Noor-e-Quran

Noor-e-Quran Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Noor-e-Quran, Religious Center, Peshawar.

قرآن کی روشنی کو عام لوگوں تک پہنچانے کی ایک چھوٹی سی کوشش۔
لفظی ترجمہ، تفسیر، احادیث، اسلامی رہنمائی
پشتو، اردو اور انگلش زبان میں
https://youtube.com/-j9q?si=Jj0-kWT8k9W09kCQ

06/07/2026

📖 سورۂ بقرہ | آیت 93

🕋 عربی متن

وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَيْنَاكُم بِقُوَّةٍ وَاسْمَعُوا ۖ قَالُوا سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَأُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ ۚ قُلْ بِئْسَمَا يَأْمُرُكُم بِهِ إِيمَانُكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

---

📝 لفظی ترجمہ (Urdu Word by Word)

وَإِذْ = اور جب
أَخَذْنَا = ہم نے لیا
مِيثَاقَكُمْ = تم سے پختہ عہد
وَرَفَعْنَا = اور ہم نے بلند کیا
فَوْقَكُمُ = تمہارے اوپر
الطُّورَ = طور پہاڑ
خُذُوا = مضبوطی سے پکڑو
مَا آتَيْنَاكُم = جو ہم نے تمہیں دیا
بِقُوَّةٍ = پوری قوت کے ساتھ
وَاسْمَعُوا = اور سنو
قَالُوا = انہوں نے کہا
سَمِعْنَا = ہم نے سنا
وَعَصَيْنَا = اور نافرمانی کی
وَأُشْرِبُوا = پلا دی گئی / رچا دی گئی
فِي قُلُوبِهِمُ = ان کے دلوں میں
الْعِجْلَ = بچھڑے (کی محبت)
بِكُفْرِهِمْ = ان کے کفر کی وجہ سے
قُلْ = کہہ دیجئے
بِئْسَمَا = بہت ہی برا ہے وہ
يَأْمُرُكُم = جو حکم دیتا ہے تمہیں
بِهِ = اس کا
إِيمَانُكُمْ = تمہارا ایمان
إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ = اگر تم واقعی مومن ہو

---

📘 بامحاورہ ترجمہ (Urdu)

اور (یاد کرو) جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا اور تمہارے اوپر طور پہاڑ بلند کر دیا (اور کہا) کہ جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے تھام لو اور سنو۔
انہوں نے کہا: ہم نے سنا اور نافرمانی کی، اور ان کے دلوں میں ان کے کفر کی وجہ سے بچھڑے کی محبت رچا دی گئی۔
کہہ دیجئے: اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تمہیں بہت ہی برے حکم دیتا ہے۔

---

🌍 English Translation

And (remember) when We took your covenant and raised over you the Mount, saying, “Hold firmly to what We have given you and listen.”
They said, “We hear and we disobey,” and their hearts absorbed the love of the calf because of their disbelief.
Say, “How evil is that which your faith commands you, if you are indeed believers.”

---

📚 مکمل تفسیر (مختصر مگر جامع)

یہ آیت بنی اسرائیل کی نافرمانی اور دو عملی کو بیان کرتی ہے:

اللہ تعالیٰ نے ان سے تورات پر عمل کا پختہ عہد لیا

طور پہاڑ کو ان پر بلند کر کے اللہ کی طاقت کا مظاہرہ کیا

زبان سے اطاعت کا دعویٰ کیا لیکن عمل میں نافرمانی

بچھڑے (گائے) کی محبت ان کے دلوں میں اس قدر رچ بس گئی کہ وہ شرک میں مبتلا ہو گئے

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر یہ ایمان ہے تو ایسا ایمان انتہائی برا ہے

یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ حقیقی ایمان صرف دعویٰ نہیں بلکہ اطاعت کا نام ہے۔

---

⚖️ اہم مسائل و نکات

1️⃣ ایمان قول + عمل کا نام ہے

صرف "ہم نے سنا" کہنا کافی نہیں، عمل ضروری ہے

2️⃣ دل کی بیماری سب سے خطرناک ہے

جب دل میں غیر اللہ کی محبت بیٹھ جائے تو حق قبول نہیں ہوتا

3️⃣ نافرمانی ایمان کو کھوکھلا کر دیتی ہے

زبان پر ایمان، عمل میں نافرمانی = منافقت

4️⃣ زبردستی کا ایمان قابل قبول نہیں

اللہ نے طاقت دکھائی، مگر دل نہ بدلے تو فائدہ نہیں

5️⃣ آج کے مسلمانوں کے لیے سبق

ہم بھی قرآن مانتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے — یہ آیت ہمیں جھنجھوڑتی ہے

01/07/2026

📖 سورۃ البقرہ | آیت نمبر 92

🔹 عربی متن:

وَلَقَدْ جَاءَكُم مُّوسَىٰ بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِن بَعْدِهِ وَأَنتُمْ ظَالِمُونَ

---

🔹 لفظی ترجمہ (Urdu – Word by Word)

وَلَقَدْ = اور یقیناً
جَاءَكُم = تمہارے پاس آئے
مُّوسَىٰ = موسیٰ (علیہ السلام)
بِالْبَيِّنَاتِ = کھلی نشانیاں لے کر
ثُمَّ = پھر
اتَّخَذْتُمُ = تم نے بنا لیا
الْعِجْلَ = بچھڑے کو
مِن بَعْدِهِ = اس کے بعد
وَأَنتُمْ = حالانکہ تم
ظَالِمُونَ = ظلم کرنے والے تھے

🔹 سادہ ترجمہ:

اور یقیناً تمہارے پاس موسیٰ (علیہ السلام) واضح معجزات لے کر آئے، پھر اس کے بعد تم نے بچھڑے کو معبود بنا لیا، حالانکہ تم ظالم تھے۔

---

🔹 Simple English Translation

And indeed, Moses came to you with clear proofs, then after him you took the calf for worship, and you were wrongdoers.

