متحدہ اسلامی کونسل مردان

متحدہ اسلامی کونسل مردان تحفظ ختم نبوت کے لئے تمام مکاتب فکر کا مشترکہ پلیٹ فارم

03/05/2026

رزی مرزائی سے سوال کیا گیا
کہ لفظ خاتم کا معنی جو آخری کرتا ہے
اس پر کیا فتوی لگے گا
کیونکہ خاتم کا معنی last آخری مرزا غلام قادیانی نے بھی کیا ہے
جس پر رزی لاجواب ہوا اور پریشانی چہرے سے ظاہر ہو رہی ہے
حق جب بولتا ہے تو باطل اپنے دانت پسینا شروع کر دیتا ہے

عبداللہ صاحب Mr ABR

اہم عہدہ پر قاد یا  نی نامنظور
03/05/2026

اہم عہدہ پر قاد یا نی نامنظور

پاکستان مرکزی رٶیتِ ھلال کمیٹی کے چیئرمین مولٰنا عبدالخبیر آزاد کی طرف سے مردان DPO آفس میں ضلعی رؤیت ہلال کمیٹی مردان ک...
02/05/2026

پاکستان مرکزی رٶیتِ ھلال کمیٹی کے چیئرمین مولٰنا عبدالخبیر آزاد کی طرف سے مردان DPO آفس میں ضلعی رؤیت ہلال کمیٹی مردان کا اجلاس طلب۔
مولانا شیخ حبیب الرحمٰن صاحب سرپرست ضلعی رٶیتِ ھلال کمیٹی مردان نے اجلاس کی صدارت کی ۔
حضرت مولانا فضل جمیل رضوی صاحب ممبر مرکزی رویت ہلال کمیٹی پاکستان نے بطور خاص شرکت کی۔
قاری احسان الرحمن محسن صاحب امیر رٶیتِ ھلال کمیٹی ضلع مردان ۔
حضرت مولانا قاضی عبدالہادی ظہیر صاحب جنرل سیکرٹری ہلال کمیٹی ضلع مردان ۔
حضرت مولانا مفتی عبدالوکیل اعوان قادری خطیب بلال مسجد کالج چوک مردان و منبر ضلعی رؤیت ہلال کمیٹی مردان نے مرکزی چیئر مین صاحب کو اپنی گزارشات پیش کی۔فیصلہ ہوا کہ آئندہ مرکزی کمیٹی مردان کے ضلعی کمیٹی کے شہادتوں کا انتظار کرے گی اور اجلاس حسب ضرورت تا دیر جاری رکھا جائیگا ۔
آئندہ کوشش ہوگی کہ پورے ملک میں ایک ہی روزہ اور عیدین ہو۔

مردان میں فتنہ قادیانیت کے خلاف خاموش انقلاب(تحریر: امجد علی مردانوی جنرل سیکرٹری متحدہ اسلامی کونسل مردان)ایک وقت تھا ج...
01/05/2026

مردان میں فتنہ قادیانیت کے خلاف خاموش انقلاب

(تحریر: امجد علی مردانوی جنرل سیکرٹری متحدہ اسلامی کونسل مردان)

ایک وقت تھا جب مردان کی فضاؤں میں قادیانیت خاموشی سے اپنے قدم جما رہی تھی۔ نادرا ریکارڈ کے مطابق مردان میں قادیانیوں کی تعداد 558 تک پہنچ چکی تھی، اور ان کی مصنوعات شہر کے بازاروں میں کھلے عام فروخت ہو رہی تھیں۔ بظاہر یہ ایک معمول کی بات لگتی تھی، مگر حقیقت میں یہ عقیدۂ ختم نبوت کے خلاف ایک خاموش یلغار تھی، جس کا شاید اُس وقت کسی کو مکمل احساس نہ تھا۔

اسی دوران مردان کا ایک نوجوان طالبِ علم، قاری واصف شاہ صاحب، لاہور میں مفتی محمد حسن صاحب کے مدرسہ شبان ختم نبوت میں زیرِ تعلیم تھے۔ وہاں انہوں نے صرف دینی علوم ہی نہیں سیکھے، بلکہ عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت، اس کے تحفظ کی ذمہ داری، اور منکرینِ ختم نبوت کے تعاقب کا شعور بھی حاصل کیا۔ مفتی محمد حسن صاحب کی صحبت نے ان کے دل میں ایسا جذبہ پیدا کیا جو بعد میں مردان کی تاریخ بدلنے کا سبب بنا۔

