکےعمل اچھےاورخوبصورت ہیں؟دل،زبان،انکھوں،ہاتھوں وکانوں وغیرہ کےجوبھی اچھےاچھےعمل ہم کرتےہیں۔ان اعمال کواچھےسےکرنایہ انسان کو کامیاب بناتاہے۔صبرچونکہ دل کاعمل ہے۔اسمیں انسان کاارادہ ہوتاتوانسان کوصبربھی اچھےطریقےسےکرناچاہیے۔صبرمیں بھی خوبصورتی ہونی چاہیے۔اب صبرکوکونسی چیزعیب داروبدخوبصورت کرتی ہے؟وہ تکلیف کاباربارذکرکرنا۔صبرپرشکوہ وشکایت شروع کردینا۔جزع وفزع کرنا۔یہ صبرکےمنافی ہے؟
*صبرکےرنگ*
صبرکےکئی رنگ ہیں۔
1- شرعی تکالیف جیسے نمازوروزہ وغیرہ اورذمہ داریوں کےاداکرنےپرصبرکرنا۔ہیں۔
2- اللہ کےاحکامات کواداکرنےمیں صبرکرناجیسےحجاب اوراسطرح کی چیزیں پرصبرکرناکہ جن پرصبرکرنامشکل لگتاہے۔
3- عبادات،دعوت الی اللہ اورجھادپرصبرکرنا۔
4- نعمتوں اور تکالیف پرصبرکرنا۔تکالیف پرصبرکیاجاتاہےیہ توسمجھ اتاہےاب نعمت پرصبرکیسےہوتاہے؟اپےسےباہرنہ۔ہونا،اسراف نہ کرنا،نعمتوں کوغلط استعمال نہ کرنا،،show offنہ کرنا،دوسرےکوبتاناکہ میرےپاس یہ ہےاورتمھارےپاس کچھ بھی نہیں۔یہ بھی ٹھیک نہیں۔

5- لوگوں کی حماقتوں پہ صبرکرنا۔یہ بہت مشکل ہے۔یہ واقعی صبرمانگتاہے۔جب آپ کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں اوروہ کچھ اورسمجھتےہیں۔جیسےکسی کی شادی کےموقع پرکوئی موت سےکسی کی کاذکرکردے۔
6- فتنوں آزمائشوں اور مصیبتوں پرصبرکرنااورمومن ان تمام حالات میں اپنےرب کوراضی کرنےکےلیےصبرکرتےہیں۔اس بات سے تنگ ہوتے ہوئے نہیں کہ لوگ کہیں گے کہ یہ بےصبری کا مظاہرہ کررئےییں۔کسی کودکھانےکےلیےنہیں صبرکرتاکہ لوگ کیاکہیں گےکہ کسی نےصبرہی نہیں کیا۔کسی کودکھانےکےلیےنہیں کرنالی یہ بےصبری کررہاہےاورنہ ہی لوگوں کےسامنےاچھابننےکےلیےصبرکرتاہےکہ لوگ کہیں کہ یہ کتناصابرہےاورنہ صبرکےنتیجےمیں کسی انرجی امیدکرتےہوئےصبرکرتاہےکہ میں صبرکروں تومجھےاجرملےاورنہ ہی اس نقصان کودورکرنےکےلیےجوںےصبری کی وجہ سےپیداہوتاہےکہ اگرصبرنہ کیاتونقصان ہوجائےگااوراللہ نےاپنےاس قول سےان لوگوں کےساتھ وعدہ کیاہےکہ
انمایوفی الصابرون اجرھم غیرحساب۔
بےشک صںرکرنےوالوں کوانکااجربےحساب دیاجائےگا۔
اگرصبراجر،نقضان سےبچنےکےلیے،دکھاوےکےلیے،کسی کی نظر میں اچھابننےکی نیت سےبھی نہیں کرنےکاحکم ہےتوپھرکس نیت سےصبرکیاجائےگا؟۔ ابتغاءوجھ ربکم اپنےرب کی رضا کے حصول کےلیےصںرکیاجائےتونیکی کا کوئی کام کرتےہوئے۔ہم کتنی دفعہ یہ سمجھتےہیں کہ ہم یہ کام اپنےرب کی رضا کے حصول کےلیےکررئےہیں؟اسکاخودکوباربارreminderدیناپڑتاہےکہ ہم یہ کام کیوں کررئےہیں؟توجب نیت رب کی رضا کاحصول ہوتاہےتوسارےمسئلےختم ہوجاتےہیں اورانسان وہ کام کرنےکےلیےتازہ دم ہوجاتاہے۔
صبرکی ہمیشہ مدد ونصرت کی گئی ہے۔اگرایساادمی حق پرہوگاتواسکی مدد کی جائے گی اور دنیااوراخرت میں اسکاانجام اچھاہوگا۔اگروہ غلط ہوگاتواسکاانجام اچھانہیں ہوگا۔
*صبرکی اقسام*
صبرکی تین اقسام
اللہ کی اطاعت میں صبر
اللہ کی نافرمانی سےرک جانےپرصبرکرنا
اللہ کی تکلیف دہ تقدیروں پرصبرکرناہیں۔
پہلی دوقسموں کاصبروہ ہےتوانسان کےاپنےاعمال کےساتھ تعلق رکھتاہےیعنی اطاعت کرناہےاورگناہ سےبچناہے۔اسکاتعلق عمل سےہےاورتیسری قسم اس چیزپرصبرہےجسمیں انسان کا کوئی عمل ہی نہیں۔پس یوسف علیہ السلام کاعزیزکی عورت کی اطاعت سےصبرکرناجووہ یوسف سےچاہتی تھی یہ وہ صبرہےجواس صبرسےزیادہ کامل تھاجوانہوں نےاپنےبھائیوں کے کنوئیں میں ڈالنےپرکیاتھااورانکوبیچ دیاگیااورانکےاورانکےباپ کےدرمیان جدائی ڈال دی یہ اس سےبھی بڑاصبرتھاکہ انہوں نےاس عورت کےمطالبےپراسکی بات نہیں مانی۔کیونکہ یہ وہ سارے معاملات تھےجویوسف علیہ السلام کےاوپرہوئےتھے انکاان ہرکوئیchoiceہی نہیں تھی۔بھائیوں نےکنوئیں میں ڈالا،کنوئیں سےنکالنےوالوں نےبیچ دیااسمیں انکااپناکوئی اختیاروع
ل دخل نہیں تھااوراسمیں بندےکےلیےسوائےصبرکےاورکوئی حیلہ ہی نہیں ہوتا۔جہاں تک نافرمانی سےانکےرکنےکاصبرتھاتویہ صبراختیاری اوررضامندی سےتھااورنفس اور نفس کی خواہشات کےساتھ جنگ کرنےکےلیےتھا۔خصوصاان اسباب کےہوتےہوئےجنکےساتھ رضامندی کے اسباب طاقتورہوتےہیں۔یعنی ایسی چیزیں جو دل کواس طرف مائل کردہتیں ہیں۔
یوسف علیہ السلام نوجوان،اجنبی اورکنوارےتھےاورعورت خوبصورت اور منصب والی تھی اوراپکی مالکن تھی اور گھرکی نگرانی کرنےوااغائب تھا۔وہ گھرپرہی نہیں تھااوروہ عورت خودانکواپنےنفس کی دعوت دینےوالی تھی اوران اسباب کےہوتےہوئےیہ صبراپنی مرضی اور اختیارکی صورت میں تھااوراس ثواب کی ترجیع دینے کی صورت میں تھاجواللہ کےپاس ہے۔
ولقدھمت بہ وھمت بھالولاان رابرھان ربہ کذالک لنصرف عنہ السوءوالفحشاءانہ من عبادنالمخلصین۔
اجربھی انہی کاموں پرہوتاہےجن میں انسان اپنی مرضی،ارادہ،اختیار،جوش،جذبہ وغیرہ رکھتےہیں۔کسی کاپریشرانسان پہ نہیں ہوتا۔کوئی انسان کوکہتاوسکھاتانہیں اورکچھ بھی نہیں ہوتابلکہ انسان کےسامنےصرف اللہ کی رضا ہوتی ہےاورجب کوئی بھی کچھ نہیں دیکھ رہاہوتاتواسوقت آپ اللہ کی رضا کی خاطراپنےنفس کوروک لیتےہیں۔
حرام کاموں کوکرنےسےبچنےاطاعت پرصبرکرنازیادہ کامل اور افضل ہےتویقینانافرمانی کوچھوڑنےسےزیادہ نیک اعمال کاکرنااللہ کو زیادہ محبوب ہےاورنافرمانی کےپائےجانےسےزیادہ نیکی نہ کرنااللہ کی زیادہ ناراضگی کاباعث سےزیادہ ناپسندیدہ ہے۔جیسےاپ بچےسےکوئی کام کرنےکوکہتےہیں تووہ کہتاہےمیں کرتا ہوں اور نہیں کرتاتوایسےشخص پر ہمیں کتناغصہ اتاہےبلکل ایسے ہی اللہ کے ہم پر بہت سےاحسانات ہیں اورجب ہم کوئی نیک کام نہیں کرتےتواللہ کوکتںابرالگتاہوگا؟صبرکاایمان سےوہی تعلق ہےجوسرکاجسم سےہوتاہے۔صبرہماری زندگی میں ایسے ہی ہےجیسےہمارےوجودمیں سرہے۔

*صبرکی اقسام*
صبرکی تین اقسام
اللہ کی توفیق کےساتھ صںرکرنا۔
اللہ کی رضا کےلیےصبرکرنا
اللہ کےساتھ صبرہیں۔
1- اللہ کی توفیق کےساتھ صبرکرنا
اللہ سےمددطلب کرنااوراس چیزکوملحوظ رکھنا کہ اللہ ہی صبردینےوالاہےاوریہ کہ بندےکاصبرکرنااپنےرب کی توفیق سےہےنہ کہ اپنےاوپربھروسہ کرنےسےہےجیساکہ اللہ سبحان وتعالی نے فرمایا کہ
واصبروماصبرک الاباللہ
اورصبرکیجئےاوراپکاصبراللہ ہی کی توفیق سےہے۔
اگرپیغمبرکاصبراللہ کی توفیق سےہےتوہماراصبراللہ کی توفیق کےبغیرکیسےہوسکتاہے۔
2۔- اللہ کی رضا کےلیےصبرکرنا
وہ یہ ہےکہ اسکوصبرپرامادہ کرنےوالی چیزاللہ کی محبت،اسکےچہرےکاارادہ اوراسکاقرب حاصل کرناہو۔اپنےنفس کی قوت کا اظہاریالوگوں کی تعریف طلب کرنا نہیں اوراسطرح کی اورچیزیں صبرایک عمل ہےاوراس عمل کےلیےضروری ہےکہ خالص اللہ کےلیےہو۔
اللہ کےلیےصبرکیسےہوگا؟صبےپرامادہ کرنےوالی چیزاللہ کی محبت اوراسکےچہرےکی طلب ہوکہ قیامت والے دن اسکادیدارکریں نہ کہ اپنی بہادری کی تعریف کروانا۔