---

📚 مکمل تفسیر (Urdu Tafseer)

اس آیت میں بنی اسرائیل کی سنگین نافرمانی کا ذکر کیا گیا ہے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام انہیں واضح معجزات دے کر آئے تھے، جیسے:

🔸 عصا کا سانپ بن جانا
🔸 سمندر کا پھٹ جانا
🔸 فرعون سے نجات

اس سب کے باوجود، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کوہِ طور جانے کے بعد، بنی اسرائیل نے سامری کے بہکاوے میں آ کر سونے کے بچھڑے کو معبود بنا لیا۔

یہ عمل:

❌ شرک تھا
❌ نبی کی نافرمانی تھی
❌ اللہ کی نعمتوں کی ناقدری تھی

اسی لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں ظالم قرار دیا۔

---

⚖️ اہم عقیدتی و عملی مسائل

1️⃣ معجزات دیکھ لینے کے بعد بھی گمراہی ممکن ہے
2️⃣ شرک سب سے بڑا ظلم ہے
3️⃣ نبی کی غیر موجودگی میں بھی دین پر ثابت قدم رہنا ضروری ہے
4️⃣ بہکانے والے ہمیشہ ہر دور میں موجود رہتے ہیں
5️⃣ نعمتوں کی ناشکری انسان کو ہلاکت میں ڈال دیتی ہے

---

🧠 اصلاحی اسباق (Lessons)

✔ عقیدۂ توحید پر مضبوطی
✔ اندھی تقلید سے بچنا
✔ وقتی فتنوں سے ہوشیار رہنا
✔ نبیوں کی تعلیمات پر عمل کرنا
✔ آزمائش میں صبر و وفاداری

#

29/06/2026

📖 سورۃ البقرہ – آیت 91

🔹 عربی متن

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُونَ بِمَا وَرَاءَهُ وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَهُمْ ۗ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ أَنْبِيَاءَ اللَّهِ مِنْ قَبْلُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ

---

🔹 لفظی ترجمہ (Urdu – Word by Word)

وَإِذَا = اور جب

قِيلَ لَهُمْ = ان سے کہا جاتا ہے

آمِنُوا = ایمان لاؤ

بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ = اس پر جو اللہ نے نازل کیا

قَالُوا = وہ کہتے ہیں

نُؤْمِنُ = ہم ایمان لاتے ہیں

بِمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا = اس پر جو ہم پر نازل کیا گیا

وَيَكْفُرُونَ = اور وہ انکار کرتے ہیں

بِمَا وَرَاءَهُ = اس کے سوا

وَهُوَ الْحَقُّ = حالانکہ وہ (قرآن) حق ہے

مُصَدِّقًا لِمَا مَعَهُمْ = ان کی کتابوں کی تصدیق کرنے والا

قُلْ = آپ کہہ دیجیے

فَلِمَ تَقْتُلُونَ = پھر تم کیوں قتل کرتے تھے

أَنْبِيَاءَ اللَّهِ = اللہ کے نبیوں کو

مِنْ قَبْلُ = اس سے پہلے

إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ = اگر تم مومن تھے

🟢 بامحاورہ اردو ترجمہ

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب پر ایمان لاؤ تو کہتے ہیں: ہم تو صرف اسی پر ایمان لاتے ہیں جو ہم پر نازل ہوئی، اور اس کے سوا سب کا انکار کرتے ہیں، حالانکہ وہ (قرآن) حق ہے اور ان کے پاس موجود کتاب کی تصدیق کرنے والا ہے۔ آپ کہہ دیجیے: اگر تم واقعی مومن تھے تو اس سے پہلے اللہ کے نبیوں کو کیوں قتل کرتے رہے؟

---

🔹 English Translation

And when it is said to them, “Believe in what Allah has revealed,” they say, “We believe only in what was revealed to us,” and they disbelieve in what came after it, though it is the truth confirming what is with them. Say, “Then why did you kill the prophets of Allah before, if you were believers?”

---

📚 مکمل تفسیر (Urdu Tafseer)

یہ آیت یہودیوں کی ہٹ دھرمی اور تعصب کو واضح کرتی ہے۔
وہ دعویٰ کرتے تھے کہ ہم تورات پر ایمان رکھتے ہیں، مگر قرآن اور نبی ﷺ کو ماننے سے انکار کرتے تھے، حالانکہ قرآن خود تورات کی تصدیق کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ان کے اس جھوٹے دعوے کو بے نقاب فرماتے ہیں کہ اگر واقعی تم مومن ہوتے تو:

اپنے نبیوں کی نافرمانی نہ کرتے

انہیں قتل نہ کرتے

حق بات کو قبول کرنے میں تعصب کا مظاہرہ نہ کرتے

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ:

> ایمان جزوی نہیں بلکہ مکمل اطاعت کا نام ہے۔

---

📘 English Tafseer (Brief Explanation)

This verse exposes the selective belief of the Jews.
They claimed faith in the Torah but rejected the Qur’an, despite the Qur’an confirming their own scripture.

