Darse e Quran Masjid yousafzi baizo kharke

Darse e Quran Masjid yousafzi baizo kharke Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Darse e Quran Masjid yousafzi baizo kharke, Religious organisation, Masjid yousafzi baizo kharke ikrampor Mardan, Mardan.

30/09/2023

Assalam u alikum warahmatullah Jo log quran ka tarjama sunna chahta he to wo is nmbr pe WhatsApp kre ku k live ki system ab khatam ho g*i he
03478392535

02/11/2022

صحیح البخاری
کتاب: وحی کا بیان
باب: وحی کی علامات، وحی کا محفوظ کرنا
حدیث نمبر: 5

ترجمہ:
موسیٰ بن اسماعیل، ابوعوانہ، موسیٰ بن ابی عائشہ، سعید بن جبیر اللہ تعالیٰ کے قول لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ (جلد یاد کرلینے کے لئے اپنی زبان کو نہ ہلائیے) کے متعلق حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ قرآن اترتے وقت آنحضرت ﷺ سخت محنت اٹھاتے تھے منجملہ ان کے ایک یہ تھا کہ آپ اپنے دونوں ہونٹ ہلاتے تھے، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ میں ان دونوں کو ہلاتا ہوں، جس طرح آپ ﷺ ہلاتے تھے اور سعید نے بیان کیا کہ میں (دونوں ہونٹ) ہلاتا ہوں جس طرح حضرت ابن عباس (رض) کو جنبش دیتے ہوئے دیکھا، چناچہ اپنے دونوں ہونٹ ہلا کر دکھائے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ( لَا تُحَرِّكْ بِه لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِه) 75 ۔ قیامۃ : آیت 16) نازل فرمائی کہ اے محمد ﷺ قرآن کو جلد (یاد) کرنے کیلئے اپنی زبان کو نہ ہلاؤ، اس کا جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمہ ہے، حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ قرآن کا تمہارے سینہ میں جمع کردینا اور اس کو تمہارا پڑھنا، پھر جب ہم اس کو پڑھ لیں تو اس کے پڑھنے کی پیروی کرو، ابن عباس (رض) فرماتے ہیں یعنی اس کو سنو اور چپ رہو، پھر یقینا اس کا مطلب سمجھا دینا ہمارے ذمہ ہے، پھر بلاشبہ میرے ذمہ ہے کہ تم اس کو پڑھو، اس کے بعد جب جبرائیل آپ کے پاس آتے تو آپ ﷺ غور سے سنتے، پھر جب جبرائیل (علیہ السلام) چلے جاتے، تو اس کو رسول اللہ ﷺ پڑھتے تھے جس طرح جبرائیل نے پڑھا تھا۔
Talib E Ilam fidaullah

02/11/2022

صحیح البخاری
کتاب: وحی کا بیان
باب: وحی کی ابتداء
حدیث نمبر: 4

ترجمہ:
ابن شہاب کہتے ہیں مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے یہ روایت نقل کی کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کے زمانے کے حالات بیان فرماتے ہوئے کہا کہ ایک روز میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان کی طرف ایک آواز سنی اور میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے بیچ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں اس سے ڈر گیا اور گھر آنے پر میں نے پھر کمبل اوڑھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس وقت اللہ پاک کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں۔ اے لحاف اوڑھ کر لیٹنے والے! اٹھ کھڑا ہو اور لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھ اور گندگی سے دور رہ۔ اس کے بعد وحی تیزی کے ساتھ پے در پے آنے لگی۔ اس حدیث کو یحییٰ بن بکیر کے علاوہ لیث بن سعد سے عبداللہ بن یوسف اور ابوصالح نے بھی روایت کیا ہے۔ اور عقیل کے علاوہ زہری سے ہلال بن رواد نے بھی روایت کیا ہے۔ یونس اور معمر نے اپنی روایت میں لفظ «فواده» کی جگہ «بوادره» نقل کیا ہے۔

