Islamic Information

Islamic Information Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Islamic Information, Religious organisation, Sardar Muhalah, Quetta Cantonment.

14/02/2020

صحیح مسلم
کتاب: جمعہ کا بیان
باب: جمعہ کے دن کی فضیلت کے بیان میں
حدیث نمبر: 1977

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ

ترجمہ:
قتیبہ بن سعید، مغیرہ حزامی، ابوالزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ بہترین دن کہ جس میں سورج نکلتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے اسی دن میں حضرت آدم (علیہ السلام) پیدا کئے گئے اور اسی دن میں ان کو جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن میں ان کو جنت سے نکالا گیا۔

02/10/2019

سیرت خاتم النبین محمد مصطفیٰ ﷺ

عنوان: نسطورا کی ملاقات

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عہد یعنی حلف الفضول کو بہت پسند فرمایا۔ آپ فرماتے تھے:
’’میں اس عہد نامے میں شریک تھا۔ یہ عہد نامہ بنو جدعان کے مکان میں ہوا تھا۔ اگر کوئی مجھ سے کہے کہ اس عہد نامے سے دست بردار ہوجائیں اور اس کے بدلے میں سو اونٹ لے لیں تو میں نہیں لوں گا۔ اس عہد نامے کے نام پر اگر کوئی آج بھی مجھے آواز دے تو میں کہوں گا۔ میں حاضر ہوں ۔‘‘
آپ کے اس ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ اگر آج بھی کوئی مظلوم یہ کہہ کر آواز دے، اے حلف الفضول والو! تو میں اس کی فریاد کو ضرور پہنچوں گا۔ کیوں کہ اسلام تو آیا ہی اس لئے ہے کہ سچائی کا نام بلند کرے اور مظلوم کی مدد اور حمایت کرے۔
یہ حلف الفضول بعد میں بھی جاری رہا۔
مکہ میں آپ کی امانت اور دیانت کی وجہ سے آپ کو امین کہہ کر پکارا جانے لگا تھا۔ آپ کا یہ لقب بہت مشہور ہوگیا تھا۔ لوگ آپ کو امین کے علاوہ اور کسی نام سے نہیں پکارتے تھے۔
انہی دنوں ابوطالب نے آپ سے کہا:
’’اے بھتیجے! میں ایک بہت غریب آدمی ہوں اور قحط سالی کی وجہ سے اور زیادہ سخت حالات کا سامنا ہے، کافی عرصہ سے خشک سالی کا دور چل رہا ہے، کوئی ایسا ذریعہ نہیں کہ اپنا کام چلاسکیں اور نہ ہماری کوئی تجارت ہے، ایک تجارتی قافلہ شام جانے والا ہے، اس میں قریش کے لوگ شامل ہیں ۔ قریش کی ایک خاتون خدیجہ بنت خویلد شام کی طرف اپنا تجارتی سامان بھیجا کرتی ہیں ، جو شخص ان کا مال لے کر جاتا ہے وہ اپنی اجرت ان سے طے کرلیتا ہے، اب اگر تم ان کے پاس جاؤ اور ان کا مال لے جانے کی پیش کش کرو تو وہ ضرور اپنا مال تمہیں دے دیں گی، کیوں کہ تمہاری امانت داری کی شہرت ان تک پہنچ چکی ہے، اگرچہ میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ تم شام کے سفر پر جاؤ۔ یہودی تمہارے دشمن ہیں ، لیکن حالات کی وجہ سے میں مجبور ہوں ، اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی تو نہیں ۔‘‘
یہاں تک کہہ کر ابوطالب خاموش ہوگئے، تب آپ نے فرمایا:
’’ممکن ہے، وہ خاتون خود میرے پاس کسی کو بھیجیں ۔‘‘
یہ بات آپ نے اس لئے کہی تھی کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو ایک بااعتماد آدمی کی ضرورت تھی اور اس وقت مکہ میں آپ سے زیادہ شریف، پاک باز، امانت دار، سمجھ دار اور قابل اعتماد آدمی کوئی نہیں تھا۔
ابوطالب اس وقت بہت پریشان تھے۔ آپ کی یہ بات سن کر انہوں نے کہا:
’’اگر تم نہ گئے تو مجھے ڈر ہے، وہ کسی اور سے معاملہ طے کرلیں گی۔‘‘
یہ کہہ کر ابوطالب اٹھ گئے۔ ادھر آپ کو یقین سا تھا کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا خود ان کی طرف کسی کو بھیجیں گی اور ہوا بھی یہی۔
سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا، پھر آپ سے کہا:
’’میں نے آپ کی سچائی، امانت داری اور نیک اخلاق کے بارے میں سنا ہے اور اسی وجہ سے میں نے آپ کو بلوایا ہے، جو معاوضہ آپ کی قوم کے دوسرے آدمیوں کو دیتی ہوں ،آپ کو ان سے دو گنا دوں گی۔‘‘
آپ نے ان کی بات منظور فرما لی۔پھر آپ اپنے چچا ابو طالب سے ملے۔انہیں یہ بات بتائی۔ ابو طالب سن کر بولے۔
یہ روزی تمہارے لئے اللہ نے پیدا فرمائی ہے۔‘‘
اس کے بعد آپ ﷺ سیدہ خدیجہ ؓ کا سامان تجارت لے کر شام کی طرف روانہ ہوئے۔ سیدہ خدیجہ ؓ کے غلام میسرہ آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ روانگی کے وقت حضرت خدیجہ ؓ نے میسرہ سے کہا:
کسی معاملے میں ان کی نافرمانی نہ کرنا، جو یہ کہیں وہی کرنا، ان کی رائے سے اختلاف نہ کرنا۔‘‘
آپ ﷺ کے سب چچاؤں نے قافلے والوں سے آپ کی خبر گیری رکھنے کی درخواست کی۔اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ ذمے داری کے لحاظ سے یہ آپ ﷺ کا پہلا تجارتی سفر تھا۔ گویا آپ ﷺ اس کام میں بالکل نئے تھے۔
ادھر آپ روانہ ہوئے ادھر آپ ﷺ کا معجزہ شروع ہو گیا۔ ایک بدلی نے آپ ﷺ کے اوپرسایہ کر لیا۔آپ ﷺ کے ساتھ ساتھ چلنے لگی۔ جب آپ ﷺ شام پہنچے تو بصری شہر کے بازار میں ایک درخت کے سائے میں اترے۔یہ درخت ایک عیسائی راہب نسطورا کی خانقاہ کے سامنے تھا۔ اس راہب نے میسرہ کو دیکھا تو خانقاہ سے نکل آیا۔ اس وقت اس نے آپ ﷺ کو دیکھا۔آپ ﷺ درخت کے نیچے ٹھہرے ہوئے تھے۔ اس نے میسرہ سے پوچھا:
’’یہ شخص کون ہے جو اس درخت کے نیچے موجود ہے؟‘‘
میسرہ نے کہا:
’’یہ ایک قریشی شخص ہیں ۔حرم والوں میں سے ہیں ۔‘‘
یہ سن کر راہب نے کہا:
اس درخت کے نیچے نبی کے سوا کبھی کوئی آدمی نہیں بیٹھا۔‘‘
مطلب یہ تھا کہ اس درخت کے نیچے آج تک کوئی شخص نہیں بیٹھا، اللہ تعالی نے اس درخت کو ہمیشہ اس سے بچایا ہے کہ اس کے نیچے نبی کے سوا کوئی دوسرا شخص بیٹھے۔
اس کے بعد اس نے میسرہ سے پوچھا:
کیا ان کی آنکھوں میں سرخی ہے؟‘‘
میسرہ نے جواب دیا:
ہاں بالکل ہے اور یہ سرخی ان کی آنکھوں میں مستقل رہتی ہے۔‘‘
اب نسطورا نے کہا:
’’یہ وہی ہیں ‘‘۔
میسرہ نے حیران ہو کر اس کی طرف دیکھا اور بولے‘
کیا مطلب۔۔یہ وہی ہیں ۔۔کون وہی؟‘‘
’’یہ آخری پیغمبر ہیں ۔کاش میں وہ زمانہ پا سکتا جب انہیں ظہور کا حکم ملے گا،یعنی جب انہیں نبوت ملے گی۔‘‘
اس کے بعد وہ چپکے سے آپ ﷺ کے پاس پہنچا، پہلے تو اس نے آپ ﷺ کے سر کو بوسہ دیا پھر آپ ﷺ کے قدموں کو بوسہ دیا اور بولا:
میں آپ ﷺ پر ایمان لاتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ وہی ہیں جن کا ذکر اللہ تعالی نے تورات میں فرمایا ہے۔‘‘
اس کے بعد نسطورا نے کہا:
اے محمد ﷺ میں نے آپ ﷺ میں وہ تمام نشانیاں دیکھ لی ہیں ،جو پرانی کتابوں میں آپ ﷺ کی نبوت کی علامتوں کے طور پر درج ہیں ۔صرف ایک نشانی باقی ہے، اس لئے آپ ﷺ ذرا اپنے کندھے سے کپڑا ہٹائیں ۔‘‘
آپ ﷺ نے اپنے شانہ مبارک سے کپڑا ہٹا دیا۔تب نسطورا نے وہاں مہر نبوت کو جگمگاتے دیکھا۔ وہ فورا مہر نبوت کو چومنے کے لیے جھک گیا، پھر بولا:
’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہونکہ آپ ﷺ اللہ تعالی کے پیغمبر ہیں ۔ آپ ﷺ کے بارے میں حضرت عیسی ابن مریم علیہما السلام نے خوش خبری دی تھی اور انہوں نے کہا تھا:
میرے بعد اس درخت کے نیچے کوئی نہیں بیٹھے گا، سوائے اس پیغمبر کے جو امی (یعنی ان پڑھ)ہاشمی ،عربی اور مکی (یعنی مکہ کے رہنے والے)ہوں گے۔
قیامت میں حوض کوثر اور شفاعت والے ہوں گے۔‘‘
اس واقعے کے بعد آپ ﷺ بصری کے بازار تشریف لے گئے۔ وہاں آپ ﷺ نے مال فروخت کیا جو ساتھ لائے تھے اور کچھ چیزیں خریدیں ۔
اس خرید و فروخت کے دوران ایک شخص نے آپ ﷺ سے کچھ جھگڑا کیا اور بولا:
لات اور عزی کی قسم کھاؤ۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
میں نے ان بتوں کے نام پر کبھی قسم نہیں کھائی۔‘‘
آپ ﷺ کا یہ جملہ سن کر وہ شخص چونک اٹھا۔