Allah challenges their claim by reminding them of their history of rejecting and killing prophets, proving that their faith was not sincere.

True belief requires accepting all revelations from Allah, not choosing according to desire.

---

⚖️ اہم عقیدتی و فقہی مسائل (Key Lessons)

🔹 اردو میں

1. ایمان جزوی قبولیت کا نام نہیں

2. تعصب انسان کو حق سے دور کر دیتا ہے

3. تمام انبیاء اور کتابوں پر ایمان ضروری ہے

4. نبی ﷺ کا انکار دراصل اللہ کا انکار ہے

5. سچا ایمان عمل سے ظاہر ہوتا ہے، دعوے سے نہیں

🔹 In English

1. Selective belief is not true faith

2. Arrogance leads to rejection of truth

3. All prophets and revelations must be accepted

4. Rejecting Prophet Muhammad ﷺ equals rejecting Allah’s command

5. True faith is proven through actions

22/06/2026

سورہ البقرہ — آیت 90

📌 آیت (Arabic)

بِئۡسَمَا ٱشۡتَرَوۡاْ بِهِۦٓ أَنفُسَهُمۡ أَن يَكۡفُرُواْ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بَغۡيًا أَن يُنَزِّلَ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦۖ فَبَآءُو بِغَضَبٍ عَلَىٰ غَضَبٖۚ وَلِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابٞ مُّهِينٞ

---

📌 لفظی ترجمہ (Word-by-Word Translation)

بِئۡسَمَا: بہت برا ہے وہ (چیز)
ٱشۡتَرَوۡاْ: جو انہوں نے خریدی / اختیار کی
بِهِۦٓ: جس کے بدلے
أَنفُسَهُمۡ: اپنی جانوں کو
أَن يَكۡفُرُواْ: کہ وہ کفر کریں
بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ: اس چیز کا جو اللہ نے نازل کی
بَغۡيًا: صرف حسد کی وجہ سے / خواہشِ برتری سے
أَن يُنَزِّلَ ٱللَّهُ: کہ اللہ نازل کرے
مِن فَضۡلِهِۦ: اپنے فضل میں سے
عَلَىٰ مَن يَشَآءُ: جس پر وہ چاہے
مِنۡ عِبَادِهِۦ: اپنے بندوں میں سے
فَبَآءُو: تو وہ لوٹ آئے
بِغَضَبٍ عَلَىٰ غَضَبٖ: غضب پر غضب کے ساتھ
وَلِلۡكَٰفِرِينَ: اور کافروں کے لیے
عَذَابٞ مُّهِينٞ: رسوا کرنے والا عذاب ہے۔

---

📌 آسان اردو ترجمہ

“کتنی بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا کہ انہوں نے اللہ کی نازل کی ہوئی بات کا انکار کیا، صرف اس وجہ سے کہ اللہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے نازل کر دے۔ پس وہ غضب پر غضب کے مستحق ہوئے، اور کافروں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔”

---

📌 تفسیر (تفصیلی)

1. “بِئْسَمَا اشْتَرَوْا” — برا سودا

یہودیوں نے سب سے برا سودا کیا کہ:

✔ ہدایت کو چھوڑ کر
✔ ضد اور حسد کو اختیار کیا
✔ اپنی آخرت برباد کر لی

گویا انہوں نے اپنی جانیں بیچ ڈالیں۔

---

2. انکار کی اصل وجہ — حسد

انہوں نے قرآن کا انکار اس لیے کیا کہ:

نبوت بنی اسرائیل سے ہٹ کر بنی اسماعیل میں چلی گئی

وہ چاہتے تھے نبی صرف ان کی قوم میں آئے

محمد ﷺ کو ماننا انہیں اپنی برتری کے خلاف محسوس ہوتا تھا

اللہ فرماتا ہے:
“بغیاً” — محض حسد، ضد، اور برتری کی خواہش

---

3. “غَضَبٍ عَلَى غَضَبٍ” — بار بار غضب

یہودیوں پر کئی طرح کے غضب آئے:

1. اللہ کی نافرمانی

2. انبیاء کا انکار

3. انبیاء کا قتل

4. محمد ﷺ کا انکار

ہر جرم پر الگ غضب، اس لیے فرمایا:
غضب پر غضب

---

4. رسوا کن عذاب

یہ عذاب:

دنیا میں بھی (ذلت، شکست، بھٹکاؤ)

آخرت میں بھی (جہنم، رسوائی، اللہ کی رحمت سے دوری)

---

📌 اہم فقہی و دینی مسائل

1. حسد سب سے بڑا اخلاقی و عقیدتی مرض ہے۔

یہ آدمی کو کفر تک پہنچا دیتا ہے۔

2. نبوت اللہ کا خالص فضل ہے۔

کوئی قوم، نسل، خاندان اس پر حق نہیں رکھتا۔

3. اللہ کی ہدایت سے انکار — سب سے برا سودا۔

4. ضد اور تکبر پر اصرار غضبِ الٰہی کو دعوت دیتا ہے۔

5. ایمان کی قدر کرنا ضروری ہے، کیونکہ حقیقت میں ایمان ہی اصل سرمایہ ہے۔

---

📌 English Translation

“How evil is that for which they sold their souls: that they should disbelieve in what Allah has sent down, out of envy that Allah would send His grace upon whom He wills from among His servants. So they returned having drawn wrath upon wrath. And for the disbelievers is a humiliating punishment.”

