Faizan-e-Rozay Dhani

Website Contact the place of worship

Faizan-e-Rozay Dhani درگاہ شریف امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضہ دھنی (رضی اللہ تعالی عنه) پیر جو گوٹھ خیرپور سندھ پاکستان

مختصر سوانح حیات
حضرت پيرسائيں سيد محمد راشد روضہ دھنی 
(۱۱۷۱ھ٬ ۱۲۳۴ھ - 1758ع٬ 1819ع)

قطب الاقطاب فیض مآب حضرت سید محمد راشد روزہ دھنی  حضرت خواجہ پیرسیدمحمد بقا شہید کے فرزندِ ارجمند ہیں جو کہ نہایت ہی باکمال اولیاء میں مقتدا و پیشوا اورطریقہء قادریہ و نقشبندیہ کے مجمع البحرین تھے۔ قادری طریقہ حضرت کامل مکمل پیرسید عبدالقادر جیلانی حسینی ساکن کوٹ سدھانہ سے حاصل کیا اور یہ جھنگ سیال ضلع میں ہے جو اب چناہ شریف کی دربار کہلاتی ہے اور سلسلہ نقشبندیہ حضرت محی السنۃ امام الامۃ مخدوم محمد اسماعیل پریاں لوء شریف والے سے حاصل کیا۔ آپ دراصل قصبہ رسول پور عرف چھوٹی سائیدی کے رہنے والے تھے جہاں سے ہجرت کرکے گوٹھ رحیم ڈنو کلہوڑو واقع فریدآباد میں سکونت پذیر ہوئے۔ آپ کی ولادت ۱۱۳۵ھ میں ہوئی اور ۱۱۹۸ھ میں کچھ راہزن لٹیروں کے ہاتھوں ۶۳سال کی عمرمبارک پا کر جامِ شہادت نوش کیا۔ آپ کی مزارِ مقدس شیخ طیب قبرستان میں ہے۔ حضرت سید محمد بقا شاہ شہید کو ۴ فرزند تھے٬جن کے اسماء گرامی یہ ہیں۔
1. قدوۃ اہلِ صفا مقتدائے عارفان خدا حضرت سید عبدالرسول 
2. پیشوائے اہلِ تسلیم حضرت پیرسید محمد سلیم شاہ 
3. قدوۃ العارفین خازن اسرار ربانی محبوب سبحانی مجدد دین یزدانی حضرت سید محمد راشد روزہ دھنی 
4. اور فرزند چہارم تاج الاصفیاء زین الاولیاء میاں سید علی مرتضیٰ شاہ
حضرت مرشد کامل مکمل سید محمد راشد روزہ دھنی کی ولادت یکم شعبان یا رمضان علی اختلاف الاقوال ۱۱۷۱ھ میں ہوئی۔ آپ سب بھائیوں میں سے چھوٹے مگر سب سے بلند اقبال، ارجمند مقتدائے جہاں، عالی الشان، جان جہاں اور سلسلہء راشدیہ طیبہ کے صاحب بنے۔ آپ کی ولادت رحیم ڈنو کلہوڑو میں ہوئی۔ آپ کے پوتے حضرت محبوب السالکین یعسوب العارفین پیرسیدعلی گوہر شاہ عرف بنگلہ دھنی تخلص اصغرکی سجادگی کے دوران ۱۲۵۰ھ میں دریاءکی باڑ کا خطرہ ہوا تو آپ نے تمام مزارات منتقل کرواکر نئی درگاہ (موجودہ) میں رکھوائیں اور نیا گوٹھ آباد کیا۔ جس کو اب پیر جوگوٹھ یا نئی درگاہ کہاجاتا ہے۔ چونکہ اولاد میں سے کچھ لوگ وہیں پر رہ رہے تھے اس لئے اسے پرانی درگاہ کہاجاتا ہے۔
منقول ہے کہ جب حضرت میاں صاحب پیرسید محمد بقا شاہ شہید کے ہاں چاروں فرزند تولد ہوئے تو ایک بار حضرت مقتدائے اہل تفضیل، مقبول بارگاہ رب جلیل مخدوم محمد اسماعیل  (جو کہ نقشبندی مشرب میں آپ کے پیرطریقت تھے)کو اپنے گاؤں لے آئے اور تینوں فرزندوں کو دعا طلبی کے لئے پیش خدمت کیا، مخدوم صاحب ایک ایک کا نام پوچھتے دعا فرماتے گئے کہ "اچھا ہوگا" پھرجب حضرت سید روضہ دھنی (جوکہ ابھی بندھنوں میں تھے)کو لے آئے تب حضرت مخدوم صاحب دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور انھیں اٹھا کر فرمایا "یہ وہ دوست ہے جس سے دنیا کا اچھا خاصہ حصہ فیضیاب ہوگا"
