Islamic Knowledge علوم لاسلامی

Islamic Knowledge علوم لاسلامی اسلامی معلومات کیلئےھمیں فالو کیجئے شکریہ

06/12/2024

تربیت اسے کہتے ہیں.
ایک عالم نےاک شاگرد کا واقعہ سنایا جو اپنے استاد کی طرح کسی درسگاہ میں استاد بن گیا تھا ، استاد بننے کے بعد جب وہ اپنے اس استاد سے ملنے کے لیے گیا اور اس کو بتایا کہ آپکی وجہ سے آپکی طرح میں بھی استاد بنا ہوں ۔ استاد میں پوچھا وہ کیسے ؟تو انہوں نے بتایاکہ
اک دن میں نے اپنے ہم جماعت کی گھڑی چرا لی تھی، آپ نے دروازے بند کرا کے تلاشی کا کہا تھا مجھے لگا کہ آج میں پھنس گیا،
تب آپ نے فرمایاکہ سب آنکھیں بند کر لیں، آپ نے سب بچوں کی تلاشی لی انکی آنکھیں بند تھیں، آپ نے گھڑی میری جیب سے نکالی، اور مجھ سے بعد والوں کی بھی تلاشی لی
تب میں نے عزتِ نفس اور زندگی کا سبق سیکھا تھا۔
استاد کی آنکھوں میں اجنبیت دیکھ کر شاگرد نے پوچھا ، استاد محترم آپ مجھے کیسے بھول گئے؟
استاد نے جواب دیا
*کیونکہ میں نے اپنی آنکھیں بھی بند کر لی تھیں.
اپنے شاگردوں کی عزت نفس کا خیال کیجئے تاکہ وہ آپ کو بعد میں بھی یاد رکھیں۔

03/12/2024
یہ کہانی ان حضرات کے لیے ہے جو صبح کسی کے ملنے کو نحوست اور پورا دن بیکار ہونا تصور کرتے ہیں، اور جو صبح متھے لگے اس کو ...
02/12/2024

یہ کہانی ان حضرات کے لیے ہے جو صبح کسی کے ملنے کو نحوست اور پورا دن بیکار ہونا تصور کرتے ہیں، اور جو صبح متھے لگے اس کو سارا دن گالی گلوچ کرتے رہتے ہیں۔

یہ ایک بادشاہ کی کہانی ہے جو شکار کا بہت شوقین تھا۔ وہ جب بھی شکار پر جانے کے لیے محل سے نکلتا تو حکم دیتا کہ میرے راستے میں کوئی بندہ نہ آئے۔ اس کے حکم پر سپاہی سارے راستے صاف کر دیتے اور کوئی انسان بادشاہ کے سامنے نہ آتا۔

ایک دن ایسا ہوا کہ ایک بزرگ لکڑیاں کاٹنے کے لیے جنگل میں گیا ہوا تھا۔ وہ لکڑیاں کاٹ کر واپس جا رہا تھا اور اس کی راہ بادشاہ کے راستے سے ٹکرا گئی۔ بادشاہ نے اسے دیکھ لیا اور سخت غصے میں آ گیا۔ اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس بزرگ کو درخت کے ساتھ باندھ دو۔ بادشاہ نے کہا: "اگر شکار نہ ملا تو واپس آ کر میں تمہیں پھانسی دے دوں گا، اور اگر شکار مل گیا تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔"

بادشاہ شکار پر چلا گیا اور قسمت سے اسے بہت اچھا شکار مل گیا۔ خوش ہو کر وہ واپس آیا اور بزرگ کو درخت سے کھولنے کا حکم دیا۔ بادشاہ نے کہا: "مجھے شکار مل گیا ہے، اس لیے میں تمہیں معاف کرتا ہوں۔"

بزرگ نے کہا: "بادشاہ سلامت، میں آپ سے ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں۔"

بادشاہ نے کہا: "کہو کیا کہنا چاہتے ہو۔"

بزرگ نے کہا: "آپ کے لیے میں منحوس ثابت ہوا کیونکہ آپ کا ماننا تھا کہ میرے سامنے آنے کی وجہ سے آپ کو شکار نہیں ملے گا۔ لیکن آپ بھی میرے لیے منحوس ثابت ہوئے کیونکہ آپ کی وجہ سے میرا پورا دن برباد ہوا اور مجھے اس قدر تکلیف برداشت کرنی پڑی۔" یہ سن کر بادشاہ سوچ میں پڑ گیا اور اسے احساس ہوا کہ بات درست ہے۔ اگر کوئی آپ کے لیے منحوس ہے تو آپ بھی اس کے لیے منحوس ہو سکتے ہیں۔