---

📌 English Explanation

The Jews rejected the Qur’an not because it lacked truth, but because of envy.

They were jealous that prophethood was given to the Arabs.

Their continuous rebellion brought them multiple layers of divine wrath.

22/06/2026

سورہ البقرہ — آیت 89

📌 آیت (Arabic)

وَلَمَّا جَآءَهُمۡ كِتَٰبٞ مِّنۡ عِندِ ٱللَّهِ مُصَدِّقٞ لِّمَا مَعَهُمۡ وَكَانُواْ مِن قَبۡلُ يَسۡتَفۡتِحُونَ عَلَى ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ فَلَمَّا جَآءَهُم مَّا عَرَفُواْ كَفَرُواْ بِهِۦۚ فَلَعۡنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ

---

📌 لفظی ترجمہ (Word-by-Word Translation)

وَلَمَّا: اور جب
جَاءَهُمْ: ان کے پاس آئی
كِتَابٌ: ایک کتاب
مِّنْ عِنْدِ اللَّهِ: اللہ کی طرف سے
مُصَدِّقٌ: تصدیق کرنے والی
لِمَا مَعَهُمْ: اس کی جو ان کے پاس تھا
وَكَانُوا: اور وہ تھے
مِن قَبْلُ: اس سے پہلے
يَسْتَفْتِحُونَ: فتح مانگتے / مدد چاہتے
عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا: کافروں کے خلاف
فَلَمَّا: پھر جب
جَاءَهُمْ: ان کے پاس آیا
مَا عَرَفُوا: وہ (نبی) جسے وہ پہچانتے تھے
كَفَرُوا بِهِ: انہوں نے اس کا انکار کر دیا
فَلَعْنَةُ اللَّهِ: تو اللہ کی لعنت
عَلَى الْكَافِرِينَ: منکروں پر ہے۔

---

📌 آسان اردو ترجمہ

“اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے وہ کتاب آئی جو ان کی اپنی کتاب (تورات) کی تصدیق کرنے والی تھی، اور اس سے پہلے وہ کافروں پر (محمد ﷺ کے ذریعے) فتح مانگا کرتے تھے، لیکن جب وہ (نبی) آگئے جنہیں یہ خوب پہچانتے تھے تو انہوں نے ان کا انکار کر دیا۔ پس کافروں پر اللہ کی لعنت ہے۔”

---

📌 تفسیر (تفصیلی)

1. قرآن کا آنا — تورات کی تصدیق

یہودی قرآن کا انتظار کرتے تھے، کیونکہ تورات میں آخری نبی ﷺ کی علامات لکھی ہوئی تھیں۔
جب قرآن آیا تو:

✔ اس نے تورات کی سچائی کی تصدیق کی
✔ سب نشانیاں پوری ہوئیں

لیکن انہوں نے اسے ماننے سے انکار کیا۔

---

2. “يَسْتَفْتِحُونَ” – فتح کی دعا

یہودی عرب مشرکین کے خلاف دعا کرتے تھے:
“اے اللہ! آخری نبی کو جلد بھیج، ہم اس کے ساتھ ہو کر ان پر غالب آئیں گے۔”

لیکن جب وہی نبی ﷺ آ گئے:

✔ نام معلوم
✔ نشانیاں معلوم
✔ صفات معلوم

پھر بھی ضد، حسد اور عناد کی وجہ سے ایمان نہیں لائے۔

---

3. “مَا عَرَفُوا” — جسے پہچانتے تھے

اس کا مطلب:
یہودی رسول اللہ ﷺ کو ایسے پہچانتے تھے جیسے باپ اپنے بیٹے کو پہچانتا ہے۔
علامتیں صاف، تورات میں لکھی ہوئی، سب واضح تھیں۔

پھر بھی انکار کیا۔

---

4. اللہ کی لعنت

لعنت یعنی:

❌ رحمت سے دور کرنا
❌ دلوں کا سخت ہو جانا
❌ ہدایت سے محرومی

یہ سزا ان کے جان بوجھ کر حق کا انکار کرنے کی وجہ سے ہے۔

---

📌 اہم فقہی و دینی مسائل

1. حق جان کر انکار کرنا سب سے بڑا جرم ہے۔

2. حسد انسان کو ہدایت سے محروم کر دیتا ہے۔

یہودیوں نے محمد ﷺ کو صرف حسد کی وجہ سے نہ مانا۔

3. قرآن، سابقہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے۔

4. اہلِ کتاب کے جرم کی اصل جڑ: عناد + تکبر + مفاد پرستی۔

5. نبی ﷺ کی نبوت اہلِ کتاب پر حجت ہے۔

انہیں سب معلوم تھا، اس لیے انکار زیادہ سخت جرم ہے۔

---

📌 English Translation

“And when there came to them a Book from Allah confirming what was with them — and previously they used to pray for victory against the disbelievers — then when there came to them what they recognized, they disbelieved in it. So the curse of Allah is upon the disbelievers.”