حضرت پیرسائیں قبلہ عالمیاں قدوۂ عارفاں کا بچپن نہایت ہی پاکیزہ گزرا، بچپن کی بے فائدہ لہو و لعب سے آپ کی طبعیت مقدس بالکل بیزار و متنفر رہتی تھی۔ کبھی بھی دیگر بچوں کی طرح کھیلنے میں وقت ضائع نہیں کیا۔ جب تعلیم لینے کی عمر کو پہنچے تو والد محترم کے امر کے مطابق نہایت ہی خوشی اور کشادہ ذہنی سے علم کے حصول میں لگ گئے۔ ملفوظات شریف میں ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ بچپن میں ہمارے دل میں خیال وارد ہوتا تھا کہ کاش ہم عارف کامل مکمل صاحب ارشاد و تلقین بن جائیں کہ ہماری توجہ سے لوگ دنیا و مافیہا کو بھول کر مجذوب بن جائیں اور وجد میں اپنے حال سے بےخود ہوجائیں۔ در حقیقت آپ کا یہ خیال الہام الاہی تھاجس کا عکس آپ کے قلب مبارک والے آئینۂ مصفیٰ پر پڑتا تھا جو آگے چل کر بعینہ ظہور پذیر اور نروار ہوا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم میاں محمد اکرم گھمرو اور حافظ زین الدین مہیسر سے حاصل کی جو کہ آپ کے والد حضرت میاں صاحب کے کامل مریدین میں سے تھا۔ اس کے بعد حصول علم کے لئے سفر اختیار فرمایا حضرت والدمحترم نے آپ کو پہلے مخدوم طیب بقاپور والے کے پاس اور بعد میں حضرت قدوۃ العرفاء الحاج میاں فقیراللہ علوی نقشبندی  (متوفی ۱۱۹۵ھ) کے ہاں بٹھایا لیکن حضرت میاں صاحب شہید دوسری مرتبہ آئےاور صاحبزادے کے لئے تعظیم و تکریم کے ساتھ پر تکلف کھانا دیکھا تو فرمایا بابا! جس مدرسے میں عمدہ کھانا ہو وہاں علم حاصل کرنا محال ہے۔ پھر وہاں سے شہر کوٹڑی کبیر حضرت میاں یارمحمد کے ہاں لے آئے جو کہ ایک اہلِ دل فاضل اور کامل عالم تھے۔ وہاں آپ کی طبع مقدس مختلف مدارس کی طرف سفر کرنے سے مشقت اور گرانی کی وجہ سے پریشان ہوئی تو ایک رات ایک پاؤں پر کھڑے ہوکر ۵ ہزار مرتبہ درود شریف پڑھ کر حضور سید دو عالم ﷺ سے استمداد و استغاثہ کیا۔ جس سے آپ کے قلب کو ایسی صفائی اور آسانی حاصل ہوئی کہ ان پڑھے علوم بھی پڑھے ہوئےہوگئے اور علم الانسان مالم یعلم کی مصداق بن گئے۔
اخیرمیں آپ نے حضرت مولانا مخدوم محمد آریجوی کے ہاں علوم کی تکمیل کی۔ اس مدرسے میں حضرت سید عاقل شاہ بھی آپ کے ہمدرس تھے۔ مگر حضرت روزہ دھنی علم کے نصاب کی تکمیل کے بعد فیض اور فضیلت کی دستار حاصل کرکے پہلے فارغ ہوئے اور جناب شاہ صاحب ایک سال بعد فارغ ہوئے۔
طریقت میں قدم :آپ فرماتے ہیں جب میں اور برادرم میاں مرتضیٰ علی شاہ کوٹڑی کبیر میں مخدوم میاں یارمحمد کے ہاں ظاہری علوم کے درس و تدریس میں مشغول تھے تب ایک دن حضرت والد بزرگوار وہاں تشریف فرما ہوئے۔ ہم قدم بوسی سے مشرف ہوکر خدمت میں بیٹھے تو آپ نے فرمایا اے برخورداران! آپ کو معلوم ہے کہ آج ہمارے یہاں آنے کا کیا سبب ہے؟ ہم نے عرض کیا نہیں معلوم۔ آپ نے فرمایا کہ میں مخدوم عبدالرحمٰن  سے ملاقات کرنے گیا تھا جو حضرت مخدوم محمد اسماعیل کے خاص مریدین میں سے ہیں۔ تو دورانِ گفتگو مخدوم صاحب نے پوچھا کہ کیا آپ کو طریقۂ مبارکہ کی تلقین کرنے اور ہدایت کرنے کی اجازت ہے؟ میں نے کہا ہاں تو اس نے مجھ سے اپنے اہل کو مرید کرنے کی اجازت لی اور پوچھا کہ آپ نے اپنے صاحبزادوں کو طریقۂ مبارکہ میں داخل فرمایا ہے کہ نہیں؟ میں نے کہا انھیں اب ایسا خیال نہیں آیا۔ کہا خیال نہ آیا ہو تو بھی انھیں طریقۂ مبارکہ میں داخل فرمادیں آج اس مشورے کے باعث ہمارا آنا ہوا ہے۔ پس آپ نے اولا ہم دونوں بھائیوں کو طریقۂ نقشبندیہ میں داخل فرمایا ہم سے وداع فرماکر کسی طرف روانہ ہوگئے۔ ہم تعلیم و تدریس کے ساتھ ذکر کرکے شغل میں بھی مشغول رہتے تھے۔ برادرم میاں علی مرتضی شاہ پر طریقۂ نقشبندیہ کی مشغولی نے اچھا اثر کیا لیکن مجھے کوئی کیفیت محسوس نہ ہوئی پھر دوسری مرتبہ حضرت والد مربی تشریف لے آئے اور مجھ سے شغل کی کیفیت معلوم کی تو میں نے عرض کیا حضور مجھے کوئی خبر یا کیفیت معلوم نہیں ہوئی تو آپ نے مجھے طریقۂ عالیہ قادریہ میں داخل فرماکر ذکرِ جہر سے مشغول فرمایا۔بلند آواز سے ذکر نے سارے وجود کو ایسا لیا کہ سرسے لے کر پاؤں تک پورے جسم سے ذکر جاری ہوگیا۔ یہ بھی بیان ہے کہ جب حضرت میاں صاحب شہید جناب قدس خطاب حضرت سید عبدالقادر شاہ چناہ شریف والوں کی خدمت میں فیض حاصل کر رہے تھے تب پیرصاحب چناہ والوں نے ایک دن خاص مہربانی اور شفقت فرماتے ہوئے کہا بابا ہمارے جدامجد حضرت غوث الثقلین محبوب سبحانی سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے مبارک قول "قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی اللہ" کے مطابق ہمارے خاندان کی یہ روایت رہتی ہے کہ جس خاص منظور نظر مرید پر مخصوص توجہ اور شفقت فرماتے ہیں تو جدی سنت کے مطابق اس کی گردن پر اپنا قدم رکھتے ہیں۔ وہ قدم مبارک پشت بہ پشت ہماری گردن پر بھی ہے۔ ہم نے یہ سنت اور متابعت آج تک کسی مرید پر قدم رکھ کر ادا نہیں کی۔ آج دل چاہتا ہے کہ آپ کی گردن پر قدم رکھ کر وہ عمل ادا کردیں۔ پھر حضرت میاں صاحب  نے گردن خم کی تو آپ نے قدم مبارک رکھ کر اپنی خاندانی سنت سے سرفراز و مشرف فرمایا۔ پھر جب کوٹڑی کبیر میں دونوں صاحبزادے علم کی طلب میں مشغول تھےاور انھیں طریقۂ عالیہ میں داخل کیا گیا تو ایک دن حضرت میاں صاحب نے صاحبزادے حضرت روزہ دھنی  کو خلوت میں بٹھاکر اس حقیقت سے آشنا کیا اور فرمایا کہ بابا تمام صاحبزادوں میں سے ہمارے دل کا میلان آپ کی طرف زیادہ ہے۔ لہٰذا میں اپنے مرشد کی سنت کی متابعت کے مطابق آپ کی گردن پر قدم مبارک رکھ رہا ہوں۔ آپ کے ہمدرس مولانا سید محمد عاقل سے منقول ہے کہ میں فارغ التحصیل ہونے کے بعد جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا صحبت کے دوران دیکھا کہ ذکر اسم ذات کی مشغولی نے قلب میں وہ حرارت پیدا کی تھی جو قریب بیٹھنے سے آپ کے وجود مبارک کی حرارت سے مجھے گرمی محسوس ہورہی تھی۔ ملفوظات شریف میں آپ سے منقول ہے کہ لکیاری سادات میں سے ایک مجذوب ابتدائی زمانہ میں ہمارے ہاں قیام کرتا تھاا ور میں دل و جان سے اس کی خدمت کرتا تھا ایک مرتبہ میں اللہ سبحانہ وتعالی کی محبت ذوق اور شوق اور طلب کے جذبہ میں رو رہا تھا تب اس مجذوب کو میرے حال پر بہت رحم آیا اور شفقت سے فرماتے ہوئے کہا "پی پی کر دریا بن جا" تب بھی میں رونے سے نہیں رکا ۔ تو کمال شفقت اور رحم کے جذبے سے کہا "پی پی کر سمندرہوجا اور ہرپیاسے کو پلا"
دنیا نے دیکھا کہ اس مجذوب کا فرمودہ حرف بہ حرف سچ ثابت ہوا اور فیض کا ایسا سمندر جاری ہوا کہ لاکھوں لوگوں کی تشنگی مٹاکر انھیں سیراب کیا کہ وہاں چشمے پھوٹ پڑے درباریں بنیں پھر درباروں سے اور خانقاہیں آباد ہوئیں کہ اس فیض رسانی کی حد کو پانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ زیادہ احوال آپ ملفوظات شریف کے صفحات سے ملاحظہ کرسکیں گے۔

