Taaj Ul Fuqahaa Hazrat Allama Sahibzada Muhammad Abdul Haq Sahib Bandialvi

  • Home
  • Pakistan
  • punjab
  • Taaj Ul Fuqahaa Hazrat Allama Sahibzada Muhammad Abdul Haq Sahib Bandialvi

Taaj Ul Fuqahaa Hazrat Allama Sahibzada Muhammad Abdul Haq Sahib Bandialvi Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Taaj Ul Fuqahaa Hazrat Allama Sahibzada Muhammad Abdul Haq Sahib Bandialvi, Religious Center, Bandial Janubi, Tehsil Quaidabad, District Khushab, punjab.

گنجینہ شریعت و طریقت،وارثِ علومِ خیرآباد و بندیال شریف،تاج الفقہا اُستاذ الاساتذہ،جامع المعقول والمنقول پیر طریقت حضرت علامہ صاحب زادہ ابو الظفر محمد عبدالحق صاحب بندیالوی چشتی صابری رحمه الله سجادہ نشین آستانہ عالیہ بندیال شریف (١٩٣٠ء تا ٢٠٢٣ء)

؎زندگی پُر کیف پائی گرچہ دل پُر غم رہااُن کے غم کے فیض سے مَیں غم میں بھی بے غم رہامحمد شاہد ظفر بندیالوی
21/08/2026

؎زندگی پُر کیف پائی گرچہ دل پُر غم رہا
اُن کے غم کے فیض سے مَیں غم میں بھی بے غم رہا

محمد شاہد ظفر بندیالوی

سن ٨٦-١٩٨٤ءقائد آباد جلوس عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتہائی پروقار و تاریخی منظرخطاب:مفکر اسلام حضرت علامہ پ...
21/08/2026

سن ٨٦-١٩٨٤ء
قائد آباد جلوس عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتہائی پروقار و تاریخی منظر

خطاب:مفکر اسلام حضرت علامہ پروفیسر صاحبزادہ محمد ظفر الحق صاحب بندیالوی مد ظلہ العالی (مہتمم: دارالعلوم جامعہ مظہریہ امدادیہ بندیال شریف)

سٹیج پر موجود شخصیات
استاذ العلما تاج الفقہا جامع المعقول والمنقول پیر طریقت حضرت علامہ مولانا ابوالظفر صاحبزادہ محمد عبدالحق صاحب بندیالوی چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ

پیر طریقت حضرت علامہ مولانا فضل الحق صاحب بندیالوی نقشبندی
حضرت مولانا عبد اللطیف صاحب (بندیال شریف)
مولانا محمد حنیف صاحب مرحوم
صاحبزادہ ڈاکٹر محمد انوار الحق صاحب بندیالوی
پروفیسر صاحبزادہ محمد جمیل احمد صاحب بندیالوی(ایسوسی ایٹ پروفیسر گورنمنٹ ڈگری کالج قائدآباد)

محمد شاہد ظفر بندیالوی

مفکر اسلام حضرت علامہ پروفیسر صاحبزادہ محمد ظفر الحق صاحب بندیالوی مد ظلہ العالی (مہتمم:جامعہ مظہریہ امدادیہ بندیال شریف...
22/07/2026

مفکر اسلام حضرت علامہ پروفیسر صاحبزادہ محمد ظفر الحق صاحب بندیالوی مد ظلہ العالی (مہتمم:جامعہ مظہریہ امدادیہ بندیال شریف) و
حضرت علامہ صاحبزادہ قاری حافظ محمد اسرار الحق صاحب بندیالوی حفظہ اللہ تعالیٰ (مدرس جامعہ مظہریہ امدادیہ بندیال شریف)

کی شادی خانہ آبادی کے عکس بند مناظر۔۔سن ١٩٨٨ء

تصویر میں نظر آنے والی شخصیات
١-استاذ العرب والعجم امام المناطقہ ملک المدرسین حضرت علامہ عطا محمد بندیالوی چشتی گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ (سابق صدر مدرس و شیخ الحدیث:جامعہ بندیال شریف)

