Al sunnat wl jamat pallandri

Al sunnat wl jamat pallandri religious

03/01/2024

*الحمدللہ ثم الحمدللہ*
چند ماہ قبل *بارل مٹھے ناون* سے ایک ملعون *جواد علی نقوی ولد قربان شاہ* نامی شخص نے حضرات صحابہ اکرام کی شان میں گستاخی کی گئی تھی۔ جس کی ایف آئی آر مقامی تھانہ پلندری میں درج کر دی گئی تھی۔ جس کی گرفتاری ممکن نا ہو سکی۔ جس وجہ سے *ملزم جواد علی نقوی ولد قربان شاہ* کو *512* سیکشن کے تحت اشتہاری قرار دے دیا گیا ہے۔
*جس پر تمام ضلعی انتظامیہ و جملہ متعلقین و معاونین کا شکریہ*

شکریہ وسلام

*پہرہ جاری رہے گا ان شاء اللہ*

28/12/2023
01/10/2023

ڈنہ پوٹھی میر خان کے مقام پر گستاخانِ صحابہ کے خلاف احتجاجی تاریخی ریلی

01/10/2023

مورخہ 29-09-23 بروز جمعہ بعد از نماز جمعہ کچہری چوک پلندری میں حیدر آباد میں ہونے والی گستاخی کہ حوالے سے msoضلع سدھنوتی کہ زیر اہتمام احتجاج منعقد کیا ۔ اس پروگرام میں اہلسنت والجماعت تحصیل پلندری کے ذمہداران و کارکنان نے بھرپور شرکت کی احتجاج میں مختلف جماعتوں کہ علماء کرام نے گفتگو کی اہلسنت والجماعت پلندری کہ نائب صدر مولانا عمر صاحب نے جماعت کی نمائندگی کی اور بہت ہی عمدہ گفتگو کی۔
سردار لقمان ایاز ترجمان اہلسنت والجماعت پلندری

🔴 *06 ستمبر یوم تاسیس سپاہِ صحابہؓ*  🔴 گردشِ ایام کے بعد ہر سال جب 6 ستمبر کا دن آتا ہے تو ہر محب وطن پاکستانی کا چہره خ...
06/09/2023

