13/09/2026
خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَنَزَلَ بِغَدِيرِ خُمٍّ، فَأَمَرَ بِدَوْحَاتٍ فَقُمِمْنَ، ثُمَّ قَالَ
«كَأَنِّي قَدْ دُعِيتُ فَأَجَبْتُ، إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ، أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ: كِتَابُ اللَّهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا، فَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ».
ثُمَّ قَالَ:
«أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟»
قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ.
قَالَ:
«أَلَسْتُ أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟»
قَالُوا: بَلَى.
فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ:
«مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ، وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَهُ».
ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ».
اردو ترجمہ:
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر روانہ ہوئے، یہاں تک کہ غدیرِ خم کے مقام پر تشریف لائے۔ وہاں درختوں کے نیچے کی جگہ صاف کروائی گئی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا:
“ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مجھے بلاوا آ چکا ہے اور میں اس دعوت کو قبول کرنے والا ہوں۔ میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے: اللہ کی کتاب اور میری عترت، میرے اہلِ بیت۔ پس دیکھو کہ میرے بعد تم ان دونوں کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہو۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس پہنچیں گے۔”
پھر آپ ﷺ نے فرمایا:
“کیا میں مؤمنین کے لیے خود ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق نہیں رکھتا؟”
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:
“کیوں نہیں، یا رسول اللہ ﷺ!”
آپ ﷺ نے فرمایا:
“کیا میں ہر مؤمن کے لیے خود اس کی جان سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟”
صحابہؓ نے عرض کیا:
“کیوں نہیں۔”
پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا:
“جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔ اے اللہ! جو علی سے ولایت و محبت رکھے، تو اس سے ولایت و محبت فرما؛ جو علی سے دشمنی رکھے، تو اس سے دشمنی فرما؛ جو علی کی مدد کرے، تو اس کی مدد فرما؛ اور جو علی کو بے یار و مددگار چھوڑے، تو اسے بے یار و مددگار کر۔”
پھر آپ ﷺ نے فرمایا:
“اے اللہ! گواہ رہ، اے اللہ! گواہ رہ۔”
اہم علمی نوٹ: (اوپر میں نے غدیرِ خم سے متعلق مشہور طویل روایتی متن پیش کیا ہے، لیکن اس پورے متن کے تمام جملے ایک ہی سند اور ایک ہی حدیث نمبر میں یکجا نہیں ہیں۔ مثلاً جامع ترمذی 3713 میں ثابت متن مختصر طور پر «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» ہے،)
🌹 حدیثِ غدیرِ خم — محبتِ رسول ﷺ، عظمتِ علیؓ اور حرمتِ صحابہؓ 🌹
اسلام کی تاریخ میں کچھ ایسے لمحات ہیں جنہیں صرف ایک واقعہ سمجھ کر نہیں پڑھا جا سکتا، بلکہ ان کے اندر محبتِ رسول ﷺ، عظمتِ اہلِ بیت اور امت کی وحدت کے گہرے پیغامات پوشیدہ ہوتے ہیں۔ انہی عظیم مواقع میں غدیرِ خم کا واقعہ بھی ہے۔
حجۃ الوداع سے واپسی کے موقع پر رسولِ اکرم ﷺ نے غدیرِ خم کے مقام پر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے مقام و فضیلت کو نمایاں فرمایا۔
روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟»
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:
«بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ»
یعنی:
“اے اللہ کے رسول ﷺ! کیوں نہیں، یقیناً آپ ہمیں ہماری جانوں سے بھی زیادہ محبوب و قریب اور ہم پر زیادہ حق رکھتے ہیں۔”
پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ»
یعنی:
“پس جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔ اے اللہ! جو علی سے محبت و وابستگی رکھے، تو اس سے محبت فرما، اور جو ان سے عداوت رکھے، تو اس سے عداوت فرما۔”
یہ مضمون مسند احمد کی متعدد روایات میں منقول ہے، جبکہ جامع ترمذی میں بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» کے الفاظ موجود ہیں، اور امام ترمذی نے اسے حسن غریب قرار دیا ہے
مولا” کا مفہوم
