Hafiz Ilyas Saeedi

Hafiz Ilyas Saeedi اسلامی تعلیمات، اقوال زریں، دل کو سکون دینے والی باتیں ، روزانہ نئی اسلامی وڈیوز اور پوسٹس شئیر کرنا

بالعموم مدارس کے تمام اساتذہ کے نام بالخصوص 📖 شعبہ حفظِ قرآن کے اساتذہ کرام کے نام ایک اہم اور مخلصانہ گزارشموجودہ پُرفت...
25/07/2026

بالعموم مدارس کے تمام اساتذہ کے نام بالخصوص

📖 شعبہ حفظِ قرآن کے اساتذہ کرام کے نام ایک اہم اور مخلصانہ گزارش
موجودہ پُرفتن دور میں شعبہ حفظِ قرآن کے اساتذہ کرام کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ استاد صرف قرآنِ کریم سننے والا نہیں، بلکہ طلبہ کے لیے مربی، رہنما اور ایک قابلِ اعتماد شخصیت ہوتا ہے۔ اسی لیے ہر استاد کو اپنے منصب، مقام اور ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے چند اہم احتیاطوں کو لازم پکڑنا چاہیے۔
⚠️ 1۔ جسمانی سزا کا مکمل خاتمہ کریں
غصے میں طالب علم کو مارنا، تھپڑ لگانا یا کسی بھی قسم کی جسمانی سزا دینا مناسب نہیں۔ اصلاح کے لیے:
سمجھائیں → تنبیہ کریں → والدین سے رابطہ کریں → انتظامیہ کو اعتماد میں لیں۔
استاد کا غصہ چند لمحوں کا ہوتا ہے، لیکن ایک غلط اقدام طالب علم، استاد اور پورے ادارے کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
⚠️ 2۔ طلبہ کو غیرضروری طور پر الگ نہ بلائیں
کسی طالب علم کو غیرضروری طور پر تنہائی میں بلانا یا بند کمرے میں اکیلے ملاقات کرنا مناسب نہیں۔ اگر کوئی ضروری معاملہ ہو تو:
کھلی اور قابلِ مشاہدہ جگہ میں گفتگو کی جائے۔
ممکن ہو تو کسی ذمہ دار شخص کی موجودگی ہو۔
معاملہ تعلیمی یا تربیتی ہو تو ادارے کے علم میں ہو۔
احتیاط کسی پر الزام نہیں، بلکہ سب کی حفاظت ہے۔
⚠️ 3۔ طلبہ کے ساتھ حد سے زیادہ فری نہ ہوں
طلبہ سے محبت، شفقت اور حسنِ اخلاق ضرور ہو، لیکن غیرضروری بے تکلفی اور حد سے زیادہ قربت سے اجتناب ضروری ہے۔
استاد اور طالب علم کے درمیان:
محبت ہو، مگر حدود کے ساتھ۔
شفقت ہو، مگر وقار کے ساتھ۔
اعتماد ہو، مگر شفافیت کے ساتھ۔
⚠️ 4۔ طلبہ کے مال اور خرچ سے اجتناب کریں
استاد کو چاہیے کہ طلبہ سے اپنے ذاتی اخراجات کے لیے پیسے نہ لے، بار بار چائے، کھانا یا دیگر اشیاء طلب نہ کرے اور کسی طالب علم کو اپنے ذاتی مالی معاملات کا ذریعہ نہ بنائے۔
استاد کا وقار اس بات میں ہے کہ وہ طالب علم کے مال سے بے نیاز رہے۔
اگر کسی طالب علم کے گھر سے محبت یا ہدیہ آئے تو ادارے کی پالیسی اور شرعی و اخلاقی اصولوں کے مطابق شفاف طریقے سے معاملہ کیا جائے۔
⚠️ 5۔ موبائل اور ذاتی رابطے میں احتیاط کریں
طلبہ سے غیرضروری ذاتی چیٹنگ، رات گئے رابطہ، غیرمتعلقہ گفتگو اور غیرضروری ملاقاتوں سے اجتناب کیا جائے۔
ضروری تعلیمی رابطہ ہو تو بہتر ہے کہ:
ادارے کے علم میں ہو۔
مناسب اوقات میں ہو۔
ممکن ہو تو والدین یا ادارے کے ذمہ دار افراد کو بھی اعتماد میں رکھا جائے۔
⚠️ 6۔ استاد اپنے منصب کی عظمت کو سمجھے
محترم اساتذہ کرام!
آپ کے ہاتھ میں صرف ایک طالب علم کی کتاب نہیں، بلکہ ایک خاندان کا اعتماد اور قرآنِ کریم کی امانت ہے۔
اس لیے اپنے آپ سے ہمیشہ سوال کریں:
کیا میری یہ گفتگو مناسب ہے؟
کیا میرا یہ عمل شفاف ہے؟
کیا میں یہ کام ادارے اور والدین کے سامنے بھی کر سکتا ہوں؟
اگر جواب اطمینان بخش نہ ہو تو رک جانا ہی بہتر ہے۔
🏫 ادارے کی بھی ذمہ داری ہے
یہ تمام ذمہ داریاں صرف استاد پر نہیں ڈالنی چاہئیں۔ ادارے کو بھی:
واضح ضابطۂ اخلاق بنانا چاہیے۔
اساتذہ کو تربیت دینی چاہیے۔
شکایات کے لیے محفوظ اور منصفانہ نظام بنانا چاہیے۔
طلبہ اور اساتذہ دونوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔
کسی بھی شکایت پر نہ فوری الزام لگانا چاہیے اور نہ اسے نظرانداز کرنا چاہیے؛ بلکہ تحقیق، انصاف اور رازداری کے ساتھ معاملہ کرنا چاہیے۔
🌿 آخری گزارش
پُرفتن دور میں احتیاط بدگمانی نہیں، تقویٰ ہے؛ حدود کا خیال رکھنا سختی نہیں، حفاظت ہے؛ اور شفافیت کمزوری نہیں، استاد کے وقار کی علامت ہے۔
ہمیں اپنے طلبہ سے محبت بھی کرنی ہے، ان کی تربیت بھی کرنی ہے، ان کے ساتھ شفقت بھی کرنی ہے، لیکن استاد اور طالب علم کے درمیان شرعی، اخلاقی اور انتظامی حدود کو ہمیشہ قائم رکھنا ہے۔
اللہ رب العالمین ہمیں قرآنِ کریم کے ساتھ اخلاص کے ساتھ وابستہ رکھے، تمام اساتذہ کرام اور طلبہ کی حفاظت فرمائے، ہر فتنے، بدگمانی، الزام، آزمائش اور حاسدین کے حسد سے محفوظ فرمائے، اور ہمیں قرآنِ کریم کی بہترین خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین 🤲
دعا گو
مولانا محمد الیاس سعیدی قادری

