دین اسلام

دین اسلام Pakistan zindabad

03/03/2024

رمضان المبارک میں کیا چیز استعمال نہیں کرنا؟
#الله

08/09/2023

’’لاَ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ ‘‘ کا ص)صحیح عقیدہ

15/07/2023

❤️❤️❤️

15/07/2023

❤️❤️

08/07/2022

ازبکستان کے ایک دور دراز دیہات میں پاکستانی تبلیغی جماعت پہنچی تو ان کے رہنے کا انتظام مسجد میں تھا،
نماز کا وقت ھوا، تبلیغی جماعت کے کچھ ارکان وضو کر کے واپس آئے تو مسجد میں داخل ھونے سے پہلے اپنے اپنے جوتے اٹھا کر اندر داخل ھوئے اور جوتوں کو مسجد کے ایک کونے میں رکھ دیا،
ایک مقامی بوڑھا حیرانگی سے یہ منظر دیکھ رھا تھا،
نماز ختم ھوئی تو اس بوڑھے نے جماعت کے امیر سے پوچھا کہ : وضو کے بعد ان لوگوں نے اپنے جوتے اندر کیوں رکھے،
امیر جماعت نے جواب دیا : حفاظت کیلئے، تاکہ کوئی باہر سے اٹھا کر نہ لے جائے، بوڑھے نے پوچھا : کیا آپ کے ملک میں مسجد کے باہر سے جوتے چوری ھو جاتے ہیں، امیر جماعت نے کہا : جی ہاں، بدقسمتی سے،
تو بوڑھے نے کہا کہ : پھر آپ یہاں اتنی دور ہمارے ملک میں کیا تبلیغ کرنے آئے ہیں، تبلیغ کی سب سے زیادہ ضرورت تو آپ کی قوم کو ھے کیونکہ ہمارے ہاں تو مسجد کے اندر یا باہر سے کوئی چیز چوری نہیں ھوتی۔۔
منقول ۔۔

❤👑            ❤❤😍😍
07/07/2022

❤👑 ❤❤😍😍

07/07/2022

07/07/2022
07/07/2022

یہ تقریباً 1957ء کی بات ہے، کہ فرانس میں کہیں ایک رہائشی عمارت کی نکڑ میں ترکی کے ایک پچاس سالہ بوڑھے آدمی نے چھوٹی سی دکان بنا رکھی تھی۔ اردگرد کے لوگ اس بوڑھے کو "انکل ابراہیم" کے نام سے جانتے اور پکارتے تھے۔ انکل ابراہیم کی دکان میں چھوٹی موٹی گھریلو ضروریات کی اشیاء کے علاوہ بچوں کیلئے چاکلیٹ، آئسکریم اور گولیاں، ٹافیاں دستیاب تھیں ...!
اسی عمارت کی ایک منزل پر ایک یہودی خاندان آباد تھا جن کا ایک سات سالہ بچہ (جاد) تھا۔ جاد تقریباً روزانہ ہی انکل ابراہیم کی دکان پر گھر کی چھوٹی موٹی ضروریات خریدنے کیلئے آتا تھا۔ دکان سے جاتے ہوئے انکل ابراہیم کو کسی اور کام میں مشغول پا کر جاد نے کبھی بھی ایک چاکلیٹ چوری کرنا نہ بھولی تھی، ایک بار جاد دکان سے جاتے ہوئے چاکلیٹ چوری کرنا بھول گیا۔ انکل ابراہیم نے جاد کو پیچھے سے آواز دیتے ہوئے کہا :
" جاد ...! آج چاکلیٹ نہیں اُٹھاؤ گے کیا ...؟ "
انکل ابراہیم نے یہ بات محبت میں کی تھی یا دوستی سے مگر جاد کیلئے ایک صدمے سے بڑھ کر تھی۔ جاد آج تک یہی سمجھتا تھا کہ اس کی چوری ایک راز تھی مگر معاملہ اس کے برعکس تھا۔ جاد نے گڑگڑاتے ہوئے انکل ابراہیم سے کہا کہ :
" آپ اگر مجھے معاف کر دیں، تو آئندہ وہ کبھی بھی چوری نہیں کروں گا "
مگر انکل ابراہیم نے جاد سے کہا :
"اگر تم وعدہ کرو کہ اپنی زندگی میں کبھی بھی کسی کی چوری نہیں کرو گے تو روزانہ کا ایک چاکلیٹ میری طرف سے تمہارا ہوا، ہر بار دکان سے جاتے ہوئے لے جایا کرنا۔"
اور بالآخر اسی بات پر جاد اور انکل کا اتفاق ہو گیا ...!
وقت گزرتا گیا اور اس یہودی بچے جاد اور انکل ابراہیم کی محبت گہری سے گہری ہوتی چلی گئی۔ بلکہ ایسا ہو گیا کہ انکل ابراہیم ہی جاد کیلئے باپ، ماں اور دوست کا درجہ اختیار کر چکا تھا۔ جاد کو جب کبھی کسی مسئلے کا سامنا ہوتا یا پریشانی ہوتی تو انکل ابراہیم سے ہی کہتا، ایسے میں انکل میز کی دراز سے ایک کتاب نکالتے اور جاد سے کہتے کہ کتاب کو کہیں سے بھی کھول کر دو۔ جاد کتاب کھولتا اور انکل وہیں سے دو صفحے پڑھتے، جاد کو مسئلے کا حل بتاتے، جاد کا دل اطمینان پاتا اور وہ گھر کو چلا جاتا ...!
اور اسی طرح ایک کے بعد ایک کرتے سترہ سال گزر گئے۔ سترہ سال کے بعد جب جاد چوبیس سال کا ایک نوجون بنا تو انکل ابرہیم بھی اس حساب سے سڑسٹھ سال کے ہوچکا تھے ۔ داعی اجل کا بلاوا آیا اور انکل ابراہیم وفات

Address

Rawalpindi

Telephone

+923435729132

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when دین اسلام posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to دین اسلام:

Share