30/05/2026
یہ ایک سعودی عرب میں کام کرنے والے کی داستان ہے
سعودی عرب میں پچھلے چھ سال سے محنت مزدوری کر رہا ہوں اور تقریباً ہر مہینے تین ہزار ریال سے چار ہزار ریال تک کما لیتا ہوں اور یہاں کے خرچے نکل کر جو بچتے ہیں وہ مہینے کی پہلی یا دو تین تاریخ کو گھر بیجھ دیتا ہوں جو پاکستانی دو سے دھائی لاکھ بن جاتے ہیں تا کہ گھر والے اپنے خرچے کر کے کچھ نہ کچھ جمع پونجی بھی کر لیں لیکن مجھے بہت حیرت ہوئی اس دن جب آج سے تقریباً ڈیڑھ دو مہینے پہلے مینے گھر والوں سے بولا کے پاکستان چھُٹی آرہا ہوں تو گھر والے فوراً بولے کے کتنے پیسے ہیں تمہارے پاس مینے بولا کے میرے پاس تو اِسی مہینے کے ہوں گے جس میں مینے اپنی ٹکٹ اور شاپنگ وغیرہ کرنی ہے یہ بات سنتے ہی گھر والے غصے سے بڑے انداز سے بولے پھر ادھر آ کے کہاں سے کھاؤ گے یہاں تو کوئی ہمارا کاروبار بھی نہیں چل رہا تو مینے بولا اتنے سال جو میں پیسے بیجھتا رہا ہوں کیا ان میں سے کچھ بھی نہیں جمع کیا آپ لوگوں نے تو بولے کے جو تم پیسے بیجھتے تھے تو گھر کے خرچے کر کے کہیں نہ کہیں آنا جانا اوپر سے تمہارا بھائی بھی جس کوئی کوئی کام نہیں تھا مل رہا وہ بھی گھر پر فارغ تھا اس کے بچوں کی اسکول کی فیسیں اور اُس کے چھوٹے بچوں کا دودھ وغیرہ سارا خرچہ یہاں سے ہی تو چل رہا تھا اب اگر تم بھی پاکستان آگے تو گھر کیسے چلے گا ہمارا کچھ وقت صبر کر لو کچھ پیسے جمع کر لو تو پھر آنا ویسے بھی اگلے مہینے تمہارے ماموں کے بیٹے کی شادی بھی آرہی ہے وہاں بھی پیسوں کی ضرورت ہے یہ ساری باتیں سن کر میں تو پانچ منٹ کے لئے جیسے صدمے میں ہی چلا گیا اس کے بعد بات ختم کر کے خدا حافظ بولا اور پھر میں نے یہ ہی فیصلہ کیا کے اب صرف او صرف اپنے لئے ہی کمانا ہے اور میں ہر وہ کام کر کے وقت گزارنے لگ گیا جس سے ریال بچائے جا سکیں پچھلے کچھ دنوں سے لگاتار فون کر کے بول رہے ہیں کے پیسے بیجھو عید آگئ ہے کپڑے لینے ہیں فلاں رشتہ در کے پاس جانا ہے فلاں کے پاس جانا ہے تو میں بول رہا ہوں کے کام ہی نہیں چل رہا ادھر میں گھر پر فری ہوں تو پیسے کہاں سے بیجھوں کیا مجھے ان سے ایسے ہی سلوک رکھنا چائیے