Masaail e Sharia

Masaail e Sharia شرعی مسائل اور ان کے حل کیلئے اس پیج سے جڑے رہیں

🌿 **کیا آپ کو فقہی مسائل میں مستند رہنمائی درکار ہے؟** 🌿الحمدللہ! ایک ایسا  واٹس ایپ گروپ قائم کیا گیا ہے جو **صرف فقہی ...
28/01/2026

🌿 **کیا آپ کو فقہی مسائل میں مستند رہنمائی درکار ہے؟** 🌿

الحمدللہ! ایک ایسا واٹس ایپ گروپ قائم کیا گیا ہے جو **صرف فقہی مسائل کے درست اور مستند جوابات** کے لیے مخصوص ہے۔

🔹 سوالات **صرف تحریری صورت** میں کیے جاتے ہیں
🔹 غیر متعلقہ مواد، وائس میسج، ویڈیو، تصاویر اور اشتہارات کی اجازت نہیں
🔹 جوابات میں
✔️ مستند فتاویٰ
✔️ یا **دارالافتاء اہلِ سنت (دعوتِ اسلامی)** کے مفتیانِ کرام کے متعلقہ ویڈیو کلپس
شیئر کیے جاتے ہیں

📌 اس گروپ کا مقصد بحث یا رائے زنی نہیں بلکہ **صحیح شرعی رہنمائی** فراہم کرنا ہے، اس لیے سنجیدگی، ادب اور اعتماد کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ
✅ آپ کا سوال صحیح جگہ پہنچے
✅ جواب مستند اور اطمینان بخش ہو
تو اس گروپ کا حصہ ضرور بنیں۔
حصہ بننے کے لیے انباکس کریں
جزاکم اللہ خیرًا 🌸

ٹک ٹاک پر ویڈیو لگا کر ارننگ کرنے کا حکم ؟ ٹک ٹاک کےذریعے انکم حاصل کر سکتے ہیں ؟ ۔۔۔ شیئر کیجیے
24/07/2025

ٹک ٹاک پر ویڈیو لگا کر ارننگ کرنے کا حکم ؟ ٹک ٹاک کےذریعے انکم حاصل کر سکتے ہیں ؟ ۔۔۔ شیئر کیجیے

بچوں میں وقفے کے لئے کروا کر بچہ دانی نکلوانا؟منصوبہ بندی کا آپریشن کروانا کیسا؟
26/06/2025

بچوں میں وقفے کے لئے کروا کر بچہ دانی نکلوانا؟
منصوبہ بندی کا آپریشن کروانا کیسا؟

معراج عقل کے تناظر میں۔۔۔ معراج اور عقل ، آخر درست کیا ہے ؟۔۔۔ شیئر کیجیے
26/01/2025

معراج عقل کے تناظر میں۔۔۔ معراج اور عقل ، آخر درست کیا ہے ؟۔۔۔ شیئر کیجیے

*15 شوال المکرم یومِ عرس عمِ رسول، سید الشہداء، حضرت سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ*سَر زمینِ عرب پر غزوۂ اُحد کو رُونما ...
23/04/2024

*15 شوال المکرم یومِ عرس عمِ رسول، سید الشہداء، حضرت سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ*

سَر زمینِ عرب پر غزوۂ اُحد کو رُونما ہوئے 46 سال کا عرصہ گزر چکا تھا کہ حضرتِ سیّدنا امیر معاویہ رضیَ اللہُ عنہ کے دورِ حکومت میں میدانِ اُحُد کے درمیان سے ایک نہر کی کھدائی کے دوران شہدائے اُحد کی بعض قبریں کھل گئیں۔ اَہلِ مدینہ اور دوسرے لوگوں نے دیکھا کہ شہدائے کرام کے کفن سلامت اور بدن تَرو تازہ ہیں اور انہوں نے اپنے ہاتھ زخموں پر رکھے ہوئے ہیں۔ جب زخم سے ہاتھ اٹھایا جاتا تو تازہ خون نکل کر بہنے لگتا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ پُرسُکون نیند سورہے ہیں.
(سبل الہدی، 4/252)

اس دوران اتفاق سے ایک شہید کے پاؤں میں بیلچہ لگ گیا جس کی وجہ سے زخم سےتازہ خون بہہ نکلا.
(طبقات ابن سعد،3/7)