---

📌 English Explanation

The Jews were waiting eagerly for the final Prophet.

They used to ask Allah to grant them victory through this coming Prophet.

When Prophet Muhammad ﷺ arrived, and all signs matched their scriptures, they rejected him out of envy and arrogance.

Therefore the curse of Allah is upon those who knowingly reject the truth.

22/06/2026

سورہ البقرہ — آیت 88

📌 آیت (Arabic)

وَقَالُواْ قُلُوبُنَا غُلۡفُۢۚ بَل لَّعَنَهُمُ ٱللَّهُ بِكُفۡرِهِمۡ فَقَلِيلٗا مَّا يُؤۡمِنُونَ

---

📌 لفظی ترجمہ (Word-by-Word Translation)

وَقَالُوا: اور انہوں نے کہا
قُلُوبُنَا: ہمارے دل
غُلْفٌ: غلاف میں ہیں / ڈھکے ہوئے ہیں
بَلْ: بلکہ
لَّعَنَهُمُ اللَّهُ: اللہ نے ان پر لعنت کی
بِكُفْرِهِمْ: ان کے کفر کے سبب
فَقَلِيلًا: پس بہت تھوڑا
مَا يُؤْمِنُونَ: وہ ایمان لاتے ہیں

---

📌 آسان اردو ترجمہ

“اور وہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل تو پردوں میں ہیں (ہم سمجھ ہی نہیں سکتے)۔ بلکہ بات یہ ہے کہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کر دی ہے، تو وہ بہت کم ہی ایمان لاتے ہیں۔”

---

📌 تفسیر (تفصیلی)

1. قلوبنا غلف — بہانہ بازی

یہودیوں نے انبیاء کی بات نہ ماننے کا بہانہ یہ بنایا کہ
’’ہمارے دل تو غلاف میں ہیں‘‘
یعنی:

ہم حق کو سمجھ نہیں سکتے

ہمارے دل بند ہیں

یہ ہدایت ہم پر اثر نہیں کرتی

یہ انکارِ حق کا جھوٹا بہانہ تھا۔

2. اللہ نے لعنت کی — اصل وجہ

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے دل بند اس لیے نہیں ہوئے کہ ایسا پیدائشی مسئلہ ہے،
بلکہ:

✔ گناہوں کی زیادتی
✔ کفر میں ضد
✔ بار بار حق کا انکار

ان کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی — یہ ہے اصل حقیقت۔

3. کم ایمان لاتے ہیں

بعض یہودی ایمان تو لائے، مگر تعداد بہت کم تھی جیسے:

عبداللہ بن سلامؓ

مخیریق

اس لیے فرمایا گیا:
فَقَلِيلًا مَّا يُؤْمِنُونَ — “بہت کم ایمان لاتے ہیں”

4. یہ آیت مسلمانوں کے لیے تنبیہ

دل اس وقت بند ہوتا ہے جب:

ضد ہو

تکبر ہو

حق کو جان کر بھی نہ مانا جائے

خواہشات کو ترجیح دی جائے

یہی رویہ دل کو سیاہ کر دیتا ہے۔

---

📌 اہم فقہی و دینی مسائل

1. ضد اور تکبر ہدایت بند کر دیتے ہیں

باطل پر اصرار کرتے رہنا دل کو مردہ کر دیتا ہے۔

2. گناہ دل پر پردہ بن جاتے ہیں

حدیث: “جب انسان گناہ کرتا ہے تو دل پر کالا نقطہ پڑتا ہے…”

3. ہدایت انسان کے اختیار سے جڑی ہے

حق کے طالب کے لیے دل کھلتا ہے، منکر کے لیے بند ہو جاتا ہے۔

4. لعنت کا سبب

اللہ کی لعنت (رحمت سے محرومی) جان بوجھ کر کفر اور بغاوت کا نتیجہ ہے، نہ کہ کوئی جبری سزا۔

---

📌 English Translation

“And they say, ‘Our hearts are wrapped.’ Rather, Allah has cursed them because of their disbelief; so only a little is it that they believe.”

---

📌 English Explanation

The Jews claimed their hearts were covered and could not understand the message.

Allah rejects this excuse, explaining that their disbelief and arrogance caused their hearts to be sealed.

Only a few among them believed sincerely.

The verse teaches that spiritual blindness is the result of one’s own rejection of truth.

