12/05/2026
مدینہ منورہ میں ایک امام (بعض روایات میں تمیم داری رضی اللہ عنہ یا کسی اور صحابی کا ذکر آتا ہے) لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔
کچھ لوگوں نے ان کی قراءت یا انداز پر اعتراض کیا اور اختلاف پیدا ہوگیا۔
معاملہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا۔
حضرت عمرؓ کا فیصلہ
اگرچہ امام اپنے موقف میں درست تھے، لیکن حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ:
نماز میں اختلاف اور جھگڑا پیدا ہونا زیادہ بڑا نقصان ہے
اس لیے انہوں نے امام کو امامت سے ہٹا دیا یا پیچھے ہٹنے کا حکم دیا
مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد برقرار رہے اور فتنہ ختم ہو جائے
اصول جو اس واقعہ سے نکلتا ہے
یہ واقعہ ایک اہم فقہی و اجتماعی اصول کو ظاہر کرتا ہے:
درست ہونے کے باوجود کبھی کبھی اپنے حق سے پیچھے ہٹ جانا بہتر ہوتا ہے
خاص طور پر جب:
جماعت میں اختلاف پیدا ہو
دلوں میں نفرت یا فتنہ بڑھنے کا خطرہ ہو
اسی لیے علماء کہتے ہیں:
“اختلاف سے بچنا بعض اوقات اپنے حق پر اصرار کرنے سے افضل ہوتا ہے”
خلاصہ
✔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ
اسلام میں اتحاد اور فساد سے بچاؤ کو بہت اہمیت دی گئی ہے،
حتیٰ کہ کبھی حق پر ہونے کے باوجود بھی مصلحتاً پیچھے ہٹنا بہتر سمجھا گیا ہے۔