Maulana Umar Farooq Naqshbandi

Maulana Umar Farooq Naqshbandi اسلام کی روشنی ہر دل تک
قرآن و سنت کی رہنمائی میں علم اور سکون بانٹیں
محبت الٰہی ؛ دعوت و فکر

11/08/2026
19 سالہ نورانی سفر: درسِ قرآن کے نقوش و ثمرات:ہمارا روحانی و نورانی سفر "درسِ قرآن" صفر 1429ھ کو شروع ہوا اور صفر 1448ھ ...
01/08/2026

19 سالہ نورانی سفر: درسِ قرآن کے نقوش و ثمرات:

ہمارا روحانی و نورانی سفر "درسِ قرآن" صفر 1429ھ کو شروع ہوا اور صفر 1448ھ کو مکمل ہو رہا ہے۔ قمری اعتبار سے یہ تقریباً 19 سال بنتے ہیں۔ ہمارا یہ درسِ قرآن مسلسل ہوتا رہا، البتہ رمضان المبارک میں ہم چھٹی کرتے تھے اور رمضان میں جو تراویح میں پڑھا جاتا تھا، اسی کا خلاصہ بیان کر دیا جاتا تھا۔ ہمارا یہ درس دس سے پندرہ منٹ کے درمیان مکمل ہوتا تھا، جس میں عموماً ایک آیت یا کبھی ایک آیت کو دو دن میں بیان کیا جاتا رہا۔

اس درس میں پوری تفصیل سے تفسیر بیان کرنے کے بجائے مخاطبین کے حال کے موافق اصلاحی پہلو کو غالب رکھا جاتا تھا۔ جہاں عقیدے کی ضرورت ہوتی یا کوئی اختلافی مسئلہ سامنے آتا، تو اس کی وضاحت مثبت انداز میں، اور جسے ہم حق سمجھتے تھے، اس کے دلائل کے ساتھ کر دی جاتی تھی۔

اس دوران میں نے جن تفاسیر سے استفادہ کیا، ان میں اردو تفاسیر درج ذیل ہیں:

معالم العرفان فی دروس القرآن (صوفی عبدالحمید سواتی رحمہ اللہ): ابتداءً اردو تفاسیر میں زیادہ اسی کو دیکھا اور اس کو نمونہ بنانے کی کوشش کی۔

ذخیرۃ الجنان (مولانا سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ): اس کو بھی بعض اوقات پیشِ نظر رکھا۔

معارف القرآن (مولانا ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ): اردو تفاسیر میں یہ میری سب سے پسندیدہ تفسیر ہے۔

معارف القرآن (مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ): ضرورت کے وقت مسائل کی تحقیق کے لیے اس سے رجوع کیا۔

علاوہ ازیں تفسیرِ عثمانی اور بیان القرآن بھی میرے مطالعے میں رہیں۔

البتہ میرا زیادہ ذوق عربی تفاسیر کے مطالعے کا رہا ہے۔ عربی تفاسیر میں:

روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی (علامہ سید محمود آلوسی بغدادی رحمہ اللہ، متوفی 1270ھ): یہ میری محبوب ترین تفسیر رہی ہے۔

تفسیر القرآن العظیم / تفسیر ابن کثیر (عماد الدین ابوالفداء اسماعیل بن کثیر دمشقی رحمہ اللہ، متوفی 774ھ): اس سے بھی خوب استفادہ کیا۔

مدارک التنزیل وحقائق التاویل (امام عبداللہ بن احمد النسفی رحمہ اللہ، متوفی 710ھ - مصنف کنز الدقائق):

یہ عربی میں ایک مختصر جامع تفسیر ہے، جسے دیکھنے کا خاص ذوق رہا۔

الحمد للہ! ہم نے اس درسِ قرآن میں اصلاحی پہلو کو غالب رکھا، اور لوگ اس سے بہت مستفید ہوئے۔ سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے توبہ کی، اپنی ظاہری وضع قطع درست کی، نماز کی پابندی شروع کی اور اپنے معاملات کو درست کیا، جس کا میں خود گواہ ہوں۔

