Marwat Public News

Marwat Public News Follow my page and we welcome you with all our heart.

امیر تبلیغی جماعت حضرت مولانا نذر الرحمن صاحب کے خادم مولوی امان اللہ صاحب تبلیغ میں سال لگا رہے ہیں ، ماشاءاللہ 🥰اللہ ت...
31/05/2026

امیر تبلیغی جماعت حضرت مولانا نذر الرحمن صاحب کے خادم مولوی امان اللہ صاحب تبلیغ میں سال لگا رہے ہیں ، ماشاءاللہ 🥰
اللہ تعالیٰ ہم سب سے دین کی خدمت لے ( آمین )

‏🚨حجاج کرام کی وطن واپسی کا عمل شروع، پہلی حج پرواز پی کے 742 کے ذریعے 114 مسافر جدہ سے اسلام آباد پہنچ گئےچیف آپریٹنگ آ...
31/05/2026

‏🚨حجاج کرام کی وطن واپسی کا عمل شروع، پہلی حج پرواز پی کے 742 کے ذریعے 114 مسافر جدہ سے اسلام آباد پہنچ گئے

چیف آپریٹنگ آفیسر اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ آفتاب گیلانی نے حجاج کرام کا استقبال کیا، اس موقع پر ائیرپورٹ سکیورٹی فورس اور پی آئی اے کے اعلیٰ عہدیداران بھی موجود تھے۔

31/05/2026

میرا پاکستانیوں سے ایک گزارش ہے کہ میٹھا چیز کم کر دے پوری دنیا میں میٹھا کھانے میں پاکستان پہلے نمبر پر ہیں اور شوگر بھی اس وجہ سے پاکستان پہلے نمبر پر ہے.

عید کے دنوں میں بجلی کی موجودگی ثابت کرتی ہے کہ مسئلہ بجلی کی کمی نہیں بلکہ انتظامی اور مقامی مسائل ہیں۔ لکی مروت کے مشر...
31/05/2026

عید کے دنوں میں بجلی کی موجودگی ثابت کرتی ہے کہ مسئلہ بجلی کی کمی نہیں بلکہ انتظامی اور مقامی مسائل ہیں۔ لکی مروت کے مشران، سیاسی نمائندے اور متعلقہ ادارے مل بیٹھ کر اس مسئلے کا مستقل حل نکالیں۔ بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی کے خلاف بھی سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ عوام کو 22، 22 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ سے نجات مل سکے۔

پیج کو لائک شیئر فالو کریں ۔
31/05/2026

پیج کو لائک شیئر فالو کریں ۔

فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد حجاج کرام کی وطن واپسی شروع، اسلام آباد ایئرپورٹ پر ان کا پرتپاک استقبال
31/05/2026

فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد حجاج کرام کی وطن واپسی شروع، اسلام آباد ایئرپورٹ پر ان کا پرتپاک استقبال

سلطانُ الاولیاء حضرت پیرسباق باباجی نورالله تعالى مرقده کون تھے ؟مختصر جامع تعارف اور حیاتِ مبارکہ پر طائرانہ نظر نوٹ: ی...
30/05/2026

سلطانُ الاولیاء حضرت پیرسباق باباجی نورالله تعالى مرقده کون تھے ؟
مختصر جامع تعارف اور حیاتِ مبارکہ پر طائرانہ نظر

نوٹ: یہ مضمون بندہ نے مجلہ سوئے طیبہ کی خصوصی اشاعت " مشائخِ دریا شریف " کے لیے لکھا تھا، جوحضرت پيرسباق باباجى نورالله تعالى مرقده کے یومِ وصال کی مناسبت سے پیشِ خدمت ہے۔