07/06/2026

سورہ البقرہ — آیت 87

📌 آیت (Arabic)

وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَا مُوسَى ٱلۡكِتَٰبَ وَقَفَّيۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِۦ بِٱلرُّسُلِۖ وَءَاتَيۡنَا عِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ ٱلۡبَيِّنَٰتِ وَأَيَّدۡنَٰهُ بِرُوحِ ٱلۡقُدُسِۗ أَفَكُلَّمَا جَآءَكُمۡ رَسُولُۢ بِمَا لَا تَهۡوَىٰٓ أَنفُسُكُمُ ٱسۡتَكۡبَرۡتُمۡ فَفَرِيقٗا كَذَّبۡتُمۡ وَفَرِيقٗا تَقۡتُلُونَ

---

📌 لفظی ترجمہ (Word-by-Word Translation)

وَلَقَدْ: اور بے شک
آتَيْنَا: ہم نے عطا کیا
مُوسَى: موسیٰ کو
الْكِتَابَ: کتاب (تورات)
وَقَفَّيْنَا: اور ہم نے پے در پے بھیجا
مِنْ بَعْدِهِ: ان کے بعد
بِالرُّسُلِ: رسول
وَآتَيْنَا: اور ہم نے عطا کیا
عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ: عیسیٰ بن مریم کو
الْبَيِّنَاتِ: واضح نشانیاں
وَأَيَّدْنَاهُ: اور ہم نے اس کی تائید کی
بِرُوحِ الْقُدُسِ: روحِ القدس (جبریلؑ) کے ذریعے
أَفَكُلَّمَا: کیا پھر ہر بار
جَاءَكُمْ: تمہارے پاس آیا
رَسُولٌ: کوئی رسول
بِمَا: اس چیز کے ساتھ
لَا تَهْوَى أَنْفُسُكُمْ: جو تمہارے دلوں کو پسند نہ ہو
اسْتَكْبَرْتُمْ: تم نے تکبر کیا
فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ: تو ایک گروہ کو جھٹلایا
وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ: اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے

---

📌 آسان اردو ترجمہ

“اور یقیناً ہم نے موسیٰ کو کتاب (تورات) دی اور ان کے بعد بہت سے رسول بھیجتے رہے۔ اور ہم نے عیسیٰ ابنِ مریم کو کھلی نشانیاں دیں اور ان کی روح القدس (جبریلؑ) سے مدد کی۔ پھر کیا جب بھی تمہارے پاس کوئی رسول وہ بات لایا جو تمہیں پسند نہ آئی، تم نے تکبر کیا؟ ایک گروہ کو تم نے جھٹلایا اور دوسرے گروہ کو قتل کرتے رہے۔”

---

📌 تفسیر (تفصیلی)

1. موسیٰ علیہ السلام کو کتاب دینا

اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کی تاریخ یاد کرا رہا ہے کہ انہیں حضرت موسیٰؑ کو تورات جیسی عظیم کتاب دی گئی۔ یہ ان پر اللہ کا بڑا انعام تھا۔

2. رسولوں کا سلسلہ

موسیٰؑ کے بعد بھی کئی انبیاء بنی اسرائیل میں لگاتار بھیجے جاتے رہے تاکہ وہ ہدایت پر قائم رہیں۔

3. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بینات

عیسیٰؑ کو اللہ نے بہت بڑی معجزات دیئے جیسے:

مردوں کو زندہ کرنا

مادرزاد اندھے کو شفاء دینا

مٹی سے پرندہ بنا کر اذنِ الٰہی سے زندہ کرنا

نصاریٰ کو انجیل دینا

4. روح القدس سے مدد

روح القدس یعنی جبریل امینؑ، عیسیٰؑ کی مسلسل نصرت کرتے رہے۔ اس سے ان کی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔

5. بنی اسرائیل کا جرم

اللہ بنو اسرائیل کو ان کے جرائم یاد کروا رہا ہے:

✔ جب بھی کوئی نبی ایسی بات لاتا جو ان کی خواہش کے خلاف ہوتی،
وہ تکبر کرتے تھے۔

✔ کچھ انبیاء کو جھٹلاتے تھے۔

✔ اور کچھ انبیاء کو قتل کر دیتے تھے (مثلاً زکریاؑ، یحییٰؑ)۔

---

📌 اہم فقہی و دینی مسائل

1. اللہ کی ہدایت انسان کی خواہش پر نہیں

حق بات اگر خواہش کے خلاف بھی ہو تو اسے قبول کرنا لازم ہے۔

2. تکبر ہلاکت کا راستہ ہے

انبیاء کو نہ ماننے کی سب سے بڑی وجہ تکبر تھا۔
آج بھی حق چھپانے کی بنیادی وجہ یہی ہے۔

3. انبیاء کا قتل سب سے بڑا جرم

یہودی قوم اپنے اس ظلم کی وجہ سے اللہ کے غضب کا شکار ہوئی۔

4. روح القدس — جبریل امینؑ

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ روح القدس جبریل امینؑ ہیں۔

5. امتِ محمد ﷺ کے لیے تنبیہ

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ
افسوسناک انجام خواہشات کی پیروی سے ہوتا ہے۔

---

📌 English Translation (Sahih / Clear)

“And indeed We gave Moses the Book, and followed him up with a succession of messengers. And We gave Jesus, the son of Mary, clear proofs, and strengthened him with the Holy Spirit. So is it that whenever a messenger came to you with what your souls did not desire, you acted arrogantly? Some of them you denied, and some of them you killed.”

---

📌 English Explanation

Allah reminds the Children of Israel of His great favors upon them.

They were given revelation, prophets, miracles, and guidance.

Yet they repeatedly rejected the prophets whenever their message conflicted with their desires.

This rejection even led to extreme crimes such as killing prophets.

The verse teaches that arrogance and following desires leads people away from truth.