ہدایت اور فیض الاہی کا یہ سورج ارشاد و تلقین کے آسمان پر نورانی شعاؤں سے چمکتا ہوا جہاں کو روشن و منور فرماتا ہوا حبیب کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کی عین متابعت میں پوری۶۳ سال کی مبارک عمر پاکر یکم شعبان ۱۲۳۴ھ میں غیب کے پردے میں محجوب اور محبوب حقیقی عز اسمہ کے وصال سے مشرف ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
جان جسم مصطفی بود آن امام
زاں سبب یک قول فعل آمد تمام

عاجز آثم فقیر محمد قاسم عفی عنہ
مدرسہ قاسم العلوم گوٹھ صاحب خان مشوری
(مشوری شریف لاڑکانہ)

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ شیخ کی ارادتمندوں پر شفقت نقل 40: حاجی عبدال...
05/10/2026

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ


شیخ کی ارادتمندوں پر شفقت

نقل 40:
حاجی عبدالله فقیر رند سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
بارش کلر اور بنجر دونوں جگہوں پر ایک جیسی برستی ہے، لیکن گھاس اور سبزہ وغیرہ ہمیشہ اچھی اور عمدہ زمین میں اگتا ہے نہ کہ کلر والی زمین میں آپ کی یہ بات سن کر میں رات دن حیران اور پریشان رہنے لگا۔ ایک مرتبہ میں خانقاہ میں حاضر تھا کہ حضرت والا اپنے سسر ملا خیالی کی ماں کی تدفین کیلئے قبرستان شیخ طيب / تشریف لے گئے وہاں سے واپسی پر رستے میں میں نے کلر والی زمین سے مشت بھر خاک اٹها کر مذکوره خیال مطابق عرض کیا کہ حضرت یہ کلر میٹھا ہوسکتا ہے یا نہیں۔ یعنی اس سے فصل ہو سکتی ہے یا نہیں؟ آپ نے فرمایا: ہوسکی ہے بشرطیکہ دریا کا پانی آکر اس کی حالت بدل دے اور اسے فصل کے قابل بنادے۔

اس کے بعد یہ سندھی اشعار پڑھے:

چاهک چري تار تري آنيون ملي آر كورين كر كننديون ستي سد دنار مینهون سال میهار، پرچی پال لنگهنديون.

راتي وكان رات نئون نياپو آئیو، كانه بچي تو ذات جي آيا سي اگهيا.

یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں 👇
https://youtube.com/?si=i6WzjYhsbRJlMdJg

واٹس ایپ چینل سبسکرائب کریں 👇
https://whatsapp.com/channel/0029Va8lx9T9WtBzDRLsPx3p

ٹیلگرام چینل سبسکرائب کریں 👇
https://t.me/faizanerozaydhani

واٹس ایپ گروپ جوائن کریں 👇
https://chat.whatsapp.com/BGFsj9T0be06HFOcVyp577

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ شیخ کی ارادتمندوں پر شفقت نقل :39عبد الحکیم ...
04/10/2026

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ


شیخ کی ارادتمندوں پر شفقت


نقل :39
عبد الحکیم فقیر دل سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ آپ سید محمد حسن کی دعوت پر قصبہ کرم خان جمالی واقع علائقہ روپاہ میں تشریف فرما ہوئے خلیفہ محمود ) بھی آپ کے ہمرکاب تھا۔ دوران مجلس آپ نے اپنی انگشت سے خلیفہ محمود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ہمارے بعد اس خلیفے کی صحبت سنگت اختیار کرنا۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں 👇
https://youtube.com/?si=i6WzjYhsbRJlMdJg

واٹس ایپ چینل سبسکرائب کریں 👇
https://whatsapp.com/channel/0029Va8lx9T9WtBzDRLsPx3p

ٹیلگرام چینل سبسکرائب کریں 👇
https://t.me/faizanerozaydhani

واٹس ایپ گروپ جوائن کریں 👇
https://chat.whatsapp.com/BGFsj9T0be06HFOcVyp577

حضرت مفتی محمد رحیم سکندریسید صبغت اللہ سہروردی١٤۔ اکتوبر ٢٠٢٥ء کو نماز مغرب کے بعد خبر موصول ہوئی کہ حضرت مفتی محمد رحی...
03/10/2026