02/11/2022

صحیح البخاری
کتاب: وحی کا بیان
باب: وحی کی ابتداء
حدیث نمبر: 3

ترجمہ:
یحییٰ بن بکیر، لیث، عقیل، ابن شہاب، عروہ بن زبیر ام المومنین حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ سب سے پہلی وحی جو رسول اللہ ﷺ پر اترنی شروع ہوئی وہ اچھے خواب تھے، جو بحالت نیند آپ ﷺ دیکھتے تھے، چناچہ جب بھی آپ ﷺ خواب دیکھتے تو وہ صبح کی روشنی کی طرح ظاہر ہوجاتا، پھر تنہائی سے آپ ﷺ کو محبت ہونے لگی اور غار حرا میں تنہا رہنے لگے اور قبل اس کے کہ گھر والوں کے پاس آنے کا شوق ہو وہاں تحنث کیا کرتے، تحنث سے مراد کئی راتیں عبادت کرنا ہے اور اس کے لئے توشہ ساتھ لے جاتے پھر حضرت خدیجہ (رض) کے پاس واپس آتے اور اسی طرح توشہ لے جاتے، یہاں تک کہ جب وہ غار حرا میں تھے، حق آیا، چناچہ ان کے پاس فرشتہ آیا اور کہا پڑھ، آپ نے فرمایا کہ میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، آپ ﷺ بیان کرتے ہیں کہ مجھے فرشتے نے پکڑ کر زور سے دبایا، یہاں تک کہ مجھے تکلیف محسوس ہوئی، پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھ ! میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، پھر دوسری بار مجھے پکڑا اور زور سے دبایا، یہاں تک کہ میری طاقت جواب دینے لگی پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا پڑھ ! میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ تیسری بار پکڑ کر مجھے زور سے دبایا پھر چھوڑ دیا اور کہا پڑھ ! اپنے رب کے نام سے جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا، پڑھ اور تیرا رب سب سے بزرگ ہے، رسول اللہ ﷺ نے اسے دہرایا اس حال میں کہ آپ کا دل کانپ رہا تھا چناچہ آپ حضرت خدیجہ بنت خویلد کے پاس آئے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھا دو ، مجھے کمبل اڑھا دو ، تو لوگوں نے کمبل اڑھا دیا، یہاں تک کہ آپ کا ڈر جاتا رہا، حضرت خدیجہ (رض) سے سارا واقعہ بیان کر کے فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا ڈر ہے، حضرت خدیجہ (رض) نے کہا ہرگز نہیں، اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا، آپ ﷺ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، ناتوانوں کا بوجھ اپنے اوپر لیتے ہیں، محتاجوں کے لئے کماتے ہیں، مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی راہ میں مصیبتیں اٹھاتے ہیں، پھر حضرت خدیجہ (رض) آپ ﷺ کو لے کر ورقہ بن نوفل بن اسید بن عبدالعزی کے پاس گئیں جو حضرت خدیجہ (رض) کے چچا زاد بھائی تھے، زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہوگئے تھے اور عبرانی کتاب لکھا کرتے تھے۔ چناچہ انجیل کو عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے، جس قدر اللہ چاہتا، نابینا اور بوڑھے ہوگئے تھے، ان سے حضرت خدیجہ (رض) نے کہا اے میرے چچا زاد بھائی اپنے بھتیجے کی بات سنو آپ سے ورقہ نے کہا اے میرے بھتیجے تم کیا دیکھتے ہو ؟ تو جو کچھ رسول اللہ ﷺ نے دیکھا تھا، بیان کردیا، ورقہ نے آپ سے کہا کہ یہی وہ ناموس ہے، جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل فرمایا تھا، کاش میں نوجوان ہوتا، کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا، جب تمہاری قوم تمہیں نکال دے گی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ! کیا وہ مجھے نکال دیں گے ؟ ورقہ نے جواب دیا، ہاں ! جو چیز تو لے کر آیا ہے اس طرح کی چیز جو بھی لے کر آیا اس سے دشمنی کی گئی، اگر میں تیرا زمانہ پاؤں تو میں تیری پوری مدد کروں گا، پھر زیادہ زمانہ نہیں گذرا کہ ورقہ کا انتقال ہوگیا اور وحی کا آنا کچھ دنوں کے لئے بند ہوگیا، ابن شہاب نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے بیان کیا کہ جابر بن عبداللہ انصاری وحی کے رکنے کی حدیث بیان کر رہے تھے، تو اس حدیث میں بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ بیان فرما رہے تھے کہ ایک بار میں جا رہا تھا تو آسمان سے ایک آواز سنی، نظر اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ تھا، جو میرے پاس حرا میں آیا تھا، آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا، مجھ پر رعب طاری ہوگیا اور واپس لوٹ کر میں نے کہا مجھے کمبل اڑھا دو مجھے کمبل اڑھا دو ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، (يٰا اَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ ۔ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ۔ ) اے کمبل اوڑھنے والے اٹھ اور لوگوں کو ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑے کو پاک رکھ اور ناپاکی کو چھوڑ دے، پھر وحی کا سلسلہ گرم ہوگیا اور لگاتار آنے لگی۔ عبداللہ بن یوسف اور ابو صالح نے اس کے متابع حدیث بیان کی ہے اور ہلال بن رواد نے زہری سے متابعت کی ہے، یونس اور معمر نے فوادہ کی جگہ بوادرہ بیان کیا۔
Talib e ilam fidaullah Muhammadi

