مجھے ہے حکم اذاں

مجھے ہے حکم اذاں This page is just to present the real Islam ( The Way Of Life) according to Quran and Sunnah. Welcome queries.

22/12/2025
24/10/2023

💠💠لمحئہ فکریہ 💠💠
◀️ دعوہ کرنے والوں کو خبردار کرنے والے کیجانب سے خبردار کیا جا رہا ہے، ہمیں بغور پڑھ کے، سمجھ کے اور عمل کی کوشش کرنی چاہیے۔
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمۡ وَ اخۡشَوۡا یَوۡمًا لَّا یَجۡزِیۡ وَالِدٌ عَنۡ وَّلَدِہٖ ۫ وَ لَا مَوۡلُوۡدٌ ہُوَ جَازٍ عَنۡ وَّالِدِہٖ شَیۡئًا ؕ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ۔ 🔹️لقمان 33🔹️
ترجمہ:
لوگو! بچو اپنے رب کے غضب سے اور ڈرو اس دن سے جبکہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ نہ دے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی اپنے باپ کی طرف سے کچھ بدلہ دینے والا ہو* ہوگا۔ فی الواقع اللہ کا وعدہ** سچا ہے۔
مختصر تفسیر:
◀️ * یعنی دوست، لیڈر، پیر اور اسی طرح کے دوسرے لوگ تو پھر بھی دور کا تعلق رکھنے والے ہیں، دنیا میں قریب ترین تعلق اگر کوئی ہے تو وہ اولاد اور والدین کا ہے۔ مگر وہاں حالت یہ ہو گی کہ بیٹا پکڑا گیا ہو تو باپ آگے بڑھ کر یہ نہیں کہے گا کہ اس کے گناہ میں مجھے پکڑ لیا جائے، اور باپ کی شامت آ رہی ہو تو بیٹے میں یہ کہنے کی ہمت نہیں ہو گی کہ اس کے بدلے مجھے جہنم میں بھیج دیا جائے۔ اس حالت میں یہ توقع کرنے کی کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ کوئی دوسرا شخص وہاں کسی کے کچھ کام آئے گا۔ لہذا نادان ہے وہ شخص جو دنیا میں دوسروں کی خاطر اپنی عاقبت خراب کرتا ہے، یا کسی کے بھروسے پر گمراہی اور گناہ کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ اس مقام پر لقمان آیت 15 کا مضمون بھی نگاہ میں رہنا چاہیے جس میں اولاد کو تلقین کی گئی تھی کہ دنیوی زندگی کے معاملات میں والدین کی خدمت کرنا تو بے شک برحق ہے مگر دین و اعتقاد کے معاملہ میں والدین کے کہنے پر گمراہی قبول کر لینا ہرگز صحیح نہیں ہے۔
◀️ ** اللہ کے وعدے سے مراد یہ وعدہ ہے کہ قیامت آنے والی ہے اور ایک روز اللہ کی عدالت قائم ہو کر رہے گی جس میں ہر ایک کو اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی ہو گی۔
🔹️ترجمہ و تفسیر منقول🔹️

02/10/2023

💠💠لمحئہ فکریہ 💠💠
(اے نبی(ص)) تم مردوں کو نہیں سنا سکتے¹، نہ ان بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہو جو پیٹھ پھیرے چلے جا رہے ہوں²، اور نہ تم اندھوں کو انکی گمراہی سے نکال کر راہ راست دکھا سکتے ہو³، تم تو انھی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے اور سر تسلیم خم کر دیتے ہیں۔
الروم 52-53

1) یہاں مردوں سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے ضمیر مر چکے ہیں، جن کے اندر اخلاقی زندگی کی رمق بھی باقی نہیں رہی ہے، جن کی بندگی نفس اور ضد اور ہٹ دھرمی نے اس صلاحیت ہی کا خاتمہ کر دیا ہے جو آدمی کو حق بات سمجھنے اور قبول کرنے کے قابل بناتی ہے ۔
2) بہروں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے دلوں پر ایسے قفل چڑھا رکھے ہیں کہ سب کچھ سن کر بھی وہ کچھ نہیں سنتے۔ پھر جب ایسے لوگ یہ کوشش بھی کریں کہ دعوت حق کی آواز سرے سے ان کے کان میں پڑنے ہی نہ پائے، اور داعی کی شکل دیکھتے ہی دور بھاگنا شروع کر دیں تو ظاہر ہے کہ کوئی انہیں کیا سنائے اور کیسے سنائے؟
3) یعنی نبی(ص) کا کام یہ تو نہیں ہے کہ اندھوں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں ساری عمر راہ راست پر چلاتا رہے، وہ تو راہ راست کی طرف رہنمائی ہی کر سکتا ہے۔ مگر جن لوگوں کے دل کی آنکھیں پھوٹ چکی ہوں اور جنہیں وہ راستہ نظر ہی نہ آتا ہو جو نبی(ص) انہیں دکھانے کی کوشش کرتا ہے، ان کی رہنمائی کرنا نبی(ص) کے بس کا کام نہیں ہے ۔

لمحئہ فکریہ
26/09/2023

لمحئہ فکریہ

💠💠 لمحئہ فکریہ 💠💠 اس سے بڑا وعظ کیا ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے ہم عمروں کو مرتا اور اپنے ہم نشینوں کو دنیا چھوڑتا ہوا دیکھتے ...
26/09/2023

💠💠 لمحئہ فکریہ 💠💠
اس سے بڑا وعظ کیا ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے ہم عمروں کو مرتا اور اپنے ہم نشینوں کو دنیا چھوڑتا ہوا دیکھتے ہیں، اور اپنے پیاروں کی قبروں سے گزرتے ہیں۔ تب ہمیں جان جانا چاہیے کہ کچھ دنوں بعد ہم بھی انہی کی طرح ہونے والے ہیں، لیکن ہم ان سے سبق نہیں لیتے، یہاں تک کہ ہمارا دوسروں کے لیے سبق بننے کا وقت آ جاتا ہے۔
منقول۔

Address

Baldia Ada
Rawala Kot

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مجھے ہے حکم اذاں posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share