29/09/2019

سیرت خاتم النبین محمد مصطفیٰ ﷺ

عنوان: یہ تمہارا بیٹا نہیں

آپ کو قافلے کے ساتھ اس لئے نہیں لے جایا گیا تھا کہ آپ کم عمر تھے۔آپ وہیں درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔ ادھر بحیرا نے لوگوں کو دیکھا اور ان میں سے کسی میں اسے وہ صفت نظر نہ آئی جو آخری نبی کے بارے میں اسے معلوم تھی،نہ ان میں سے کسی پر وہ بدلی نظر آئی،بلکہ اس نے عجیب بات دیکھی کہ وہ بدلی وہیں پڑاؤ کی جگہ پر ہی رہ گئی تھی۔ اس کا صاف مطلب یہ تھا بدلی وہیں ہے، جہاں اللہ کے رسول ہیں ، تب اس نے کہا:
"اے قریش کے لوگو! میری دعوت سے آپ میں سے کوئی بھی پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔"
اس پر قریش نے کہا:
" اے بحیرا!جن لوگوں کو آپ کی اس دعوت میں لانا ضروری تھا،ان میں سے تو کوئی رہا نہیں ...ہاں ایک لڑکا رہ گیا ہے جو سب سے کم عمر ہے۔"
بحیرا بولا:
"تب پھر مہربانی فرما کر اسے بھی بلالیں ،یہ کس قدر بری بات ہے کہ آپ سب آئیں اور آپ میں سے ایک رہ جائے اور میں نے اسے آپ لوگوں کے ساتھ دیکھا تھا۔"
تب ایک شخص گیا اور آپ کو ساتھ لے کر بحیرا کی طرف روانہ ہوا۔اس وقت وہ بدلی آپ کے ساتھ ساتھ چلی اور تمام راستے اس نے آپ پر سایہ کئے رکھا۔بحیرا نے یہ منظر صاف دیکھا،وہ اب آپ کو اور زیادہ غور سے دیکھ رہا تھا اور آپ کے جسم مبارک میں وہ علامات تلاش کررہا تھا جو ان کی کتب میں درج تھیں ۔
جب لوگ کھانا کھا چکے اور ادھر ادھر ہوگئے،تب بحیرا آپ کے پاس آیا اور بولا:
"میں لات اور عزی کے نام پر آپ سے چند باتیں پوچھنا چاہتا ہوں ،جو میں پوچھوں ،آپ مجھے بتائیں ۔"
اس کی بات سن کر آپ نے فرمایا:
"لات اور عزی (بتوں کے نام) کے نام پر مجھ سے کچھ نہ پوچھو!اللہ کی قسم!مجھے سب سے زیادہ نفرت انہی سے ہے۔"
اب بحیرا بولا:
"اچھا تو پھر اللہ کے نام پر بتائیں جو میں پوچھنا چاہتا ہوں ۔"
تو آپ نے فرمایا:
"پوچھو! کیا پوچھنا ہے۔"
اس نے بہت سے سوالات کئے۔آپ کی عادات کے بارے میں پوچھا،اس کے بعد اس نے آپ کی کمر پر سے کپڑا ہٹا کر مہر نبوت کو دیکھا وہ بالکل ویسی ہی تھی جیسا کہ اس نے اپنی کتابوں میں پڑھا تھا۔اس نے فوراً مہر نبوت کی جگہ کو بوسہ دیا۔قریش کے لوگ یہ سب دیکھ رہے تھے اور حیران ہورہے تھے۔آخر لوگ کہے بغیر نہ رہ سکے:
"یہ راہب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )میں بہت دلچسپی لے رہا ہے...شاید اس کے نزدیک ان کا مرتبہ بہت بلند ہے۔"
ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کرنے کے بعد بحیرا ابو طالب کی طرف آیا اور بولا:
"یہ لڑکا تمہارا کیا لگتا ہے۔"
ابو طالب نے کہا:
"یہ میرا بیٹا ہے۔"
اس پر بحیرا نے کہا:
"نہیں !یہ تمہارا بیٹا نہیں ہوسکتا،یہ نہیں ہوسکتا کہ اس کا باپ زندہ ہو۔"
ابو طالب کو یہ سن حیرت ہوئی،پھر انہوں نے کہا:
"دراصل یہ میرے بھائی کا بیٹا ہے۔"
"ان کا باپ کہاں ہے۔"
"وہ فوت ہوچکا ہے،اس کا انتقال اس وقت ہوگیا تھا جب یہ ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے۔"
یہ سن کر بحیرا بول اٹھا:
"ہاں !یہ بات صحیح ہے اور ان کی والدہ کا کیا ہوا؟"
"ان کا ابھی تھوڑے عرصہ ہی پہلے انتقال ہوا ہے۔"
یہ سنتے ہی بحیرا نے کہا:
"بالکل ٹھیک کہا...اب تم یوں کرو کہ اپنے بھتیجے کو واپس وطن لے جاؤ،یہودیوں سے ان کی پوری طرح حفاظت کرو،اگر انہوں نے انہیں دیکھ لیا اور ان میں وہ نشانیاں دیکھ لیں جو میں نے دیکھی ہیں تو وہ انہیں قتل کرنے کی کوشش کریں گے تمہارا یہ بھتیجا نبی ہے، اس کی بہت شان ہے،ان کی شان کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں بھی لکھا ہوا پاتے ہیں اور ہم نے اپنے باپ داداؤں سے بھی بہت کچھ سن رکھا ہے،میں نے یہ نصیحت کر کے اپنا فرض پورا کردیا ہے اور انہیں واپس لے جانا تمہاری ذمہ داری ہے۔"
ابو طالب بحیرا کی باتیں سن کر خوف زدہ ہوگئے۔ آپ کو لے کر مکہ واپس آگئے۔اس واقعے کے وقت آپ کی عمر نو سال تھی۔
اس عمر کے لڑکے عام طور پر کھیل کود میں ضرور حصہ لیتے ہیں ،ان کھیلوں میں خراب اور گندے کھیل بھی ہوتے ہیں ،اللہ تعالٰی نے آپ کو اس سلسلے میں بھی بالکل محفوظ رکھا۔
جاہلیت کے زمانے میں عرب جن برائیوں میں جکڑے ہوئے تھے،ان برائیوں سے بھی اللہ تعالٰی نے آپ کی حفاظت فرمائی۔ایک واقعہ آپ نے خود بیان فرمایا:
"ایک قریشی لڑکا مکہ کے بالائی حصے میں اپنی بکریاں لئے،میرے ساتھ تھا۔میں نے اس سے کہا:
"تم ذرا میری بکریوں کا دھیان رکھو تاکہ میں قصہ گوئی کی مجلس میں شریک ہوسکوں ،وہاں سب لڑکے جاتے ہیں ۔"
اس لڑکے نے کہا:اچھا۔اس کے بعد میں روانہ ہوا۔ میں مکہ کے ایک مکان میں داخل ہوا تو مجھے گانے اور باجے کی آواز سنائی دی۔میں نے لوگوں سے پوچھا،یہ کیا ہورہا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ ایک قریشی کی فلاں شخص کی بیٹی سے شادی ہورہی ہے۔میں نے اس طرف توجہ دی ہی تھی کہ میری آنکھیں نیند سے جھکنے لگیں ،یہاں تک کہ میں سو گیا۔پھر میری آنکھ اس وقت کھلی جب دھوپ مجھ پر پڑی۔"
آپ واپس اس لڑکے کے پاس پہنچے۔تو اس نے پوچھا: تم نے وہاں جاکر کیا کیا؟میں نے اسے واقعہ سنا دیا۔دوسری رات پھر ایسا ہی ہوا۔
مطلب یہ کہ قریش کی لغو مجلسوں سے اللہ تعالٰی نے آپ کو محفوظ رکھا۔
قریش کے ایک بت کا نام بوانہ تھا۔قریش ہر سال اس کے پاس حاضری دیا کرتے تھے۔اس کی بے حد عزت کرتے تھے۔اس کے پاس قربانی کا جانور ذبح کرتے،سر منڈاتے،سارا دن اس کے پاس اعتکاف کرتے۔ابو طالب بھی اپنی قوم کے ساتھ اس بت کے پاس حاضری دیتے، اس موقع کو قریش عید کی طرح مناتے تھے۔ابو طالب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:
"بھتیجے!آپ بھی ہمارے ساتھ عید میں شریک ہوں ۔"
آپ نے انکار فرمادیا۔ابو طالب ہر سال آپ کو شریک ہونے کے لئے کہتے رہے،لیکن آپ ہر بار انکار ہی کرتے رہے۔ آخر ایک بار ابو طالب کو غصہ آگیا۔آپ کی پھوپھیوں کو بھی آپ پر بے تحاشہ غصہ آیا،وہ آپ سے بولیں :
"تم ہمارے معبودوں سے اس طرح بچتے ہو اور پرہیز کرتے ہو،ہمیں ڈر ہے کہ تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچے۔"
انہوں نے یہ بھی کہا:
"محمد!آخر تم عید میں کیوں شریک نہیں ہوتے؟"
ان کی باتوں سے تنگ آکر آپ ان کے پاس سے اٹھ کر کہیں دور چلے گئے۔اس بارے میں آپ فرماتے ہیں :
"میں جب بھی بوانہ یا کسی اور بت کے نزدیک ہوا،میرے سامنے ایک سفید رنگ کا بہت قد آور آدمی ظاہر ہوا،اس نے ہر بار مجھ سے یہی کہا:
"محمد! پیچھے ہٹو!اس کو چھونا نہیں ۔"

