Faizan-e-Rozay Dhani

Faizan-e-Rozay Dhani درگاہ شریف امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضہ دھنی (رضی اللہ تعالی عنه) پیر جو گوٹھ خیرپور سندھ پاکستان

مختصر سوانح حیات
حضرت پيرسائيں سيد محمد راشد روضہ دھنی 
(۱۱۷۱ھ٬ ۱۲۳۴ھ - 1758ع٬ 1819ع)

قطب الاقطاب فیض مآب حضرت سید محمد راشد روزہ دھنی  حضرت خواجہ پیرسیدمحمد بقا شہید کے فرزندِ ارجمند ہیں جو کہ نہایت ہی باکمال اولیاء میں مقتدا و پیشوا اورطریقہء قادریہ و نقشبندیہ کے مجمع البحرین تھے۔ قادری طریقہ حضرت کامل مکمل پیرسید عبدالقادر جیلانی حسینی ساکن کوٹ سدھانہ سے حاصل کیا اور یہ جھنگ سیال ضل

ع میں ہے جو اب چناہ شریف کی دربار کہلاتی ہے اور سلسلہ نقشبندیہ حضرت محی السنۃ امام الامۃ مخدوم محمد اسماعیل پریاں لوء شریف والے سے حاصل کیا۔ آپ دراصل قصبہ رسول پور عرف چھوٹی سائیدی کے رہنے والے تھے جہاں سے ہجرت کرکے گوٹھ رحیم ڈنو کلہوڑو واقع فریدآباد میں سکونت پذیر ہوئے۔ آپ کی ولادت ۱۱۳۵ھ میں ہوئی اور ۱۱۹۸ھ میں کچھ راہزن لٹیروں کے ہاتھوں ۶۳سال کی عمرمبارک پا کر جامِ شہادت نوش کیا۔ آپ کی مزارِ مقدس شیخ طیب قبرستان میں ہے۔ حضرت سید محمد بقا شاہ شہید کو ۴ فرزند تھے٬جن کے اسماء گرامی یہ ہیں۔
1. قدوۃ اہلِ صفا مقتدائے عارفان خدا حضرت سید عبدالرسول 
2. پیشوائے اہلِ تسلیم حضرت پیرسید محمد سلیم شاہ 
3. قدوۃ العارفین خازن اسرار ربانی محبوب سبحانی مجدد دین یزدانی حضرت سید محمد راشد روزہ دھنی 
4. اور فرزند چہارم تاج الاصفیاء زین الاولیاء میاں سید علی مرتضیٰ شاہ
حضرت مرشد کامل مکمل سید محمد راشد روزہ دھنی کی ولادت یکم شعبان یا رمضان علی اختلاف الاقوال ۱۱۷۱ھ میں ہوئی۔ آپ سب بھائیوں میں سے چھوٹے مگر سب سے بلند اقبال، ارجمند مقتدائے جہاں، عالی الشان، جان جہاں اور سلسلہء راشدیہ طیبہ کے صاحب بنے۔ آپ کی ولادت رحیم ڈنو کلہوڑو میں ہوئی۔ آپ کے پوتے حضرت محبوب السالکین یعسوب العارفین پیرسیدعلی گوہر شاہ عرف بنگلہ دھنی تخلص اصغرکی سجادگی کے دوران ۱۲۵۰ھ میں دریاءکی باڑ کا خطرہ ہوا تو آپ نے تمام مزارات منتقل کرواکر نئی درگاہ (موجودہ) میں رکھوائیں اور نیا گوٹھ آباد کیا۔ جس کو اب پیر جوگوٹھ یا نئی درگاہ کہاجاتا ہے۔ چونکہ اولاد میں سے کچھ لوگ وہیں پر رہ رہے تھے اس لئے اسے پرانی درگاہ کہاجاتا ہے۔
منقول ہے کہ جب حضرت میاں صاحب پیرسید محمد بقا شاہ شہید کے ہاں چاروں فرزند تولد ہوئے تو ایک بار حضرت مقتدائے اہل تفضیل، مقبول بارگاہ رب جلیل مخدوم محمد اسماعیل  (جو کہ نقشبندی مشرب میں آپ کے پیرطریقت تھے)کو اپنے گاؤں لے آئے اور تینوں فرزندوں کو دعا طلبی کے لئے پیش خدمت کیا، مخدوم صاحب ایک ایک کا نام پوچھتے دعا فرماتے گئے کہ "اچھا ہوگا" پھرجب حضرت سید روضہ دھنی (جوکہ ابھی بندھنوں میں تھے)کو لے آئے تب حضرت مخدوم صاحب دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور انھیں اٹھا کر فرمایا "یہ وہ دوست ہے جس سے دنیا کا اچھا خاصہ حصہ فیضیاب ہوگا"
حضرت پیرسائیں قبلہ عالمیاں قدوۂ عارفاں کا بچپن نہایت ہی پاکیزہ گزرا، بچپن کی بے فائدہ لہو و لعب سے آپ کی طبعیت مقدس بالکل بیزار و متنفر رہتی تھی۔ کبھی بھی دیگر بچوں کی طرح کھیلنے میں وقت ضائع نہیں کیا۔ جب تعلیم لینے کی عمر کو پہنچے تو والد محترم کے امر کے مطابق نہایت ہی خوشی اور کشادہ ذہنی سے علم کے حصول میں لگ گئے۔ ملفوظات شریف میں ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ بچپن میں ہمارے دل میں خیال وارد ہوتا تھا کہ کاش ہم عارف کامل مکمل صاحب ارشاد و تلقین بن جائیں کہ ہماری توجہ سے لوگ دنیا و مافیہا کو بھول کر مجذوب بن جائیں اور وجد میں اپنے حال سے بےخود ہوجائیں۔ در حقیقت آپ کا یہ خیال الہام الاہی تھاجس کا عکس آپ کے قلب مبارک والے آئینۂ مصفیٰ پر پڑتا تھا جو آگے چل کر بعینہ ظہور پذیر اور نروار ہوا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم میاں محمد اکرم گھمرو اور حافظ زین الدین مہیسر سے حاصل کی جو کہ آپ کے والد حضرت میاں صاحب کے کامل مریدین میں سے تھا۔ اس کے بعد حصول علم کے لئے سفر اختیار فرمایا حضرت والدمحترم نے آپ کو پہلے مخدوم طیب بقاپور والے کے پاس اور بعد میں حضرت قدوۃ العرفاء الحاج میاں فقیراللہ علوی نقشبندی  (متوفی ۱۱۹۵ھ) کے ہاں بٹھایا لیکن حضرت میاں صاحب شہید دوسری مرتبہ آئےاور صاحبزادے کے لئے تعظیم و تکریم کے ساتھ پر تکلف کھانا دیکھا تو فرمایا بابا! جس مدرسے میں عمدہ کھانا ہو وہاں علم حاصل کرنا محال ہے۔ پھر وہاں سے شہر کوٹڑی کبیر حضرت میاں یارمحمد کے ہاں لے آئے جو کہ ایک اہلِ دل فاضل اور کامل عالم تھے۔ وہاں آپ کی طبع مقدس مختلف مدارس کی طرف سفر کرنے سے مشقت اور گرانی کی وجہ سے پریشان ہوئی تو ایک رات ایک پاؤں پر کھڑے ہوکر ۵ ہزار مرتبہ درود شریف پڑھ کر حضور سید دو عالم ﷺ سے استمداد و استغاثہ کیا۔ جس سے آپ کے قلب کو ایسی صفائی اور آسانی حاصل ہوئی کہ ان پڑھے علوم بھی پڑھے ہوئےہوگئے اور علم الانسان مالم یعلم کی مصداق بن گئے۔
