دربار عاليه حضرت مياں صوفى محمد عبدالله نقشبندى مجددى

  • Home
  • Pakistan
  • Pakka Anna
  • دربار عاليه حضرت مياں صوفى محمد عبدالله نقشبندى مجددى

دربار عاليه حضرت مياں صوفى محمد عبدالله نقشبندى مجددى "اگر تجھے ذاتِ مُرشد کا عشق نصیب ہوجائے تو اسے اپنی خوش ? پہلے اپنے نفس سے جہاد کی ابتدا کرو اور اس کے ساتھ جنگ شروع کرو

عرس مبارکانشاء اللہ
31/10/2024

عرس مبارک
انشاء اللہ

02/11/2023

شمس تبریز فرماتے ہیں۔
ہم کسی کے خُدا سے جڑنے کے طریقے کو صحیح یا غلط قرار نہیں دے سکتے۔ ہر کسی کا اپنا طریقہ اور عبادت ہے۔
خدا ہمارے طریقے کو نہیں بلکہ ہمارے دل کی گہرائی کو دیکھتا ہے یہ رسم و رواج اور تقریبات سے فرق نہیں پڑتا بلکہ اس سے فرق پڑتا ہیں کے ہمارا دل اندر سے کتنا صاف ہے۔

12/09/2023

جب حضرت شمس الدین تبریزی رحمتہ اﷲ علیہ نے دعا کی کہ اے خدا شمس تبریز کا وقت آخر معلوم ہوتا ہے۔

میرے سینے میں آپ کی محبت کی آگ کی جو امانت ہے کوئی بندہ ایسا عطا فرما کہ اس کے سینے میں امانت کو منتقل کردوں،

کوئی ایسا سینہ عطا کر دے جو اس قیمتی امانت کا اہل ہو، الہام ہوا کہ "اے شمس الدین ! قونیہ جاؤ، میرا ایک بندہ جلال الدین رومی ہے میری محبت کی آگ کی اس امانت کو جو زمین و آسمان سے زیادہ قیمتی ہے اس کے سینے میں منتقل کردو،

اس کا سینہ اس کے قابل ہے۔ اور اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ امانت زمین و آسمان سے زیادہ قیمتی کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین و آسمان نے انکار کر دیا تھا۔ زمین و آسمان جیسی عظیم القامت مخلوق نے جن امانت کو اٹھانے سے انکار کردیا،

ﷲ کے عاشقوں کے دل نے اسے قبول کرلیا جو ڈیڑھ چھٹانک کا ہے مگر اس کو ڈیڑھ چھٹانک کا نہ سمجھو۔ حضرت مولانا رومیؒ فرماتے ہیں ؎

در فراخ عرصۂ آں پاک جاں
تنگ آید عرصۂ ہفت آسماں

ﷲ والوں کی جانوں میں، ان کے قلوب میں اتنا پھیلاؤ اتنی وسعت ہے کہ ساتوں آسمان کی وسعت اس کے سامنے تنگ ہوجاتی ہے

کیوں کہ وہ اﷲ کے خاص بندے ہیں۔ ﷲ ان کے قلب میں ایسی وسعت پیدا کر دیتا ہے کہ ساتوں آسمان اس کے قیدی معلوم ہوتے ہیں۔

ﺣﻀﺮﺕ ﺟﻨﯿﺪ ﺑﻐﺪﺍﺩﯼ ؒ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺁﺋﯽ ، ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻓﺘﻮﯼٰ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﻮﯼ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ...
15/11/2022

