سُنَّةٌ مِنْ رَبِّهِ ۞ وَ سُنَّةٌ مِنْ نَبِيِّهِ ۞ وَ سُنَّةٌ مِنْ وَلِيِّهِ۞
ایک سنت اپنے خدا کی ، ایک سنت اپنے نبی کی
اور ایک سنت اپنے امام کی ۔
فَأَمَّا السُّنَّةُ مِنْ رَبِّهِ فَكِتْمانُ سِرِّهِ۞
اپنے پروردگارکی ایک سنت اپنے راز کا چھپاناہے۔
اپنا راز چھپانا سنت الہی ہے
راز یعنی سر، یعنی وہ چیز جسے دل میں چھپاہونا چاہئیے اور وہ چیز جسے پوشیدہو نا چاہئیے اسے "سر " کہتے ہیں۔
حفظ اسرار کو اللہ سے سیکھنا چاہئیے۔
خداوند ہر کسی سے زیادہ اور ہر کسی سے پہلے اپنے بندوں کے اعمال، حالات، رفتار، عیوب اور گناہوں سے با خبر ہے۔
لیکن اسکا حلم ،پرده پوشی اور رازداری سب سے زیادہ ہے۔
چنانچہ فرمایا:: عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلَى غَیْبِهِ أَحَدًا
(سورہ جن آیت26)
وہ غیب (پوشیدہ اسرار) کا جاننے والا ہے اور کسی کو اپنے اسرار سے آگاہ نہیں کرتا۔( سوائے اپنے اس رسول کے جسے وہ اس بات کے لئے منتخب کرتا ہے)
خداوند تمام اسرار سے آشنا ہے اور تمام اتفاقات سے آگاہ ۔
لیکن اس کے اسکے اسرار غیب سے کوئی آگاہ نہیں ہے۔
خداوند متعال خود اپنے بندوں کے رازوں کو چھپاتاہے۔
امام علی (علیہ السلام) نے فرمایا
"مَن ضَعُفَ عَنْ حِفْظِ سِرِّهِ لَم یَقْوٰی لِسِّرِ غَیرهِ"
جواپنی رازداری میں کمزورہو وہ دوسروں کی رازداری نہیں کرسکتا۔ (غرر الحكم: 8941.)
جواپنے راز کی حفاظت میں ناتواں یا بے اعتنا ہو اس سے توقع نہیں رکھنی چاہئیے کہ وہ لوگوں کے اسرار کو پوشیدہ رکھے گا۔
امام باقر (علیہ السلام)فرماتے ہیں:
لَم یَخُنْکَ الْاَمینُ و لکِن اِئْتَمَدْتَ الخائنَ
امین شخص تجھ سے خیانت نہیں کریگا لیکن یہ توہے کہ خیانت کار کے ہاتھ میں امانت سپرد کرتاہے۔
(تهذیب الأحكام: 7/ 232/ 1013)
وَ أَمَّا السُّنَّةُ مِنْ نَبِيِّهِ فَمُداراةُ النّاسِ۞
اپنے نبیؐ کی ایک سنت جو کہ مومن میں ہونا چاہئیے وہ لوگوں کے ساتھ مدارات اور مہربانی کرناہے۔
لوگوں سے مہربانی کرنا سنت نبوی ہے۔
مومنین سے مودت اور لوگوں کے ساتھ مدارات یعنی مہربان ہونااور نرم برتاؤ رکھنا ،اسلامی نیک خصلتوں میں سے ہیں۔
مختلف حالات میں ممکن ہے کہ لوگوں سے ناشایستہ اور نادرست کردار سرزد ہواور کوئی غلطی کرجائے ۔