٢-جامع المعقول والمنقول تاج الفقہا استاذ العلما پیر طریقت حضرت علامہ مولانا صاحب زادہ ابوالظفر محمد عبد الحق صاحب بندیالوی چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ (سجادہ نشین آستانہ عالیہ بندیال شریف)

٣-پیر طریقت حضرت مولانا صاحب زادہ فضل الحق صاحب
بندیالوی نقش بندی رحمۃ اللہ علیہ (آستانہ عالیہ بندیال شریف)

٤-پیر طریقت حضرت صاحب زادہ شرف الدین صاحب نظامی مکھڈی رحمۃ اللہ علیہ (زیب سجادہ آستانہ عالیہ مکھڈ شریف)

٥-پیر طریقت حضرت صاحب زادہ محبوب احمد صاحب میروی رحمۃ اللہ علیہ (زیب سجادہ آستانہ عالیہ میرا شریف)

٦-پیر طریقت حضرت علامہ مولانا صاحب زادہ عزیز احمد صاحب سیالوی رحمۃ اللہ علیہ (سجادہ نشین آستانہ عالیہ مکان شریف،کفری،وادی سون)

٧-حضرت صاحب زادہ ڈاکٹر محمد انوار الحق صاحب بندیالوی چشتی گولڑوی زید شرفہ (آستانہ عالیہ بندیال شریف)

محمد شاہد ظفر بندیالوی

؎میں سمجھتا تھا مجھے ان کی طلب ہے اصغرکیا خبر تھی وہی لے لیں گے سراپا مجھ کو٦ صفر المظفر ١٤٤٨ھ یوم وصال گنجینہ شریعت و ط...
21/07/2026

؎میں سمجھتا تھا مجھے ان کی طلب ہے اصغر
کیا خبر تھی وہی لے لیں گے سراپا مجھ کو

٦ صفر المظفر ١٤٤٨ھ یوم وصال
گنجینہ شریعت و طریقت جامع المعقول والمنقول تاج الفقہا استاذ العلما پیر طریقت حضرت علامہ مولانا صاحب زادہ ابوالظفر محمد عبد الحق صاحب بندیالوی چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ (سجادہ نشین آستانہ عالیہ بندیال شریف)

آنکھ عین الیقیں،دل ہے عرشِ بریں، پیرِ کامل مجھے پیشوا مل گئےوہ جمیل و حسیں،ہر ادا دلنشیں، نازنیں مہ جبیں رہنما مل گئےراہ...
21/07/2026

آنکھ عین الیقیں،دل ہے عرشِ بریں، پیرِ کامل مجھے پیشوا مل گئے
وہ جمیل و حسیں،ہر ادا دلنشیں، نازنیں مہ جبیں رہنما مل گئے

راہِ الفت میں ناز و ادا کی قسم،منزلوں کی قسم نقشِ پا کی قسم
پیرِ کامل ملا وہ خدا کی قسم،بس خدا مل گیا مصطفے مل گئے

رحمتوں کی گھٹا ہے سہانا سماں،آج ہیں پیرومرشد بڑے مہرباں
وجد میں ہے زمیں،رقص میں آسماں،مجھ کو محبوب وہ دلربا مل گئے

آج تشریف فرما ہیں مولا علی،اور موجود ہیں آقا غوثِ جلی
دیکھو وہ آگئے خواجہ ہند الولی،سب گلے سے گلے اولیاء مل گئے

عارفِ حق نما محرمِ راز ہے،میرا ہادی طریقت کا شہباز ہے
مجھ کو نسبت پہ اپنی بڑا ناز ہے،مرشدِ سلسلہِ چشتیہ مل گئے

یا الہی سلامت رہے آستاں،میرا کعبۂ دل ہے یہ بیت الاماں
میں ہوں دیوانہ سجدے کروں گا یہاں،مجھ کو محبوب کے نقشِ پا مل گئے​