*🏝️اہل جنت اور انکی نعمتیں*1۔ اہل جنت کا قد حضرت آدم علیہ السلام کے قد کے برابر ہوگا، (مسند احمد )2۔ اہل جنت کے جسم پر ب...
11/03/2022

*🏝️اہل جنت اور انکی نعمتیں*

1۔ اہل جنت کا قد حضرت آدم علیہ السلام کے قد کے برابر ہوگا،
(مسند احمد )

2۔ اہل جنت کے جسم پر بال نہیں ہوں گے اور ان کے چہروں پر داڑھی اور مونچھ بھی نہیں ھوں گی۔ صرف سر، ھنووں اور پلکوں کے بال ہونگے۔
اور ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی۔

( ترمذی شریف)

3۔ اہل جنت، جنت میں کھائیں گے اور پیئیں گے لیکن نہ تھوکیں گے نہ پیشاب پاخانہ کریں گے اور نہ ناک سنکیں گے۔ ایک ڈکار آئے گا اور مشک کی طرح کا خوشبودار پسینہ نکلے گا جس سے کھانا ہضم ہو جائے گا ۔

( صحیح مسلم )

4۔ جنتی جنت میں ج**ع بھی کریں گے مرد اور عورت کے صرف انزال کی مدت دن رات کے برابر ھو گی جس سے صحبت کی مدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ھے اسکے بعد مشک کی طرح کا خوشبودار پسینہ آئے گا جس سے جنابت نکل جائے گی۔

( طبرانی )

5۔ جنت میں ایک مرد کو کھانے، پینے، ج**ع اور شہوت میں 100 مردوں جتنی طاقت دی جائے گی۔

(سنن دارمی)

6۔ جنت میں سب کی عمر 30 سال ہوگی اور کروڑوں سال گزرنے کے بعد بھی اتنی عمر کے ھی رھیں گے
(ترمذی شریف)

7۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اگر کوئی دوران پیدائش مر جائے یا بوڑھا ہو کر مرے تو وہ قیامت کے دن 30 سال کا اٹھایا جائے گا پھر اگر وہ اہل جنت میں سے ہوگا تو وہ حضرت آدم علیہ السلام کی بناوٹ پر ہوگا اور حضرت یوسف علیہ السلام کی صورت پر ہوگا اور حضرت ایوب علیہ السلام کے دل پر ہوگا اور اگر وہ اہل جہنم میں سے ہوگا تو اس کا جسم بڑا کر دیا جائے گا اور پھیلا دیا جائے گا جیسے پہاڑ ہوتا ہے۔
( السلسلة الصحيحة )