اس طویل عرصے کے دوران بہت سے احباب جو شروع میں شامل تھے، وہ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ کچھ احباب شروع سے لے کر آخر تک ساتھ چلتے آ رہے ہیں، جبکہ کچھ ایسے بھی تھے جو شروع میں ساتھ رہے، پھر درمیان میں سفر یا دیگر وجوہات کی بنا پر غائب ہوئے اور بعد میں دوبارہ شامل ہو گئے۔ دور دراز سے احباب گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر صرف درس میں شرکت کے لیے آتے رہے۔

موسم کے اعتبار سے حاضری میں کمی بیشی تو ہوتی رہی، لیکن بہت سے احباب نے پورے ذوق و شوق کے ساتھ اس سفر میں شرکت کی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں تا حیات قرآن مجید کی تعلیمات سے جوڑے رکھے اور اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے۔ آمین

بیان کردہ: حضرت اقدس حضرت مولانا عمر فاروق نقشبندی صاحب
منتظم اعلیٰ جامعہ خالد بن ولید قادرپورراں ملتان

راقم الحروف:سیف اللہ خالد

دو دن کے فاصلے پر قرب و جوار کے احباب ضرور شرکت فرمائیں
31/07/2026

دو دن کے فاصلے پر
قرب و جوار کے احباب ضرور شرکت فرمائیں

مولانا عزیز الرحمن جالندھری رحمہ اللہ تعالیٰ (قسط نمبر 2)ہمارے مربی و محسن، شیخ و استاد حضرت اقدس مولانا عمر فاروق نقشبن...
31/07/2026