ﺣﻀﺮﺕ ﺟﻨﯿﺪ ﺑﻐﺪﺍﺩﯼ ؒ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺁﺋﯽ ، ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻓﺘﻮﯼٰ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﯿﻮﯼ ﮨﻮ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻧﮑﺎﺡ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ ؟ﺣﻀﺮﺕ ﺟﻨﯿﺪ ﺑﻐﺪﺍﺩﯼ ﺭﺡ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺑﯿﭩﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﻧﮯ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﭼﺎﺭ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﯼ ﮨﮯ ﺑﺸﺮﻃﯿﮑﮧ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺑﯿﭻ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ - ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﻏﺮﻭﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﮔﺮ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﺴﻦ ﺩﮐﮭﺎﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﺴﻦ ﺩﮐﮭﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﮩﺘﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﯿﻮﯼ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺿﺮﻭﺭﺕ؟؟
ﺍﺱ ﭘﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﭼﯿﺦ ﻣﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﮩﻮﺵ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ - ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ﺟﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﮨﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﺮﯾﺪﯾﻦ ﻧﮯ ﻭﺟﺪ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﭘﻮﭼﮭﯽ - ﺣﻀﺮﺕ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻋﻮﺭﺕ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﺁﺧﺮﯼ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﮧ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺍﻟﻘﺎ ﮐﯿﮯ ﮐﮧ : ﺍﮮ ﺟﻨﯿﺪ ! ﺍﮔﺮ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﺴﻦ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﻠﻮﮦ ﮐﺮﻭﺍﺗﺎ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﮩﮧ ﺍﭨﮭﺘﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺍﺗﻨﺎ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻟﻠﻪ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ

27/09/2022
18/06/2022

‏بندہء صادق دن میں چالیس حالتیں تبدیل کرتا ہے لیکن دنیا پرست ریاکار چالیس برس تک بھی ایک ہی حالت پر قائم رہتا ہے اور بندہء صادق وہی ہے جو نہ دستِ طلب دراز کرے اور نہ جھگڑے
حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ

10/05/2022

حضرت علی بن عثمان المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے ملفوظات عالیہ از کشف المحجوب
(1) ہر چیز کی زکوٰۃ ہے اور گھر کی زکوٰۃ مہمان خانہ ہے۔
(۲) درویش وہ ہے جو امراء سے رغبت نہ رکھے۔
(۳) دوسروں کی خاطر قربانی دینے والے ہمیشہ زندہ و تابندہ رہتے ہیں۔
(۴) سب نبی ولی ہوتے ہیں مگر اولیاء میں سے کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔
(۵) توبہ و استغفار سے راہِ حق کی تلاش میں مدد ملتی ہے۔
(۶) علم کے بغیر عمل کا کوئی فائدہ نہیں۔
(۷) جہاں تمہاری عزت نہ ہو وہاں تمہارا جانا بیوقوفی ہے۔
(۸) عالم اور جاہل میں ایک ہی فرق ہے کہ عالم ہر بات پر غور و فکر کے بعد کرتا ہے جبکہ جاہل آدمی سنی سنائی بات بیان کرتا ہے۔
(۹) روزہ آدھی طریقت ہے۔
(۱۰) درویش وہ ہے جو ہر حال میں غیر اللہ سے تعلق نہ رکھے اور نہ امید۔
(۱۱) استاد کا حق ضائع کرنے والا فلاح نہیں پاسکتا۔
(۱۲) حرام بھی کھاتا ہے اور مسلمان بھی کہلاتا ہے۔
(۱۳) صاحب علم وہ ہے جو اپنے آپ کو حقیر جانے اور دوسروں کو ارفع و اعلیٰ۔
(۱۴) عروجِ علم یہ ہے کہ تو کہہ اٹھے کہ میں بہت حقیر ہوں۔
(۱۵) اللہ کی فرمانبرداری سے آدمی موت کے بعد بھی زندہ ہی رہتا ہے، کیونکہ اللہ ایسے لوگوں کے دلوں کو زندہ رکھتا ہے۔
(۱۶) عارف عالم بھی ہوتا ہے، مگر یہ ضروری نہیں کہ عالم عارف بھی ہو۔
(۱۷) صوفی کہلانے کے لئے کتاب و سنت کی پیروی اشد ضروری ہے۔
(۱۸) اپنے نفس کو خوش کرنے کے لئے اگر تم کچھ کروگے تو برکت سے محروم رہ جاؤگے۔
(۱۹) اپنے اعمال کی درستگی کے لئے علم حاصل کرو۔
(۲۰) کاہل فقیر، غافل امیر اور جاہل درویش کی صحبت سے بچو۔
(۲۱) اس ملک پر تباہی ہے جس کا حکمران دین کی سمجھ نہ رکھتا ہو۔
(۲۲) تمام علومِ دنیا سیکھنا انسان پر فرض نہیں۔
(۲۳) جس طرح غصہ عقل کو کھاجاتا ہے اسی طرح جھوٹ رزق کو کھاجاتا ہے۔