جغرافیائی منظر اور خاندانی گلشن

پشاور سے جی ٹی روڈ پر نوشہرہ کی سمت سفر کرتے ہوئے جب فوجی چھاونی کا اختتام ہوتا ہے، تو بائیں جانب شمال مغرب میں دریائے کابل کے پُرسکون پانیوں کے پار ایک بستی جلوہ گر ہے، جسے دنیا "پیرسباق شریف" کے نام سے جانتی ہے ۔ وہاں کی فضاؤں میں ایک ایسی شخصیت کی یادیں رچی بسی ہیں جنہیں دنیا مولانا فقیر محمد صاحب (رحمۃ اللہ علیہ) کے نام سے جانتی ہے۔ مولانا فقیر محمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی روحانی نسبت سلسلہ قادریہ کے عظیم بزرگ قدوۃ الاولیاء حضرت خواجہ عبدالغفور صاحب رحمۃ اللہ علیہ سیدو شریف ، سوات سے تھا ۔ اللہ رب العزت نے آپ کے آنگن کو دو ایسے گل ہائے سرسبز سے رونق بخشی جنہوں نے آگے چل کر علمِ دین کی خوشبو کو چہار سو پھیلایا؛ ایک مولانا نور الحق صاحب اور دوسرے مولانا عبد الرزاق صاحب ۔ ان دونوں برادرانِ عالیشان کی خوش قسمتی دیکھیے کہ آنکھ کھولی تو گھر کا ماحول عجز و انکساری کا آئینہ دار، دل اخلاص و تقویٰ کا مسکن اور روح علم و عرفان کے نور سے منور تھی۔ یہی وجہ تھی کہ بہترین تربیت کے سانچے میں ڈھل کر جب یہ آفتاب و ماہتاب نمودار ہوئے، تو ان کا شمار خطے کے معتبر ترین علماء میں ہونے لگا۔ مولانا عبد الرزاق صاحب (رحمہ اللہ)، جن کا قلبی تعلق حضرت خواجہ محمد قاسم صاحب موہڑوی (رحمہ اللہ) کی درگاہِ عالیہ سے تھا اور جو خلافت و خدمت کے بلند منصب پر فائز ہوئے، ان کے گھر اللہ نے مولانا محمد اسحاق صاحب جیسی سخی وعاجز طبع شخصیت عطا فرمائی ( راقم کے والد گرامی اللہ پاک کامل بخشش و مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم) ۔ دوسری جانب، مولانا نور الحق صاحب (رحمہ اللہ) کا سینہ اللہ پاک نے علمِ حدیث کے ذوقِ سلیم کے لیے کھول دیا تھا۔ آپ کی مجلسیں قال اللہ و قال الرسول ﷺ کی صداؤں سے گونجتی تھیں اور تشنگانِ علم دور دور سے آپ کے پاس اپنی پیاس بجھانے آتے تھے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کو بغداد شریف جیسے عظیم الشان مرکز سے اجازت حاصل تھی ۔ اسی علمی و روحانی تسلسل کے ساتھ، 1924 کی ایک مبارک گھڑی میں مولانا نور الحق صاحب رحمہ اللہ کے ہاں ایک بخت بیدار بچے کی ولادت ہوئی، جس کا نام عبدالسلام رکھا گیا۔ آپ رحمہ اللہ علیہ کے بھائیوں کے اسماء درج ذیل ہیں : حضرت مولانا عبد الرشید صاحب ، حضرت مولانا عبد الرؤف صاحب ، حضرت مولانا عبد العظیم صاحب ، حضرت جناب عبد المتین مجذوب صاحب، حضرت مولاناعبد الرؤف صاحب کے علاوہ باقی حضرات وصال فرما گئے ہیں ۔ رحمھم اللہ ۔
آئیے! عصرِ حاضر کی اس عبقری شخصیت کے اوراقِ زندگی پلٹتے ہیں جن کی ضیا پاشیوں سے ایک عالم منور ہوا۔ وہ پیکرِ علم و حیا، قطبِ دوراں اور منبعِ فیوض و برکات حضرت خواجہ محمد عبدالسلام صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہیں، جو علمی و روحانی حلقوں میں اپنے لقب 'سلطانُ الاولیاء' اور عرفِ عام میں 'پیرسباق بابا جی' کے نامِ نامی سے پکارے جاتے ہیں۔ آپ ان نفوسِ قدسیہ میں سے ہیں جنہوں نے اپنی پوری حیاتِ مستعار شریعت و طریقت کی آبیاری اور اتباعِ سنت کی خوشبو پھیلانے کے لیے وقف کر دی ۔