3- اللہ کےساتھ صبرہیں۔
یہ بندےکااللہ کی دینی مراداوراسکےدینی احکام کےساتھ اپنےنفس کوان احکامات کاپابندکرتےہوئےچلناہےاورانکےچلنےپرچلتےہوئےاورانکےرکنےپررکتےہوئے۔جہاں بھی انکارخ ہو۔انکےساتھ جائےاورجہاں وہ پڑاوکریں۔انکےساتھ پڑاوکرے۔اسنےاپنےنفس جواپنےرب کی محبوب چیزوں اور احکامات پر وقف کردیاہے۔اپنےاپکواللہ کےحوالےکردیاہے۔جدھروہ چاہتاہے۔ادھرہی مڑجاتاہےجواللہ چاہتا ہےوہ کرتاہےاورجس چیزسےوہ روکتاہے۔اس سےرک جاتاہے۔یہی اللہ کےساتھ صبرکرنا۔
یہ صبرکی سب سےزیادہ شدید اورسب سے مشکل قسم ہےاوریہ صدیقین کاصبرہےاورنفس کااللہ کی طرف صبرکرنابہت ہی مشکل صبرہے۔اللہ کےساتھ صبرکرنااس سےبھی زیادہ سخت ہےاوریہ اللہ کےساتھ ثابتقدمی کا مظاہرہ کرناہےاوراللہ کی دی ہوئی آزمائشوں کو فراخ دلی اور وسعت کےساتھ قبول کرنااورکتاب وسنت کےاحکام۔پرثابتقدمی کا مظاہرہ کرنا یہاں تک وہ اپنےرب سےجاملے۔تمام کاموں پرصبربندوں کےلیے سب سےزیادہ مددگارہے۔جسنےزندگی میں کچھ کرناہےنااسکےلیےصبرکیےبغیرکوئی چارہ ہی نہیں۔جیساکہ اللہ سبحان وتعالی نے فرمایا کہ
یایھاالذین امنوااستعینوابالصبروالصلوہ ان للہ مع الصابرین۔
اےلوگوجوایمان لائے اللہ سےصبراورنمازکےساتھ مددمانگوبےشک اللہ صںرکرنےوالوں کےساتھ ہے۔

*صبر میں مددگار چیزیں:*
صبر میں مددگار سب سےاہم چیزیں یہ ہیں۔
1- بندےکااس حقیقت کوجان لیناکہ اطاعت میں ایمان زیادہ ہوتاہے۔دلوں کی اصلاح ہوتی ہے۔
2- بندےکااس حقیقت کوجان ناکہ حرام کاموں اور نافرمانیوں میں انسان کو نقصان کاسامناکرناپڑتاہے۔زندگی میں خیرنہیں رہتی۔اچھی مجالس میں دل نہیں لگتا۔
3- بندےکااس حقیقت کوجان ناکہ اللہ کی تقدیروں میں برکت،حقیقت اوررحمت ہوتی ہے۔جوان تقدیروں کےساتھ صبرکےساتھ قائم ہوتےہیں انکوان تقدیروں پرجواجرملتاہےجیساکہ اللہ سبحان وتعالی نے فرمایا کہ
انمایوفی الصابرون اجرھم بغیر حساب۔
بےشک صںرکرنےوالوں کوانکااجربےحساب دیاجائےگا۔
4- بندےکایہ معلوم کرنا کہ جب وہ تقوی وصںرکریگاتو اللہ کی محبت اسکےساتھ ہےجیساکہ اللہ سبحان وتعالی نے فرمایا کہ
والصبرواان اللہ مع الصابرین۔
اورصبرکروبےشک اللہ صںرکرنےوالوں کےساتھ ہے۔
جسکےساٹھ اللہ ہوتوہرچیزاسکےساتھ ہوتی ہے۔کتنی بڑی بات ہےتوایک مسلمان صبرکےساتھ اپنےنفس کےساتھ جھادکیوں نہیں کریگاجبکہ یہ صبراسکےاجر،برکات اورفائدےمیں ہے۔صبرہی کی وجہ سےبندےکےلیےاطاعت کرنا،اللہ کےحقوق اداکرنااوربندوں کےحقوق اداکرنااسان ہوجاتاہے۔ان حرام کاموں کوچھوڑنااسان ہوجاتاہےجس سےاسکانفس اسکوروکتاہےاوراسطرح انسان پرتمام خواہشات سے صبرکرنااسان ہوجاتاہےاورتمام سختیوں اور تکلیفوں سےصبرکرناجوتقدیرمیں ہوں یا احکامات میں ہوں۔وہ آسان ہوجاتاہے۔
*صبرکےدرجات*
صبرکےتین درجات ہیں۔
1- عذاب کے پیش نظرایمان کوقائم کرتےہوئےاورحرام سےبچتےہوئے نافرمانی سےصبرکرنااورسب سے بہترین صبروہ ہےجوحیاکرتےہوئےنافرمانی سےصبرکیاجائےکہ اللہ تعالیٰ میرے بارےمیں کیاسوچےگاکہ میں اس سےڈرتی نہیں۔میں اسکی بات نہیں مانتی۔انسانعں سے جب ہم حیاکرتےہیں ناتومشکل مشکل کام بھی کرجاتےہیں۔پس ایمان کا قائم رہنا نافرمانی کوچھوڑنےپرابھارتاہےکیونکہ ضروری بات ہےکہ نافرمانی ایمان کوکم کریگی۔وہ اسکی رونق اور جمال کوختم کردیگی۔انسان کے چہرے کانورلےجائےگی یااسکانوربجھادےگی۔یااسکی قوت کوکم کردیگی۔جہاں تک حرام سےبچناہےتویہ اس بات سےڈرتےہوئےکہ کہیں وہ حرام یاشکوک وشبھات والی چیزوں کی طرف لےجائےوہ بہت سی مباح چیزوں سےصبرکرناکیونکہ بعض لوگ کچھ جائز چیزوں سےبھی بچ کردیتےہیں کہ کہیں حرام میں ہی نہ جاناپڑجائے۔
اللہ کی معرفت کی قوت اوراللہ کےاسماءوصفات کامشاہدہ انسان کوحیاپرابھارتاہے۔جتنابھی آپ اللہ کے ناموں پرغورکرینگےتواتناہی اپکےاندرحیاائےگی۔اس سےبھی بہتریہ ہےکہ اس نیکی کا محرک محبت کاجذبہ ہو۔
ویطعمون طعام علی حبیب
وہ اسکی محبت میں کھاناکھلاتےہیں۔
پس وہ اللہ کی محبت میں گناہ چھوڑدےاورحیاکرنےوالاڈرنےوالےسےبہترحالت میں ہوتاہےکیونکہ اللہ سےحیاکرنےمیں ایسی چیزہےجواللہ کی نگرانی پر دلالت کرتی ہے۔انسان یہ محسوس کرتاہےکہ اللہ دیکھ رہاہے۔اسکادل اللہ کےساتھ حاضرہے۔وہ اللہ کےبارےمیں سوچتا ہےوہ اللہ کویادکرتاہے۔اسلئےبھی کہ اللہ کی تعظیم ہےاوراللہ سبحان وتعالی کی بزرگی کاپہلوہےجوصرف خوف کے محرک میں نہیں ہوتایعنی اگرآپ کوئی کام اللہ سےڈرکررئےہیں تواسکااتنامزانہیں ائےگاجوکام محبت میں کیاجاتاہے۔محبت میں کیےجانےوالےکام کوچھوڑنےکادل ہی نہیں کرتا۔جسکواسکاخوف روکےتواسکادل سزاکےخیال کےساتھ حاضرہےاورحیاروکےتواسکادل اللہ کےساتھ حاضرہے۔اسکااللہ کےساتھ مضبوط تعلق ہےاوراللہ سےڈرکرنافرمانی چھوڑنےوالااپنےنفس کی رعایت اور حفاظت کےپہلوکوسامنےرکھتاہےاورحیاکرنےوالااپنےرب کےپہلوکوپیش نظررکھتاہےیعنی ڈرنےوالااپنی جان کےپہلوکوپیش نظررکھتاہےکہ مجھے عذاب نہ ہو جبکہ حیاکرنےوالااپنےرب کویادرکھتاہےکہ وہ میں نےاسکےسامنےیہ غلط کام کیوں کیا؟اوراللہ کی عظمت کا مشاہدہ کرتاہےاوریہ دونوں مقام اھل ایمان کے مقامات میں سےہیں۔چاہیےخوف سے کوئی کام کیاجائےیامحبت میں کیاجائے ان دونوں کاتعلق ہی ایمان سے ہےلیکن محبت والا افضل ہے۔

