07/06/2026
سورہ البقرہ — آیت 87
📌 آیت (Arabic)
وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ وَقَفَّيۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِۦ بِٱلرُّسُلِۖ وَءَاتَيۡنَا عِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ ٱلۡبَيِّنَٰتِ وَأَيَّدۡنَٰهُ بِرُوحِ ٱلۡقُدُسِۗ أَفَكُلَّمَا جَآءَكُمۡ رَسُولُۢ بِمَا لَا تَهۡوَىٰٓ أَنفُسُكُمُ ٱسۡتَكۡبَرۡتُمۡ فَفَرِيقٗا كَذَّبۡتُمۡ وَفَرِيقٗا تَقۡتُلُونَ
---
📌 لفظی ترجمہ (Word-by-Word Translation)
وَلَقَدْ: اور بے شک
آتَيْنَا: ہم نے عطا کیا
مُوسَى: موسیٰ کو
الْكِتَابَ: کتاب (تورات)
وَقَفَّيْنَا: اور ہم نے پے در پے بھیجا
مِنْ بَعْدِهِ: ان کے بعد
بِالرُّسُلِ: رسول
وَآتَيْنَا: اور ہم نے عطا کیا
عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ: عیسیٰ بن مریم کو
الْبَيِّنَاتِ: واضح نشانیاں
وَأَيَّدْنَاهُ: اور ہم نے اس کی تائید کی
بِرُوحِ الْقُدُسِ: روحِ القدس (جبریلؑ) کے ذریعے
أَفَكُلَّمَا: کیا پھر ہر بار
جَاءَكُمْ: تمہارے پاس آیا
رَسُولٌ: کوئی رسول
بِمَا: اس چیز کے ساتھ
لَا تَهْوَى أَنْفُسُكُمْ: جو تمہارے دلوں کو پسند نہ ہو
اسْتَكْبَرْتُمْ: تم نے تکبر کیا
فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ: تو ایک گروہ کو جھٹلایا
وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ: اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے
---
📌 آسان اردو ترجمہ
“اور یقیناً ہم نے موسیٰ کو کتاب (تورات) دی اور ان کے بعد بہت سے رسول بھیجتے رہے۔ اور ہم نے عیسیٰ ابنِ مریم کو کھلی نشانیاں دیں اور ان کی روح القدس (جبریلؑ) سے مدد کی۔ پھر کیا جب بھی تمہارے پاس کوئی رسول وہ بات لایا جو تمہیں پسند نہ آئی، تم نے تکبر کیا؟ ایک گروہ کو تم نے جھٹلایا اور دوسرے گروہ کو قتل کرتے رہے۔”
---
📌 تفسیر (تفصیلی)
1. موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دینا
اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کی تاریخ یاد کرا رہا ہے کہ انہیں حضرت موسیٰؑ کو تورات جیسی عظیم کتاب دی گئی۔ یہ ان پر اللہ کا بڑا انعام تھا۔
2. رسولوں کا سلسلہ
موسیٰؑ کے بعد بھی کئی انبیاء بنی اسرائیل میں لگاتار بھیجے جاتے رہے تاکہ وہ ہدایت پر قائم رہیں۔
3. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بینات
عیسیٰؑ کو اللہ نے بہت بڑی معجزات دیئے جیسے:
مردوں کو زندہ کرنا
مادرزاد اندھے کو شفاء دینا
مٹی سے پرندہ بنا کر اذنِ الٰہی سے زندہ کرنا
نصاریٰ کو انجیل دینا
4. روح القدس سے مدد
روح القدس یعنی جبریل امینؑ، عیسیٰؑ کی مسلسل نصرت کرتے رہے۔ اس سے ان کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔
5. بنی اسرائیل کا جرم
اللہ بنو اسرائیل کو ان کے جرائم یاد کروا رہا ہے:
✔ جب بھی کوئی نبی ایسی بات لاتا جو ان کی خواہش کے خلاف ہوتی،
وہ تکبر کرتے تھے۔
✔ کچھ انبیاء کو جھٹلاتے تھے۔
✔ اور کچھ انبیاء کو قتل کر دیتے تھے (مثلاً زکریاؑ، یحییٰؑ)۔
---
📌 اہم فقہی و دینی مسائل
1. اللہ کی ہدایت انسان کی خواہش پر نہیں
حق بات اگر خواہش کے خلاف بھی ہو تو اسے قبول کرنا لازم ہے۔
2. تکبر ہلاکت کا راستہ ہے
انبیاء کو نہ ماننے کی سب سے بڑی وجہ تکبر تھا۔
آج بھی حق چھپانے کی بنیادی وجہ یہی ہے۔
3. انبیاء کا قتل سب سے بڑا جرم
یہودی قوم اپنے اس ظلم کی وجہ سے اللہ کے غضب کا شکار ہوئی۔
4. روح القدس — جبریل امینؑ
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ روح القدس جبریل امینؑ ہیں۔
5. امتِ محمد ﷺ کے لیے تنبیہ
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ
افسوسناک انجام خواہشات کی پیروی سے ہوتا ہے۔
---
📌 English Translation (Sahih / Clear)
“And indeed We gave Moses the Book, and followed him up with a succession of messengers. And We gave Jesus, the son of Mary, clear proofs, and strengthened him with the Holy Spirit. So is it that whenever a messenger came to you with what your souls did not desire, you acted arrogantly? Some of them you denied, and some of them you killed.”
---
📌 English Explanation
Allah reminds the Children of Israel of His great favors upon them.
They were given revelation, prophets, miracles, and guidance.
Yet they repeatedly rejected the prophets whenever their message conflicted with their desires.
This rejection even led to extreme crimes such as killing prophets.
The verse teaches that arrogance and following desires leads people away from truth.