نام مبارک

آپ کا اسمِ گرامی(مولانا) محمد عبدالسلام ہے، جبکہ آپ کے والدِ ماجد کا نامِ نامی شیخ الحدیث مولانا نور الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہے اور دادا کا نام مولانا فقیر محمد صاحب ہے ۔

پیرسباق شریف : تاریخی و روحانی پس منظر

یہ بستی اپنی آغوش میں محض علم و عرفان ہی نہیں، بلکہ تاریخ کی تپش اور عظیم قربانیوں کی داستانیں بھی سموئے ہوئے ہے۔ 1823ء میں مسلمانوں اور رنجیت سنگھ کی افواج کے درمیان ہونے والا معرکہِ عظیم (جنگِ نوشہرہ) اسی سرزمین پر بپا ہوا، جس میں مجاہدینِ اسلام کے خون نے اس مٹی کو تاریخی وقار عطا کیا۔
لیکن قدرت نے اس بستی کے مقدر میں شہرت کا ایک اور درخشاں باب لکھ رکھا تھا۔ اگرچہ یہ گاؤں اپنی تاریخی اہمیت کے باعث معروف تھا، مگر اسے "بامِ شہرت" تک اس عظیم ہستی نے پہنچایا جنہیں دنیا عارف باللہ حضرت خواجہ مولانا محمد عبدالسلام صاحبؒ (پیرسباق بابا جی) کے نام سے پکارتی ہے۔ آپ کی نسبت کے نور نے اس بستی کو وہ عظمت بخشی کہ اب اسے محض "پیرسباق" کہنا ادھورا معلوم ہوتا ہے، بلکہ عقیدت و محبت سے اب اسے "پیرسباق شریف" پکارا جاتا ہے۔
لفظ "پیرسباق" اس عظیم ہستی کی طرف ایک لطیف اشارہ بھی ہے کہ آپ وہ پیرِ کامل تھے جو زہد و تقویٰ اور سلوک و معرفت کی راہوں میں اپنے معاصرین سے "سبقت" لے جانے والے تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی یادِ الٰہی، تزکیہِ نفس اور سلاسلِ اربعہ کی ترویج کے لیے وقف کر دی، جس کے نتیجے میں یہ بستی آج ایک عالمی مرکزِ عرفان بن کر جگمگا رہی ہے۔

حليہ مبارک

بندہ نے 24 مئی 2021ء کو پیرسباق باباجی رحمہ اللہ کے یومِ وصال کے موقع پر ایک تحریر میں جو حلیہ لکھا تھا، وہ یہاں من و عن درج کیا جا رہا ہے :
"آپ کی آنکھیں بڑی اور پُر جلال تھیں ، کسی میں یہ تاب نہ تھا کہ آپ کی آنکھ سے آنکھ ملاتا، جسم مبارک متوسط قدرے بھرا ہو، ہاتھ ریشم کی طرح نرم، قد درمیانہ، داڑھی شریف گھنی ذرا گولائی کی طرف مائل، سفید چمکتے دانت دمکتا چہرہ اور مہکتا جسم، رنگ گندمی ایسا کہ دل کو چھو جائے، سفید تریضوں والا لباس، اکثر کالی واسکٹ سفید چادر اور سفید عمامہ شریف زیب تن فرماتے، چلتے ہوئے نگاہیں نیچی اور اٹھا اٹھا کے قدم رکھتے، سدا پائنچے ٹخنوں سے اوپر ہوتے، دورانِ کلام تبسم فرماتے رہتے، شریعتِ مطہرہ کی پابندی بدرجہ کمال فرماتے ، ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی پابندی کی تلقین فرماتے، اللہ جل جلالہ عم نوالہ کی محبت میں لیٹے لیٹے آنکھوں سے اشکوں کی لڑی شروع ہو جاتی، علماء سے بہت محبت فرماتے ، خوئی خصلت ، اخلاق و کردار ، گفتار و دستار ایسا کہ ایک دفعہ جو ملتا پھر آپ کا ہی ہو کے رہ جاتا "