یوم وصال
٦ صفر المظفر ١٤٤٨ھ
حضور تاج الفقہا استاذ العلما پیر طریقت حضرت علامہ مولانا صاحب زادہ ابوالظفر محمد عبد الحق صاحب بندیالوی چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ (سجادہ نشین آستانہ عالیہ بندیال شریف)

محمد شاہد ظفر بندیالوی

عینکِ چشمانِ فقیہ العصر بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ ؎چونک گل بگذشت و گلشن شُد خراببوی گُل را از کہ یابیم از گلابچونک شُد از ...
16/07/2026

عینکِ چشمانِ فقیہ العصر بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ

؎چونک گل بگذشت و گلشن شُد خراب
بوی گُل را از کہ یابیم از گلاب
چونک شُد از پیشِ دیدہ وصل یار
نایبی باید ازو مان یاد گار
انسانی زندگی میں تمام آلات،ہمیشہ ذوات کو ہی فائدہ پہنچاتے چلے آئے ہیں۔وہ فائدہ ذوات کی حیات تک محدود رہتا ہے۔بعدِ وفات،آلات سےاُن ذوات کو حاصل ہونے والا فائدہ منقطع ہو جاتا ہے۔پھر اُسی آلہ کو کوئی دوسرا اپنے فائدے کے لیے استعمال کرے تو اسے بھی محض وہی فائدہ حاصل ہوگا جس کے لیے وہ آلہ کار ایجاد ہوا۔لیکن کچھ ذوات ایسی ہوتی ہیں کہ جو اپنی ظاہری حیات میں چند آلات کا استعمال کرتی ہیں اور بعد از مماتِ شخصیاتِ مخصوصہ،وہ آلات،اُن نفوسِ قدسیہ کے لمس کی بدولت اپنے سببِ ایجاد کو پورا کرنے کے علاوہ بھی کئی اعتبار سے فائدہ مند اور متبرک بن جاتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آلات جن نفوسِ قدسیہ سے کچھ لمحے مَس ہوتے ہیں وہ ذوات عام نہیں ہوتیں بل کہ:
؎آدمی ھمچون عصای موسی است
آدمی ھمچون فسونِ عیسی است
تو ز دوری می نبینی جز کہ گرد
اندکی پیش آ ببین در گردِ مرد
دیدہ ھا را گردِ او روشن کند
کوہ ھا را مردی او بر کند

مَیں فقیہ العصر بندیالوی کی شخصیت پر تبصرہ کروں،یعنی سورج کو چراغ دکھاؤں،مَیں افق علم و عرفان کے اس درخشاں آفتاب کی اُن ضوفشانیوں کا ذکر نہیں کرتا کہ جن کے طفیل نہ جانے کتنے ستارے روشن ہوگئے،بل کہ اس چراغِ سحری کی ایک یاد گار کا ذکر منظور ہے۔وہ یاد گار آپ کی وہ عینک مبارک ہے جسے آپ نے اپنی حیات بابرکات کا ایک طویل عرصہ استعمال فرمایا۔کبھی کبھی زمانہ اپنے سینے میں کچھ ایسی خاموش امانتیں محفوظ رکھ لیتا ہے جن کی زبان تو نہیں ہوتی مگر وہ اہل ِ دل سے گفت گو کرتی ہیں۔وہ امانتیں لفظ و آواز سے تہی دامن ہوتی ہیں لیکن ان کی خاموشی صدیوں کی حکایتیں اپنے اندر سمیٹے رہتی ہے۔اولیائے کاملین اگرچہ جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں،مگر ان کے آثار،ان کی یاد گاریں اور علمی و روحانی نسبتیں اہلِ دل کے لیے سرمایہ بن جاتی ہیں۔
؎ہرگز نمیرد آن کی دلش زندہ شُد بہ عشق
ثبت است بر جریدہ عالم دوامِ ما

