Noor-e-Quran

Noor-e-Quran Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Noor-e-Quran, Religious Center, Peshawar.

قرآن کی روشنی کو عام لوگوں تک پہنچانے کی ایک چھوٹی سی کوشش۔
لفظی ترجمہ، تفسیر، احادیث، اسلامی رہنمائی
پشتو، اردو اور انگلش زبان میں
https://youtube.com/-j9q?si=Jj0-kWT8k9W09kCQ

07/06/2026

سورہ البقرہ — آیت 87

📌 آیت (Arabic)

وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ وَقَفَّيۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِۦ بِٱلرُّسُلِۖ وَءَاتَيۡنَا عِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ ٱلۡبَيِّنَٰتِ وَأَيَّدۡنَٰهُ بِرُوحِ ٱلۡقُدُسِۗ أَفَكُلَّمَا جَآءَكُمۡ رَسُولُۢ بِمَا لَا تَهۡوَىٰٓ أَنفُسُكُمُ ٱسۡتَكۡبَرۡتُمۡ فَفَرِيقٗا كَذَّبۡتُمۡ وَفَرِيقٗا تَقۡتُلُونَ

---

📌 لفظی ترجمہ (Word-by-Word Translation)

وَلَقَدْ: اور بے شک
آتَيْنَا: ہم نے عطا کیا
مُوسَى: موسیٰ کو
الْكِتَابَ: کتاب (تورات)
وَقَفَّيْنَا: اور ہم نے پے در پے بھیجا
مِنْ بَعْدِهِ: ان کے بعد
بِالرُّسُلِ: رسول
وَآتَيْنَا: اور ہم نے عطا کیا
عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ: عیسیٰ بن مریم کو
الْبَيِّنَاتِ: واضح نشانیاں
وَأَيَّدْنَاهُ: اور ہم نے اس کی تائید کی
بِرُوحِ الْقُدُسِ: روحِ القدس (جبریلؑ) کے ذریعے
أَفَكُلَّمَا: کیا پھر ہر بار
جَاءَكُمْ: تمہارے پاس آیا
رَسُولٌ: کوئی رسول
بِمَا: اس چیز کے ساتھ
لَا تَهْوَى أَنْفُسُكُمْ: جو تمہارے دلوں کو پسند نہ ہو
اسْتَكْبَرْتُمْ: تم نے تکبر کیا
فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ: تو ایک گروہ کو جھٹلایا
وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ: اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے

---

📌 آسان اردو ترجمہ

“اور یقیناً ہم نے موسیٰ کو کتاب (تورات) دی اور ان کے بعد بہت سے رسول بھیجتے رہے۔ اور ہم نے عیسیٰ ابنِ مریم کو کھلی نشانیاں دیں اور ان کی روح القدس (جبریلؑ) سے مدد کی۔ پھر کیا جب بھی تمہارے پاس کوئی رسول وہ بات لایا جو تمہیں پسند نہ آئی، تم نے تکبر کیا؟ ایک گروہ کو تم نے جھٹلایا اور دوسرے گروہ کو قتل کرتے رہے۔”

---

📌 تفسیر (تفصیلی)

1. موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دینا

اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کی تاریخ یاد کرا رہا ہے کہ انہیں حضرت موسیٰؑ کو تورات جیسی عظیم کتاب دی گئی۔ یہ ان پر اللہ کا بڑا انعام تھا۔

2. رسولوں کا سلسلہ

موسیٰؑ کے بعد بھی کئی انبیاء بنی اسرائیل میں لگاتار بھیجے جاتے رہے تاکہ وہ ہدایت پر قائم رہیں۔

3. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بینات

عیسیٰؑ کو اللہ نے بہت بڑی معجزات دیئے جیسے:

مردوں کو زندہ کرنا

مادرزاد اندھے کو شفاء دینا

مٹی سے پرندہ بنا کر اذنِ الٰہی سے زندہ کرنا

نصاریٰ کو انجیل دینا

4. روح القدس سے مدد

روح القدس یعنی جبریل امینؑ، عیسیٰؑ کی مسلسل نصرت کرتے رہے۔ اس سے ان کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔

5. بنی اسرائیل کا جرم

اللہ بنو اسرائیل کو ان کے جرائم یاد کروا رہا ہے:

✔ جب بھی کوئی نبی ایسی بات لاتا جو ان کی خواہش کے خلاف ہوتی،
وہ تکبر کرتے تھے۔

✔ کچھ انبیاء کو جھٹلاتے تھے۔

✔ اور کچھ انبیاء کو قتل کر دیتے تھے (مثلاً زکریاؑ، یحییٰؑ)۔

---

📌 اہم فقہی و دینی مسائل

1. اللہ کی ہدایت انسان کی خواہش پر نہیں

حق بات اگر خواہش کے خلاف بھی ہو تو اسے قبول کرنا لازم ہے۔

2. تکبر ہلاکت کا راستہ ہے

انبیاء کو نہ ماننے کی سب سے بڑی وجہ تکبر تھا۔
آج بھی حق چھپانے کی بنیادی وجہ یہی ہے۔

3. انبیاء کا قتل سب سے بڑا جرم

یہودی قوم اپنے اس ظلم کی وجہ سے اللہ کے غضب کا شکار ہوئی۔

4. روح القدس — جبریل امینؑ

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ روح القدس جبریل امینؑ ہیں۔

5. امتِ محمد ﷺ کے لیے تنبیہ

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ
افسوسناک انجام خواہشات کی پیروی سے ہوتا ہے۔

---

📌 English Translation (Sahih / Clear)

“And indeed We gave Moses the Book, and followed him up with a succession of messengers. And We gave Jesus, the son of Mary, clear proofs, and strengthened him with the Holy Spirit. So is it that whenever a messenger came to you with what your souls did not desire, you acted arrogantly? Some of them you denied, and some of them you killed.”

---

📌 English Explanation

Allah reminds the Children of Israel of His great favors upon them.

