Jamia Masjid Haji Muhammad Hussain

Jamia Masjid Haji Muhammad Hussain Religious Institution for Islamic Education

25/03/2026
25/03/2026

مُصافَحہ کی فضیلت

25/03/2026

سید منظور الکونین مرحوم۔ ایک منفرد نعت خواں
———————————————————————————
علی رضا خان


نعت پڑھنے اور سننے کی بڑی فضیلت ہے ۔۔یہ وہ سعادت ہے جو چنیدہ لوگوں کے حصے میں آتی ہے ۔۔خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو یہ اعزاز پاتے ہیں نعت پڑھنا اور سننا دونوں ہی خوبصورت عمل ہیں۔۔۔۔محققین نعت کے مطابق تخلیقِ نعت کا معاملہ تلوار کی تیز دھار پر چلنے کے مترادف ہے جس میں انسان معمولی سی لغزش سے کہیں کا کہیں جا پہنچتا ہے۔۔انتہائی احتیاط طلب کام ہے۔۔۔۔۔ یہ معاملہ اس ادب اور تقدس کا متقاضی ہے کہ خداوند قدوس اور رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کا اعتراف ان کے مرتبہ اور مقام کے مطابق کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔

حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی عظیم المرتبت اور آفاقی شخصیت کے اوصاف کا احاطہ کرنے کے لیے شاید انسانی زندگی ناکافی ہے آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی ثناء خوانی کا سلسلہ بہت قدیم ہے جو قیامت تک جاری و ساری رہے گا جس ہستی کی توصیف بصورت درود پاک اللہ رب العزت بیان کرے وہاں ایک عام انسان کی کیا بساط کہ وہ یہ حق ادا کر سکے ۔۔۔۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی مدحت کے سلسلہءخیر و برکت کو آگے بڑھانے والے بہت سے نعت خوانوں میں ایک اہم نام سید منظور الکونین کا ہے انہوں نے نصف صدی سے زائد عرصہ نعت خوانی کے شعبہ میں نمایاں اور بھر پور خدمات انجام دیں اور غیر معمولی اہمیت کے حامل ٹھہرے ۔۔۔۔وہ ایک علمی اور ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے ان کے والد گرامی سید محمد یعقوب شاہ رحمتہ اللّہ علیہ کی علمی بصیرت کا ایک زمانہ معترف رہا مجھے بھی کئی مرتبہ قبلہ شاہ صاحب کی نشستوں میں بیٹھ کر بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی بھی موضوع پر گھنٹوں گفتگو کرنے پر انہیں کمال مہارت حاصل تھی وہ بڑی خوبصورت شخصیت کے مالک تھے پُرنور اور وجیہہ شباہت رکھنے والے شاہ صاحب جب کسی موضوع پر بات کرتے تو یوں لگتا جیسے ان کے لبوں سے پھول جھڑنے لگے ہوں یہ ان کی عمدہ تربیت ہی کا اعجاز تھا کہ سید منظور الکونین کے مزاج میں ایک خاص قسم کے تہذیبی رچاؤ اور ان کی طبیعت کے علمی اور ادبی میلان نے ان کی نعت خوانی کو بھی معیار کی اعلیٰ اور بہترین قدروں سے روشناس کرادیا۔۔۔۔۔

