14/08/2026
مخلصی جرم ہے یہاں، ہو سکے تو منافقت کیجئے۔
یہ جملہ پڑھ کر شاید کچھ لوگ سمجھیں کہ منافقت اختیار کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے، حالانکہ ہرگز نہیں۔
یہ دراصل ایک تلخ حقیقت پر طنز اور ایک سبق ہے۔ آج کے معاشرے میں بعض اوقات سچائی، خلوص اور صاف گوئی انسان کو لوگوں کی ناراضی کا سامنا کرواتی ہے، جبکہ بناوٹی رویے اور خوشامد کرنے والے لوگ زیادہ آسانی سے قبول کر لیے جاتے ہیں۔
لیکن یاد رکھیے!
لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنا کردار مت بدلیے۔
اگر خلوص کی وجہ سے کوئی آپ سے ناراض ہوتا ہے تو ہونے دیجیے، اگر سچ بولنے پر کوئی آپ کو غلط سمجھتا ہے تو سمجھنے دیجیے؛ کیونکہ انسان کی اصل قدر لوگوں کی وقتی پسند میں نہیں بلکہ اس کے کردار، نیت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی سچائی میں ہے۔
لہٰذا اس جملے کو منافقت کی دعوت نہیں، بلکہ منافقت کے بڑھتے ہوئے رویے پر ایک طنزیہ آئینہ سمجھیں۔
مخلص رہیے، سچے رہیے، مگر حکمت کے ساتھ۔
ہر بات ہر شخص سے کہنا ضروری نہیں، لیکن جو بنیں نہیں وہ بننے کی کوشش بھی نہ کریں۔
🌹 خلوص کمزور نہیں ہوتا، بس ہر جگہ اس کی قدر نہیں ہوتی۔