اللہ اکبر! یہ شہید کوئی اور نہیں، بلکہ رسولُ اللّٰہ صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسلَّم کے معزز چچا اور رضاعی بھائی خیرُ الشُّہَداء، سیّد الشُّہَداء حضرتِ سیّدنا امیر حمزہ بن عبد المطلب رضیَ اللہُ تعالٰی عنہ تھے.
(طبقات ابن سعد، 1/87)

اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْیَآءٌ وَلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ (بقرہ:154)
ترجمہ: جو خدا کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، ہاں تمہیں خبر نہیں۔

آج آپ رضی اللہ عنہ کا یومِ عرس ہے، آپ اور دیگر شہدائے احد کو خوب ایصالِ ثواب کیجیے اور ان کے وسیلے سے عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اضافہ کی دعا بھی فرمائیں۔

09/04/2024

وسیلہ کی حقیقت!









*14 اگست 1947ء بمطابق 27 رمضان 1366ھ پاکستان معرضِ وجود میں آیا.* اس مبارک شب میں پاکستان کے استحکام، عالمِ اسلام اور مس...
06/04/2024

*14 اگست 1947ء بمطابق 27 رمضان 1366ھ پاکستان معرضِ وجود میں آیا.*
اس مبارک شب میں پاکستان کے استحکام، عالمِ اسلام اور مسلمانوں کی خیر و بقاء کے لئے بھی دعا فرمائیں.

*21 رمضان المبارک، یومِ شہادت مولائے کائنات، مولی مشکل کشا، شیر خدا، امیر المؤمنین حضرت سیّدُنا علیُّ المرتضیٰ کرم اللہ ...
01/04/2024

*21 رمضان المبارک، یومِ شہادت مولائے کائنات، مولی مشکل کشا، شیر خدا، امیر المؤمنین حضرت سیّدُنا علیُّ المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم*

*آپ رضی اللہ عنہ کی علمی شان(مختصراً) ملاحظہ فرمائیں:*

*حضرت علی علم و حکمت کا دروازہ:*
مولا علی مشکل کُشا ، شیرِ خدا رضی اللہُ عنہ علمی اعتبار سے صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہم میں ایک خاص مقام رکھتے تھے اور کیوں نہ رکھتے ہوں کہ خود نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ کی علمی شان بیان کرتے ہوئے آپ کو علم و حکمت کا دروازہ فرمایا ہے ، چنانچہ 2 فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ملاحظہ فرمائیے :

(1) *اَنَا مَدِیْنَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا* یعنی میں علم کا شہر ہوں اور علی اُس کا دروازہ ہیں۔
(مستدرک للحاکم، حدیث: 3744)

(2) *اَنَا دَارُ الْحِکْمَۃِ وَعَلِیٌّ بَابُھَا* یعنی میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔
(جامع ترمذی، حدیث: 3744)

*دعائے مصطفےٰ:*
حضرت سیّدُنا علیُّ المرتضیٰ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر یوں دعا کی : *اَللّٰهُمَّ اِمْلَأْ قَلْبَهٗ عِلْماً وَفَهْماً وَحِكَماً وَنُوراً* یعنی اے اللہ! علی کے سینے کو علم ، عقل و دانائی ، حکمت اور نور سے بھر دے۔
(تاریخ ابن عساکر ، 42 / 386)

*حضرت علی اور علم کے ہزار باب:*
بابِ علم و حکمت ، حضرت سیّدُنا علیُّ المرتضیٰ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ نبیِّ کریم ، رَءُوْفٌ رَّحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مجھے علم کے ایک ہزار باب سکھائے اور میں نے ان میں سے ہر باب سے مزید ایک ہزار باب نکالے۔
(تفسیرِ کبیر ، 3 / 200)

*جو پوچھنا ہے مجھ سے پوچھ لو:*
آپ رضی اللہُ عنہ کی علمی لیاقت بیان کرتے ہوئے صحابیِ رسول حضرت سیّدُنا ابو طُفیل عامر بن واثلہ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں : میں حضرت سیّدُنا علیُّ المرتضیٰ رضی اللہُ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، آپ نے خطبے کے دوران ارشاد فرمایا : مجھ سے سوال کرو ، اللہ پاک کی قسم! تم مجھ سے قیامت تک ہونے والے جس معاملے کے متعلق بھی پوچھو گے میں تمہیں اس کا جواب ضرور دوں گا۔