27/09/2019

سیرت خاتم النبین محمد مصطفیٰ ﷺ

عنوان: شام کا سفر

جونہی آپ نے پتھر پر پاؤں مارا،اس کے نیچے سے صاف اور عمدہ پانی پھوٹ نکلا،انہوں نے ایسا پانی پہلے کبھی نہیں پیا تھا۔خوب سیر ہو کر پیا۔ پھر انہوں نے پوچھا:
"بھتیجے!کیا آپ سیر ہوچکے؟"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ہاں !"
آپ نے اسی جگہ اپنی ایڑی پھر ماری اور وہ جگہ دوبارہ ایسی خشک ہوگئی جیسے پہلے تھی۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چند سال اپنے دوسرے چچا زبیر بن عبد المطلب کے ساتھ بھی رہے تھے۔اس زمانے میں ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ان چچا کے ساتھ ایک قافلے میں یمن تشریف لے گئے۔راستے میں ایک وادی سے گذر ہوا۔اس وادی میں ایک سرکش اونٹ رہتا تھا۔گزرنے والوں کا راستہ روک لیتا تھا مگر جونہی اس نے نبی کریم کو دیکھا تو فوراً بیٹھ گیا اور زمین سے اپنی چھاتی رگڑنے لگا۔آپ اپنے اونٹ سے اتر کر اس پر سوار ہوگئے،اب وہ اونٹ آپ کو لے کر چلا اور وادی کے پار تک لے گیا۔اس کے بعد آپ نے اس اونٹ کو چھوڑدیا۔
یہ قافلہ جب سفر سے واپس لوٹا تو ایک ایسی وادی سے اس کا گزر ہوا جو طوفانی پانی سے بھری ہوئی تھی،پانی موجیں مار رہا تھا۔یہ دیکھ کر آپ نے قافلے والوں سے فرمایا:
"میرے پیچھے پیچھے آؤ۔"
پھر آپ اطمینان سے وادی میں داخل ہوگئے،باقی لوگ بھی آپ کے پیچھے تھے۔اللہ تعالٰی نے اپنی قدرت سے پانی خشک کردیا اور آپ پورے قافلے کو لیے پار ہوگئے۔قافلہ مکہ پہنچا تو لوگوں نے یہ حیرت ناک واقعات بیان کئے۔لوگ سن کر بول اٹھے:
"اس لڑکے کی تو کچھ شان ہی نرالی ہے۔"
ابن ہشام لکھتے ہیں ،بنولہب کا ایک شخص بہت بڑا قیافہ شناس تھا یعنی لوگوں کی شکل و صورت دیکھ کر ان کے حالات اور مستقبل کے بارے میں اندازہ لگایا کرتا تھا۔مکہ آتا تو لوگ اپنے بچوں کو اس کے پاس لاتے وہ انہیں دیکھ دیکھ کر ان کے بارے میں بتاتا تھا۔ایک بار یہ آیا تو ابو طالب آپ کو بھی اس کے پاس لے گئے اور اس وقت آپ ابھی نوعمر لڑکے ہی تھے۔ قیافہ شناس نے آپ کو ایک نظر دیکھا، پھر دوسرے بچوں کو دیکھنے لگا۔فارغ ہونے کے بعد اس نے کہا:
"اس لڑکے کو میرے پاس لاؤ۔"
ابو طالب نے یہ بات محسوس کرلی تھی کہ قیافہ شناس نے ان کے بھتیجے کو عجیب نظروں سے دیکھا ہے لہٰذا وہ آپ کو لے کر وہاں سے نکل آئے تھے۔جب قیافہ شناس کو معلوم ہوا کہ آپ وہاں موجود نہیں ہیں تو وہ چیخنے لگا
"تمہارا بُرا ہو،اس لڑکے کو میرے پاس لاؤ جسے میں نے ابھی دیکھا ہے،اللہ کی قسم! وہ بڑی شان والا ہے۔"
ابو طالب نے نکلتے ہوئے اس کے یہ الفاظ سن لیے تھے۔
☆
ابو طالب نے تجارت کی غرض سے شام جانے کا ارادہ کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ساتھ جانے کا شوق ظاہر فرمایا بعض روایات میں آیا ہے کہ آپ نے جانے کے لئے خاص طور پر فرمائش کی۔ابو طالب نے آپ کا شوق دیکھ کر کہا:
"اللہ کی قسم!میں اسے ساتھ ضرور لے جاؤں گا،نہ یہ کبھی مجھ سے جدا ہوسکتا ہے،نہ میں اسے کبھی اپنے سے جدا کرسکتا ہوں ۔"
ایک روایت میں یوں آیا ہے،آپ نے ابو طالب کی اونٹنی کی لگام پکڑلی اور فرمایا:
"چچا جان!آپ مجھے کس کے پاس چھوڑے جارہے ہیں ؟میری نہ ماں ہے نہ باپ۔"
اس وقت آپ کی عمر مبارک نو سال تھی۔آخر ابو طالب آپ کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔آپ کو اپنی اونٹنی پر بٹھایا۔راستے میں عیسائیوں کی ایک عبادت گاہ کے پاس ٹھہرے۔خانقاہ کے راہب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو چونک اٹھا۔اس نے ابو طالب سے پوچھا:
"یہ لڑکا تمہارا کون ہے؟"
انہوں نے جواب دیا:
"یہ میرا بیٹا ہے۔"
یہ سن کر راہب نے کہا:
"یہ تمہارا بیٹا نہیں ہوسکتا۔"
یہ سن کر ابو طالب بہت حیران ہوئے،بولے:
"کیا مطلب...یہ کیوں میرا بیٹا نہیں ہوسکتا بھلا؟"
اس نے کہا:
"یہ ممکن ہی نہیں کہ اس لڑکے کا باپ زندہ ہو،یہ نبی ہے۔"
مطلب یہ تھا کہ ان میں جو نشانیاں ہیں وہ دنیا کے آخری نبی کی ہیں اور ان کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ یتیم ہوں گے۔ان کے باپ کا انتقال اسی زمانے میں ہو جائے گا جب کہ وہ ابھی پیدا ہونے والے ہوں گے۔اس لڑکے میں آنے والے نبی کی تمام علامات موجود ہیں ۔ان کی ایک نشانی یہ ہے کہ بچپن میں ان کی والدہ کا بھی انتقال ہوجائے گا۔
اب ابو طالب نے اس راہب سے پوچھا:
"نبی کیا ہوتا ہے؟"
راہب نے کہا:
"نبی وہ ہوتا ہے جس کے پاس آسمان سے خبریں آتی ہیں اور پھر وہ زمین والوں کو ان کی اطلاع دیتا ہے...تم یہودیوں سے اس لڑکے کی حفاظت کرنا۔"
اس کے بعد ابو طالب وہاں سے آگے روانہ ہوئے۔ راستے میں ایک اور راہب کے پاس ٹھہرے۔یہ بھی ایک خانقاہ کا عابد تھا۔اس کی نظر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑی تو یہی پوچھا:
"یہ لڑکا تمہارا کیا لگتا ہے؟"
ابو طالب نے اس سے بھی یہی کہا:
"یہ میرا بیٹا ہے۔"
راہب یہ سن کر بولا:
"یہ تمہارا بیٹا نہیں ہوسکتا،اس کا باپ زندہ ہو ہی نہیں سکتا۔"
ابو طالب نے پوچھا:
"وہ کیوں ...؟"
راہب نے جواب میں کہا:
"اس لیے کہ اس کا چہرہ نبی کا چہرہ ہے۔اس کی آنکھیں ایک نبی کی آنکھیں ہیں یعنی اس نبی جیسی جو آخری امت کے لئے بھیجے جانے والے ہیں ،ان کی علامات پرانی آسمانی کتابوں میں موجود ہیں ۔"
اس کے بعد یہ قافلہ روانہ ہو کر بصری پہنچا۔یہاں بحیرا نام کا ایک راہب اپنی خانقاہ میں رہتا تھا۔اس کا اصل نام جرجیس تھا،بحیرااس کا لقب تھا۔ وہ بہت زبردست عالم تھا۔
حضرت عیسٰی علیہ السلام کے زمانے سے اس خانقاہ کا راہب،نسل در نسل یہ عالم فاضل خاندان ہی چلا آرہا تھا۔اس طرح اس زمانے میں ان کا سب سے بڑا عالم بحیرا ہی تھا۔
قریش کے لوگ اکثر بحیرا کے پاس سے گزرا کرتے تھے مگر اس نے کبھی ان سے کوئی بات نہیں کی تھی،مگر اس بار اس نے قافلے میں آپ کو دیکھ لیا تو پورے قافلے کے لئے کھانا تیار کروایا۔
بحیرا نے یہ منظر بھی دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک بدلی سایہ کیے ہوئے تھی۔جب یہ قافلہ ایک درخت کے نیچے آ کر ٹھہرا تو اس نے بدلی کی طرف دیکھا،وہ اب اس درخت پر سایہ ڈال رہی تھی اور اس درخت کی شاخیں اس طرف جھک گئیں تھیں جدھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ اس نے دیکھا،بہت سی شاخوں نے آپ کے اوپر جمگھٹا سا کرلیا تھا۔اصل میں ہوا یہ تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس درخت کے پاس پہنچے تو قافلے کے لوگ پہلے ہی سایہ دار جگہ پر قبضہ کر چکے تھے۔اب آپ کے لئے کوئی سایہ دار جگہ نہیں بچی تھی،چنانچہ آپ جب دھوپ میں بیٹھے تو شاخوں نے اپنا رخ تبدیل کرلیا اور آپ کے اوپر جمع ہوگئیں ۔اس طرح آپ مکمل طور پر سائے میں ہوگئے۔بحیرا نے یہ منظر صاف دیکھا تھا۔آپ کی یہ نشانی دیکھ کر اس نے قافلے والوں کو پیغام بھجوایا۔
"اے قریشیو!میں نے آپ لوگوں کے لئے کھانا تیار کروایا ہے، میری خواہش ہے کہ آپ تمام لوگ کھانا کھانے آئیں یعنی بچے بوڑھے اور غلام سب آئیں ۔"
بحیرا کا یہ پیغام سن کر قافلے میں سے ایک نے کہا:
"اے بحیرا...آج تو آپ نیا کام کررہے ہیں ،ہم تو اکثر اس راستے سے گزرتے ہیں ،آپ نے کبھی دعوت کا انتظام نہیں کیا،پھر آج کیا بات ہے۔"
بحیرا نے انہیں صرف اتنا جواب دیا:
"تم نے ٹھیک کہا،لیکن بس آپ لوگ مہمان ہیں اور مہمان کا اکرام کرنا بہت اچھی بات ہے۔"
اس طرح تمام لوگ بحیرا کے پاس پہنچ گئے...لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ نہیں تھے۔انہیں پڑاؤ ہی میں چھوڑ دیا گیا تھا۔