اخیرمیں آپ نے حضرت مولانا مخدوم محمد آریجوی کے ہاں علوم کی تکمیل کی۔ اس مدرسے میں حضرت سید عاقل شاہ بھی آپ کے ہمدرس تھے۔ مگر حضرت روزہ دھنی علم کے نصاب کی تکمیل کے بعد فیض اور فضیلت کی دستار حاصل کرکے پہلے فارغ ہوئے اور جناب شاہ صاحب ایک سال بعد فارغ ہوئے۔
طریقت میں قدم :آپ فرماتے ہیں جب میں اور برادرم میاں مرتضیٰ علی شاہ کوٹڑی کبیر میں مخدوم میاں یارمحمد کے ہاں ظاہری علوم کے درس و تدریس میں مشغول تھے تب ایک دن حضرت والد بزرگوار وہاں تشریف فرما ہوئے۔ ہم قدم بوسی سے مشرف ہوکر خدمت میں بیٹھے تو آپ نے فرمایا اے برخورداران! آپ کو معلوم ہے کہ آج ہمارے یہاں آنے کا کیا سبب ہے؟ ہم نے عرض کیا نہیں معلوم۔ آپ نے فرمایا کہ میں مخدوم عبدالرحمٰن  سے ملاقات کرنے گیا تھا جو حضرت مخدوم محمد اسماعیل کے خاص مریدین میں سے ہیں۔ تو دورانِ گفتگو مخدوم صاحب نے پوچھا کہ کیا آپ کو طریقۂ مبارکہ کی تلقین کرنے اور ہدایت کرنے کی اجازت ہے؟ میں نے کہا ہاں تو اس نے مجھ سے اپنے اہل کو مرید کرنے کی اجازت لی اور پوچھا کہ آپ نے اپنے صاحبزادوں کو طریقۂ مبارکہ میں داخل فرمایا ہے کہ نہیں؟ میں نے کہا انھیں اب ایسا خیال نہیں آیا۔ کہا خیال نہ آیا ہو تو بھی انھیں طریقۂ مبارکہ میں داخل فرمادیں آج اس مشورے کے باعث ہمارا آنا ہوا ہے۔ پس آپ نے اولا ہم دونوں بھائیوں کو طریقۂ نقشبندیہ میں داخل فرمایا ہم سے وداع فرماکر کسی طرف روانہ ہوگئے۔ ہم تعلیم و تدریس کے ساتھ ذکر کرکے شغل میں بھی مشغول رہتے تھے۔ برادرم میاں علی مرتضی شاہ پر طریقۂ نقشبندیہ کی مشغولی نے اچھا اثر کیا لیکن مجھے کوئی کیفیت محسوس نہ ہوئی پھر دوسری مرتبہ حضرت والد مربی تشریف لے آئے اور مجھ سے شغل کی کیفیت معلوم کی تو میں نے عرض کیا حضور مجھے کوئی خبر یا کیفیت معلوم نہیں ہوئی تو آپ نے مجھے طریقۂ عالیہ قادریہ میں داخل فرماکر ذکرِ جہر سے مشغول فرمایا۔بلند آواز سے ذکر نے سارے وجود کو ایسا لیا کہ سرسے لے کر پاؤں تک پورے جسم سے ذکر جاری ہوگیا۔ یہ بھی بیان ہے کہ جب حضرت میاں صاحب شہید جناب قدس خطاب حضرت سید عبدالقادر شاہ چناہ شریف والوں کی خدمت میں فیض حاصل کر رہے تھے تب پیرصاحب چناہ والوں نے ایک دن خاص مہربانی اور شفقت فرماتے ہوئے کہا بابا ہمارے جدامجد حضرت غوث الثقلین محبوب سبحانی سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے مبارک قول "قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی اللہ" کے مطابق ہمارے خاندان کی یہ روایت رہتی ہے کہ جس خاص منظور نظر مرید پر مخصوص توجہ اور شفقت فرماتے ہیں تو جدی سنت کے مطابق اس کی گردن پر اپنا قدم رکھتے ہیں۔ وہ قدم مبارک پشت بہ پشت ہماری گردن پر بھی ہے۔ ہم نے یہ سنت اور متابعت آج تک کسی مرید پر قدم رکھ کر ادا نہیں کی۔ آج دل چاہتا ہے کہ آپ کی گردن پر قدم رکھ کر وہ عمل ادا کردیں۔ پھر حضرت میاں صاحب  نے گردن خم کی تو آپ نے قدم مبارک رکھ کر اپنی خاندانی سنت سے سرفراز و مشرف فرمایا۔ پھر جب کوٹڑی کبیر میں دونوں صاحبزادے علم کی طلب میں مشغول تھےاور انھیں طریقۂ عالیہ میں داخل کیا گیا تو ایک دن حضرت میاں صاحب نے صاحبزادے حضرت روزہ دھنی  کو خلوت میں بٹھاکر اس حقیقت سے آشنا کیا اور فرمایا کہ بابا تمام صاحبزادوں میں سے ہمارے دل کا میلان آپ کی طرف زیادہ ہے۔ لہٰذا میں اپنے مرشد کی سنت کی متابعت کے مطابق آپ کی گردن پر قدم مبارک رکھ رہا ہوں۔ آپ کے ہمدرس مولانا سید محمد عاقل سے منقول ہے کہ میں فارغ التحصیل ہونے کے بعد جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا صحبت کے دوران دیکھا کہ ذکر اسم ذات کی مشغولی نے قلب میں وہ حرارت پیدا کی تھی جو قریب بیٹھنے سے آپ کے وجود مبارک کی حرارت سے مجھے گرمی محسوس ہورہی تھی۔ ملفوظات شریف میں آپ سے منقول ہے کہ لکیاری سادات میں سے ایک مجذوب ابتدائی زمانہ میں ہمارے ہاں قیام کرتا تھاا ور میں دل و جان سے اس کی خدمت کرتا تھا ایک مرتبہ میں اللہ سبحانہ وتعالی کی محبت ذوق اور شوق اور طلب کے جذبہ میں رو رہا تھا تب اس مجذوب کو میرے حال پر بہت رحم آیا اور شفقت سے فرماتے ہوئے کہا "پی پی کر دریا بن جا" تب بھی میں رونے سے نہیں رکا ۔ تو کمال شفقت اور رحم کے جذبے سے کہا "پی پی کر سمندرہوجا اور ہرپیاسے کو پلا"
دنیا نے دیکھا کہ اس مجذوب کا فرمودہ حرف بہ حرف سچ ثابت ہوا اور فیض کا ایسا سمندر جاری ہوا کہ لاکھوں لوگوں کی تشنگی مٹاکر انھیں سیراب کیا کہ وہاں چشمے پھوٹ پڑے درباریں بنیں پھر درباروں سے اور خانقاہیں آباد ہوئیں کہ اس فیض رسانی کی حد کو پانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ زیادہ احوال آپ ملفوظات شریف کے صفحات سے ملاحظہ کرسکیں گے۔