یہ متبرک عینک بھی ایسی ہی ایک خاموش امانت ہے جسے ان متبرک آنکھوں سے جدا ہوئے ٧٩ سال ہوگئے۔یہ شیشہ محض شیشہ نہیں،یہ دو عدسے محض عدسے نہیں بل کہ یہ ایسے مردِ خدا کی نگاہوں کے امین ہیں جس نے عمر بھر اپنی بصارت کو بصیرت کا اسیر بنائے رکھا۔انہی عدسوں کے پیچھے ان چشمانِ مقدس میں ہزار ہا آیات قرآنی کا نور اُترا،ہزاروں لاکھوں احادیثِ رسول ﷺ کے انوار آنکھوں کے راستے قلبِ منور میں اُترے۔فقہ کے دقیق مسائل سلجھے،منطق و فلسفے کے پیچیدہ مسائل کی موشگافیاں ہوئیں۔یہ وہ عینک ہے جو اس بلند پیشانی کی رفیق رہی جو سجدوں سے منور تھی،اُن آنکھوں کی مصاحب رہی جو جاہ و منصب کی متلاشی نہیں تھیں بل کہ ہر وقت "کُن فی الدنیا کانک غریب او عابر سبیل"کی تصویر لیے پھرتی تھیں۔اس عینک کے عدسوں پہ کبھی قرآن کے اوراق جھلملائے ہوں گے،کبھی صحاح ستہ کے صفحات منعکس ہوئے ہوں گے کبھی فقہ و اصول اور حکمت و عرفان کے مباحث واسرار ہویدا ہوئے ہوں گے۔
؎ہر آن چیزی کہ آید در حضورش
منور گردد از فیضِ شعورش
بخلوت مست و صحبت ناپذیر ست
ولی ہر شے ز نورش مستنیر است

یہ مقدس عینک جب بھی ہاتھ میں آتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کے عدسوں پہ اب بھی تفسیر و حدیث کے صفحات ثبت ہیں۔مَیں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان عدسوں کی ایک ایک جز میں جھانک کے دیکھا جائے تو آج بھی اس میں کسی حدیث کا متن روشن ہوتا دکھائی دے گا،کسی فقہی مسئلے کی گرہ کھلتی ملے گی،کسی فلسفیانہ عقدے کا حل رقم ہوتا نظر آئے گا۔یہ خاموش ہے لیکن اس کی خاموشی میں برسوں کی تدریس، ہزاروں ںساعتوں کا انہماکانہ مطالعہ،لاکھوں لمحوں کا تفکر اور ان گنت سجدوں کی خوش بُو بسی ہوئی ہے۔
؎نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

یہ عینک،بظاہر ایک عام فریم اور دو عدسوں کا مجموعہ ہے لیکن درحقیقت یہ ایک سنہری و تاب ناک علمی و روحانی عہد کی زندہ و جاوید گواہ ہے۔یہ مردِ خدا کی یاد گار ہے،یہ نادر و نایاب تحفہ ہے،اس کی قیمت دنیوی بازار میں نہیں لگائی جاسکتی،کیوں کہ نسبتوں کی قیمت سکّوں سے نہیں،دِلوں سے ادا کی جاتی ہے۔دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں نسبتوں کی قدر کرنے اور ان تبرکات سے مستفید ہونے کی توفیق نصیب فرمائے آمین!
؎تو ہم از صحبتش یاری طلب کُن
نگہ را از خم و پیچش ادب کُن
؎نصیب خود ز بوی پیرہن گیر
بہ کنعان نکہت از مصر و یمن گیر

محمد شاہد ظفر بندیالوی

15/07/2026

جامع المعقول والمنقول پیر طریقت حضرت علامہ مولانا صاحب زادہ ابوالظفر محمد عبد الحق صاحب بندیالوی چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ (سجادہ نشین آستانہ عالیہ بندیال شریف)

خطاب

بمقام:بالا شریف تحصیل پپلاں ضلع میاں والی
عرس سراپا قدس
پیر طریقت حضرت میاں سلطان اکبر صاحب رحمۃ اللہ علیہ و
پیر طریقت حضرت میاں علی اکبر صاحب رحمۃ اللہ علیہ
(سجادہ نشینان آستانہ عالیہ بالا شریف)

