عالمی مجلس تحفّظ ختم نبوت میانوالی

عالمی مجلس تحفّظ ختم نبوت میانوالی ہمارا مشن اللہ کی زمین پر آخری رسولؐ کی ختم نبوتؐ کا تحف

 #شیئر کریں
12/11/2021

#شیئر کریں

الحمد للہ ثم الحمد للہاکابرین کی محنت رنگ لانے لگیان شاء اللہ وہ وقت قریب ہے جب روئے زمین پر ایک بھی قادیانی نہیں رہے گا...
12/11/2021

الحمد للہ ثم الحمد للہ
اکابرین کی محنت رنگ لانے لگی
ان شاء اللہ وہ وقت قریب ہے جب روئے زمین پر ایک بھی قادیانی نہیں رہے گا۔

11/11/2021

پاکستان میں نوے فیصد گاڑیاں ڈپلیکیٹ نمبر پلیٹ کے ساتھ گھوم رہی ہیں وجہ چوری ہونے سے بچاؤ کےلیے ایسا کیاجاتا ہے آج ختم نب...
08/11/2021

پاکستان میں نوے فیصد گاڑیاں ڈپلیکیٹ نمبر پلیٹ کے ساتھ گھوم رہی ہیں وجہ چوری ہونے سے بچاؤ کےلیے ایسا کیاجاتا ہے آج ختم نبوت کے پروگرام میں جاتےہوئے مردان موٹروے پر(امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع مردان) قاری اکرام الحق صاحب کو فقط نمبر پلیٹ ڈپلیکیٹ لگوانے کے پاداش میں تھانے کی سیر کروائی گئی وجہ صاف ہے کٹھ پُتلی حکومت اب قادیانیت کی حمایت میں کھل کر سامنے آرہی ہے اور ختم نبوت کے اصل پروانوں پر زمین تنگ کرنے کےلیے اداروں میں اپنے آدمی مقرر کررکھے ہیں
قاری اکرام الحق صاحب کے ساتھ اس زیادتی پر پرزور مذمت کرتا ہوں اور کٹھ پُتلی حکومت کو تنبیہہ کرتا ہوں کہ ختم نبوت کے پروانوں سے باز آجاؤ ورنہ ہم تو پہلے ہی تن من دھن آقا علیہ السلام کی ختم نبوت پر لٹادینے کو تیار بیٹھے ہیں کہیں یہ طوفان تمہارے ساتھ ساتھ تمہیں لانے والوں کو بھی بہا نہ لے جائے۔
ازخادم ختم نبوت__محمدشاھدلطیف سراجی

ہم شیر مردان قاری اکرام الحق صاحب (امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع مردان) کی رشکئی انٹرچینج پر ناجائز گرفتاری کی شدید ...
08/11/2021

ہم شیر مردان قاری اکرام الحق صاحب (امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع مردان) کی رشکئی انٹرچینج پر ناجائز گرفتاری کی شدید مزمت کرتے ہیں۔منجانب:عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع میانوالی

04/11/2021
غازی علم دین شہید 3 دسمبر 1908 کو لاہور کے ایک علاقے کوچہ چابک سوارں میں پیدا ہوئے. آپ کے والد کا نام طالع مند تھا جو کہ...
31/10/2021

غازی علم دین شہید 3 دسمبر 1908 کو لاہور کے ایک علاقے کوچہ چابک سوارں میں پیدا ہوئے. آپ کے والد کا نام طالع مند تھا جو کہ نجار یعنی لکڑی کے کاریگر تھے. غازی علم دین نے ابتدائی تعلیم اپنے محلے کے ایک مدرسے میں حاصل کی. تعلی
م سے فراغت کے بعد آپ نے اپنے آبائی پیشہ کو اختیار کیا اور اس فن میں اپنے والد اور بڑے بھائی میاں محمد امین کی شاگردی اختیار کی.1928 میں آپ کوہاٹ منتفل ہوگئے اور
بنوں بازار میں اپنا فرنیچر سازی کا کام شروع کیا.

لاہور کے ایک ناشر راج پال نے بدنام زمانہ کتاب شائع کی۔ جس پر مسلمانوں میں سخت اضطراب پیدا ہوگیا. مسلمان رہنماؤں نے انگریز حکومت سےاس دل آزار کتاب کو ضبط کرانے اور ناشر کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا.مجسٹریٹ نے ناشر کو صرف چھ ماہ قید کی سزاسنائی۔ جس کے خلاف مجرم نے نے ہائی کورٹ میں اپیل کی جہاں جسٹس دلیپ سنگھ مسیح نے اس کو رہا کردیا. انگریز حکومت کی عدم توجہی پر مایوس ہوکر مسلمانوں نےمتعدد جلسے جلوس منعقد کئے.مگر انگریز حکومت نے روایتی مسلم دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کرکے الٹا مسلمان رہنماؤں کو ہی گرفتار کرنا شروع کردیا.مسلمانوں میں یہ احساس جاگزیں ہونے لگا کہ حکومت وقت ملعون ناشر کو بچانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور یہ کہ اس ملعون کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے ان کو خود ہی کچھ کرنا ہوگا