ہدایت اور فیض الاہی کا یہ سورج ارشاد و تلقین کے آسمان پر نورانی شعاؤں سے چمکتا ہوا جہاں کو روشن و منور فرماتا ہوا حبیب کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کی عین متابعت میں پوری۶۳ سال کی مبارک عمر پاکر یکم شعبان ۱۲۳۴ھ میں غیب کے پردے میں محجوب اور محبوب حقیقی عز اسمہ کے وصال سے مشرف ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
جان جسم مصطفی بود آن امام
زاں سبب یک قول فعل آمد تمام

عاجز آثم فقیر محمد قاسم عفی عنہ
مدرسہ قاسم العلوم گوٹھ صاحب خان مشوری
(مشوری شریف لاڑکانہ)

امیدِ رحمت است آری خصوص آن راکه در خاطر ثنایِ سیدِ مرسل نبی محترم گرددرحمتِ الٰہی کی امید یقیناً اس شخص کے لیے زیادہ ہے،...
25/08/2026

امیدِ رحمت است آری خصوص آن را
که در خاطر ثنایِ سیدِ مرسل نبی محترم گردد

رحمتِ الٰہی کی امید یقیناً اس شخص کے لیے زیادہ ہے،
جس کے دل میں اللہ کے برگزیدہ رسول ﷺ کی محبت و مدح جگہ پا لے۔

محمد کز ثنایِ فضلِ او بر خاکِ هر خاطر
که بارد قطره‌ای در حال دریایِ نعم گردد

محمد ﷺ وہ ہستی ہیں کہ ان کے فضل و کمال کی ثنا کی ایک بوند بھی
جس دل کی خاک پر برس جائے، وہ فوراً نعمتوں کا سمندر بن جاتی ہے۔

حضرت شیخ سعدی شیرازیؒ، بوستان، بابِ اول، نعتِ سیدالمرسلین ﷺ۔

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ سالكان الہی کی بلند ہمتی نقل ۲۹: خلیفہ میاں ...
25/08/2026

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ

سالكان الہی کی بلند ہمتی


نقل ۲۹:
خلیفہ میاں غازی ٹالپر کا بیان ہے کہ آپ نے فرمایا کہ خلیفہ میاں اللہ رکھیہ کہا کرتا تھا کہ ہماری تمام ملکیت دوستوں کی ہے البتہ دل میں کس کا بال برابر بھی حصہ نہیں ہے, کیونکہ وہ ہم الله تعالیٰ کو دے چکے ہیں۔

چون دل با دلبری آرام گیرد
به وصل دیگراں کے کام گیرد

ترجمہ:
جس وقت دل دلبر کے ساتھ مل جاتا ہے تو پھر وہ دوسروں کے وصل سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں 👇
https://youtube.com/?si=i6WzjYhsbRJlMdJg

واٹس ایپ چینل سبسکرائب کریں 👇
https://whatsapp.com/channel/0029Va8lx9T9WtBzDRLsPx3p

ٹیلگرام چینل سبسکرائب کریں 👇
https://t.me/faizanerozaydhani

واٹس ایپ گروپ جوائن کریں 👇
https://chat.whatsapp.com/BGFsj9T0be06HFOcVyp577

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ سالكان الہی کی بلند ہمتی نقل ۲۷ الله داد نظا...
24/08/2026

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ

سالكان الہی کی بلند ہمتی


نقل ۲۷ الله داد نظامانی سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ خانقاہ عالیہ میں آپکی زیارت سے مشرف ہوا دوران ملاقات آپ نے فرمایا الحمد لله تم الله تعالیٰ کی یاد میں مشغول ہو اس پر میں نے عرض کیا کہ حضرت یہ آپ کی مہربانی اور شفقت ہے مجھ مسکین اور عاجز میں اتنی طاقت کہاں ہے۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں 👇
https://youtube.com/?si=i6WzjYhsbRJlMdJg

واٹس ایپ چینل سبسکرائب کریں 👇
https://whatsapp.com/channel/0029Va8lx9T9WtBzDRLsPx3p

ٹیلگرام چینل سبسکرائب کریں 👇
https://t.me/faizanerozaydhani

واٹس ایپ گروپ جوائن کریں 👇
https://chat.whatsapp.com/BGFsj9T0be06HFOcVyp577

هر کسی اندر جهان مجنونِ لیلیّی شدندعارفان لیلیِّ خویش و دم‌به‌دم مجنونِ خویشدنیا میں ہر شخص کسی نہ کسی لیلیٰ کا مجنوں بن...
23/08/2026

هر کسی اندر جهان مجنونِ لیلیّی شدند

عارفان لیلیِّ خویش و دم‌به‌دم مجنونِ خویش

دنیا میں ہر شخص کسی نہ کسی لیلیٰ کا مجنوں بنا ہوا ہے؛

مگر عارف اپنی ہی حقیقت کا لیلیٰ بھی ہے اور ہر لمحہ اسی کا مجنوں بھی۔

دیوانِ شمس، غزل ۱۲۴۷

Follow the Faizan-e-Rozay Dhani channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Va8lx9T9WtBzDRLsPx3p

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ سالكان الہی کی بلند ہمتی نقل ٢٦:خلیفہ محمود ...
23/08/2026

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ

سالكان الہی کی بلند ہمتی

نقل ٢٦:
خلیفہ محمود نظامانی کا بیان ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اگر کوئی دیندار شخص ملحدوں کیساتھ رہنے کے باوجود بھی عبادات الہی میں مشغول رہے اور فرمودات الہی پر عمل پیرا ہو تو اس کی مثال ایسے ہے جیسے میدان جنگ میں دونوں طرف سے جنگجو لڑائی میں مشغول ہوں اور ایک طرف کی پوری صف شکست سے دوچار ہوکر بھاگ جائے اور ان میں سے ایک ہی شخص مرد میدان بن کر کھڑا رہے۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں 👇
https://youtube.com/?si=i6WzjYhsbRJlMdJg

واٹس ایپ چینل سبسکرائب کریں 👇
https://whatsapp.com/channel/0029Va8lx9T9WtBzDRLsPx3p