26/09/2019

سیرت خاتم النبین محمد مصطفیٰ ﷺ

عنوان: نرالی شان کا مالک

حضرت آمنہ کے انتقال کے پانچ دن بعد ام ایمن آپ کو لے کر مکہ پہونچیں ۔ آپ کو عبدالمطلب کے حوالے کیا۔آپ کے یتیم ہوجانے کا انہیں اتنا صدمہ تھا کہ بیٹے کی وفات پر بھی اتنا نہیں ہوا تھا۔
عبدالمطلب کے لیے کعبہ کے سائے میں ایک کالین بچھایا جاتا تھا۔ وہ اس پر بیٹھا کرتے تھے۔ ان کا احترام اس قدر تھا کہ کوئی اور اس قالین پر بیٹھتا نہیں تھا، چنانچہ ان کے بیٹے اور قریش کے سردار اس قالین کے چاروں طرف بیٹھتے تھے، لیکن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وہاں تشریف لاتے تو سیدھے اس قالین پر جا بیٹھتے۔ اس وقت آپ ایک تندرست لڑکے تھے، آپ کی عمر نو سال کے قریب ہو چلی تھی، آپ کے چچا عبدالمطلب کے ادب کی وجہ سے آپ کو اس قالین سے ہٹانا چاہتے تو عبدالمطلب کہتے ;
میرے بیٹےکو چھوڑ دو، اللّٰہ کی قسم ! یہ بہت شان والا ہے۔
پھر وہ آپ کو محبت سے اس فرش پر بٹھاتے، آپ کی کمر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے، آپ کی باتیں سن سن کر حد درجے خوش ہوتے رہتے۔
کبھی وہ دوسروں سے کہتے;
ُُ میرے بیٹے کو یہیں بیٹھنے دو، اسے خود بھی احساس ہے کہ اس کی بڑی شان ہے، اور میری آرزو ہے یہ اتنا بلند رتبہ پائے جو کسی عرب کو اس سے پہلے حاصل نہ ہوا ہو اور نہ بعد میں کسی کو حاصل ہوسکے۔
ایک بار انہوں نے یہ الفاظ کہے;
" میرے بیٹے کو چھوڑ دو، اس کے مزاج میں طبعی طور بلندی ہے.... اس کی شان نرالی ہوگی"۔
یہاں تک کہ عمر کے آخری حصے میں حضرت عبدالمطلب کی آنکھیں جواب دے گئی تھیں ، آپ نابینا ہو گئے تھے۔ ایسی حالت میں ایک روز وہ اس قالین پر بیٹھے تھے کہ آپ تشریف لے آئے اور سیدھے اس قالین پر جا پہنچے۔ ایک شخص نے آپ کو قالین سے کھینچ لیا۔ اس پر آپ رونے لگے، آپ کے رونے کی آواز سن کر عبدالمطلب بے چین ہوئے اور بولے:
"میرا بیٹا کیوں رو رہا ہے "
"آپ کے قالین پر بیٹھنا چاہتا ہے... ہم نے اسے قالین سے اتار دیا ہے۔"
یہ سن کر عبدالمطلب نے کہا:
"میرے بیٹے کو قالین پر ہی بٹھا دو، یہ اپنا رتبہ پہچانتا ہے، میری دعا ہے کہ یہ اس رتبے کو پہنچے جو اس سے پہلے کسی عرب کو نہ ملا ہو، اس کے بعد کسی کو نہ ملے۔"
اس کے بعد پھر کسی نے آپ کو قالین پر بیٹھنے سے نہیں روکا۔‌
ایک روز بنو مدلج کے کچھ لوگ حضرت عبدالمطلب سے ملنے کے لئے آئے... ان کے پاس اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے ۔بنو مدلج کے لوگوں نے آپ کو دیکھا، یہ لوگ قیافہ شناس تھے، آدمی کا چہرہ دیکھ کر اس کے مستقبل کے بارے میں اندازے بیان کرتے تھے۔انہوں نے عبدالمطلب سے کہا:
" اس بچے کی حفاظت کریں ، اس لیے کہ مقام ابراہیم پر جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدم کا نشان ہے، اس بچے کے پاؤں کا نشان بالکل اس نشان سے ملتا جلتا ہے، اس قدر مشابہت ہم نے کسی اور کے پاؤں کے نشان میں نہیں دیکھی... ہمارا خیال ہے... یہ بچہ نرالی شان کا مالک ہوگا.. . اس لیے اس کی حفاظت کریں ۔"
مقام ابراہیم خانہ کعبہ میں وہ پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کعبہ کی تعمیر کے وقت کھڑے ہوئے تھے۔ معجزے کے طور پر اس پتھر پر ابراہیم علیہ السلام کے پیروں کے نشان پڑگئے تھے۔ لوگ اس پتھر کی زیارت کرتے ہیں ۔ یہی مقام ابراہیم ہے۔ چونکہ آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہیں ، اس لیے ان کے پاؤں کی مشابہت آپ میں ہونا قدرتی بات تھی۔
ایک روز حضرت عبدالمطلب خانہ کعبہ میں حجر اسود کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ایسے میں ان کے پاس نجران کے عیسائی آگئے۔ان میں ایک پادری بھی تھا ۔ اس پادری نے عبدالمطلب سے کہا۔:
"ہماری کتابوں میں ایک ایسے نبی کی علامات ہیں جو اسماعیل کی اولاد میں ہونا باقی ہے، یہ شہر اس کی جائے پیدائش ہوگا، اس کی یہ یہ نشانیاں ہوں گی۔"
ابھی یہ بات ہورہی تھی کہ کوئی شخص آپ کو لے کر وہاں آپہنچا۔ پادری کی نظر جونہی آپ پر پڑی، وہ چونک اٹھا، آپ کی آنکھوں ، کمر اور پیروں کو دیکھ کر وہ چلا اٹھا:
" وہ نبی یہی ہیں ، یہ تمہارے کیا لگتے ہیں ۔"
عبدالمطلب بولے
" یہ میرے بیٹے ہیں ۔"
اس پر وہ پادری بولا:
" اوہ! تب یہ وہ نہیں ... اس لیے کہ ہماری کتابوں میں لکھا ہے کہ اس کے والد کا انتقال اس کی پیدائش سے پہلے ہوجائے گا۔
یہ سن کر عبدالمطلب بولے:
" یہ دراصل میرا پوتا ہے، اس کے باپ کا انتقال اس وقت ہوگیا تھا جب یہ پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔"
اس پر پادری بولا:
" ہاں ! یہ بات ہوئی نا... آپ اس کی پوری طرح حفاظت کریں ۔"
عبدالمطلب کی آپ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ کھانا کھانے بیٹھتے تو کہتے:
"میرے بیٹے کو لے آؤ۔"
آپ تشریف لاتے تو عبدالمطلب آپ کو اپنے پاس بٹھاتے ۔ آپ کو اپنے ساتھ کھلاتے۔
بہت زیادہ عمر والے ایک صحابی حیدہ بن معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
" میں ایک مرتبہ اسلام سے پہلے، جاہلیت کے زمانے میں حج کے لئے مکہ معظمہ گیا۔وہاں بیت الله کا طواف کررہا تھا ۔ میں نے ایک ایسے شخص کو دیکھا، جو بہت بوڑھا اور بہت لمبے قد کا تھا۔ وہ بیت اللہ کا طواف کررہا تھا۔اور کہہ رہا تھا، اے میرے پروردگار میری سواری کو محمد کی طرف پھیر دے اور اسے میرا دست و بازو بنادے۔میں نے اس بوڑھے کو جب یہ شعر پڑھتے سنا تو لوگوں سے پوچھا:
"یہ کون ہے؟ "
لوگوں نے بتایا یہ عبدالمطلب بن ہاشم ہیں ۔ انہوں نے اپنے پوتے کو اپنے ایک اونٹ کی تلاش میں بھیجا ہے۔ وہ اونٹ گم ہوگیا ہے، اور وہ پوتا ایسا ہے جب بھی کسی گم شدہ چیز کی تلاش میں اسے بھیجاجاتا ہے تو وہ چیز لے کر ہی آتا ہے۔ پوتے سے پہلے یہ اپنے بیٹوں کو اس اونٹ کی تلاش میں بھیج چکے ہیں ، لیکن وہ ناکام لوٹ آئے ہیں ، اب چونکہ پوتے کو گئے ہوئے دیر ہوگئی ہے، اس لئے پریشان ہے، اور دعا مانگ رہےہیں ۔
تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ کو لئے تشریف لا رہے ہے۔عبدالمطلب نے آپ کو، دیکھ کر کہا ؛
"میرے بیٹے ! میں تمہارے لئے اس قدر فکر مند ہوگیا تھا کہ شاید اس کا اثر کبھی میرے دل سے نہ جائے۔