بعض لوگ صرف بوڑھے ہوتے ہیں سیانے نہیں ہوتے ،وہ چاہتے ہیں کہ ان کی ہر بات صرف اس لیے مانی جائے کہ وہ عمر میں بڑے ہیں 😌😌مگ...
11/07/2026

بعض لوگ صرف بوڑھے ہوتے ہیں سیانے نہیں ہوتے ،وہ چاہتے ہیں کہ ان کی ہر بات صرف اس لیے مانی جائے
کہ وہ عمر میں بڑے ہیں 😌😌
مگر غلط بات غلط ہی رہتی ہے چاہے وہ کسی نوجوان نے کہی ہو یا کسی بزرگ نے 💯✅
شعور عمر کا محتاج نہیں ہوتا 🤗ضد اور انا کو اکثر لوگ تجربے کا نام دے دیتے ہیں

مولانا محمد الیاس سعیدی قادری

بے حس معاشرہ علماء، حفاظ اور مدارس کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے؟محترم حاضرین!آج میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ میری زبان کا...
01/07/2026

بے حس معاشرہ علماء، حفاظ اور مدارس کے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے؟

محترم حاضرین!

آج میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ میری زبان کانپ رہی ہے، اور میرا قلم لرز رہا ہے۔ آخر ہم کس معاشرے میں جی رہے ہیں؟ کیا اب ایک عالم، ایک قاری، ایک حافظ، ایک نعت خواں کا جرم صرف اتنا رہ گیا ہے کہ وہ برائی سے منع کرے؟

ایک باعمل، باشرع، خوش الحان قاری صاحب، جن کی زندگی قرآن کی خدمت، نعتِ رسول ﷺ کی محفلوں اور دین کی تبلیغ میں گزری، انہوں نے صرف اتنا کہا کہ کتوں کی لڑائی جیسے ناجائز کام سے باز آ جاؤ۔ مگر افسوس! جواب دلیل سے نہیں، گولی سے دیا گیا؛ جواب اخلاق سے نہیں، قتل سے دیا گیا۔

یہ صرف ایک فرد کا قتل نہیں، بلکہ قرآن کی خدمت کرنے والے ایک خادم پر حملہ ہے۔ یہ اس فکر پر حملہ ہے جو لوگوں کو نیکی کی دعوت دیتی ہے اور برائی سے روکتی ہے۔

قرآن کریم ہمیں حکم دیتا ہے کہ نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو۔ اگر معاشرہ اس فریضے کو انجام دینے والوں کو ہی قتل کرنے لگے، تو پھر ظلم کے خلاف آواز کون اٹھائے گا؟

ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا ہوگا:
آج اگر ایک قاری محفوظ نہیں...
اگر ایک حافظ محفوظ نہیں...
اگر ایک عالم محفوظ نہیں...
تو پھر کون محفوظ ہے؟

یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں، بلکہ انصاف کا مطالبہ کرنے کا وقت ہے۔ قاتل چاہے کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، اسے قانون کے مطابق سخت ترین سزا ملنی چاہیے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں یہ قابلِ قبول نہیں کہ برائی سے روکنے والے کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔

ہم اپنے علماء، حفاظ اور مدارس کے احترام کو زندہ رکھیں۔ اختلاف ہو تو دلیل سے کریں، گفتگو سے کریں، مگر تشدد اور قتل کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