ٹیلگرام چینل سبسکرائب کریں 👇
https://t.me/faizanerozaydhani

واٹس ایپ گروپ جوائن کریں 👇
https://chat.whatsapp.com/BGFsj9T0be06HFOcVyp577

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ سالكان الہی کی بلند ہمتی نقل ۲۵: خلیفہ میاں ...
22/08/2026

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ

سالكان الہی کی بلند ہمتی


نقل ۲۵:
خلیفہ میاں لقمان کا بیان ہے کہ آپ نے فرمایا جب حضرت ابراہیم خلیل الله کو نمرود نے آگ میں پھینکا تو ملائکہ ایک شخص آپ کا بندہ اور آپ کی توحید کا علمبردار ہے، لیکن آج نے بارگاہ الہی میں التجا کی کہ یا رب العالمین! روئے زمین پر یہی اسے بھی کافر آگ میں ڈال رہے ہیں۔ بارگاہ الہی سے ملائکہ ، کو جواب ملا کہ تم حضرت ابراہیم کے پاس جاؤ اور کہو کہ اگر ربانی چاہو تو ہم تمہیں آزاد کروائیں۔ اس پر حضرت جبرائیل نازل ہوئے اور جس جھولے میں حضرت ابراہیم کو ڈالا گیا تھا اس کی رسی سے پکڑ کر کہا، اگر آپ حکم کریں تو میں یہ آگ یہاں سے انها در کوه کوه قاف میں پھینک دوں اور ایک چنگاری بھی زمین پر نہ انے دوں۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا اے جبرائیل! یہ مہربانی تم اپنے مرضی سے کر رہے ہو یا اللہ تعالیٰ کے حکم سے؟ حضرت جبرائیل نے کہا کہ میں اپنی طرف سے کر رہا ہوں، اس پر حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ الله تعالى بصیر اور میرے حال واقف ہے، اگر اس کی مرضی ہوگی تو مجھے خود آزاد کرالے گا. ، کسی اور کی ہمدردی کی مجھے ضرورت نہیں ہے۔ حضرت جبرائیل نے کہا کہ اگر آپ میری مدد لینا پسند نہیں فرماتے تو اللہ سے دعا کریں۔ حضرت ابراہیم نے جواب دیا کہ وہ رحیم اور علیم میرے ذرے ذرے سے واقف ہے، پھر دعا کیوں مانگوں؟
چنانچہ نمرود نے حضرت ابراہیم کو پنگھوڑے میں ڈلواکر آگ میں ڈلوادیا لیکن حضرت ابراہیم نے صبر کیے رکھا اور رضائے الہی پر راضی رہتے ہوئے دعا تک بھی نہ کی، جب پنگھوڑا آگ میں پہنچا تو اللہ کی طرف سے آگ کو حکم ہوا کہ:

يَا نَارُكُوْنِي بَرْدًا وَسَلْمًا عَلَي ابرهيم " (الانبياء : ٦٩)

ترجمہ: اے آگ ہوجا ٹھنڈی اور سلامتی ابراہیم پر

حضرت والا فرماتے تھے کہ اے دوستو:
سالک الہی کو بھی اتنی ہمت اور معرفت رکھنی چاہیے۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں 👇
https://youtube.com/?si=i6WzjYhsbRJlMdJg

واٹس ایپ چینل سبسکرائب کریں 👇
https://whatsapp.com/channel/0029Va8lx9T9WtBzDRLsPx3p

ٹیلگرام چینل سبسکرائب کریں 👇
https://t.me/faizanerozaydhani

واٹس ایپ گروپ جوائن کریں 👇
https://chat.whatsapp.com/BGFsj9T0be06HFOcVyp577

ای خدا این وصل را هجران مکنسرخوشانِ عشق را نالان مکناے خدا! اس وصال کو ہجر میں تبدیل نہ کر؛عشق کے ان سرمستوں کو فراق میں...
21/08/2026

ای خدا این وصل را هجران مکن
سرخوشانِ عشق را نالان مکن

اے خدا! اس وصال کو ہجر میں تبدیل نہ کر؛
عشق کے ان سرمستوں کو فراق میں نالاں نہ کر۔

نیست در عالم ز هجران تلخ‌تر
هرچه خواهی کن ولیکن آن مکن

اس عالم میں ہجران سے بڑھ کر کوئی تلخی نہیں؛
جو چاہے کر، مگر ہمیں جدائی کا عذاب نہ دے۔

مولانا روم رح

Follow the Faizan-e-Rozay Dhani channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Va8lx9T9WtBzDRLsPx3p

21/08/2026

حر جماعت میں فیصلوں پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف (هٿ در بند) سوشل بائیکا کے طریقہ کار پر غزوہ تبوک پر حضرت کعب بن مالکؓ کے جہاد سے تخلف کا تفصیلی واقعہ

صحیحین بخاری و مسلم اور اکثر کتبِ حدیث میں اس واقعہ کے متعلق حضرت کعب بن مالکؓ کی ایک طویل حدیث لکھی گئی ہے، جو بہت سے فوائد اور مسائل اور حقائق پر مشتمل ہے، اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ اس کا پورا ترجمہ یہاں نقل کر دیا جائے، ان تین بزرگوں میں سے ایک کعب بن مالکؓ تھے انھوں نے اپنے واقع کی تفصیل اس طرح بتلائی ہے کہ:
رسول کریم ﷺ نے جتنے غزوات میں شرکت کی میں اُن سب میں بجز غزوہ تبوک کے آپ کے ساتھ شریک رہا، البتہ غزوہ بدر کا واقعہ جونچکہ اچانک پیش آیا اور رسول اللہ ﷺ نے اب کو اس میں شریک ہونے کا حکم بھی نہیں دیا تھا، اور شریک نہ ہونے والوں پر کوئی عتاب بھی نہیں فرمایا تھا اس میں بھی شریک نہ ہوسکا تھا، اور میں لیلۃ العقبہ کی بیعت میں بھی حاضر تھا، جس میں ہم نے اسلام کی حمایت و حفاظت کا معاہدہ کیا تھا، اور مجھے یہ بیعت عقبہ کی حاضری غزوہ بدر کی حاضری سے بھی زیادہ محبوب ہے، اگرچہ غزوہ بدر لوگوں میں زیادہ مشہور ہے، اور میرا واقعہ غزوہ تبوک میں غیر حاضری کا یہ ہے کہ میں کسی وقت بھی اس وقت سے زیادہ خوش ھال اور مالدار نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بخدا میرے پاس کبھی اس سے پہلے دوسواریاں جمع نہیں ہوئی تھیں جو اس وقت موجود تھیں
اور رسول اللہ ﷺ کی عادتِ شریفہ غزوات کے معاملہ میں یہ تھی کہ مدینہ سے نکلنے کے وقت اپنے ارادے کے اخفاء کے لئے ایسا کرتے تھے کہ جس سمت میں جا کر جہاد کرنا ہوتا مدینہ سے اس کے خلاف سمت کو نکلتے تھے، تاکہ منافقین منجری کر کے فریقِ مقابل کو آگاہ نہ کریں، اور فرمایا کرتے تھے کہ جنگ میں (اس طرح کا) خداع (دھوکہ) جائز ہے۔