تابعی بُزرگ حضرت سیّدُنا سعید بن مسیّب رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صحابہ میں سوائے حضرت علی رضی اللہُ عنہ کے کوئی یہ کہنے والا نہیں تھا کہ مجھ سے پوچھ لو۔
(مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث: 26948)

*حضرت علی اور قراٰنی آیات کی معلومات:*
آپ رضی اللہُ عنہ قراٰنِ کریم کی آیات کے بارے میں جانتے تھے کہ کون سی آیت کب اور کہاں نازِل ہوئی ہے۔ چنانچہ منبعِ علم و حکمت ، مولائے کائنات حضرت سیّدُنا علیُّ المرتضیٰ رضی اللہُ عنہ نے فرمایا : مجھ سے قراٰنِ کریم کے بارے میں پوچھو ، بے شک میں قراٰنِ پاک کی ہر آیت کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ رات میں نازِل ہوئی ہے یا دن میں ، ہموار زمین پر نازِل ہوئی یا پہاڑ پر۔ ایک مقام پر مولا علی مشکل کُشا رضی اللہُ عنہ نے فرمایا : اللہ پاک کی قسم! میں قراٰنِ کریم کی ہر آیت کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ کب اور کہاں نازِل ہوئی ہے اور کس کے بارے میں نازِل ہوئی ہے۔
(طبقاتِ ابن سعد ، 2 / 257)

*قراٰنِ کریم کے ظاہر و باطن کے عالم:*
فقیہِ اُمّت کا لقب پانے والے صحابی حضرت سیّدُنا عبدُاللہ بن مسعود رضی اللہُ عنہ آپ رضی اللہُ عنہ کی قراٰن فہمی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : امیرُالمؤمنین حضرت سیّدُنا علی رضی اللہُ عنہ ایسے عالِم ہیں کہ جن کے پاس قراٰنِ کریم کے ظاہر و باطن دونوں کا علم ہے۔

قراٰنِ کریم کی آیت کے ظاہر اور باطن کی وضاحت کرتے ہوئے حکیمُ الاُمّت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : ظاہری مراد اِس کا لفظی ترجمہ ہے باطِنی مراد اِس کا منشاء اور مقصد یا ظاہر شریعت ہے اور باطن طریقت یا ظاہر اَحکام ہیں اور باطن اَسرار یا ظاہر وہ ہے جس پر علماء مطَّلَع ہیں اور باطن وہ ہے جس سے صوفیائے کرام خبردار ہیں یا ظاہر وہ جو نقْل سے معلوم ہو باطن وہ جو کشْف سے معلوم ہو۔
(مراۃ المناجیح، جلد 1، صفحہ 210)

*حضرت علی کے فتوے پر عمل:*
صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان کو اگر کسی معاملے میں حضرت علی رضی اللہُ عنہ کے فتوے کا علم ہوجاتا تو صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان آپ کے فتوے پر عمل کیا کرتے تھے ، چنانچہ حضرت عبدُاللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما فرماتے ہیں کہ جب کوئی معتبر شخص ہمیں حضرت علی رضی اللہُ عنہ کا فتویٰ بتاتا تو ہم اُس سے تجاوز نہ کرتے۔
( طبقات ابن سعد ، 2 / 258)

*مسائل میں حضرت علی کی طرف رُجوع:*
صحابۂ کرام بلکہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا بھی مسائل کے حل کے لئے حضرت علی رضی اللہُ عنہ کے پاس بھیجا کرتی تھیں۔
جیساکہ تابعی بُزرگ حضرت شُریح بن ہانی رضی اللہُ عنہما نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا سے موزوں پر مسح کے بارے میں سوال کیا تو آپ رضی اللہُ عنہا نے فرمایا : حضرت علی رضی اللہُ عنہ کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کیونکہ وہ اس مسئلے کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔
( مسلم، حدیث : 639 ، 641 ملخصاً)

*حضرت علی اور علمِ میراث:*
حضرت سیّدُنا عبدُاللہ بن مسعود رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیّدُنا علیُّ المرتضیٰ رضی اللہُ عنہ اہلِ مدینہ میں علمِ میراث سب سے زیادہ جانتے تھے۔
( الاستیعاب ، 3 / 207)