🔴 *06 ستمبر یوم تاسیس سپاہِ صحابہؓ* 🔴

گردشِ ایام کے بعد ہر سال جب 6 ستمبر کا دن آتا ہے تو ہر محب وطن پاکستانی کا چہره خوشی و فخر سے چمکنے اور دمکنے لگتا ہے اور اس پر جوش و ولولہ اور عزم و ہمت کی عجیب کیف و مستی طاری ہو جاتی ہے کیونکہ اس 6 ستمبر کے روز پاکستان کی بہادر فوج نے ملکی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ آور ہندوستان کی بزدل فوج کو عبرتناک اور ذلت آمیز شکست دی تھی......
*اسی 6 ستمبر کے دن کے ساتھ ہمارا ایک مذہبی و نظریاتی تعلق اور رشتہ بھی ہے جب شہیدِ ناموس صحابہؓ مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ نے ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ناموس رسالت ﷺ و ناموس صحابہؓ و اھل بیت ؓ کے تحفظ اور ازواج مطہرات ؓ کے تقدس کے دفاع کے لئے 6 ستمبر 1985ء کو سر زمین جھنگ پر 29 سر فروش افراد پر مشتمل تنظیم " انجمن سپاه صحابہؓ پاکستان " کی بنیاد رکھی*
💠اس وقت کسی کے حاشیہِ خیال میں بھی یہ بات نہ تھی کہ مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کے اخلاص و للّٰہیت اور شہداء ناموس صحابہؓ کے خون کی برکت سے سپاہ صحابہؓ تمام مسلم مکاتب فکر کی نمائندہ، ملک کی سب سے بڑی دینی و مذہبی تنظیم اور عالمی جماعت بن جائے گی۔
🔶مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ نے ایسے حالات میں *"سپاہ صحابہؓ"* کی بنیاد رکھی جب ملک میں حضور ﷺ ،صحابہ کرامؓ، اهل بیت عظام ؓ اور ازواج مطہرات ؓ کی شان اقدس میں گستاخی اور توہین کرتے ہوئے سرعام ان مقدس ہستیوں کو برا بھلا کہا جار ہا تھا، اسلام اور اہلِ اسلام کے خلاف غلیظ لٹریچر کی اشاعت و تقسیم عروج پر تھی۔ یہ لٹریچر اسلام کے مقدس نام پر پھیلایا جارہا تھا۔ مسلمان اپنے مذہبی حقوق سے غافل ہو کر سستی کی لمبی چادر تان کر بے فکر تھے۔ مخصوص دھن کے سرمایہ دار اور ظالم جاگیردار اس مظلوم اور غریب عوام کے "سیاه و سفید" کے مالک بن چکے تھے۔ عقائد و نظریات کا شعور ان کے ذہنوں سے نکال دیا گیا تھا۔
🔷 ان حالات میں مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ عوامِ اهل سنت اور مظلوم قوم کے "مسیحا " بن کر سر زمین جھنگ میں داخل ہوتے ہیں اور محلہ پیلیانوالہ کی ایک مسجد (موجودہ مسجد حق نواز شہیدؒ) میں خطابت کا آغاز کرتے ہیں۔ ان کی علمی وجاہت،وسعت مطالعه ، دلائل و براہین اور جرات و بہادری سے مزین لیکن قرآن و حدیث کی روشنی میں "سحرانگیز" خطابت اور بے پناہ خوبیوں اور صلاحیتوں کی وجہ سے پڑھے لکھے اور باشعور نوجوانوں کا حلقہ دیوانہ وار ان کے ارد گرد جمع ہونے لگا۔
💠 مولانا حق نوار جھنگوی شہیدؒ کی روشن زندگی اور جرات مندانہ کردار کھلی ہوئی کتاب کی طرح ان نوجوانوں کے سامنے تھا۔ مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ قول کے بجاۓ عمل پر یقین رکھتے تھے، وہ گفتار کے بجائے کردار کے غازی تھے۔ جھنگ کے مخصوص مذہبی حالات ، جاگیرداروں، وڈیروں کی طرف سے نوجوانوں پر ہونے والے مظالم کو دیکھتے ہوئے آپ نے مظلوم عوام کی حمایت اور "سنی حقوق" کے تحفظ کے لئے جاگیر داروں سمیت تمام استحصالی قوتوں سے ٹکرانے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لئے انہوں نے “سپاہِ صحابہؓ" کی بنیاد رکھی۔
