ادارۃ الھادی

ادارۃ الھادی ✦ خـیـر بھی | خـبـر بھی ✦

☪︎ 𝗧𝗿𝘂𝘁𝗵 • 𝗧𝗿𝘂𝘀𝘁 • 𝗩𝗮𝗹𝘂𝗲𝘀
𝗡𝗲𝘄𝘀 • 𝗔𝘄𝗮𝗿𝗲𝗻𝗲𝘀𝘀 • 𝗣𝘂𝗿𝗽𝗼𝘀𝗲
✦ 𝗡𝗲𝘄𝘀 𝗪𝗶𝘁𝗵 𝗣𝘂𝗿𝗽𝗼𝘀𝗲 ✦

✦ خـیـر بھی | خـبـر بھی ✦

مولانا محمد عبداللہ درخواستی برصغیر پاک و ہند کے ممتاز محدث، شیخ الحدیث، روحانی بزرگ اور تحریک ختم نبوت کے اہم رہنما تھے...
01/08/2026

مولانا محمد عبداللہ درخواستی برصغیر پاک و ہند کے ممتاز محدث، شیخ الحدیث، روحانی بزرگ اور تحریک ختم نبوت کے اہم رہنما تھے۔ انہیں اہلِ علم میں "حافظ الحدیث" کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا، کیونکہ انہیں احادیثِ نبویہ کا غیر معمولی حفظ اور استحضار حاصل تھا۔ �
Zahid Rashdi +1
ولادت و ابتدائی زندگی
آپ کی ولادت بیسویں صدی کے آغاز میں ضلع رحیم یار خان کی تحصیل خان پور کے قریب موضع درخواست میں ہوئی۔
اسی نسبت سے آپ کے نام کے ساتھ "درخواستی" کا لاحقہ مشہور ہوا۔
ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی، پھر مختلف اکابر علماء سے علومِ اسلامیہ کی تکمیل کی۔
علمی مقام
آپ نے حدیثِ نبوی کی تدریس کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔
ہزاروں طلبہ نے آپ سے دورۂ حدیث اور دیگر علوم پڑھے۔
آپ کی مجلس میں ہر موقع پر احادیثِ رسول ﷺ کا تذکرہ رہتا تھا، اسی وجہ سے آپ کو "فنا فی الحدیث" بھی کہا جاتا تھا۔
دینی و سیاسی خدمات
آپ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے طویل عرصے تک امیر رہے۔
تحریک ختم نبوت میں آپ نے نہایت مؤثر کردار ادا کیا۔
1952ء میں حج کے دوران مدینہ منورہ میں مستقل قیام کا ارادہ کیا، مگر بعد میں پاکستان واپس آ کر ختم نبوت کی خدمت کو اپنی ذمہ داری سمجھا اور پوری زندگی اسی مقصد کے لیے وقف کردی۔ یہ واقعہ آپ کے متعلق روایتی تذکروں میں نقل کیا جاتا ہے۔
اخلاق و عادات
انتہائی سادہ مزاج، متقی اور عبادت گزار تھے۔
حدیث سنانا اور اس پر عمل کی ترغیب دینا آپ کی نمایاں عادت تھی۔
علماء اور طلبہ کی تربیت میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے۔
وفات
آپ کا انتقال 1994ء میں طویل علالت کے بعد ہوا۔
اس وقت آپ کی عمر تقریباً سو سال بتائی جاتی ہے۔
آپ کی وفات پر علمی و دینی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا

علماء کرام دین کا کام کیسے کریں؟ـــــــــــــــــــــــــــــعلماء کرام اگر اخلاص، حکمت اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق دین کا ...
01/08/2026