اسیلئے چاہئیے کہ لوگوں مہربان رہیں اور سخت گیری نہ کریں۔
اگر ہم لوگوں کی نسبت سخت گیری سے کام لیں
عیب جوئی کریں ،لوگوں کو مختلف مشکلات میں پھنسادیں
تو ہم نے غیر اخلاقی کام انجام دیاہے۔
سنت و سیره پیامبر (ص) یہ ہے کہ حتی کہ منافقین ،مخالفین اور دشمنوں کی نسبت بھی مدارات سے کام لیتے تھے ۔
انکی ناشایستہ باتوں کو سننے کے باوجود اَنْ سنی کردیتے تھے ۔
کبھی وہ جھوٹ بول رہے ہوتے اور حضورؐ جانتے کہ جھوٹ بول رہے ہیں پھربھی انکے ظاہرکلام پر ہی بسندہ کرتے تھے۔
کبھی وہ حضورؐ کا مذاق اڑاتے ،تحقیر سے انہیں "اُذُنْ" کہتے تھے
یعنی کان ہیں(ہر کسی کی بات سنتے ہیں)۔(سورہ توبہ 6)
حضور(ص) فرماتے ہیں کہ
أَمَرَنى رَبّى بِمُداراةِ النّاسِ كَما أَمَرَنى بِأَداءِ الفَرائِضِ
اللہ نے مجھے لوگوں سے نرم برتاؤ کا حکم دیا ہے جس طرح انجام واجبات کا حکم دیا ہے۔
كافى (ط-الاسلامیه) ج 2، ص 117، ح 4
ایک اورجگہ فرمایا:
أعقَلُ الناسِ أشَدُّهُم مُداراةً للناسِ
لوگوں میں عقل مند ترین شخص وہ ہے جو سب سے زیادہ لوگوں کے ساتھ نرمی اور مہربانی سے پیش آتاہے۔
میزان الحكمه، ج ، 493، حدیث: 7563.
بہر حال رسول گرامی اسلام n اور پیشوایان دین لوگوں کے ساتھ نرمی اور مدارات کے ساتھ پیش آتے تھے ۔
اگر ایسا نہ ہوتا تو شاید ایک دن بھی لوگوں کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتے تھے ۔
کیونکہ لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے بلکہ گوناگونا
تہذیب وثقافت قوم وملت والے ہوتے ہیں
مختلف آداب و اطوار اورمختلف اخلاق والے ہوتے ہیں۔
کچھ لوگ زود رنج تو کچھ تند خوُ اور کچھ جلد باز ہوتے ہیں۔
کچھ لوگ بے حوصلہ ہیں تو کچھ لوگ زود باور۔
اگر رهبران الهی اگر رِفق ومُدارا نہ رکھتا ہو
اور لوگوں سے نرمی اورمہربانی سے برتاؤ نہ کرتاہو
تو وہ لوگ اپنی زندگی میں شکست کھائیں گے۔
وہ ہرگز میدان عمل میں کامیاب نہیں ہونگے ۔
اگر انسان خشک اور ہَٹ دَھرم (ضدی) ہو تو وہ کبھی بھی لوگوں کے ساتھ گزر بسر نہیں کرسکتے ۔
حتما منزَوی ( تنہا) ہوکر معاشرہ کے لئے کام نہیں کرسکتے۔
فرازهای برجسته از سیره امامان شیعه (ع) جلد دوم،
محمد تقی عبدوس و محمد محمدی اشتهاردی.