🔶یہاں سے امیر عزیمت مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کا عزیمت کے راستے پر سفر شروع ہوتا ہے۔ مصائب و مشکلات اور تکالیف کی کھائیاں منہ کھولے آپ کی طرف بڑھنے لگیں، اپنے اور بیگانے مخالفین کی صفوں میں کھڑے نظر آنے لگے، ہر طرف کفر و شرک اور ظلمات کا راج تھا۔ سنی حقوق کے لئے ایسے ماحول اور خونی حالات میں "آوازِ حق" بلند کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا لیکن درویش صفت مردِ مجاہد مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ نے خدا کے توکل پر انتہائی اخلاص و للھیت کے ساتھ بغیر کسی دنیاوی وسائل کے ارب پتی وڈیروں اور جاگیرداروں کے خلاف علمِ جہاد بلند کر دیا۔
🔷 ایک مسجد کے خطیب اور درویش صفت مولوی کے ان کے مقابلہ میں ایمان و عقائد اور پاکیزہ نظریات کی دولت سے مسلح ہو کر تنِ تنہا میدان عمل میں آنے سے عوام حیران اور باطل قوتیں پریشان دکھائی دینے لگیں۔
لوگوں نے آوازے کستے ہوئے کہا کہ یہ غریب کسان کا بیٹا ہے جدید علوم سے بے بہرہ، طوفانی جذبات میں بہنے والا مولوی ، میدانِ سیاست میں نوارد، فلسفہِ جمہوریت سے عاری، جس کی کوئی مؤثر لابی نہیں، رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والے قومی اخبارات کے مشہور و معروف صحافیوں سے اس کی علیک سلیک نہیں، جس کے پاس مال و دولت کی فراوانی نہیں وہ ان جاگیرداروں ، وڈیروں اور سرمایہ داروں کے چنگل سے "مظلوم یرغمالی عوام" کو کیسے آزاد کروائے گا ؟؟ باطل قوتوں کا راستہ کیسے روکے گا؟...
💠 مگر چشمِ فلک اور اہل نظر نے دیکھا کہ اس جدید علوم سے ناواقف " مولوی" نے وقت کے فرعونوں کو ایسا للکارا کہ جس سے ان کی کمین گاہیں اور ٹارچر سیل لرز کر رہ گئے ۔کفر کے فلک بوس محلات اس کی یلغار اور " آواز حق" سے زمین بوس ہوتے ہوئے نظر آئے لگے ..........
🔶 مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ لالچ و طمع،خود غرضی مال و دولت کی حرص و ہوس اور شہرت نام کی کسی چیز سے آشنا نہ تھے۔ مصلحت پسندی،حالات سے سمجھوتا ، مفاد پرستی خوف و بزدلی نام کا کوئی لفظ ان کی لغت میں ہی نہ تھا ۔مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کی زندگی اتنی سادہ ہے کہ بے اختیار ان کی سادگی پر پیار آنے لگے۔ اور وہ عجیب شان بے نیازی اور بے خوف طبیعت کے مالک تھے کہ ان کی بے خوفی پر خوف آنے لگتا تھا۔
🔷مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ پیشہ ور مقرر و خطیب کے بجائے حق گو خطیب تھے ۔ وہ حق کو بغیر کسی مصلحت اور بغیر کسی لگی لپٹی کے بے خوف ہو کر عوام کے سامنے پیش کرتے تھے ۔ ان کی یہی ادا عوام کو بڑی پسند تھی۔
💠حضور ﷺ و صحابہ کرامؓ و اہل بیت ؓ اور ازواجِ مطہرات ؓ کے ساتھ والہانہ عقیدت و محبت اللہ تعالی نے کوٹ کوٹ کر آپ کے دل میں بھر دی تھی جس کی وجہ سے ان کا انداز خطابت باقی عام خطیبوں سے جدا اور منفرد تھا۔ مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ فرقہ واریت اور مذہبی قتل و غارت گری کے سب سے بڑے دشمن تھے اور اس کو جماعت کے لئے "زہرِ قاتل " سمجھتے تھے۔ آپ " اتحاد بین المسلمین" کے عظیم علمبردار اور امن و سکون کے داعی تھے اسی وجہ سے انہوں نے ناموس رسالتﷺ ، ناموسِ صحابہ کرامؓ و اہل بیت ؓ کے تحفظ اور ازواج مطہراتؓ کے تقدس کے دفاع کے لئے تمام مسلم مکاتب فکر کو "سپاہِ صحابہؓ" کے جھنڈے تلے ایک ہی سٹیج پر متحد و منظم اور جمع کر دیا۔