09/05/2022

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھ کر کبھی کبھار دنیاوی باتیں اور مزاح فرمایا کرتے تھے۔ یوں بھی ہوتا کہ وہ مجلس مستقل ایک واقعہ اور قصہ بن جایا کرتی۔
ایک مرتبہ نبی کریمؐ اپنے رفقاء سیدنا ابوبکر صدیق، عمر فاروق اور عثمانؓ کی معیت میں علیؓ کے گھر تشریف لے گئے۔
سیدنا علیؓ کی اہلیہ سیدہ فاطمہؓ نے شہد کا ایک پیالہ ان حضرات کی مہمان داری کی خاطر پیش کیا۔ شہد اور خوبصورت چمکدار پیالہ۔۔۔ اتفاق سے اس پیالے میں اک بال گرگیا۔
آپؐ نے وہ پیالہ خلفائے راشدین کے سامنے رکھا اور فرمایا: آپ میں سے ہر ایک اس پیالے کے متعلق اپنی رائے پیش کرے۔
ابوبکر صدیقؓ فرمانے لگے کہ میرے نزدیک مومن کا دل اس پیالے کی طرح چمکدار ہے، اور اس کے دل میں ایمان شہد سے زیادہ شیریں ہے، لیکن اس ایمان کو موت تک باحفاظت لے جانا بال سے زیادہ باریک ہے۔
عمرؓ فرمانے لگے کہ حکومت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور حکمرانی شہد سے زیادہ شیریں ہے لیکن حکومت میں عدل وانصاف کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
عثمانؓ فرمانے لگے کہ میرے نزدیک علم دین، اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے، اور علم دین سیکھنا شہد سے زیادہ میٹھا ہے لیکن اس پر عمل کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
علیؓ نے فرمایا: میرے نزدیک مہمان اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور اس کی مہمان نوازی شہد سے زیادہ شیریں ہے اور ان کو خوش کرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
سیدہ فاطمہؓ فرمانے لگیں کہ یارسول اللہ، اگر اجازت ہو تو میں بھی کچھ عرض کروں؟ آپؐ کے اجازت دینے پر فرمانے لگیں کہ عورت کے حق میں حیا اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے۔ اور اس کے چہرے پر پردہ شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور غیر مرد کی اس پر نگاہ نہ پڑے یہ بال سے بھی زیادہ باریک ہے ۔
کیا خوب ہی محفل تھی، جب خلفائے راشدین اپنی رائے کا اظہار کرچکے تو آپؐ کی طرف متوجہ ہوئے۔
ادھر سرکار دو عالمؐ کے لب مبارک ہے تو زبان نبوت سے یہ الفاظ مبارک نکلے کہ معرفت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور معرفت الٰہی کا حاصل ہونا اس شہد سے زیادہ میٹھا ہے، اور معرفت الٰہی کے بعد اس پر عمل کرنا، بال سے زیادہ باریک ہے۔
ادھر زمین پر یہ مبارک محفل سجی تھی ادھر رب ذوالجلال سے جبریلؑ بھی اجازت لے کر آپہنچے اور فرمانے لگے کہ ’’میرے نزدیک راہ اللّه چمکدار سے زیادہ روشن ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اور اپنا مال و اپنی جان قربان کرنا شہد سے زیادہ شیریں اور اس پر استقامت بال سے زیادہ باریک ہے۔‘‘
جب زمین پر سجی اس محفل میں سب اپنی رائے کا اظہار کرچکے تو جبریل امین فرمانے لگے کہ یارسول! اللہ تعالیٰ بھی کچھ کہنا چاہتے ہیں، فرمایا کہ جنت اس پیالے سے زیادہ چمکدار ہے اور جنت کی نعمتیں اس شہد سے زیادہ شیریں ہیں، لیکن جنت تک پہنچنے کے لیے پل صراط سے گزرنا بال سے زیادہ باریک ہے۔
بلاشبہ یہ مجلس بھی مبارک اور ہر ایک کی گفتگو بھی مبارک، اس مجلس میں جہاں آقا نامدارؐ تھے وہیں صحابہ بھی تھے، آپ کی یہ مجلس اور اس میں ہونے والی گفتگو ہم سب کیلیے مشعل راہ ہے۔
(بکھرے موتی ص 938)