لاہور کے ایک غازی خدابخش نے24 ستمبر 1928 کو اس گستاخ کو اس کی دکان پر نشانہ بنایا تاہم یہ بھاگ کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوگيا.غازی خدابخش کو گرفتاری کے بعد 7 سال کی سزاسنائی گئی. افغانستان کے ایک غازی عبدالعزیز نے لاہور آکر اس شاتم رسول کی دکان کارخ کیا مگر یہ بدبخت دکان میں موجود نہیں تھا اس کی جگہ اس کا دوست سوامی ستیانند موجود تھا۔ غازی عبدالعزیز نے غلط فہمی میں اس کو راج پا ل سمجھ کر اس پر حملہ کرکے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کردیا.غازی عبدالعزیزکو حکومت وقت نے چودہ سال کی سزا سنائی. راج پال ان حملوں کے بعد نہایت خوفزدہ رہنے لگا. حکومت نے اس کی پشت پناہی کرتے ہوئے دو ہندو سپاہیوں اور ایک سکھ حوالدار کو اس کی حفاظت پر متعین کردیا. راج پال کچھ عرصے کےلئے لاہور چھوڑ کر کاشی ، ہردوار اور متھرا چلا گیا مگر چند مال بعد ہی واپس آگیا اور دوبارہ اپنا کاروبار شروع کردیا. غازی علم دین کی غیرت ایمانی نے یہ گوارہ نا کیا کہ یہ ملعون اتنی آسانی سے بچ نکلے آپ نے اس کو اس کے انجام تک پہنچانے کا فیصلہ کرلیا .آپ نے 29 اپریل 1929 کو راج پال کی دکان کا رخ کیا.اس وقت یہ ملعون اپنی دکان پر ہی موجود تھا. آپ نے اس کو للکارتے ہوئے کہا "اپنے جرم کی معافی مانگ لو اور اس دل آزار کتاب کو تلف کردو اور آئندہ کے لئے ان حرکات سے باز رہو"راج پال نے اس کو گیدڑبھپکی سمجھ کر نظرانداز کردیا. اس پر آپ نے ایک ہی بھرپور وار میں اس بدبخت کا کام تمام کردیا. اس کی دکان کے ایک ملازم نے قریبی تھانے انارکلی کو خبر دی جس پر پولیس نے آپ کو گرفتار کرلیا. آپ اس واقعہ کے بعدناصرف مکمل پرسکون رہے بلکہ آپ نے فرار ہونے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی. آپ نے اس کاروائی کا اعتراف کیا اور گرفتاری پیش کردی. مقدمہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لوئس کی عدالت میں پیش ہوا جس نے ملزم پر فرد جرم عائد کرکے صفائی کا موقع دیئے بغیر مقدمہ سیشن کورٹ میں منتقل کردیا.آپ کی جانب سے سلیم بارایٹ لا پیش ہوئے جنہوں نے آپ کے حق میں دلائل دیئے مگر نیپ نامی انگریز جج نے آپ کو مورخہ 22م مئی1929 کو سزائے موت کا حکم سنایا. مسلمانان لاہور نے فیصلہ کیا کہ کہ سیشن کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جائے اور اس مقدمے میں غازی کی وکالت کے لئے شہرہ آفاق وکیل محمد علی جناح کو نامزد کیا جائے.چنانچہ محمد علی جناح بمبئی سے لاہور تشریف لائے ان کی معاونت جناب فرخ حسین بیرسٹر نے کی.15 جولائی 1929 کو ہائی کورٹ کے دو جج نے فیصلہ سناتے ہوئے سیشن کورٹ کی سزا کو بحال رکھا.اور غازی کی اپیل خارج کردی. اپیل خارج ہونے کی اطلاع جب جیل میں غازی کو ملی تو آپ مسکرا کر فرمایا " شکر الحمداللہ ! میں یہی چاہتا تھا.بزدلوں کی طرح قیدی بن کر جیل میں سڑنے کے بجائے تختہ دار پر چڑھ کرناموس رسالت پر اپنی جان فدا کرنا کرنا موجب ہزار ابدی سکون وراحت ہے" مسلمانوں عمائدین نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف لندن کی پریوی کونسل میں اپیل دائر کی .اس اپیل کا مسودہ قائد اعظم کی زیر نگرانی تیار کیا گیا.مگر انگریز حکومت جو ایڈیشنل سیشن کورٹ سے ہائی کورٹ تک مسلم دشمنی کا مسلسل مظاہرہ کرتی آئی تھی اس اپیل کو بھی رد کردیا..غازی کی اپنے رشتہ داروں کوجو وصیت فرمائی وہ قابل غور ہے. " میرے تختہ دار پر چڑھ جانے سے وہ بخشے نہیں جائیں گے‘ بلکہ ہر ایک اپنے اعمال کے مطابق جزا اور سزا کا حق دار ہوگا اور انہیں تاکید کی کہ وہ نماز نہ چھوڑیں اور زکوٰة برابر ادا کریں اور شرعِ محمدی پر قائم رہیں".
شہادت