اسی لئے حضور(ص) فرماتے ہیں:
إِنَّ الانبیاءَ إِنَّما فَضَّلَهُمُ اللهُ عَلى خَلقِهٖ بِشِدَّةِ مُداراتِهِم لأَعداءِ دینِ اللهِ و َحُسْنِ تَقِیَّتِهِم لأَجلِ إِخوانِهِم فِى اللهِ
بے شک انبیاءؑ کو اللہ نے مخلوقات پر فضیلت دی ہے
کیونکہ وہ دشمنان دین سے مہربانی سے برتاؤ کرتے تھے ۔
اور اپنے دینی بھائیوں کی حفاظت کےلئے بہتر طورپر تقیہ کرتے تھے۔
بحارالأنوار (ط-بیروت) ج 72، ص 401، ح 42
۔ وَ أَمَّا السُّنَّةُ مِنْ وَلِيِّهِ فَالصَّبْرُ فِى الْبَأْساءِ وَ الضَّرّاءِ
ایک سنت جو مومن میں ولی خدا اور امام کی ہونی چاہئیے
وہ یہ ہے کہ فقر و تنگ دستی اور درد وبیماری میں صبرواستقامت کامظاہرہ کرے ۔
بے صبری اور بے قراری کا نہ دکھائے۔
تنگدستی اورپریشانی میں صبرکرنا امام کی سنت ہے
صبر وشکیبائی مہم ترین زمینہ ہوتاہے فیض وعنایات الہٰی کے دریافت کے لئے۔
یہاں تک کہ ائمہ اطہارصبرعظیم رکھنے کی وجہ سے
مقام شامخ(بلند) ولایت وامامت پہ نائل ہوئے۔
خداوند متعال فرماتاہے۔
وَ جَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّۃً یَهْدُونَ بِأَمْرِنا لَمَّا صَبَرُوا...
ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو امام اور پیشوا قرار دیا ہے
جو ہمارے امر سے لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں
اس لئے کہ انہوں نے صبر کیا ہے۔
(سورہ نمبر32 سورہ سجدہ آیت نمبر24)
حضرت امیرالمومنینA فرماتے ہیں۔
الصَّبرُ فِی الامورِ بمَنزِلَةِ الرَّأسِ مِنَ الجَسَدِ،
کاموں میں صبرکی مثال سرکی مثال ہے بدن کے لئے۔
فإذا فارَقَ الرَّأسُ الجَسَدَ فَسَدَ الجَسَدُ
جب سر بدن سےجداہوجائے تو بدن ختم ہوجاتاہے
و إذا فارَقَ الصَّبرُ الامورَ فَسَدَتِ الامورُ.
اگر کاموں میں سے صبر جدا ہوجائے تو کام تباہ ہو جاتاہے
كافى(ط-الاسلامیه) ج2، ص90، ح9
منقول ہے کہ پیامبر خدا (ص) نے صبر کا معنی اور تفسیر کے بارے میں سوال کیا تو جبرئیل نے عرض کیا ۔
یَصْبِرُ فِى الضَّرَّاءِ کَمَا یَصْبِرُ فِى السَّرَّاءِ
انسان سختیوں میں ایسے ہی صبرکیا کر یں جیسے آسائش کے دنوں میں کیا کرتا ہے۔
و فی الفاقَةِ كما یَصبِرُ فی الغَناءِ
تُہی دستی بھی میں ایسے ہی صبرکریں جیسے توانگری کے دنوں میں کیا کرتے ہیں ۔
و فی البَلاءِ كما یَصبِرُ فی العافیَةِ،
بیماری اور گرفتاریوں میں ایسے ہی صبرکیا کریں جیسے سلامتی اور عافیت کے دنوں میں کیا کرتے ہیں ۔
فَلَا یشْکُو حَالَهُ عِنْدَ الْمَخْلُوقِ بِمَا یُصِیبُهُ مِنَ الْبَلَاء
اورهرگز زمانے کی مصیبتوں کے سبب مخلوق کے پاس اپنے خالق کی شکایت نہ کرے۔ (ابن فهد حلى، 1375، ص 159)
(مجلسى، 1403ق، ج 66، ص 373)
پیامبر خدا (ص) نے فرمایا:
أربعٌ مِن كُنوزِ الجنّةِ: كِتْمانُ الفاقةِ و كِتْمانُ الصَّدقَةِ
و كِتْمانُ المُصیبَةِ و كِتْمانُ الوَجَعِ
چارچیزیں جنت کے پوشیدہ خزانے ہیں۔تنگدستی کو چھپانا، صدقہ کو چھپانا ، مصیبت کو چھپانا، اور درد کو چھپانا۔
(میزان الحكمه، ج 2 299 ، حدیث 2808.)
سیداحمد علی شاہ موسوی بلتستانی