یہاں تک کہ یہ غزوہ تبوک کا واقعہ پیش آیا، (یہ جہاد کئی وجہ سے ممتاز تھا) آپ ﷺ نے سخت گرمی اور تنگدستی کی حالت میں اس جہاد کا قصد فرمایا، اور سفر بھی بڑی دور کا تھا، مقابلہ پر دشمن کی قوت اور تعداد بہت زیادہ تھی، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے اس جہاد کو کھل کر اعلان کردیا تاکہ مسلمان اس جہاد کے لئے پوری تیاری کرسکیں۔

اس جہاد میں شریک ہونے والوں کی تعدادصحیح مسلم کی روایت کے مطابق دس ہزار سے زائد تھی، اور حاکم کی روایت حضرت معاذؓ سے یہ ہے کہ ہم اس جہاد میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو ہماری تعداد تیس ہزار سے زائد تھی۔

اور اس جہاد میں نکلنے والوں کی کوئی فہرست نہیں لکھی گئی تھی اس لئے جو لوگ جہاد میں جانا چاہتے تھے ان کو یہ موقع ملِ گیا کہ ہم نہ گئے تو کسی کو خبر بھی نہ ہوگی، جس وقت رسول الہ ﷺ اس جہاد کے لئے نکلے تو وہ وقت تھا کہ کھجوریں پک رہی تھیں، باغات والے اسمیں مشغول تھے، اسی حالت میں رسول اللہ ﷺ اور عام مسلمانوں نے سفر کی تیاری شروع کردی، اور جمعرات کے روز آپ ﷺ نے اس سفر کا آغاز کیا، اور سفر کے لئے آنحضرت ﷺ کو جمعرات کا دن پسند تھا، خواہ سفر جہاد کا ہو یا کسی دوسرے مقصد کا۔

مرا حال یہ تھا کہ میں روز صبح کو ارادہ کرتا کہ جہاد کی تیاری کروں مگر بغیر کسی تیاری کے واپس آجاتا، میں دل میں کہتا تھا کہ میں جہاد پر قادر ہو ں مجھے نکلنا چاہئے، مگریوں ہی امروز و فردا میں میرا ارادا ٹلتا رہا، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اور عام مسلمان جہاد کے لئے روانہ ہوگئے، پھر بھی میرے دل میں یہ آتا رہا کہ میں بھی روانہ ہوجاؤں اور کہیں راستہ میں مل جاؤں اور کہیں راستہ میں مل جاؤں، اور کاش کہ میں ایسا کرلیتا، مگر یہ کام (افسوس ہے کہ) نہ ہوسکا۔
رسول اللہ ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد جب میں مدینہ میں کہیں جاتا تو یہ بات مجھے غمگین کرتی تھی کہ اس وقت پورے مدینہ میں یا تو وہ لوگ نظر پڑتے تھے جو نفاق میں ڈوبے ہوئے تھے، یا پھر ایسے بیمار معزور جو قطعاََ سفر کے قابل نہ تھے دوسری طرف پورے راستہ میں رسول اللہ ﷺ کو میرا خیال کہیں نہیں آیا یہاں تک کہ تبوک پہونچ گئے، اس وقت آپ ﷺ نے ایک مجلس میں ذکر کیا کہ کعب بن مالکؓ کو کیا ہوا (وہ کہاں ہیں)؟

بنوسلمہ کو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ان کو جہاد سے ان کے عمدہ لباس اور اس پر نظر کرتے رہنے نے روکا ہے حضرت ماذ بن جبلؓ نے عرض کیا کہ تم نے یہ بری بات کہی ہے، یا رسول اللہ ﷺ بخدا میں نے ان میں خیر کے سوا کچھ نہیں پایا، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے۔