They were given revelation, prophets, miracles, and guidance.

Yet they repeatedly rejected the prophets whenever their message conflicted with their desires.

This rejection even led to extreme crimes such as killing prophets.

The verse teaches that arrogance and following desires leads people away from truth.

05/06/2026

📖 سورہ بقرہ — آیت 86

Arabic:
أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ

---

🔹 لفظی ترجمہ (Word-by-Word Urdu)

أُولَئِكَ = یہی وہ لوگ ہیں

الَّذِينَ = جو

اشْتَرَوُا = خرید لیا / اختیار کر لیا

الْحَيَاةَ الدُّنْيَا = دنیا کی زندگی کو

بِالْآخِرَةِ = آخرت کے بدلے

فَلَا يُخَفَّفُ = پس نہیں ہلکا کیا جائے گا

عَنْهُمُ = ان سے

الْعَذَابُ = عذاب

وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ = اور نہ ان کی مدد کی جائے گی

---

🔹 رواں ترجمہ (Easy Urdu Translation)

یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے خرید لیا ہے، اس لیے ان سے عذاب نہ ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔

---

🔹 مکمل تفسیر (تفصیلی مدلل تفسیر)

پس منظر (Context)

یہ آیت یہودی علماء کے بارے میں ہے جو دنیاوی فائدوں، لالچ، قیادت، اور لوگوں کی خوشنودی کے لیے اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرتے تھے۔
آیت 85 میں ان کی نافرمانی بیان ہوئی:
قتل حرام سمجھتے لیکن لوگوں کو نکال دیتے، پھر چھڑانے کے لیے فدیہ دیتے۔
آیت 86 اس رویے کا نتیجہ بیان کرتی ہے۔

---

➡ تفسیری نکات

1) دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا

"اشتروا الحیاۃ الدنیا بالآخرۃ"
یعنی انہوں نے وقتی فائدہ، عہدے، مال، شہرت، اور اپنی خواہشات کو اللہ کے احکام اور آخرت کے بدلے اختیار کر لیا۔

مطلب:
جو شخص اللہ کے حکم چھوڑ کر دنیاوی مفاد لے، وہ حقیقت میں آخرت بیچ دیتا ہے۔

---

2) عذاب میں نہ کمی ہوگی، نہ مدد ملے گی

کوئی سفارش کام نہیں آئے گی

کوئی رشتہ دار نہیں بچا سکے گا

کوئی عمل اس دن فائدہ نہیں دے گا

دنیا میں جو فیصلے کیے تھے، آخرت میں ان کی حقیقت ظاہر ہوگی

---

3) یہودی علماء کی غلطی کا عمومی حکم

یہ صرف بنی اسرائیل کے لیے نہیں بلکہ ہر امت کے لیے وارننگ ہے۔
اگر کوئی مسلمان بھی
✔ دین کو بیچے
✔ حق چھپائے
✔ دنیا کو اصل مقصد بنا لے
تو انجام ایسا ہی ہو سکتا ہے۔

---

🔹 اہم فقہی و اخلاقی مسائل

1) دین فروشی کا انجام

جو شخص اپنا ایمان، سچائی، شریعت یا اسلامی اصول دنیاوی فائدے کے لیے چھوڑ دیتا ہے، اس پر سخت وعید ہے۔

2) دنیا کی محبت گمراہی کی جڑ

دنیا بذاتِ خود بری نہیں،
لیکن دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا ہلاکت ہے۔

3) آخرت میں مدد صرف ایمان و عملِ صالح سے

کوئی دنیاوی رشتہ یا دنیا کا مقام آخرت میں فائدہ نہیں دے گا۔

4) غلط کام کے بعد "ہم تو مجبور تھے" عذر قابلِ قبول نہیں

یہودی بھی مختلف بہانے بناتے تھے؛
قرآن نے واضح کیا کہ اللہ کے ہاں بہانے نہیں چلتے۔

---

🔹 English Translation (Sahih / Clear English)

"Those are the ones who have purchased the worldly life in exchange for the Hereafter. So the punishment will not be lightened for them, nor will they be helped."

---

🔹 English Explanation (Tafsir in English)

This verse describes people—specifically the disobedient scholars of Bani Israel—who preferred temporary worldly gains over eternal success in the Hereafter.
They altered divine commands for money, power, and reputation.

As a result:

Their punishment in the Hereafter will not be reduced,

They will receive no help or intercession.

The lesson is universal:
Anyone who knowingly abandons divine guidance for worldly benefits risks the same fate.

