مختصر سوانح حیات
حضرت پيرسائيں سيد محمد راشد روضہ دھنی
(۱۱۷۱ھ٬ ۱۲۳۴ھ - 1758ع٬ 1819ع)
قطب الاقطاب فیض مآب حضرت سید محمد راشد روزہ دھنی حضرت خواجہ پیرسیدمحمد بقا شہید کے فرزندِ ارجمند ہیں جو کہ نہایت ہی باکمال اولیاء میں مقتدا و پیشوا اورطریقہء قادریہ و نقشبندیہ کے مجمع البحرین تھے۔ قادری طریقہ حضرت کامل مکمل پیرسید عبدالقادر جیلانی حسینی ساکن کوٹ سدھانہ سے حاصل کیا اور یہ جھنگ سیال ضل
ع میں ہے جو اب چناہ شریف کی دربار کہلاتی ہے اور سلسلہ نقشبندیہ حضرت محی السنۃ امام الامۃ مخدوم محمد اسماعیل پریاں لوء شریف والے سے حاصل کیا۔ آپ دراصل قصبہ رسول پور عرف چھوٹی سائیدی کے رہنے والے تھے جہاں سے ہجرت کرکے گوٹھ رحیم ڈنو کلہوڑو واقع فریدآباد میں سکونت پذیر ہوئے۔ آپ کی ولادت ۱۱۳۵ھ میں ہوئی اور ۱۱۹۸ھ میں کچھ راہزن لٹیروں کے ہاتھوں ۶۳سال کی عمرمبارک پا کر جامِ شہادت نوش کیا۔ آپ کی مزارِ مقدس شیخ طیب قبرستان میں ہے۔ حضرت سید محمد بقا شاہ شہید کو ۴ فرزند تھے٬جن کے اسماء گرامی یہ ہیں۔
1. قدوۃ اہلِ صفا مقتدائے عارفان خدا حضرت سید عبدالرسول
2. پیشوائے اہلِ تسلیم حضرت پیرسید محمد سلیم شاہ
3. قدوۃ العارفین خازن اسرار ربانی محبوب سبحانی مجدد دین یزدانی حضرت سید محمد راشد روزہ دھنی
4. اور فرزند چہارم تاج الاصفیاء زین الاولیاء میاں سید علی مرتضیٰ شاہ
حضرت مرشد کامل مکمل سید محمد راشد روزہ دھنی کی ولادت یکم شعبان یا رمضان علی اختلاف الاقوال ۱۱۷۱ھ میں ہوئی۔ آپ سب بھائیوں میں سے چھوٹے مگر سب سے بلند اقبال، ارجمند مقتدائے جہاں، عالی الشان، جان جہاں اور سلسلہء راشدیہ طیبہ کے صاحب بنے۔ آپ کی ولادت رحیم ڈنو کلہوڑو میں ہوئی۔ آپ کے پوتے حضرت محبوب السالکین یعسوب العارفین پیرسیدعلی گوہر شاہ عرف بنگلہ دھنی تخلص اصغرکی سجادگی کے دوران ۱۲۵۰ھ میں دریاءکی باڑ کا خطرہ ہوا تو آپ نے تمام مزارات منتقل کرواکر نئی درگاہ (موجودہ) میں رکھوائیں اور نیا گوٹھ آباد کیا۔ جس کو اب پیر جوگوٹھ یا نئی درگاہ کہاجاتا ہے۔ چونکہ اولاد میں سے کچھ لوگ وہیں پر رہ رہے تھے اس لئے اسے پرانی درگاہ کہاجاتا ہے۔
منقول ہے کہ جب حضرت میاں صاحب پیرسید محمد بقا شاہ شہید کے ہاں چاروں فرزند تولد ہوئے تو ایک بار حضرت مقتدائے اہل تفضیل، مقبول بارگاہ رب جلیل مخدوم محمد اسماعیل (جو کہ نقشبندی مشرب میں آپ کے پیرطریقت تھے)کو اپنے گاؤں لے آئے اور تینوں فرزندوں کو دعا طلبی کے لئے پیش خدمت کیا، مخدوم صاحب ایک ایک کا نام پوچھتے دعا فرماتے گئے کہ "اچھا ہوگا" پھرجب حضرت سید روضہ دھنی (جوکہ ابھی بندھنوں میں تھے)کو لے آئے تب حضرت مخدوم صاحب دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور انھیں اٹھا کر فرمایا "یہ وہ دوست ہے جس سے دنیا کا اچھا خاصہ حصہ فیضیاب ہوگا"
حضرت پیرسائیں قبلہ عالمیاں قدوۂ عارفاں کا بچپن نہایت ہی پاکیزہ گزرا، بچپن کی بے فائدہ لہو و لعب سے آپ کی طبعیت مقدس بالکل بیزار و متنفر رہتی تھی۔ کبھی بھی دیگر بچوں کی طرح کھیلنے میں وقت ضائع نہیں کیا۔ جب تعلیم لینے کی عمر کو پہنچے تو والد محترم کے امر کے مطابق نہایت ہی خوشی اور کشادہ ذہنی سے علم کے حصول میں لگ گئے۔ ملفوظات شریف میں ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ بچپن میں ہمارے دل میں خیال وارد ہوتا تھا کہ کاش ہم عارف کامل مکمل صاحب ارشاد و تلقین بن جائیں کہ ہماری توجہ سے لوگ دنیا و مافیہا کو بھول کر مجذوب بن جائیں اور وجد میں اپنے حال سے بےخود ہوجائیں۔ در حقیقت آپ کا یہ خیال الہام الاہی تھاجس کا عکس آپ کے قلب مبارک والے آئینۂ مصفیٰ پر پڑتا تھا جو آگے چل کر بعینہ ظہور پذیر اور نروار ہوا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم میاں محمد اکرم گھمرو اور حافظ زین الدین مہیسر سے حاصل کی جو کہ آپ کے والد حضرت میاں صاحب کے کامل مریدین میں سے تھا۔ اس کے بعد حصول علم کے لئے سفر اختیار فرمایا حضرت والدمحترم نے آپ کو پہلے مخدوم طیب بقاپور والے کے پاس اور بعد میں حضرت قدوۃ العرفاء الحاج میاں فقیراللہ علوی نقشبندی (متوفی ۱۱۹۵ھ) کے ہاں بٹھایا لیکن حضرت میاں صاحب شہید دوسری مرتبہ آئےاور صاحبزادے کے لئے تعظیم و تکریم کے ساتھ پر تکلف کھانا دیکھا تو فرمایا بابا! جس مدرسے میں عمدہ کھانا ہو وہاں علم حاصل کرنا محال ہے۔ پھر وہاں سے شہر کوٹڑی کبیر حضرت میاں یارمحمد کے ہاں لے آئے جو کہ ایک اہلِ دل فاضل اور کامل عالم تھے۔ وہاں آپ کی طبع مقدس مختلف مدارس کی طرف سفر کرنے سے مشقت اور گرانی کی وجہ سے پریشان ہوئی تو ایک رات ایک پاؤں پر کھڑے ہوکر ۵ ہزار مرتبہ درود شریف پڑھ کر حضور سید دو عالم ﷺ سے استمداد و استغاثہ کیا۔ جس سے آپ کے قلب کو ایسی صفائی اور آسانی حاصل ہوئی کہ ان پڑھے علوم بھی پڑھے ہوئےہوگئے اور علم الانسان مالم یعلم کی مصداق بن گئے۔
اخیرمیں آپ نے حضرت مولانا مخدوم محمد آریجوی کے ہاں علوم کی تکمیل کی۔ اس مدرسے میں حضرت سید عاقل شاہ بھی آپ کے ہمدرس تھے۔ مگر حضرت روزہ دھنی علم کے نصاب کی تکمیل کے بعد فیض اور فضیلت کی دستار حاصل کرکے پہلے فارغ ہوئے اور جناب شاہ صاحب ایک سال بعد فارغ ہوئے۔
طریقت میں قدم :آپ فرماتے ہیں جب میں اور برادرم میاں مرتضیٰ علی شاہ کوٹڑی کبیر میں مخدوم میاں یارمحمد کے ہاں ظاہری علوم کے درس و تدریس میں مشغول تھے تب ایک دن حضرت والد بزرگوار وہاں تشریف فرما ہوئے۔ ہم قدم بوسی سے مشرف ہوکر خدمت میں بیٹھے تو آپ نے فرمایا اے برخورداران! آپ کو معلوم ہے کہ آج ہمارے یہاں آنے کا کیا سبب ہے؟ ہم نے عرض کیا نہیں معلوم۔ آپ نے فرمایا کہ میں مخدوم عبدالرحمٰن سے ملاقات کرنے گیا تھا جو حضرت مخدوم محمد اسماعیل کے خاص مریدین میں سے ہیں۔ تو دورانِ گفتگو مخدوم صاحب نے پوچھا کہ کیا آپ کو طریقۂ مبارکہ کی تلقین کرنے اور ہدایت کرنے کی اجازت ہے؟ میں نے کہا ہاں تو اس نے مجھ سے اپنے اہل کو مرید کرنے کی اجازت لی اور پوچھا کہ آپ نے اپنے صاحبزادوں کو طریقۂ مبارکہ میں داخل فرمایا ہے کہ نہیں؟ میں نے کہا انھیں اب ایسا خیال نہیں آیا۔ کہا خیال نہ آیا ہو تو بھی انھیں طریقۂ مبارکہ میں داخل فرمادیں آج اس مشورے کے باعث ہمارا آنا ہوا ہے۔ پس آپ نے اولا ہم دونوں بھائیوں کو طریقۂ نقشبندیہ میں داخل فرمایا ہم سے وداع فرماکر کسی طرف روانہ ہوگئے۔ ہم تعلیم و تدریس کے ساتھ ذکر کرکے شغل میں بھی مشغول رہتے تھے۔ برادرم میاں علی مرتضی شاہ پر طریقۂ نقشبندیہ کی مشغولی نے اچھا اثر کیا لیکن مجھے کوئی کیفیت محسوس نہ ہوئی پھر دوسری مرتبہ حضرت والد مربی تشریف لے آئے اور مجھ سے شغل کی کیفیت معلوم کی تو میں نے عرض کیا حضور مجھے کوئی خبر یا کیفیت معلوم نہیں ہوئی تو آپ نے مجھے طریقۂ عالیہ قادریہ میں داخل فرماکر ذکرِ جہر سے مشغول فرمایا۔