31 اکتوبر1929 بروز جمعرات کو میانوالی جیل میں آپ کی سزا پر عمل درآمد کیا گیا.
جسدخاکی کی ضبطگی

آپ کی شہادت کے بعد انگریز حکومت نے آپ کے جسد خاکی کو قبضے میں رکھا اور کسی نامعلوم مقام پر سپردخاک کردیا جس پر شدید احتجاجی لہر اٹھی .4 نومبر 1929 کو مسلمان رہنماؤں کے ایک وفد ( جن میں علامہ اقبال، سر محمد شفیع، مولانا عبدالعزیز، مولانا ظفر علی خان، سر فضل حسین، خلیفہ شجاع،میاں امیر الدین،مولانا غلام محی الدین قصوری شامل تھے) نے گورنر پنجاب سے ملاقات کی اور جسد خاکی کی حوالگی کا مطالبہ کیا.گورنر نے شرط عائد کی کہ اگر مذکورہ رہنما پرامن تدفین کی ذمہ داری اور کسی گڑبڑ کے نا ہونے کی یقین دہانی کرائیں تو جسد خاکی مسلمانوں کے حوالے کیا جاسکتا ہے . مذکورہ وفد نے یہ شرط منظور کرلی .13 نومبر 1929 کومسلمانوں کا ایک وفد سید مراتب علی شاہ اور مجسٹریٹ مرزا مہدی حسن کی قیادت میں میانوالی روانہ ہوا اور دوسرے روز جسد خاکی وصول کیا.موقع پر موجود لوگوں کا بیان ہے کہ دو ہفتے گزر جانے کے باوجود جسد خاکی میں ذرا بھی تعفن نہیں تھا اور لاش بالکل صحیح وسالم تھی.چہرے پر جلال و جمال کا حسین امتزاج تھا اور ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی. محکمہ ریلوے نے یہ جسد خاکی 15 نومبر 1929 کو لاہور چھاؤنی میں دو مسلم رہنماؤں علامہ اقبال اور سر محمد شفیع کے حوالے کیا.
جنازہ

شہید کا جنازہ لاہو ر کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ کہلاتا ہے جس میں تقریبا چھ لاکھ مسلمانوں نے شرکت کی. جنازہ کا جلوس ساڑھے پانچ میل لمبا تھا. شہید کی نماز جنازہ قاری شمس الدین خطیب مسجد وزیر خان نے پڑھائی.مولانا دیدار شاہ اور علامہ اقبال نے شہید کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتارا.اس موقع پر علامہ نے فرمایا " یہ لوہاروں کا لڑکا ہم سب پڑھے لکھوں سے بازی لے گیا ".لوگوں نے عقیدت میں اتنے پھول نچھاور کئے کہ میت ان میں چھپ گئی.
آخری آرام گاہ

بہاولپور روڈ کے کنارے میانی صاحب قبرستان میں ایک نمایاں مقام پر آپ کی آخری آرام گاہ موجود ہے.مزار کے چہار اطراف برآمدہ ہے مزار بغیر چھت کے ہے۔
#سراجی

40 ویں سالانہ دو روزہ  "ختمِ نبوت کانفرنس"مسلم کالونی چناب نگر چینوٹ کا باقاعدہ آغاز ولی کامل مفتی حسن صاحب دامت فیوضہم ...
28/10/2021

40 ویں سالانہ دو روزہ "ختمِ نبوت کانفرنس"
مسلم کالونی چناب نگر چینوٹ کا باقاعدہ آغاز ولی کامل مفتی حسن صاحب دامت فیوضہم کے درس اور دعا سے ہوا،
اللہ تعالیٰ اکابرین ختم نبوت کا سایہ ہم پر تادیر سلامت رکھے اور شرکت کرنے والوں کی حاضری کو قبول فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر انتظام سالانہ جلسہ مسلم کالونی چناب نگر میں آنے والے معزز مہمانوں کو جاری ھدایت نامہپریش...
27/10/2021

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر انتظام سالانہ جلسہ مسلم کالونی چناب نگر میں آنے والے معزز مہمانوں کو جاری ھدایت نامہ
پریشانی سے بچنے کے لیے ان پر عمل فرمائیں تاکہ نظم برقرار رہے
اسے زیادہ سے زیادہ عام کریں جزاک اللہ خیرا

ھم / نکاح نامہ کے فارم میں ختم نبوت کے حلف نامہ کا کالم شامل کرنے پر محترم جناب چوہدری پرویز الٰہی صاحب کو خراج تحسین پی...
27/10/2021

ھم / نکاح نامہ کے فارم میں ختم نبوت کے حلف نامہ کا کالم شامل کرنے پر محترم جناب چوہدری پرویز الٰہی صاحب کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع میانوالی

26/10/2021

چلو چلو چناب نگر چلو
مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میرپورخاص حضرت مولانا مختار احمد صاحب اس وقت مسلم کالونی چناب نگر کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کانفرنس تیاری کے انتظامات آخری مراحل میں ہیں الحمد للہ

Address

Mianwali

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when عالمی مجلس تحفّظ ختم نبوت میانوالی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share