01/06/2026

سورۃ البقرہ آیات 86 تا 90
لفظی ترجمہ، اردو ترجمہ، English Translation، تفسیر اور اہم مسائل
آیت 86
عربی
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ ۖ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ
لفظی ترجمہ
عربی
اردو
أُولَٰئِكَ
یہی لوگ
اشْتَرَوُا
خرید لی
الْحَيَاةَ الدُّنْيَا
دنیا کی زندگی
بِالْآخِرَةِ
آخرت کے بدلے
فَلَا
پس نہیں
يُخَفَّفُ
ہلکا کیا جائے گا
عَنْهُمُ
ان سے
الْعَذَابُ
عذاب
وَلَا
اور نہ
هُمْ
وہ
يُنصَرُونَ
مدد دیے جائیں گے
اردو ترجمہ
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خرید لی، لہٰذا نہ ان کے عذاب میں کمی کی جائے گی اور نہ انہیں کوئی مدد پہنچے گی۔
English Translation
Those are the ones who have exchanged the Hereafter for worldly life. Their punishment will not be lightened, nor will they be helped.
تفسیر
یہود نے اللہ کے احکام کو دنیاوی مفادات کی خاطر چھوڑ دیا۔ انہوں نے عارضی دنیا کو دائمی آخرت پر ترجیح دی، جس کے نتیجے میں سخت عذاب کے مستحق بنے۔
آیت 87
عربی
وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ...
اردو ترجمہ
اور یقیناً ہم نے موسیٰؑ کو کتاب عطا کی اور ان کے بعد مسلسل رسول بھیجے، اور عیسیٰ ابن مریمؑ کو روشن نشانیاں عطا کیں اور روح القدس (جبریلؑ) سے ان کی مدد کی۔ پھر کیا جب بھی کوئی رسول تمہاری خواہشات کے خلاف حکم لے کر آیا تو تم نے تکبر کیا، بعض کو جھٹلایا اور بعض کو قتل کیا؟
English Translation
Indeed, We gave Moses the Book and followed him with messengers. We gave Jesus, son of Mary, clear signs and supported him with the Holy Spirit. Whenever a messenger came to you with what your souls did not desire, you became arrogant; some you denied and others you killed.
تفسیر
بنی اسرائیل کی تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے کئی انبیاء کو جھٹلایا اور بعض کو قتل کیا۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ حق کی دعوت دیتے تھے۔
اہم سبق
انبیاء کی مخالفت ہلاکت کا سبب بنتی ہے۔
خواہشات کو دین پر مقدم کرنا گمراہی ہے۔
آیت 88
عربی
وَقَالُوا قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَلْ لَعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيلًا مَا يُؤْمِنُونَ
لفظی ترجمہ
"اور انہوں نے کہا: ہمارے دل پردوں میں ہیں۔ بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کی، پس وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔"
تفسیر
یہود کہتے تھے کہ ہمارے دل بند ہیں اور ہمیں آپ کی بات سمجھ نہیں آتی۔ حقیقت یہ تھی کہ ان کے مسلسل کفر اور ضد کی وجہ سے ان کے دل حق قبول کرنے سے محروم ہوگئے تھے۔
اہم مسئلہ
گناہوں اور ضد کی کثرت دل پر پردہ ڈال دیتی ہے۔
آیت 89
عربی
وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَابٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ...
اردو ترجمہ
اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک ایسی کتاب آئی جو ان کی موجودہ کتاب کی تصدیق کرنے والی تھی، حالانکہ پہلے وہ کافروں پر فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے، پھر جب وہ چیز آگئی جسے وہ پہچانتے تھے تو اس کا انکار کر بیٹھے۔ پس اللہ کی لعنت کافروں پر ہے۔
English Translation
When there came to them a Book from Allah confirming what was with them, though before they used to pray for victory over the disbelievers, when there came to them what they recognized, they disbelieved in it. So the curse of Allah is upon the disbelievers.
تفسیر
یہود نبی آخر الزمان ﷺ کے آنے کے منتظر تھے، لیکن جب آپ ﷺ تشریف لائے تو حسد اور تعصب کی وجہ سے ایمان نہ لائے۔
اہم سبق
حق کو پہچان لینے کے بعد انکار کرنا بڑا جرم ہے۔
آیت 90
عربی
بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ أَنْ يَكْفُرُوا بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ...
اردو ترجمہ
بہت برا سودا ہے جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ دیا کہ اللہ کی نازل کردہ چیز کا انکار کریں، صرف اس حسد کی بنا پر کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اپنا فضل نازل فرمائے۔ پس وہ غضب پر غضب کے مستحق ہوئے، اور کافروں کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔
English Translation
How evil is that for which they sold themselves: that they disbelieve in what Allah has revealed, out of envy that Allah should send His grace upon whom He wills of His servants. Thus they incurred wrath upon wrath, and for the disbelievers is a humiliating punishment.
تفسیر
یہود کا اصل مسئلہ دلیل کی کمی نہیں بلکہ حسد تھا۔ وہ یہ برداشت نہ کر سکے کہ آخری نبی ﷺ بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل میں مبعوث ہوئے۔
اہم مسائل (Important Lessons)
1. دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا خسارے کا سودا ہے۔
2. خواہشاتِ نفس حق قبول کرنے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
3. انبیاء کی تکذیب اور مخالفت سخت گناہ ہے۔
4. حسد انسان کو حق کے انکار تک پہنچا دیتا ہے۔
5. اللہ کا فضل اسی کو ملتا ہے جسے وہ چاہتا ہے۔
6. مسلسل گناہ دلوں کو حق قبول کرنے سے محروم کر دیتے ہیں۔
7. قرآن سابقہ آسمانی کتابوں کی اصل تعلیمات کی تصدیق کرتا ہے۔
خلاصۂ آیات 86-90
ان آیات میں بنی اسرائیل کی تین بڑی بیماریوں کا ذکر ہے:
دنیا پرستی (آیت 86)
تکبر اور انبیاء کی مخالفت (آیات 87-88)
حسد اور حق کا انکار (آیات 89-90)
اللہ تعالیٰ واضح فرماتا ہے کہ جو شخص دنیا، تکبر اور حسد کی وجہ سے حق کو رد کرتا ہے، وہ اللہ کے غضب اور آخرت کے عذاب کا مستحق بنتا ہے۔