لفظ مولا عربی زبان کا وسیع المعنی لفظ ہے۔ اس میں دوست، محبوب، مددگار، حامی، سرپرست اور قریبی تعلق رکھنے والے جیسے معانی آتے ہیں۔
اس لیے اس حدیث کا ایک عظیم اور واضح پیغام یہ ہے کہ:
جس طرح رسول اللہ ﷺ سے محبت، وفاداری، نصرت اور قلبی تعلق ایمان کا حصہ ہے، اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت، ان کی عزت اور ان کے مقام کو پہچاننا بھی اہلِ ایمان کی شان ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ معمولی شخصیت نہیں؛ وہ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی، داماد، جلیل القدر صحابی، اہلِ بیت کے عظیم فرد، علم و شجاعت کے پیکر اور خلفائے راشدین میں سے ہیں۔
ان سے محبت دراصل محبتِ اہلِ بیت کا حصہ ہے، اور اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے محبت اہلِ ایمان کے دل کی زینت ہے۔
🌹 لیکن اہلِ بیت کی محبت، صحابہ کی تنقیص نہیں
یہاں ایک نہایت اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت میں کسی دوسرے صحابی کی توہین نہیں کر سکتے، اور صحابۂ کرام کی محبت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عظمت کو کم نہیں کر سکتے۔
یہ دونوں محبتیں ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کے صحابہ وہ مقدس جماعت ہیں جنہوں نے آپ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ پر ایمان لائے، آپ ﷺ کے ساتھ زندگی گزاری، دین کی خاطر اپنا مال، گھر، جان اور آرام قربان کیا اور قرآن و سنت کو ہم تک پہنچایا۔
اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی اسی مقدس جماعت کے ایک عظیم ستون ہیں۔
اس لیے اہلِ سنت کے نزدیک:
ہم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہیں، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہیں، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہیں، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہیں اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی عزت و حرمت کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں ۔
نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت میں کسی صحابی کی گستاخی درست ہے، نہ کسی صحابی کی محبت کے نام پر اہلِ بیت کی شان گھٹانا درست ہے۔
🌺 غدیرِ خم کا سب سے خوبصورت پیغام
غدیرِ خم کو اگر محبت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو اس میں ایک نہایت خوبصورت پیغام نظر آتا ہے:
رسول اللہ ﷺ اپنی امت کو اہلِ بیت کی محبت کا سبق دے رہے ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عزت، ان کی محبت، ان کے مقام کا اعتراف اور ان سے قلبی وابستگی، رسول اللہ ﷺ کے ارشاد سے روشن حقیقت ہے۔
اور یہی وہ علی ہیں جن کے بارے میں امت نے علم، شجاعت، تقویٰ، عبادت، فصاحت اور وفاداری کے بے شمار واقعات دیکھے۔
وہ علیؓ جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیا؛
وہ علیؓ جنہوں نے بدر، احد، خندق اور خیبر میں دین کی نصرت کی؛
وہ علیؓ جنہیں رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح عطا فرمایا؛
وہ علیؓ جن سے حسنین کریمین، حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا سلسلۂ نسب جاری ہوا؛
اور وہ علیؓ جو بعد میں امتِ مسلمہ کے چوتھے خلیفۂ راشد بنے۔
🌹 ہمارا عقیدۂ محبت
ہم کہتے ہیں:
محمد رسول اللہ ﷺ ہمارے آقا ہیں،
ان کے صحابہ ہمارے مقتدا ہیں،
ان کے اہلِ بیت ہمارے محبوب ہیں،
اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہمارے دل کے نہایت عزیز ہیں۔
ہم تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ادب کرتے ہیں۔
ہم اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے محبت کرتے ہیں۔
ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔
ہم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما سے محبت کرتے ہیں۔
اور ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم امت کے محسن ہیں۔
ان مقدس نفوس کے درمیان پیش آنے والے تاریخی معاملات کو بنیاد بنا کر کسی صحابی کی تنقیص یا گستاخی کرنا ہمارے لیے محبتِ رسول ﷺ کا راستہ نہیں۔
🌿 اختتامیہ
غدیرِ خم ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دل میں محبتِ مصطفیٰ ﷺ ہو، زبان پر درود و سلام ہو، سینے میں اہلِ بیت کی محبت ہو، اور دل میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا ادب ہو
Abdul Rehman Abbasi