*واخردعوناعن الحمدللہ رب العالمین:*

11/02/2026

*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*
*فقہ الصبر(صفحہ نمبر855)*
اللہ تبارک وتعالی حرام اسباب پرسزادیتاہےاوران پرجوچیزوں حرام اسباب سے جنم لیں جیساکہ ان اسباب پراللہ ثواب دیتاہےجنکےکرنےکااللہ نےحکم دیاہےاوراسپربھی ثواب دیتاہےجواس سےجنم لیتےہیں جیساکہ اللہ سبحان وتعالی نے فرمایا کہ
لیحملون اوزارھم کاملہ یوم القیامہ ومن اوزرالذین یضلونھم بغیر علم الاساءمایزرون۔
تاکہ وہ قیامت کےدن اپنےپورےپورےبوجھ اوران لوگوں کے بوجھ بھی اٹھائیں جنھیں انہوں بغیر علم کےبھٹکاتےرئے،اگاہ رہوکتنابرابوجھ ہےجووہ اٹھارئےہیں۔
اس سےپتاچلتاہےکہ اگرانسان کسی کام کوکرنےکےلیےغلط طریقہ استعمال کرتاہےتوپھراس کام کا نتیجہ بھی غلط ہی ہوتاہے۔اگراچھاکام۔اچھےطریقےسےکرتاہےتواسپرثواب بھی زیادہ ملتاہے۔
نبی کریم صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے ھدایت کی دعوت دی اسے اسکی ھدایت کی پیروی کرنےوالوں کےبرابراجرملےگااورانکےاجرمیں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی اورجس شخص نےکسی کوگمراہی کی دعوت دی تواسپراسکی پیروی کرنے والوں کےبرابرگناہ کابوجھ ہوگااورانکےگناہوں میں کوئی کمی نہ کی جائے گی(مسلم).
صبرکی مشقت کی اس حساب سے ہوگی جتناکہ اس فعل کو کرنےکی طرف دعوت دینےوالےکی طاقت ہےاورجتنابندےکےلیےاسان ہے۔جب اس فعل میں یہ دونوں چیزیں شامل ہو جائینگی تواس کام پرصبرکرناصبرکرنےوالےکےلیے انتہائی مشقت والاہوگا۔جتنامشکل کام ہوگااتناصبربھی مشکل ہوگااوردونوں چیزیں ہیں مفقود ہو جائیں تواسکےلیےصبرکرنااسان ہوگااوراگرایک چیزپائی جائے اور دوسری چیزنہ پائی جائے تو ایک لحاظ سےصبراسان ہوگااوردوسرےلحاظ سےصبرمشکل ہوگا۔پھراگرکسی کےلیےقتل،چوری وبدکاری کی طرف دعوت دینے والا سبب نہ ہواورنہ ہی وہ کام اسکےلیےاسان ہوتواس جرم سےصبرکرنا۔سب سےانسان اورسب سےسہل ہےاورجس جرم کی طرف دعوت دینےوالاسبب بہت مضبوط ہواوروہ کام بھی اسکے لیے آسان ہوتواس سےصبرکرنااس آدمی کےلیےانتہائی مشکل ہوتاہے۔جسکاجرم کی طرف دعوت دینےوالاسبب مضبوط ہےاورکام ہےبھی آسان اور کوئی دیکھنے والا بھی نہیں تواس سےصبرکرنابڑاہی مشکل ہےکیونکہ اسباب مہیا ہیں۔جیسےکسی نےچوری کرنااپکوشدیدبھوک لگی ہے۔اب نہ کھاناہےاورنہ پیسے ہیں تو سبب مضبوط ہوگیا ناکہ آپ نےکھاناکھاناہےاوراپکےپاس کچھ ہےہی نہیں اورجوچیزچوری کرناہےوہ سامنے ہی پڑی ہوئی ہےتوصبرکرنااسان ہوگاکہ مشکل۔یہی وجہ ہےکہ بادشاہ کا ظلم سے،نوجوان کابدکاری سےاورمالدارادمی کاخواہشات اورشھوات سےصبرکرنااللہ کے نزدیک بہت ہی اہمیت رکھتاہے۔یہی وجہ ہےکہ وہ ساتھ آدمی اس بات کے مستحق ٹھہرے کہ اللہ انکواپنےعرش کے سائے میں جگہ دے کیونکہ انکاصبرکامل اوربہت ہی مشقت والاتھا۔جیساکہ نبی کریم صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ
سات قسم کے لوگوں کواللہ اپنےسائےتلےجگہ دیگا۔جس روزاسکےسائےکےعلاوہ اور کوئی سایہ نہ ہوگا(وہ کون ہیں)۔
عدل کرنےوالااما۔
وہ نوجوان جواللہ کی عبادت میں پروان چڑھے۔
وہ شخص جسکادل مسجد میں ٹکارہتاہے۔
وہ دوشخص جواللہ کےلیےایک دوسرےسےمحبت کریں،جمع ہوں تواسی کےلیےاورجداہوں تواللہ کےلیے۔
وہ شخص جیسے کوئی خوبرواورحسب نسب والی عورت برائی کی دعوت دے اوروہ کہےکہ میں اللہ سےڈرتاہوں۔
وہ شخص جواتناچھپاکرصدقہ دےہیں یہاں تک کہ اسکےبائیں ہاتھ کوبھی خبرنہ ہوکہ اسکادایاں ہاتھ کیا خرچ کرتاہے۔
وہ شخص جواکیلےمیں اللہ کویادکرےاوراسکی آنکھیں اللہ کی یادمیں رونے لگیں(متفق الیہ).
یہی وجہ ہےکہ بوڑھےبدکار،جھوٹےبادشاہ اورتکبرکرنےوالےفقیرکی سزاؤں سےزیادہ سخت ہوگی کیونکہ ان لوگوں کےلیےان حرام چیزوں سےصبرکرناسب سےانسان تھا کیونکہ انکےاسباب انکےحق میں کمزورتھےحالانکہ صبرکرنااسان تھایہ اس بات کی دلیل ہےکہ وہ اللہ کے آگے سرکشی کررئےتھےاورانکی سرکشی بہت شدیدتھی۔جیساکہ
نبی کریم صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ تین لوگوں سےاللہ تعالیٰ قیامت والےدن بات نہیں کریگااورنہ انکوپاک کریگااںومعاویہ کہتےہیں کہ نہ ہی انکی طرف دیکھےگااورانکےلءےدردناک عذاب ہے۔بوڑھازانی،جھوٹاحکمران،تکبرکرنےوالامحتاج(مسلم)
یہی وجہ ہے کہ زبان اورشرمگاہ کی نافرمانیوں سےصبرکرناصبرکی تمام اقسام سےزیادہ مشکل ہےکیونکہ انکی طرف ابھارنےوالاصبربہت قوی ہے۔یہ کام انسان کے لیےاسان ہے۔زبان چلانا آسان ہےجبکہ زبان کوروک کررکھناسب سےزیادہ مشکل ہےاوردیگرخواہشات سےروک کررکھنابھی سب سےزیادہ مشکل ہے۔زبان کی نافرمانیاں لذیذمیوےہیں۔انکوجھوٹ بول کر،غیبت وجھگڑاکرکےاورکسی کی تعریف کرکےاورکسی کےپیچھےپڑجانےسے،جس سےمحبت کواسکی ںےجاتعریفیں اوراسطرح کی دوسری باتیں کرکےانکوہے مزااتاہے۔پیچھےجذبات بھی ہوتے ہیں اورزبان بھی آسانی سے حرکت کرتی ہے۔بولنےکی خواہش بھی ہےاورزبان کوچلانابھی آسان ہےتوصبرکمزورومشکل ہوجاتاہے۔اسی لیے تم ایک شخص کوپاونگےجورات کو قیام کرتاہےاوردل کوروزہ رکھتاہےاوراسکےباوجودکوغیبت اورچغل خوری کےلیےبےلگام چھوڑدیتاہےاورلوگوں کی عزتوں کوچاک کرنےمیں اسےبڑا مزااتاہےاورہم بہت سےایسےلوگ بھی دیکھتے ہیں جو حرام کی باریکیوں سےبڑاپرہیزکرتےہیں اوروہ حرام شرم گاہ کےارتکاب کی پرواہ نہیں کرتے کیونکہ ان گناہوں کی طرف لےکرجانےوالےاسباب بڑےقوی ہیں اوریہ گناہ کرنااسکےلیےاسان ہےیعنی کچھ حلال وحرام کی بہت باتیں کرتےہیں لیکن انکےلیےحرام چونکہ available ہے اسلئے وہ زناانکےلیےکچھ مشکل ہی نہیں ہے۔جیسےکچھ معاشرے ایسے ہیں کہ وہاں آپ زناکرنےوالوں جوکچھ نہیں کہہ سکتےاورویسےوہ لوگ صحیح وغلط کی بڑی بڑی باتیں کرتےہیں۔اسی لیے جب
نبی کریم صلی اللہ وسلم سےاس چیزکےبارےمیں سوال کیاگیاجولوگوں کو کثرت سےجھنم میں داخل کریگی تواپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ منہ اورشرمگاہ(ترمذی وابن ماجہ).
۔زیادہ لوگ ان دونوں کے غلط استعمال کی وجہ سے جھنم میں جائینگے۔
اللہ عزوجل نے صبرکاحکم دیاہےاورکامیابی کواسکےساتھ مشروط کردیاہے۔اللہ سبحان وتعالی کافرمان ہےکہ
یایھاالذین امنوااصبرواوصابرواورابطواو
اتقوااللہ لعلکم تفلحون۔
اےلوگوجوایمان لائےصبرکرواورمقابلےمیں مضبوط رہواورڈٹےرہوتاکہ کاتقوی اختیارکروتاکہ تم کامیاب ہوجاو۔
کامیابی کےلیےصںربہت ضروری ہے۔
