Qafila e haq Narowal

Qafila e haq Narowal ہماری منزل صرف حق، ہمارا راستہ علم وتحقیق اور ہمارا مقصد اصلاح اُمت ہے -

07/03/2026

20/02/2026

‎1) سورۃ التوبہ 9:38

‎وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ
‎“اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں بہت ہی تھوڑی ہے۔”

‎2) سورۃ الرعد 13:26

‎وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مَتَاعٌ
‎“اور دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں محض ایک عارضی سامان ہے۔”

‎3) سورۃ العنکبوت 29:64

‎وَمَا هَٰذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ ۚ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ
‎“یہ دنیا کی زندگی تو کھیل اور تماشا ہے، اور اصل زندگی تو آخرت کا گھر ہے۔”

‎مفہوم (سادہ اور گہرا)
‎ 1. “قلیل” کا مطلب صرف مقدار میں کم نہیں، بلکہ حقیقت کے اعتبار سے کم وزن۔
‎ 2. “متاع” ایسا سامان جو وقتی فائدہ دے اور پھر ختم ہو جائے۔
‎ 3. دنیا مستقل نہیں، آخرت دائمی ہے — اس لیے قیمت ہمیشہ بقا کی ہوتی ہے، نہ کہ فانی چیز کی۔

‎حدیث میں آتا ہے کہ اگر دنیا کی قدر اللہ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیا جاتا۔ (ترمذی)

‎سیاق و سباق (خاص طور پر سورۃ التوبہ)

‎سورۃ التوبہ میں یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کچھ لوگ جہاد سے پیچھے رہنے کے بہانے بنا رہے تھے، گرمی، تجارت اور آرام کو ترجیح دے رہے تھے۔
‎پیغام واضح تھا:

‎ تم وقتی سکون کو دائمی کامیابی پر ترجیح دے رہے ہو — یہ خسارہ ہے۔

‎آج کے دور پر اطلاق

‎آج دنیا کا “متاع” کیا ہے؟
‎ 1. مالی نظام: سودی بینکاری، قرضوں کا جال — وقتی آسائش، دائمی جواب دہی۔
‎ 2. سوشل میڈیا کلچر: فالوورز، لائکس — وقتی شہرت، حقیقی وزن صفر۔
‎ 3. تعلیم و کیریئر: صرف دنیا کمانے کی دوڑ — مقصدِ حیات غائب۔
‎ 4. سیاسی و عالمی طاقتیں: وقتی غلبہ — مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہر سلطنت مٹی ہوئی۔

‎قرآن کا چیلنج یہ ہے:

‎ کیا تم دائمی زندگی کو عارضی لذت پر بیچ دو گے؟

‎امت کی موجودہ بیماری
‎ 1. آخرت کا یقین نظری ہے، عملی نہیں۔
‎ 2. خوفِ آخرت کم، خوفِ معاش زیادہ۔
‎ 3. دنیا کو مقصد، دین کو ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔

‎سیدھا حل
‎ 1. ہر فیصلے سے پہلے سوال: یہ قدم آخرت میں کیا وزن رکھتا ہے؟
‎ 2. مال کماؤ، مگر مقصد آخرت ہو۔
‎ 3. عبادت صرف رسم نہ ہو — فکر اور نظام دونوں بدلیں۔
‎ 4. نوجوان نسل کو دنیا کی چمک کے پیچھے اندھا نہ چھوڑا جائے — انہیں بقا کا شعور دیا جائے۔

‎آخری بات

‎دنیا “حرام” نہیں — مگر “حاکم” بھی نہیں۔
‎یہ کھیتی ہے، فصل آخرت میں کٹنی ہے۔
‎جو شخص دنیا کو آخرت کے تابع کر لیتا ہے، وہ کامیاب ہے۔
‎جو آخرت کو دنیا کے تابع کر دیتا ہے، وہ خسارے میں ہے۔

02/01/2026
18/11/2025

08/11/2025

02/11/2025

05/09/2025

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عید میلاد النبی ﷺ
قرآن کا حکم
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ (آل عمران: 31)
“آپ کہہ دیجئے: اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔”

✔ اللہ تعالیٰ نے محبتِ رسول ﷺ کا ثبوت پیروی کرنے کو بنایا ہے، نہ کہ خودساختہ رسمیں۔

2. نبی ﷺ کا عمل
صحیح مسلم کی روایت:
آپ ﷺ نے فرمایا:
“یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی۔” (1162)

✔ نبی ﷺ نے اپنی ولادت کا دن روزے سے گزارا، نہ جلوس، نہ محفل، نہ چراغاں۔

3. صحابہ کرام کا عمل
• خلفائے راشدینؓ نے کبھی میلاد نہیں منایا۔
• ان کے نزدیک محبتِ رسول ﷺ کا اصل ثبوت تھا:
• سیرت پر عمل
• دین کی خدمت
• سنت کو زندہ کرنا

اگر میلاد کوئی نیکی ہوتی تو صحابہ سب سے پہلے مناتے۔

4. بدعت کے بارے میں وعید
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے، وہ مردود ہے۔”
(بخاری 2697، مسلم 1718)

✔ میلاد چونکہ نبی ﷺ اور صحابہؓ کے زمانے میں نہیں تھا، لہٰذا یہ بدعت ہے۔

5. تاریخی حقیقت
• میلاد سب سے پہلے چوتھی صدی ہجری میں فاطمی حکمرانوں نے ایجاد کیا۔
• اس سے پہلے نہ صحابہؓ، نہ تابعینؒ، نہ ائمہ نے اس کا ذکر کیا۔
• یہ دین نہیں بلکہ ایک سیاسی ایجاد تھی جسے عوام میں مذہبی رنگ دیا گیا۔