حضرت مفتی محمد رحیم سکندری
سید صبغت اللہ سہروردی

١٤۔ اکتوبر ٢٠٢٥ء کو نماز مغرب کے بعد خبر موصول ہوئی کہ حضرت مفتی محمد رحیم سکندری اس الم آباد سے خلد آباد منتقل ہوگئے ہیں۔
دل دار گذشت و نگہ باز پسین ماند
از رفتن او آن چہ بہ ما ماند ہمین ماند
حضرت مفتی محمد رحیم سکندری مستند عالم تھے اور کئی سال تک اپنے شیخ کے آستانے کے دار العلوم، جامعہ راشدیہ پیر گوٹھ میں مدرس اور بعد میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہے تھے۔ حضرت مفتی محمد رحیم سکندری سلسلہ قادریہ کے قافلے کے نمایاں فرد تھے جنھوں نے اپنے علم، اخلاق، عمل اور کردار سے ہزاروں لوگوں اور تلامذہ کو علمی اور روحانی طور پر مستفیض اور مستفید فرمایا۔ حضرت مفتی صاحب، پیران پاگارہ کے ساتویں سجادہ نشین، حضرت شاہ مردان شاہ سے بیعت تھے اور پوری زندگی مرشد آباد میں ہی بسر کی۔
مفتی محمد رحیم سکندری، نبیرہ فاضل بریلوی حضرت مفتی تقدس علی خان، حضرت مولانا محمد قاسم مشوری اور حضرت مفتی صاحب داد خان ایسے جلیل القدر علما کے شاگرد اور صحبت یافتہ تھے۔ قحط الرجال کے اس آخری دور میں اگر علم، اخلاق، ایثار، کردار، عمل، وفا، خلوص، سچائی، محنت اور لگن کو یک جا کیا جائے تو اس کی ایک تصویر مفتی محمد رحیم سکندری کی شکل میں ہمارے سامنے آ جاتی ہے۔ جو لوگ حضرت مفتی صاحب کی زیارت نہیں کر سکے یا کبھی ان کی علمی شخصیت سے فیض نہیں پا سکے وہ شاید صحیح طور پر اندازہ نہ کر سکیں کہ حضرت مفتی صاحب کی صورت میں قدرت نے ہمیں کیسے علمی ہیرے سے نوازا تھا۔
ویسے تو حضرت مفتی محمد رحیم سکندی کے ساتھ خاندانی تعلقات چلے آ رہے تھے لیکن ہیچ مدان کو ٢٠٠٩ء میں پہلی بار ملاقات اور زیارت کا موقع ملا اور پھر مجھے جامعہ راشدیہ مدعو فرمایا اور اس طرح محبتوں کے سلسلے کو جِلا مل گئی۔ ایک روز مجھے حضرت مفتی صاحب نے ٹیلی فون کیا کہ مَیں آپ کے پاس آ رہا ہوں۔ دیدہ و دل فرش راہ کی صورت میں خوش آمدید کہا۔ حضرت مفتی صاحب نے تشریف لانے کی غرض و غایت یہ ارشاد فرمائی کہ صاحب الروضہ حضرت سید محمد راشد علیہ الرحمہ کے فارسی ملفوظات کا اردو میں ترجمہ کر دیجیے۔ میرے پاس انکار کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ہامی بھر لی اور اپنے جد امجد کے فارسی قلمی نسخے کے مطابق پہلی جلد ایک سال میں مکمل کر کے پیش کر دی جو ٢٠١٥ء میں جامعہ راشدیہ کی طرف سے شائع ہوچکی ہے۔ ٢٠١٣ء میں حیدر آباد میں پیران پاگارہ کی علمی اور دینی خدمات کے حوالے سے عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی تو حضرت مفتی صاحب نے مجھے خصوصی طور پر مقالے کے لیے مدعو کیا اور ایک روز پہلے جامعہ راشدیہ اپنے پاس بلایا اور کانفرنس کے روز مجھے اپنے ساتھ حیدر آباد لے گئے جہاں ہزاروں علما اور محققین کی موجودگی میں مجھے مقالہ پیش کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ دو بار سالانہ جلسہ دستار فضیلت میں بھی مجھے مدعو فرمایا۔
عرفاء اور اہل کشف کا کہنا ہے کہ ہر فوت ہونے والے شخص کو اپنا آخری وقت، عصر کا وقت نظر آتا ہے جس وقت سورج غروب ہو رہا ہوتا ہے اور شاید اسی لیے پانچ نمازوں میں سے نماز عصر کی تاکید قرآن نے بھی کی ہے۔ وہ تو خیر ایک روحانی یا وجدانی معاملہ ہے لیکن حقیقت میں جو شخص عصر اور مغرب کے اوقات میں اس دنیا کو خیر باد کہتا ہے اس کے اہل خانہ اور محبین و متعلقین کے لیے بہت پریشان کن لمحات ہوتے ہیں کیوں کہ غروب آفتاب بہ ہر حال اضطراب اور یاسیت کا استعارہ ہے۔ حضرت مفتی محمد رحیم سکندری ایسے مرد جلیل کی وفات کا سن کر اس وقت سے ایک عجیب سی اضطرابی کیفیت ہے اور دل ہے کہ مسلسل بیٹھا جا رہا ہے۔
در فراق و چہ ہا ای بت محبوب کنم
صبر ایوب کنم گریہ یعقوب کنم
حضرت مفتی محمد رحیم سکندری محققانہ ذہن کے مالک تھے۔ اہل علم کی کھیپ تیار کرنے اور کتابوں کی اشاعت کے حوالے سے آپ کی شخصیت میں ایک خاص فن اور جوہر تھا۔ جامعہ راشدیہ کی طرف سے آپ نے گراں قدر کتابیں شائع کرائیں اور جامعہ کے حوالے سے آپ کی خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں۔ آستانہ قادریہ راشدیہ پیر گوٹھ کا تین منزلہ کتب خانہ جس میں انتہائی نادر اور نایاب کتابیں، مخطوطات اور قلمی چیزیں ہیں اسے جدید طرز کاشاہکار بنانے میں حضرت مفتی صاحب کا بڑا عمل دخل ہے۔ علم اور اہل علم کے قدر دان تھے، سادات اور مشائخ کے اعزاز و اکرام میں خاص اہتمام فرماتے تھے۔
حضرت مفتی محمد رحیم سکندری ہاتھ کے سخی اور دل کے غنی تھے۔ دسترخوان وسیع تھا۔ خوش اخلاق اور خوش گفتار تھے۔ عربی تکلم میں بہت مہارت رکھتے تھے اور طلبا کے ساتھ عربی زبان میں ہی گفتگو کو اہمیت دیتے تھے۔ ایک بار مَیں بھی حاضر تھا تو طلبا کو حدیث پڑھا رہے تھے، حدیث مبارک کے الفاظ کے متعلق گرائمر کے لحاظ سے ایسی شان دار اور مفصل گفتگو فرمائی کہ دل چاہ رہا تھا کہ بس ایسے ہی گفتگو جاری رہے کیوں کہ ہر جملے
میں معلومات کا ذخیرہ تھا۔
حضرت مفتی محمد رحیم سکندری کی شخصیت ہر قسم کے تصنع اور ہر قسم کے کبر سے محفوظ تھی۔ بہت سادہ اور وضع دار انسان تھے۔ طرز زندگی بہت سادہ لیکن صاف ستھرا اور نفیس تھا۔ مَیں نے ہمیشہ انھیں سفید قمیص شلوار اور سفید عمامے یا سفید ٹوپی میں ملبوس دیکھا۔ دھیمی رفتار، دھیمے مزاج، متین لہجے اور شائستہ انداز کے مالک تھے۔
حضرت مفتی محمد رحیم سکندری کی پوری زندگی اسلام، روحانیت، علم، اہل علم، اخلاق اور تصوف کے عشق سے عبارت تھی۔ حضرت مفتی صاحب نے ان چیزوں کے عشق میں اپنا وجود پگھلا دیا تھا اور خود کو تصوف کے اس مقام پر جا کر گم کر دیا تھا جہاں ہیچ، نہ دارم ہیچ کی کیفیت ہو جاتی ہے۔ حضرت مفتی صاحب نے اپنی پوری زندگی جس طرح کامیابی سے گزاری ہے، مجھے یقین ہے کہ آج شب وصال بارگاہ قدس سے اسی شان سے ان کا استقبال کیا گیا ہوگا کیوں کہ جو شخص کامیابی سے اپنی زندگی گزار لے اس کے لیے موت صرف ایک مکان کی تبدیلی ہے لیکن فلنحیینہ حیاۃ طیبہ کے مطابق دارِ بقا کی خوشیاں اور راحتیں ابدی اور بہتر ہیں۔
عبید پیش کسانی کہ عشق می‌ورزند
شب وصال کم از روز پادشاہی نیست
حضرت مفتی محمد رحیم سکندری ایسی شخصیات روز روز پیدا نہیں ہوتیں اور ہرشخص میں قدرت ایسے کمالات ضرور رکھتی ہے کہ وہ اپنی جگہ خالی کر کے جاتا ہے۔
ز ہر چمن کہ گذشتیم بہ ہر گلے کہ رسیدیم
بہ آب دیدہ نوشتیم کہ یار جائے تو خالیست