تو بہنو اور بھائیو، کوئی منحوس نہیں ہوتا، اور وہ بھی صبح کے وقت جب ہر طرف اللہ رسول کی حمد و ثنا ہو رہی ہو۔ خدا کے لیے اس سوچ کو بدلو اور صبح ہر کسی کو خوش بخت سمجھو۔

کوئی کسی کے لیے منحوس نہیں ہوتا، یہ صرف شیطانی سوچ ہے اور کچھ نہیں۔


اگر میری معلومات جو اپ سے شیئر کرتا ہوں اچھی لگتی ہیں تو مجھے فالو اور لائک بھی کر لیا کریں اس سے حوصلہ افزائی ہوتی ہے میری وہ میرے لیے دعا بھی کیا کریں اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو رائے راست پر چلائے

جو اقوام فطرت سے سیکھتی ہیں وہ علم و ٹیکنالوجی میں بھی آگے بڑھ جاتی ہیں۔ خدا کی مخلوق میں ہمارے لئے نشانیاں ہیں۔ جن لوگو...
02/12/2024

جو اقوام فطرت سے سیکھتی ہیں وہ علم و ٹیکنالوجی میں بھی آگے بڑھ جاتی ہیں۔ خدا کی مخلوق میں ہمارے لئے نشانیاں ہیں۔ جن لوگوں کا مشاہدہ تیز ہوتا ہے وہ تخلیقی ذہن کے ہوتے ہیں۔ یہ تفکر و غور و فکر اور فطرت میں ٹھہرنے سے پیدا ہوتا ہے۔

بی 2 بومبر طیارے کی شیپ اس پرندے سے کتنی متاثر لگتی ہے 🦅۔

یہ کہانی ان حضرات کے لیے ہے جو صبح کسی کے ملنے کو نحوست اور پورا دن بیکار ہونا تصور کرتے ہیں، اور جو صبح متھے لگے اس کو ...
02/12/2024

یہ کہانی ان حضرات کے لیے ہے جو صبح کسی کے ملنے کو نحوست اور پورا دن بیکار ہونا تصور کرتے ہیں، اور جو صبح متھے لگے اس کو سارا دن گالی گلوچ کرتے رہتے ہیں۔

یہ ایک بادشاہ کی کہانی ہے جو شکار کا بہت شوقین تھا۔ وہ جب بھی شکار پر جانے کے لیے محل سے نکلتا تو حکم دیتا کہ میرے راستے میں کوئی بندہ نہ آئے۔ اس کے حکم پر سپاہی سارے راستے صاف کر دیتے اور کوئی انسان بادشاہ کے سامنے نہ آتا۔

ایک دن ایسا ہوا کہ ایک بزرگ لکڑیاں کاٹنے کے لیے جنگل میں گیا ہوا تھا۔ وہ لکڑیاں کاٹ کر واپس جا رہا تھا اور اس کی راہ بادشاہ کے راستے سے ٹکرا گئی۔ بادشاہ نے اسے دیکھ لیا اور سخت غصے میں آ گیا۔ اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس بزرگ کو درخت کے ساتھ باندھ دو۔ بادشاہ نے کہا: "اگر شکار نہ ملا تو واپس آ کر میں تمہیں پھانسی دے دوں گا، اور اگر شکار مل گیا تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔"

بادشاہ شکار پر چلا گیا اور قسمت سے اسے بہت اچھا شکار مل گیا۔ خوش ہو کر وہ واپس آیا اور بزرگ کو درخت سے کھولنے کا حکم دیا۔ بادشاہ نے کہا: "مجھے شکار مل گیا ہے، اس لیے میں تمہیں معاف کرتا ہوں۔"

بزرگ نے کہا: "بادشاہ سلامت، میں آپ سے ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں۔"

بادشاہ نے کہا: "کہو کیا کہنا چاہتے ہو۔"

بزرگ نے کہا: "آپ کے لیے میں منحوس ثابت ہوا کیونکہ آپ کا ماننا تھا کہ میرے سامنے آنے کی وجہ سے آپ کو شکار نہیں ملے گا۔ لیکن آپ بھی میرے لیے منحوس ثابت ہوئے کیونکہ آپ کی وجہ سے میرا پورا دن برباد ہوا اور مجھے اس قدر تکلیف برداشت کرنی پڑی۔" یہ سن کر بادشاہ سوچ میں پڑ گیا اور اسے احساس ہوا کہ بات درست ہے۔ اگر کوئی آپ کے لیے منحوس ہے تو آپ بھی اس کے لیے منحوس ہو سکتے ہیں۔