اللہ نےاس بات کی بھی خبردی کہ دین میں امامت و لیڈرشپ کا منصب صبراوریقین سےحاصل ہوتا ہے۔جیساکہ اللہ تعالیٰ نےفرمایاکہ
وجعلنامنھم اءمہ یھدون بامرنالماصبرواوکانوابایاتنا
یوقنون۔
اورجب انہوں نے صبرسےکام کیاتوہم نے ان میں ایسے امام بنائےجوہمارےحکم سے رہنمائی کرتے تھے اوروہ ہماری آیات پریقین بھی رکھتےتھے۔
اللہ سبحان وتعالی نے یہ بھی واضع فرمایا کہ صبرکرنےوالےکودوسرےشخص پرکئی گنازیادہ اجتدیاجائےےا۔اپنےاس قول کےساتھ
انمایوفی الصابرین اجرھم بغیرحساب۔
بےشک صبرکرنےوالوں کوانکااجربےحساب دیاجائےگا۔
اللہ نےصبرکرنےوالوں کوتین چیزوں کا وعدہ دیاہےاوران میں سےہرایک دنیااورجودنیامیں سازو سامان ہےاس سےبہترہے۔جیساکہ اللہ سبحان وتعالی نے فرمایا کہ
وبشرالصابرین الذین اذااصابتھم مصیبہ قالوااناللہ واناالیہ راجعون۔اولئک علیھم صلوہ من ربھم ورحمہ واولئک ھم المھتدون۔
اور صںرکرنےوالوں کوخوشخبری دےدیجئے۔وہ لوگ جب انھیں کوئی مصیبت پہنچتی ہےتوکہتےہیں کہ بےشک ہم اللہ ہی کےلیےہیں۔اوربےشک ہمیں اللہ کی طرف ہی لوٹ کرجاناہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن پرانکےرب کی طرف سے نوازشیں اوررحمتیں ہےاوریہی لوگ اپنےرب کی طرف سے ھدایت یافتہ ہیں۔
اللہ سبحان وتعالی نےواضع طورپر فرمایا کہ بڑااجراوربخشش صبراورنیک عمل سےحاصل ہوتےہیں۔پس اللہ سبحان وتعالی نے خبردیتےہوئےفرمایاکہ بےشک پرایک خسارےمیں ہے۔
الاالذین صبرواوعملوالصالحات اولئک لھم مغفرہ واجرکریم۔
سوائے ان لوگوں کے جنھوں نےصبرکیااورنیک عمل کیےہہی لوگ ہیں۔جنکےلیےبخشش اوربہت بڑااجرہے۔
اللہ سبحان وتعالی نے صبرکواپنی محبت اوراپنی معیت وساتھ،نصرت ومعاونت اوراچھےبدلے کاسبب قراردیاہے۔یہ شرف اور فضیلت کے لحاظ سے کافی ہے۔اللہ سبحان وتعالی نے فرمایا کہ
وللہ یحب الصابرین۔
اوراللہ سبحان وتعالی صںرکرنےوالوں سےمحبت کرتاہے۔
اوراللہ سبحان وتعالی نے فرمایا کہ
والصبرواان اللہ مع الصابرین۔
اور صبرسےکام لوبےشک اللہ صںرکرنےوالوں کےساتھ ہے۔
نبی کریم صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ
مسلمان کوجوبھی پریشانی،بیماری،رنج وملال،تکلیف اورغم پہنچتاہےیہاں تک اسے کوئی کانٹا بھی چبھتاہےتواللہ اسےاسکےگناہوں کاکفارہ بنادیتا ہے(متفق الیہ)۔
وہ کام جو صبرکےمنافی ہیں وہ لوگوں کےپاس اپنی آزمائش کاشکوہ کرناہے۔جب بندہ اپنےرب کاشکوہ اپنی جیسی مخلوق سےکرتاہےتواسنےاس رحم کرنےوالی ہستی کی شکایت ایسےشخص سےکی جورحم نہیں کرتالیکن اللہ کی بارگاہ میں شکوہ کرنا یہ قابل تعریف بھی ہےاورمشروع بھی ہے یعنی اسکی اجازت ہے۔جیساکہ ایوب علیہ السلام نےفرمایاکہ
وایوب اذنادی ربہ انی مسنی الضروانت ارحم الراحمین۔
اورجب ایوب علیہ السلام نےاپنےرب کوپکاراکہ بےشک مجگےتکلیف پہنچی ہےاورتوسب رحم کرنےوالوں میں سب سےبڑھ کر رحم کرنےوالاہے۔
تکلیف مخلوق کی طرف سے پہنچی جبکہ شکوہ رب سےکررئےہیں۔مخلوق کواپنی صورتحال بتانااگروہ اسکی مدد حاصل کرنےکےلیےہوجس مددپراسےقدرت بھی ہواوروہ اپنی اس تکلیف کو دورکرناچاہتاہےتویہ چیزصبرکوعیب لےجانےوالی نہیں۔جیسےاپ ڈاکٹر کےپاس جاتےہیں۔گھرمیں کوئی دوائی لگادیتاہےتواس سےصبرکم نہیں ہوتا۔جیساکہ مریض کاڈاکٹرکوتکلیف دینےوالی بیماری کابتانااورمظلوم آدمی کا ایسے آدمی کوخبردیناجواسکابدلہ لےسکتاہےاورازمائش میں گرےہوئےادمی کااپنی آزمائش کسی ایسےادمی کوبتاناکہ جس سےاسےتوقع اورامیدہوکہ اللہ تعالیٰ اسکےہاتھوں اسکی مشکل دورفرمادیگا۔
رونادوقسموں کاہوتاہے۔
ایک بیماری کی شکایت کےلیےرونایہ ناپسندیدہ ہےاوردوسراراحت حاصل کرنےکےلیےاوردکھ کودورکرنےکےلیےروناتویہ مکروہ نہیں۔جب آپ تکلیف کی وجہ سے روتے ہیں کہ تواپکاکتھارسس ہوجاتاہےلیکن آپ کسی انسان کےسامنےنہیں بلکہ اللہ کےسامنےاوراکیلےرورئےہیں۔
شکوہ کی دو اقسام ہیں۔
ایک زبان سےبول کرشکایت کرنایازبان حال سے شکایت کرنااورزبان حال سے شکایت کرنایہ سب سے بڑی شکایت ہے۔یہی وجہ ہےکہ نبی کریم صلی اللہ وسلم نےحکم دیاہے کہ جسپراسکےرب نے انعام کیاہےوہ اپنےرب کی نعمت کا اظہارکرےاورسب سےسنگین حالت یہ ہےکہ انسان اپنےرب اس حالت میں بھی شکایت کرے جبکہ بلکل خیرو عافیت میں ہوتویہ رب کےنزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ بغض کےلائق ہے۔جواچھابھلاکھاتا،پیتا،ساری نعمتیں اور آسانیاں اسکوملی ہوئی ہیں۔پھربھی اسکے رونےدھونےہی ختم نہیں ہوتے۔لوگوں سےکچھ نہ کچھ شکوہ شکایات کرتاہے۔ایساشخص اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہےکہ نہ اسکوکوئی جسمانی تکلیف ہے۔نہ اسکوکوئی مالی تکلیف ہے۔نہ ہی اسے کوئی کھانےپینےمیں مشکل ہے۔بس اسنےکچھ ایسی چیزیں ذہن میں رکھ ہوئی ہوئیں ہیں کہ وہ ان پر شکوہ کرتاہےکہ یہ میری زندگی میں ایسا کیوں ہے؟میں یہاں کیوں پیداہوگئی؟میراناک ایسا کیوں ہے؟ایساشخص نعمتیں نہیں گنتا۔جوچیزصبرکےمنافی ہےوہ مصیبت کے وقت کپڑوں کوپھاڑناہےاورچہرےکوپیٹنا،بال مونڈھنااورایک ہاتھ کودوسرےپہ مارنااورہلاکت کی دعاکرنا۔اللہ مجھےماردے۔مجھےاٹھالے۔ایسی باتیں کرنا۔مصیبت کےوقت رونااورغمگین ہونایہ مصیبت کے منافی نہیں جیساکہ اللہ تعالی نے یعقوب علیہ السلام کے بارےمیں فرمایا کہ
وابیضت عیناہ من الحزن فھوکظیم
اوراسکی دونوں آنکھیں غم سےسفیدہوگئیں تھیں اوروہ غم سےبھراہواتھا۔
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیماری میں مبتلاءہوئےتوانہوں اپنی تکلیف پہ شکوہ کیاتورسول اللہ صلی اللہ وسلم،عبدالرحمان بن عوف،سعدبن وقاص اور عبداللہ بن مسعود کےساتھ انکی عیادت کےلیےانکےپاس تشریف لےگئے۔جب ان کےگھرہوئےتوانھیں غشی کی حالت میں بے ہوش پایا۔اپ صلی اللہ وسلم نے پوچھاکہ کیا انکی مدت پوری ہوگئی ہے(مرگئےہیں)؟کہانہیں اللہ کےرسول نہیں تو نبی کریم صلی اللہ وسلم روپڑے اورجب لوگوں نےنبی صلی اللہ وسلم کوروتےہوئےدیکھاتوانہوں نےبھی روناشروع کردیاتواپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ کیاتم۔سنتےنہیں بےشک اللہ آنکھ کےانسواوردل کےغم پہ سزانہیں دیتا بلکہ آپ صلی اللہ وسلم نےاپنی زبان مبارک کی طرف اشارہ کیاکہ اسکی وجہ سے اللہ تعالیٰ یاتوعذاب دیتاہےیاپھررحم کرتاہے۔
تویہ dependکرتاہےکہ آپ زبان سےکیاکہتےہیں؟ہم سب سےزیادہ زبان سےہی شکوےشکایات کرتےہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق دے-امین