بلند آواز سے ذکر نے سارے وجود کو ایسا لیا کہ سرسے لے کر پاؤں تک پورے جسم سے ذکر جاری ہوگیا۔ یہ بھی بیان ہے کہ جب حضرت میاں صاحب شہید جناب قدس خطاب حضرت سید عبدالقادر شاہ چناہ شریف والوں کی خدمت میں فیض حاصل کر رہے تھے تب پیرصاحب چناہ والوں نے ایک دن خاص مہربانی اور شفقت فرماتے ہوئے کہا بابا ہمارے جدامجد حضرت غوث الثقلین محبوب سبحانی سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے مبارک قول "قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی اللہ" کے مطابق ہمارے خاندان کی یہ روایت رہتی ہے کہ جس خاص منظور نظر مرید پر مخصوص توجہ اور شفقت فرماتے ہیں تو جدی سنت کے مطابق اس کی گردن پر اپنا قدم رکھتے ہیں۔ وہ قدم مبارک پشت بہ پشت ہماری گردن پر بھی ہے۔ ہم نے یہ سنت اور متابعت آج تک کسی مرید پر قدم رکھ کر ادا نہیں کی۔ آج دل چاہتا ہے کہ آپ کی گردن پر قدم رکھ کر وہ عمل ادا کردیں۔ پھر حضرت میاں صاحب نے گردن خم کی تو آپ نے قدم مبارک رکھ کر اپنی خاندانی سنت سے سرفراز و مشرف فرمایا۔ پھر جب کوٹڑی کبیر میں دونوں صاحبزادے علم کی طلب میں مشغول تھےاور انھیں طریقۂ عالیہ میں داخل کیا گیا تو ایک دن حضرت میاں صاحب نے صاحبزادے حضرت روزہ دھنی کو خلوت میں بٹھاکر اس حقیقت سے آشنا کیا اور فرمایا کہ بابا تمام صاحبزادوں میں سے ہمارے دل کا میلان آپ کی طرف زیادہ ہے۔ لہٰذا میں اپنے مرشد کی سنت کی متابعت کے مطابق آپ کی گردن پر قدم مبارک رکھ رہا ہوں۔ آپ کے ہمدرس مولانا سید محمد عاقل سے منقول ہے کہ میں فارغ التحصیل ہونے کے بعد جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا صحبت کے دوران دیکھا کہ ذکر اسم ذات کی مشغولی نے قلب میں وہ حرارت پیدا کی تھی جو قریب بیٹھنے سے آپ کے وجود مبارک کی حرارت سے مجھے گرمی محسوس ہورہی تھی۔ ملفوظات شریف میں آپ سے منقول ہے کہ لکیاری سادات میں سے ایک مجذوب ابتدائی زمانہ میں ہمارے ہاں قیام کرتا تھاا ور میں دل و جان سے اس کی خدمت کرتا تھا ایک مرتبہ میں اللہ سبحانہ وتعالی کی محبت ذوق اور شوق اور طلب کے جذبہ میں رو رہا تھا تب اس مجذوب کو میرے حال پر بہت رحم آیا اور شفقت سے فرماتے ہوئے کہا "پی پی کر دریا بن جا" تب بھی میں رونے سے نہیں رکا ۔ تو کمال شفقت اور رحم کے جذبے سے کہا "پی پی کر سمندرہوجا اور ہرپیاسے کو پلا"
دنیا نے دیکھا کہ اس مجذوب کا فرمودہ حرف بہ حرف سچ ثابت ہوا اور فیض کا ایسا سمندر جاری ہوا کہ لاکھوں لوگوں کی تشنگی مٹاکر انھیں سیراب کیا کہ وہاں چشمے پھوٹ پڑے درباریں بنیں پھر درباروں سے اور خانقاہیں آباد ہوئیں کہ اس فیض رسانی کی حد کو پانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ زیادہ احوال آپ ملفوظات شریف کے صفحات سے ملاحظہ کرسکیں گے۔
ہدایت اور فیض الاہی کا یہ سورج ارشاد و تلقین کے آسمان پر نورانی شعاؤں سے چمکتا ہوا جہاں کو روشن و منور فرماتا ہوا حبیب کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کی عین متابعت میں پوری۶۳ سال کی مبارک عمر پاکر یکم شعبان ۱۲۳۴ھ میں غیب کے پردے میں محجوب اور محبوب حقیقی عز اسمہ کے وصال سے مشرف ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
جان جسم مصطفی بود آن امام
زاں سبب یک قول فعل آمد تمام
عاجز آثم فقیر محمد قاسم عفی عنہ
مدرسہ قاسم العلوم گوٹھ صاحب خان مشوری
(مشوری شریف لاڑکانہ)