عبدالمطلب کی بیوی کا نام رقیہ بنت ابو سیفی تھا ۔ وہ کہتی ہیں :
قریش کئی سال سے سخت قحط سالی کا شکار تھے. بارشیں بالکل بند تھیں . سب لوگ پریشان تھے، اسی زمانے میں ، میں نے ایک خواب دیکھا، کوئی شخص خواب میں کہہ رہا تھا.
اے قریش کے لوگو. تم میں سے ایک نبی ظاہر ہونے والا ہے، اس کے ظہور کا وقت آ گیا ہے. اس کے ذریعے تمہیں زندگی ملے گی، یعنی خوب بارشیں ہوں گی، سرسبزی اور شادابی ہوگی تم اپنے لوگوں میں سے ایک ایسا شخص تلاش کرو جو لمبے قد کا ہو، گورے رنگ کا ہو، اس کی پلکیں گھنی ہوں ، بھنویں اور ابرو ملے ہوئے ہوں ، وہ شخص اپنی تمام اولاد کے ساتھ نکلے اور تم میں سے ہر خاندان کا ایک آدمی نکلے، سب پاک صاف ہوں اور خوشبو لگائیں ، وہ حجر اسود کو بوسہ دیں پھر سب جبل ابو قیس پر چڑھ جائیں . پھر وہ شخص جس کا حلیہ بتایا گیا ہے، آگے بڑھے اور بارش کی دعا مانگے اور تم سب آمین کہو تو بارش ہو جائے گی.
صبح ہوئی تو رقیقہ نے اپنا یہ خواب قریش سے بیان کیا. انہوں نے ان نشانیوں کو تلاش کیا تو سب کی سب نشانیاں انہیں عبد المطلب میں مل گئیں ، چنانچہ سب ان کے پاس جمع ہوئے. ہر خاندان سے ایک ایک آدمی آیا. ان سب نے شرائط پوری کیں . اس کے بعد سب ابو قیس پہاڑ پر چڑھ گئے. ان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم بھی تھے. آپ اس وقت نو عمر تھے. پھر عبد المطلب آگے بڑھے اور انہوں نے یوں دعا کی.
اے اللہ یہ سب تیرے غلام ہیں ، تیرے غلاموں کی اولاد ہیں ، تیری باندیاں ہیں اور تیری باندیوں کی اولاد ہیں ، ہم پر جو برا وقت آ پڑا ہے، تو دیکھ رہا ہے، ہم مسلسل قحط سالی کا شکار ہیں . اب اونٹ، گائیں ، گھوڑے، خچر اور گدھے سب کچھ ختم ہو چکے ہیں اور جانوروں پر بن آئی ہے. اس لیے ہماری یہ خشک سالی ختم فرما دے ہمیں زندگی اور سرسبزی اور شادابی عطا فرما دے
ابھی یہ دعا مانگ ہی رہے تھے کہ بارش شروع ہو گئی. وادیاں پانی سے بھر گئیں لیکن اس بارش میں ایک بہت عجیب بات ہوئی اور وہ عجیب بات یہ تھی کہ قریش کو یہ سیرابی ضرور حاصل ہوئی مگر یہ بارش قبیلہ قیس اور قبیلہ مضر کی قریبی بستیوں میں بالکل نہ ہوئی. اب لوگ بہت حیران ہوئے کہ یہ کیا بات ہوئی. ایک قبیلے پر بارش اور آس پاس کے سب قبیلے بارش سے محروم.... تمام قبیلوں کے سردار جمع ہوئے، اس سلسلے میں بات چیت شروع ہوئی. ایک سردار نے کہا.
ہم زبردست قحط اور خشک سالی کا شکار ہیں جب کہ قریش کو اللہ تعالٰی نے بارش عطا کی ہے اور یہ عبد المطلب کی وجہ سے ہوا ہے اس لیے ہم سب ان کے پاس چلتے ہیں ، اگر وہ ہمارے لیے دعا کر دیں تو شاید اللہ ہمیں بھی بارش دے دے.
یہ مشورہ سب کو پسند آیا، چنانچہ یہ لوگ مکہ معظمہ میں آئے اور عبد المطلب سے ملے. انہیں سلام کیا پھر ان سے کہا.
اے عبد المطلب ہم کئی سال سے خشک سالی کے شکار ہیں ہمیں آپ کی برکت کے بارے میں معلوم ہوا ہے، اس لیے مہربانی فرما کر آپ ہمارے لیے بھی دعا کریں ، اس لیے کہ اللہ نے آپ کی دعا سے قریش کو بارش عطا کی ہے.
ان کی بات سن کر عبد المطلب نے کہا.
اچھی بات ہے میں کل میدان عرفات میں آپ لوگوں کے لیے بھی دعا کروں گا.
دوسرے دن صبح سویرے عبد المطلب میدان عرفات کی طرف روانہ ہوئے. ان کے ساتھ دوسرے لوگوں کے علاوہ ان کے بیٹے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم بھی تھے. عرفات کے میدان میں عبد المطلب کے لیے ایک کرسی بچھائی گئی. وہ اس پر بیٹھ گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو انہوں نے گود میں بٹھا لیا، پھر انہوں نے ہاتھ اٹھا کر یوں دعا کی.
اے اللہ، چمکنے والی بجلی کے پروردگار، اور کڑکنے والی گرج کے مالک، پالنے والوں کے پالنے والے، اور مشکلات کو آسان کرنے والے. یہ قبیلہ قیس اور قبیلہ مضر کے لوگ ہیں ، یہ بہت پریشان ہیں ، ان کی کمریں جھک گئی ہیں ، یہ تجھ سے اپنی لا چاری اور بے کسی کی فریاد کرتے ہیں اور جان و مال کی بربادی کی شکایت کرتے ہیں پس اے اللہ، ان کے لیے خوب برسنے والے بادل بھیج دے اور آسمان سے ان کے لیے رحمت عطا فرما تاکہ ان کی زمینیں سرسبز ہو جائیں اور ان کی تکالیف دور ہو جائیں .
عبد المطلب ابھی یہ دعا کر ہی رہے تھے کہ ایک سیاہ بادل اٹھا، عبد المطلب کی طرف آیا اور اس کے بعد اس کا رخ قبیلہ قیس اور بنو مضر کی بستیوں کی طرف ہو گیا. یہ دیکھ کر عبد المطلب نے کہا.
اے گروہ قریش اور مضر جاؤ تمہیں سیرابی حاصل ہو گی.
چنانچہ یہ لوگ جب اپنی بستیوں میں پہنچے تو وہاں بارش شروع ہو چکی تھی.
آپ سات سال کے ہو چکے تھے کہ آپ کی آنکھیں دکھنے کو آگئیں . مکہ میں آنکھوں کا علاج کرایا گیا لیکن افاقہ نہ ہوا. عبد المطلب سے کسی نے کہا.
عکاظ کے بازار میں ایک راہب رہتا ہے وہ آنکھوں کی تکالیف کا علاج کرتا ہے.
عبد المطلب آپ کو اس کے پاس لے گئے. اس کی عبادت گاہ کا دروازہ بند تھا. انہوں نے اسے آواز دی. راہب نے کوئی جواب نہ دیا. اچانک عبادت گاہ میں شدید زلزلہ آیا. راہب ڈر گیا کہ کہیں عبادت خانہ اس کے اوپر نہ گر پڑے. اس لئے ایک دم باہر نکل آیا.
اب اس نے آپ کو دیکھا تو چونک اٹھا. اس نے کہا.
اے عبد المطلب. یہ لڑکا اس امت کا نبی ہے. اگر میں باہر نہ نکل آتا تو یہ عبادت گاہ ضرور مجھ پر گر پڑتی. اس لڑکے کو فوراً واپس لے جاؤ اور اس کی حفاظت کرو. کہیں یہودیوں یا عیسائیوں میں سے کوئی اسے قتل نہ کر دے.
پھر اس نے کہا
اور رہی بات ان کی آنکھوں کی... تو آنکھوں کی دعا تو خود ان کے پاس موجود ہے.
عبد المطلب یہ سن کر حیران ہوئے اور بولے.
ان کے اپنے پاس ہے، میں سمجھا نہیں . ہاں . ان کا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں لگائیں .
انہیں نے ایسا ہی کیا، آنکھیں فوراً ٹھیک ہو گئیں .
پرانی آسمانی کتابوں میں آپ کی بہت سی نشانیاں لکھی ہوئی تھیں . اس کی تفصیل بہت دلچسپ ہے.
