18/08/2022
*چوتھا حصہ*
اور اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ھیں کہ یہ خوف ھی ھے جس نے ماضی میں بھی لوگوں کو غیراللہ کے آگے جھکنے پر مجبور کردیا اور آج بھی لوگوں نے ان جناتی اور آسیبی تصور کو اپنے اوپر سوار کر رکھا ھے
ان میں سے پہلا تصور جو ھمیں ڈراموں اور فلموں میں دکھایا جاتا ہے ان جنات کے حوالے سے وہ ان کی خوفناک اشکال ھیں
میں نہیں کہتا کہ یہ جنات کوئی خوبصورت مخلوق ھوگی مگر جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کو اگر ھماری نظروں سے اوجھل رکھا ہے تو اس کا مقصد یہ ھی ھے کہ انسان فطری طور پر کمزور پیدا کیا گیا ھے
جس طرح ھمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ھے کہ جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر انسان قبر میں دفنائے گئے مردے کی عذاب دئیے جانے کی وجہ سے چیخ و پکار سن لے تو وہ اپنے مردوں کو دفنانا چھوڑ دے
بلکل اسی طرح اگر انسان ان جنات کو دیکھ لے تو وہ گھر تو کیا آبادیاں چھوڑ دے تو اسی لیئے قول باری تعالیٰ ہے کہ تم انہیں نہیں دیکھ سکتے یہ تمہیں دیکھتے ھیں
اصل میں خوف کی فضاء پیدا ھی اس وقت ھوتی ھے جب انسان اپنے مشاہدے کو اس طرح بیان کرتا ھے کہ جیسے مثلا کوئی کہے میں رات کے وقت سویا ھوا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی تو میں نے ایک برقع پوش خاتون دیکھی جو میرے پاس سے گزر گئی یا اس نے میرے چہرے پر پانی پھینکا اب یہ اسکا مشاہدہ حقیقت میں نہیں تھا بلکہ اس نے سوئے ھوے جاگتی آنکھوں سے دیکھا
یعنی وہ نیند میں ھی تھا
اب اس نے تو اپنا مشاہدہ چار بندوں میں بیان کر
دیا اب جو یہ ساری کہانی سن رھے تھے جب یہ اپنے گھر میں گئے رات کو سونے کا وقت ھوا تو ان کی حالت پتلی ھو گئی
اور دوسرا مشاہدہ (جاری ھے)