اے اللہ! شہید ہونے والے قاری صاحب کی کامل مغفرت فرما، ان کے درجات بلند فرما، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرما، اور ظالموں کو اگر ہدایت ان کے حق میں بہتر ہے تو ہدایت عطا فرما، ورنہ انہیں اپنے عدل کے مطابق عبرت کا نشان بنا دے۔ یا رب العالمین! ہمارے علماء، حفاظ، ائمہ، مدارس اور تمام اہلِ ایمان کی حفاظت فرما، اور ہمارے معاشرے کو ظلم، جہالت اور بے حسی سے نجات عطا فرما۔

آمین یا رب العالمین۔
تحریر
مولانا محمد الیاس سعیدی قادری

اوچ شریف اوچ شریف پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولپور کا ایک نہایت قدیم، تاریخی، علمی اور روحانی شہر ہے۔ یہ شہر ان مقا...
30/06/2026

اوچ شریف اوچ شریف پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولپور کا ایک نہایت قدیم، تاریخی، علمی اور روحانی شہر ہے۔ یہ شہر ان مقامات میں شمار ہوتا ہے جہاں صدیوں سے اسلامی علوم، تصوف، دعوت اور دینی تعلیم کا چرچا رہا ہے۔ اوچ شریف دریائے ستلج اور دریائے چناب کے قریب واقع ہے، جس کی وجہ سے قدیم زمانے میں یہ تجارت اور سفر کا بھی اہم مرکز تھا۔
نام کی وجہ
اوچ شریف کو پہلے "اوچ" کہا جاتا تھا، جبکہ "شریف" کا لفظ بعد میں اس لیے شامل ہوا کہ یہاں بے شمار اولیائے کرام، صوفیائے عظام اور بزرگ ہستیاں تشریف لائیں، جنہوں نے اس شہر کو روحانی عظمت عطا کی۔
تاریخی اہمیت
اوچ شریف کی تاریخ تقریباً ایک ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔
یہ شہر مختلف ادوار میں علم و فن، تجارت اور اسلامی تہذیب کا اہم مرکز رہا۔
یہاں کئی معروف سلاطین، علما اور صوفیا نے قیام کیا اور دینی خدمات انجام دیں۔
روحانی اہمیت
اوچ شریف کو "اولیائے کرام کا شہر" بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں کئی عظیم صوفی بزرگوں کے مزارات موجود ہیں، جن میں نمایاں ہیں:
حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری
حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت
حضرت بی بی جیوندی
ان مزارات پر ملک بھر سے زائرین حاضری دیتے ہیں۔
علمی خدمات
اوچ شریف صدیوں سے مدارس، خانقاہوں اور دینی مراکز کا گہوارہ رہا ہے۔ یہاں قرآن، حدیث، فقہ اور عربی علوم کی تعلیم دی جاتی رہی ہے، اور آج بھی متعدد دینی مدارس اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
تاریخی عمارتیں
اوچ شریف کی قدیم مساجد، مزارات اور نیلی ٹائلوں سے مزین عمارتیں اسلامی فنِ تعمیر کا خوبصورت نمونہ ہیں۔ ان کی تعمیر میں اینٹوں، نیلی و فیروزی ٹائلوں اور نفیس نقش و نگار کا استعمال کیا گیا ہے۔
موجودہ حیثیت
آج اوچ شریف ایک اہم تحصیل اور دینی و ثقافتی مرکز ہے۔ یہاں زراعت بھی اہم ذریعۂ معاش ہے، جبکہ مذہبی سیاحت کی وجہ سے بھی اس شہر کی خاص شناخت قائم ہے۔
خلاصہ:
اوچ شریف ایک ایسا تاریخی شہر ہے جس نے اسلامی علوم، تصوف، روحانیت اور ثقافت کی ترویج میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس کی قدیم عمارتیں، اولیائے کرام کے مزارات اور علمی روایت اسے پاکستان کے اہم ترین تاریخی و مذہبی شہروں میں شمار کراتی ہیں۔