سلسلہ نسب :

اس خانوادے کی جڑیں تاریخ کے اس عظیم شجرِ سایہ دار سے جا ملتی ہیں جس کی شجاعت اور عدل سے تاریخِ اسلام عبارت ہے۔ آپ کا سلسلہِ نسب مرادِ رسولؐ، امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔

تحصیلِ علم اور تعلیمی اسفار

حضرت پیرسباق بابا جی نورالله تعالى مرقده نے علمِ دین کی پیاس بجھانے کے لیے ابتدائی طور پر اپنے والدِ گرامی، استاد العلماء شیخ الحدیث مولانا نور الحق صاحبؒ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیے۔ آپ نے صرف، نحو، تجوید، فقہ اور اصول کی کتب اپنے والدِ محترم سے پڑھیں۔
علم کی تڑپ آپ کو مختلف علمی مراکز تک لے گئی، جن میں درج ذیل مقامات نمایاں ہیں:
شہباز گڑھی، باڑی چم (مردان) اور علاقہ چھچھ (جلالیہ) جیسے مقامات پر دن رات محنت کی۔
حضرت مولانا خلیل اللہ صاحبؒ (زنڈو بانڈہ) آپ سے خصوصی علمی استفادہ کیا، جو شاہ محمد شیر صاحب پیلی بھیت شریف (بھارت) کے خلیفہ تھے۔
ابتدائی علوم کی تکمیل کے بعد پیرسباق باباجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ حدیثِ نبوی ﷺ کے فیض کے لیے آپ غورغشتی تشریف لے گئے، جہاں آپ نے حضرت شیخ الحدیث مولانا نصیر الدین غورغشتی صاحبؒ کے زیرِ سایہ کسبِ فیض کیا ۔

