27/07/2026
منکرینِ حدیث اور اہلِ حدیث کے درمیان ہونے والے حالیہ مناظرے کے حوالے سے چند ضروری گزارشات
ابھی حال ہی میں منکرینِ حدیث اور ہمارے اہلِ حدیث بھائیوں کے درمیان ایک مناظرہ ہوا، جسے میں نے کسی حد تک خود بھی دیکھا۔ اس حوالے سے چند ضروری باتیں عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔
پہلی بات:
احادیثِ رسول اللہ ﷺ کا دفاع درحقیقت قرآنِ کریم، دینِ اسلام اور ذاتِ اقدس رسول اللہ ﷺ کا دفاع ہے۔ اس لیے میں اپنے اہلِ حدیث بھائیوں کو اس عظیم خدمت پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ اختلافات اپنی جگہ، لیکن جہاں سنتِ رسول ﷺ کے دفاع کا معاملہ ہو، وہاں ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔
دوسری بات:
پورے مناظرے میں منکرینِ حدیث بار بار اصل موضوع سے فرار اختیار کرتے رہے۔ موضوع سے ہٹ کر گفتگو کرنا، غیر متعلق باتوں میں وقت ضائع کرنا اور اصل سوالات سے بچنا ان کا نمایاں طرزِ عمل تھا۔ میری نظر میں پورے مناظرے کے دوران اصل موضوع پر ان کی طرف سے ایک بھی مضبوط اور قابلِ اطمینان دلیل پیش نہ کی جا سکی۔
تیسری بات:
منکرینِ حدیث کا مجموعی انداز انتہائی غیر سنجیدہ محسوس ہوا۔ ان کی گفتگو میں نہ علمی وقار تھا، نہ متانت، نہ ترتیب، نہ مناظرے کے آداب، اور نہ ہی دلیل کے ساتھ گفتگو کرنے کا سلیقہ۔
چوتھی بات:
میں اپنے تمام اہلِ سنت اور اہلِ حدیث بھائیوں سے نہایت دردمندانہ گزارش کرتا ہوں کہ موجودہ منکرینِ حدیث، جو درحقیقت انکارِ سنت اور ارتداد کے فتنے کے علمبردار ہیں، ان سے ہر شخص مناظرہ کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اس میدان میں صرف وہی افراد اتریں جو اس موضوع پر گہرا مطالعہ، مضبوط علمی گرفت، فصاحت، حاضر جوابی اور منکرینِ حدیث کے تمام شبہات، دجل و فریب اور نفسیاتی حربوں سے مکمل واقف ہوں۔ بصورتِ دیگر نادانستہ طور پر انہیں شہرت اور اہمیت ملنے کا اندیشہ رہتا ہے۔
پانچویں بات:
اس مناظرے میں ہمارے بھائی شیخ ابو عافیہ صاحب کی گفتگو میں کسی حد تک سنجیدگی، متانت، اصل موضوع پر توجہ، دلائل کے ساتھ گفتگو اور عوام کو آسان انداز میں مسئلہ سمجھانے کی صلاحیت کچھ نہ کچھ نمایاں تھی۔ بالخصوص شیخ ریاض اللہ صاحب کی نسبت شیخ ابو عافیہ صاحب زیادہ سنجیدگی اور وقار کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے محسوس ہوئے۔ ویسے بھی شیخ ریاض اللہ صاحب کے مناظروں میں اکثر غیر سنجیدہ اندازِ گفتگو دیکھنے میں آتا رہا ہے، جس کی وجہ سے علمی نکات کا تسلسل اور اصل موضوع پر توجہ متاثر ہوتی ہے۔
البتہ بڑی معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ شیخ ریاض اللہ صاحب کی گفتگو اور انداز میں ایک موضوع پر مسلسل رہنا، عوام کو منظم انداز میں قائل کرنا، مخالف کو مدلل اور عوامی لہجے میں لاجواب کرنا، اور اسے اصل موضوع کے اندر رہنے پر مجبور کرنا، یہ چیزیں بہت کم بلکہ تقریباً مفقود محسوس ہوئیں۔
ایک کامیاب مناظر کے لیے ضروری ہے کہ وہ مخالف کے عقائد، اصول، شبہات، نفسیات اور اس کے تمام حربوں سے مکمل طور پر باخبر ہو، تاکہ وہ ہر موڑ پر اسے علمی انداز میں لاجواب کر سکے۔
چھٹی اور نہایت اہم بات:
مناظرے کے آغاز ہی میں اصول، ضوابط اور شرائط طے کر لینا انتہائی ضروری تھا، خصوصاً وہ اصول جو اسی عنوان سے متعلق تھے، تاکہ کوئی بھی فریق اصل موضوع سے باہر نہ جا سکے۔ افسوس کہ اس اہم پہلو کو نظر انداز کیا گیا۔
آخر میں ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں:
میری نظر میں اس مناظرے میں منکرینِ حدیث، اہلِ حدیث کے مقابلے میں مکمل طور پر ناکام اور شکست خوردہ رہے۔ ان کے پاس نہ مضبوط دلائل تھے، نہ علمی استقامت، اور نہ ہی موضوع پر ٹھہر کر گفتگو کرنے کی صلاحیت۔
آخر میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ گزشتہ چار پانچ سال سے میں نے منکرینِ حدیث کو بہت قریب سے دیکھا، سنا، ان کا گہرا مطالعہ کیا، ان کے اعتراضات کے علمی جوابات دیے، ان پر مسلسل کام کیا، اور جگہ جگہ عوامی اجتماعات اور میڈیا کے ذریعے انہیں سینکڑوں مرتبہ کھلے مناظرے کا چیلنج دیا، مگر آج تک ان میں سے کسی نے بھی ہمارے سامنے آنے کی جرأت نہیں کی۔ کاش! یہ ایک مرتبہ ہمارے سامنے آ جائیں، تو ان شاء اللہ دنیا ان کے دلائل کی حقیقت اور ان کے انجام کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم اور سنتِ رسول اللہ ﷺ کی صحیح علم کے ساتھ خدمت، حفاظت اور دفاع کی توفیق عطا فرمائے، اور امتِ مسلمہ کو ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔
وما علینا إلا البلاغ
اخوکم
العبد الفقیر
محمد ندیم المحمودی
خاک پائے علماءِ دیوبند
🤲🤲🤲