19/05/2026
مکہ مکرمہ پہنچنے کے لیے اپنا گھر بیچنے والے معمر بزرگ کی یہ کہانی خالص عقیدت اور مادی دنیا سے لاتعلقی کی ایک بہترین مثال ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ابتدائی ویڈیوز میں انہیں افریقی مسلمان بتایا گیا تھا، لیکن بعد میں الجزیرہ مبشر سمیت دیگر میڈیا ذرائع نے واضح کیا کہ ان کا نام امحبہ سالم ہے اور ان کا تعلق عدن، یمن سے ہے۔
ان کی کوئی اولاد نہیں ہے،انہوں نے عمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنا واحد ذاتی گھر بیچ دیا۔
کویتی صحافی کو مسجد الحرام کے اندر انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے روتے ہوئے کہا، "میں اپنے رب کے پاس توبہ کے ساتھ آیا ہوں تاکہ وہ مجھے معاف کر دے۔"
خانہ کعبہ کے سامنے شکرگزاری کے آنسو روتے ہوئے ان کی ویڈیو نے لاکھوں دلوں کو جھنجھوڑ دیا اور لوگوں کو یاد دلایا کہ ایمان کی قیمت مادی چیزوں سے بہت اوپر ہے۔