مولانا عزیز الرحمن جالندھری رحمہ اللہ تعالیٰ
(قسط نمبر 2)
ہمارے مربی و محسن، شیخ و استاد حضرت اقدس مولانا عمر فاروق نقشبندی صاحب (دامت برکاتہم العالیہ) نے دوسرا واقعہ یوں بیان فرمایا:
دینی نسبت اور ایک عجیب واقعہ
جب حضرت رحمہ اللہ کی اہلیہ محترمہ کا انتقال ہوا اور میں تعزیت کے لیے گیا، تو حضرت دفتر میں اکیلے تشریف فرما تھے۔ مجھے فرمانے لگے کہ ہمارا رشتہ محض دین کی نسبت سے ہوا تھا؛ میرے والد کا نام بھی محمد علی تھا اور میرے سسر کا نام بھی محمد علی تھا، اور دونوں کا اصلاحی تعلق حضرت رائے پوری رحمہ اللہ تعالیٰ سے تھا۔
ایک مرتبہ میرے سسر، حضرت رائے پوری رحمہ اللہ سے ملاقات کے لیے گئے تو ایک طالب علم کو ساتھ لے گئے جنہیں انہوں نے اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا۔ ملاقات کے بعد واپسی پر اڈے پر، جہاں سے اس شاگرد نے اپنے گھر جانا تھا، سسر صاحب نے ان سے فرمایا:
"یہ ایک راز کی بات ہے، کسی کو بتانی نہیں؛ میرا وقت قریب آ گیا ہے اور اگلے جمعہ تک میں نے اس دنیا سے چلے جانا ہے۔ یہ ہفتہ میرے معاملات درست کرنے کا ہے۔ آپ اگلے جمعہ والے دن آئیے گا، اس سے پہلے نہ آئیے گا، اور جب آپ آئیں گے تو مجھے غسل دیا جا رہا ہو گا۔"
چنانچہ وہ طالب علم اگلے جمعہ جب پہنچا، تو واقعی غسل دیا جا رہا تھا۔ اس ایک ہفتے میں حضرت نے اپنے تمام معاملات درست کر لیے تھے۔
عجیب وصیت اور رشتہ داری
ان کی ایک بیٹی تھی جس کی عمر اس وقت 7 سال تھی۔ انہوں نے وصیت فرمائی تھی کہ:
"جب یہ نکاح کے قابل ہو تو اس کا نکاح کسی حافظِ قرآن سے کرنا، چاہے اس کے پاس کھانے پینے کے لیے کچھ نہ ہو، وہ صبح کی روزی کے لیے شام کو اور شام کی روزی کے لیے صبح مزدوری کرتا ہو، لیکن ہو حافظِ قرآن۔"
فرمایا کہ جب میں نے قاری رحیم بخش پانی پتی رحمہ اللہ سے حفظِ قرآن مکمل کیا، تو میری اہلیہ کے بھائی میرے والد صاحب کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کے بھائی نے یہ وصیت فرمائی تھی اور آپ کے بیٹے قرآن مجید مکمل کر چکے ہیں، لہٰذا اس وصیت کے مطابق آپ یہ رشتہ قبول فرمائیں۔ یوں یہ رشتہ محض حفظِ قرآن مجید کی بنیاد پر طے پا گیا۔
۵۰ سالہ خوشگوار ازدواجی زندگی
فرمایا کہ اس دن سے لے کر وفات تک درمیان میں ۵۰ سال گزر گئے، لیکن ان ۵۰ سالوں میں ہماری کبھی بھی لڑائی نہیں ہوئی۔ ہم نے گھر کی ترتیب ایسی بنائی ہوئی تھی کہ صبح دفتر جانے سے پہلے ہم دن بھر کے تمام معاملات کا باہم مذاکرہ کرتے تھے؛ میں نے دن میں کیا کرنا ہے، انہوں نے کیا کرنا ہے، اور اگر مجھے کسی سفر پر جانا ہے تو کس طرف جانا ہے۔
اہلیہ کی محبت، دعا اور حسنِ خاتمہ
آخری عمر میں میری اہلیہ کی ریڑھ کی ہڈی کا مسئلہ بن گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ سارا دن تختے (پھٹے) پر لیٹی رہتی تھیں۔ جب میں بتاتا کہ آج میں نے سفر پر فلاں شہر جانا ہے، تو وہ پوچھتی تھیں کہ وہ شہر کس طرف ہے؟ عجیب بات یہ تھی کہ مثلاً وہ شمالاً جنوباً لیٹی ہوتیں اور مجھے اس دن جھنگ جانا ہوتا، تو میں ان کے مغرب کی طرف آ کر کھڑا ہو جاتا اور اشارہ کر کے بتاتا کہ اس طرف جانا ہے۔
ایک دن میں نے پوچھ ہی لیا کہ آپ یہ کیوں پوچھتی ہیں کہ فلاں شہر کس طرف ہے؟ کہنے لگیں:
"میں اس لیے پوچھتی ہوں تاکہ آپ کے پیٹھ پھیرتے ہی سارا دن اللہ سے مانگتی رہوں کہ یا اللہ! میرے خاوند کی حفاظت فرما، ان کا سفر خیریت سے فرما اور خیریت سے واپس لے کر آ۔ اور اگر میں مر جاؤں تو میرا خاوند ہی میرا جنازہ پڑھائے۔"
اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ خواہش پوری فرمائی اور ان کا جنازہ خود ان کے خاوند (حضرت رحمہ اللہ) نے ہی پڑھایا۔
اولاد کی فرمانبرداری
یہ ایسی پاکیزہ شخصیات تھیں! حضرت نے ساتھ یہ بھی فرمایا:
"الحمد للہ! ہماری اولاد نے کبھی ہماری نافرمانی نہیں کی۔ خدمت، فرمانبرداری اور اطاعت میں ہمارے بیٹے اور بیٹیاں مثال ہیں۔"
اللہ تعالیٰ ایسے مبارک گھرانوں کو ہم سب کے لیے مشعلِ راہ بنائے، ان کی برکتیں نصیب فرمائے، اور سب کے گھرانوں کو ایسا ہی پاکیزہ بنا دے۔ اللہ تعالیٰ حضرت رحمہ اللہ کو غریقِ رحمت فرمائے اور ہمیں اپنے ان اکابرین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
بیان کردہ: حضرت مولانا عمر فاروق نقشبندی صاحب
منتظم اعلیٰ جامعہ خالد بن ولید قادرپورراں ملتان
راقم:ایڈمن

