06/01/2026
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج ہماری یونیورسٹیاں، جو کبھی علم، تحقیق، تربیت اور کردار سازی کا مرکز ہوا کرتی تھیں،
آج رفتہ رفتہ بے حیائی، فحاشی اور اخلاقی زوال کا گڑھ بنتی جا رہی ہیں۔
تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا نہیں ہوتا، بلکہ انسان کی سوچ، کردار اور اخلاق کو سنوارنا بھی ہوتا ہے،
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بہت سی یونیورسٹیوں میں تعلیم کے بجائے آزادانہ اختلاط، بے پردگی،
اور ایسے کام عام ہو چکے ہیں جن کا نہ دین سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہماری روایات سے۔
سرِعام لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کے درمیان ناچتے نظر آتے ہیں،
مخلوط تقریبات میں حدود پامال کی جاتی ہیں،
اور اگر کوئی اس پر سوال اٹھائے تو فوراً یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ
“یہ ہمارا کلچر ہے” یا “یہ ماڈرن سوچ ہے”۔
سوال یہ ہے کہ کیا زنا، بے حیائی، نشہ اور فحاشی کبھی بھی کسی قوم کا کلچر ہو سکتے ہیں؟
کیا پشتون کلچر، یا کسی بھی باعزت معاشرے کی پہچان یہ ہے کہ
اس کی بیٹیاں اور بیٹے سرِعام حیا کو ترک کر دیں؟
انہی یونیورسٹیوں میں منشیات کا استعمال خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔
آئس، شراب، چرس، نشہ آور گولیاں اور دیگر زہریلے نشے
نوجوان نسل کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔
یہ نشے صرف جسم کو نہیں، بلکہ عقل، ایمان اور مستقبل کو بھی تباہ کر دیتے
ہیں۔
والدین اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو بڑی امیدوں، دعاؤں اور قربانیوں کے ساتھ یونیورسٹیوں میں بھیجتے ہیں۔
وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی اولاد علم حاصل کرے گی، باکردار بنے گی،
اور کل کو قوم کا فخر بنے گی۔
لیکن افسوس، بہت سے والدین اس حقیقت سے بے خبر رہتے ہیں کہ
انہی اداروں میں بعض نوجوان تعلیم کے نام پر
اپنی حیا، غیرت اور ایمان داؤ پر لگا دیتے ہیں۔
یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ ہر طالب علم یا ہر طالبہ اس برائی میں شامل نہیں،
بہت سے باکردار، محنتی اور بااخلاق نوجوان آج بھی یونیورسٹیوں میں موجود ہیں،
لیکن سوال یہ ہے کہ برائی کو کھلی چھوٹ کیوں دی جا رہی ہے؟
اور اسے روکنے والا کوئی کیوں نہیں؟
یونیورسٹی انتظامیہ، اساتذہ، والدین اور خود طلبہ—
سب کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس بگاڑ کے خلاف آواز اٹھائیں۔
اگر آج ہم خاموش رہے،
تو کل ہمیں ایک ایسی نسل ملے گی
جو ڈگری تو رکھتی ہوگی
لیکن کردار، حیا اور انسانیت سے خالی ہوگی۔
یاد رکھیں!
وہ تعلیم جو انسان کو اللہ سے دور کر دے،
وہ آزادی جو انسان کو حیوان بنا دے،
اور وہ کلچر جو غیرت و حیا کو ختم کر دے—
وہ کسی بھی قوم کے لیے رحمت نہیں بلکہ زحمت ہوتا ہے۔
اب بھی وقت ہے کہ ہم ہوش کے ناخن لیں،
تعلیم کو اخلاق کے ساتھ جوڑیں،
اور اپنی آنے والی نسلوں کو
صرف پڑھا ہوا نہیں،
بلکہ با کردار انسان بنائیں۔
فضيلةُ الشيخِ روحِ اللهِ التوحيدي حفظهُ اللهُ تعالى
| | | |