01/07/2026
رسول اللّٰه ﷺ نے فرمایا:
“جس کی تمنا ہو کہ جہنم سے بچے اور جنت میں داخل ہو تو اس کی موت اس حال میں آنی چاہیے کہ وہ کلمۂ طیبہ کی شہادت دیتا ہو، اور لوگوں سے وہی معاملہ کرے جو اپنے لیے چاہتا ہو۔”
حوالہ: کنز العمال، حدیث نمبر: 188
اس حدیث میں رسول اللّٰه ﷺ نے نجات اور کامیابی کا بہترین راستہ بیان فرمایا ہے، یعنی مومن کو چاہیے کہ وہ زندگی بھر توحید اور ایمان پر ثابت قدم رہے تاکہ اس کا خاتمہ کلمۂ طیبہ پر ہو، اور اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ وہی حسنِ سلوک کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ سچا ایمان صرف زبان سے اقرار کا نام نہیں بلکہ اچھے اخلاق، انصاف، خیرخواہی اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے کا بھی تقاضا کرتا ہے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اپنے لیے عزت، انصاف اور بھلائی پسند کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ دوسروں کے ساتھ بھی ویسا ہی رویہ اختیار کرے، ان کی حق تلفی نہ کرے اور ہمیشہ خیرخواہی سے پیش آئے، یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ ایمان پر ثابت قدمی اور لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک دنیا و آخرت کی کامیابی، جہنم سے نجات اور جنت کے حصول کا عظیم ذریعہ ہیں ۔ ۔ ۔
اللّٰه تعالیٰ ہم سب کو جنت میں لے جانے والے اعمال کی توفیق دے ۔