مولانا محمد الیاس سعیدی قادری

30/06/2026

اوچ شریف اوچ شریف پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولپور کا ایک نہایت قدیم، تاریخی، علمی اور روحانی شہر ہے۔ یہ شہر ان مقامات میں شمار ہوتا ہے جہاں صدیوں سے اسلامی علوم، تصوف، دعوت اور دینی تعلیم کا چرچا رہا ہے۔ اوچ شریف دریائے ستلج اور دریائے چناب کے قریب واقع ہے، جس کی وجہ سے قدیم زمانے میں یہ تجارت اور سفر کا بھی اہم مرکز تھا۔
نام کی وجہ
اوچ شریف کو پہلے "اوچ" کہا جاتا تھا، جبکہ "شریف" کا لفظ بعد میں اس لیے شامل ہوا کہ یہاں بے شمار اولیائے کرام، صوفیائے عظام اور بزرگ ہستیاں تشریف لائیں، جنہوں نے اس شہر کو روحانی عظمت عطا کی۔
تاریخی اہمیت
اوچ شریف کی تاریخ تقریباً ایک ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔
یہ شہر مختلف ادوار میں علم و فن، تجارت اور اسلامی تہذیب کا اہم مرکز رہا۔
یہاں کئی معروف سلاطین، علما اور صوفیا نے قیام کیا اور دینی خدمات انجام دیں۔
روحانی اہمیت
اوچ شریف کو "اولیائے کرام کا شہر" بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں کئی عظیم صوفی بزرگوں کے مزارات موجود ہیں، جن میں نمایاں ہیں:
حضرت سید جلال الدین سرخ پوش بخاری
حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت
حضرت بی بی جیوندی
ان مزارات پر ملک بھر سے زائرین حاضری دیتے ہیں۔
علمی خدمات
اوچ شریف صدیوں سے مدارس، خانقاہوں اور دینی مراکز کا گہوارہ رہا ہے۔ یہاں قرآن، حدیث، فقہ اور عربی علوم کی تعلیم دی جاتی رہی ہے، اور آج بھی متعدد دینی مدارس اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
تاریخی عمارتیں
اوچ شریف کی قدیم مساجد، مزارات اور نیلی ٹائلوں سے مزین عمارتیں اسلامی فنِ تعمیر کا خوبصورت نمونہ ہیں۔ ان کی تعمیر میں اینٹوں، نیلی و فیروزی ٹائلوں اور نفیس نقش و نگار کا استعمال کیا گیا ہے۔
موجودہ حیثیت
آج اوچ شریف ایک اہم تحصیل اور دینی و ثقافتی مرکز ہے۔ یہاں زراعت بھی اہم ذریعۂ معاش ہے، جبکہ مذہبی سیاحت کی وجہ سے بھی اس شہر کی خاص شناخت قائم ہے۔
خلاصہ:
اوچ شریف ایک ایسا تاریخی شہر ہے جس نے اسلامی علوم، تصوف، روحانیت اور ثقافت کی ترویج میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس کی قدیم عمارتیں، اولیائے کرام کے مزارات اور علمی روایت اسے پاکستان کے اہم ترین تاریخی و مذہبی شہروں میں شمار کراتی ہیں۔