یمن میں ایک قبیلہ حمیر تھا. وہاں ایک شخص سیف بن یزن تھا. وہ سیف حمیری کہلاتا تھا. کسی زمانے میں اس کے باپ دادا اس ملک پر حکومت کرتے تھے لیکن پھر حبشیوں نے یمن پر حملہ کیا اور اس پر قبضہ کر لیا. وہاں حبشیوں کی حکومت ہو گئی. ستر سال تک یمن حبشیوں کے قبضے میں رہا، جب یہ سیف بڑا ہوا تو اس کے اندر اپنے باپ دادا کا ملک آزاد کرانے کی امنگ پیدا ہوئی، چنانچہ اس نے ایک فوج تیار کی. اس فوج کے ذریعے حبشیوں پر حملہ کیا اور انہیں یمن سے بھگا دیا. اس طرح وہ باپ دادا کے ملک کو آزاد کرانے میں کامیاب ہو گیا، وہاں کا بادشاہ بن گیا. یہ یمن عرب کا علاقہ تھا. جب اس پر حبشیوں نے قبضہ کیا تھا تو عربوں کو بہت افسوس ہوا. 70 سال بعد جب یمن کے لوگوں نے حبشیوں کو نکال باہر کیا تو عربوں کو بہت خوشی ہوئی. ان کی خوشی کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ انہی حبشیوں نے ابرہہ کے ساتھ مکہ پر چڑھائی کی تھی. چاروں طرف سے عربوں کے وفد سیف کو مبارک باد دینے کے لیے آنے لگے.
قریش کا بھی ایک وفد مبارک دینے کے لیے گیا. اس وفد کے سردار عبد المطلب تھے. یہ وفد جب یمن پہنچا تو سیف اپنے محل میں تھا. اس کے سر پر تاج تھا، سامنے تلوار رکھی تھی اور حمیری سردار اس کے دائیں بائیں بیٹھے تھے. سیف کو قریش کے وفد کی آمد کے بارے میں بتایا گیا، اسے یہ بھی بتایا گیا کہ یہ لوگ کس رتبے کے ہیں . اس نے ان لوگوں کو آنے کی اجازت دے دی. یہ وفد دربار میں پہنچا. عبد المطلب آگے بڑھ کر اس کے سامنے جا کھڑے ہوئے. انہوں نے بات کرنے کی اجازت چاہی، سیف نے کہا.
اگر تم بادشاہوں کے سامنے بولنے کے آداب سے واقف ہو تو ہماری طرف سے اجازت ہے
تب عبد المطلب نے کہا.
اے بادشاہ، ہم کعبہ کے خادم ہیں ، اللہ کے گھر کے محافظ ہیں ، ہم آپ کو مبارکباد دینے آئے ہیں . یمن پر حبشی حکومت ہمارے لیے بھی بوجھ بنی ہوئی تھی. آپ کو مبارک ہو، آپ کے اس کارنامے سے آپ کے بزرگوں کو بھی عزت ملے گی اور آنے والی نسلوں کو بھی وقار حاصل ہو گا.
سیف ان کے الفاظ سن کر بہت خوش ہوا، بے اختیار بول اٹھا.
اے شخص تم کون ہو، کیا نام ہے تمہارا؟
انہوں نے کہا.
میرا نام عبد المطلب بن ہاشم ہے.
سیف نے ہاشم کا نام سن کر کہا.
تب تو تم ہماری بہن کے لڑکے ہو.
عبد المطلب کی والدہ مدینے کے قبیلے خزرج کی تھیں اور خزرج کا قبیلہ دراصل یمن کا تھا. اس لیے سیف نے ہاشم کا نام سن کر کہا، تب تو تم ہماری بہن کے لڑکے ہو. پھر اس نے کہا.
ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں ، آپ کے جذبات کی قدر کرتے ہیں .
اس کے بعد قریش کے وفد کو سرکاری مہمان خانے میں ٹھہرا دیا گیا. ان کی خوب خاطر مدارت کی گئی... یہاں تک کہ ایک ماہ گزر گیا. ایک ماہ کی مہمان نوازی کے بعد سیف نے انہیں بلایا. عبد المطلب کو اپنے پاس بلا کر اس نے کہا.
اے عبد المطلب، میں اپنے علم کے پوشیدہ رازوں میں سے ایک راز تمہیں بتا رہا ہوں ، تمہارے علاوہ کوئی اور ہوتا تو میں ہر گز نہ بتاتا، تم اس راز کو اس وقت تک راز ہی رکھنا جب تک کہ خود اللہ تعالٰی اس راز کو ظاہر نہ فرما دے. ہمارے پاس ایک پوشیدہ کتاب ہے وہ پوشیدہ رازوں کا ایک خزانہ ہے. ہم دوسروں سے اس کو چھپا کر رکھتے ہیں . میں نے اس کتاب میں ایک بہت عظیم الشان خبر اور ایک بڑے خطرے کے بارے میں پڑھ لیا ہے... اور وہ آپ کے بارے میں ہے.
عبد المطلب یہ باتیں سن کر حد درجے حیرت زدہ ہوئے اور پکار اٹھے.
میں سمجھا نہیں ، آپ کہنا کیا چاہتے ہیں .
سنو، عبد المطلب، جب تہامہ کی وادی یعنی مکہ میں ایسا بچہ پیدا ہو جس کے دونوں کندھوں کے درمیان بالوں کا گچھا (یعنی مہر نبوت) ہو تو اسے امامت اور سرداری حاصل ہو گی اور اس کی وجہ سے تمہیں قیامت تک کے لیے اعزاز ملے گا، عزت ملے گی.
عبد المطلب نے یہ سن کر کہا.
اے بادشاہ. اللہ کرے آپ کو بھی ایسی خوش بختی میسر آئے، آپ کی ہیبت مجھے روک رہی ہے، ورنہ میں آپ سے پوچھتا کہ اس بچے کا زمانہ کب ہو گا.
بادشاہ نے جواب میں کہا.
یہی اس کا زمانہ ہے، وہ اسی زمانے میں پیدا ہو گا یا پیدا ہو چکا ہے اس کا نام محمد ہو گا، اس کی والدہ کا انتقال ہو جائے گا، اس کے دادا اور چچا اس کی پرورش کریں گے. ہم بھی اس کے آرزو مند رہے کہ وہ بچہ ہمارے ہاں پیدا ہو، اللہ تعالٰی اسے کھلے عام ظاہر فرمائے گا اور اس کے لیے ہم میں سے (یعنی مدینے کے قبیلے خزرج میں ) اس نبی کے مددگار بنائے گا (ہم میں سے اس نے اس لیے کہا کہ خزرج اصل میں یمن کے لوگ تھے) ان کے ذریعے اس نبی کے خاندان اور قبیلے والوں کو عزت حاصل ہو گی اور ان کے ذریعے اس کے دشمنوں کو ذلت ملے گی اور ان کے ذریعے وہ تمام لوگوں سے مقابلہ کرے گا اور ان کے ذریعے زمین کے اہم علاقے فتح ہو جائیں گے. وہ نبی رحمان کی عبادت کرے گا، شیطان کو دھمکائے گا. آتش کدوں کو ٹھنڈا کرے گا (یعنی آگ کے پجاریوں کو مٹائے گا) بتوں کو توڑ ڈالے گا، اس کی ہر بات آخری فرمان ہو گی، اس کے احکامات انصاف والے ہوں گے، وہ نیک کاموں کا حکم دے گا، خود بھی ان پر عمل کرے گا، برائیوں سے روکے گا، ان کو مٹا ڈالےگا ۔
عبد المطلب نے سیف بن یزن کو دعا دی۔پھر کہا۔
کچھ اور تفصیل بیان کریں ۔
بات ڈھکی چھپی ہے اور علامتیں پوشیدہ ہیں مگر اے عبد المطلب اس میں شبہ نہیں کہ تم اس کے دادا ہو۔
عبد المطلب یہ سن کر فوراً سجدے میں گر گئے اور پھر سیف نے ان سے کہا۔
اپنا سر اٹھاؤ،اپنی پیشانی اونچی کرو،اور مجھے بتاؤ، جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے،کیا تم نے ان میں سے کوئی علامت اپنے ہاں دیکھی ہے؟
اس پر عبد المطلب نے کہا۔
ہاں میرا ایک بیٹا تھا،میں اسے بہت چاہتا تھا،
میں نے ایک شریف اور معزز لڑکی آمنہ بنت وہب عبد مناف سے اس کی شادی کر دی،وہ میری قوم کے انتہائی باعزت خاندان سے تھی،اس سے میرے بیٹے کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا،میں نے اس کا نام محمد رکھا،اس بچے کا باپ اور ماں دونوں فوت ہو چکے ہیں ۔اب میں اور اس کا چچا ابو طالب اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں ۔
اب سیف نے ان سے کہا۔