حصہ چہارم

سن:نامعلوم

14/07/2026

جامع المعقول والمنقول پیر طریقت حضرت علامہ مولانا صاحب زادہ ابوالظفر محمد عبد الحق صاحب بندیالوی چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ (سجادہ نشین آستانہ عالیہ بندیال شریف)

خطاب

بمقام:بالا شریف تحصیل پپلاں ضلع میاں والی
عرس سراپا قدس
پیر طریقت حضرت میاں سلطان اکبر صاحب رحمۃ اللہ علیہ و
پیر طریقت حضرت میاں علی اکبر صاحب رحمۃ اللہ علیہ
(سجادہ نشینان آستانہ عالیہ بالا شریف)

حصہ اول،دوم اور سوم

سن:نامعلوم

06/07/2026

اہم اعلان
موسم کی خرابی کے باعث عرس الفقیھین کی پہلی مجلس بعد از نماز عشاء مرکز اہل سنت دارالعلوم جامعہ مظہریہ امدادیہ بندیال شریف میں انعقاد پذیر ہوگی

سفیرِ امن و بقا،تاج الفقہا بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ؎ندانم چہ جادوئیست بطرزِ گفتارشکہ باز بستہ زبانِ سُخن طرّازاں رالوگ دن...
06/07/2026

سفیرِ امن و بقا،تاج الفقہا بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ

؎ندانم چہ جادوئیست بطرزِ گفتارش
کہ باز بستہ زبانِ سُخن طرّازاں را

لوگ دنیوی بادشاہوں اور امیروں کے قصیدے اور مرثیے لکھتے ہیں۔نام وَر و مشہور لوگوں کے حالات قلم بند کرتے ہیں۔مَیں ایسے بادشاہوں کا حال لکھتا ہوں جو دنیوی سلاطین کی طرح ظاہری مسندِ اقتدار پہ براجمان نہ ہوئے البتہ اُنھوں نے تازیست خلقِ خدا کے دلوں پہ حکومت کی،بل کہ بعد از وصال اُن کی قبریں بھی لوگوں کے قلوب و اذہان کو جِلا بخشتی رہتی ہیں۔
؎قطرہ کا بھی محتاج سمجھتی ہے اُنھیں خلق
دل میں ہیں مگر عیش کا دریا لیے ہوئے

دنیائے دل کے اِن فرماں رواؤں میں ایک شخصیت کا ذکر کرتا ہوں جو میرے آقا و مربی ہیں۔خوب صورت دراز قد،چاندی کی طرح شفاف سفید داڑھی مبارک،انتہائی باوقار و حسین چہرہ،شراب الٰہی سے معمور سحر انگیز آنکھیں جو بہت کم اُونچی ہوتیں لیکن جب اُٹھ جاتیں تو عقل و خرد روانہ ہوجاتے۔سر پہ سفید کلف زدہ عمامہ،آپ کی خوب صورتی اور وجاہت میں مزید اضافہ کردیتا۔سفید چادر و قمیص اور اس کے اوپر واسکٹ زیب تن فرمائے، کھسہ پہنے جب بن سنور کے نکلتے تو لاریب لوگ اُنھیں آنکھ بھر کے دیکھتے تھے،ہجومِ بیکراں میں شَیدا ٹھہر کے دیکھتے تھے اور عاشقانِ مہجور آہ بھر کے دیکھتے تھے:
؎جب مہر نمایاں ہوا سب چُھپ گئے تارے
وہ ہم کو بھری بزم میں تنہا نظر آئے