*تعدادِ روایات:*
آپ رضی اللہُ عنہ سے 586 احادیثِ مبارکہ مروی ہیں جو کتبِ احادیث میں اپنی خوشبوئیں بکھیر رہی ہیں۔
(طبقات ابن سعد، 3 / 27، کراماتِ شیرِ خدا، ص13 ملخصاً)

*شہادت:*
سِن 40 ہجری میں 17 یا 19 رَمَضانُ المبارَک کو فجر کی نماز کے لئے جاتے ہوئے راستے میں آپ رضی اللہُ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں آپ شدید زخمی ہوگئے اور 21 رَمَضانُ المبارَک کی رات کو جامِ شہادت نوش فرما گئے۔

اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

👈 مسائلِ روزہ کی مکمل playlist کا لنک ⬇️
https://www.youtube.com/playlist?list=PLjKGPq6ieWDDWmdZeuwpR4gakVRY0aAMc

👈 مسائلِ زکوٰۃ کی مکمل playlist کا لنک ⬇️
https://www.youtube.com/playlist?list=PLjKGPq6ieWDC2PtnOiqb8Vy_c30-1SW__









⚔️ *معرکۂ حق و باطل* ⚔️ *معرکۂ بدر 17رمضانُ المبارک* 2 سن ہجری کو جمعہ کے دن پیش آیا، جس میں 14 مسلمان شہادت سے سرفراز ہ...
27/03/2024

⚔️ *معرکۂ حق و باطل* ⚔️

*معرکۂ بدر 17رمضانُ المبارک* 2 سن ہجری کو جمعہ کے دن پیش آیا، جس میں 14 مسلمان شہادت سے سرفراز ہوئے ، جبکہ 70 کفار مارے گئے، 70 قید کئے گئے اور مسلمانوں کو عظیم فتح نصیب ہوئی.

صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان نے “ بدر “ میں سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حفاظت کے لئے ایک عریش (یعنی کھجوروں کی شاخوں کا سائبان) بنا دیا تاکہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم یہاں محفوظ رہیں اور میدانِ جنگ کا معائنہ فرماتے رہیں۔

یارِ غار و یارِ مزار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہُ عنہ اس سائبان کے اندر تلوار لئے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حفاظت فرما رہے تھے اور حضرت سعد بن معاذ چند اصحاب کے ساتھ اس سائبان کے باہر پہرا دے رہے تھے ، یہی وه مقام ہے جہاں آج “ *مسجدِ عریش* “ موجود ہے۔

*مراٰۃُ المناجیح* میں ہے : اصحابِ بدر کے نام پڑھ کر دعائیں کی جائیں تو اِن شآءَ اللہ قبول ہوں۔
(مراۃ المناجیح، جلد8، صفحہ567)

*شہدائے غزوۂ بدر:*
غزوۂ بدر میں جامِ شہادت نوش فرمانے والے صحابۂ کرام کے اسمائے مبارک یہ ہیں :(1) حضرت عبید ہ بن حارِث(2) حضرت عمیر بن ابی وَقَّاص (3) حضرت ذُوالشِّمالین عمیر بن عبد عمرو(4) حضرت عاقل بن ابی بکیر (5) حضرت مِہجَع مولیٰ عمر بن الخطاب (6) حضرت صَفْوان بن بیضاء (یہ 6مہاجرین ہیں) (7)حضرت سعد بن خَیْثَمَہ (8)حضرت مبشربن عبدالمُنْذِر (9)حضرت حارِثہ بن سُراقہ (10)حضرت عوف بن عفراء (11) حضرت معوذ بن عفراء (12)حضرت عمیر بن حُمام (13)حضرت رَافِع بن مُعلّٰی (14)حضرت یزید بن حارث بن فسحم(یہ8 انصار ہیں)رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْن۔
(سیرت ابنِ ہشام، ص295)

*اللہ پاک* اصحابِ بدر کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دینِ اسلام پر استقامت اور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت و فرمانبرداری کا عظیم ترین جذبہ عطا فرمائے۔ آمین

27/03/2024

*اسلامی بہنوں کے اعتکاف کے متعلق 10 مسائل:*
(مطالعہ کریں، آگے بڑھائیں اور اجر حاصل کریں)