23/05/2026

سورہ بقرہ آیات 81 تا 85 پشتو لفظی ترجمہ سیکھیں

23/05/2026

سورۃ البقرہ آیات 81 تا 85
لفظی ترجمہ، مکمل تفسیر، اہم مسائل
Urdu & English
آیت 81
Arabic
بَلَىٰ مَن كَسَبَ سَيِّئَةً وَأَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ فَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
لفظی ترجمہ
بَلَىٰ = کیوں نہیں
مَن = جو شخص
كَسَبَ = کمائے
سَيِّئَةً = برائی
وَأَحَاطَتْ = اور گھیر لے
بِهِ = اسے
خَطِيئَتُهُ = اس کی خطا
فَأُولَٰئِكَ = تو یہی لوگ
أَصْحَابُ النَّارِ = آگ والے ہیں
هُمْ فِيهَا = وہ اس میں
خَالِدُونَ = ہمیشہ رہنے والے ہیں
اردو ترجمہ
کیوں نہیں! جو شخص گناہ کمائے اور اس کی خطا اسے گھیر لے تو ایسے لوگ جہنم والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
English Translation
Yes indeed! Whoever earns evil and is surrounded by his sin, they are the companions of the Fire; they will abide therein forever.
تفسیر
یہ آیت یہود کے اس غلط عقیدے کی تردید کرتی ہے کہ جہنم کی آگ انہیں صرف چند دن ہی چھوئے گی۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نجات کا معیار نسل، قوم یا دعویٰ نہیں بلکہ ایمان اور اعمال ہیں۔
"أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ"
یعنی گناہ انسان پر اس طرح غالب آجائے کہ توبہ اور ایمان باقی نہ رہے۔
ابن عباسؓ فرماتے ہیں:
اس سے مراد شرک ہے، کیونکہ شرک انسان کو مکمل طور پر گھیر لیتا ہے۔
اہم مسائل
نجات صرف دعووں سے نہیں بلکہ ایمان و عمل سے ہے۔
مسلسل گناہ انسان کو ہلاکت تک پہنچا دیتے ہیں۔
شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔
بغیر توبہ کے گناہوں پر اصرار خطرناک ہے۔
آیت 82
Arabic
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
لفظی ترجمہ
وَالَّذِينَ = اور جو لوگ
آمَنُوا = ایمان لائے
وَعَمِلُوا = اور انہوں نے کیے
الصَّالِحَاتِ = نیک اعمال
أُولَٰئِكَ = یہی لوگ
أَصْحَابُ الْجَنَّةِ = جنت والے ہیں
هُمْ فِيهَا = وہ اس میں
خَالِدُونَ = ہمیشہ رہیں گے
اردو ترجمہ
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے وہ جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
English Translation
And those who believe and do righteous deeds, they are the people of Paradise; they will abide therein forever.
تفسیر
قرآن کا اصول ہے:
ایمان + نیک اعمال = کامیابی
کفر + گناہوں پر اصرار = ناکامی
صرف زبانی ایمان کافی نہیں بلکہ عمل بھی ضروری ہے۔
اہم مسائل
ایمان کے ساتھ عمل صالح ضروری ہے۔
جنت ہمیشہ کے لیے ہے۔
اللہ کا فیصلہ عدل پر مبنی ہے۔
آیت 83
Arabic
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِنكُمْ وَأَنتُم مُّعْرِضُونَ
لفظی ترجمہ
مِيثَاقَ = پختہ عہد
لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ = اللہ کے سوا عبادت نہ کرو
بِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا = والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو
الْيَتَامَىٰ = یتیم
الْمَسَاكِينِ = مسکین
قُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا = لوگوں سے اچھی بات کہو
أَقِيمُوا الصَّلَاةَ = نماز قائم کرو
آتُوا الزَّكَاةَ = زکوٰۃ دو
تَوَلَّيْتُمْ = تم پھر گئے
اردو ترجمہ
اور یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، والدین، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو، لوگوں سے اچھی بات کہو، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو، پھر تم میں سے تھوڑوں کے سوا سب پھر گئے۔
English Translation
And remember when We took a covenant from the Children of Israel: Worship none but Allah; be good to parents, relatives, orphans, and the needy; speak kindly to people; establish prayer and give zakah. Then you turned away, except a few of you.
تفسیر
یہ آیت دین کے بنیادی اصول بیان کرتی ہے:
توحید
والدین سے حسن سلوک
معاشرتی حقوق
اچھا اخلاق
نماز و زکوٰۃ
بنی اسرائیل نے ان احکام کا عہد کرنے کے باوجود نافرمانی کی۔
اہم مسائل
توحید سب سے پہلی ذمہ داری ہے۔
والدین کے حقوق بہت اہم ہیں۔
اسلام حسنِ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔
نماز اور زکوٰۃ دین کے بنیادی ارکان ہیں۔
آیت 84
Arabic
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُونَ دِمَاءَكُمْ وَلَا تُخْرِجُونَ أَنفُسَكُم مِّن دِيَارِكُمْ ثُمَّ أَقْرَرْتُمْ وَأَنتُمْ تَشْهَدُونَ
لفظی ترجمہ
لَا تَسْفِكُونَ = نہ بہاؤ
دِمَاءَكُمْ = اپنا خون
لَا تُخْرِجُونَ = نہ نکالو
أَنفُسَكُم = اپنے لوگوں کو
دِيَارِكُمْ = اپنے گھروں سے
أَقْرَرْتُمْ = تم نے اقرار کیا
اردو ترجمہ
اور یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ آپس میں خونریزی نہ کرو گے اور نہ اپنے لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالو گے، پھر تم نے اقرار کیا اور تم خود گواہ تھے۔
English Translation
And remember when We took your covenant: Do not shed each other’s blood nor expel your own people from their homes. Then you acknowledged it while bearing witness.
تفسیر
یہود کو حکم دیا گیا تھا:
آپس میں قتل نہ کریں
ظلم و جلاوطنی نہ کریں
لیکن انہوں نے دنیاوی مفادات کی خاطر ایک دوسرے کے خلاف جنگیں کیں۔
اہم مسائل
مسلمان کا خون محترم ہے۔
ظلم اور جلاوطنی بڑا جرم ہے۔
عہد پورا کرنا ضروری ہے۔
آیت 85
Arabic
ثُمَّ أَنتُمْ هَٰؤُلَاءِ تَقْتُلُونَ أَنفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقًا مِّنكُم مِّن دِيَارِهِمْ تَظَاهَرُونَ عَلَيْهِم بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَإِن يَأْتُوكُمْ أُسَارَىٰ تُفَادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ ۚ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ۚ فَمَا جَزَاءُ مَن يَفْعَلُ ذَٰلِكَ مِنكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَىٰ أَشَدِّ الْعَذَابِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
اردو ترجمہ
پھر تم وہی ہو کہ اپنے لوگوں کو قتل کرتے ہو اور اپنے ایک گروہ کو ان کے گھروں سے نکال دیتے ہو، ان کے خلاف گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہو، اور اگر وہ قیدی ہو کر تمہارے پاس آئیں تو فدیہ دے کر چھڑا لیتے ہو، حالانکہ انہیں نکالنا ہی تم پر حرام تھا۔ کیا تم کتاب کے بعض حصوں پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو؟ پھر تم میں سے جو ایسا کرے اس کی سزا دنیا میں رسوائی اور قیامت کے دن سخت عذاب ہے۔
English Translation
Then here you are, killing one another and expelling a group of your own people from their homes, supporting each other against them in sin and aggression. Yet if they came to you as captives, you would ransom them, although their expulsion was forbidden to you. Do you believe in part of the Scripture and reject the rest? The recompense of those who do so is disgrace in worldly life and severe punishment on the Day of Resurrection.
تفسیر
یہود مدینہ مختلف قبائل میں بٹے ہوئے تھے۔
وہ جنگوں میں ایک دوسرے کو قتل بھی کرتے اور جلاوطن بھی کرتے، لیکن تورات کے حکم کے مطابق قیدیوں کو فدیہ دے کر چھڑا لیتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دوہرے معیار کو سختی سے رد کیا:
دین کے بعض احکام ماننا اور بعض چھوڑ دینا سخت جرم ہے۔
اہم مسائل
دین کو مکمل طور پر ماننا ضروری ہے۔
دوہرا معیار اللہ کو پسند نہیں۔
ظلم میں تعاون حرام ہے۔
دنیا و آخرت میں رسوائی نافرمانی کا انجام ہے۔
قرآن مکمل اطاعت کا حکم دیتا ہے۔
خلاصۂ آیات 81 تا 85
نجات ایمان اور عمل صالح سے ہے۔
گناہوں پر اصرار ہلاکت کا سبب ہے۔
توحید، نماز، زکوٰۃ اور حسنِ اخلاق دین کی بنیاد ہیں۔
مسلمانوں کے خون اور حقوق کی حفاظت ضروری ہے۔
دین کے بعض حصوں کو ماننا اور بعض کو چھوڑنا خطرناک رویہ ہے۔