اُن کی ذات ستودہ صفات کے متنوع گوشوں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا بھی انتہائی مشکل امر ہے۔وہ اعلیٰ خصائل و ذوقِ تہذیب کا عمدہ نمونہ تھے۔اُن کی صحبت ایسی تعلیم تھی جو آئندہ بہت کم نصیب ہوگی۔متبحر و محقق عالم و فقیہ،دقیقہ رس معقولی و منقولی اور عظیم واعظ و مناظر ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت زیرک اور ذہین و فطین دماغ کے مالک تھے۔اللہ رب العزت کے عطا کردہ لاتعداد اوصاف میں ان کا ایک عالی وصف شہر و علاقے کے لیے امن و آتشی کا سفیر ہونا بھی ہے۔جہاں کہیں شہر میں کوئی سماجی مسئلہ درپیش ہوتا،اپنے بلند فکر دماغ،بروقت قوت فیصلہ اور حیران کن حاضر جوابی سے مغلق سے مغلق تر معاملات کو چند گھڑیوں میں حل کرنا آپ ہی کا خاصہ تھا۔
؎ دہر نے منزل بہ منزل کارواں پیدا کیے
کیسے کیسے اِس زمیں نے آسماں پیدا کیے

بندیال شریف میں کئی قومیں اور برادریاں آباد ہیں۔شہر کےجاگیر دار اور ملک صاحبان کی بھی کئی برادریاں اور خیلیاں ہیں۔ان میں ایک عالَم شیر خیل برادری اوردوسری شیر خیل برادری کہلاتی ہے۔مسلم شیخ برادری کے دو آدمی ملک صاحبان کی ہر دو برادریوں سے تعلق رکھتے تھے۔مسلم شیخ برادری کے دونوں بندوں کا ایک کمرے پہ جھگڑا تھا۔ملک صاحبان کی ہر دو برادریاں وہ کمرہ اپنے تعلق دار کو دینے پہ مصر تھیں۔بات بڑھتے بڑھتے لڑائی تک جاپہنچی۔شیر خیل برادری نے اپنے بندے کے گھر پہ مورچہ بنایا اور اسلحہ لے کر بیٹھ گئے۔اُدھر عالم شیر خیل برادری کے ملک صاحبان تک یہ خبر پہنچی تو وہ مسلح ہوکر اُسی مسلم شیخ کے گھر کی طرف چل پڑے جہاں شیر خیل برادری کے ملک صاحبان پہلے ہی مورچہ زن تھے۔ملک فضل الٰہی بندیال صاحب مرحوم، حضرت تاج الفقہا بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس آئے اور عرض کرنے لگے کہ:"جناب اگر کوئی یہ لڑائی رُکوا سکتا ہے تو وہ آپ کی ذات مبارکہ ہے۔اور یہ لڑائی ہوتی ہے تو قتلِ عام ہوگا اور یہاں کُشتوں کے پُشتے لگ جائیں گے۔"یہ بات سننے کی دیر تھی کہ حضرت تاج الفقہا بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ بغیر کسی نمود ونمائش کے بغیر کسی دنیوی لالچ و طمع کے محض رضائے خدا اور رضائے محمد مصطفیﷺ کےفوراً اُٹھ کھڑے ہوئے اور اُسی وقت ملک فضل الٰہی بندیال صاحب مرحوم کے ساتھ اُسی راستے کی طرف چل پڑے جس پہ عالم شیر خیل برادری کے ملک صاحبان آرہے تھے۔اِدھر شیر خیل برادری کے ملک صاحبان مورچہ بند ہوچکے تھے۔آپ جب اُس راستے پہ تھوڑا دُور گئے تو آگے سے ملک صاحبان مسلح ہوکر آرہے تھے،اُن میں ملک فتح شیر بندیال صاحب مرحوم بھی تھے۔ایک طرف غصے اور جذبات کی انتہاؤں کو چُھوتا مسلح گروہ تھا تو دوسری طرف وہ فقیر بے نوا آرہا تھا جس کے خالی ہاتھ گویا ہدایت و نور معرفت سے لبریز تھے،جو صبر کرنے والوں کو اجر عظیم کی طرف راہ نمائی کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ملک فتح شیر صاحب بندیال مرحوم کی محبتِ علما و اولیا کو سلام ہے کہ اُنھوں نے جیسے ہی حضرت تاج الفقہا بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا تو طیش و جھلاہٹ کے باوجود اپنے سر سے پگڑی اُتاری اور حضرت تاج الفقہا بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ کے قدموں میں رکھ دی اور عرض کرنے لگے :
؎سامنے سے جب وہ شوخ دل رُبا آجائے ہے
تھامتا ہوں دل کو پر ہاتھوں سے نکلا جائے ہے