8۔ جنت کا ایک دن دنیا کے 1000 سال کے برابر ہوگا اور جب جنت میں رات ہوگی تو اندھیرا نہیں ہو گا بلکہ پردے گرا دیے جائیں گے جس سے جنتیوں کو پتا چل جائے گا کہ اب رات ہو گئی ہے ۔

9۔ جنت میں عرش سے ایک نور نکلے گا جس سے جنت میں روشنی ہوگی۔

10۔ جنت میں نیند نہیں ہے۔

11۔ جنت میں تھکاوٹ بھی نہیں ہے۔

12۔ سب سے ادنی جنتی کو اللہ تعالی اسی ہزار نوکر اور 72 بیویاں عطا فرمائے گا۔جن کے درجے ھوں گے انکو لاکھوں ملیں گی

(ترمذی شریف)

13۔ سب سے ادنی جنتی بھی اپنی نعمتوں، باغات ، تختوں اور بیویوں کو ایک ہزار برس کی مسافت تک دیکھے گا اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ اکرام والا وہ ہوگا جو صبح و شام اللّٰہ تعالٰی کے چہرے کی طرف دیکھے گا۔
(ترمذی شریف)

14۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اگر جنت کی حور زمین کےطرف جھانک لے تو حور اور زمین کے درمیان ہر چیز روشن ہو جائے گی

(صحیح بخاری)

15۔حدیث میں آتا ہے کہ دنیا کی ایمان والی عورت، اس جنت کی حور سے ستر ہزار گنا زیادہ خوبصورت ہوگی۔

16۔ حدیث میں آتا ہے کہ جنت کی لڑکی کے سر کے بال اور زلفیں لمبی اور آنکھیں انتہائی خوبصورت ھوں گی

17۔ جنت کی حور جب اپنے شوہر کی طرف ایک قدم رکھے گی تو اس ایک قدم میں بے انتہا ناز اور انداز اپنے شوہر کو دکھائے گی۔

18۔ اہل جنت گورے سفید رنگ والے ہوں گے، گھنگریالے بالوں والے ہوں گے اور سرمگیں آنکھوں والے ہوں گے۔
(مسند احمد)

19۔ ایک جنتی مرد ایک دن میں 100 کنواری عورتوں کے پاس جا سکے گا۔

( السلسلة الصحيحة )

20۔ جنت کی لڑکیاں ھمبستری کے بعد بھی کنواری ہی رہیں گی۔

( السلسلة الصحيحة )

21۔ جنت میں اللّٰہ تعالٰی ایمان والی عورتوں کو حیض سے پاک فرما دیں گے اور اللّٰہ تعالٰی نے جنت کی حوروں کو تو پیدا ہی اس حالت میں فرمایا ہے کہ وہ حیض سے پاک ہیں۔

22۔ اللّٰہ تعالٰی اہل جنت مردوں اور عورتوں دونوں کو سبز رنگ کے ریشمی لباس پہنائے گا۔ اللّٰہ تعالٰی ہر جنتی کو 70,70 لباس پہنائے گا اور سارے لباس ایک دوسرے کے پیچھے سے نظر آئیں گے اور آخری جوڑا جسم کو چھپائے گا لیکن میاں بیوں 70 جوڑوں میں سے ایک دوسرے کا پورا جسم ہر وقت دیکھ سکیں گے۔

23۔ اہل جنت کی زبان عربی ہوگی۔

24۔ دنیا میں ہمارا دماغ صرف %4,5 کام کرتا ہے باقی کا %95,96 سویا رہتا ہے۔ لیکن جب ہم قیامت کے روز دوبارہ زندہ کئے جائیں گے تو اس وقت اللّٰہ تعالٰی کی قدرت سے ہمارا سارا دماغ کھل چکا ہوگا یعنی اس وقت ہمارا دماغ %100 کام کر رہا ہوگا اور جنت میں جب داخل ہوں گے تو اس وقت بھی ہمارا دماغ %100 کام کر رہا ہوگا یعنی جنت میں ہمارا دماغ اور جسم کے سارے سینس انتہائی تیز ھوں گے ۔

