الرقیۃالشرعیہ

الرقیۃالشرعیہ دنیا کا کسی بھی قسم کا جادو ،جنات ،آسیب ،
شیا طین اور نظ?

18/08/2022

*چوتھا حصہ*
اور اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ھیں کہ یہ خوف ھی ھے جس نے ماضی میں بھی لوگوں کو غیراللہ کے آگے جھکنے پر مجبور کردیا اور آج بھی لوگوں نے ان جناتی اور آسیبی تصور کو اپنے اوپر سوار کر رکھا ھے
ان میں سے پہلا تصور جو ھمیں ڈراموں اور فلموں میں دکھایا جاتا ہے ان جنات کے حوالے سے وہ ان کی خوفناک اشکال ھیں
میں نہیں کہتا کہ یہ جنات کوئی خوبصورت مخلوق ھوگی مگر جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کو اگر ھماری نظروں سے اوجھل رکھا ہے تو اس کا مقصد یہ ھی ھے کہ انسان فطری طور پر کمزور پیدا کیا گیا ھے
جس طرح ھمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ھے کہ جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر انسان قبر میں دفنائے گئے مردے کی عذاب دئیے جانے کی وجہ سے چیخ و پکار سن لے تو وہ اپنے مردوں کو دفنانا چھوڑ دے
بلکل اسی طرح اگر انسان ان جنات کو دیکھ لے تو وہ گھر تو کیا آبادیاں چھوڑ دے تو اسی لیئے قول باری تعالیٰ ہے کہ تم انہیں نہیں دیکھ سکتے یہ تمہیں دیکھتے ھیں
اصل میں خوف کی فضاء پیدا ھی اس وقت ھوتی ھے جب انسان اپنے مشاہدے کو اس طرح بیان کرتا ھے کہ جیسے مثلا کوئی کہے میں رات کے وقت سویا ھوا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی تو میں نے ایک برقع پوش خاتون دیکھی جو میرے پاس سے گزر گئی یا اس نے میرے چہرے پر پانی پھینکا اب یہ اسکا مشاہدہ حقیقت میں نہیں تھا بلکہ اس نے سوئے ھوے جاگتی آنکھوں سے دیکھا
یعنی وہ نیند میں ھی تھا
اب اس نے تو اپنا مشاہدہ چار بندوں میں بیان کر
دیا اب جو یہ ساری کہانی سن رھے تھے جب یہ اپنے گھر میں گئے رات کو سونے کا وقت ھوا تو ان کی حالت پتلی ھو گئی
اور دوسرا مشاہدہ (جاری ھے)

16/08/2022

تیسراحصہ
انسانوں کے اعصاب پر سوار ھونے والے خوف کی ایک وجہ یہ بھی رھی ھے کہ اس نے ان نادیدہ چیزوں سے(جن کو خدا نے پہلے ھی انکی حد میں رکھا ھوا ھے) پناہ طلب کرنا شروع کردی
ابن عباس کی ایک روایت میں ھے کہ دور جاھلیت میں جب لوگ مختلف مقامات کا سفر کرتے ھوے رات کو کسی جگہ پڑاؤ کرتے تو اعلان کیا کرتے کہ اے اس علاقے کے مالک ,جن, ھم تیرے اس علاقے میں رات بسر کرنا چاہتے ہیں تو بس تم ھماری اشیاء کو نقصان نا پہچانا اور ھماری جان و مال کی حفاظت کرنا
تو اب قرآن کریم میں خود اللہ رب العزت نے سورہ جن میں ان جنات کا قول نقل کیا ہے جو جنات قرآن کریم کی آیات سن کر ایمان لائے تھے
ترجمعہ
اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے اس طرح انسانوں نے جنوں کو اور زیادہ مغرور کردیا
آیت نمبر 6 سورہ جن
تو جنوں نے سوچا کہ ھم تو پہلے ھی بڑی کمزور سی مخلوق ھیں اور چھپ چھپا کر دور ویرانوں میں بیٹھے ھیں اور یہ یہاں آکر ھم سے پناہ مانگتے ھیں چلو ان سے ان کی حفاظت کی ایک
قیمت وصول کرتے ھیں
اور وہ قیمت ان کے عقائد کو کمزور بنا کر ،
جعلی عاملین اور پیروں کے اسیر بنا کر
علاج کے نام پر چھلے دھاگے تعویذ گنڈے اور پڑھائی کئے ھوے کیل دیواروں میں گڑواکر بلکل ھی خدا کی رحمت سے دور کردیا
تو اب انسان ان جنات سے ڈریں نا تو کیا کریں