حضور! آپ آج ہمیں کوئی حکم نہ دیں۔آپ نے اُنھیں زور دے کر فرمایا کہ:آج تو آپ کو واپس جانا ہوگا۔اس پر حاجی عالم شیر بندیال صاحب مرحوم نے کہا کہ:جناب ہم آپ کی بات ٹالنے کی جرت نہیں کرسکتے۔آپ جیسے فرماتے ہیں ہم حکم کے پابند ہیں۔
؎ڈٹھی یار دے ہتھ تلوار وی نئیں
پر خالی جاندا وار وی نئیں

چناں چہ حضرت تاج الفقہا بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ نے عالم شیر خیل برادری کے ملک صاحبان کو وہیں سے واپس لوٹایا اور اُنھیں اُن کی بیٹھک تک پہنچایا۔پھر آپ رحمۃ اللہ علیہ شیر خیل برادری کے ملک صاحبان کی طرف آئے تو انھوں نے بھی آپ کے علمی و روحانی جلال کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اُنھیں بھی اپنے گھروں کو بھیجا۔جس کمرے پہ جھگڑا تھا اُس کی چابی لے لی۔ایک ملک صاحب نے کہا کہ مَیں نے قسم کھائی ہے کہ چابی لے کر رہوں گا آپ نے دوسرے فریق سے چابی لی اور اُن ملک صاحب کے حوالے کردی اور فرمایا کہ تمہاری قسم پوری ہوئی،پھر اُن سے چابی واپس لے لی اور طرفین کی رضا و رغبت سے کنجی ایک تیسرے فرد کو دے دی۔اس طرح آپ نے نسل در نسل تک نہ رکنے والی ایک بہت بڑی لڑائی کے اُمڈتے ہوئے بادلوں کو برسنے سے پہلے ہی ٹال دیا۔

آج یہ راگ الاپا جارہا ہے کہ "بابے تے شے ای کوئی نئیں"نعوذ باللہ من ذلک۔بابے تو ایسی ذوات مقدسہ ہیں جو معاشرے کے امن و بقا کی ضمانت ہیں۔ایسے جھگڑے اور لڑائیاں ختم کرانا کہ جن کا انجام دسیوں لوگوں کے قتل پر بھی شاید نہ تھمے،نہ وزیراعظم و وزیر اعلیٰ کے بس کی بات ہے نہ ڈی پی او،ایم این اے،ایم پی اے اور نہ ہی کسی سردار کے اختیار کی بات ہے۔اگر ایسا فساد روک سکتے ہیں تو فقط وارثان محراب و منبر روکے سکتے ہیں فقط رسول اللہﷺ کے فقیر رہبر شریعت و پیر طریقت کے القابات سے ملقب "بابے"ہی روک سکتے ہیں۔
؎جلاسکتی ہے شمع کشتہ کو موجِ نفس ان کی
الٰہی کیا چھپا ہوتا ہے اہلِ دل کے سینوں میں
نہ پوچھ اُن خرقہ پوشوں کی ارادت ہو تو دیکھ ان کو
یدِ بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں

آج بتاریخ ٢٠ محرم الحرام ١٤٤٨ھ موافق ٦ جولائی ٢٠٢٦ء بروز سوموار بعد ازنماز عشاء بندیال شریف میں عرس الفقیھین کی پہلی نشست انعقاد پزیر ہے۔تمام احباب کو شرکت کی پُرخلوص دعوت دی جاتی ہے۔

محمد شاہد ظفر بندیالوی

Address

Bandial Janubi, Tehsil Quaidabad, District Khushab
Punjab
41310

Telephone

+923055977738

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Taaj Ul Fuqahaa Hazrat Allama Sahibzada Muhammad Abdul Haq Sahib Bandialvi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Taaj Ul Fuqahaa Hazrat Allama Sahibzada Muhammad Abdul Haq Sahib Bandialvi:

Shortcuts

Share