27/08/2026
مکہ مکرمہ کی اسلام سے پہلے کی مختصر تاریخ
مکہ مکرمہ عرب کے صحرائی علاقے میں واقع ایک قدیم بستی تھی جس کی اہمیت خانہ کعبہ کی وجہ سے تھی۔ روایات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے کعبہ کی تعمیر کی، اور یہیں سے مکہ ایک مذہبی مرکز کے طور پر ابھرا۔
زمانہ جاہلیت میں مکہ عرب کے لیے مذہبی اور تجارتی دونوں لحاظ سے مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ کعبہ میں تقریباً 360 بت رکھے گئے تھے، اور ہر قبیلہ اپنے اپنے بت کی پرستش کرتا تھا، مگر پھر بھی سال میں ایک بار حج کے لیے پورے عرب سے لوگ مکہ آتے تھے، کیونکہ حج کی رسم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے چلی آ رہی تھی، اگرچہ وقت کے ساتھ اس میں بہت سی بدعات شامل ہو گئیں۔
قبیلہ قریش مکہ کے سب سے طاقتور اور معزز قبیلے کے طور پر ابھرا، خاص طور پر قصی بن کلاب کے دور میں، جس نے کعبہ کی نگرانی، حاجیوں کی خدمت (سقایہ اور رفادہ) اور مکہ کے انتظامی امور کو منظم کیا۔ مکہ تجارتی لحاظ سے بھی اہم تھا کیونکہ یہ یمن اور شام کے درمیان تجارتی راستے پر واقع تھا، اور قریش کے موسمی تجارتی قافلے (سفرِ زمستان و تابستان) اسی راستے سے چلتے تھے۔
مکہ کا ایک اہم واقعہ "عام الفیل" (ہاتھی والا سال) ہے، جب یمن کے حکمران ابرہہ نے کعبہ کو منہدم کرنے کے لیے ہاتھیوں سمیت لشکر لے کر حملہ کیا، مگر اللہ تعالیٰ نے ابابیل پرندوں کے ذریعے اس لشکر کو تباہ کر دیا۔ یہی وہ سال تھا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی، اور اسی واقعے کا ذکر قرآن مجید کی سورۃ الفیل میں موجود ہے۔
اسی مذہبی، سیاسی اور تجارتی پس منظر میں مکہ نے وہ زمین تیار کی جہاں بعد میں اسلام کا ظہور ہوا۔
علی اکبر مکہ،