06/07/2026
یہ محض صوفیاء کا قول نہیں بلکہ قرآنِ کریم کے اصول سے ماخوذ ایک حقیقت ہے
اللہ تعالیٰ نے جب فرشتوں کو حکم دیا: (البقرة 34)
"اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ کا۔فر۔۔وں میں ہو گیا"
یہاں یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام نہ صرف ہمارے جدِ امجد ہیں بلکہ پہلے معلم اور شیخ بھی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (البقرة 31)
"اور اللہ نے آدم کو تمام نام سکھا دیے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا اگر تم سچے ہو تو ان کے نام بتاؤ"
پس سب سے پہلے استاد اور شیخ سیدنا آدم علیہ السلام ہیں فرشتوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے وسیلے سے علم عطا فرمایا یہی سلسلہ ہدایت آگے بڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یکے بعد دیگرے اپنے برگزیدہ انبیاء مبعوث فرمائے، سیدنا نوح، سیدنا ابراہیم، سیدنا موسیٰ اور سیدنا عیسیٰ علیہم السلام، سب اللہ کے منتخب کردہ رہنما تھے۔ مگر جب بھی کوئی نبی آیا، لوگوں نے اس کا انکار کیا سب سے پہلا انکار ابلیس نے سیدنا آدم علیہ السلام کے بارے میں کیا اور اس انکار کی بنیاد تکبر اور سرکشی تھی
ابلیس نے اللہ تعالیٰ کے حضور قسم کھائی: (الأعراف 16-17)
اس نے کہا کہ"چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں ضرور تیرے سیدھے راستے پر ان کے لیے بیٹھوں گا، پھر ان کے آگے سے، پیچھے سے، دائیں سے اور بائیں سے آؤں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا"
مگر ساتھ ہی اس نے یہ بھی اقرار کیا:
إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ (الحجر 40)
"سوائے تیرے ان بندوں کے جو مخلص ہیں"
یہ وہی اللہ کے برگزیدہ انبیاء، اولیاء اور اہلِ بیت اطہار ہیں جن پر شیطان نے خود اپنے بے بس ہونے کا اعتراف کیا
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَاوِينَ (الحجر 42)
"بے شک میرے بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا، مگر جو تیری پیروی کریں گے وہی گمراہ ہوں گے"
اس سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ کے مقرب بندے ہی دراصل سیدھی راہ کی نشانی ہیں۔ جو ان سے وابستہ ہو گیا وہ اللہ تک پہنچ گیا، اور جس نے انکار کیا وہ شیطان کے راستے پر چل پڑا
قرآن میں فرمایا گیا:
وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ (الرعد 7)
"ہر قوم کے لیے ایک رہنما ہے"
اور مزید فرمایا:
وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ (الرعد 33)
"اور جسے اللہ گمراہ کر دے، اس کے لیے کوئی رہنما نہیں"
یعنی ہر زمانے میں ہدایت کے لیے ایک رہبر کا ہونا ضروری ہے۔ اور جس کے پاس ایسا رہنما نہ ہو، وہ گمراہی کا شکار ہو جاتا ہے۔
قرآن میں یہ بھی ارشاد ہوا:
يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ (الإسراء 71)
"جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے"
لہٰذا جس کا کوئی امام نہ ہوگا وہ محرومی اور گمراہی کے ساتھ اٹھایا جائے گا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
(صحیح مسلم 1851)
"جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ اس کے گلے میں بیعت نہ تھی، وہ جاہلیت کی موت مرا"
بیعت کا تصور قرآن میں بھی بیان ہوا:
إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ (الفتح 10)
"بے شک جو آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ دراصل اللہ سے بیعت کرتے ہیں"
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی خلفائے راشدین کے ساتھ اسی طرح بیعت کی
اگر کوئی شخص اہلِ بیت کے تسلسل کا انکار کرے اور یہ کہے کہ یہ سلسلہ ختم ہو چکا ہے تو یہ وہی طرزِ فکر ہے جو مشر۔۔کینِ مکہ نے اختیار کیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی نسل منقطع ہو جائے گی اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الۡاَبۡتَرُ (الكوثر 3)
یقیناً آپ کا دشمن ہی لا وارث اور بے نام و نشان ہے
تاریخ گواہ ہے کہ مخالفین کا نام و نشان مٹ گیا مگر رسول اللہ ﷺ کی نسل اہلِ بیت کے ذریعے آج بھی قائم و دائم ہے اور قیامت تک رہے گی
اہلِ بیت اور اولیاء اللہ سے تعلق محض ایک سماجی یا تاریخی نسبت نہیں بلکہ ایمان کا حصہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: (مسلم، ترمذی)
" میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، اگر تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہو گے، اللہ کی کتاب اور میری عترت اہلِ بیت، اور یہ دونوں جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض پر میرے پاس آئیں گے"
مزید احادیث میں اہلِ بیت کی محبت اور ادب کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور ان سے بغض کو سخت وعید کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ انسان یا تو اللہ کے چنے ہوئے بندوں، انبیاء، اولیاء اور اہلِ بیت کے ساتھ وابستہ ہو کر ہدایت کی راہ پر ہوتا ہے، یا پھر شیطان کے دھوکے میں آ کر گمراہی کی راہ اختیار کرتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی تیسرا راستہ نہیں