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ شیخ کی ارادتمندوں پر شفقت نقل 38:سید میاں دو...
03/10/2026

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ


شیخ کی ارادتمندوں پر شفقت


نقل 38:
سید میاں دوست علی شاہ سے منقول ہے کہ ایک دفعہ آپ شہر بدین کے فقیروں کی دعوت پر تشریف فرما ہوئے اور وہاں پر بدین کے مشائخ کے مسند نشین میاں علی شاہ کی ملاقات کیلئے پیدل روانہ ہو پڑے اور مجھے بھی بلاکر اپنے ہاتھ میں میرا ہاتھ لے کر سفر شروع کر دیا۔ میں نے خدمت میں عرض کیا کہ: حضرت ایک التجا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہو۔ میں نے کہا حضرت اس غلام کا ہاتھ پکڑ لیا ہے اب چھوڑیے گا کبھی نہیں۔ آپ نے انتہائی مشفقانہ جے میں فرمایا کہ:
ہم نے ہاتھ پکڑنے کیلئے لیا ہے چھوڑنے کے لیے نہیں۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں 👇
https://youtube.com/?si=i6WzjYhsbRJlMdJg

واٹس ایپ چینل سبسکرائب کریں 👇
https://whatsapp.com/channel/0029Va8lx9T9WtBzDRLsPx3p