25۔ دنیا میں ہماری جسمانی سینسر کا کچھ حصہ کام کر رھا جس سے لذت محسوس ھوتی ھے ، لیکن جنت میں اللہ تعالٰی کی قدرت سے ہمارے بدن کے سینسر %100 کام کر رھے ھوں گے یعنی ایک تو ھر چیز میں لذت دوسرا اس جنتی کو ان لذات کی محسوس کرانے کی انتہائی طاقت

26۔ اللّٰہ تعالٰی جنت میں ہر جنتی مرد کو دنیاوی 100 مردوں جتنی طاقت عطا فرمائے گا، جنسی لحاظ سے بھی اور جسمانی طاقت کے لحاظ سے بھی۔

27۔ جنت کی سب سے بڑی نعمت اللہ تعالٰی کا دیدار ہے۔
عام جنت والے جمعہ کے جمعہ اللہ تعالٰی کا دیدار کیا کریں گے اور جنت الفردوس والے روزانہ دن میں 2 دفعہ اللہ تعالٰی کا دیدار کیا کریں گے، صبح بھی اور شام کو بھی۔

*حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ* نہایت خوبصورت تھے۔ تفسیر نگار لکھتے ہیں کہ آپ کا حسن اس قدر تھا کہ عرب کی عورتیں دروازوں ک...
07/12/2021

*حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ*
نہایت خوبصورت تھے۔
تفسیر نگار لکھتے ہیں کہ آپ کا حسن اس قدر تھا کہ عرب کی عورتیں دروازوں کے پیچھے کھڑے ہو کر یعنی چھپ کر حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کرتی تھیں۔
لیکن اس وقت آپ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔
ایک دن سرورِ کونین تاجدارِ مدینہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر حضرت دحیہ قلبی پر پڑی۔ آپؐ نے حضرت دحیہ قلبی کے چہرہ کو دیکھا کہ اتنا حیسن نوجوان ہے۔
آپ نے رات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی؛
یا اللہ اتنا خوبصورت نوجوان بنایا ہے، اس کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دے،
اسے مسلمان کر دے،
اتنے حسین نوجوان کو جہنم سے بچا لے۔
رات کو آپ نے دعا فرمائی، صبح حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔
حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ کہنے لگے؛
اے اللہ کے رسول ﷺ !
بتائیں آپؐ کیا احکام لے کر آئے ہیں؟
آپؐ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں
اور اللہ واحد ہے۔
اس کا کوئی شریک نہیں۔
پھر توحید و رسالت کے بارے میں حضرت دحیہ قلبی کو بتایا۔ حضرت دحیہ نے کہا؛
اللہ کے نبی میں مسلمان تو ہو جاؤں لیکن ایک بات کا ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے
ایک گناہ میں نے ایسا کیا ہے
کہ آپ کا اللہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔
آپؐ نے فرمایا؛ اے دحیہ بتا تونے کیسا گناہ کیا ہے؟
تو حضرت دحیہ قلبی نے کہا؛
یا رسول اللہ ﷺ میں اپنے قبیلے کا سربراہ ہوں۔
اور ہمارے ہاں بیٹیوں کی پیدائش پر انہیں زندہ دفن کیا جاتا ہے۔
میں کیونکہ قبیلے کا سردار ہوں اس لیے میں نے ستر گھروں کی بیٹیوں کو زندہ دفن کیا ہے۔
آپ کا رب مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔
اسی وقت حضرت جبریل امین علیہ السلام حاضر ہوئے؛
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اسے کہیں اب تک جو ہو گیا وہ ہو گیا اس کے بعد ایسا گناہ کبھی نہ کرنا۔
ہم نے معاف کر دیا ۔
*پیر محمد عادل مردانوی*

