Zain Orakzai Medicose Peshawar

Zain Orakzai Medicose Peshawar Contact me for booking appointment of any doctor in Peshawar.

30/08/2026
30/08/2026

Facebook

Twitter

Whatsapp
بیشتر افراد کی وہ عام ترین عادت جو قبل از وقت بڑھاپے کا شکار بنا دیتی ہے
ایک تحقیق میں اس بارے میں بتایا گیا / فائل فوٹو
عمر میں اضافہ تو ایسا عمل ہے جس کو روکنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور ہر گزرتے برس کے ساتھ بڑھاپے کے آثار قدرتی طور پر نمایاں ہوتے ہیں۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایک بہت عام عادت قبل از وقت بڑھاپے کا شکار بناسکتی ہے؟

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

کولمبیا یونیورسٹی کے یورونگ میڈیکل سینٹر کی تحقیق میں بتایا گیا کہ بہت کم یا زیادہ نیند سے قبل از وقت بڑھاپے سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

جگر کے عام ترین عارضے سے تحفظ کا بہت آسان طریقہ

تحقیق میں بتایا گیا کہ بہت کم یا بہت زیادہ دیر تک سونے سے دماغ، پھیپھڑوں، دل، مدافعتی نظام اور دیگر اعضا کی عمر میں بہت تیزی سے اضافہ ہوتا ہے جبکہ متعدد امراض کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

طبی ماہرین کی جانب سے اکثر عمر میں اضافے سے جڑے عوامل کا تجزیہ کرکے دیکھا جاتا ہے کہ اس فرد کی حیاتیاتی عمر میں کتنی تیزی یا سست روی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

خیال رہے کہ ویسے تو ہر فرد کی عمر کا تعین تاریخ پیدائش (کرانیکل ایج) سے کیا جاتا ہے مگر طبی لحاظ سے ایک حیاتیاتی عمر (بائیولوجیکل ایج) بھی ہوتی ہے جو جسمانی اور ذہنی افعال کی عمر کے مطابق ہوتی ہے۔

جینز، طرز زندگی اور دیگر عناصر اس حیاتیاتی عمر پر اثرات مرتب کرتے ہیں اور یہ عمر جتنی زیادہ ہوگی مختلف امراض کا خطرہ بھی اتنا زیادہ بڑھ جائے گا۔

روزانہ محض 3 منٹ کی اس ورزش سے آپ موٹاپے اور ذیابیطس کو ہمیشہ دور رکھ سکتے ہیں

اس تحقیق میں بھی جسمانی اعضا کی اندرونی گھڑیوں کا تجزیہ کرنے والے ٹولز کی مدد لی گئی جن کے لیے مشین لرننگ ٹیکنالوجی اور بائیولوجیکل انفارمیشن کو استعمال کیا گیا تھا تاکہ عمر میں اضافے سے جڑے عناصر کا تخمینہ لگایا جاسکے۔

انہوں نے ہر جسمانی عضو کے لیے ایجنگ کلاکس کو تیار کیا جس کا مقصد کسی فرد کی صحت کے بارے میں زیادہ تفصیلات حاصل کرنا تھی۔

اس کے بعد محققین نے 5 لاکھ افراد کی نیند کی عادات کا موازنہ مختلف اعضا کی حیاتیاتی عمر کے ساتھ کیا۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مختصر نیند (6 گھنٹے سے کم وقت) اور بہت زیادہ وقت تک سونے (8 گھنٹے سے زائد) سے حیاتیاتی عمر میں تیزی سے اضافہ ہونے لگتا ہے۔

ورزش کو معمول بنانا ڈپریشن اور انزائٹی جیسے امراض سے تحفظ فراہم کرتا ہے، تحقیق

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 6.4 سے 7.8 گھنٹے روزانہ سونے سے حیاتیاتی عمر میں اضافے کی رفتار گھٹ جاتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کا دورانیہ بذات خود عمر کی رفتار کو تیز یا سست بنانے کا باعث نہیں بلکہ بہت کم یا بہت زیادہ وقت تک نیند جسم کی ناقص صحت کا اشارہ ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق نتائج سے یہ بھی علم ہوتا ہے کہ نیند، دماغ اور پورے جسم کے درمیان ایک مضبوط تعلق موجود ہے۔