علماء کرام دین کا کام کیسے کریں؟
ـــــــــــــــــــــــــــــ
علماء کرام اگر اخلاص، حکمت اور سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق دین کا کام کریں تو اس کے بہترین اصول یہ ہیں:
اخلاص کو بنیاد بنائیں
ہر دعوت، درس، خطبہ اور خدمت صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو، نہ کہ شہرت یا دنیاوی فائدے کے لیے۔
علم کے ساتھ عمل کریں
عالم کی دعوت اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب اس کی اپنی زندگی بھی قرآن و سنت کا نمونہ ہو۔
قرآن و سنت کی تعلیم عام کریں
عوام کو عقائد، عبادات، اخلاق اور معاملات کی صحیح تعلیم آسان انداز میں پہنچائیں۔
حکمت اور نرمی اختیار کریں
دعوت میں سختی، تحقیر اور بدزبانی سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔"
عوام کی اصلاح پر توجہ دیں
نماز، سچائی، امانت، حسنِ اخلاق، والدین کی خدمت اور معاشرتی برائیوں کے خاتمے کی دعوت دیں۔
نوجوانوں پر خصوصی محنت کریں
ان کے سوالات سنیں، ان کی زبان میں بات کریں، اور انہیں دین سے محبت دلائیں۔
اتحادِ امت کو فروغ دیں
اختلافی مسائل کو ہوا دینے کے بجائے امت کے مشترکہ دینی مقاصد پر توجہ دیں، جبکہ حق بات کو دلیل اور ادب کے ساتھ بیان کریں۔
جدید ذرائع ابلاغ سے فائدہ اٹھائیں
سوشل میڈیا، یوٹیوب، کتابوں اور دیگر ذرائع کے ذریعے مستند دینی مواد عام کریں۔
خدمتِ خلق کو دعوت کا حصہ بنائیں
غریبوں، یتیموں، مریضوں اور ضرورت مندوں کی خدمت دین کی عملی دعوت ہے۔
صبر اور استقامت اختیار کریں
دعوتِ دین میں مشکلات ضرور آتی ہیں، لیکن انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت یہی ہے کہ ثابت قدمی کے ساتھ اپنا کام جاری رکھا جائے۔
خلاصہ:
دین کا کام صرف تقریر کرنے کا نام نہیں، بلکہ اخلاص، علم، عمل، حسنِ اخلاق، حکمت، خدمتِ خلق اور مسلسل دعوت کا مجموعہ ہے۔ جب علماء کرام ان اصولوں کو اپناتے ہیں تو ان کی دعوت دلوں میں اثر پیدا کرتی ہے اور معاشرے میں حقیقی اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے!!!

لوگ آپ کی عزت کیوں نہیں کرتے؟ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہر انسان چاہتا ہے کہ لوگ اس کی...
01/08/2026

لوگ آپ کی عزت کیوں نہیں کرتے؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ہر انسان چاہتا ہے کہ لوگ اس کی عزت کریں، اس کی بات کو اہمیت دیں اور اس پر اعتماد کریں۔ لیکن عزت صرف عمر، دولت یا عہدے سے نہیں ملتی، بلکہ کردار، اخلاق اور رویے سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ لوگ آپ کو وہ مقام نہیں دے رہے جس کی آپ توقع رکھتے ہیں، تو شاید اس کی کچھ وجوہات یہ ہوں۔
1۔ آپ اپنی بات پر قائم نہیں رہتے
جو شخص بار بار وعدہ توڑتا ہے یا اپنی بات سے پھر جاتا ہے، لوگ آہستہ آہستہ اس پر اعتماد کھو دیتے ہیں۔ عزت کی بنیاد اعتماد ہے۔
2۔ وقت کی قدر نہیں کرتے
دیر سے پہنچنا، کام کو ٹالتے رہنا اور دوسروں کے وقت کو اہمیت نہ دینا، آپ کی شخصیت کو کمزور ظاہر کرتا ہے۔
3۔ ہر وقت شکایت کرتے رہتے ہیں
جو شخص ہر وقت حالات، قسمت یا دوسروں کا رونا روتا ہے، لوگ اس سے دور ہونے لگتے ہیں۔ مثبت سوچ رکھنے والے افراد زیادہ پسند کیے جاتے ہیں۔
4۔ دوسروں کی عزت نہیں کرتے
اگر آپ دوسروں کی بات کا مذاق اڑاتے ہیں، انہیں حقیر سمجھتے ہیں یا سخت لہجے میں گفتگو کرتے ہیں تو بدلے میں عزت کی توقع بھی کم ہو جاتی ہے۔ عزت دینے والا ہی عزت پاتا ہے۔
5۔ کردار اور عمل میں فرق ہوتا ہے
اگر انسان کچھ کہے اور کچھ کرے تو اس کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ لوگ الفاظ سے زیادہ عمل کو دیکھتے ہیں۔
6۔ خود اعتمادی کی کمی
جو شخص ہر وقت دوسروں کی منظوری کا محتاج رہتا ہے یا اپنی رائے پیش کرنے سے گھبراتا ہے، لوگ اکثر اسے سنجیدگی سے نہیں لیتے۔
7۔ غصہ اور بدزبانی
غصہ، تلخ لہجہ اور بدتمیزی وقتی طور پر دوسروں کو خاموش تو کر سکتے ہیں، مگر دل میں عزت پیدا نہیں کرتے۔
عزت حاصل کرنے کا راستہ
سچ بولیں اور وعدہ پورا کریں۔
وقت کے پابند بنیں۔
دوسروں کے ساتھ احترام سے پیش آئیں۔
علم اور اخلاق میں اضافہ کریں۔
اپنی بات سے زیادہ اپنے کردار پر توجہ دیں۔
عاجزی اختیار کریں، مگر اپنی عزتِ نفس بھی برقرار رکھیں۔
اختتامیہ
یاد رکھیں! عزت مانگنے سے نہیں، کمانے سے ملتی ہے۔ جب انسان اپنے کردار، دیانت، حسنِ اخلاق اور ذمہ داری کا ثبوت دیتا ہے تو لوگ خود بخود اس کی قدر کرنے لگتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ دنیا آپ کی عزت کرے تو سب سے پہلے اپنے کردار کو اس قابل بنائیں کہ وہ احترام کا مستحق ہو۔