26/03/2022

یوم عرس حضرت لال شہباز قلندر رحمتہ اللّه علیہ 18 تا 21 شعبان المعظم 770 واں سالانہ عرس مبارک حضرت سخی لال شہباز قلندر رحمتہ اللّه علیہ (1177ء تا 1274ء)
جن کا اصل نام سید عثمان ھے، آپ سندھ میں مدفون ایک مشہور صوفی بزرگ ہیں۔ آپ کا مزار سندھ کے علاقے سیہون شریف میں ہے آپ ایک مشہور صوفی بزرگ، شاعر، فلسفی اور قلندر تھے آپ کا تعلق صوفی سلسلۂ سہروردیہ سے تھا۔ آپ کا زمانہ اولیائے کرام کا زمانہ مشہور ہے۔
مشہور بزرگ شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی، شیخ فرید الدین گنج شکر، شمس تبریزی، جلال الدین رومی اور سید جلال الدین سرخ بخاری رحمتہ اللّه علیھم آپ کے قریباً ہم عصر تھے۔

ولادت با سعادت
آپ کی ولادت 538 ہجری بمطابق1143 عیسوی میں مروند میں ہوئی

نسب
13 واسطوں سےامام جعفر صادق علیہ السلام تک پہنچتا ہے سید عثمان مروندی بن سید کبیر بن سید شمس الدین بن سید نور شاہ بن سیدمحمود شاہ بن احمد شاہ بن سید ہادی بن سید مہدی بن سید منتخب بن سید غالب بن سید منصور بن سید اسماعیل بن سید جعفر صادقؓ

القاب کی وجہ تسمیہ

آپ کے چہرہ انور پر لال رنگ کے قیمتی پتھر "لعل" کی مانند سرخ کرنیں پھوٹتی تھی اس وجہ سے آپ کا لقب لعل ہوا۔شہبازکا لقب حضرت سیدنا امام حسن علیہ السلام نے ان کے والد کو پیدائش سے پہلے بطور خوشخبری کے عطا کیا اس وجہ سے "شہباز لقب ہوا اور اس سے مراد ولایت کا اعلیٰ مقام ہے۔

ابتدائی حالات

آپ مروند (موجودہ افغانستان) کے ایک درویش سید ابراہیم کبیر الدین کے بیٹے تھے۔ ان کے اجداد نے عراق سے مشہد المقدس (ایران) ہجرت کی جہاں کی تعلیم مشہور تھی۔ بعد ازاں مروند کو ہجرت کی۔ آپ کو اس دور میں غزنوی اور غوری سلطنتوں کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا اور آپ نے اسلامی دنیا کے لا تعداد سفر کیے جس کی وجہ سے آپ نے فارسی، عربی، ترکی، سندھی اور سنسکرت میں مہارت حاصل کر لی۔ آپ روحانیت کے اعلیٰ درجہ پر فائز تھے اور مسلمانوں کے علاوہ اہلِ ہنود میں بھی بڑی عزت تھی

وفات

آپ کی وفات 18 شعبان المعظم 673 ہجری میں ہوئی

مزار اور عرس

آپ کا مزار سندھ کے شہر سیہون شریف میں ہے۔ یہ سندھی تعمیر کا اعلیٰ نمونہ ہے اور 1356ء میں تعمیر ہوا۔ اس کا اندرونی حصہ 100 مربع گز کے قریب ہے۔ ان کا سالانہ عرس اسلامی تقویم کے مطابق 18 شعبان المعظم کو ہوتا ہے۔💞