ٹیلگرام چینل سبسکرائب کریں 👇
https://t.me/faizanerozaydhani

واٹس ایپ گروپ جوائن کریں 👇
https://chat.whatsapp.com/BGFsj9T0be06HFOcVyp577

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ شیخ کی ارادتمندوں پر شفقت نقل 37: خلیفہ میاں...
02/10/2026

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ


شیخ کی ارادتمندوں پر شفقت


نقل 37:
خلیفہ میاں لقمان سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ علاقہ لاڑ کے سفر میں گوٹھ وته شهری میں ٹالپر فقیروں کی دعوت پر تشریف فرما ہوئے، جب آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا اور فقیر بھی حاضر ہو ہوگئے تو آپ نے دریافت دری کیا سب آگئے ہیں۔ کسی نے جواب جوا دیا کہ حضرت ابھی خلیفہ محمود نہیں آیا، اس پر آپ نے کھانا رکھ دیا کچھ دیر جب خلیفہ محمود آگیا تو کسی نے عرض کیا کہ حضرت خلیفہ آگیا ہے۔ آپ نے فرمایا بہتر ہے، اگر اس کیساتھ کوئی اور فقیر ہو تو وہ بھی کھانے میں شریک ہوجائے۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں 👇
https://youtube.com/?si=i6WzjYhsbRJlMdJg

واٹس ایپ چینل سبسکرائب کریں 👇
https://whatsapp.com/channel/0029Va8lx9T9WtBzDRLsPx3p

ٹیلگرام چینل سبسکرائب کریں 👇
https://t.me/faizanerozaydhani

واٹس ایپ گروپ جوائن کریں 👇
https://chat.whatsapp.com/BGFsj9T0be06HFOcVyp577

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ شیخ کی ارادتمندوں پر شفقت نقل 36: سید میاں د...
01/10/2026

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ


شیخ کی ارادتمندوں پر شفقت

نقل 36:
سید میاں دوست علی شاہ سے منقول ہے کہ ایک دفعہ آپ شہر بدین کے فقیروں کی دعوت پر تشریف فرما ہوئے اور وہاں پر بدین کے مشائخ کے مسند نشین میاں علی شاہ کی ملاقات کیلئے پیدل روانہ ہو پڑے اور مجھے بھی بلاکر اپنے ہاتھ میں میرا ہاتھ لے کر سفر شروع کر دیا۔ میں نے خدمت میں عرض کیا کہ: حضرت ایک التجا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہو۔ میں نے کہا حضرت اس غلام کا ہاتھ پکڑ لیا ہے اب چھوڑیے گا کبھی نہیں۔ آپ نے انتہائی مشفقانہ جے میں فرمایا کہ: ہم نے ہاتھ پکڑنے کیلئے لیا ہے چھوڑنے کے لیے نہیں۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں 👇
https://youtube.com/?si=i6WzjYhsbRJlMdJg

واٹس ایپ چینل سبسکرائب کریں 👇
https://whatsapp.com/channel/0029Va8lx9T9WtBzDRLsPx3p

ٹیلگرام چینل سبسکرائب کریں 👇
https://t.me/faizanerozaydhani

واٹس ایپ گروپ جوائن کریں 👇
https://chat.whatsapp.com/BGFsj9T0be06HFOcVyp577

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ شیخ کی ارادتمندوں پر شفقتنقل35 : عبد الله فق...
30/09/2026

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ


شیخ کی ارادتمندوں پر شفقت

نقل35 :
عبد الله فقیر ابرو سکنہ قصبہ جھیجی سے منقول ہے کہ ایک دفعہ خانقاہ مبارک کی مسجد اقدس میں نماز فجر ادا کرنے کے بعد آپ نے فقیروں کی طرف رخ کیا، آئل فقیر جس کی روش تھی کہ مجلس کے وقت حضرت والا سے دور بيٹهتا تھا اور نماز میں بھی پچھلی صفوں میں بیٹھتا تھا، لیکن اس دن پچھلی صف سے سے اٹھ کر حضرت والا کے قریب آ بیٹھا۔ حضرت والا نے اسے مرحبا کہا اور دریافت فرمایا کہ اے بھائی آج کس مقصد سے ہمارے پاس آئے ہو۔ اس نے جواب میں عرض کیا کہ حضرت! دل نے آپ کی طرف کشش کی ہے، اسلئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں 👇
https://youtube.com/?si=i6WzjYhsbRJlMdJg

واٹس ایپ چینل سبسکرائب کریں 👇
https://whatsapp.com/channel/0029Va8lx9T9WtBzDRLsPx3p

ٹیلگرام چینل سبسکرائب کریں 👇
https://t.me/faizanerozaydhani

واٹس ایپ گروپ جوائن کریں 👇
https://chat.whatsapp.com/BGFsj9T0be06HFOcVyp577

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ شیخ کی ارادتمندوں پر شفقت نقل 34: خلیفہ محمو...
29/09/2026

