29/06/2025
جب امام حسینؑ کوفہ کی طرف روانہ ہوئے تو ابن زیاد نے وہاں کے درباری علما، قاضیوں اور مفتیوں کو بلا کر اُن سے رائے لی کہ حسینؑ کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہیے۔ کوفہ کا قاضی شُریح بن الحارث سب سے پہلے سامنے آیا اور یزید کے دربار کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے فتویٰ دیا کہ امام حسینؑ حکومتِ وقت کے خلاف خروج کر رہے ہیں، اور ان کا قتل جائز ہے۔ اس فتوے کو بنیاد بنا کر ابن زیاد نے کربلا کے لیے فوج روانہ کی۔ اس واقعے کو شیعہ مورخ محمد تقی سپہر نے اپنی کتاب ناسخ التواریخ جلد 2، صفحہ 243 میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔
📚 حوالہ: ناسخ التواریخ، جلد 2، صفحہ 243
اسی واقعے کی ایک اور روایت ابو مخنف کی مشہور کتاب مقتل الحسینؑ میں ملتی ہے، جس میں ذکر ہے کہ ابن زیاد نے کوفہ کے قاضیوں اور اہلِ فتویٰ کو بلایا اور ان سے سوال کیا: "کیا حسینؑ باغی نہیں؟" اکثر درباری علما نے اثبات میں جواب دیا، اور کہا کہ چونکہ وہ امیر وقت کے خلاف نکلے ہیں، اس لیے ان کا قتل شرعاً جائز ہے۔ ان میں سب سے نمایاں نام قاضی شُریح کا ہی تھا، جس کی گواہی نے یزیدی لشکر کو "شرعی جواز" فراہم کیا۔
📚 حوالہ: مقتل الحسینؑ از ابو مخنف، مطبوعہ نجف