مولانا عزیز الرحمن جالندھری رحمہ اللہ تعالیٰدو واقعات: جن میں ہمارے لیے سعادت بھی ہے اور سبق بھیہمارے مربی و محسن، شیخ و...
30/07/2026

مولانا عزیز الرحمن جالندھری رحمہ اللہ تعالیٰ
دو واقعات: جن میں ہمارے لیے سعادت بھی ہے اور سبق بھی
ہمارے مربی و محسن، شیخ و استاد محترم حضرت مولانا عمر فاروق نقشبندی صاحب (دامت برکاتہم العالیہ) نے پہلے بھی اور آج بھی حضرت کی کچھ باتیں سنائیں۔
پہلا واقعہ: بے غرض محبت اور خاموش تعاون
فرمایا کہ جب ہم نے اپنے ادارے جامعہ خالد بن ولید (قادر پور راں، ملتان) کی مسجد کی تعمیر شروع کی، تو ایک دن سردی کے موسم میں عین دوپہر کے وقت حضرت تشریف لائے۔ اس وقت طلباء آرام کر رہے تھے۔
استادِ محترم فرماتے ہیں:
"اذان ہوتے ہی میں باہر آیا جہاں طلباء سوئے ہوئے تھے اور کچھ ابھی بیدار ہو رہے تھے، تو میں نے دیکھا کہ طلباء کے بیچ ہی ایک طرف حضرت قرآن کریم کی تلاوت فرما رہے تھے اور ڈرائیور پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ میں حیران ہوا اور ڈرائیور سے پوچھا کہ حضرت یہاں کیسے تشریف لائے؟ ڈرائیور نے کہا: 'یہ تو حضرت ہی کو معلوم ہے۔'"
استادِ محترم نے آگے بتایا کہ میں نے حضرت سے ملاقات کی اور درخواست کی: "آپ تشریف لائے ہوئے ہیں، نماز کے بعد طلباء سے کچھ نصیحت آموز باتیں ہو جائیں۔" حضرت نے اس درخواست کو قبول فرمایا۔ بیان کے بعد جب حضرت رخصت ہونے لگے تو تقریباً 30 یا 35 ہزار روپے دیے اور فرمایا: "میں آپ کی مسجد کی تعمیر میں حصہ ڈالنے کے لیے آیا ہوں۔"
اس کے بعد بھی دورانِ تعمیر حضرت اسی طرح اچانک تشریف لاتے رہے اور اپنا حصہ ملاتے رہے۔ اس طرح حضرت نے ہماری مسجد کی تعمیر میں تقریباً ایک لاکھ روپے سے زائد کا حصہ ملایا۔
خلوصِ نیت کی ایک نادر مثال
بعد میں ڈرائیور نے مجھے بتایا کہ حضرت کو نہ تو آپ کا نام یاد تھا اور نہ ہی مسجد کا! وہ علاقے کے لوگوں سے پوچھتے رہے کہ "یہاں کوئی مسجد تعمیر ہو رہی ہے؟" لوگوں نے پہلے 'مبارک العلوم' کا بتایا، وہاں پہنچے تو حضرت نے فرمایا: "یہ نہیں، کوئی اور مسجد ہے۔" پھر لوگوں نے رہنمائی کی کہ 'خالد بن ولید' کی مسجد زیرِ تعمیر ہے، تب حضرت یہاں تشریف لائے۔
شیخ کی تائید اور مبارکباد
بعد میں، میں نے یہ واقعہ اپنے شیخ و مربی حضرت مولانا محمد نواز نقشبندی رحمہ اللہ تعالیٰ کو سنایا۔ حضرت یہ سن کر مبارکباد دینے لگے اور فرمایا:
"خوش قسمت ہیں آپ لوگ کہ اتنی پاکیزہ شخصیات آپ کی مسجد کی تعمیر میں حصہ ملا رہی ہیں۔ لگتا ہے کہ ان کو کوئی غیبی اشارہ ہوا ہے۔"
اللہ تعالیٰ حضرت کی ان محبتوں اور خلوص کو قبول فرمائے اور حضرت کو جنت الفردوس اور اعلیٰ علین میں بلند مقام عطاء فرمائے۔
آمین ثم آمین۔
قسط نمبر:1
بیان کردہ: حضرت مولانا عمر فاروق نقشبندی صاحب
منتظم اعلیٰ جامعہ خالد بن ولید قادرپورراں ملتان
راقم: #ایڈمن