17/05/2026

*سورہ بقرہ، آیت 85*

*آیت کا متن*
ثُمَّ أَنتُمْ هَـٰؤُلاء تَقْتُلُونَ أَنفُسَكُمْ وَتُخْرِجُونَ فَرِيقًا مِّنكُم مِّن دِيَارِهِمْ تَظَاهَرُونَ عَلَيْهِم بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَإِن يَأْتُوكُمْ أُسَارَىٰ تُفَادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ إِخْرَاجُهُمْ ۚ أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ ۚ فَمَا جَزَاء مَن يَفْعَلُ ذَٰلِكَ مِنكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَىٰ أَشَدِّ الْعَذَابِ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ

*لفظی ترجمہ (اردو)*
- *ثُمَّ* پھر
- *أَنتُمْ* تم
- *هَـٰؤُلاء* یہ (خود)
- *تَقْتُلُونَ* قتل کرتے ہو
- *أَنفُسَكُمْ* اپنی جانوں کو (ایک دوسرے کو)
- *وَتُخْرِجُونَ* اور نکالتے ہو
- *فَرِيقًا مِّنكُم* ایک گروہ کو تم میں سے
- *مِّن دِيَارِهِمْ* ان کے گھروں سے
- *تَظَاهَرُونَ* مدد کرتے ہو (ایک دوسرے کی)
- *عَلَيْهِم* ان پر
- *بِالْإِثْمِ* گناہ کے ساتھ
- *وَالْعُدْوَانِ* اور زیادتی کے ساتھ
- *وَإِن* اور اگر
- *يَأْتُوكُمْ* وہ آئیں تمہارے پاس
- *أُسَارَىٰ* قیدی بن کر
- *تُفَادُوهُمْ* تم ان کو فدیہ دو (چھڑاؤ)
- *وَهُوَ* حالانکہ وہ
- *مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ* تم پر حرام ہے
- *إِخْرَاجُهُمْ* ان کو نکالنا
- *أَفَتُؤْمِنُونَ* تو کیا تم ایمان لاتے ہو
- *بِبَعْضِ الْكِتَابِ* کتاب کے بعض پر
- *وَتَكْفُرُونَ* اور کفر کرتے ہو
- *بِبَعْضٍ* بعض سے
- *فَمَا جَزَاء* تو کیا بدلہ ہے
- *مَن يَفْعَلُ* جو کرتا ہے
- *ذَٰلِكَ* یہ
- *مِنكُمْ* تم میں سے
- *إِلَّا خِزْيٌ* سوائے رسوائی کے
- *فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا* دنیا کی زندگی میں
- *وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ* اور قیامت کے دن
- *يُرَدُّونَ* وہ لوٹائے جائیں گے
- *إِلَىٰ أَشَدِّ الْعَذَابِ* سخت ترین عذاب کی طرف
- *وَمَا اللَّهُ* اور اللہ
- *بِغَافِلٍ* غافل نہیں
- *عَمَّا تَعْمَلُونَ* جو تم کرتے ہو

*خلاصہ ترجمہ (اردو)*
*پھر تم وہی ہو جو ایک دوسرے کو قتل کرتے ہو اور اپنے میں سے ایک گروہ کو ان کے گھروں سے نکالتے ہو، اور ان پر گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہو، اور اگر وہ قیدی بن کر تمہارے پاس آئیں تو تم فدیہ دے کر ان کو چھڑاتے ہو، حالانکہ ان کو نکالنا ہی تم پر حرام کیا گیا تھا۔ تو کیا تم کتاب کے بعض پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو؟ پس جو کوئی تم میں سے ایسا کرے اس کا بدلہ دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن وہ سخت ترین عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے، اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں۔*