05/06/2026

📖 سورہ بقرہ — آیت 86

Arabic:
أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ

---

🔹 لفظی ترجمہ (Word-by-Word Urdu)

أُولَئِكَ = یہی وہ لوگ ہیں

الَّذِينَ = جو

اشْتَرَوُا = خرید لیا / اختیار کر لیا

الْحَيَاةَ الدُّنْيَا = دنیا کی زندگی کو

بِالْآخِرَةِ = آخرت کے بدلے

فَلَا يُخَفَّفُ = پس نہیں ہلکا کیا جائے گا

عَنْهُمُ = ان سے

الْعَذَابُ = عذاب

وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ = اور نہ ان کی مدد کی جائے گی

---

🔹 رواں ترجمہ (Easy Urdu Translation)

یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے خرید لیا ہے، اس لیے ان سے عذاب نہ ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔

---

🔹 مکمل تفسیر (تفصیلی مدلل تفسیر)

پس منظر (Context)

یہ آیت یہودی علماء کے بارے میں ہے جو دنیاوی فائدوں، لالچ، قیادت، اور لوگوں کی خوشنودی کے لیے اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرتے تھے۔
آیت 85 میں ان کی نافرمانی بیان ہوئی:
قتل حرام سمجھتے لیکن لوگوں کو نکال دیتے، پھر چھڑانے کے لیے فدیہ دیتے۔
آیت 86 اس رویے کا نتیجہ بیان کرتی ہے۔

---

➡ تفسیری نکات

1) دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا

"اشتروا الحیاۃ الدنیا بالآخرۃ"
یعنی انہوں نے وقتی فائدہ، عہدے، مال، شہرت، اور اپنی خواہشات کو اللہ کے احکام اور آخرت کے بدلے اختیار کر لیا۔

مطلب:
جو شخص اللہ کے حکم چھوڑ کر دنیاوی مفاد لے، وہ حقیقت میں آخرت بیچ دیتا ہے۔

---

2) عذاب میں نہ کمی ہوگی، نہ مدد ملے گی

کوئی سفارش کام نہیں آئے گی

کوئی رشتہ دار نہیں بچا سکے گا

کوئی عمل اس دن فائدہ نہیں دے گا

دنیا میں جو فیصلے کیے تھے، آخرت میں ان کی حقیقت ظاہر ہوگی

---

3) یہودی علماء کی غلطی کا عمومی حکم

یہ صرف بنی اسرائیل کے لیے نہیں بلکہ ہر امت کے لیے وارننگ ہے۔
اگر کوئی مسلمان بھی
✔ دین کو بیچے
✔ حق چھپائے
✔ دنیا کو اصل مقصد بنا لے
تو انجام ایسا ہی ہو سکتا ہے۔

---

🔹 اہم فقہی و اخلاقی مسائل

1) دین فروشی کا انجام

جو شخص اپنا ایمان، سچائی، شریعت یا اسلامی اصول دنیاوی فائدے کے لیے چھوڑ دیتا ہے، اس پر سخت وعید ہے۔

2) دنیا کی محبت گمراہی کی جڑ

دنیا بذاتِ خود بری نہیں،
لیکن دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا ہلاکت ہے۔

3) آخرت میں مدد صرف ایمان و عملِ صالح سے

کوئی دنیاوی رشتہ یا دنیا کا مقام آخرت میں فائدہ نہیں دے گا۔

4) غلط کام کے بعد "ہم تو مجبور تھے" عذر قابلِ قبول نہیں

یہودی بھی مختلف بہانے بناتے تھے؛
قرآن نے واضح کیا کہ اللہ کے ہاں بہانے نہیں چلتے۔

---

🔹 English Translation (Sahih / Clear English)

"Those are the ones who have purchased the worldly life in exchange for the Hereafter. So the punishment will not be lightened for them, nor will they be helped."

---

🔹 English Explanation (Tafsir in English)

This verse describes people—specifically the disobedient scholars of Bani Israel—who preferred temporary worldly gains over eternal success in the Hereafter.
They altered divine commands for money, power, and reputation.

As a result:

Their punishment in the Hereafter will not be reduced,

They will receive no help or intercession.

The lesson is universal:
Anyone who knowingly abandons divine guidance for worldly benefits risks the same fate.