مہمانان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معین و مددگار بنیے قرآن و حدیث کا علم سیکھنے والوں کو جہاں اور بھت ساری نسبتیں ح...
21/07/2026

مہمانان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معین و مددگار بنیے
قرآن و حدیث کا علم سیکھنے والوں کو جہاں اور بھت ساری نسبتیں حاصل ہیں وہاں سب سے بڑی نسبت ان کی یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کے مہمان شمار ہوتے ہیں
ان سے محبت در اصل اللہ اور اسکے رسول سے محبت ہے
ان سے عداوت اللہ اور اس کے رسول سے عداوت ہے
اور ان سے تعاون در حقیقت اللہ اور اس کے رسول سے تعاون ہوگا کیونکہ قرآن مجید میں اللہ ربّ العزّت نے ارشاد فرمایا
ان تنصر اللہ ینصر کم،اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تہماری مدد کرے گا مراد اس سے کہ تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو وہ تہماری مدد کرے گا
آئیے احباب ذی وقار اگر ہم 550بندہ دو دو سو روپے جمع کرائیں تو ان شاءاللہ العزیز آج ہی دونوں بیٹریوں کا انتظام ہو جائے گا
احباب اس پیغام کو خوب شئیر کریں
خیر کے کام کی طرف متوجہ کرنے والے کو کام کرنے والے کی بقدر اجر ملتا ہے
جاز کیش ۔بنام محمد یاسین
03006393223
رابطہ نمبر ۔حضرت اقدس حضرت مولانا عمر فاروق نقشبندی صاحب
03006335474
#ایڈمن

ہماری مکمل زندگی سنت کے مطابق ہوجائے اسی محنت کے تسلسل میں 26مجلس "مویشیوں کے حقوق"چھپ کر منظر عام پر آچکی ہے آج ہی اپنے...
20/07/2026

ہماری مکمل زندگی سنت کے مطابق ہوجائے اسی محنت کے تسلسل میں 26مجلس "مویشیوں کے حقوق"چھپ کر منظر عام پر آچکی ہے آج ہی اپنے لیے دوستوں کے لیے رسالہ منگوائیے ''''''''
عنوان '''''''''''''''''''''''مویشوں کے حقوق
صفحات ''''''''''''''''32
قیمت فی رسالہ '''''50روپے
رابطہ نمبر ''03043612121
مولانا دلاور صاحب

ایک دن کے فاصلے پرآج ہی سے اپنے کاموں کو ترتیب دے کر عزم مصمم کیجیے یہ ایسی مجالس ہوتیں ہیں جن میں کئ سچے طالب آئے ہوئے ...
14/07/2026

ایک دن کے فاصلے پر

آج ہی سے اپنے کاموں کو ترتیب دے کر عزم مصمم کیجیے
یہ ایسی مجالس ہوتیں ہیں جن میں کئ سچے طالب آئے ہوئے ہوتے ہیں جن کی برکت سے بے طلبوں گناہ گاروں پر بھی نوازش کردی جاتی ہے @
#ایڈمن

قرب و جوار کے احباب ضرور شرکت فرمائیں گے  #ایڈمن
10/07/2026

قرب و جوار کے احباب ضرور شرکت فرمائیں گے
#ایڈمن

اصلاحی پروگرام
24/06/2026

اصلاحی پروگرام

Address

جامعہ خالد بن ولید قادرپورراں ملتان
Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Maulana Umar Farooq Naqshbandi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share