*تفسیر کے اہم نکات*
1. *بنی اسرائیل کی نفاق کی روش*: یہ آیت بنی اسرائیل کے نفاق کو بیان کرتی ہے کہ وہ بعض احکام پر عمل کرتے اور بعض کو رد کرتے ہیں۔
2. *قتل و جلاوطنی*: ایک دوسرے کو قتل کرنا، گھروں سے نکالنا اور گناہ میں تعاون کرنا۔
3. *فدیہ دینا*: قیدیوں کو چھڑانا درست لیکن اگر ابتداء میں ہی ظلم و زیادتی کی تو یہ منافقت ہے۔
4. *کتاب کے بعض پر ایمان اور بعض سے انکار*: دین میں تقسیم اور انتخاب کرنا جائز نہیں۔
5. *عذاب دنیا و آخرت*: دنیا میں رسوائی اور آخرت میں سخت عذاب کی وعید۔

*اہم مسائل*
- *ایمان میں تسلسل*: دین کے تمام احکام پر ایمان لانا ضروری ہے، کسی ایک کو چھوڑنا کفر ہے۔
- *ظلم و زیادتی کی ممانعت*: انسانی حقوق کی پامالی اور قتل و غارت اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔
- *منافقت کی مذمت*: قول و فعل میں تضاد سے بچنا لازم ہے۔

*انگلش ترجمہ (تقریبا)*
*Then, you are those who kill one another and expel a group of you from their homes, supporting one another against them in sin and aggression. And if they come to you as captives, you ransom them, while their expulsion itself was forbidden to you. Do you believe in part of the Book and disbelieve in part? So what is the recompense for those who do that among you except disgrace in worldly life, and on the Day of Resurrection they will be returned to the severest punishment. And Allah is not unaware of what you do.*

17/05/2026

📖 سورۃ البقرہ — آیت 84

🔹 عربی متن

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُونَ دِمَاءَكُمْ وَلَا تُخْرِجُونَ أَنْفُسَكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ ثُمَّ أَقْرَرْتُمْ وَأَنْتُمْ تَشْهَدُونَ

---

🔸 لفظی ترجمہ (Word-by-Word Translation)

عربی لفظ لفظی معنی

وَإِذْ اور جب
أَخَذْنَا ہم نے لیا / ہم نے لیا تھا
مِيثَاقَكُمْ تم سے عہد
لَا نہیں
تَسْفِكُونَ تم بہاؤ گے / تم خون بہاؤ گے
دِمَاءَكُمْ تمہارے خون
وَلَا اور نہ
تُخْرِجُونَ تم نکالو گے / تم بے دخل کرو گے
أَنْفُسَكُمْ اپنے آپ کو / اپنے لوگوں کو
مِنْ سے
دِيَارِكُمْ تمہارے گھروں، بستیوں سے
ثُمَّ پھر
أَقْرَرْتُمْ تم نے اقرار کیا
وَأَنْتُمْ اور تم
تَشْهَدُونَ گواہ ہو

---

🔸 رواں ترجمہ (Easy Translation)

"اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا کہ تم آپس میں خون نہ بہاؤ گے اور نہ اپنے لوگوں کو گھروں سے نکالو گے۔ پھر تم نے اقرار بھی کیا اور تم خود اس پر گواہ بھی تھے۔"

---

🔵 انگلش ترجمہ (English Translation)

"And when We took your covenant: that you shall not shed your own blood, nor expel your own people from your homes. Then you affirmed it, and you yourselves bore witness."

---

📚 مکمل تفسیر (Detailed Tafseer)

سببِ نزول

یہ آیت یہودی قبائل (بنو نضیر، بنو قریظہ، بنو قینقاع) کے بارے میں نازل ہوئی۔
ان سے اللہ نے تورات میں عہد لیا تھا کہ:

1. آپس میں لڑائیاں نہیں کرو گے

2. ایک دوسرے کو قتل نہیں کرو گے

3. ایک دوسرے کو گھروں سے نہیں نکالو گے

لیکن واقعہ یہ ہوا کہ:

بنی اسرائیل مدینہ میں دو بڑے عرب قبائل اوس اور خزرج کی باہمی جنگوں میں شامل ہو گئے،

یہودی قبائل بھی اپنے اپنے مفاد کے مطابق ان میں شامل ہو کر ایک دوسرے کو قتل بھی کرتے تھے اور جلا وطن بھی کرتے تھے

اگر قیدی بنتے تو فدیہ بھی دیتے تھے اور کہتے "یہ ہمارا دینی فریضہ ہے"

لیکن قتل اور بے دخلی کو روکنے والے احکام کو نظرانداز کر دیتے تھے۔

اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں:

"تم نے خود اقرار کیا تھا کہ ایسا نہیں کرو گے، پھر بھی کرتے رہے!"

---

🔍 اہم نکاتِ تفسیر

1️⃣ اللہ کے عہد کو توڑنا سخت جرم ہے

توریت میں یہ حکم تھا مگر انہوں نے دنیاوی مفادات کی خاطر اللہ کے احکام چھوڑ دیے۔

2️⃣ قوم میں ظلم، قتل و غارت اور جلا وطنی اللہ کے غضب کا سبب بنتی ہے

3️⃣ مذہبی احکام کو حسبِ منافع اپنانا غلط ہے

یعنی جو فائدے کا حکم ہو، اس پر عمل کر لیا
اور جو اپنے مفاد کے خلاف ہو، اسے چھوڑ دیا۔

---

⚖ اہم فقہی و شرعی مسائل (Fiqhi Issues)

1️⃣ مسلمانوں پر بھی آپس میں قتل و قتال حرام ہے

آیت میں اصول بیان ہوا ہے:

مسلمان مسلمان کا خون نہیں بہائے گا

اس کی عزت، مال اور گھر محفوظ ہوں گے

حدیث:
"المسلم أخو المسلم"
(مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے)