*واخردعوناعن الحمدللہ رب العالمین:*

31/01/2026

*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*
*فقہ الصبر(صفحہ نمبر853)*
پس وہ اللہ کےسامنےاپنےدل کےساتھ حاضرہونےکی وجہ سے اپنے اعضاء کواللہ کی عبودیت سےمعطل نہ کرےیعنی اگرآپ پورے شعورویکسوئی کےساتھ اللہ کویادکررئےہیں تواسکایہ مطلب نہیں کہ آپ نمازچھوڑکربیٹھ جائیں۔اپنےاعضاءسےعبادت کاکام نہ لیں اورنہ ہی اعضاءسےصرف بندگی کاکام لینا کہ ہمارے ہاتھ پاؤں ہل رہے ہوں اورہم نمازپڑھ رئےہوں اورہمارےدل میں کچھ بھی نہ ہو۔یہ نہیں ہوناچاہیے۔نہ ہی اعضاءکابندگی کرنااسےاللہ کےحضوردل کی حاضری سےروک دے۔یعنی ہمارا دل بھی حاضرہواورہمارےاعضاءبھی حرکت میں ہوں۔
جوصبرعمل سے فارغ ہونےکےبعدہےتوایسےکام کےکرنےسےصںرکرےجواسکے اعمال کوباطل کرےیعنی عمل سےصبرکرلیااوربعدمیں بےصبراہوکراسےباطل کردیا۔جیسےاللہ سبحان وتعالی نے فرمایا کہ
یاایھا الذین آمنوا لاتبطلواصدقاتکم بالمن والاذی کالذین ینفق مالہ رئاءالناس ولایومن باللہ والیوم اخرفمثلہ کمثل صفوان علیہ تراب فاصابہ وابل فترکہ صلدالایقدرون علی شئ مماکسبواوللہ لایھدی القوم الکافرین۔
اےلوگوجوایمان لائےہواپنےصدقات کو احسان جتاکراوراذیت دےکرضائع مت کرو۔اس شخص کی طرح جواپنامال لوگوں کودکھانےکےلیےخرچ کرتاہےاوراللہ اوریوم آخرت پرایمان نہیں رکھتا تو اسکی مثال صاف چٹان کی طرح ہےجسپرمٹی ہواوراسپرتیزبارش پڑےتووہ اسکوصاف چٹان کی طرح چھوڑدےاورجوکچھ بھی انہوں نےکمایااسمیں سےکسی بھی چیزپریہ قدرت نہیں پائینگے اوراللہ کفرکرنےوالوں کوھدایت نہیں دیتا۔
جوشخص اپنا عمل کرنےکےبعداسکوشہرت کا ذریعہ بناتاہے۔دکھاواکرتاہے۔اسکاعمل ویسے ہی صاف دھل جاتاہےجیسےبارش پڑنےکی وجہ سےچٹیل پتھردھل جاتاہے۔کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔اسنےصبرنہیں کیاکہ اسکااجراللہ سےلیتا۔اسنےدکھاواکیاتاکہ تعریف کی شکل میں لوگوں سےاجرلےلے۔
اسی طرح اطاعت کوپیش نظررکھےاوراسپرخوش اورمغرورہونےسےصبرکرے۔یعنی کوئی نیکی کاکام کرکےاسپرمغرورنہ ہو۔اسپرتکبرنہ کرےاوراپنےاپکوعظیم عمل والانہ سمجھےکیونکہ یہ چیزاسکےلیےبہت سی ظاہری نافرمانیوں کےلیےنقصاندہ ہے۔اندرکی برائیاں ظاہری برائیوں سےزیادہ نقصاندہ ہیں۔اس اطاعت کو باطنی حالت سےظاہری حالت کی طرف منتقل کرنےمیں بھی صبرکرےیعنی زبان سےکچھ کہنانہ شروع کردے۔پس بندہ یہ نہ سمجھے کہ صبرکاںچھوناعمل سے فارغ ہونےکےبعدلپیٹ دیاجائےگا۔جیسےسونےکےبعدبسترلپیٹ دیاجاتاہےناتوکام کرنےکےبعدصبرلپیٹ نہیں دیاجاتا۔جیسےنمازکےمکمل ہونےکےبعدنمازلپیٹ دی جاتی ہےنمازتوختم ہوگئی لیکن صبرابھی ختم نہیں ہوا۔
جہاں تک ظاہری اور باطنی نافرمانیوں سےصبرکرنےکاتعلق ہےتویہ معاملہ ظاہرہے۔سب سےبڑی چیزجواسمیں معاون ہوتی ہےوہ مانوس چیزوں سے تعلق کوکاٹ لیناہےاوراسپرمددگارومعاون چیزوں سے علیحدگی اختیار کرنااورجوان نافرمانیوں کےفوائدہیں۔انکوکاٹ لیناہے۔یعنی انسان جن چیزوں عبادتوں کاعادی ہوتاہےنااورجن میں اسےمزااتاہے۔اس سےخودکوالگ کرلینا۔انکےظاہری فائدےسےدورہوجانایعنی خودکونیکی کرکےcomfortableنہ ہونےدیں کہ اب میں نے سب کچھ کرلیا۔نیکی پھربھی جاری رکھے۔
جب خواہشات عادات کےساتھ مل جائیں تو شیطان کےلشکروں میں سے دولشکرظاہرہوجاتےہیں۔تودینی دینی جذبہ انکومغلوب کرنےپرطاقتورنہیں ہوتاجبکہ وہ خود بھی کمزورہےیعنی انسان خود بھی کمزورہےاوردین کاجذبہ بھی کمزورہےتواب خواہشات اورعادات اکھٹی ہوگئیں۔اب انسان گناہوں سےکیسےبچےگا؟جیسےاپکوچاکلیٹ کھانےکی عادت پڑ چکی ہے۔اسکوکھانےکےبغیرکھاناہی ہضم نہیں ہوتا۔اب یہ عادت بھی ہےاورخواہش بھی ہے۔اس سےنکلنامشکل ہےجبکہ آپ شوگرکےمیریض بھی ہیں تواسکوعادت کےکیسےچھوڑینگے؟یہ چیزصبرکےسواچھوڑنےسےمشکل ہےکیونکہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا ہےکہ اس سےباہرنکلوں گا۔
دوسری قسم وہ ہےجوبندےکےاختیارمیں نہیں اتی اوربندےکےپاس اسکوہٹانےکاکوئی حیلہ نہیں ہوتا جیسےوہ مصیبتیں جن میں بندےکاکوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔جیسےاسکی بہت عزیز ہستی کی موت اوراسکےمال کاچوری ہوجانااوراسطرح کی دوسری چیزیں۔جن میں اسکااختیارنہیں ہوتا۔جانےچلاگیا۔لٹ گیااب یہاں انسان کےدل کی حالت کیاہوگی؟انسان اسوقت کتناfrustationکاشکارہوجاتاہے۔انسان پرایک سے کہتا ہےکہ میری چیزنہیں مل رئی۔
یہ چیزدوطرح کی ہوتی ہے۔ایک وہ جسمیں آدمی کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتااوردوسری وہ جسمیں انسان کوکسی دوسرے کی طرف سے نقصان پہنچتاہے۔
جوپہلی قسم ہے۔اسمیں بندےکےلیےچارمقامات ودرجات ہیں۔
اول: وہ بےبس ہےاوربےصبری اورگھبراہٹ ،شکوہ وناراضگی میں مبتلاءہےاوراسطرح کےکام لوگوں میں سے سب سےکم عقل کرتاہے۔جسکادین،ایمان اور مروت بھی کم ہو۔یعنی آپکی کوئی چیز گم ہوگئی۔اب آپ بےبس ہیں۔گھبراہٹ کاشکارہیں۔اللہ سےشکوےکررئےہیں۔بندوں سےشکوےکرررئےہیں۔تم نےبروقت علاج نہیں کیا۔ایسی حرکتیں کون لوگ کرتےہیں؟وہ کولم عقل،بےدین،کم ایمان و بےمروت والا ہی کرتاہے۔
تیسرا مقام اسپرراضی بارضارہنےکامقام ہےاوریہ صبرکےمقام سےاعلی مقام ہےجیسےاگرکوئی فوت ہوجائےاوراپ کہہ دیں کہ اےاللہ میں راضی ہوں۔اللہ کے فیصلوں پہ راضی ہوناہمارےفائدےکےلیےہے۔جوازمائش کےوقت اللہ سے راضی ہوتاہے۔اسکوکیاملتاہے؟اس سےاللہ راضی ہوتاہے۔
چوتھا مقام مقام شکرہےاوریہ راضی برضارہنےسےبھی اعلی مقام ہے۔اسطرح کا انسان آزمائش کو نعمت سمجھتاہےاورجوشخص اس آزمائش میں ڈالاجاتاہےتووہ اسپرشکراداکرتاہے۔
پہلےصبر،پھررضااورپھرشکراتاہے۔
یہ عام لوگوں میں سے شاید ہی کسی کو نصیب ہو۔تکلیف پہ روناقدرتی عمل ہے۔
جہاں تک دوسری قسم کاتعلق ہےتویہ وہ نقصان ہےجولوگوں پہنچتاہےتواسکےلیےوہ سب حالات ہیں جوپیچھےبیان ہوچکےہیں اورچارحالات اوراسکےساتھ اضافہ کرکےملائےجاتےہیں۔ان میں سےایک
معاف کرنےاوردرگزرکرنےکامقام ہے۔جب کوئی تنگ کرےتواسکومعاف کردیں۔
دوئم دل کوتسلی دینےسےپاک کرنےکامقام ہےاوردل کوہروقت کی تکلیف سےپاک رکھنےکامقام ہےجوکہ دل کوہوتی ہےکہ میں اسکا بدلہ نہیں لونگی۔اپنےاپکواس چیزسےخالی کرلیں کہ اسکی وجہ سے مجھ پہ تکلیف آئی ہے۔یہ شیطان کی چال ہے۔وہی انسان کوہروقت ھم وحزن میں رکھتاہے۔
تیسرا تقدیرکوپیش نظررکھنا۔اگروہ اس تکلیف کوتمکوپہنچانےپہ ظالم ہےلیکن جس مالک نےاس تقدیرکوتم پرمقدرکیاہےاوراسکواس ظالم کے ہاتھ کی جاری کیاہے وہ ظالم نہیں ہے۔یہ سوچیں کہ اس بندےکومیری زندگی میں ایسی وقت اناتھا۔اس سےمجھےیی تکلیف پہنچنی تھی اور میری تقدیر کا حصہ تھا لیکن مجھ پہ ظلم کررہاہےلیکن جسنےاسکومجھ پہ مسلط کیاہےناوہ ظالم نہیں ہے۔اب اللہ انسان کی زندگی میں آزمائش کیوں آتی ہے؟انسان کو اعلی مقام تک پہنچانےکےلیےاوربعض دفعہ انسان نےاللہ سےحکمت،فہم وعقل کےحصول کی دعاکی ہوتی ہےتواللہ تعالیٰ اسکواڈ مشکل میں ڈالتاہےکہ اب اس بندےکوdealکروتواس آزمائش کی وجہ ہماری کوئی نہ کوئی ایسی دعاہی ہوتی ہے۔
لوگوں کی تکلیفیں گرمی اور سردی کی مانند ہیں جنکودورہٹانےکی کوئی تدبیروحیلہ نہیں ہوسکتاجیسےگرمی آجاتی ہے اب آپ گرم موسم کوواپس نہیں بھیج سکتے۔سردی کی لہراتی ہےتوہم اسےدورنہیں کرسکتے ہاں مگراپنابندوںست ہی کرسکتے۔یہ سب اللہ کی تقدیرسےجاری ہیں۔اگرچہ انکےراستےاوراسباب مختلف ہیں۔کوئی ادھرسے،کوئی ادھرسےاجائےگی۔قبول کرلیں کہ لوگوں سے تکلیفیں پہنچنی ہیں۔جویہ سمجھ لےگاوہ اپناراستےبنالےگی۔
چوتھابرائی کرنےوالےکےساتھ احسان کرنااوراسکی برائی اوربدسلوکی کےمقابلےمیں احسان کرنا۔اس مقام میں وہ فائدےاورمصلحتیں ہیں۔جنکواللہ کےسواکوئی نہیں جانتا کہ جنھوں نے آپکےساتھ اچھانہیں کیاجبکہ ہم مقابلے پہ آجاتے ہیں کہ اسنےاچھانہیں کیاتوہم نےبھی اچھانہیں کرنا۔
تیسری قسم جسکاواردہونابندےکےاختیارکےساتھ ہوتاہے۔جب وہ چیزبندےکےجسم میں جڑپکرلیتی ہےتوپھربندےکااختیارنہیں رہتااوراسکودورکرنےکی کوئی تدبیر نہیں رہتی جیساکہ انسان کا بیماریوں اور تکلیفوں کے اسباب کانشانہ بننناکہ جنکودورہٹانےکی کوئی تدبیروحیلہ نہیں ہوتاجب وہ انکےاسباب کےساتھ براہ راست مل جاتاہےجیساکہ نشہ اورچیزوں کاپینااورسن کرنے والی چیزوں اورزہروغیرہ اوراس طرح کی دوسری چیزوں کاکھانا۔یعنی پہلےاپکےپاس اختیار تھا کہ کیا کھائیں اپ نے غلط چیز کھائی اوراندرجاکراسنےاپکوبیمارکردیا۔اب اپکےچارہ نہیں ہےکہ آپ اسے باہر نکالیں۔جیسےنشہ کرنایانہ کرنااپکی چوائس تھی نااب آپ ایسےموڑپراگئےہیں کہ آپ اس سےجان نہیں چھڑاسکتے۔
اسکا فرض یہ ہےکہ وہ اسکے شروع میں صبرکرتا۔وہ غلط چیز شروع ہی نہ کرتااورشروع کی بات چھوٹ گئی۔اب اسکافرض یہ ہےکہ آخری حالت یااسکےنتیجےمیں صںرکرے۔اب جوبیماری آگئی ہےناوہ اسپر صبرکرےاوریہ کہ وہ اپنےنفس واپنےداعی کی بات نہ مانے اوراس چیزاوراسکےعلاوہ دوسری چیزوں کی جومفیددواہےوہ ہےصبراورتقوی ہے۔سورہ یوسف میں بھی یہی تھا۔جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
*وان تصبرواوتتقوافان ذالک من عزم الامور۔*
اگر تم نےصبرکیااورتقوی اختیارکیاتویقینایہ بڑی ہمت کےکاموں میں سےہے۔
جب وہ انسان اللہ کےلیےصںرکریگااورجس ممنوع سبب کاوہ مرتکب ہواہے۔اسپروہ نادم ہوگاتواسکوصبرپرثواب دیاجائے گاکہ اللہ تعالیٰ میں نےاپنی جان پہ ظلم کیااورمیں شرمندہ ہوں۔اب میں صبرکرتاہوں۔میں آپ سےناراض نہیں ہوں تواسپراسکواجرمل جائےگاکیونکہ وہ اپنی طرف سے اپنےنفس کےلیےجھادکررہاہےاورنفس کےساتھ جھادکرناایک نیک عمل ہے۔جسپراسکوثواب دیاجائےگا۔جواسکوسزاملی۔اس ممنوع کام پرجواسنےکیاتووہ اس سبب پرسزا کا مستحق تھااوراس سبب پریس چیزنےجنم لیاجیساکہ نشےکرنےوالےادمی کواسکےنشےپرسزادی جاتی ہےاوراسپربھی سزادی جاتی ہے۔جواسنےاپنےنشےکی حالت میں جرم کیا۔نشےکی حالت میں اگرقتل کیاتوپکڑاجائےگااورپھراس نشےکاالگ سےdouble charge اسپرہوگا۔