میں نے تمہیں جو کچھ بتایا ہے،وہ واقعہ اسی طرح ہے۔ اب تم اپنے پوتے کی حفاظت کرو،اسے یہودیوں سے بچائے رکھو،اس لیے کہ وہ اس کے دشمن ہیں ،یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالٰی ہر گز ان لوگوں کو ان پر قابو نہیں پانے دے گا اور میں نے جو کچھ آپ کو بتایا ہے،اس کا اپنے قبیلے والوں سے ذکر نہ کرنا،مجھے ڈر ہے کہ ان باتوں کی وجہ سے ان لوگوں میں حسد اور جلن نہ پیدا ہو جائے۔یہ لوگ سوچ سکتے ہیں ،یہ عزت اور بلندی آخر انہیں کیوں ملنے والی ہے یہ لوگ ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کریں گے اگر یہ لوگ اس وقت تک زندہ نہ رہے تو ان کی اولادیں یہ کام کریں گی اگر مجھے یہ معلوم نہ ہوتا کہ اس نبی کے ظہور سے پہلے ہی موت مجھے آ لے گی تو میں اپنے اونٹوں اور قافلے کے ساتھ روانہ ہوتا اور ان کی سلطنت کے مرکز یثرب پہنچتا،کیونکہ میں اس کتاب میں یہ بات پاتا ہوں کہ شہر یثرب ان کی سلطنت کا مرکز ہوگا، ان کی طاقت کا سرچشمہ ہو گا،ان کی مدد اور نصرت کا ٹھکانہ ہو گا اور ان کی وفات کی جگہ ہوگی اور انہیں دفن بھی یہیں کیا جائے گا اور ہماری کتاب پچھلے علوم سے بھری پڑی ہے۔مجھے پتا ہے اگر میں اسی وقت ان کی عظمت کا اعلان کروں تو خود ان کے لیے اور میرے لیے خطرات پیدا ہو جائیں گے۔یہ ڈر نہ ہوتا تو میں اسی وقت ان کے بارے میں یہ تمام باتیں سب کو بتا دیتا۔عربوں کے سامنے ان کی سربلندی اور اونچے رتبے کی داستانیں سنا دیتا،لیکن میں نے یہ راز تمہیں بتایا ہے....تمہارے ساتھیوں میں سے بھی کسی کو نہیں بتایا۔
اس کے بعد اس نے عبد المطلب کے ساتھیوں کو بلایا،ان میں سے ہر ایک کو دس حبشی غلام،دس حبشی باندیاں اور دھاری دار یمنی چادریں ،بڑی مقدار میں سونا چاندی،سو سو اونٹ اور عنبر کے بھرے ڈبے دییے۔پھر عبد المطلب کو اس سے دس گنا زیادہ دیا اور بولا۔
سال گزرنے پر میرے پاس ان کی خبر لے کر آنا اور ان کے حالات بتانا۔
سال گزرنے سے پہلے ہی اس بادشاہ کا انتقال ہو گیا۔
عبد المطلب اکثر اس بادشاہ کا ذکر کیا کرتے تھے،آپ کی عمر آٹھ سال کی ہوئی تو عبد المطلب کا انتقال ہو گیا۔ اس طرح ایک عظیم سرپرست کا ساتھ چھوٹ گیا۔اس وقت عبد المطلب کی عمر 95 سال تھی۔تاریخ کی بعض کتابوں میں ان کی عمر اس سے بھی زیادہ لکھی ہے۔
جس وقت عبد المطلب کا انتقال ہوا۔آپ ان کی چارپائی کے پاس موجود تھے،آپ رونے لگے،عبد المطلب کو عجون کے مقام پر ان کے دادا قصی کے پاس دفن کیا گیا۔
مرنے سے پہلے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے بیٹے ابو طالب کے حوالے کیا۔اب ابو طالب آپ کے نگران ہوئے۔انہیں بھی آپ سے بے تحاشا محبت ہو گئی۔ ان کے بھائی عباس اور زبیر بھی آپ کا بہت خیال رکھتے تھے۔پھر زبیر بھی انتقال کر گئے تو آپ کی نگرانی آپ کے چچا ابو طالب ہی کرتے رہے۔
انہیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے بہت محبت تھی۔جب انہوں نے آپ کی برکات دیکھیں ، معجزے دیکھے تو ان کی محبت میں اور اضافہ ہو گیا۔ یہ مالی اعتبار سے کمزور تھے۔دو وقت سارے گھرانے کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا تھا۔لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ان کے ساتھ کھانا کھاتے تو تھوڑا کھانا بھی ان سب کے لیے کافی ہو جاتا۔سب کے پیٹ بھر جاتے۔اسی لیے جب دوپہر یا رات کے کھانے کا وقت ہوتا تو اور سب دسترخوان پر بیٹھتے تو ابو طالب ان سے کہتے۔
ابھی کھانا شروع نہ کرو،میرا بیٹا آ جائے پھر شروع کرنا۔
پھر آپ تشریف لے آتے اور ان کے ساتھ بیٹھ جاتے۔آپ کی برکت اس طرح ظاہر ہوتی کہ سب کے سیر ہونے کے بعد بھی کھانا بچ جاتا،اگر دودھ ہوتا تو پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو پینے کے لیے دیا جاتا،پھر ابو طالب کے بیٹے پیتے،یہاں تک کہ ایک ہی پیالے سے سب کے سب دودھ پی لیتے،خوب سیر ہو جاتے اور دودھ پھر بھی بچ جاتا،ابو طالب کے لیے ایک تکیہ رکھا رہتا تھا،وہ اس سے ٹیک لگا کر بیٹھتے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لاتے تو آ کر سیدھے اس تکیے کے ساتھ بیٹھ جاتے،یہ دیکھ کر ابو طالب کہتے۔
میرے بیٹے کو اپنے بلند مرتبے کا احساس ہے۔
ایک بار مکہ میں قحط پڑ گیا،بارش بالکل نہ ہوئی،لوگ ایک دوسرے سے کہتے تھے،لات اور عزی سے بارش کی دعا کرو،کچھ کہتے تھے تیسرے بڑے بت منات پر بھروسہ کرو،اسی دوران ایک بوڑھے نے کہا۔
تم حق اور سچائی سے بھاگ رہے ہو،تم میں ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی نشانی موجود ہے، تم اسے چھوڑ کر غلط راستے پر کیوں جا رہے ہو۔
اس پر لوگوں نے اس سے کہا۔
کیا آپ کی مراد ابو طالب سے ہے؟
اس نے جواب میں کہا۔
ہاں میں یہی کہنا چاہتا ہوں ۔
اب سب لوگ ابو طالب کے گھر کی طرف چلے،وہاں پہنچ کر انہوں نے دروازے پر دستک دی،تو ایک خوبصورت آدمی باہر آیا،اس نے تہبند لپیٹ رکھا تھا، سب لوگ اس کی طرف بڑھے اور بولے۔
اے ابو طالب،وادی میں قحط پڑا ہے،بچے بھوکے مر رہے ہیں ،اس لیے آؤ اور ہمارے لیے بارش کی دعا کرو۔
چنانچہ ابو طالب باہر آئے،ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بھی تھے،آپ ایسے لگ رہے تھے جیسے اندھیرے میں سورج نکل آیا ہو،ابو طالب کے ساتھ اور بھی بچے تھے لیکن انہوں نے آپ ہی کا بازو پکڑا ہوا تھا، اس کے بعد ابو طالب نے آپ کی انگلی پکڑ کر کعبے کا طواف کیا۔یہ طواف کر رہے تھے اور دوسرے لوگ آسمان کی طرف نظر اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے تھے،جہاں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نہیں تھا لیکن پھر اچانک ہر طرف سے بادل گھر گھر کر آنے لگے،اس قدر زور دار بارش ہوئی کہ شہر اور جنگل سیراب ہو گئے۔
ابو طالب ایک بار ذی الحجاز کے میلے میں گئے،یہ جگہ عرفات سے تقریباً 8 کلو میٹر دور ہے۔ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بھی تھے،ایسے میں ابو طالب کو پیاس محسوس ہوئی۔انہوں نے آپ سے کہا۔
بھتیجے،مجھے پیاس لگی ہے۔
یہ بات انہوں نے اس لیے نہیں کہی تھی کہ آپ کے پاس پانی تھا....بلکہ اپنی بے چینی ظاہر کرنے کے لیے کہی تھی۔چچا کی بات سن کر آپ فورا سواری سے اتر آئے اور بولے۔
چچا جان آپ کو پیاس لگی ہے۔
انہوں نے کہا۔
ہاں بھتیجے۔پیاس لگی ہے۔
یہ سنتے ہی آپ نے ایک پتھر پر اپنا پاؤں مارا۔

Address

Sardar Muhalah
Quetta Cantonment

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Information posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share