حضرت کعبؓ کا بیان ہے کہ جب مجھے یہ خبر ملی کہ رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لارہے ہیں تو مجھے بڑی فکر ہوئی اور قریب تھا کہ میں اپنی غیر حاضری کا کوئی عذر کھبرا کر تیار کرلیتا اور ایسی باتیں پیش کردیتا جس کے ذریعہ میں رسول اللہ ﷺ کی ناراضی سے نکل جاتا اور اس کے لئے اپنے اہل اور دوستوں سے بھی مدد لے لیتا (میرے دل میں یہ خیالات، ووسوس گھومتے رہے) یہاں تک کہ جب یہ خبر ملی کہ حضورﷺ تشریف لے آئے ہیں تو خیالاتِ فاسدہ میرے دل سے مٹ گئے اور میں نے سمجھ لیا کہ میں آپ ﷺ کی ناراضی سے کسی ایسی بنیاد پر نہیں نکل سکتا جس میں جھوٹ ہو، اس لئے میں نے بالکل سچ بولنے کا عزم کر لیا کہ مجھے صرف سچ ہی نجات دلا سکتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لائے تو (حسب عادت) چاشت کے وقت یعنی صبح کو آفتاب کچھ بلند ہونے کے وقت مدینہ میں داخل ہوئے اور عادتِ شریفہ یہی تھی کہ سفر سے واپسی کا عموماََ یہی وقت ہوا کرتا تھا، اور عادت یہ تھی کہ پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے، دو رکعتیں پڑھتے، پھر حضرت فاطمہؓ کے پاس جاتے، اس کے بعد ازواج مطہراتؓ سے ملتے تھے۔
اسی عادت کے مطابق آپ ﷺ اول مسجد میں تشریف لے گئے، دو رکعت ادا کی، پھر مسجد میں بیٹھ گئے جب لوگوں نے یہ دیکھا تو غزوہ تبوک میں نہ جانے والے منافقین جس کی تعداد اسی 80 سے کچھ اور اوپر تھی خدمت میں حاضر ہو کر جھوٹے عذر پیش کر کے اس پر جھوٹی قسمیں اٹھانے لگے، رسول اللہ ﷺ نے ان کے ظاہر قول و قرار اور قسموں کو قبول کر لیا، اور ان کو بعیت کرلیا، ان کے لئے دعاء مغفرت فرمائی اور ان کے باطنی حالات کو اللہ کے سپرد کیا۔
اسی حال میں، میں بھی حاضرِ خدمت ہوگیا اور چلتے چلتے سامنے جا کر بیٹھ گیا، جب میں نے سلام کیا تو رسول اللہ ﷺ نےا یسا تبسم فرمایا جیسے ناراض آدمی کبھی کیا کرتا ہے، اور بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا رخ پھیر لیا، تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ مجھ سے چہرہ مبارک کیو ں پھیرتے ہیں، خدا کی قسم میں نے نفاق نہیں کیا، نہ دین کے معاملہ میں کسی شبہ و شک میں مبتلا ہوا، نہ اس میں کوئی تبدیلی کی، آپﷺ نے فرمایا کہ پھر جہاد می کیوں نہیں گئے؟ کیا تم سے سواری نہیں خریدلی تھی؟
میں نے عرض کیا بیشک یا رسول اللہ ﷺ اگر میں آپ ﷺ کے سوا دنیا کے کسی دوسرے آدمی کے سامنے بیٹھتا تو مجھے یقین ہے کہ میں کوئی عذر گھڑ کر اس کی ناراضی سے بچ جاتا، کیونکہ مجھے جدال اور بات بنانے میں مہارت حاصل ہے، لیکن قسم ہے اللہ کی کہ میں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اگر میں نے آپ ﷺ سے کوئی جھوٹی بات کہی جس سے آپ ﷺ وقتی طور پر راضی ہوجائیں تو کچھ دور نہیں کہ اللہ تعالیٰ۔۔۔۔۔۔۔ حقیقت ھال آپ ﷺ پر کھول کر مجھ سے ناراض کردیں گے، اور اگر میں نے سچی بات بتلا دی جس سے بافعل آپ مجھ پر ناراض ہوں تو مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمادیں گے، صحیح بات یہ ہے کہ جہاد سے غائب رہنے میں میرا کوئی عذر نہیں تھا، میں کسی وقت بھی مالی اور جسمانی طور پر اتنا قوی اور پیسے والا نہیں ہوا تھا جتنا اس وقت تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص نے تو سچ بولا ہے، پھر فرمایا کہ اچھا جاؤ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمھارے متعلق کوئی فیصلہ فرمادیں، میں یہاں سے اُٹھ کر چلا تو بنی سلمی کے چند آدمی میرے پیچھے لگے، اور کہنے لگے کہ اس سے پہلے تو ہمارے علم میں تم نے کوئی گناہ نہیں کیا یہ تم نے کیا بے وقوفی کی کہ اس وقت کوئی عزر پیش کردیتے جیسا دوسرے متخلفین نے پیش کیا، اور تمھارے گناہ کی معافی کے لئے رسول اللہ ﷺ کا استغفار کرنا کافی ہوجاتا، بخدا یہ لوگ مجھے بار بار ملامت کرتے رہے یہاں تک کہ میرے دل میں یہ خیال آگیا کہ میں لوٹ جاوں، اور پھر جا کر عرض کروں کہ میں نے جو بات پہلےکہی تھی وہ غلط تھی، میرا عزر صحیح موجود تھا۔
مگر پھر میں نے دل میں کہا کہ میں ایک گناہ کے دوگناہ نہ بناؤں، ایک گناہ تو تخلف کاسرزد ہوچکا ہے دوسرا گناہ جھوٹ بولنے کا کر گزروں، پھر میں نے ان لوگوں سے پوچھا کہ متخلفین مین کوئی اور بھی میرے ساتھ ہے، جس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہو، ان لوگوں نے بتلایا کہ دو آدمی اور ہیں جنھوں نے تمھاری طرح اقرار جرم کرلیا، اور ان کو بھی وہی جواب دیا گیا جو تمھیں کہا گیا ہے، ( کہ اللہ کے فیصلہ کا انتطار کرو) میں نے پوچھا کہ وہ دو کون ہیں، انھوں نے بتلایا کہ ایک مرارہ ابن بربیع العمری دوسرے ہلال بن امیہ واقفی ہیں۔

ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ ان میں سے پہلے (یعنی مرارہؓ) کے تخلف کا تو سبب یہ ہوا کہ ان کا ایک باغ تھا جس کا پھل اس وقت پک رہا تھا، تو انھوں نےاپنے دل میں کہا کہ تم نے اس سے پہلے بہت سے غزوات میں حصہ لیا ہے، اگر اس سال جہاد میں نہ جاؤ تو کیا جرم ہے، اس کے بعد جب انھیں اپنے گناہ پر تنبہ ہوا تو انھوں نے اللہ سے عہد کر لیا کہ یہ باغ میں نے الہ کے راہ میں صدقہ کردیا۔
اور دوسرے بزرگ حضرت ہلال بن امیہؓ کا یہ واقعہ ہوا کہ اُن کے اہل و عیال عرصہ سے متفرق تھے، اس موقع پر سب جمع ہوگئے تو یہ خیال کیا کہ اس سال میں جہاد می نہ جاؤں اپنے اہل و عیال میں بسر کروں، ان کو بھی جب اپنے گناہ کا خیال آیا تو انھوں نے یہ عہد کیا کہ اب میں اپنے اہل و عیال سے علیحدگی اختیار کرلوں گا۔

کعب بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں نے ایسے دو بزرگوں کا ذکر کیا جو غزوہ بدر میں مجاہدین میں سے ہیں، تو میں نے کہا کہ بس میرے لیے انھی دونوں بزرگوں کا عمل قابل تقلید ہے، یہ کہا کر میں اپنے گھر چلا گیا۔

ادھر رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو ہم تینوں کے ساتھ سلام کلام کرنے سے منع فرمایا، اس وقت ہم تو سب مسلمانوں سے بدستور محبت کرتے تھے مگر اُن سب کا رُخ ہم سے پھر گیا تھا۔

ابن ابھی شیبہؒ کی روایت میں ہے کہ اب ہمارا حال یہ ہوگیا کہ ہم لوگوں کے پاس جاتے تو کوئی ہم سے کلام نہ کرتا نہ سلام کرتا نہ سلام کا جواب دیتا۔

مسند عبدالرزاق میں ہے کہ اس وقت ہماری دنیا بالکل بدل گئی ایسا معلوم ہونے لگا کہ نہ وہ لوگ ہیں جو پہلے تھے نہ ہمارے باغ اور مکان وہ ہیں جو پہلے تھے سب اجنبی نظر آنے لگے مجھے سب سے بڑی فکر یہ تھی کہ اگر میں اس حال میں مرگیا تو حضور ﷺ میرے جنازہ کی نماز نہ پڑھیں گے، یا خدانخواستہ اس عرصہ میں حضور ﷺ کی وفات ہوگئی تو میں عمر بھر اسی طرح سب لوگوں میں ذلیل و خوار پھرتا رہوں گا، اس کی وجہ سے میرے لئے ساری زمین بیگانہ و ویران نظر آنے لگی، اسی حال میں ہم پر پچاس راتیں کزرگئیں، اس زمانہ میں میرے دونوں ساتھی (مرارہ اور ہلال) تو شکستہ دل ہو کر گھر میں بیٹھ رہے، اور رات دن روتے تھے، لیکن میں جوان آدمی تھا، باہر نکلتا اور چلتا پھرتا تھا اور نماز میں سب مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوتا تھا اور بازاروں میں پھرتا تھا مگر نہ کوئی مجھ سے کلام کرتا نہ میرے سلام کو جواب دیتا، رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں نماز کے بعد حاضر ہوتا اور سلام کرتا تو یہ دیکھا کرتا تھا کہ رسول اللہ کے لب مبارک کو جواب سلام کے لئے حرکت ہوئی یا نہیں، پھرمیں آپ کے قریب ہی نماز پڑھتا تو نظر چُر کر اپکی طرف دیکھتا تو معلوم ہوتا کہ جب میں نماز میں مشغول ہوجاتا ہوں تو آپ ﷺ میری طرف دیکھتے ہیں اور جب میں آپکی طرف دیکھتا ہوں تو رُخ پھیرلیتے ہیں۔