کیونکہ مجھے بھی بارگاہ خیر الانام صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم میں نذرانہء عقیدت پیش کرنے کا اعزاز کئی برسوں سے حاصل ہے اور اس طویل عرصہ میں بہت سے ثناخوانوں کو سننے کے بے شمار مواقع بھی مجھے میسر آئے جو اچھوتا پن ، انفرادیت ، وارفتگی ، تلفظ کا درست اور برمحل استعمال، فنی لوازمات پر گرفت اور ادائیگی پر دسترس مجھے سید منظور الکونین کے ہاں نظر آئی اس کی مثال کہیں اور کم کم ہی ملتی ہے میں سمجھتا ہوں اس کے پیچھے مسلسل ریاضت اور محنت کار فرما ہے سید منظور الکونین نعت خوانی میں خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے انہوں نے اس سلسلہ میں باقاعدہ کسی کی شاگردی اختیار نہیں کی البتہ موسیقی کے اسرار و رموز سیکھنے کے لیے وہ نامور موسیقار نیاز حسین شامی سے کسبِ فیض ضرور کرتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سید منظور الکونین کی نعت خوانی میں پختگی اس بات کا پتہ دیتی تھی کہ انہوں نے اس فن میں بہت محنت کی ہے اور موجودہ مقام تک پہنچنے کے لئے انہیں نہ جانے کس کس کٹھن موڑ سے گزرنا پڑا انہوں نے پچاس سال سے زائد عرصہ نعت خوانی کی اور کسی بھی مقام پر اپنے معیار کا گراف نیچے نہیں آنے دیا نعت خوانی کے لئے انہوں نے ہمیشہ معیاری کلام کا انتخاب کیا اور یہ متبرک فریضہ اس خوش اسلوبی اور عقیدت سے انجام دیا کہ ان کی نعت خوانی والہانہ پن اور عقیدت کی خوبصورت مثال بن گئی اور وہ ہمیشہ اس حوالے سے نفاست اور عمدگی کے اعلی معیار پر نظر آئے انہوں نے دور حاضر کے نامور اور مستند شاعروں کے کلام کے ساتھ ساتھ اساتذہ کا کلام بھی پڑھا اور اس کی ادائیگی اس احسن طریقے سے کی کہ سننے والا ہر شخص وارفتہ و بے خود ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ان کی آواز میں قدرت نے بہت سی خوبیاں جمع کر رکھی تھی نہایت گرجدار اور پرسوز آواز میں جب وہ بارگاہ ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گلہائے عقیدت پیش کرتے ہیں تو ہر دل بیقرار ہو جاتا اور ہر آنکھ اشکبار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سید منظور الکونین نے خود بھی شاعری کی اور بہت اعلی' پائے کی نعتیں بھی کہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان کی ادب دوستی، علمی اور تہذیبی تربیت اور شعری ذوق سے وابستگی کی جھلکیاں ان کی گفتگو میں بھی نظر آتیں۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان کے علاوہ کئی بیرونی ممالک میں بھی ان کے مداحین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے نعت خوانی کی بدولت کئی مرتبہ عمرہ اور حج بیت اللہ کی سعادت بھی ان کے حصہ میں ائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سید منظور الکونین سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عشق میں ڈوب کر سرشاری کی کیفیت کے ساتھ جب نعت پڑھتے تو ان کے سچے جذبوں سے اندازہ ہوتا کہ واقعی وہ خوشنودی رسول مکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے یہ مقدس فریضہ ادا کرنے میں مگن ہیں۔۔۔۔ان کے پیشِ نظر کوئی لالچ اور مفاد نہ ہوتا وہ دنیاوی انعامات اور اعزازات کے حصول کی خواہش سے بے نیاز ہو کر نعت پڑھتے ۔۔۔۔ وہ تمام عمر ایک لگن اور اخلاص کے ساتھ گنبدِ خضرا کے تصور کو سامنے رکھتے ہوئے مدحت سرور کونین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی مقدس ذمہ داری نبھاتے رہے۔۔۔۔ روحانیت کی ایک لذت اور سرور تھا جو ہمیشہ ان کے دامن مراد کا حصہ رہا وہ سمجھتے تھے کہ ان کے لیے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہوسکتا ہے کہ خدا نے انہیں مدحت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرنے کے لیے منتخب کر لیا ہے نعت خوانی کو وہ مقصدِ حیات بھی سمجھتے تھے اور اپنے لئے ذریعہء نجات بھی۔۔انہیں اس بات کا پورا یقین تھا کہ وہ تمام عمر عزت اور شہرت کے جس مقام پر فائز رہے اس کا سبب نسبت سرکار صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ہی تھا اور اسی بناء پر وہ زندگی بھر اپنی قسمت پر نازاں رہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

25/03/2026

علماء و اکابر سے استفادہ کی ترغیب

22/03/2026

مصطفٰی خیرُالْوَرٰے ہو
سرورِ ہر دوسَرا ہو ﷺ
اپنے اچھوں کا تَصَدُّق
ہم بدوں کو بھی نباہو

کس کے پھر ہو کر رہیں ہم
گر تمہیں ہم کو نہ چاہو

بَد ہنسیں تم اُن کی خاطر
رات بھر رُوؤ کراہو

بد کریں ہر دم برائی
تم کہو ان کا بھلا ہو

ہم وہی ناشُسْتَہ رُو ہیں
تم وہی بحرِ عطا ہو

ہم وہی شایانِ رَد ہیں
تم وہی شانِ سخا ہو

ہم وہی بے شرم و بد ہیں
تم وہی کانِ حیا ہو

ہم وہی نَنگِ جَفا ہیں
تم وہی جانِ وَفا ہو

ہم وہی قابل سزا کے
تم وہی رحمِ خدا ہو

چَرخ بدلے دَہر بدلے
تم بدلنے سے وَرا ہو

اب ہمیں ہوں سَہْو حاشا
ایسی بھولوں سے جدا ہو

عمر بھر تو یاد رکھا
وقت پر کیا بھولنا ہو

وقتِ پیدایِش نہ بھولے
کَیْفَ یَنْسٰی کیوں قضا ہو

یہ بھی مولیٰ عرض کر دوں
بھول اگر جاؤ تو کیا ہو

وہ ہو جو تم پر گِراں ہے
وہ ہو جو ہرگز نہ چاہو

وہ ہو جس کا نام لیتے
دشمنوں کا دل برا ہو

وہ ہو جس کے رَد کی خاطر
رات دن وَقْفِ دُعا ہو

مر مٹیں برباد بندے
خانہ آباد آگ کا ہو

شاد ہو اِبلیس مَلْعُوں
غم کسے اس قَہر کا ہو

تم کو ہو وَ اللہ تم کو
جان و دل تم پر فدا ہو

تم کو غم سے حق بچائے
غم عَدُوّ کو جاں گَزا ہو

تم سے غم کو کیا تعلق
بیکسوں کے غم زِدا ہو

حق درُودیں تم پہ بھیجے
تم مُدام اس کو سراہو

وہ عطا دے تم عطا لو
وہ وہی چاہے جو چاہو

بر تو اُو پاشَدْ تو بر ما
تا اَبد یہ سِلسلہ ہو

کیوں رضاؔ مشکل سے ڈریئے
جب نبی مشکل کُشا ہو

22/03/2026

عید الفطر کے بعد چھ روزوں کی فضیلت

19/03/2026

Address

بالمقابل اسلام پورہ ،محلہ قادر آباد ،لالہ موسیٰ تحصیل کھاریاں ضلع گجرات
Lala Musa
50200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamia Masjid Haji Muhammad Hussain posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category