20/02/2026
1) سورۃ التوبہ 9:38
وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ
“اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں بہت ہی تھوڑی ہے۔”
2) سورۃ الرعد 13:26
وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مَتَاعٌ
“اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں محض ایک عارضی سامان ہے۔”
3) سورۃ العنکبوت 29:64
وَمَا هَٰذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ ۚ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ
“یہ دنیا کی زندگی تو کھیل اور تماشا ہے، اور اصل زندگی تو آخرت کا گھر ہے۔”
مفہوم (سادہ اور گہرا)
1. “قلیل” کا مطلب صرف مقدار میں کم نہیں، بلکہ حقیقت کے اعتبار سے کم وزن۔
2. “متاع” ایسا سامان جو وقتی فائدہ دے اور پھر ختم ہو جائے۔
3. دنیا مستقل نہیں، آخرت دائمی ہے — اس لیے قیمت ہمیشہ بقا کی ہوتی ہے، نہ کہ فانی چیز کی۔
حدیث میں آتا ہے کہ اگر دنیا کی قدر اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیا جاتا۔ (ترمذی)
سیاق و سباق (خاص طور پر سورۃ التوبہ)
سورۃ التوبہ میں یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کچھ لوگ جہاد سے پیچھے رہنے کے بہانے بنا رہے تھے، گرمی، تجارت اور آرام کو ترجیح دے رہے تھے۔
پیغام واضح تھا:
تم وقتی سکون کو دائمی کامیابی پر ترجیح دے رہے ہو — یہ خسارہ ہے۔
آج کے دور پر اطلاق
آج دنیا کا “متاع” کیا ہے؟
1. مالی نظام: سودی بینکاری، قرضوں کا جال — وقتی آسائش، دائمی جواب دہی۔
2. سوشل میڈیا کلچر: فالوورز، لائکس — وقتی شہرت، حقیقی وزن صفر۔
3. تعلیم و کیریئر: صرف دنیا کمانے کی دوڑ — مقصدِ حیات غائب۔
4. سیاسی و عالمی طاقتیں: وقتی غلبہ — مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہر سلطنت مٹی ہوئی۔
قرآن کا چیلنج یہ ہے:
کیا تم دائمی زندگی کو عارضی لذت پر بیچ دو گے؟
امت کی موجودہ بیماری
1. آخرت کا یقین نظری ہے، عملی نہیں۔
2. خوفِ آخرت کم، خوفِ معاش زیادہ۔
3. دنیا کو مقصد، دین کو ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔
سیدھا حل
1. ہر فیصلے سے پہلے سوال: یہ قدم آخرت میں کیا وزن رکھتا ہے؟
2. مال کماؤ، مگر مقصد آخرت ہو۔
3. عبادت صرف رسم نہ ہو — فکر اور نظام دونوں بدلیں۔
4. نوجوان نسل کو دنیا کی چمک کے پیچھے اندھا نہ چھوڑا جائے — انہیں بقا کا شعور دیا جائے۔
آخری بات
دنیا “حرام” نہیں — مگر “حاکم” بھی نہیں۔
یہ کھیتی ہے، فصل آخرت میں کٹنی ہے۔
جو شخص دنیا کو آخرت کے تابع کر لیتا ہے، وہ کامیاب ہے۔
جو آخرت کو دنیا کے تابع کر دیتا ہے، وہ خسارے میں ہے۔