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ


شیخ کی ارادتمندوں پر شفقت

نقل 34:
خلیفہ محمود نظامانی کا بیان ہے کہ آپ نے فرمایا ایسے بہت لوگ ہیں جو وصل الہی کی طلب رکھتے ہیں، لیکن ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ چن لیتا ہے۔ پھر فرمایا کہ الله تعالیٰ کی طلب میں باقی تمام سرگردان ہیں، جبکہ خلیفہ محمود کو الله تعالیٰ نے چن لیا ہے۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں 👇
https://youtube.com/?si=i6WzjYhsbRJlMdJg

واٹس ایپ چینل سبسکرائب کریں 👇
https://whatsapp.com/channel/0029Va8lx9T9WtBzDRLsPx3p

ٹیلگرام چینل سبسکرائب کریں 👇
https://t.me/faizanerozaydhani

واٹس ایپ گروپ جوائن کریں 👇
https://chat.whatsapp.com/BGFsj9T0be06HFOcVyp577

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ شیخ کی ارادتمندوں پر شفقت نقل 33: الله داد ف...
28/09/2026

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ


شیخ کی ارادتمندوں پر شفقت

نقل 33:
الله داد فقیر نظامانی سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ آپ سفر میں تھے اور میں بھی آپ کے ہمرکاب تھا، راس راستے پر ایک گاؤں میں آپ کسی فقیر کے گھر زیارت کروانے کیلئے تشریف فرما ہوئے، اس فقیر نے کچھ طعام آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ نے مجھے فرمایا کہ آؤ ہمارے ساتھ مل کر کھانا کھاؤ۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت غلام اپنے سردار کے ساتھ نہیں کھائے گا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ اہل دنیا کا طریقہ ہے فقیروں کا نہیں۔ صحابہ کرام رضوان الله اجمعين بهى حضرت نبی کریم ﷺ کیساتھ ملکر کھاتے تھے، چنانچہ حضرت والا نے مجھے کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کیا اور فرمایا مل کر طعام کھایا کرو، اپنا حصہ بھی کھاؤ اور ہمارے حصے میں بھی شریک ہوجاؤ۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں 👇
https://youtube.com/?si=i6WzjYhsbRJlMdJg

واٹس ایپ چینل سبسکرائب کریں 👇
https://whatsapp.com/channel/0029Va8lx9T9WtBzDRLsPx3p

ٹیلگرام چینل سبسکرائب کریں 👇
https://t.me/faizanerozaydhani

واٹس ایپ گروپ جوائن کریں 👇
https://chat.whatsapp.com/BGFsj9T0be06HFOcVyp577

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ شیخ کی ارادتمندوں پر شفقت نقل 32: خلیفہ میاں...
27/09/2026

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ


شیخ کی ارادتمندوں پر شفقت

نقل 32:
خلیفہ میاں لقمان سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: خانقاہ مبارک میں آنے والا ہر فقیر باطنی فیض سے بہرہ ور ہے لیکن ادب کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں، اس کے بعد آپ نے میاں قابل شاہ اور قاضی عبدالرحمن کو حکم فرمایا کہ تم ہمیں فقیروں کے حال سے مطلع کیا کرو، چنانچہ یہ دونوں خانقاہ میں آنے والے بر فقیر کا باطنی حال جانچ کر حضرت والا کو عرض کرتے اور آپ ہر ایک کی کیفیت کے مطابق اسے اوراد و وظائف کی تلقین کرتے کئی نو وارد سالکان کی عدم پختگی کی بناء پر آپ اسے موجود حالت میں رکھنے کو ہی بہتر سمجھتے لیکن مزید تلقین نہ کرنے بانک کی وجہ سے اس فقیر کو ایسے محسوس ہوتا جیسے کسی نے چابک مارا ہو اور اس وجہ سے کھانے پینے کو ترک کرکے شب و روز ذکر و فکر اور مراقبے میں مشغول رہ کر خود کو پختہ کرتا اور جب حضرت پیر سائیں کو اس کی پختگی کا یقین آجاتا تو اسے نئے شغل میں مشغول فرماتے اور وہ سالک اطمینان قلب سے اپنے میں مشغول ہوجاتا سالکان کے حالات جانچنے کی یہ بات فقیروں میں بہت مشہور ہوگئی اور اور جو فقیر جہاں بھی تھا ذکر و فکر کے میدان میں محنت کرنے لگا۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں 👇
https://youtube.com/?si=i6WzjYhsbRJlMdJg

واٹس ایپ چینل سبسکرائب کریں 👇
https://whatsapp.com/channel/0029Va8lx9T9WtBzDRLsPx3p

ٹیلگرام چینل سبسکرائب کریں 👇
https://t.me/faizanerozaydhani

واٹس ایپ گروپ جوائن کریں 👇
https://chat.whatsapp.com/BGFsj9T0be06HFOcVyp577

Address

Pir Jo Goth

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Faizan-e-Rozay Dhani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Faizan-e-Rozay Dhani:

Shortcuts

Share