مختصر نیند اور ڈپریشن کی علامات سمیت انزائٹی کے درمیان نمایاں تعلق موجود ہوتا ہے جبکہ موٹاپے، ذیابیطس ٹائپ 2، ہائی بلڈ پریشر اور امراض قلب کے درمیان تعلق موجود ہے۔

لمبی صحت مند زندگی کیلئے ناشتہ کرنیکا بہترین وقت کونسا ہوتا ہے؟

مختصر اور طویل دورانیے کی نیند دونوں سے پھیپھڑوں کے دائمی امراض اور دمہ کا خطرہ بھی بڑھتا ہے جبکہ ان دونوں کے باعث نظام ہاضمہ کے سنگین امراض کا سامنا ہوسکتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ دماغ اور جسم کے درمیان اس تعلق سے علم ہوتا ہے کہ نیند کا دورانیہ ہمارے پورے جسم سے بہت زیادہ مضبوطی سے جڑا ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ماضی کی تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا تھا کہ نیند اور بڑھاپے کے درمیان تعلق موجود ہے، مگر ہماری تحقیق میں اس حوالے سے مزید انکشافات سامنے آئے ہیں اور ثابت ہوا کہ بہت کم یا زیادہ نیند سے جسم کے ہر عضو کی عمر میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل نیچر میں شائع ہوئے۔

30/08/2026

Twitter

Whatsapp
جوان افراد میں ڈپریشن کے پھیلاؤ کی اہم وجہ دریافت
ڈپریشن صرف ذہن تک محدود رہنے والا مرض نہیں / فائل فوٹو
ڈپریشن کے منفی اثرات کسی مریض کے جذبات اور ذہنی صحت پر ہی مرتب نہیں ہوتے بلکہ جسم بھی متاثر ہوتا ہے۔

ڈپریشن ایک پیچیدہ ذہنی مرض ہے جس کے شکار افراد اکثر اداس رہتے ہیں جبکہ ہر وقت بے بسی کا احساس بھی ہو سکتا ہے۔

ہر فرد کو ہی زندگی میں کبھی نہ کبھی اداسی یا صدمے کے باعث ڈپریشن کی علامات کا سامنا ہوتا ہے۔

مگر ان علامات کا دورانیہ 2 ہفتوں سے زیادہ ہو تو یہ سنگین مسئلے کی جانب نشاندہی کرتا ہے۔

وہ عام چیز جسے دہی میں شامل کرکے آپ معدے کی صحت کو بہترین بنا سکتے ہیں

یہ عام ترین دماغی عارضہ ہے اور جوان افراد میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور اب اس کی ایک اہم وجہ دریافت ہوئی ہے۔

درحقیقت سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال ڈپریشن سے متاثرہونے کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

سنسیناٹی یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ ڈھائی گھنٹے سے زائد وقت تک سوشل میڈیا پر اسکرولنگ اور ڈپریشن سے متاثر ہونے کے درمیان تعلق موجود ہے۔

وہ عمر جب بچوں کو اسمارٹ فونز دینا ان کیلئے سب سے زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے

اس تحقیق میں 18 سے 70 سال کی عمر کے ایک لاکھ 83 ہزار سے زائد افراد سے ہونے والے سرویز کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

ان افراد سے مختلف موضوعات پر 1318 سوالات پوچھے گئے تاکہ ڈپریشن سمیت دیگر طبی مسائل کا تجزیہ کیا جاسکے۔

تحقیق میں ایک مشین لرننگ ماڈل کو استعمال کرکے سوشل میڈیا کے استعمال اور ڈپریشن کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا۔

محققین نے دریافت کیا کہ جو افراد روزانہ ڈھائی گھنٹے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، ان کی جانب سے ڈپریشن کی علامات کو زیادہ رپورٹ کیا جاتا ہے۔

ورزش یا قیلولہ سے بے خوابی کے شکار دماغ کے افعال درست رکھنے میں مدد ملتی ہے، تحقیق