*(1)* عورتوں کے اعتکاف کے لئے مسجد بیت ہونا شرط ہے۔ یعنی گھر کی وہ جگہ جو نماز کے لئے خاص کر لی گئی ہو۔ جبکہ مردوں کے اعتکاف کے لئے مسجد ہونا شرط ہے۔

*(2)* ضرورت کے تحت پورے کمرے کو بھی مسجد بیت قرار دیا جا سکتا ہے۔

*(3)* ضرورت شرعی یا ضرورت طبعی کے لئے اعتکاف کی جگہ سے باہر آ سکتے ہیں۔
*ضرورتِ شرعی* مثلاً (مردوں کے لئے) نمازِ جمعہ و اذان وغیرہ۔ یونہی (مردوں عورتوں کے لئے) فرض غسل و وضو اور *ضرورتِ طبعی* مثلاً قضائے حاجت وغیرہ۔

*(4)* دورانِ اعتکاف بلا ضرورت موبائل کے استعمال سے گریز کرنا چاہئے کہ اس سے اعتکاف کی برکات ختم ہو جانے کا اندیشہ ہے۔البتہ بوقتِ ضرورت موبائل کال یا واٹس ایپ کے ذریعہ بات کرنے میں حرج نہیں ۔

*(5)* جن افراد سے اعتکاف کے علاوہ مل سکتے ہیں، یعنی محارم وغیرہ، ان سے اعتکاف میں بھی مل سکتے ہیں۔ اعتکاف کی وجہ سے پردے کا کوئی اضافی حکم عائد نہیں ہو جاتا۔ البتہ جتنا ممکن ھو، مجمع لگانے سے گریز کیا جائے تا کہ زیادہ سے زیادہ وقت عبادتِ الہی میں بسر کیا جا سکے.

*(6)* گھر کے دیگر افراد بھی مسجد بیت میں بیٹھ کر سحری و افطاری کر سکتے ہیں۔ لیکن خوش گپیوں اور مذاق مسخری سے گریز چاہئے کہ اس سے اعتکاف کا مقصد (اپنے وقت کو اللہ عزوجل کی عبادت کے لئے خاص کرنا) اور اعتکاف کی برکات زائل ہونے کا اندیشہ ہے۔

*(7)* مسجدِ بیت سے ضرورتِ شرعی یا ضرورتِ طبعی کے علاوہ نکلنے سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا، مثلاً گرمی لگ رہی ہو، تو مسجد بیت سے نکل کر غسل خانے میں جا کر غسل کرنے سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا، کیونکہ گرمی لگنے کی وجہ سے غسل کرنا، نہ شرعی ضرورت میں آتا ہے اور نہ طبعی ضرورت میں۔

یونہی دورانِ اعتکاف اگر مخصوص ایام شروع ہو گئے، تو اس سے اعتکاف ٹوٹ جائے گا، جس کی بعد میں قضا کرنی ہو گی۔
یونہی ہر وہ چیز جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، اس سے اعتکاف بھی ٹوٹ جائےگا۔

*(8)* اعتکاف کا دورانیہ جتنا زیادہ ممکن ہو، عبادت میں گزارنا چاہئے، دنیاوی کتب کی بجائے تلاوتِ قرآن کریم اور دینی کتب کو ترجیح دی جائے۔
البتہ اگر ضرورت ہو، تو ان کے پڑھنے میں حرج نہیں۔

*(9) کھانا بنانے اور گھر کے دیگر کاموں کے لئے* ممکنہ صورت میں کسی اور کی خدمات حاصل کی جائیں، مثلاً کوئی قریبی رشتہ دار یہ کام سر انجام دیدیا کریں یا نوکرانی رکھنے کی صورت ممکن ہو، تو اسے اپنایا جائے۔
*بہر حال* اگر نہ ہو سکے، اور خود مسجد بیت سے باہر نکل کر کام کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو، تو پھر ضرورت کے وقت، ضرورت کی حد تک باہر نکلنے کی اجازت ہو گی، لیکن جونہی کام ختم ہو، فوراً مسجد بیت میں واپس آ جائیں، کیونکہ اگر اب بغیر ضرورت ایک لمحہ بھی مسجد بیت سے باہر گزارا، تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔

*(10)* دورانِ اعتکاف اسلامی بہن (دینی و دنیوی) ٹیوشن پڑھا سکتی ہیں۔

Address

Pakpattan

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Masaail e Sharia posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Masaail e Sharia:

Share