تو بہنو اور بھائیو، کوئی منحوس نہیں ہوتا، اور وہ بھی صبح کے وقت جب ہر طرف اللہ رسول کی حمد و ثنا ہو رہی ہو۔ خدا کے لیے اس سوچ کو بدلو اور صبح ہر کسی کو خوش بخت سمجھو۔

کوئی کسی کے لیے منحوس نہیں ہوتا، یہ صرف شیطانی سوچ ہے اور کچھ نہیں۔

—ڈاکٹر طاہر نذیر
اگر میری معلومات جو اپ سے شیئر کرتا ہوں اچھی لگتی ہیں تو مجھے فالو اور لائک بھی کر لیا کریں اس سے حوصلہ افزائی ہوتی ہے میری وہ میرے لیے دعا بھی کیا کریں اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو رائے راست پر چلائے

01/12/2024
01/12/2024

کتاب النوازل میں ہںے

حنفیہ رفعِ یدین کیوں نہیں کرتے؟
سوال(۳۹۷):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: حضرت امام ابوحنیفہؒ نے رفع یدین کیوں نہیں کیا؟ حضرت امام ابوحنیفہؒ کی اتباع کرنے والے حنفی رفع یدین نہیں کرتے، کیا یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا؟ حضور نے رفع یدین کو کب اور کس وقت منع فرمایا، کیا حضور کے زمانہ اور آپ کے خلفاء کے زمانہ میں یا تابعین وتبع تابعین وغیرہ کے زمانہ میں رفع یدین ہوتا تھا؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلیفۂ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، امیر المؤمنین سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، امیر المؤمنین سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ اورسیدنا حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ صحابہ سے نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ دیگر مواقع پر رفع یدین نہ فرمانے کا ثبوت صحیح روایات سے ہے۔
حضرت ابراہیم نخعیؒ نے حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی رفع یدین والی حدیثکے بارے میں فرمایا ہے کہ اگر حضرت وائلؓ نے آپ کو ایک مرتبہ رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا، تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آپ کو پچاس مرتبہ رفع یدین نہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
اسی طرح حضرت امام طحاویؒ نے حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے نقل فرمایا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین نہیں کرتے تھے، جب کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا تھا؛ لیکن آپ کی وفات کے بعد رفع یدین کو ترک فرمادیاتھا؛ لہٰذا حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا رفع یدین نہ کرنا ان کے نزدیک نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین کے منسوخ ہونے کی دلیل ہے۔
اِنہی روایات کی بنا پر حضراتِ حنفیہ رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت عدم رفع یدین پر عمل کرتے ہیں، اور اس سلسلہ میں ان کے دلائل مضبوط ہیں۔ تفصیلات مفصل کتابوں میں ملاحظہ فرمائیں۔ چند احادیث وآثار اور فقہی عبارات ذیل میں درج ہیں:
عن علقمۃ عن عبد اللّٰہ ابن مسعود رضي اللّٰہ عنہ قال: صلیت خلف النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم، وأبي بکر وعمر فلم یرفعوا یدیہم إلا عند افتتاح الصلاۃ۔ (السنن الکبری للبیہقي ۲؍۷۹-۸۰ دار الکتب العلمیۃ ۲؍۳۹۳ رقم: ۲۵۸۶ دار الفکر بیروت)
عن عقلمۃ عن عبد اللّٰہ بن مسعود رضي اللّٰہ عنہ عن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم أنہ کان یرفع یدیہ في أوّل تکبیرۃ ثم لا یعود۔ (طحاوي شریف ۱؍۱۳۲ رقم: ۱۳۱۶)