مکة المکرمہ کا وجود اور محل وقوع خالقِ کائنات نے زمین کی تخلیق سے بھی دو ہزار سال پہلے مکہ مکرمہ کی سرزمین کو پیدا فرمای...
29/06/2026

مکة المکرمہ کا وجود اور محل وقوع

خالقِ کائنات نے زمین کی تخلیق سے بھی دو ہزار سال پہلے مکہ مکرمہ کی سرزمین کو پیدا فرمایا اور اس کے چار ارکان یعنی ستونوں کو ساتویں زمین کی گہرائی تک قائم کیا اللہ رب العزت نے کائنات کی تخلیق میں سب سے پہلے پانی کو پیدا فرمایا اور اس پانی کو ہوا پر ٹھہرایا جس سے ہر وقت بخارات اٹھتے رہتے تھے پھر اللہ پاک نے ایک خاص ہوا کو بھیجا جس کی وجہ سے پانی میں ہلچل پیدا ہوئی اور اسی حرکت اور اضطراب سے اللہ پاک نے بیت اللہ والی جگہ پر ایک سرخ ٹیلہ ظاہر فرمایا اسی ٹیلے کے نیچے سے پوری زمین کو بچھایا گیا جو پانی کی سطح سے اوپر ابھرا.

زمانے گزرنے کے ساتھ ساتھ چونکہ یہ مقام وادیِ مکہ کے عین وسط میں واقع تھا اس لیے جب بھی بارشیں ہوتیں تو سیلابی ریلے اپنے ساتھ مٹی اور ریت بہا کر لاتے جو اس سرخ ٹیلے کے گرد جمتی گئی یہ سلسلہ صدیوں تک جاری رہا یہاں تک کہ مٹی اور ریت کی تہہ در تہہ تہوں نے اس سرخ ٹیلے کو اور بیت اللہ شریف کے نچلے حصے کو مکمل طور پر اپنے اندر چھپا لیا یہی وجہ ہے کہ آج یہ مقدس مقام ہمیں زمین کی سطح کے برابر دکھائی دیتا ہے
اس جگہ کو اللہ نے بیت المعمور کی عین سیدھ میں منتخب فرمایا اور فرشتوں کے ذریعے وہاں بیت اللہ شریف کی بنیاد رکھی گئی بیت المعمور ساتویں آسمان پر واقع وہ مقدس مقام ہے جو اہل ایمان کے لیے کعبہ کی مانند نہایت متبرک اور عظمت والا ہے جسے ملائکہ کا کعبہ کہا جاتا ہے

جہاں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں جو ایک بار داخل ہو کر دوبارہ اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں اور یہ مقامِ عالیٰ زمین پر موجود خانہ کعبہ کے عین اوپر واقع ہے جس کے متعلق معراج کی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اسے دیکھا ہے اور یہ اللہ کی بے پایاں رحمتوں اور اس کے فرشتوں کی تسبیح و عبادت کا مرکز ہے جہاں کی نورانیت اور تقدس انسانی عقل و فہم سے بالاتر ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور ملکوتی نظام کی ایک عظیم نشانی ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں سورہ طور کی آیت نمبر چار میں بھی موجود ہے اور یہ ہمیشہ آباد رہنے والا اور فرشتوں کی عبادت گاہ ہے یہ مقدس مقام دنیا میں اللہ کا پہلا گھر ٹھہرا جو آج بھی زمین کے مرکز کے طور پر اپنی شان کے ساتھ قائم ہے.