*واخردعوناعن الحمدللہ رب العالمین:*

22/01/2026

*سورہ الفرقان*

*بسم اللہ الرحمٰن الرحیم*
يُضَاعَفْ لَـهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيْهٖ مُهَانًا (69)
ترجمہ:
قیامت کے دن اسے دگنا عذاب ہوگا اور اس میں ذلیل ہو کر پڑا رہے گا۔
جولوگ ایسے جرائم میں مبتلاءہیں۔انھیں سزامل کررئےگی۔انکےعذاب میں وقفہ نہیں ائےگا۔انکےعذاب میں اضافہ ہی ہوگا۔جھنم سےنکل ہی نہیں سکےگے یخلدفیہ مھانا یوم القیامہ سےکیامرادہے۔یوم آخرت مھان ذلیل کیاہواحقیرکیاہوا۔توقیامت کےدن ہرایک کےساتھ عدل ہوگا۔کسی پرظلم نہیں کیاجائےگا۔یہاں ایک سوال پیداہوتاہےکہ نیکی کاثواب زیادہ دےگااوریہ کیاگیاہےکہ برائی کابدلہ اتناہی دیگاجتنی برائی ہےتویہاں یضاعف لہ العذاب کیوں کہاگیاہے؟ہمیں توجہی بتایاجاتاہےناکہ ایک برائی کےبدلےایک ہی گناہ لکھاجائےگا۔جیساکہ قرآن مجید میں اتاہےناکہ ومن جاءبالحسنہ فلہ عشرہ صالحاومن جاءبالسیئہ فلایجزی الامثلھا پس اتناہی انکوعذاب ملےگا۔سورہ النمل میں بھی اتاہےکہ۔ من جاءبالحسنہ فلہ خیرامنھا ومن جاءبالسیئہ فکبت وجوھھم فی النار ھل تجزون ان کنتم تعملون جوکررئےتھے۔بس وہی تمکوملا۔سورہ القصص میں اتاہےکہ۔ من جاءبالحسنہ فلہ خیرامنھا ومن جاءبالسیئہ فلایجزی فلایجزی الذین عملوالسیئات الاماکانوا یعلمون۔ ان ساری آیات سےکیاپتاچلتاہےکہ برائی کابدلہ اتناہی ہوگاجتنی اسنےبرائی کی ہوگی لیکن عذاب زیادہ کردیا جائے گا یضاعف فی العذاب مفسرین نے اسکی دو وجوہات بیان کیں ہیں۔پہلے سوال سمجھناضروری ہے۔نیکی کاکم سےکام بدلہ دس گناہےجبکہ برائی کابدلہ برابرہےپھتیہاں کیوں کیاگیاکہ دوگناہے اسکی دو وجوہات بیان کی گئی ہیں اول ایسےلوگ اکیلےگناہنہیں کرتے بلکہ دوسروں کوبھی گناہ کی دعوت دیتےہیں۔جیسےجب ایک شخص خود شرک کرتاہےتودوسروں کوبھی آکر کہانیاں سناتے ہیں۔پھرانکوبھی ساتھ لےجاتےہیں۔اسی سےہی پھیلتاہے۔اسی طرح قتل کرنےمیں آوروں کوبھی شریک کرلیتےہیں۔زںاتوہےہی دوسرےکوورغلانےکاکام ہے۔عمروابن الحیی جسنےسب سےپہلےمکہ میں بت لاکررکھےتھےاورشرک شروع کیاتھاتواسکےلیےزیادہ گناہ کیوں ہے؟کیونکہ اسنےابتداءکی تھی۔یہ پہلا شخص تھاجسنےعربوں میں سائبہ کی رسم کوایجادکیاتھا۔ لیحملن اثقالھم اثقامع اثقالھم۔ جیساکہ سورہ العنکبوت میں اتاہےکہ اپنےگںاہوں کا بوجھ بھی اٹھائینگےاوراپنےبوجھوں کےساتھ کئی اور بوجھ بھی اٹھائینگےپھر وہ بڑھےگا۔ لیحملن اوزارھم کاملہ یوم القیامہ من اوزالذین یضلونھم بغیر علم اسی لئے عذاب دوگناکیاجائےگا۔
دوسرامعنی یہ کیاگیاہےکہ ان کبیرہ گناہوں کی سزاکےعلاوہ انکےدوسرےگناہوں پربھی انھیں عذاب دیاجائےگا۔یعنی ایک زناکاگناہ ہوگیااب ایک گناہ قتل ہوگیااور اسکےعلاوہ ایک اورگناہ شرک ہوگیایااورغلط کام ہیں۔اب بعض دفعہ جب ایک گناہ کرتاہےتووہ ایک گناہ نہیں ہوتابلکہ وہ گناہوں میں لت پت ہوکر گناہوں میں دلیرہوچکاہوتاہے۔اب یہ ایک سزاہےاس گناہ،یہ سزااس گناہ کی ہے،یہ سزااس گناہ کی ہے۔multipleسزائیںmultipleگناہ یضاعف لہ العذاب جیسےایک شخص نماز نہیں پڑھتااورروزہ رکھتاہےاوعمردوسراشخص نہ نمازپڑھتاہےاورنہ ہی روزہ رکھتاہے۔دونوں کی اذانیں فرق ہوگا۔اس بات کو سمجھیں نا۔فرق ہوگاناجسنےایک گناہ کیاہےاسکوایک گناہ کاعذاب اورجسنےدوگناہ کیےہیں۔اسکودوکااورجسنےزکوہ بھی نہیں دی توایک تیسراعذاب اورایک شخص روزہ اور زکوہ دیتاہےلیکن نمازنہیں پڑھتاتواسکامعاملہ مختلف ہوگا۔ایک شخص نےایک قتل کیاہےجبکہ ایک نےدس قتل کیےہیں۔توکیابرابرسزاہوگی۔زیادہ ہوگی۔اسی طرح اگرکسی نےقتل کیاتوقتل کابدلہ دنیامیں قتل ہی ہےلیکن قاتل کےصرف قتل ہونےسےوہ اذیت ختم نہیں ہوگی۔جومقتول نےقتل ہوتے ہوئے اٹھائی توجب اللہ سبحان وتعالی عذاب دیتاتووہ اس intensity کابدلہ بھی لےگاجیسےکسی نےکوئی غلط کام شروع کیا اور ایک سال میں ہزار لوگ اسکےپیچھےلگ گئے۔اگلےسال دوہزار،اس سےاگلےسال تین ہزار لوگ اسکےپیچھےلگ گئے اوروہ multiply ہوتاجارہاہے۔اب نتیجہ کیانکلےگا۔اب جب سزاملنےلگی ہےتووہ دوگنی ہوتی چلی جائےگی۔جیسےقابیل کوہرقتل کی سزاکاایک حصہ ملےگا
اب ایک اور سوال بھی ہوسکتاہےکہ جوتوحیدپرمرتاہےتووہ شخص ہمیشہ جھنم میں نہیں رئےگا۔اگرچہ اسنےکبیرہ گناہ کیےہوئےہوں۔پھریہ کیوں کیاگیاکہ یخلد فیہ مھانا یہاں پر صرف زناکی بات نہیں ہورہی،صرف قتل کی بات نہیں ہورہی بلکہ شرک کی بھی بات ہورہی ہےکہ جسکی وجہ سے وہ ہمیشہ جھنم میں رئےگا۔یعنی یہاں خلود۔ سےمراداس گنہگارکا خلود ہےتواللہ کےساتھ شرک کریگا۔جوقاتل ہےاورزانی وچوری کرنےوالاہےوہ ہمیشہ آگ میں نہیں رہینگے۔وہ اپنی سزا بھگت کرباہرنکل آئینگے۔جب وہ اگ میں رہینگےتب تک ذلت ہےہی اوریہاں جوکہاگیاکہ ویخلدفیہ مھانا وہ اس جھنم میں ذلیل ہوکرپڑےرہینگے۔ذلیل وخوارہونگے۔ مھان مھین واھانت سےہے۔یہاں یخلد کااطلاق شرک کی طرف ہے۔پھراپ دیکھیےکہ جھنم کی سزاذلت وبےعزتی والی سزاہے۔اپ خودسوچئےفرشتےجب جھنمیوں کودھکےمارکرلےکرجارئےہونگے۔وہ کتنی بےعزتی کی بات ہوگی۔دنیامیں بڑےبڑےلیڈربنےہوئےتھےاوربڑےبڑےنامی گرامی لوگ تھےاوروہاں انکایہ حال ہورہاہے۔ساری مخلوق کےسامنےذلت وخواری ہورئی ہے۔اللہ سبحان وتعالی محفوظ رکھے۔
اللہ سبحان وتعالی فرماتے ہیں کہ ان الذین یستکبرون عنہ عبادتی سیدخلون جھنم داخرین۔ جولوگ میری عبادت سےتکبرکرتےہیں۔عنقریب میری جھنم میں ذلیل وخوار ہوکر داخل ہونگے۔تکبرکابدلہ ذلت کی شکل میں۔پھرقران مجیدلےدیگرمقامات سےیہ پتاچلتاہےکہ آگ ہلکی ہونےلگےگی تواسکومزیدبھڑکادیاجائےگا۔پھرکچھ مجرموں کو چہروں کے بل گھسیٹاجائےگا۔سورہ الرحمان میں بھی آتاہےناکہ یعرف المجرمون بسیماھم۔ویوخذبالنواصی والاقدام سورہ القمر میں اتاہےکہ یوم یسحبون فی النار علی وجوھھم ذوقوامس سقر جس دن وہ چہرےکےبل گھسیٹے جائینگے کہ چکھوجلنےکامزا
اس آیت سےیہ پتاچلتاہےکہ جوکبیرہ گناہوں میں پڑےگااسکےلیےاللہ نےسزارکھی ہوئی ہے یضاعف لہ العذاب یوم القیامہ یخلدفیہ مھانا
اسکے بعد خوشخبری ہے۔

اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ يُبَدِّلُ اللّـٰهُ سَيِّئَاتِـهِـمْ حَسَنَاتٍ ۗ وَكَانَ اللّـٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا (70)
ترجمہ:
مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک کام کیے سو انہیں اللہ برائیوں کی جگہ بھلائیاں بدل دے گا، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
ابن عباس کہتےہیں کہ اھل شرک میں سے کچھ لوگوں بہت ناحق خون بہائے تھےبکثرت زناکرتےرہےتھے۔وہ نبی کریم صلی اللہ وسلم کےپاس ائےاورعرض کیاکہ آپ جوکچھ کہتےہیں اور جس بات کی طرف دعوت دیتےہیں۔وہ یقینااچھی چیزہےلیکن آپ اگر ہمیں اس بات سے آگاہ کردیں کہ اب تک ہم نےجوگناہ کیےہیں۔کیاانکاکوئی کفارہ ہے؟شرمندہ تھے۔پتاہی نہیں تھا۔بہت کچھ ہوتارہاتواللہ سبحان وتعالی نےیہ آیات نازل کیں۔ والذین لایدعون مع اللہ الھااخر سےاخرتک اوریہ آیت یاعبادی الذین اسرفواعلی انفسھم لاتقنطوامن رحمت اللہ اےمیرےوہ بندوں جنھوں نےظلم کرکے اپنی جانوں پہ زیادتی کی ہے۔اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔تو۔ الامن تاب وامن وعمل عملا صالحا جسنےتوبہ کرلی یعنی گناہوں سےنکل سےنکل ایارجوع کرلیا وامن شرک کرنےکےبعدایمان لےایا وعمل عامل صالحا جوبرائیاں ذکرکیں ہیں۔انکےبعداچھےعمل کرلیے۔تویہی سچےمومن ہیں۔اہسےمومنوں کی برائیاں بھی نیکیوں میں بدل جائینگی۔یہاں امن صالحا نکرہ ہےاورکچھ نیک کام کیے یعنی زیادہ برائیاں ہوگئیں لیکن نیک کام کم کرنے کاموقع ملا۔ایسابھی ہوتاہےناکہ ایک شخص ساری زندگی برائی کرتارہاتوبہ کرنےکےچنددن بعدمرگیاتو عملا صالحا تھوڑے نیک عمل ہوئےلیکن توبہ اتنی بڑی چیزہےکیونکہ انسان کےلیےاپنی غلطی ماننابہت مشکل ہوتاہے۔اسنےغلطی مانی بھی اوراس راستےکوچھوڑابھی۔سب سےبڑی مشکل کام اپنی غلطی ماننااوردوسرامشکل کام اپنی عادتیں چھوڑنا۔کہتےہیں ناکہ اگر کوئی کہےکہ پہاڑٹل گیاتومان جاولیکن اگر کوئی کہےکہ اپنی عادت سے بازاگیاتووہ نہ مانو۔عادتیں چھوڑنا بڑاہی مشکل کام ہوتاہے۔ان لوگوں نےیہ دونوں کام اپنےنفس کےخلاف جاکرکیے۔۔اپ دیکھیےکہ ہم اتنے عادتوں کےپابندہوتےہیں۔جیسےاگراپ گھرمیں ایک خاص کرسی پہ بیٹھنےکےعادی ہیں تو اگر کوئی اس جگہ بیٹھ گیا جتنی دیر وہ بیٹھےگااپ ڈسٹرب ہونگے کہ آپکی سیٹ چلی گئی ہےکیونکہ آپ اپنی جگہ بیٹھنےکےعادی ہیں۔ایساکلاس کےاندربھی ہوتاہےاپکااینگل بدل جائےتواپکوسبق سمجھ نہیں اتا۔اسی طرح اگرکسی کوبرائیوں کی لت پڑچکی ہےتووہ اسکوچھوڑدےجیساکہ شراب نوشی تھی۔وہ انہوں نے چھوڑدی تویہ کوئی معمولی چیزہے؟ایڈکشن چھوڑدی کوئی معمولی چیزہے۔جوچھوڑدے،اسنےتوبہ کرلی،پلٹ ایا،اب نہیں کررہااورکچھ نیک عمل کرلیےکوشش کررہاہے۔اپنی اصلاح کررہاہےتواسکےلیےخوشخبری ہےکیونکہ جس انسان سےزیادہ برائیاں ہو جائیں ناتووہ ساری زندگی اس گلٹ میں مبتلاءرہتاہے۔اندرہی اندرگلث اسکومارےرکھتی ہےکہ میں نے گناہ کیا۔میں نے گناہ کیا۔میں بڑاگنہگارہوں۔جسکی وجہ سے اسکی نیک کام کرنےکی صلاحیت ماری جاتی ہےکیونکہ اچھاکام کرنےکےلیےاپکواعتمارچاہیے۔اگرکوئی اپکوکہےکہ تم نہیں کرسکتے۔تم چھوڑو یہ تمھارےبس کی بات نہیں تم نہیں کرسکتےیاپھرکوئی شخص کام کرے لیکن اسکے کام میں ہروقت نکتہ چینی کی جائےکیاوہ کام کرسکےگا۔نہیں کرسکےگا۔جسکااعتمادختم ہوجاتاہےناچاہیےخودپہ ختم ہویادوسروں پہ تواسکےلیےاگےبڑھنابڑامشکل ہوجاتاہےجس شخص کےاندرگلٹ جنم لےلےاوروہ بڑاہوتاجائےکہ میں نے غلطی کی تھی۔کی تھی پتانہیں میری معافی بھی ہوگی کہ نہیں کیونکہ اسکوساری زندگی یہ ڈرہوگاکہ مجھےپتاچل گیاتوپھروہ کہےگاکہ تم یہ تھی۔اب تم مجھےتبلیغ کررہی ہو۔انسان کوبہت زیادہ شرمندگی ہوتی ہے۔یہ آیت بڑاحوصلہ بڑھانےوالی ہےکہ عملاصالحا چھوٹاسابھی نیک عمل اسنےبعدمیں کرلیاتوتوبہ اور ایمان ہی بڑی چیزہے۔ الامن امن ایمان کوئی معمولی چیز ہے۔ لاالہ الااللہ توسکیل میں سب سےزیادہ بھاری ہے۔پھراسنےتوبہ کرلی اورپھرعمل کرلیاتیسرےدرجےپہ عمل کررہاہےنیک رستے پہ چل پڑاہےتواللہ تعالیٰ بڑاہی قدردان ہےایسےلوگوں کےلیےخوشخبری ہےانکےلیےامیدہے۔اللہ تعالیٰ نے ایسےلوگوں کسطرح سنبھالا ہےکہ پچھلے گناہوں کی معافی ہے۔ قل للذین کفرواان ینتھوایغفرلھم ماقدسلف اننیعودوامضت سنت الوالین ان کفرکرنےوالوں سے کہیں کہ وہ بازاجائیں۔جوپہلےہوچکاوہ بخش دیاجائےگااوراگریہ پھر کچھ کرینگےتویقیناپہلےلوگوں کا طریقہ توگزرچکاپھرپکڑہوگی۔توبہ یارجوع کرلینا،نادم ہوجانا،گناہ چھوڑدینا،پکاارادہ کرناکہ اب کبھی نہیں کریگااورواقعی اس ارادے پہ پکارہنا۔پھراللہ کےعذاب سےڈرکراورنہ ہی کسی انسان کی وجہ سےنہیں بلکہ اخلاص کےساتھ یہ سب کچھ کرنااللہ کےلیےکرناکہ کہیں پکڑ نہ ہوجائےاورمرنےسےپہلےپہلےتوبہ کررہاہےاورتوبہ میں دیر نہیں کررہاہےتواللہ سبحان وتعالی ہرگناہ معاف کردیتاہےاوربندوں سےمتعلق ہوتوبندوں سےمعافی بھی مانگ لیتاہےیاانکاکفارہ کردیتاہے۔جن لوگوں کےساتھ زیادتی کی۔ان سے معزرت کرلیتاہے۔
ایک آدمی نےنبی صلی اللہ وسلم سے پوچھا کہ اےاللہ کےرسول ہم نے جوگناہ زمانہ جاھلیت میں کیےہیں۔کیاانکابھی ہم سےمواخذہ ہوگا؟اپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ جوشخص اسلام کی حالت میں نیک اعمال کرتارہااس سے جاھلیت کے گناہوں کا مواخذہ نہیں گااورجوشخص اسلام کی حالت میں ہیں برے اعمال کرتارہاتواس سےپہلےاوربعدوالےدونوں گناہوں کی بازپرس ہوگی۔