جب قاری واصف شاہ صاحب چھٹیوں میں مردان واپس آئے تو انہوں نے خاموش بیٹھنے کے بجائے عملی قدم اٹھایا۔ اپنے گاؤں کے چند مخلص نوجوانوں اور کلاس فیلوز کو مرکزی بلال مسجد میں جمع کیا۔ مختصر مشاورت ہوئی، حکمتِ عملی طے کی گئی، اور پھر وہ قافلہ میدان میں نکل کھڑا ہوا۔

یہ کوئی سیاسی تحریک نہیں تھی، نہ اس کے پیچھے کوئی مالی مفاد تھا۔ یہ صرف عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی جدوجہد تھی۔

دو دو ساتھیوں کی ٹولیاں بنائی گئیں۔ کوئی کاروان روڈ کی طرف نکلا، کوئی بکٹ گنج کے محلوں میں گیا۔ دروازہ دروازہ، دکان دکان جا کر لوگوں کو قادیانیت کے عزائم سے آگاہ کیا جاتا، اور ساتھ ہی مطالعے کے لیے پمفلٹ دیے جاتے۔ راقم امجد علی مردانوی بھی اس قافلے میں شامل تھا۔ اُس وقت مردان میں نہ کوئی باقاعدہ تنظیم تھی، نہ کوئی منظم تحریک۔ صرف جذبہ تھا، اخلاص تھا، اور ختم نبوت کے تحفظ کا درد تھا۔

پھر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے پورے مردان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

بکٹ گنج میں گشت کرنے والے دو ساتھی، مولانا نور اکبر صاحب اور شاہ حسین آف کس کلے، ایک ایسے محلے میں پہنچ گئے جہاں قادیانی خاندان آباد تھے۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ یہ گھر قادیانیوں کے ہیں۔ انہوں نے حسبِ معمول دروازہ کھٹکھٹایا، اور جب دروازہ کھلا تو بڑے خلوص سے قادیانیت کے فتنہ، اس کے خطرات، اور قادیانی مصنوعات سے حاصل ہونے والے سرمائے کے ختم نبوت کے خلاف استعمال ہونے کے بارے میں گفتگو کی۔

مگر یہ دعوت اُن کے لیے آزمائش بن گئی۔

قادیانیوں نے فوراً تھانہ سٹی مردان کو اطلاع دی، اور پولیس نے دونوں نوجوانوں کو گرفتار کرکے لاپتہ کر دیا۔ جب باقی ساتھی جمع ہوئے اور معلوم ہوا کہ مولانا نور اکبر اور شاہ حسین واپس نہیں آئے تو تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ ساتھی تھانہ سٹی پہنچے، مگر پولیس نے لاعلمی ظاہر کر دی۔

وہ لمحے انتہائی کربناک تھے۔

بالآخر مولانا ندیم احمد حقانی، پیر امجد عزیز انصاری، اور مولانا شجاع الملک صاحب کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ مسلسل کوششوں کے بعد پیر امجد عزیز انصاری صاحب کی جدوجہد سے معلوم ہوا کہ دونوں کارکن تھانہ سٹی مردان کے تہہ خانہ میں بند ہیں، اور ان پر 16 ایم پی او کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اگلے روز جب انہیں عدالت میں پیش کیا گیا تو مردان کے مختلف علاقوں سے وابستگانِ ختم نبوت بڑی تعداد میں عدالت پہنچ چکے تھے۔ اُن کی ضمانت ہوئی، مگر یہ واقعہ مردان کے علماء اور دینی حلقوں کے لیے ایک سوال چھوڑ گیا:

“اگر پرامن انداز میں لوگوں کو آگاہ کرنا، پمفلٹ تقسیم کرنا اور عقیدۂ ختم نبوت کی دعوت دینا بھی جرم ہے، تو پھر اس ملک میں تحفظ ختم نبوت کے لیے کام کیسے ہوگا؟”

یہی وہ لمحہ تھا جس نے مردان میں ایک نئی تاریخ رقم کی۔

مردان شہر اور گردونواح کے ائمہ مساجد کا ایک بڑا اجلاس مشہور کسئی مسجد میں بلایا گیا۔ اس اجلاس میں متفقہ طور پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو مردان میں فعال کیا گیا۔ خطیب باغ مسجد قاری اکرام الحق صاحب کو امیر جبکہ مولانا ندیم احمد حقانی صاحب کو جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ پھر وہ ہوا جس کا شاید کسی نے تصور بھی نہ کیا تھا۔