انہوں نے بتایا کہ حقیقی دنیا میں رابطے سے رہنے اور اچھی دماغی صحت کے درمیان تعلق موجود ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ ٹیلی ویژن یا ویب سرفنگ سے بھی یہ خطرہ بڑھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں سوشل میڈیا میں آپ ان افراد سے رابطے میں رہتے تھے جن کو آپ جانتے تھے مگر اب وہاں آپ اجنبی افراد کے مواد کو دیکھتے ہوئے وقت گزارتے ہیں۔

محققین کے مطابق سوشل میڈیا کسی لت کی طرح ہے اور دماغی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر جیسے مرض سے تحفظ کا مزیدار طریقہ

انہوں نے کہا کہ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ لوگوں کے لیے اب اس کا مکمل استعمال ترک کرنا مشکل ہوچکا ہے۔

ان کے مطابق اگر سوشل میڈیا کا استعمال احتیاط سے کیا جائے تو ڈپریشن سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

30/08/2026

Whatsapp
گردوں کے تکلیف دہ امراض کا خطرہ بڑھانے والی عام غذائیں
ناقص غذائی عادات گردوں کے امراض کا خطرہ بڑھاتی ہیں / فائل فوٹو
گردے ہمارے جسم میں کسی واٹر فلٹر کی طرح کام کرتے ہیں۔

واٹر فلٹر ان چیزوں کو پانی سے خارج کرتا ہے جو نقصان دہ ہوتی ہیں اور ہمارے گردے بھی یہی کام کرتے ہیں۔

گردے خون کو فلٹر کرتے ہیں جس کے دوران زہریلے مواد اور اضافی سیال کو جسم سے خارج کرتے ہیں جبکہ پوٹاشیم، سوڈیم اور دیگر اجزا کی سطح کو متوازن رکھتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ گردے ایسے ہارمونز بھی بناتے ہیں جو بلڈ پریشر سے لے کر ہڈیوں کی مضبوطی کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں، آسان الفاظ میں گردے بہت اہم ہوتے ہیں۔

روزانہ کتنی دیر چہل قدمی کرنے سے بلڈ پریشر جیسے مرض سے بچنے میں مدد ملتی ہے؟

ایک تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں ہر 10 میں سے ایک فرد کو گردوں کے دائمی امراض کا سامنا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں سیال اور دیگر مواد جسم میں اکٹھا ہونے لگتا ہے۔

اس حوالے سے ناقص غذائی عادات بھی کردار ادا کرتی ہیں، تو ایسی غذاؤں کے بارے میں جانیں جو گردوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔

نمک کا زیادہ استعمال
غذا میں نمک کے زیادہ استعمال سے بلڈ پریشر کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں گردوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

ہر عمر میں اچھی صحت کو یقینی بنانے والی بہترین عادات

نمک کے زیادہ استعمال سے گردوں کی پتھری کا خطرہ بھی بڑھتا ہے جو بہت تکلیف دہ مرض ہوتا ہے۔

چینی بھی نقصان دہ
چینی کا زیادہ استعمال بلڈ شوگر کی سطح ہی نہیں بڑھاتا بلکہ اس سے گردوں کے امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

چینی کے زیادہ استعمال سے گردوں کے افعال متاثر ہوتے ہیں جبکہ ان کا حجم بھی بڑھتا ہے۔

صبح کے وقت چہل قدمی کرنے کے یہ فوائد جانتے ہیں؟

میٹھے مشروبات
سوڈا یا سافٹ ڈرنکس کا استعمال بھی گردوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ میٹھے مشروبات کے زیادہ استعمال سے گردوں کے دائمی امراض سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

سرخ گوشت
حیوانی پروٹین سے بھرپور غذائیں جیسے سرخ گوشت سے بھی گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

8 بہترین پھل جو جوڑوں کی تکلیف میں کمی لانے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے جسم کے لیے حیوانی پروٹین کو ہضم کرنا کافی مشکل ہوتا ہے جس سے گردوں پر بوجھ بڑھتا ہے اور ان کے لیے کچرے کی صفائی مشکل ہو جاتی ہے۔

اگر آپ پہلے سے گردوں کے مسائل کے شکار ہیں تو حیوانی پروٹین سے بھرپور غذا کے زیادہ استعمال سے مرض کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

کیفین
چائے، کافی اور سوڈا میں موجود کیفین سے بھی گردوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔

عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کو صحت مند رکھنے میں مددگار آسان عادات