6. انقلابی حقیقت
1. قرآن کہتا ہے: محبت کا ثبوت صرف نبی ﷺ کے طریقے پر چلنا ہے۔
2. نبی ﷺ نے ولادت کے دن روزہ رکھا، یہی اصل سنت ہے۔
3. صحابہ کرام نے میلاد نہیں منایا، تو یہ اسلام نہیں بلکہ بدعت ہے۔
4. آج امت جلوسوں، چراغاں اور محفلوں میں ڈوب گئی، مگر سنت اور جدوجہد چھوڑ دی۔
5. امت کمزور اسی لیے ہے کہ دین کو عمل کی بجائے جشن میں بدل دیا گیا۔

قافلۂ حق کا مؤقف
• میلاد النبی ﷺ بدعت ہے، اسلام کا حصہ نہیں۔
• محبتِ رسول ﷺ کا صحیح ثبوت ہے:
• سنت پر عمل کرنا
• پیر کے دن روزہ رکھنا
• سیرت کو زندہ کرنا
• دین کی اقامت اور جدوجہد

پیغام برائے امت

میلاد نہیں… سیرت چاہیے!
سنت ہے روزہ، بدعت ہے جشن!
محبتِ رسول ﷺ کا ثبوت جلوس نہیں، نقشِ قدم پر چلنا ہے!

22 اگست 2025، مسجد حیات النبی کے خطبہ جمعہ پر تبصرہ1. اولاد صرف اللہ کے اختیار میں ہےخطیب غلام مصطفی مجددی صاحب نے فرمای...
22/08/2025

22 اگست 2025، مسجد حیات النبی کے خطبہ جمعہ پر تبصرہ

1. اولاد صرف اللہ کے اختیار میں ہے

خطیب غلام مصطفی مجددی صاحب نے فرمایا: “علامہ اقبالؒ کی دو بیویوں کے باوجود اولاد نہ ہوئی تو وہ مجدد الف ثانی کے دربار پر حاضر ہوئے، تب جا کر اُن کو اولاد (جاوید اقبال) ہوئی۔”
• یہ عقیدہ سراسر غلط اور قرآن و سنت کے خلاف ہے۔
• اولاد دینا یا روک لینا صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے:

“آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے۔ جو چاہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہے بیٹے دیتا ہے۔ یا دونوں (بیٹے اور بیٹیاں) اکٹھے عطا کرتا ہے اور جسے چاہے بانجھ کر دیتا ہے۔ یقیناً وہ سب کچھ جاننے والا اور قدرت رکھنے والا ہے۔”
(الشوریٰ: 49-50)

➝ کسی دربار یا بزرگ کے پاس جانے سے اولاد نہیں ہوتی، یہ عقیدہ شرک اور توہمات کی جڑ ہے۔

2. فرقے انگریزوں کی سازش؟

انہوں نے کہا: “فرقے انگریزوں کی سازش ہیں۔”
• یہ بات جزوی طور پر درست ہے کہ انگریز نے امت کو مزید تقسیم کیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ فرقہ پرستی کو سب سے زیادہ بڑھانے والے خود یہی لوگ ہیں جو اولیاء کے نام پر نئے نئے فرقے اور عقائد پھیلاتے ہیں۔
• قرآن کہتا ہے:
“اور مشرکوں میں سے نہ ہو جانا، ان میں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور فرقے فرقے بن گئے، ہر گروہ اسی پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔”
(الروم: 31-32)

➝ اگر واقعی فرقہ پرستی کے مخالف ہیں تو سب سے پہلے قرآن و سنت کی طرف رجوع کریں اور اپنی جماعت پرستی ترک کریں۔

3. احمد رضا خان بریلوی کی تقلید

انہوں نے کہا: “احمد رضا خان بریلوی کبھی اپنے فرقے سے باہر نہ نکلے۔”
• یہ اقرار بذاتِ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ اصل بنیاد قرآن و سنت نہیں بلکہ شخصیت پرستی ہے۔
• نبی ﷺ نے فرمایا:
“جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی بات نکالی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔”
(بخاری و مسلم)

➝ اسلام میں اصل معیار صرف اللہ کی کتاب اور نبی ﷺ کی سنت ہے، کسی شخص کی اندھی تقلید نہیں۔

4. فتاویٰ رضویہ اور اصل ذمہ داری

انہوں نے فتاویٰ رضویہ کی خصوصیات بیان کیں۔
• حالانکہ منبرِ رسول ﷺ سے قرآن کی تلاوت، اُس کا ترجمہ اور سادہ فہم تشریح ہونی چاہیے تاکہ عوام براہِ راست اللہ کے کلام کو سمجھیں۔
• قرآن کہتا ہے:
“یہ ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور کریں اور عقل والے نصیحت پکڑیں۔”
(ص: 29)

➝ لوگوں کو فتاویٰ، قصے اور شخصیات کے اقوال پر نہیں بلکہ اللہ کی ہدایت پر تربیت دینی چاہیے۔

نتیجہ

یہ خطبہ اس بات کی علامت ہے کہ امت کو اب بھی شخصیت پرستی اور دربار پرستی میں الجھایا جا رہا ہے، حالانکہ نجات کا راستہ صرف ایک ہے:
• اللہ کے کلام (قرآن) کو براہِ راست سمجھنا اور عمل کرنا۔
• رسول اللہ ﷺ کی سنت کو اصل معیار بنانا۔
• فرقہ واریت اور پیر پرستی کو چھوڑ دینا۔

Address

Narowal
51600

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qafila e haq Narowal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share