حضرت دحیہ آپ کی زبان سے یہ بات سن کر رونے لگے۔
آپؐ نے فرمایا دحیہ اب کیا ہوا ہے؟ کیوں روتے ہو ؟
حضرت دحیہ قلبی کہنے لگے؛
یا رسول اللہ، میرا ایک گناہ اور بھی ہے جسے آپ کا رب کبھی معاف نہیں کرے گا۔
آپؐ نے فرمایا دحیہ کیسا گناہ ؟ بتاؤ ؟
حضرت دحیہ قلب فرمانے لگے؛ یا رسول اللہ،
میری بیوی حاملہ تھی اور مجھے کسی کام کی غرض سے دوسرے ملک جانا تھا۔ میں نے جاتے ہوئے بیوی کو کہا کہ اگر بیٹا ہوا تو اس کی پرورش کرنا اگر بیٹی ہوئی تو اسے زندہ دفن کر دینا۔
دحیہ روتے جا رہے ہیں
اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں۔ میں واپس بہت عرصہ بعد گھر آیا تو میں نے دروازے پر دستک دی۔
اتنے میں ایک چھوٹی سی بچی نے دروازہ کھولا اور پوچھا کون؟ میں نے کہا: تم کون ہو؟ تو وہ بچی بولی؛ میں اس گھر کے مالک کی بیٹی ہوں۔
آپ کون ہیں؟ دحیہ فرمانے لگے؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، میرے منہ سے نکل گیا: اگر تم بیٹی ہو اس گھر کے مالک کی تو میں مالک ہوں اس گھر کا۔
یا رسول اللہ! میرے منہ سے یہ بات نکلنے کی دیر تھی کہ چھوٹی سی اس بچی نے میری ٹانگوں سے مجھے پکڑ لیا
اور بولنے لگی؛ بابا بابا بابا بابا آپ کہاں چلے گئے تھے؟
بابا میں کس دن سے آپ کا انتظار کر رہی ہوں۔
حضرت دحیہ قلبی روتے جا رہے ہیں اور فرماتے ہیں؛
اے اللہ کے نبی! میں نے بیٹی کو دھکا دیا اور جا کر بیوی سے پوچھا؛
یہ بچی کون ہے؟
بیوی رونے لگ گئی اور کہنے لگی؛ دحیہ! یہ تمہاری بیٹی ہے۔ یا رسول اللہ! مجھے ذرا ترس نہ آیا۔
میں نے سوچا میں قبیلے کا سردار ہوں۔
اگر اپنی بیٹی کو دفن نہ کیا تو لوگ کہیں گے ہماری بیٹیوں کو دفن کرتا رہا
اور اپنی بیٹی سے پیار کرتا ہے۔ حضرت دحیہ کی آنکھوں سے اشک زارو قطار نکلنے لگے۔
یا رسول اللہ وہ بچی بہت خوبصورت، بہت حسین تھی۔ میرا دل کر رہا تھا اسے سینے سے لگا لوں۔
پھر سوچتا تھا کہیں لوگ بعد میں یہ باتیں نہ کہیں کہ اپنی بیٹی کی باری آئی تو اسے زندہ دفن کیوں نہیں کیا؟
میں گھر سے بیٹی کو تیار کروا کر نکلا تو بیوی نے میرے پاؤں پکڑ لیے۔
دحیہ نہ مارنا اسے۔
دحیہ یہ تمہاری بیٹی ہے۔
ماں تو آخر ماں ہوتی ہے۔ میں نے بیوی کو پیچھے دھکا دیا اور بچی کو لے کر چل پڑا۔
راستے میں میری بیٹی نے کہا؛ بابا مجھے نانی کے گھر لے کر جا رہے ہو؟
بابا کیا مجھے کھلونے لے کر دینے جا رہے ہو؟
بابا ہم کہاں جا رہے ہیں؟
دحیہ قلبی روتے جاتے ہیں
اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں۔
یا رسول اللہ ! میں بچی کے سوالوں کاجواب ہی نہیں دیتا تھا۔
وہ پوچھتی جا رہی ہے بابا کدھر چلے گئے تھے؟
کبھی میرا منہ چومتی ہے،
کبھی بازو گردن کے گرد دے لیتی ہے۔
لیکن میں کچھ نہیں بولتا۔
ایک مقام پر جا کر میں نے اسے بٹھا دیا
اور خود اس کی قبر کھودنے لگ گیا۔

آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دحیہ کی زبان سے واقعہ سنتے جارہے ہیں
اور روتے جا رہے ہیں۔
میری بیٹی نے جب دیکھا کہ میرا باپ دھوپ میں سخت کام کر رہا ہے،
تو اٹھ کر میرےپاس آئی۔
اپنے گلے میں جو چھوٹا سا دوپٹہ تھا وہ اتار کر میرے چہرے سے ریت صاف کرتے ہوئے کہتی ہے؛
بابا دھوپ میں کیوں کام کر رہے ہیں؟
چھاؤں میں آ جائیں۔
بابا یہ کیوں کھود رہے ہیں
اس جگہ؟ بابا گرمی ہے چھاؤں میں آ جائیں۔
اور ساتھ ساتھ میرا پسینہ اور مٹی صاف کرتی جا رہی ہے۔ لیکن مجھے ترس نہ آیا۔
آخر جب قبر کھود لی تو میری بیٹی پاس آئی۔
میں نے دھکا دے دیا۔
وہ قبر میں گر گئی اور میں ریت ڈالنے لگ گیا۔
بچی ریت میں سے روتی ہوئی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ میرے سامنے جوڑ کر کہنے لگی؛
بابا میں نہیں لیتی کھلونے۔
بابا میں نہیں جاتی نانی کے گھر۔
بابا میری شکل پسند نہیں آئی تو میں کبھی نہیں آتی آپ کے سامنے۔
بابا مجھے ایسے نہ ماریں۔
یا رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ریت ڈالتا گیا۔
مجھے اس کی باتیں سن کر بھی ترس نہیں آیا۔ میری بیٹی پر جب مٹی مکمل ہو گئی
اور اس کا سر رہ گیا تو میری بیٹی نے میری طرف سے توجہ ختم کی اور بولی؛ اے میرے مالک میں نے سنا ہے تیرا ایک نبی آئے گا جو بیٹیوں کو عزت دے گا۔
جو بیٹیوں کی عزت بچائے گا۔ اے اللہ وہ نبی بھیج دے بیٹیاں مر رہی ہیں۔
پھر میں نے اسے ریت میں دفنا دیا۔
حضرت دحیہ قلبی رضی اللہ عنہ واقعہ سناتے ہوئے
بے انتہا روئے۔ یہ واقعہ جب بتا دیا تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنا رو رہے ہیں
کہ آپؐ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے گیلی ہو گئی۔
آپؐ نے فرمایا؛ دحیہ ذرا پھر سے اپنی بیٹی کا واقعہ سناؤ۔
اس بیٹی کا واقعہ جو مجھ محمد کے انتظار میں دنیا سے چلی گئی۔
آپؐ نے تین دفعہ یہ واقعہ سنا اور اتنا روئے کہ آپ کو دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رونے لگ گئے اور کہنے لگے؛
اے دحیہ کیوں رلاتا ہے
ہمارے آقا کو؟ ہم سے برداشت نہیں ہو رہا۔
آپؐ نے حضرت دحیہ سے تین بار واقعہ سنا تو حضرت دحیہ کی رو رو کر کوئی حالت نہ رہی۔ اتنے میں حضرت جبرائیل علیہ اسلام حاضر ہوئے اور فرمایا؛
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم!
دحیہ کو کہہ دیں وہ اُس وقت تھا جب اس نے اللہ اور آپؐ کو نہیں مانا تھا۔
اب مجھ کو اور آپ کو اس نے مان لیا ہے
تو دحیہ کا یہ گناہ بھی ہم نے معاف کر دیا ہے۔
اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا
جس نے دو بیٹیوں کی کفالت کی، انہیں بڑا کیا،
ان کے فرائض ادا کیے،
وہ قیامت کے دن میرے ساتھ اس طرح ہو گا
جس طرح شہادت کی اور ساتھ والی انگلی آپس میں ہیں.