جب لوگوں کی یہ بے وفائی دراز ہوئی تو ایک روز میں اپنے چچازاد بھائی قتادہؓ کے پاس گیا جو میرے سب سے زیادہ دوست تھے میں اُن کے باغ میں دیوار پھاند کر داخل ہوا اور ان کو سلام کیا، خدا کی قسم انھوں نے بھی میرے سلام کا جواب نہ دیا، میں نے پوچھا کہ اے قتادہؓ کیا تم نہیں جانتے کہ میں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ سے محبت رکھتا ہوں، اس پر بھی قتادہ نے سکوت کیا، کوئی جواب نہیں دیا، جب میں نے بار بار یہ سوال دہرایا تو تیسری یا چھوتھی مرتبہ میں انھوں نے صرف اتنا کہا کہ اللہ جانتا ہے اور اس کا رسول ﷺ میں رو پڑا اور اسی طرح دیوار پھاند کر باغ سے باہر آگیا۔ اسی زمانہ میں ایک روز میں مدینہ کے بازاز میں چل رہا تھا کہ اچانک ملک شام کا نبطی شخص جو غلہ فروخت کرنے کے لئے شام سے مدینہ میں آیا تھا اس کو دیکھا کہ لوگوں سے پوچھ رہا ہے کہ کیا کوئی مجھے کعب بن مالک کا پتہ بتا سکتاہے؟ لوگوں نے مجھے دیکھ کر میری طرف اشارہ کیا، وہ آدمی میرے پاس آگیا اور مجھے شاہِ غسان کا ایک خط دیا جو ایک ریشمی رومال پر لکھا ہوا تھا جس کا مضمون یہ تھا۔

" اما بعد مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپکے نبیﷺ نے آپ سے بیوفائی کی اور اپکو دور کر رکھا ہے، اللہ رتعالیٰ نے تمھیں ذلت اور ہلاکت کی جگہ میی نہیں رکھا ہے، تم اگر ہمارے یہاں آنا پسند کرو تو آجاؤ ہم تماری مدد کریں گے"

میں نے جب یہ خط پڑھا تو کہا کہ یہ اور ایک میرا امتحان اور آزامائش ائی کہ اہلِ کفر کو مجھ سے اس کی طمع اور توقع ہوگئی (کہ میں ان کے ساتھ مل جاؤں) میں یہ خط لے کر آگے بڑھا ایک دکان پر تنور لگا ہوا تھا اس مین جھونک دیا۔
حضرت کعبؓ فرماتے ہیں کہ جب بچاس میں سے چالیس راتیں گزر چکی تھیں تو اچانک دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کے ایک قاسد خزیمہ بن ثابت میرے پاس آرہے ہیں، آکر یہ کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے کہ حکم دیا ہےکہ تم اپنی بیوی سے بھی علیحدگی اختیار کر لو، میں نے پوچھا کہ کیا طلاق دیدوں یا کیا کروں، انھوں نے بتلایا کہ نہیں عملاََ اس سے الگ رہو قریب نہ جاؤ، اسی طرح کا حکم میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی پہنچا، میں نے بیوی سے کہدیا کہ تم اپنے میکہ میں چلی جاؤ اور وہیں رہو جب تک اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ فرمادیں۔
ہلال بن امیہ کی اہلیہ خولہ بنت عاصم یہ حکم سن کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ ہلال بن امیہؓ ایک بوڑھے ضعیف آدمی ہیں اور کوئی ان کا خادم نہٰں، ابن ابی دیبہؒ کی روایت یہ بھی ہے کہ وہ ضعیعت البصر بھی ہیں کیا آپ یہ پسند نہیں فامائیں گے کہ میں انکی خدمت کرتی رہوں، فرمایا کہ خدمت کرنیکی ممانعت نہیں البتہ وہ تمھارے پاس نہ جائیں، انھوں نے عرض کیا کہ وہ تو بڑھاپے کی وجہ سے ایسے ہوگئے ہیں کہ انھیں کوئی حرکت ہی نہیں، اور واللہ اُن پر تو مسلسل گریہ طاری ہے رات دن روتے رہتے ہیں۔

کعب بن مالکؓ فرماتے ہیں مجھے بھی میرے بعض متعلقین نے مشورہ دیا کہ تم بھی آنحضرت ﷺ سے بیوی کو ساتھ رکھنے کی اجازت لے لو جیسا کہ آپ نے ہلال کو اجازت دیدی ہے، میں نے کہا کہ میں ایسا نہیں کروں گا، معلوم نہیں رسول اللہ ﷺ کیا جواب دیں، اس کے علاوہ میں جو ان آدمی ہوں (بیوی کو ساتھ رکھنا احتطیات کے خلاف ہے) چنانچہ اسی حال پر میں نے دس راتیں اور گزاریں، یہاں تک کہ پچاس راتیں مکمل ہوگئیں، مسند عبدالرزاق کی روایت میں ہے کہ اس وقت ہماری توبہ رسول اللہ ﷺ پر ایک تہائی رات گزرنےکے وقت نازل ہوئی، ام المومنین حضرت ام سلمہؓ جو اُس وقت حاضر تھیں انھوں نے عرض کیا کہ اجازت ہو تو کعب بن مالکؓ کو اسی وقت اس کی خبر کردی جائے، آپ نے فرمایا کہ ایسا ہوا تو ابھی لوگوں کا ہجوم ہوجائگا، رات کی نیند مشکل ہوجائیگی۔

کعب بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ پچاس رات کے بعد صبح کی نماز پڑھ کر میں اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا تھا اور حالت وہ تھی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہےکہ مجھے پر میری جان اور زمین باوجود وسعت کے تنگ ہوچکی تھی اچانک میں نے سلع پہاڑ کے اوپر سے کسی چلانے والے آدمی کی آوز سنی جو بلند آواز سے کہ رہا تھا کہ اے کعب بن مالکؓ بشارت ہو۔

محمد بن عمر کی روایت میں ہے کہ یہ بلند آواز سے کہنے والے ابو بکرؓ تھے جنھوں نے جبل سلمع پر چڑھ کر یہ آواز دی کہ اللہ تعالیٰ نے کعبؓ کی توبہ قبول فرمالی بشارت ہو، اور عقبہ کی روایت میں یہ ہے کہ یہ خوشخبری حضرت کعبؓ کو سنانے کے لئے دو آدمی دوڑے اس میں سے ایک آگے بڑھ گیا تو جو پیچھے رہ گیا تھا اس نے یہ کیا کہ سلع پہاڑ پر چڑھ کر آواز دیدی اور کہا جاتا ہے کہ یہ دوڑنے والے دو بزرگ حضرت صدیق اکبرؓ اورفاروق اعظمؓ تھے۔