19/03/2022

‏ایک عابد نے *خدا کی زیارت* کے لیے 40 دن کا چلہ کرناشروع کیا ۔ دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا تھا۔ اعتکاف کی وجہ سے خدا کی مخلوق سے یکسر کٹا ہوا تھا اس کا سارا وقت آہ و زاری اور راز و نیاز میں گذرتا تھا
36 ویں رات اس عابد نے ایک آواز سنی: شام 6 بجے، تانبے کے بازار میں فلاں ‏تانبہ ساز کی دکان پر جاؤ اور خدا کی زیارت کرو*
عابد وقت مقررہ سے پہلے تانبہ مارکیٹ پہنچ گیا اور مارکیٹ کی گلیوں میں تانبہ ساز کی اس دوکان کو ڈھونڈنے لگا وہ کہتا ہے ۔ "میں نے ایک بوڑھی عورت کو دیکھا جو تانبے کی دیگچی پکڑے ہوئے تھی اور اسے ہر تانبہ ساز کو دکھا رہی تھی،"
‏اسے وہ بیچنا چاہتی تھی. وہ جس تانبہ ساز کو اپنی دیگچی دکھاتی وہ اسے تول کر کہتا: 4 ریال ملیں گے - وہ بڑھیا کہتی: 6 ریال میں بیچوں گی کوئی تانبہ ساز اسے چار ریال سے زیادہ دینے کو تیار نہ تھا
آخر کار وہ بڑھیا ایک تانبہ ساز کے پاس پہنچی تانبہ ساز اپنے کام میں مصروف تھا بوڑھی ‏عورت نے کہا: میں یہ برتن بیچنے کے لیے لائی ہوں اور میں اسے 6 ریال میں بیچوں گی کیا آپ چھ ریال دیں گے؟
تانبہ ساز نے پوچھا صرف چھ ریال میں کیوں؟؟؟ بوڑھی عورت نے دل کی بات بتاتے ہوئے کہا: میرا بیٹا بیمار ہے، ڈاکٹر نے اس کے لیے نسخہ لکھا ہے جس کی قیمت 6 ریال ہے۔
تانبہ ساز نے ‏دیگچی لے کر کہا: ماں یہ دیگچی بہت عمدہ اور نہایت قیمتی ہے۔ اگر آپ بیچنا ہی چاہتی ہیں تو میں اسے 25 ریال میں خریدوں گا!
بوڑھی عورت نے کہا: کیا تم میرا مذاق اڑا رہے ہو؟ "کہا ہرگز نہیں،"میں واقعی پچیس ریال دوں گا یہ کہہ کر اس نے برتن لیا اور بوڑھی عورت کے ہاتھ میں 25 ریال رکھ ‏دیئے! بوڑھی عورت، بہت حیران ہوئی دعا دیتی ہوئی جلدی اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔
عابد کہتا ہے میں یہ سارا ماجرہ دیکھ رہا تھا جب وہ بوڑھی عورت چلی گئی تو میں نے تانبے کی دوکان والے سے کہا:
چچا، لگتا ہے آپ کو کاروبار نہیں آتا؟ بازار میں کم و بیش سبھی تانبے والے اس دیگچی کو تولتے ‏تھے اور 4 ریال سے زیادہ کسی نے اسکی قیمت نہیں لگائی۔ اور آپ نے 25 ریال میں اسے خریدا
بوڑھے تانبہ ساز نے کہا:
میں نے برتن نہیں خریدا ہے میں نے اس کے بچے کا نسخہ خریدنے کے لیے اسے پیسے دئیے ہیں میں نے ایک ہفتے تک اس کے بچے کی دیکھ بھال کے لئے پیسے دئیے ہیں میں نے اسے اس لئے ‏یہ قیمت دی کہ گھر کا باقی سامان بیچنے کی نوبت نہ آئے -،
عابد کہتا ہے میں سوچ میں پڑگیا اتنے میں غیبی آواز آئی،
“چلہ کشی سے کوئی میری زیارت کا شرف حاصل نہیں کرسکتا گرنے والوں کو تھامو اور غریب کا ہاتھ پکڑو ہم خود تمہاری مدد کو آئیں گے”۔

‏اللہ سبحان وتعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔

15/03/2022

🔷🔷🔷مرشدِ کامل کی تابعداری کی ترغیب🔷🔷🔷
اللّٰه تعالیٰ کا مقرب بندہ یعنی مرشدِ کامل اللّٰه تعالیٰ کی رحمت کا سایہ ہوتا ہے وہ اس دنیا کا مردہ اور تعلقِ باللّٰه کے لحاظ سے زندہ ہوتا ہے۔ ایسے مرشدِ کامل کا دامن بلا شک و شبہ جلدی سے تھام لے تاکہ تو آخرت کی مصیبت سے چھوٹ جاۓ ، اولیاۓ کاملین اللّٰه تعالیٰ کے نور تک پہنچانے والے راہنما ہوتے ہیں۔ تم اس (طریقت و معرفت) کی وادی میں مرشدِ کامل کی صحبت اختیار کیے بغیر ہر گز مت چل خلیل اللّٰه حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح کہہ دے کہ میں ڈوب جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