عن علقمۃ قال: قال عبد اللّٰہ ابن مسعود رضي اللّٰہ عنہ: ألا أصلي بکم صلاۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فصلی فلم یرفع یدیہ إلا في أول مرۃ۔ (سنن الترمذي ۱؍۵۹ رقم: ۲۵۷، سنن أبي داؤد ۱؍۱۰۹ رقم: ۷۴۸، سنن النسائي ۱؍۱۲۰ رقم: ۱۰۵۹)
قال أبوعیسیٰ حدیث ابن مسعود حدیث حسن، وبہ یقول غیر واحد من أہل العلم من أصحاب النبي والتابعین، وہو قول سفیان وأہل الکوفۃ۔ (سنن الترمذي ۱؍۵۹، وصححہ ابن جزم، بذل المجہود ۴؍۴۱۱ مطبع لکھنؤ، ۲؍۵ مطبع سہارن فور)
عن البراء بن عازب رضي اللّٰہ عنہما قال: رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رفع یدیہ حین افتتح الصلاۃ، ثم لم یرفعہما حتی انصرف۔ وفي روایۃ: رفع یدیہ إلی قریب من أذنیہ ثم لا یعود۔ (سنن أبي داؤد ۱؍۱۰۹ رقم: ۷۴۹-۷۵۰، مسند أبي یعلی الموصلي ۲؍۱۵۳، رقم: ۱۶۸۸، طحاوي شریف ۱؍۱۳۲ رقم: ۱۳۱۳)
عن إبراہیم عن الأسود قال: رأیت عمر بن الخطاب یرفع یدیہ في أول تکبیرۃ، ثم لایعود، قال: ورأیت إبراہیم والشعبي یفعلان ذلک۔ (طحاوي شریف ۱؍۱۳۳ رقم: ۱۳۲۹)
عن عاصم بن کلیب الجرمي عن أبیہ قال: رأیت علي بن أبي طالب رضي اللّٰہ عنہ رفع یدیہ في التکبیرۃ الأولی من الصلاۃ المکتوبۃ ولم یرفعہما فیما سوی ذلک۔ (الموطأ لإمام محمد ۹۲)
عن مجاہد قال: صلّیت خلف ابن عمر رضي اللّٰہ عنہ فلم یکن یرفع یدیہ إلا في التکبیرۃ الأولی من الصلاۃ، فہذا ابن عمر قد رأی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم یرفع، ثمَّ قد ترک ہو الرفع بعد النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فلا یکون ذلک إلا وقد ثبت عندہ نسخ ما قد رأی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فعلہ وقامت الحجۃ علیہ بذلک۔ (طحاوي شریف ۱؍۱۳۳ رقم: ۱۳۲۳)
عن المغیرۃ قال: قلت لابراہیم: حدیث وائل أنہ رأی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم یرفع یدیہ إذا افتتح الصلاۃ وإذا رکع وإذا رفع رأسہ من الرکوع، فقال:إن کان وائل رآہ مرّۃ یفعل ذلک فقد رآہ عبد اللّٰہ خمسین مرّۃ لایفعل ذلک۔ (طحاوي شریف ۱؍۱۳۲ رقم: ۱۳۱۸)
ولا یرفع یدیہ إلا في التکبیرۃ الأولیٰ (ہدایہ) وتحتہ في فتح القدیر: وأخرج الدار قطني وابن عدي عن محمد بن جابر عن حماد بن سلیمان عن إبراہیم عن علقمۃ عن عبد اللّٰہ قال: صلیت مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وأبي بکر وعمر رضي اللّٰہ عنہما فلم یرفعوا أیدیہم إلا عند افتتاح الصلاۃ۔ (ہدایۃ مع الفتح ۱؍۳۰۹-۳۱۱ بیروت، أخرجہ الإمام البیہقي في سننہ الکبریٰ ۲؍۱۱۳ جدید، ۲؍۷۹ قدیم رقم: ۲۵۳۴، وإسنادہ جید کذا في الجوہر النقي، إعلاء السنن ۳؍۷۱ رقم: ۸۷۱ دار الکتب العلمیۃ بیورت)
ولا یسن مؤکداً رفع یدیہ إلا في سبع مواطن کما ورد … تکبیرۃ افتتاح وقنوت (درمختار) وفي الشامي: والوارد ہو قولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا ترفع الأیدي إلا في سبع مواطن، تکبیرۃ الافتتاح وتکبیرۃ القنوت وتکبیرات العیدین الخ۔ قال في الفتح القدیر: والحدیث غریب بہٰذا اللفظ۔ (شامي ۲؍۲۱۴ زکریا)
فلا یرفع یدیہ عند الرکوع ولا عند الرفع منہ لحدیث أبي داؤد عن البراء قال: رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حین افتتح الصلاۃ ثم لم یرفعہما حتی انصرف۔ (البحر الرائق ۱؍۳۲۳ کوئٹہ) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ۶؍۱؍۱۴۱۶ھ
الجواب صحیح:شبیر احمد عفا اللہ عنہ

Address

سلیم خان
Panjpir
23330

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Knowledge علوم لاسلامی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share