25/07/2026
بالعموم مدارس کے تمام اساتذہ کے نام بالخصوص
📖 شعبہ حفظِ قرآن کے اساتذہ کرام کے نام ایک اہم اور مخلصانہ گزارش
موجودہ پُرفتن دور میں شعبہ حفظِ قرآن کے اساتذہ کرام کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ استاد صرف قرآنِ کریم سننے والا نہیں، بلکہ طلبہ کے لیے مربی، رہنما اور ایک قابلِ اعتماد شخصیت ہوتا ہے۔ اسی لیے ہر استاد کو اپنے منصب، مقام اور ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے چند اہم احتیاطوں کو لازم پکڑنا چاہیے۔
⚠️ 1۔ جسمانی سزا کا مکمل خاتمہ کریں
غصے میں طالب علم کو مارنا، تھپڑ لگانا یا کسی بھی قسم کی جسمانی سزا دینا مناسب نہیں۔ اصلاح کے لیے:
سمجھائیں → تنبیہ کریں → والدین سے رابطہ کریں → انتظامیہ کو اعتماد میں لیں۔
استاد کا غصہ چند لمحوں کا ہوتا ہے، لیکن ایک غلط اقدام طالب علم، استاد اور پورے ادارے کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
⚠️ 2۔ طلبہ کو غیرضروری طور پر الگ نہ بلائیں
کسی طالب علم کو غیرضروری طور پر تنہائی میں بلانا یا بند کمرے میں اکیلے ملاقات کرنا مناسب نہیں۔ اگر کوئی ضروری معاملہ ہو تو:
کھلی اور قابلِ مشاہدہ جگہ میں گفتگو کی جائے۔
ممکن ہو تو کسی ذمہ دار شخص کی موجودگی ہو۔
معاملہ تعلیمی یا تربیتی ہو تو ادارے کے علم میں ہو۔
احتیاط کسی پر الزام نہیں، بلکہ سب کی حفاظت ہے۔
⚠️ 3۔ طلبہ کے ساتھ حد سے زیادہ فری نہ ہوں
طلبہ سے محبت، شفقت اور حسنِ اخلاق ضرور ہو، لیکن غیرضروری بے تکلفی اور حد سے زیادہ قربت سے اجتناب ضروری ہے۔
استاد اور طالب علم کے درمیان:
محبت ہو، مگر حدود کے ساتھ۔
شفقت ہو، مگر وقار کے ساتھ۔
اعتماد ہو، مگر شفافیت کے ساتھ۔
⚠️ 4۔ طلبہ کے مال اور خرچ سے اجتناب کریں
استاد کو چاہیے کہ طلبہ سے اپنے ذاتی اخراجات کے لیے پیسے نہ لے، بار بار چائے، کھانا یا دیگر اشیاء طلب نہ کرے اور کسی طالب علم کو اپنے ذاتی مالی معاملات کا ذریعہ نہ بنائے۔
استاد کا وقار اس بات میں ہے کہ وہ طالب علم کے مال سے بے نیاز رہے۔
اگر کسی طالب علم کے گھر سے محبت یا ہدیہ آئے تو ادارے کی پالیسی اور شرعی و اخلاقی اصولوں کے مطابق شفاف طریقے سے معاملہ کیا جائے۔
⚠️ 5۔ موبائل اور ذاتی رابطے میں احتیاط کریں
طلبہ سے غیرضروری ذاتی چیٹنگ، رات گئے رابطہ، غیرمتعلقہ گفتگو اور غیرضروری ملاقاتوں سے اجتناب کیا جائے۔
ضروری تعلیمی رابطہ ہو تو بہتر ہے کہ:
ادارے کے علم میں ہو۔
مناسب اوقات میں ہو۔
ممکن ہو تو والدین یا ادارے کے ذمہ دار افراد کو بھی اعتماد میں رکھا جائے۔
⚠️ 6۔ استاد اپنے منصب کی عظمت کو سمجھے
محترم اساتذہ کرام!
آپ کے ہاتھ میں صرف ایک طالب علم کی کتاب نہیں، بلکہ ایک خاندان کا اعتماد اور قرآنِ کریم کی امانت ہے۔
اس لیے اپنے آپ سے ہمیشہ سوال کریں:
کیا میری یہ گفتگو مناسب ہے؟
کیا میرا یہ عمل شفاف ہے؟
کیا میں یہ کام ادارے اور والدین کے سامنے بھی کر سکتا ہوں؟
اگر جواب اطمینان بخش نہ ہو تو رک جانا ہی بہتر ہے۔
🏫 ادارے کی بھی ذمہ داری ہے
یہ تمام ذمہ داریاں صرف استاد پر نہیں ڈالنی چاہئیں۔ ادارے کو بھی:
واضح ضابطۂ اخلاق بنانا چاہیے۔
اساتذہ کو تربیت دینی چاہیے۔
شکایات کے لیے محفوظ اور منصفانہ نظام بنانا چاہیے۔
طلبہ اور اساتذہ دونوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔
کسی بھی شکایت پر نہ فوری الزام لگانا چاہیے اور نہ اسے نظرانداز کرنا چاہیے؛ بلکہ تحقیق، انصاف اور رازداری کے ساتھ معاملہ کرنا چاہیے۔
🌿 آخری گزارش
پُرفتن دور میں احتیاط بدگمانی نہیں، تقویٰ ہے؛ حدود کا خیال رکھنا سختی نہیں، حفاظت ہے؛ اور شفافیت کمزوری نہیں، استاد کے وقار کی علامت ہے۔
ہمیں اپنے طلبہ سے محبت بھی کرنی ہے، ان کی تربیت بھی کرنی ہے، ان کے ساتھ شفقت بھی کرنی ہے، لیکن استاد اور طالب علم کے درمیان شرعی، اخلاقی اور انتظامی حدود کو ہمیشہ قائم رکھنا ہے۔
اللہ رب العالمین ہمیں قرآنِ کریم کے ساتھ اخلاص کے ساتھ وابستہ رکھے، تمام اساتذہ کرام اور طلبہ کی حفاظت فرمائے، ہر فتنے، بدگمانی، الزام، آزمائش اور حاسدین کے حسد سے محفوظ فرمائے، اور ہمیں قرآنِ کریم کی بہترین خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین 🤲
دعا گو
مولانا محمد الیاس سعیدی قادری