🔶بعض لوگ مولانا حق نواز،جھنگوی شہیدؒ کو محض ایک جذباتی اور شعلہ نواء مقرر و خطیب کے طور پر جاننے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ حقیقت میں اللہ تعالی نے مولانا حق نوار جھنگوی شہیدؒ کے دل میں دینِ اسلام کے لیے عجیب طلب اور تڑپ اور کفر کے خلاف نفرت کو بھر دیا جس کا اظہار ان کی تقریروں میں پرجوش الفاظ کی صورت میں ہوتا۔
مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ جب اپنے مخصوص اور پر سواز انداز و آواز میں شانِ صحابہؓ بیان کرتے ہوئے اپنے احساسات و جذبات کا دکھ درد کے ساتھ اظہار کرتے ہوئے مسلمانوں کو خوابِ غفلت سے بیدار کرتے اور باطل قوتوں کے کفر کو بے نقاب کرتے تو معلوم ہوتا کہ ان کے جسم میں خون نہیں آگ دوڑ رہی ہے اور منہ سے الفاظ کی بجائے شعلے نکلتے چلے جارہے ہیں جو کفر کے ایوانوں کو بھسم کرتے چلے جا رہے ہیں مشکل سے مشکل الفاظ بھی بڑی خوبصورتی اور ایک روانی و تسلسل کے ساتھ ایک تسبیح کے دانوں کی طرح ایک خاص ترتیب سے ان کے منہ سے نکلتے چلے جاتے اور جب دوران تقریر اپنے مؤقف و مشن کے حق میں اور باطل قوتوں کے کفر پر بڑی بے خوفی اور جرات و بہادری کے ساتھ "قرآن و حدیث" سے دلائل و براہین کے انبار لگاتے چلے جاتے تو ان کو دیکھنے اور سننے والا ان کی قوت و استقلال پر حیران و انگشتِ بدنداں رہ جاتا۔
🔷 پھر مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کی" آواز حق" سرزمین جھنگ سے نکل کر چہار سو عالم میں سنائی دینے لگی۔ ان کے فکر و نظر کی روشنی ہر طرف پھیلنے لگی۔ باطل قوتیں پریشان دکھائی دینے لگئیں، حکمران بھی چونک اٹھے،انسانوں کا ہجوم دیوانہ وار ان کی طرف بڑھنے لگا اور ان کے مقدس مشن سے وابستہ ہو گیا..... اور پھر مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کو راستے سے ہٹانے کے لئے باطل قوتیں سر جوڑ کر بیٹھ گئیں اور باہمی سوچ و بچار کے بعد انہوں نے مولانا جھنگوی شہیدؒ کے خلاف بھی فرعونی و نمرودی ظالمانہ راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کے وجود پر ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑے جانے لگے۔۔۔ ان کو مادر زاد برہنہ کر کے پیٹا گیا، وہ جیل کی کالی کوٹھریوں میں بسیرا کرتا رہا ہتھکڑیاں، بیڑیاں اس کے دست و پا چومتی رہیں " موت اس کے گرد گھومتی رہی، اسے دفعہ 302 کے جھوٹے قتل کے مقدمات میں پھنسا کر
"پسِ دیوارِ زنداں" کیا جاتا رہا، اس کی زندگی کا چراغ گل کرنے کے لئے قاتلانہ حملے کرائے جاتے رہے، ان انسانیت سوز مظالم کے باوجود مولانا حق جھنگوی شہیدؒ کی آوازِ حق کو دبایا نہ جا سکا۔
💠 ترغیب و تحریص، جوڑ توڑ، دھونس دھاندلی جیسے ہتھکنڈوں، پرمٹوں اور پلاٹوں کے سبز باغات دکھا کر ان کو خریدا نہ جا سکا۔
مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کو اپنے راستے سے ہٹانے کے لئے باطل قوتوں نے اپنی کوششوں کو تیز تر کر دیا، ان پر الزامات کی بارش ہونے لگی، اپنوں نے انہیں متشدد کہا، بے ادب اور عقل و خرد سے عاری ، حکمت و دانائی سے خالی کہا، حکمرانوں نے انہیں فسادی، تخریب کار اور دہشت گرد کے القابات سے نوازتے ہوئے قانون شکن کہا۔