حصولِ علمِ باطنی اور سلاسلِ طریقت

تکمیلِ علومِ ظاہری کے بعد، آپ کے دل میں معرفتِ الٰہی کی تڑپ اور باطنی تسکین کا جذبہ موجزن ہوا۔ اس روحانی پیاس کی تسکین کے لیے آپ نے ملک و بیرونِ ملک کے متعدد اسفار کیے اور جہاں بھی کسی اللہ والے کا پتا چلا، وہاں کشاں کشاں پہنچے۔ آپ کی صاحبزادی (والدہ ماجدہ مدظلہا العالیہ) بیان فرماتی ہیں کہ حضرت بابا جی صاحب نورالله تعالى مرقده اکثر فرمایا کرتے تھے: "بیٹی ! تو خوش نصیب ہے کہ جب سے تیری پیدائش ہوئی ہے، میرا دل دنیا سے اچاٹ ہو گیا ہے۔" آپ کے ذوقِ جستجو کا یہ عالم تھا کہ سفرِ عشق کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے مدینہ الاولیاء ملتان شریف تشریف لے گئے اور وہاں کے جلیل القدر مشائخ کے مزارات پر حاضری دے کر فیوض و برکات سمیٹے۔
آپ کی یہ تلاش بالآخر سرزمینِ افغانستان (کنڑ) کے عظیم المرتبت بزرگ زبدۃ العارفین حضرت خواجہ کریم داد صاحبؒ (المعروف انزری ملا صاحب) کی بارگاہ میں ختم ہوئی، جہاں پہنچ کر آپ کے قلب کو حقیقی قرار ملا۔ مرشدِ کامل نے آپ کے جوہرِ قابل کو پہچانتے ہوئے آپ کو سلسلہ عالیہ قادریہ، نقشبندیہ اور سہروردیہ میں خلافت و اجازت سے نوازا۔ اس موقع پر حضرت خواجہ انزری ملا صاحبؒ نے آپ کے حق میں پشتو کے ان تاریخی الفاظ میں دعا فرمائی جو آپ کی عظمت کی گواہی بنے:
"که زما په دعا کیگی نو الله دی ده کل جهان اولياءُ سردار که"(ترجمہ: اگر میری دعا سے ہو تو اللہ تعالیٰ آپ کو تمام اولیائے کرام کا سردار بنا دے)
مرشدِ اول کے وصال کے بعد آپ نے اپنی روحانی تشنگی بجھانے کے لیےقدوۃ السالکین عمدہ الواصلین سلطان العارفین حضرت خواجہ حافظ عبدالغفور صاحبؒ (دریائے رحمت شریف، اٹک) کی خدمت میں حاضری دی۔ حضور قبلہ عالم حضرت بابا جی صاحب دریا شریفؒ نے آپ پر غیر معمولی شفقت فرماتے ہوئے سلسلہ چشتیہ سمیت تمام سلاسل اور تمام اوراد و وظائف کی خلافتِ عامہ عطا فرمائی۔ یوں آپ کی ذاتِ گرامی سلاسلِ اربعہ کے فیض کا سنگم بن گئی۔

طبیبِ عظیم الشان

حضرت بابا جی صاحب نورالله تعالى مرقده کو اللہ رب العزت نے جہاں روحانی کمالات سے نوازا تھا، وہیں آپ کو خلقِ خدا کے جسمانی امراض کے علاج معالجے کے لیے علمِ طب کی بصیرت بھی عطا فرمائی تھی۔ آپ طبیہ کالج لاہور کے سندِ یافتہ مستند طبیب تھے اور فنِ طبابت میں "مرجعِ خلائق" کی حیثیت رکھتے تھے۔ قرب و جوار سے دکھی انسانیت جوق در جوق آپ کی خدمت میں حاضر ہوتی اور آپ کمالِ شفقت سے ان کے امراض کا مداوا فرماتے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ طبیب عظیم الشان تھے ۔ آپ بیک وقت نفوس کے تزکیے اور ابدان کی صحت کے عظیم امین تھے۔

کمالِ عجز و انکساری : "میں تو کمزور ہوں"