۔
جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی اس کی یہ اہمیت ہے
تو جس نے تین یا چار یا پانچ بیٹیوں کی پرورش کی اس کی کیا اہمیت ہو گی؟
بیٹیوں کی پیدائش پر گھبرایا نہ کریں انہیں والدین پر بڑا مان ہوتا ہے
اور یہ بیٹیاں اللہ کی خاص رحمت ہوتی ہیں۔

💌۔۔۔۔ *پرسکون زندگی کا راز*۔۔۔۔۔💌      *بِسْمِ اللہِ الرّٰحْمٰنِ الرّٙحِیْمِ*                                           ...
01/12/2021

💌۔۔۔۔ *پرسکون زندگی کا راز*۔۔۔۔۔💌


*بِسْمِ اللہِ الرّٰحْمٰنِ الرّٙحِیْمِ*

السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه

✍🏻الحمدللہ۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا سنتوں کا سیشن شروع کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔ کہ ہم اپنے پیارے رسول اللہﷺ کے طریقہ زندگی کو جانیں اور پھر عمل کر کے صحیح معنوں میں اپنی محبت کو عملی رنگ بھی دے پائیں اور قوی مومن بن کر اپنی عبادات اور معاملات کو بہترین بنا سکیں۔
ان شاء اللہ تعالی

🌅 *آج کی سنت*

📄 *پاؤں سواری پر رکھتے وقت*

1️⃣ *بِسمَ اللہِ*
(3 بار پڑھیں)
اللہ کے نام کے ساتھ

📄 *سواری پر بیٹھنے کے بعد*
2️⃣ *اَلحَمدُللہَ*
3 مرتبہ پڑھیں
تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں

3️⃣ *سُبحَانَ الَّذِی سَخَّرَ لَنَا ھذَا وَمَا کُنَّا لَهُ مُقرِنِینَ۔ وَ اِنَّآ اِلی رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ۔*
📖سورہ الزخرف 13-14
پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے لیے مسخر کیا ،ورنہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہ تھے بیشک ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

*📄آغاز سفر کی دوسری دُعا*

4️⃣ *اللهُ اَکْبَرُ (3x)*
*سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّااِلٰی رَبِّنَالَمُنْقَلِبُوْنَ*
*اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَسْأَلُكَ فِیْ سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّوَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی اَللّٰهُمَّ هَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا هٰذَاوَاطْوِعَنَّابُعْدَهُ*
*اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِیْ السَّفَرِوَالْخَلِیْفَةُ فِیْ الْأَهْلِ اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوْءِ الْمُنْقَلَبِ فِیْ الْمَالِ وَالْأَهْلِ*
📓صحیح مسلم 3275
پاک ہے وہ ذات کہ جس نے ہمارے لئے اسے مسخر فرما دیا اور ہم اسے مسخر کرنے والے نہ تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں، اے الله!بے شک ہم اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقوٰی کا اور ان اعمال کا سوال کرتے ہیں کہ جن سے تو راضی ہوتا ہے۔ اے الله!ہمارے اس سفر کو ہم پر آسان فرما اور اس کی دُوری کو لپیٹ دے، اے الله!تو ہی سفر میں (ہمارا) رفیق ہے اور گھر والوں کا نگہبان ہے اے الله!بے شک میں سفر کی تکلیفوں اور رنج وغم کے منظرسے اور اپنے مال اور گھر والوں میں برے انجام سے لوٹنے سے تیری پناہ لیتا ہوں

📜 *کرنے کا کام👇🏻*

1⃣آج کی دعائیں توجہ سے سنیں

2⃣ سنت کو فالو کرنے کی پوری کوشش کریں
ان شاء اللہ تعالیٰ

3️⃣محمد رسول اللہﷺ سے واقعی محبت ہے تو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے بس محبت توجہ اور وقت مانگتی ہے۔۔۔۔۔

💌۔



Talib e ilam

29/01/2021
11/12/2020

Come and see the Islamic studies.

Address

Masjid Yousafzi Baizo Kharke Ikrampor Mardan
Mardan

Telephone

+923465590525

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Darse e Quran Masjid yousafzi baizo kharke posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Darse e Quran Masjid yousafzi baizo kharke:

Share