لیکن مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ نے جواب میں کہا کہ اگر صدیق ؓ کی صداقت، اماں عائشہ ؓ کے تقدس اور ان کی عزت و حرمت کا دفاع کرنا دہشت گردی و تحریب کاری اور فساد ہے تو میں "اقبالِ جرم" کرتا ہوں اور اس مقدس مشن کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ ٹھوکر سے اڑاتا چلا جاؤں گا اور ناموسِ صحابہؓ کے تحفظ کے لیے انگریز کے کالے قوانین و ضابطے اور ناجائز پابندیاں پاؤں تلے روندتا چلا جاؤں گا........
🔶 مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کی طرف سے یہ محض جذباتی الفاظ، شعله نوائی و زبانی جمع خرچ نہیں تھے بلکہ دنیا جانتی تھی کہ انہوں نے فرنگی قوانین کی دھجیاں بکھیر دیں اور پابندیوں کے پرخچے اڑا دیے ۔۔۔لاء اینڈ آرڈر کو ناموس صحابہؓ کے تحفظ میں رکاوٹ سمجھتے ہوئے پاؤں تلے روند ڈالا، یہ سب کچھ باطل قوتیں کیسے برداشت کر سکتی تھیں۔ آخر کار حق کی گونجتی گرجتی آوازِ حق کو ہمیشہ کیلئے خاموش کرنے کی مذموم خونی سازش تیار کی گئی کیونکہ ان کے پاس مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کے دلائل کا سامنا کرنے سے بچاؤ کی کوئی اور صورت نہ تھی اس لئے اپنے کفر کو چھپانے کے لئے باطل قوتوں نے دلیل کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے گولی سے دینے کا فیصلہ کیا اور پھر مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کو ان کے گھر کی دہلیز پر گولی مار کر شہید کر دیا گیا اور مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ عالمِ اسلام کو سوگوار اور مسلمانوں کو روتا چھوڑ کر جنت الفردوس میں جا پہنچے۔
🔷باطل قوتیں خوش تھیں کہ مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کی مظلومانہ شہادت سے سپاہِ صحابہؓ کا وجود ختم ہو جائے گا، جذباتی نوجوان آخر کار تھک ہار کر پیچھے ہٹ جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کے مقدس خون کی برکت اور ان کے اخلاص کی بدولت سنی نوجوان بڑی تیزی کے ساتھ استقامت و ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے ایک مرتبہ پھر مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کے جانشین قائد سپاہ صحابہؓ مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی اور جرنیل سپاه صحابہؓ مولانا ایثار القاسمی کی ولولہ انگیز قیادت میں سپاه صحابہؓ کا قافلہ بڑی تیزی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگا ملک میں ہر طرف شہر شہر، نگر نگر، قریہ قریہ مشنِ جھنگوی شہیدؒ کی معطر خوشبو پھیلنے لگی۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے مولانا ایثار القاسمی جاگیرداروں اور سرمایہ کاروں کو عبرتناک شکست دے کر سرزمین جھنگ سے قومی اسمبلی جاپہنچے جہاں وہ شہیدِؒ ناموسِ صحابہؓ مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ کی خواہش اور تڑپ کے مطابق اس قانون ساز ادارہ سے ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کی طرح ناموس صحابہؓ ، و اہلِ بیت ؓ اور ازواج مطہرات ؓ کے تقدس کو بھی آئینی اور قانونی تحفظ دلانا چاہتے تھے جس کا اظہار مولا ایثار القاسمی نے قومی اسمبلی میں اپنی زندگی کی پہلی و آخری تقریر میں کیا اور پھر قومی اسمبلی میں مشنِ جھنگوی شہیدؒ کی گونج سنائی دینے لگی۔ آخر کار مولانا ایثار القاسمی شہیدؒ ایم این اے کو بھی ایک خونی سازش کے ذریعے شہید کر دیا گیا۔