01/06/2026

سورۃ البقرہ آیات 86 تا 90
لفظی ترجمہ، اردو ترجمہ، English Translation، تفسیر اور اہم مسائل
آیت 86
عربی
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ ۖ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ
لفظی ترجمہ
عربی
اردو
أُولَٰئِكَ
یہی لوگ
اشْتَرَوُا
خرید لی
الْحَيَاةَ الدُّنْيَا
دنیا کی زندگی
بِالْآخِرَةِ
آخرت کے بدلے
فَلَا
پس نہیں
يُخَفَّفُ
ہلکا کیا جائے گا
عَنْهُمُ
ان سے
الْعَذَابُ
عذاب
وَلَا
اور نہ
هُمْ
وہ
يُنصَرُونَ
مدد دیے جائیں گے
اردو ترجمہ
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خرید لی، لہٰذا نہ ان کے عذاب میں کمی کی جائے گی اور نہ انہیں کوئی مدد پہنچے گی۔
English Translation
Those are the ones who have exchanged the Hereafter for worldly life. Their punishment will not be lightened, nor will they be helped.
تفسیر
یہود نے اللہ کے احکام کو دنیاوی مفادات کی خاطر چھوڑ دیا۔ انہوں نے عارضی دنیا کو دائمی آخرت پر ترجیح دی، جس کے نتیجے میں سخت عذاب کے مستحق بنے۔
آیت 87
عربی
وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ...
اردو ترجمہ
اور یقیناً ہم نے موسیٰؑ کو کتاب عطا کی اور ان کے بعد مسلسل رسول بھیجے، اور عیسیٰ ابن مریمؑ کو روشن نشانیاں عطا کیں اور روح القدس (جبریلؑ) سے ان کی مدد کی۔ پھر کیا جب بھی کوئی رسول تمہاری خواہشات کے خلاف حکم لے کر آیا تو تم نے تکبر کیا، بعض کو جھٹلایا اور بعض کو قتل کیا؟
English Translation
Indeed, We gave Moses the Book and followed him with messengers. We gave Jesus, son of Mary, clear signs and supported him with the Holy Spirit. Whenever a messenger came to you with what your souls did not desire, you became arrogant; some you denied and others you killed.
تفسیر
بنی اسرائیل کی تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے کئی انبیاء کو جھٹلایا اور بعض کو قتل کیا۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ حق کی دعوت دیتے تھے۔
اہم سبق
انبیاء کی مخالفت ہلاکت کا سبب بنتی ہے۔
خواہشات کو دین پر مقدم کرنا گمراہی ہے۔
آیت 88
عربی
وَقَالُوا قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَلْ لَعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيلًا مَا يُؤْمِنُونَ
لفظی ترجمہ
"اور انہوں نے کہا: ہمارے دل پردوں میں ہیں۔ بلکہ اللہ نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کی، پس وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔"
تفسیر
یہود کہتے تھے کہ ہمارے دل بند ہیں اور ہمیں آپ کی بات سمجھ نہیں آتی۔ حقیقت یہ تھی کہ ان کے مسلسل کفر اور ضد کی وجہ سے ان کے دل حق قبول کرنے سے محروم ہوگئے تھے۔
اہم مسئلہ
گناہوں اور ضد کی کثرت دل پر پردہ ڈال دیتی ہے۔
آیت 89
عربی
وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَابٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ...
اردو ترجمہ
اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک ایسی کتاب آئی جو ان کی موجودہ کتاب کی تصدیق کرنے والی تھی، حالانکہ پہلے وہ کافروں پر فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے، پھر جب وہ چیز آگئی جسے وہ پہچانتے تھے تو اس کا انکار کر بیٹھے۔ پس اللہ کی لعنت کافروں پر ہے۔
English Translation
When there came to them a Book from Allah confirming what was with them, though before they used to pray for victory over the disbelievers, when there came to them what they recognized, they disbelieved in it. So the curse of Allah is upon the disbelievers.
تفسیر
یہود نبی آخر الزمان ﷺ کے آنے کے منتظر تھے، لیکن جب آپ ﷺ تشریف لائے تو حسد اور تعصب کی وجہ سے ایمان نہ لائے۔
اہم سبق
حق کو پہچان لینے کے بعد انکار کرنا بڑا جرم ہے۔
آیت 90
عربی
بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ أَنْ يَكْفُرُوا بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ...
اردو ترجمہ
بہت برا سودا ہے جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ دیا کہ اللہ کی نازل کردہ چیز کا انکار کریں، صرف اس حسد کی بنا پر کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اپنا فضل نازل فرمائے۔ پس وہ غضب پر غضب کے مستحق ہوئے، اور کافروں کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔
English Translation
How evil is that for which they sold themselves: that they disbelieve in what Allah has revealed, out of envy that Allah should send His grace upon whom He wills of His servants. Thus they incurred wrath upon wrath, and for the disbelievers is a humiliating punishment.
تفسیر
یہود کا اصل مسئلہ دلیل کی کمی نہیں بلکہ حسد تھا۔ وہ یہ برداشت نہ کر سکے کہ آخری نبی ﷺ بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل میں مبعوث ہوئے۔
اہم مسائل (Important Lessons)
1. دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا خسارے کا سودا ہے۔
2. خواہشاتِ نفس حق قبول کرنے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
3. انبیاء کی تکذیب اور مخالفت سخت گناہ ہے۔
4. حسد انسان کو حق کے انکار تک پہنچا دیتا ہے۔
5. اللہ کا فضل اسی کو ملتا ہے جسے وہ چاہتا ہے۔
6. مسلسل گناہ دلوں کو حق قبول کرنے سے محروم کر دیتے ہیں۔
7. قرآن سابقہ آسمانی کتابوں کی اصل تعلیمات کی تصدیق کرتا ہے۔
خلاصۂ آیات 86-90
ان آیات میں بنی اسرائیل کی تین بڑی بیماریوں کا ذکر ہے:
دنیا پرستی (آیت 86)
تکبر اور انبیاء کی مخالفت (آیات 87-88)
حسد اور حق کا انکار (آیات 89-90)
اللہ تعالیٰ واضح فرماتا ہے کہ جو شخص دنیا، تکبر اور حسد کی وجہ سے حق کو رد کرتا ہے، وہ اللہ کے غضب اور آخرت کے عذاب کا مستحق بنتا ہے۔

23/05/2026

سورہ بقرہ آیات 81 تا 85 پشتو لفظی ترجمہ سیکھیں

Address

Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Noor-e-Quran posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share