جا سایہ کے ذریعے آفتاب کو حاصل کر لے اور شاہ شمس تبریزؒ (جیسے) کامل مرشد کا دامن تھام لے (تاکہ تو اللّٰه پاک کی معرفت حاصل کر لے)۔

اگر اولیاۓ کاملین کی صحبت اختیار کرنے کے راستے کو اختیار کرنے میں اگر حسد تیرا گلا دباۓ تو جان لے کہ یہ حسد شیطان کی پیروی ہے۔ اس لیے کہ وہ حسد کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام سے ذلّت محسوس کرتا ہے اور حسد کی وجہ سے نیک بختی سے جنگ کرتا ہے۔ اس راستہ میں حسد سے بڑی کوئی گھاٹی نہیں وہ شخص بڑا خوشنصیب ہے جو حسد سے پاک ہے۔

یہ جسم حسد کا گھر ہے اور حسد کی آگ پورے جسم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ حسد کی وجہ سے گھرانے تباہ ہو جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے شاہی باز (یعنی دل) کوا بن جاتا ہے۔

اگرچہ جسم حسد کا گھر ہو سکتا ہے لیکن جسم کو اللّٰه تعالیٰ نے (دل کے نوری چراغ) سے خوب پاک کر دیا ہے۔ وہ جسم جو کبر کینہ اور ریاکاری سے بھرا ہوا ہے اللّٰه تعالیٰ
کی جناب سے (دل کے ذریعے) پاکی حاصل کر لی ہے۔

قرآنِ کریم میں اللّٰه تعالیٰ کے فرمان ”تم میرے گھر کو بتوں سے پاک کرو“ سے مراد پاکی کا بیان ہے۔ انسان کا جسم اگرچہ مٹی کا بنا ہے لیکن اس کے دل میں نور کا خزانہ ہے۔ (حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حکم ہوا تھا کہ خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کرو اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ اپنے دل کو نفسانی خواہشات اور برے اخلاق کے بتوں سے پاک کرو)۔

اگر تم کسی صاف دل (مرشدِ کامل) سے حسد کرو گے تو اس حسد کی وجہ سے تمہارے دل میں سیاہیاں پیدا ہوں گی اِس لیے خاصانِ خدا کے قدموں کی خاک بن جاؤ اور ہماری طرح حسد پر مٹی ڈال دو۔

(مثنوی مولانا رومؒ دفتر اوّل ص/85)

01/03/2022

بندہ جب "ذکر " کرتا ھے تو اُس پر ایک کیفیت طاری ھوتی ھے، جس میں اسے نا ماضی کا ھوش رھتا ھے نا مستقبل کا.. بلکہ وہ حال میں بے خود ھو جاتا ھے! یہ کیفیت کبھی کبھی طاری ھوتی ھے.. غور کرنے کی بات یہ ھے کہ انسان یا تو ھر وقت اپنے ماضی کے بارے میں سوچتا رھتا ھے.. یا پھر مستقبل کے متعلّق..! حال کی کیفیت بہت کم ملتی ھے.. یہ ایک لمحہ ھوتا ھے جو اچانک وارد ھوتا ھے، صاحبِ حال کی زبان، بیانِ حال سے عاجز ھوتی ھے.. بلکہ اس کا راز اسکے "حال " سے ظاھر ھوتا ھے.. یہ کیفیت حق تعالیٰ کی طرف سے ایک فیضان ھے، جب یہ فیض بندے پر نازل ھوتا ھے تو پھر وہ خوشی اور غم سے متاثر نہیں ھوتا.....!!!
...کشف المحجوب.....

Address

دربار عالیہ حضرت میاں صوفی محمد عبدالله
Pakka Anna
38000

Telephone

923006512062

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when دربار عاليه حضرت مياں صوفى محمد عبدالله نقشبندى مجددى posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to دربار عاليه حضرت مياں صوفى محمد عبدالله نقشبندى مجددى:

Share