کعب بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ یہ آواز سنکر میں سجدے میں گرگیا اور انتہائی فرحت سے رونے لگا، اور مجھے معلوم ہوگیا کہ اب کشادگی آگئی، رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز کے بعد صحابہ کرامؓ کو ہماری توبہ قبول ہونیکی خبر دی تھی، اب سب طوف سے لوگ ہم تینوں کو مبارکباد دینے کے لئے دوڑ پڑے، بعض لوگ گھوڑے پر سوار ہو کر میرے پاس پہنچے مگر پہاڑ سے آواز دینے والے کی آواز سب سے پہلے پہنچ گئی۔

کعب بن مالکؓ کہتے ہں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت مٰن حاضری کے لئے نکلا تو لوگ جوق در جوق مجھے مبارکباد دینے کے لئے آرہے تھے، کعبؓ فرماتے ہیں کہ میں مسجد نبویﷺ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہیں، آپ کے گرد صحابہ کرامؓ کا مجمع ہے، مجھے دیکھ کر سب سے پہلے طحہ بن عبیداللہ کھڑے ہو کر میری طرف لپکے اور مجھ سے مصافحہ کر کے قبولِ توبہ پر مبارک باد دی، طلحہؓ کا یہ احسان میں کبھی نہیں بھولتا، جب میں نے رسول اللہ کو سلام کیا تو آپ ﷺ کا چہرہ مبارک خوشی کیوجہ سے چمک رہا تھا، آپ نے فرمایا کہ اے کعبؓ بشارت ہو تمھیں ایسے مبارک دن کی جو تمھاری عمر میں پیدائش سے لیکر آج تک سب سے زیادہ بہتر دن ہے، میں نےعرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ حکم آپ کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ کی طرف ہے؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں یہ حکم اللہ تعالیٰ کا ہے، تم نے سچ بولا تھا اللہ تعالیٰ نے تمھاری سچائی کو ظاہر فرمادیا۔

جب میں آپ کے سامنے بیٹھا تو عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میری توبہ یہ ہے کہ میں اپنے سب مال و متاع سے نکل جاؤں کہ سب کو اللہ کی راہمیں صدقہ کردوں، آپ نے فرمایا نہیں کچھ مال اپنی ضروت کے لئے رہنے دو یہ بہتر ہے میں نے عرض کیا کہ اچھا آدھا مال صدقہ کردوں۔ آپ نے اس سے بھی انکار فرمایا، میں نے پھر ایک تہائی مال کی اجازت مانگی، تو آپ نے اس کو قبول فرما لیا، میں نے عرض کیا یار سول اللہ ﷺ مجھے اللہ نے سچ بولنے کی وجہ سے نجات دی ہے اس لئے میں عہد کرتا ہوں کہ جب تک میں زندہ ہوں کبھی سچ کے سوا کوئی کلمہ نہیں بولوں گا، پھر فرمایا کہ جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سچ بولنے کا عہد کیا تھا الحمد للہ آج تک کوئی کلمہ جھوٹ کا میری زبان پر نہیں آیا، اور مجھے اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ باقی زندگی میں بھی مجھے اس سے محفوظ رکھیں گے، کعبؓ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم: اسلام کے بعد اس سے بڑی نعمت مجھے نہیں ملی، کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے سچ بولا، جھوٹ سے پرہیز کیا،کیونکہ اگر میں جھوٹ بولتا تو اسی طرح ہلاکت میں پڑجاتا جس طرح دوسرے جھوٹی قسمیں کھانیوالے ہلاک ہوئے، جن کے بارے میں قرآن میں یہ نازل ہوا: سیحلفون باللہ لکم اذا انقلبتم الیھم سے لیکر فان اللہ لا یرضی عن القوم الفسقین۔ تک بعض حضرات نے فرمایا کہ ان تینوں حضرات سے مقاطعہ کا بچاس دن تک جاری رہنا شاید اس حکمت پر مبنی تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے غزوہ تبوک میں بچاس دن ہی صرف ہوئے تھے۔

(یہ پوری روایت اور تفصیل واقعہ تفسیر مظہری سے لیا گیا ہے)

(معارف القرآن جلد 4 صحہ 477، سورہ توبہ: آیت 118)

طالب دعا

Follow the Faizan-e-Rozay Dhani channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Va8lx9T9WtBzDRLsPx3p

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ سالكان الہی کی بلند ہمتی نقل ۲۱:خلیفہ محمود ...
21/08/2026

مجمع الفيوضات امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد روضه دهنی رحمہ اللہ علیہ

سالكان الہی کی بلند ہمتی

نقل ۲۱:
خلیفہ محمود نظامانی کا بیان ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ایک شخص کی عادت تھی کہ روزانہ بازار کی گلیاں صاف کرتا تھا، ایک دن بادشاہ کا وہاں سے گزر ہوا تو بادشاہ کو اس کے حال پر رحم آگیا اور ایک انمول ہیرا اس کے سامنے گلی میں پھینک کر چلا گیا۔ دو تین بعد جب دوباره بادشاه کا وہاں سے گزر ہوا تو اس نے اس صفائی کرنے والے سے پوچھا کہ تمہیں یہاں سے کچھ ملا تھا یا نہیں؟ اس نے جواب دیا کہ جی ہاں ملا تھا۔ بادشاہ نے کہا کہ جب تمہیں اس قدر انمول ہیرا ملا ہے تو پھر کیوں روزانہ یہ گلیاں صاف کر رہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ اے بادشاہ! جس کام سے ایسے نایاب ہیرے ملیں تو اسے چھوڑنا بے ہمتی اور بے نصیبی ہے۔

اے بھائی مقصد یہ ہے کہ سالک کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طلب میں رہنا چاہیے، اسے کامیابی ہو یا نہ ہو ہر حالت میں مایوس نہیں ہونا چاہیے یعنی اگر مقصد حاصل نہ ہو تو بھی ہمت نہ ہارے اور اگر حاصل ہوجائے تو کوشش ترک نہ کرے۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں 👇
https://youtube.com/?si=i6WzjYhsbRJlMdJg

واٹس ایپ چینل سبسکرائب کریں 👇
https://whatsapp.com/channel/0029Va8lx9T9WtBzDRLsPx3p

ٹیلگرام چینل سبسکرائب کریں 👇
https://t.me/faizanerozaydhani

واٹس ایپ گروپ جوائن کریں 👇
https://chat.whatsapp.com/BGFsj9T0be06HFOcVyp577

Address

Pir Jo Goth

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Faizan-e-Rozay Dhani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Faizan-e-Rozay Dhani:

Shortcuts

Share