2️⃣ کسی بے گناہ کو گھر سے نکال دینا ظلمِ عظیم ہے

یہ حکم آج بھی نافذ ہے:

زبردستی بے دخل کرنا

کسی کو زمین چھوڑنے پر مجبور کرنا

جائیداد چھین لینا
شرعاً سخت حرام ہے۔

3️⃣ جہالت یا جذبات میں کیا گیا ظلم بھی گناہ ہے

عہد، وعدہ یا قانون توڑنا اللہ کے ہاں قابل گرفت ہے۔

4️⃣ ریاست پر ذمہ داری

ریاست کا فرض ہے کہ:

قتل و غارت روکے

ظلم کے خلاف کھڑی ہو

لوگوں کے گھروں اور جان و مال کی حفاظت کرے

5️⃣ دین میں دوہرا معیار ممنوع

کسی حکم کو اختیار کرنا اور کسی کو چھوڑ دینا، جب کہ دونوں اللہ کے حکم ہوں، بڑا گناہ ہے۔

---

🔵 Englisḥ — Fiqh Points

1. Shedding the blood of fellow believers is strictly prohibited.

2. Forcing people out of their homes is a major sin.

3. Selective obedience to divine law is unacceptable.

4. Breaking covenants is a punishable offence in the sight of Allah.

5. The state must protect life, property, and honor.

16/05/2026

سورہ بقرہ — آیت 83

📌 آیتِ کریمہ (عربی)

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مُعْرِضُونَ

---

📌 لفظی ترجمہ

وَإِذْ = اور یاد کرو جب

أَخَذْنَا = ہم نے لیا

مِيثَاقَ = عہد

بَنِي إِسْرَائِيلَ = بنی اسرائیل سے

لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ = نہ عبادت کرو گے مگر اللہ کی

وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا = اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک

وَذِي الْقُرْبَىٰ = اور قرابت داروں کے ساتھ

وَالْيَتَامَىٰ = اور یتیموں کے ساتھ

وَالْمَسَاكِينِ = اور مسکینوں کے ساتھ

وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا = اور لوگوں سے اچھی بات کہو

وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ = اور نماز قائم کرو

وَآتُوا الزَّكَاةَ = اور زکوٰۃ ادا کرو

ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ = پھر تم منہ موڑ گئے

إِلَّا قَلِيلًا = چند لوگوں کے سوا

مِنْكُمْ = تم میں سے

وَأَنْتُمْ مُعْرِضُونَ = اور تم اعراض کرنے والے (غافل) تھے

---

📌 آسان اردو ترجمہ

"اور یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ وعدہ لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا، والدین کے ساتھ بھلائی کرنا، قرابت داروں، یتیموں اور مسکینوں سے حسن سلوک کرنا، اور لوگوں سے اچھی بات کہنا، اور نماز قائم کرنا، اور زکوٰۃ ادا کرنا۔ پھر تم میں سے چند کے سوا سب نے روگردانی کی اور تم تو (عام طور پر) موڑنے والے ہی تھے۔"

---

📌 مکمل تفسیر (جامع، آسان اور مدلل)

یہ آیت بنی اسرائیل کے ساتھ اللہ کے عظیم عہد کو یاد دلاتی ہے — وہ عہد جسے انہوں نے مسلسل توڑا۔

یہ عہد سات بنیادی احکام پر مشتمل تھا:

---

1️⃣ صرف اللہ کی عبادت

توحید کا حکم

کسی کو شریک نہ بنانا

انبیاء کو معبود نہ سمجھنا

اللہ کے مقابلے میں کوئی نفع/نقصان کا مالک نہ ماننا

➤ بنیادی ایمان کی بنیاد: توحید

---

2️⃣ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک

احترام

خدمت

سخت لہجہ نہ بولنا

والدین کی دعا لینا

➤ احسان، صرف نرمی نہیں بلکہ بہترین سلوک ہے۔

---

3️⃣ قرابت داروں کے ساتھ بھلائی

رشتوں کی نگہداشت

صلہ رحمی

ضرورت پوری کرنا

لڑائی جھگڑا ختم کرنا

➤ قطع رحمی کبیرہ گناہ ہے۔

---

4️⃣ یتیموں کی مدد

ان کے مال کی حفاظت

نرمی سے پیش آنا

ان کی کفالت کرنا

---

5️⃣ مسکینوں کا خیال

کھانا کھلانا

مدد کرنا

مالی تعاون

---

6️⃣ لوگوں سے اچھی بات کہنا

نرم گفتگو

اخلاق

جھوٹ، چغلی، غیبت سے بچنا

حسنِ اخلاق مومن کا سب سے بڑا زیور

➤ نبی ﷺ نے فرمایا:

"تم میں سے سب سے بہتر وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو۔"

---

7️⃣ نماز قائم کرنا

باجماعت

وقت پر

خشوع کے ساتھ

نماز دین کا ستون

---

8️⃣ زکوٰۃ ادا کرنا

مال کی پاکیزگی

غریبوں کا حق

مال میں برکت

---

➡ اس کے بعد کیا ہوا؟

ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا
"پھر تم میں سے تھوڑوں کے سوا سب نے منہ موڑ لیا۔"

یعنی: ✔ اکثریت فرمانبردار نہ رہی
✔ احکام کو چھوڑ دیا
✔ اللہ کی نافرمانی کی عادت بن گئی

---

📌 اہم فقہی مسائل

1️⃣ توحید سب سے پہلی ذمہ داری

کسی بھی امت کے لیے سب سے پہلا حکم ہمیشہ توحید ہے۔

2️⃣ والدین کا حق — عظیم ترین حقوق میں سے

والدین کی نافرمانی کبیرہ گناہ ہے۔

3️⃣ رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک فرض

صلہ رحمی واجب

قطع رحمی حرام

صدقہ سب سے پہلے رشتے داروں پر

4️⃣ یتیم اور مسکین کی مدد فرضِ کفایہ

اگر معاشرے میں کوئی بھی ان کی مدد نہ کرے تو سب گناہگار۔

5️⃣ حسنِ کلام — زبان کے آداب

ہر انسان کے ساتھ:

نرمی

نیکی

اخلاق

یہی اسلامی معاشرے کی روح ہے۔

6️⃣ نماز اور زکوٰۃ ہمیشہ ساتھ ذکر ہوتی ہیں

یہ دین کے بنیادی ستون ہیں۔

7️⃣ بے عملی امتوں کی ہلاکت کا سبب بنتی ہے

بنی اسرائیل کی مثال بار بار سامنے لائی گئی تاکہ مسلمانوں کو عبرت ملے۔

---

📌 English Translation

"And (remember) when We took a covenant from the Children of Israel: that you shall worship none but Allah; and show kindness to parents, relatives, orphans, and the needy; and speak kindly to people; and establish prayer; and give zakah. Then you turned away—except a few of you—and you are (still) refusing."

---

📌 English Tafsir (Concise)

This verse recalls the covenant Allah made with the Children of Israel, consisting of major moral and religious duties:

Worship only Allah

Honor parents

Uphold ties of kinship

Care for orphans and the poor

Speak kindly

Establish prayer

Give zakah

Despite this clear covenant, most of them turned away. The verse teaches Muslims: do not repeat their mistakes.

16/05/2026

سورہ بقرہ — آیت 82

📌 آیت (عربی)

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ

---

📌 لفظی ترجمہ

وَالَّذِينَ = اور وہ لوگ جو

آمَنُوا = ایمان لائے

وَعَمِلُوا = اور عمل کیے

الصَّالِحَاتِ = نیک اعمال

أُولَٰئِكَ = یہی لوگ

أَصْحَابُ الْجَنَّةِ = جنت والے ہیں

هُمْ = وہ

فِيهَا = اس میں

خَالِدُونَ = ہمیشہ رہنے والے

---

📌 آسان اردو ترجمہ

"اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، وہی جنت والے ہیں؛ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔"

---

📌 مکمل تفسیر (جامع، آسان اور مدلل)

یہ آیت پچھلی آیت (81) کا مکمل برعکس پیغام ہے۔ وہاں ان لوگوں کا ذکر تھا:

جو گناہوں میں ڈوب جائیں

جن کے گناہ اُنہیں گھیر لیں

جو ایمان سے محروم ہو جائیں
→ وہ جہنم کے مستحق ہیں

اور اب دوسری طرف:

1️⃣ جنت کے مستحق کون؟

اللہ نے دو شرطیں بیان کیں:

(أ) ایمان

اللہ پر ایمان

رسولوں پر ایمان

آخرت پر ایمان

کتابوں پر ایمان

فرشتوں پر ایمان

تقدیر پر ایمان

یہ بنیادی شرط ہے۔ ایمان کے بغیر عمل فائدہ نہیں دیتا۔

(ب) نیک اعمال

نماز

روزہ

صدقہ

حسنِ اخلاق

والدین کے ساتھ بھلائی

حلال کمائی

ظلم سے بچنا

زبان کی حفاظت
وغیرہ

اللہ نے صرف ایمان نہیں کہا،
اور صرف اعمال نہیں کہا،
بلکہ دونوں شرطیں اکٹھی رکھی ہیں۔

2️⃣ نجات کا راستہ آسان بنایا گیا

اس آیت میں مفسرین لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کی راہ بےحد آسان کر دی:

ایمان

نیک عمل

نہ قومیت شرط ہے
نہ نسل
نہ طبقہ
نہ زبان
نہ رنگ
نہ قبیلہ

جو عمل کرے گا، وہ پائے گا۔

3️⃣ "ہمیشہ رہنا"— کیوں؟

مومن جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا

جنت سے کبھی نہیں نکالا جائے گا

کبھی موت نہیں آئے گی

نہ بڑھاپا

نہ بیماری

نہ دکھ

یہ عقیدہ اہل سنت والجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے۔

4️⃣ اس آیت میں اللہ کا فضل

اللہ صرف اعمال کا نہیں دیکھتا، بلکہ ایمان + نیت + کوشش دیکھتا ہے۔

---

📌 اہم فقہی مسائل

1️⃣ ایمان کے بغیر کوئی عمل قابلِ قبول نہیں

اگر کوئی شخص:

صدقہ دے

نماز پڑھے

روزہ رکھے
لیکن ایمان نہ ہو → عمل قبول نہیں۔

2️⃣ صرف زبان کا ایمان کافی نہیں

وہ ایمان معتبر ہے جو:

دل سے ہو

زبان سے ہو

عمل سے اس کی گواہی ملے

3️⃣ اعمالِ صالحہ میں عبادات بھی شامل اور اخلاقیات بھی

اچھے اخلاق بھی "عمل صالح" ہیں

جھوٹ نہ بولنا، کسی کو تکلیف نہ دینا بھی نیکی ہے

4️⃣ مومن خطا کرے تو جنت سے محروم نہیں ہوتا

مومن گناہ کرے تو سزا ہو سکتی ہے

لیکن ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا

آخرکار جنت اس کا ٹھکانہ ہے

5️⃣ جنت اللہ کا فضل ہے، صرف عمل سے نہیں مل سکتی

عمل وجہ بنتا ہے
اصل میں دخولِ جنت اللہ کی رحمت سے ہوگا۔

---

📌 English Translation

"But those who believe and do righteous deeds — they are the people of Paradise; they will remain in it forever."

---

📌 English Tafsir (Concise)

This verse presents the opposite scenario to verse 81.

Belief + righteous deeds = true path to Paradise.

Faith without actions is incomplete.

Actions without faith are worthless.

Eternal Paradise is promised to believers whose deeds align with their faith.

The verse highlights Allah’s mercy: salvation is open to all, regardless of race or lineage.

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Noor-e-Quran posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share