ادارۃ_الہادی
01/08/2026

ادارۃ_الہادی


















01/08/2026
برداشت کیوں ختم ہو رہی ہے؟ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــبرداشت ایک ایسی خوبی ہے جو معاشروں کو جوڑتی ہے، رشت...
01/08/2026

برداشت کیوں ختم ہو رہی ہے؟
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
برداشت ایک ایسی خوبی ہے جو معاشروں کو جوڑتی ہے، رشتوں کو مضبوط بناتی ہے اور اختلاف کو دشمنی میں بدلنے سے روکتی ہے۔ مگر آج محسوس ہوتا ہے کہ معمولی بات پر غصہ، تلخ لہجہ اور برداشت کی کمی عام ہوتی جا رہی ہے۔ آخر اس کی وجوہات کیا ہیں؟
1۔ فوری ردِعمل کی عادت
سوشل میڈیا نے ہمیں سوچنے سے پہلے جواب دینے کا عادی بنا دیا ہے۔ لوگ کسی بات کی تحقیق کیے بغیر تبصرہ کرتے ہیں، جس سے غلط فہمیاں اور جھگڑے بڑھتے ہیں۔
2۔ مصروف اور دباؤ بھری زندگی
روزگار، مہنگائی، تعلیم اور دیگر ذمہ داریوں کا دباؤ انسان کو ذہنی طور پر تھکا دیتا ہے۔ جب ذہن مسلسل دباؤ میں ہو تو معمولی بات بھی غصے کا سبب بن سکتی ہے۔
3۔ سننے کا حوصلہ کم ہونا
آج ہر شخص اپنی بات منوانا چاہتا ہے، مگر دوسرے کی بات پوری توجہ سے سننے کے لیے کم لوگ تیار ہوتے ہیں۔ یہی رویہ اختلاف کو تنازع بنا دیتا ہے۔
4۔ اخلاقی تربیت میں کمی
گھر، اسکول اور معاشرے میں برداشت، صبر اور حسنِ اخلاق کی تربیت پہلے کے مقابلے میں کم ہوتی جا رہی ہے۔ جب کردار سازی کمزور ہو تو غصہ اور سخت مزاجی بڑھ جاتی ہے۔
5۔ خود غرضی کا بڑھتا ہوا رجحان
جب انسان صرف اپنی خواہشات اور مفاد کو اہم سمجھنے لگے تو دوسروں کی رائے، جذبات اور حقوق کی قدر بھی کم ہو جاتی ہے۔
6۔ تنقید برداشت نہ کرنا
بہت سے لوگ اختلافِ رائے کو ذاتی حملہ سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ ہر اختلاف دشمنی نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات یہی اختلاف انسان کو بہتر بناتا ہے۔
برداشت کیسے پیدا کی جائے؟
جواب دینے سے پہلے چند لمحے سوچنے کی عادت ڈالیں۔
اختلاف کو احترام کے ساتھ قبول کرنا سیکھیں۔
دوسروں کی بات پوری توجہ سے سنیں۔
غصے کے وقت فوراً فیصلہ یا تبصرہ نہ کریں۔
مطالعہ کریں، کیونکہ علم انسان کی سوچ کو وسیع اور مزاج کو متوازن بناتا ہے۔
صبر، عفو اور درگزر کو اپنی شخصیت کا حصہ بنائیں۔
اختتامیہ
برداشت کمزور انسان کی نہیں، بلکہ مضبوط کردار والے انسان کی پہچان ہے۔ جو شخص اختلاف کے باوجود احترام برقرار رکھتا ہے، غصے میں بھی انصاف کرتا ہے اور دوسروں کی بات تحمل سے سنتا ہے، وہ نہ صرف اپنے تعلقات کو مضبوط بناتا ہے بلکہ معاشرے میں بھی خیر اور امن کا ذریعہ بنتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھروں، اداروں اور معاشرے میں سکون آئے تو ہمیں برداشت کا آغاز دوسروں سے نہیں، خود اپنی ذات سے کرنا ہوگا!!!

Address

Darband Oghi Mansehra
Mansehra
21460

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ادارۃ الھادی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to ادارۃ الھادی:

Shortcuts

Share