04/10/2026
🌹 A Blessed Gathering of Durood-o-Salam & Dalail-ul-Khairat Sharif 🌹
Monthly Halaqa-e-Dalail-ul-Khairat Sharif & 3rd Annual Urs of Imam Muhammad bin Sulayman al-Jazuli رحمه الله
Saturday, 3rd October 2026 — Rangli Sharif, Tehsil Jand, District Attock
🌹💐 ایک یادگار، روح پرور اور بابرکت دن — رنگلی شریف، ضلع اٹک 💐🌹
الحمدللہ رب العالمین! آج بروز ہفتہ، 3 اکتوبر 2026ء، ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ کے گاؤں رنگلی شریف میں جناب ناصر علیم صاحب کی رہائش گاہ پر ماہانہ حلقۂ دلائل الخیرات شریف اور تیسرے سالانہ عرسِ حضرت امام محمد بن سلیمان الجزولی رحمۃ اللہ علیہ کی بابرکت تقریبات نہایت محبت، عقیدت اور روحانی کیفیت کے ساتھ منعقد ہوئیں۔
یہ وہی حلقہ ہے جو تقریباً تین سال قبل رنگلی شریف میں قائم ہوا تھا۔ ہر ماہ پہلے ہفتے، بروز ہفتہ، صبح ساڑھے دس بجے اس حلقے کا انعقاد ہوتا ہے، جس میں تقریباً ایک گھنٹہ دلائل الخیرات شریف کی قراءت کی جاتی ہے، پھر نعتِ رسولِ مقبول ﷺ، ختم شریف، صلاۃ و سلام، دعا اور آخر میں لنگر کا اہتمام ہوتا ہے۔
تین سال کی اس مسلسل نسبت اور حاضری کے بعد آج چوتھے سال کا پہلا ماہانہ حلقہ تھا، اور اسی مناسبت سے تیسرا سالانہ عرسِ حضرت امام جزولی رحمۃ اللہ علیہ بھی منعقد کیا گیا۔ یوں آج کی محفل صرف ایک معمول کا ماہانہ اجتماع نہ تھی بلکہ تین سالہ سفرِ درود و سلام کی ایک خوبصورت منزل اور ایک نئے سال کے بابرکت آغاز کی یادگار تقریب تھی۔
صبح ٹھیک 10:30 بجے محفل کا آغاز ہوا اور 11:30 بجے تک حاضرین نے دلائل الخیرات شریف کی قراءت میں شرکت کی۔ اس کے بعد ہمارے محترم دوست، شاعرِ خوش فکر سید احمد اقبال ترمذی صاحب نے تحت اللفظ حضورِ اقدس، رحمتِ عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بارگاہِ بے مثال میں دو نعتیں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔
اس کے بعد صاحبِ خانہ کی خواہش پر راقم الحروف، افتخار احمد حافظ قادری، خادمِ درود و سلام و دلائل الخیرات نے درود و سلام، دلائل الخیرات اور اس کے عظیم مصنف حضرت امام محمد بن سلیمان الجزولی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے ایک تفصیلی گفتگو کی۔
گفتگو کا مرکزی موضوع قرآنِ کریم کی یہ عظیم آیت تھی:
﴿اللّٰهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَن يُنِيبُ﴾
یعنی اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی طرف برگزیدہ کر لیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اسے اپنی راہ دکھاتا ہے۔
اس موقع پر یہ عرض کیا گیا کہ رنگلی شریف کی اس بابرکت بستی میں درود و سلام اور دلائل الخیرات کے لیے لوگوں کا یوں جمع ہونا محض ایک اچانک واقعہ نہیں؛ اللہ تعالیٰ کے علمِ ازلی میں بندوں کی زندگیاں، ان کے اعمال اور ان کے خیر کے کام پہلے ہی معلوم ہوتے ہیں۔ جب انسان دنیا میں آتا ہے تو اسے اختیار عطا کیا جاتا ہے، دعوت پہنچتی ہے، وہ اپنے ارادے سے نیکی کا راستہ اختیار کرتا ہے، اور پھر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسے خیر کے کاموں میں لگا دیتا ہے۔
اسی نسبت سے یہ امید ظاہر کی گئی کہ جو لوگ آج اس محفل میں بیٹھ کر اپنے محبوبِ مکرم ﷺ پر درود و سلام پڑھ رہے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان خوش نصیب بندوں میں شمار ہوں جنہیں اس مبارک عمل کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔ یہ امید ہے، دعویٰ نہیں؛ اور یہ سعادت یقیناً اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔
گفتگو میں درود و سلام کی فضیلت، محبتِ رسول ﷺ کی برکت، دلائل الخیرات شریف کی خصوصیات، اس کی علمی و روحانی قدر و منزلت اور حضرت امام جزولی رحمۃ اللہ علیہ کی مختصر سیرت و خدمات بھی بیان کی گئیں۔