جاری ھے

15/08/2022

دوسراحصہ
ہزاروں سال پہلے جب انسان آسمانوں سے بھیجی گئی ھدایت کو فراموش کر بیٹھے تو انہوں نے اپنے عقائد کے اندر خدا کے تصور کو ھر اس خوف کے ساتھ منصوب کر دیا جو ان کی جان و مال اور املاک کو نقصان پہنچا سکتا تھا (جو کہ رب کائنات کے حکم کے بغیر ممکن ھی نا تھا )
پہاڑی علاقوں میں رہنے والے کڑکتی ھوئی بجلی گرج اور چمک کے خوف کو اپنا دیوتا تسلیم کرتے ھوے اس سے امن اور رحمت کی بھیک مانگتے
اور زمین پر رہنے والے لوگ چونکہ فصلیں کاشت کرتے تھے تو ان کو ان فصلوں کے بارش، ھوا، ژالہ باری، اولے، سیلاب کی وجہ سے تباہ ھونے کا خوف ھمیشہ دامن گیر رہتا
تو اسلیئے جتنی بھی یہ حوادث پیدا کرنے والی اشیاء ان کے مشاہدے میں آتی جا رہی تھیں وہ ان کو خدا کا درجہ دئیے جارھے تھے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے تو یہ انجام ھے ایک وحدہ لاشریک خدا کو چھوڑنے کا
اور تیسرا درجہ ھے ان جاہلانہ رسوم کو ادا کرنے والے مشرکین کا کہ جب انہوں نے دین ابراھیم میں تبدیلیاں کیں اور اپنی معاشرت میں جھوٹ ،کینہ پروری،زنا،بچیوں کو ژندہ درغور کرنا اور سود کے کھانے کو شامل کیا تو ان کی سزا رب نے ان کے دلوں میں دنیا کی محبت اور موت سے کراہت( جوکہ حق ھے) پیدا کردی اور اسی خوف کے ساتھ وہ باندی دئیے گئے ،
تو بس پھر ان کے دل ھر اس چیز سے لرز جاتے جو خدا نے ان کے ھی فائدے کے لیے بنائی تھی
اور پھر یہیں پر بس نہیں بلکہ وہ راستے جو وہ اپنی تجارت کے لئے استعمال کرتے تھے رات کے کسی پہر اگر انہوں نے پڑاؤ کرنا ھوتا تو وھاں کے جنات سے (جاری ھے)

پہلا حصہ دنیا میں جب بھی کہیں جادو اور جنات کے حوالے سے تذکرہ ھو خاص کر رات کے اس پہر کہ جب سناٹے کا یہ عالم ھو کہ آپ کی...
12/08/2022

پہلا حصہ
دنیا میں جب بھی کہیں جادو اور جنات کے حوالے سے تذکرہ ھو خاص کر رات کے اس پہر کہ جب سناٹے کا یہ عالم ھو کہ آپ کی سانسوں کی آواز بھی آپ کو سنائی دے رہی ھو تو آپ کے جسم کا ہر ایک رونگھٹا کھڑا ہو جاتا ھے اور اس محفل کے سارے ھی شرکاء بھلے وہ صوم وصلوہ کے کتنے ھی پابند کیوں نا ھوں وہ ان جنات و شیطین کو اپنے قریب محسوس کرنا شروع کر دیتے ھیں
یہ احساس ان کے اندر اسلیئے نہیں پیدا ہوتا کہ جنات اپنا تزکرہ خاص سن کر ان کو نظر آنا شروع ھو جاتے ھیں یا ان کے جسم کو اپنے ھاتھوں سے لمس کرتے ھیں ان میں سے کوئی کام بھی نہیں ھوتا مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کا نام لیتے ھی پھر اس جسد خاکی کا کپکپانا اور اور روح تک کا لرز جانا یہ عمل اتنا فطری کیوں ھوتا ھے کہ انسان کا اپنے اوپر اختیار نہیں رہتا
تو آئیے اس کی وجوہات کا جائزہ لیتے ھیں*

Address

Near Mosque Al-Fath Arya Muhala Liaquat Bagh
Rawalpindi
46300

Telephone

+923002131712

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when الرقیۃالشرعیہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share