اسکی پکڑنہیں ہوگی۔۔ لاالہ الااللہ۔ پڑھ کر مسلمان پچھلی زندگی کےاعمال مٹ گئے بلکہ مٹ نہیں گئے بلکہ ختم ہی نہیں ہوئے بلکہ وہ حسنات میں بدل گئے اپ دیکھیےکہ ہیرہ اصل میں کوئلہ ہوتاہے۔کوئلےسےہیراایک خاص قسم کی تپش کےبعدہی بنتاہےپھراسکےبعدوہ ہیرابن جاتاہے۔وہ مضبوط پتھرہوتاہےجس سےہیرابنتاہے۔پتھرکابھی کوئلہ ہوتاہے۔اپ خودسوچئےجب انسان گناہ،بری کمپنی،غلط عادات چھوڑتاہےتواسپرکتناپریشرہوتاہے۔خاص طورپراگرکسی کونشہ وشراب نوشی چھوڑنی پڑےیازناچھوڑناپڑےجسکاعادی ہوچکاہے۔اسی طرح ہےاورغلط کام جیسےچوری چھوڑنی پڑےویسےبھی چوری پراسلئےاسکاہاتھ کاٹاجاتاہےکیونکہ وہ اس عادت سےبازنہیں اتا۔بحرحال اسکےپچھلےسارےگناہ معاف ہوجاتےہیں اور ایسےانسان کےاندرایک عاجزی پیداہوجاتی ہے۔اسکواحساس دیتاہےکہ میں اگرنیکی کربھی رہا ہوں تومیراماضی کیساتھااسلیےوہ تکبرسےبچارہتاہے۔اسکےاپنی عبادات کی بڑائی کااحساس پیدانہیں ہوتا۔تواضع کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ فاولئک بیدل اللہ السیئاتھم حسنات ایسےلوگوں کی برائیوں کواللہ حسنات میں بدل دیگا۔اسکی دوتفاسیرکی گئیں ہیں۔اول اللہ سبحان وتعالی دنیامیں ہی گناہوں کی جگہ نیکیوں کی توفیق دےدیگا۔replaceکردیگا،کفروشرک کی جگہ ایمان اورتوحیداجائینگے،قتل کی بجائے وہ میدان جنگ میں دین کےدشمنوں سےلڑےگا۔زناکی جگہ پاکدامنی کی زندگی اختیارکریگا۔جھوٹ کی جگہ سچ،نافرمانی کی جگہ فرمابرداری یہ ابن عباس کی تفسیر ہے دوسرا معنی یہ کیاگیاہےکہ قیامت کےدن اسکےتمام گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیگا۔نامہ اعمال میں وہ نیکیوں میں تول دئےجائینگے۔یہ کسقدرخوبصورت بات ہے۔ بیدل بدل دئےجائینگے۔ایک حدیث میں اتاہے۔ابوزرکہتےہیں کہ نبی صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ میں اھل جنت میں سے سب سےبعدمیں جانےوالےاوردوزخ میں سے سب سےاخرمیں نکلنےوالےکوجانتاہوں۔وہ ایک آدمی ہےجیسےقیامت کےدن لایاجائےگااورکہاجائےگاکہ اسکےسامنےاسہکےچھوٹےگناہ پیش کرواوراس سےاسکےبڑےگناہ اٹھارکھویعنی چھپارکھو۔cut offکردوتواسکےچھوٹےچھوٹےگناہ اسکےسامنےلائےجائینگے۔اورکہاجائےگاکہ فلاں فلاں دن تونےفلاں فلاں کام کیاوہ کہےگا(وہ انکار نہیں کرسکتا)تووہ کہےگااےمیرےرب میں نےایسےبرےکام کیے جنھیں میں یہاں نہیں دیکھ رہا۔ان گناہوں پراسکونیکیوں کابدلہ ملنےلگےگاتووہ کہےگاکہ کچھ اور بھی تھے۔توابوزرکہتےہیں کہ نبی صلی اللہ وسلم ہنسےیہاں تک کہ اپکےپچھلےدندان مبارک بھی نمایاں ہوگئے۔لیکن یہ اس صورت میں ہوتاہےجب برای کرنےکےبعدائیندہ نیکی کرنےکاپکاارادہ ہو۔گناہ کے عادت ہونےکےبعدنیکی کرنا زیادہ مشکل ہوتاہےایک عام انسان اسےپتاہےہہ یہ گناہ ہےوہ انکےپاس نہیں جاتااورایک وہ ہےجوکررہاہوتاہےوہ چھوڑتا ہےیہ زیادہ اجر وثواب کاباعث ہوتاہےکیونکہ وہ اپنےاندرایسی تبدیلی لارہاہے۔کہاجاتاہےکہ change is death یہ کہاوت ہے۔ایسےبندےکےلیےبرائیوں کوچھوڑنابہت مشکل تھا۔بحرحال
اس آیت سےتوبہ کی برکت اور توبہ کےفائدےکاپتاچل رہاہے۔ایک روایت ہےکہ ابوطبیل وہ نبی کریم صلی اللہ وسلم کےہاس آئے اوران سے کہاکہ ایسےادمی کےبارےمیں اپکاکیاخیال ہےجسنےتمام گناہوں کا ارتکاب کیاہواورکوئی گناہ نہ چھوڑاہواوراس سلسلےمیں اسنےاپنی ہرچھوٹی بڑی بری حاجت پوری کرلی ہوتوایسےشخص کےلیےبھی توبہ ہے۔اپ صلی نےکہاکہ تو مسلمان ہوگیاہےاسنےکہاکہ میں گواہی دیتاہےکہ اللہ ایک ہےاوراسکےعلاوہ کوئی الہ نہیں اوراپ اللہ کےرسول ہیں۔تواپ نےفرمایاکہ ایسےادمی کی توبہ قبول ہوسکتی ہے۔مگربات یہ ہےکہ تونیکی کےکام کراوربرائیاں چھوڑدے۔اللہ تیرے تمام گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیگا۔اسنےکہاکہ میرے تمام فریبوں اوربدکاریوں کوبھی آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں تووہ شخص اللہ اکبرکہتاہواواپس مڑااوردورتک اللہ اکبر،اللہ اکبرکہتارہا۔
ایسے کئی صحابہ تھےجوپہلےدشمن تھےاورپھرمسلمان ہوگئےجیسےعمروابن عاص،خالدبن ولید،اکرمہ بن ابوجہل،ابوسفیان یہ لوگ دین کےدشمن تھے لیکن بعد میں دین کے خادم بن گئے وکان اللہ غفور رحیم اوراللہ تعالیٰ بڑاہی غفور رحیم اس ساری بات کےبعدایت کےاخرمیں اللہ تعالیٰ کی دو صفات کاذکرکیاگیا۔توبہ کرنےوالےکےلیےاللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔اب سوال یہ پیداہوتاہےکہ کیاقتل کےلیےبھی توبہ ہےکہ نہیں ہے؟ہےجیسےوہ سوکےقاتل کی بھی قبول ہوئی تھی نا لیکن اگروہ سچےدل سےتوبہ کرےتواسکےلیےمعافی ہے۔پھرتوبہ کرنےوالےکی گواہی بھی قابل قبول ہوتی ہے۔امام بخاری کہتےہیں کہ جب چوری کرنےوالےکاہاتھ کاٹ دیاگیا اوروہ پھرتوبہ کرلےتواسکی گواہی قبول کی جائےگی۔وہ شخص جسپرحدنافذہوتواسکی گواہی قبول ہو جائے گی۔ وکان اللہ غفوررحیما بحرحال اس آیت سےبہت بڑی بات پتاچلتی ہےکہ ان الحسنات یذھبن السیئات نیکیاں برائیوں کولےجاتیں ہیں۔یہ اللہ لےجاتاہےلیکن یہ اسوقت ہوتاہےجب انسان کےاندرشدیداحساس ندامت ہو۔انسوہوں۔ایمان کی لذت پائے،اسکےروئےمیں تبدیلی واقع ہو۔ایمان کانیااحساس جاگ جائے۔معیزاسلمی پرحدجاری ہوئی تھی نااپ نےکیافرمایاکہ اگر یہ ایک گروہ پربھی تقسیم کردی جائےناتوسب کےلیےکافی ہوجائے۔جوسزاانکی ہوئی تھی تواسکےنتیجےمیں انہوں نے توبہ کرلی تھی نا۔اگرانسان کرشرک وقتل وغیرہ سے کیوں روکتاہے؟اسمیں اللہ کاتوکوئی ونقصان نہیں ہےنابلکہ انسان کےاپنےنقصان کی وجہ سے اللہ سبحان وتعالی روکتاہے۔

*واخردعوناعن الحمدللہ رب العالمین:*

Address

P. O. Box Aliot, Tehsil Kahuta, District Rawalpindi
Rawalpindi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Quran for All posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share