حضرت امام جزولی رحمۃ اللہ علیہ کی مرتب کردہ دلائل الخیرات صدیوں سے عالمِ اسلام کے مختلف خطوں میں پڑھی، لکھی اور نقل کی جاتی رہی ہے، اور اس کے قلمی نسخے شمالی افریقہ سے لے کر عثمانی علاقوں، برصغیر اور جنوب مشرقی ایشیا تک ملتے ہیں۔ اسے سنی اسلامی روایت کی نہایت وسیع پیمانے پر گردش کرنے والی دعائیہ و devotional کتب میں شمار کیا گیا ہے۔
🌹 تقریبِ خراجِ تحسین و تبرکات 🌹
خطاب کے بعد ایک مختصر مگر نہایت پروقار تقریبِ خراجِ تحسین منعقد ہوئی۔ اس موقع پر سید احمد اقبال ترمذی صاحب کی طرف سے تمام حاضرین کو محبت اور یادگار کے طور پر عطر کی ایک ایک شیشی بطور تحفہ پیش کی گئی۔
اس کے بعد حلقے سے مسلسل وابستہ رہنے والے، باقاعدگی سے حاضری دینے والے اور اس مبارک سلسلے کی خدمت میں حصہ لینے والے چند احباب کا انتخاب کرکے ان کی تکریم و حوصلہ افزائی کی گئی۔
ان احباب کو چھوٹے چھوٹے مگر معنوی اعتبار سے قیمتی تبرکات پیش کیے گئے۔ ان میں عراق و ایران کے مقدس مزارات کی زیارات کے دوران حاصل ہونے والے تبرکات کے چھوٹے حصے بھی شامل تھے، جنہیں محبت اور نسبت کے ساتھ خوبصورت انداز میں محفوظ کرکے احباب کی خدمت میں پیش کیا گیا۔
اسی سلسلے میں دو احباب کو حضرت عباس علمدار رضی اللہ عنہ کے مزارِ اقدس کی چادروں کے تبرکی حصے بھی پیش کیے گئے۔
اس کے بعد حلقۂ دلائل الخیرات کے بانی جناب ناصر علیم صاحب کی تین سالہ مسلسل خدمت، میزبانی اور اس مبارک سلسلے کو قائم رکھنے پر خصوصی طور پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
ان کی تکریم کے لیے راقم الحروف نے وہ ٹوپی پیش کی جو بیرونِ ملک زیاراتِ مقدسہ کے دوران راقم کے سر پر رہتی رہی اور مختلف بزرگوں کے مزارات کی حاضریوں کی یاد اپنے اندر لیے ہوئے تھی۔ دستاربندی کی روایت کے بجائے اس موقع پر محبت و برکت کی علامت کے طور پر کلاہ بندی کی گئی اور یہ تبرک جناب ناصر علیم صاحب کو پہنایا گیا۔
اسی طرح گزشتہ سال کربلائے معلیٰ میں ایک صاحب کی طرف سے تحفے میں ملنے والی عقیق کی تسبیح بھی جناب ناصر علیم صاحب کو بطور یادگار و محبت پیش کی گئی۔
اس کے بعد تمام حاضرین نے کھڑے ہو کر صلاۃ و سلام پیش کیا، پھر ختم شریف پڑھا گیا، اور خادمِ درود و سلام کی طرف سے نہایت جامع و تفصیلی دعا کرائی گئی۔
بعد ازاں صاحبِ خانہ جناب ناصر علیم صاحب کی جانب سے تمام حاضرین کے لیے نہایت محبت و خلوص کے ساتھ پُرتکلف لنگر کا اہتمام کیا گیا۔
لنگر کے بعد نمازِ ظہر کا وقت ہوا اور خادمِ درود و سلام افتخار احمد حافظ قادری نے نمازِ ظہر کی امامت کرائی۔ نماز کے بعد عرسِ امام جزولی رحمۃ اللہ علیہ کی مناسبت سے منقبت کے اشعار پیش کیے گئے، اور آخر میں الوداعی دعا کے ساتھ یہ خوبصورت، روح پرور اور یادگار تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔
🌹 اللہ تبارک و تعالیٰ اس حلقۂ درود و سلام و دلائل الخیرات کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، اس میں شریک تمام احباب کی حاضری قبول فرمائے، ان کے گھروں، جان و مال، اولاد اور جملہ معاملات میں خیر و برکت عطا فرمائے، اور ہمیں محبتِ رسولِ اکرم ﷺ، کثرتِ درود و سلام اور نیک اعمال پر ثابت قدم رکھے۔
🌹 اللہ تعالیٰ حضرت امام محمد بن سلیمان الجزولی رحمۃ اللہ علیہ کی اس عظیم نسبت کو شرفِ قبول عطا فرمائے اور دلائل الخیرات شریف کے ذریعے امت کو درود و سلام کی اس مبارک دولت سے ہمیشہ فیض یاب فرماتا رہے۔
آمین یا رب العالمین، بجاہِ سید المرسلین ﷺ
صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہٖ وبارک وسلم 🌹💐
افتخار احمد حافظ قادری
خادمِ درود و سلام و دلائل الخیرات
Khadim e Darood O Salam & Dalail ul Khairat 🌹