عوامی سطح پر قادیانیت اور قادیانی مصنوعات کے مکمل سوشل بائیکاٹ کی مہم شروع ہوئی۔ گلی گلی، محلہ محلہ، مسجد مسجد، ختم نبوت کا پیغام پہنچایا گیا۔ لوگوں میں ایسا شعور بیدار ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے قادیانی مصنوعات مردان کے بازاروں سے غائب ہونے لگیں۔ بڑے بڑے قادیانی کاروباری مردان چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ وہ شہر جہاں کبھی قادیانیوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی، آج وہاں صرف چار یا پانچ گھرانے باقی رہ گئے ہیں۔

یہ سب کسی ایک دن کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ مسلسل محنت، قربانی، اخلاص اور استقامت کی داستان ہے۔

اس جدوجہد میں بنیادی کردار قاری واصف شاہ صاحب کا تھا، جو مفتی محمد حسن صاحب کے فیض یافتہ تھے۔ اس تحریک کو منظم شکل دینے، نظم و ضبط قائم کرنے اور مسلسل محنت سے آگے بڑھانے کا عظیم کردار مولانا ندیم احمد حقانی صاحب نے ادا کیا۔ جبکہ اس پورے مشن کی سرپرستی اور پشت پناہی مولانا شجاع الملک صاحب نے فرمائی، جو آج بھی مردان میں تحفظ ختم نبوت سے وابستہ ہر مکتبہ فکر اور تنظیم کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

یہ صرف ایک تحریک کی داستان نہیں، بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب چند مخلص لوگ اخلاص، حکمت اور استقامت کے ساتھ میدان میں نکلتے ہیں تو تاریخ کا رخ بدل جاتا ہے۔
آخر میں تمام مکاتب فکر کے وہ تنظیمات یا شخصیات اور ان کے متعلقین سے دست بستہ گزارش ہے۔ چھوٹے چھوٹے اختلافات کو سوشل میڈیا پر ہوا دینے سے اجتناب کیا جائے اخلاص کے ساتھ اسلام کے بنیادی عقیدہ تحفظ ختم ختم نبوت کے لئے اقدامات اٹھائے۔
کسی شخصیت سے آپ کا ذاتی اختلاف ہو سکتا ہے یا کسی تنظیم کے طریقہ کار سے بھی آپ مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ایک نکتہ جس پر ہم سب متفق ہیں وہ یہ ہے کہ منکرین ختم نبوت کی سرکوبی بہر صورت کی جائے اور اپنے مسلمانوں فتنہ انکار ختم نبوت سے آگاہ کیا جائے اسی نکتہ وحدت پر ہر ایک اپنا مال ، جان اور صلاحیتیں خرچ کرنے پر اپنی پوری توجہ مرکوز رکھیں ان شاء اللہ فتنہ قادیانیت کے دجل و فریب سے ہر مسلمان بخوبی آگاہ ہو جائے گا۔
اللہ تعالی تحفظ ختم نبوت کے لئے کام کرنے والوں کا حامی و ناصر ہو۔
آمین بحرمت سید المرسلین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ❤️

یک روز تحفظ ختم نبوت ورکشاپ (انڈیا)فتنہ قاد یااانیت دیندار انجمن کے بارے میں سنئیے۔
01/05/2026

یک روز تحفظ ختم نبوت ورکشاپ (انڈیا)
فتنہ قاد یااانیت دیندار انجمن کے بارے میں سنئیے۔

83 likes, 98 comments. "LIVE Deendar Anjuman l Fayyazi Fitna l Fitna Gohar Shahi Ke Kufriya Aqaaid l Khatme Nubuwwat 2022"

عہد صدیقی میں تحفظ ختم نبوت کی پہلی جنگ
30/04/2026

عہد صدیقی میں تحفظ ختم نبوت کی پہلی جنگ

دور صدیقی میں سب سے پہلی بشارت ❤️
30/04/2026

دور صدیقی میں سب سے پہلی بشارت ❤️

جنسی جرائم
30/04/2026

جنسی جرائم

30/04/2026
30/04/2026

اہل اسلام کو فتح مبارک ہو

29AprilLondonDialogue2026

Address

Mardan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when متحدہ اسلامی کونسل مردان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share