مکہ مکرمہ کا محل وقوع ایک ایسی تنگ وادی میں ہے جو سلسلہ کوہِ سرات کے سخت اور خشک پہاڑوں کے درمیان گھری ہوئی ہے اس شہر کی جغرافیائی حدود کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے مشرق میں جبل ابوقبیس اور مغرب میں جبل قعیقعان نامی دو بلند و بالا اور عظیم الشان پہاڑ حائل ہیں ان دو پہاڑوں کے درمیان واقع یہ شہر چاروں طرف سے چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں اور ریتلے میدانوں کے سلسلے سے جڑا ہوا ہے جو دور دور تک پھیلے ہوئے ہیں مکہ مکرمہ سعودی عرب کے تاریخی خطے حجاز کا دارالحکومت ہے اور بحر احمر کے ساحلی شہر جدہ سے تقریباً ستر سے اسی کلومیٹر مشرق کی جانب واقع ہے سطحِ سمندر سے اس شہر کی بلندی دو سو ستتر میٹر ہے جبکہ اس کے عرضِ بلد کی پیمائش اکیس اعشاریہ بیالیس ڈگری شمال اور طولِ بلد کی پیمائش انتالیس اعشاریہ بیاسی ڈگری مشرق بنتی ہے مدینہ منورہ اس شہرِ مقدس سے شمال کی جانب تقریباً چار سو بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے

یہ سرزمین صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ یہ محبوبِ رب العزت ﷺ کی ولادت گاہ اور اللہ کے آخری نبی ﷺ کے صحابہ کرامؓ کی یادگاروں کا مرکز ہے جہاں کعبہ شریف کی نسبت نے اسے پوری دنیا میں ممتاز اور محترم بنا دیا ہے اس شہر کی طبعی ساخت سخت پہاڑی اور خشک ہونے کے باوجود اپنی روحانی اور تاریخی گہرائی کی وجہ سے دنیا کا سب سے زیادہ متبرک مقام ہے جس کے چاروں طرف پھیلے ہوئے ریگزار اور پہاڑی سلسلے صدیوں سے اس تاریخی شہر کی حدود کی حفاظت کر رہے ہیں یہ وہ بستی ہے جسے اللہ پاک نے ہر قسم کے خیر و برکت کا گہوارہ بنایا اور اسے اپنی زمین پر اپنی توحید کا سب سے بڑا نشان قرار دیا

بائبل میں ذکر : بائبل میں مکہ کا ذکر "بکہ" کے نام سے ملتا ہے، جس کا تعلق بھی ایک مقدس وادی سے ہے۔ زبور 84:6 میں "بکہ کی وادی" کا ذکر ہے، (Psalms 84) جسے بعض مفسرین مکہ سے جوڑتے ہیں۔
دیگر نظریات: بعض ماہرین لسانیات کا خیال ہے کہ "مکہ" کا لفظ قدیم سامی زبانوں سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب "منزل" یا "مقدس جگہ" ہو سکتا ہے۔ یہ نام اس خطے کی مذہبی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

مولانا محمد الیاس سعیدی قادری
03024706826

لباس ہے پھٹا ہوا غبار میں اٹا ہواتمام جسم نازنیں چھدا ہوا کٹا ہوایہ کون ذی وقار ہے بلا کا شہ سوار ہےکہ ہے ہزاروں قاتلوں ...
26/06/2026

لباس ہے پھٹا ہوا غبار میں اٹا ہوا
تمام جسم نازنیں چھدا ہوا کٹا ہوا
یہ کون ذی وقار ہے بلا کا شہ سوار ہے
کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا

یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نور عین ہے

یہ جس کی ایک ضرب سے کمال فن حرب سے
کئی شقی گرے ہوئے تڑپ رہے ہیں کرب سے
غضب ہے تیغ دوسرا کہ ایک ایک وار پر
اٹھی صدائے الاماں زبان شرق و غرب سے

یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نور عین ہے

عبا بھی تار تار ہے تو جسم بھی فگار ہے
زمین بھی تپی ہوئی فلک بھی شعلہ بار ہے
مگر یہ مرد تیغ زن یہ صف شکن فلک فگن
کمال صبر و تن دہی سے محو کار زار ہے

یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نور عین ہے

دلاوری میں فرد ہے بڑا ہی شیر مرد ہے
کہ جس کے دبدبے سے دشمنوں کا رنگ زرد ہے
حبیب مصطفیٰ ہے یہ مجاہد خدا ہے یہ
جبھی تو اس کے سامنے یہ فوج گرد گرد ہے

یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نور عین ہے

ادھر سپاہ شام ہے ہزار انتظام ہے
ادھر ہیں دشمنان دیں ادھر فقط امام ہے
مگر عجیب شان ہے غضب کی آن بان ہے
کہ جس طرف اٹھی ہے تیغ بس خدا کا نام ہے

یہ بالیقیں حسین ہے نبی کا نور عین ہے

دشت بلا کو عرش کا زینہ بنا دیا جنگل کو مصطفی کا مدینہ بنا دیا ہر ذرے کو نجف کا نگینہ بنا دیا تو نے حسین مرنے کو جینا بنا...
25/06/2026

دشت بلا کو عرش کا زینہ بنا دیا
جنگل کو مصطفی کا مدینہ بنا دیا
ہر ذرے کو نجف کا نگینہ بنا دیا
تو نے حسین مرنے کو جینا بنا دیا

ایک اور طالب علم کاعربی مدارس کے نام ایک کھلا خط)میں ایک طالب علم ہوں۔جی ہاں، وہی طالب علم جس کے سر پر جلد یا بدیر دستار...
22/06/2026

ایک اور طالب علم کا
عربی مدارس کے نام ایک کھلا خط)

میں ایک طالب علم ہوں۔

جی ہاں، وہی طالب علم جس کے سر پر جلد یا بدیر دستار باندھی جائے گی، جسے سند دی جائے گی، جس کے بارے میں اعلان ہوگا کہ یہ "عالم" بن گیا ہے۔

لیکن آج میں خاموش نہیں رہوں گا۔

آج میں سوال کروں گا۔

اپنے اساتذہ سے۔

اپنے مدیران سے۔

اپنے نظام سے۔

اور شاید پوری ایک صدی سے۔

حضراتِ اساتذہ کرام!

آپ فرمایا کرتے ہیں کہ اکابر کا احترام کرو۔

میں کرتا ہوں۔

دل سے کرتا ہوں۔

لیکن ایک سوال ہے:

اکابر آسمان سے نازل ہوتے ہیں یا اصاغر میں سے پنتے ہیں؟

اگر اصاغر کی تربیت نہیں ہوگی تو اکابر کہاں سے آئیں گے؟

اگر چھوٹے پودوں کی آبیاری نہیں ہوگی تو تناور درخت کہاں سے کھڑے ہوں گے؟

آپ ہمیں بتاتے ہیں کہ درسِ نظامی ہماری عظیم میراث ہے۔

بلاشبہ ہے۔

لیکن کیا میراث کو عجائب گھر میں رکھ دیا جاتا ہے یا زندہ رکھا جاتا ہے؟

کیا درسِ نظامی کی موجودہ شکل وترتیب وحی ہے؟

کیا وہ آسمان سے نازل ہوا تھا؟

اگر بزرگوں نے بنایا ، تو پھر اس میں تجدید کیوں نہیں؟

اس میں ترقی وتطویر کیوں نہیں؟

اس میں نظرثانی کیوں نہیں؟

اس میں زمانے کی ضرورتوں کے مطابق اضافہ کیوں نہیں؟

میرے محترم اساتذہ!

آپ نے آٹھ آٹھ، دس دس سال یہ نصاب پڑھا۔

پھر تیس تیس، چالیس چالیس، پچاس پچاس سال اسے پڑھایا۔

میں ادب سے پوچھتا ہوں:

ان پچاس برسوں کا حاصل کیا ہے؟

آپ میں سے کتنے لوگ عربی میں ایک گھنٹے کا لیکچر دے سکتے ہیں؟

کتنے لوگ عربی میں کتاب لکھ سکتے ہیں؟

کتنے لوگ عربی میں تحقیقی مقالہ پیش کرسکتے ہیں؟

کتنے لوگ عربی چینلز پر بیٹھ کر امت کی نمائندگی کرسکتے ہیں؟

کتنے لوگ عرب دنیا کے علمی حلقوں میں جانے جاتے ہیں؟

جبکہ آپ تو عربی کے استاذ ہیں!