🔶لیکن مولانا ایثار القاسمی شہیدؒ اپنی شہادت سے قبل ملک و بیرون ملک بڑی تیزی کے ساتھ مشن جھنگوی شہیدؒ کو پھیلا چکے تھے۔ مولانا قاسمی شہیدؒ کی شہادت کے ساتھ ہی باطل قوتوں کے باہمی گٹھ جوڑ کے نتیجہ میں ظلم و تشدد، سفاکی و درندگی کا وہ بازار گرم ہوئے کہ ہلاکو اور چنگیز کی روحیں بھی کانپ اٹھیں اور پھر جھنگ کی عوام نے مولانا ایثار القاسمی شہیدؒ کے جانشین مولانا محمد اعظم طارقؒ کو بھی بھاری اکثریت سے کامیاب کراتے ہوئے اسمبلی پہنچا دیا ........ مولانا محمد اعظم طارقؒ نے ناموس رسالتﷺ کی طرح ناموس صحابہؓ و اهل بیت ؓ کو آئینی و قانونی حیثیت اور تحفظ دلانے، شیعہ سنی خونی فسادات کے خاتمے اور گستاخان صحابہؓ کو عبرتناک سزا دلوانے کے لئے قومی اسمبلی میں مسلم لیگ و پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتوں کے اراکین اسمبلی کی حمایت و دستخط کے ساتھ ناموس صحابہؓ واہل بیت ؓ بل پیش کیا۔ اس کی یقینی کامیابی و منظوری کو دیکھتے ہوے باطل قوتیں سرگرم عمل ہو گئیں حکمرانوں نے بھی باطل قوتوں کو خوش کرنے کے لئے اس بل کے راستے میں رکاوٹ ڈالتے ہوئے اراکین اسمبلی کو اس کی حمایت و دستخط واپس لینے کے لئے مجبور کرنا شروع کیا لیکن اراکین اسمبلی کے انکار کے بعد حکمرانوں نے مولانا اعظم طارقؒ کو اس بل کے والی لینے کے لئے لالچ و مراعات کی پیشکش کی لیکن مولانا اعظم طارقؒ کی طرف سے اس کو ٹھکرانے اور بل کی منظوری پر دباؤ دینے پر حکومت نے ظالمانہ اور فرعونی راستہ اختیار کرتے ہوئے سپاہِ صحابہؓ کے سربراہ مولانا ضياء الرحمان فاروقیؒ اور مولانا اعظم طارقؒ سمیت دیگر سینکڑوں راہنماؤں اور کارکنوں کو بلا جواز گرفتار کر کے" پسِ دیوارِ زنداں " جیل کی زینت بنادیا گیا۔۔۔۔۔
🔷مولانا ضیاء الرحمان فاروقیؒ اپنی گرفتاری سے قبل سپاہِ صحابہؓ کے موقف و مشن کو پاکستان کے علاوہ دو درجن سے زائد بیرون ممالک میں متعارف کراتے ہوئے اس کی شاخیں قائم کر چکے تھے۔ مولانا ضیاء الرحمان فاروقیؒ پاکستان میں فرقہ واریت کے خاتمہ اور "اتحاد بین المسلمین" کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے سابق صدر غلام اسحاق خان ،سردار فاروق احمد خان لغاری، وزیراعظم میاں نواز شریف سمیت گورنرز، وزرائے اعلیٰ، اراکین اسمبلی اور اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقات کر کے ان کو سپاہِ صحابہؓ کے مشن اور کاز اور پر امن پالیسی سے آگاہ کرتے ہوۓ
" قیام امن " کے لئے سات نکاتی "امن فارمولا " پیش کیا۔ مولا ضیاء الرحمان فاروقیؒ علم و عمل اور دلائل کی جنگ لڑنے کے قائل اور عدم تشدد کے علمبردار تھے۔