کیفین کے استعمال سے خون کا بہاؤ، بلڈ پریشر اور گردوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ طبی ماہرین کی جانب سے کیفین کے زیادہ استعمال کو گردوں کی پتھری کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔

الٹرا پراسیس غذائیں
بہت زیادہ نمک، چینی اور چکنائی سے بھرپور غذائیں گردوں کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔

قبض سے دور رکھنے میں مددگار بہترین پھل

الٹرا پراسیس غذاؤں میں چکنائی اور چینی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔

الٹرا پراسیس غذاؤں میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈز، مٹھائیاں، ٹافیاں، کیک، نمکین اشیا، بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا وغیرہ شامل ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔

30/08/2026

سائنساولاد نہ ہونے کا سماجی دباؤ خواتین میں ’’سوڈوسائسیس‘‘ کا سبب بن سکتا ہے
بابر علی اعوان Time30 اگست ، 2026
Facebook

Twitter

Whatsapp
اولاد نہ ہونے کا سماجی دباؤ خواتین میں ’’سوڈوسائسیس‘‘ کا سبب بن سکتا ہے
بعض خواتین میں حمل نہ ہونے کے باوجود خود کو حاملہ سمجھنے کی ایک طبی کیفیت پائی جاتی ہے جسے سوڈوسائسیس(Pseudocyesis) کہا جاتا ہے۔ فوٹو فائل
کراچی: اولاد نہ ہونے کا سماجی دباؤ خواتین میں ’’سوڈوسائسیس‘‘ کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرینِ امراضِ نسواں کے مطابق بعض خواتین میں حمل نہ ہونے کے باوجود خود کو حاملہ سمجھنے کی ایک طبی کیفیت پائی جاتی ہے جسے سوڈوسائسیس(Pseudocyesis) کہا جاتا ہے، عام زبان میں اسے False Pregnancy یعنی حمل نہ ہونے کے باوجود حمل کا یقین کہا جاتا ہے۔

اس حوالے سے سینئر گائناکالوجسٹ پروفیسر نصرت شاہ نے بتایا کہ ایسی کیفیت میں خاتون کو حمل کا پختہ یقین ہوسکتا ہے اور بعض اوقات جسمانی طور پر بھی حمل جیسی علامات محسوس ہو سکتی ہیں، اس کیفیت کے پیچھے نفسیاتی، جذباتی اور بعض صورتوں میں ہارمونل عوامل بھی کردار ادا کرسکتے ہیں۔

پروفیسر نصرت شاہ کے مطابق اولاد کی شدید خواہش، طویل عرصے تک حمل نہ ٹھہرنا، خاندان یا سسرال کا دباؤ اور معاشرے کی جانب سے ’’اولاد کیوں نہیں ہورہی‘‘ جیسے سوالات خاتون کے لیے شدید ذہنی دباؤ کا باعث بن سکتے ہیں، بعض خواتین شوہر کی دوسری شادی کے خدشے سمیت مختلف سماجی مسائل کے باعث بھی ذہنی اذیت میں مبتلا ہوسکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاملات میں خاتون کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے اس کی ذہنی کیفیت کو سمجھنے اور ضرورت پڑنے پر نفسیاتی معاونت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

اس حوالے سے ماہرین مزید کہتے ہیں کہ سوڈوسائسیس حقیقی حمل نہیں ہوتا اور الٹراساؤنڈ کے ذریعے حمل کی موجودگی یا عدم موجودگی واضح کی جاسکتی ہے، تاہم اس کیفیت میں مبتلا خاتون کے لیے حمل کا احساس محض ’’بہانہ‘‘ قرار دینا بھی درست نہیں، کیونکہ اس کا یقین نفسیاتی طور پر حقیقی ہوسکتا ہے۔

ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ خواتین کو اولاد کے معاملے میں غیر ضروری سماجی دباؤ سے بچایا جائے اور بانجھ پن یا حمل میں تاخیر کو صرف خاتون کی ذمہ داری سمجھنے کے بجائے اسے ایک طبی مسئلے کے طور پر دیکھا جائے

Address

Peshawar
25000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zain Orakzai Medicose Peshawar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Zain Orakzai Medicose Peshawar:

Shortcuts

Share