پھر مسئلہ کہاں ہے؟

مجھ میں؟

یا آپ میں؟

میں جب اپنے موبائل پر دنیا دیکھتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں۔

مغرب آگے بڑھ رہا ہے۔

مشرق آگے بڑھ رہا ہے۔

دنیا مصنوعی ذہانت کی طرف دوڑ رہی ہے۔

علم ہر روز نئی سرحدیں عبور کررہا ہے۔

اور میں؟

میں ابھی تک یہ سوچ رہا ہوں کہ (عربی مدرسے) میں عربی کیوں نہیں بولی جاتی؟

مجھے نحو پڑھائی جاتی ہے، مگر عربی نہیں۔

مجھے صرف پڑھائی جاتی ہے، مگر عربی میں سوچنا نہیں سکھایا جاتا۔

مجھے قواعد یاد کرائے جاتے ہیں، مگر زبان نہیں دی جاتی۔

حضراتِ اساتذہ!

کل میری دستاربندی ہوگی۔

لیکن خدا کے لیے بتائیے:

یہ دستاربندی ہوگی یا مجھے ایک اور ٹوپی پہنا دی جائے گی؟

میں اس برق رفتار زمانے میں کہاں کھڑا ہوں گا؟

میں اے آئی کے دور میں کیسے مقابلہ کروں گا؟

میں دنیا کو اسلام کیسے سمجھاؤں گا؟

میں قرآن کا پیغام انسانیت تک کیسے پہنچاؤں گا؟

جبکہ میں خود قرآن کی زبان میں رواں گفتگو نہیں کرسکتا!

ایک اور سوال۔

پاکستان کے بڑے بڑے مدارس میں روزانہ درسِ قرآن کیوں نہیں ہوتا؟

فجر کے بعد قرآن کا حلقہ کیوں نہیں؟

قرآن سے براہِ راست تعلق کیوں نہیں؟

جب اللہ خود فرماتا ہے:

"وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ"

اور جب آپ نے خود "آسان ترجمہ" اور "آسان تفسیر" لکھی ہے تو پھر قرآن طلبہ کے روزمرہ درس کا مرکز کیوں نہیں؟

ہم قرآن سے براہِ راست جڑنے سے کیوں محروم ہیں؟

اور ایک آخری سوال۔

ابن تیمیہ کہاں ہیں؟

شاہ ولی اللہ کہاں ہیں؟

ابن باديس کہاں ہیں؟

وہ مفکر کہاں ہیں جنہیں مخالف بھی مانتا تھا اور موافق بھی؟

وہ محقق کہاں ہیں جن کے قلم سے دنیا لرزتی تھی؟

وہ ادیب کہاں ہیں جن کی عربی پر عرب فخر کرتے تھے؟

وہ داعی کہاں ہیں جن کی آواز براعظموں تک پہنچتی تھی؟

اگر یہی کتابیں ہیں...

اگر یہی نصاب ہے...

اگر یہی مدارس ہیں...

تو پھر وہ لوگ کیوں پیدا نہیں ہورہے؟

آخر کمی کہاں ہے؟

میں بغاوت نہیں کررہا۔

میں ادب کے ساتھ فریاد کررہا ہوں۔

میں اپنے اساتذہ کا دشمن نہیں، ان کا سب سے مخلص خیرخواہ ہوں۔

میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں:

کل سے ہمیں عربی میں پڑھائیے۔

کل سے مدرسے میں عربی بولیے۔

کل سے قرآن کو مرکز بنائیے۔

کل سے تحقیق کو زندہ کیجیے۔

کل سے طالب علم کو سوال کرنے دیجیے۔

کل سے مستقبل کی تیاری شروع کیجیے۔

کیونکہ اگر آج ہم نے خود احتسابی نہ کی تو تاریخ ہمارا احتساب کرے گی۔

اور اگر آج ہم نے جرأتِ تجدید دکھا دی تو انہی مدرسوں کے صحنوں سے پھر ایسے رجال اٹھیں گے جو امت کی تقدیر بدل دیں گے۔

بخدا میں ایک طالب علم ہوں۔

لیکن شاید ہر انقلاب ایک طالب علم کے سوال سے ہی شروع ہوتا ہے۔
مولانا محمد الیاس سعیدی قادری
03053296599

16/06/2026

I got over 600 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

Address

جتوئی ضلع مظفر گڑھ پنجاب پاکستان
Muzaffargarh
34200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hafiz Ilyas Saeedi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share