🔶مولا ضیاء الرحمان فاروقیؒ نے اس مقصد کے لئے " ملی یکجہتی کونسل " کے پلیٹ فارم پر سپاہ صحابہؓ کے موقف کو پیش کرتے ہوئے" ملی یکجہتی کونسل" سے ضابطہ اخلاق کی شق نمبر 4 منظور کراتے ہوئے شیعہ سنی تمام جماعتوں کے قائدین سے متفقہ طور پر یہ تحریر کرایا کہ خلفائے راشدین ؓ اور اہل بیت ؓ کی تکفیر کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہے اس شق کی منطوری سپاہِ صحابہؓ کی بہت بڑی کامیابی اور مولانا ضیاء الرحمن فاروقیؒ کی فراستِ ایمانی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ مولانا عبد الستار نیازیؒ کی سربراہی میں فرقہ واریت کے خاتمہ کے لئے قائم شیعہ سنی قائدین پر مشتمل کمیٹی کی متفقہ رپورٹ بھی سپاہ صحابہؓ کے موقف کے حق میں تیار ہونا اور میاں نواز شریف تک اس کمیٹی کی سفارشات کا جانا تاریخی کام اور کامیابی ہے۔
🔴آج بھی اگر میاں محمد نواز شریف ، عبدالستار نیازی کمیٹی کی سفارشات پر عمل کروائیں تو پاکستان میں فرقہ وارانہ خونی فسادات اور مذہبی قتل و غارت گری کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ جیل میں بھی قائدین سپاِه صحابہؓ ۔مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقیؒ اور مولانا اعظم طارقؒ سے سودے بازی کرنے کی کوشش کر تے ہوئے رہائی و مراعات کی پیشکش کی لیکن قائدین سپاہ صحابہؓ نے اصولوں پر سودے بازی کرنے کی بجائے "مشنِ جھنگوی شہیدؒ“ کی خاطر موت کو گلے لگانے کو ترجیح دی۔ آخرکار جھوٹے مقدمات کی تاریخ پیشی کے موقع پر سیشن کورٹ لاہور میں اسلام دشمن قوتوں نے ایک بین الاقوامی اور ہمسایہ ملک کی مذموم سازش کے نتیجے میں خوفناک بم دھماکہ کے ذریعے عالم اسلام کی عظیم شخصیت اور سپاه صحابہؓ کے قائد مولانا ضیاء الرحمن فاروقیؒ دیگر کارکنوں کے ہمراہ شہید ہو گئے اور صحابہؓ کے دشمنوں نے سپاہ صحابہؓ کے جرنیل مولانا محمد اعظم طارقؒ کو درجنوں پولیس افسران و اہلکاروں سمیت شدید زخمی کر کے اپنے کفر کو مزید بے نقاب کر دیا۔
🔶سپاہ صحابہؓ کے سربراہ مولانا علامہ علی شیر حیدریؒ، مجھ سمیت سینکڑوں راہنماؤں کارکنوں اور مولانا اعظم طارقؒ کو شدید زخمی ہونے کے باوجود مسلسل بلاجواز گرفتار کیا گیا۔ قائدین و کارکنوں کے شہادتوں، مساجد و مدارس میں بم دھماکوں ، بے گناہ نمازیوں کے خون سے سفاک درندوں نے ہولی کھیلی۔ مولانا حق نواز جھنگوی شہیدؒ سے لیکر مولانا ضیاء الرحمن فاروقی شہیدؒ کی مظلومانہ شہادت اور مولانا ایثار القاسمی شہیدؒ سے لے کر سپاہ صحابہؓ لاہور کے سالار قاسم چوھدری شہیدؒ کی سربریده لاش تک سینکڑوں راہنما اور کارکن جام شہادت نوش کر چکے ہیں ۔
🔷لیکن سپاہ صحابہؓ کی عظمت پر قربان ہوتے چلے گئے ہیں قتل وغارت ،دھشت گردی،مظلومانہ شہادتوں، ظالمانہ گرفتاریوں ، بلاجواز مقدمات اور خصوصی عدالتیں قائم کرنے کے باوجود سپاہ صحابہؓ کا راستہ نہ روکا جا سکا۔ سپاہ صحابہؓ نے آج بھی آگ و خون کا سمندر اور مصائب و مشکلات کی وادیو ں کو عبور کرتے ہوے پوری جرات و بہادری کیساتھ عظمت صحابہؓ کا پرچم بلند کیا ہوا ہے۔ آنے والا مؤرخ جب بھی دیانتداری کے ساتھ تاریخ لکھنے بیٹھے گا تو سپاہِ صحابہؓ کی جرات و بہادری، لازوال جدوجہد، بے مثال قربانیوں اور شہادتوں کو لکھتے ہوئے اس کا قلم کانپ اٹھے گا اور اس کی پیشانی پسینے سے ضرور شرابور ہو گی۔۔
۔

Address

Pallandri
Pallandri

Telephone

+923460581040

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al sunnat wl jamat pallandri posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share