تصوف کی دنیا میں بلندی کا راستہ عاجزی کی پستی سے ہو کر گزرتا ہے، اور حضرت بابا جی صاحب نورالله تعالى مرقده کی زندگی اس کا روشن ترین استعارہ تھی۔ آپ کی شخصیت میں عجز و انکساری کا یہ عالم تھا کہ زبدۃ العارفین حضرت خواجہ کریم داد صاحب (انځری حضرت صاحبؒ) نے آپ کے باطنی کمالات کا مشاہدہ کرتے ہوئے آپ کو خلافت و اجازت کی ذمہ داری سونپنا چاہی، تو آپ کمالِ تواضع سے عرض گزار ہوئے : "حضرت ! میں تو ایک نحیف و ناتواں انسان ہوں، اس عظیم بارِ امانت کو اٹھانے کی سکت مجھ میں کہاں؟ میں تو بہت کمزور ہوں"۔
اس موقع پر مرشدِ کامل نے وہ تاریخی اور حکمت آمیز جملہ ارشاد فرمایا جو رہتی دنیا تک سالکین کے لیے مشعلِ راہ بن گیا :
"اگر میں بھی کمزور ہوں اور آپ بھی کمزور ہیں، تو پھر دینِ متین کی خدمت کون کرے گا؟"
سبحان اللہ ! مرشد کے ان ولولہ انگیز الفاظ نے آپ کے رگ و پے میں وہ قوت بھر دی کہ آپ نے سلاسلِ اربعہ کی وہ بے مثال خدمت فرمائی کہ قریہ قریہ گوشہ گوشہ ذکرِ الٰہی سے گونج اٹھا ۔
قدرت کو منظور تھا کہ آپ کے اس وصفِ عاجزی کو بار بار آزمایا اور نکھارا جائے۔ چنانچہ جب آپ سلطان العارفین حضور قبلہ عالم حضرت خواجہ حافظ عبدالغفور صاحبؒ (دریا باباجی صاحب) کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو وہاں بھی محبت و عقیدت کا وہی منظر دہرایا گیا۔ جب حضور قبلہ عالم دریا باباجی ثانی لا ثانی صاحبؒ نے آپ کو تمام سلاسلِ طریقت کی اجازت و خلافت عطا فرمانے کا ارادہ کیا اور فرمایا:
"مجھے اپنے مشائخِ کرام سے جتنے بھی سلاسل، اوراد اور وظائف کی اجازت حاصل ہے، میں وہ سب کی سب آپ کو عطا کرتا ہوں"۔
تو یہاں بھی آپ کے قلبِ گداز نے وہی عجزِ مجسم پیش کیا۔ آپ نے دوبارہ وہی التجا کی کہ "حضرت ! میں تو بہت کمزور ہوں"۔ قبلہ عالم دریا باباجی صاحبؒ نے آپ کی اس کیفیتِ انکساری پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہوئے وہی بصیرت افروز بات دہرائی : "میں بھی کمزور ہوں اور آپ بھی کمزور ہیں، تو پھر خدمتِ خلق اور خدمتِ دین کا فریضہ کون انجام دے گا؟"
یوں آپ کی ذاتِ گرامی سلاسلِ اربعہ کے انوار کا سنگم بن کر "مجمعُ البحرین" قرار پائی۔
مرشدین کی اس ہمت افزائی نے آپ کو وہ مقام بخشا کہ آپ کا وجودِ مسعود لاکھوں بھٹکے ہوئے دلوں کے لیے ہدایت کا مینار بن گیا۔ بلاشبہ، آپ کی یہ عاجزی ہی تھی جس نے آپ کو "سلطانُ الاولیاء" بنادیا ۔

کمالِ ادب : رُخِ مرشد کی جانب پیٹھ نہ کرنا

تصوف کی بنیاد "ادب" پر ہے، اور حضرت پیرسباق بابا جی صاحب نورالله تعالى مرقده کا مقامِ ادب اس قدر رفیع تھا کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ آپ کی اپنے مرشدِ کامل سے والہانہ عقیدت کا یہ عالم تھا کہ آپ نے پوری زندگی کبھی اپنی چارپائی کے پاؤں "دریائے رحمت شریف" (اٹک) کی جانب نہیں کیے۔
ادب کا یہ پہلو اس قدر رچ بس گیا تھا کہ آپ کبھی ایسی چارپائی پر لیٹنا گوارا نہ فرماتے جس کے پائنتے (پاؤں والی سمت) مرشد کے آستانے کی طرف ہوں تاکہ سوتے اور جاگتے ہر لمحہ مرشد کے آستانے کی سمت کا ادب برقرار رہے۔
ادب کی انتہا دیکھیے کہ آپ نے پوری زندگی کبھی اپنے مرشدِ کامل قبلہ عالم حضرت دریا بابا جی صاحبؒ کو پیرسباق آنے کی دعوت نہ دی؛ کیونکہ آپ کے نزدیک مرشد کو تکلیف دینا یا انہیں اپنی خاطر سفر کی زحمت دینا سوئے ادب تھا۔ آپ ہمیشہ خود تڑپ کر دریا شریف حاضری دیتے، مگر مرشد کو بلانے کی ہمت نہ کرتے۔

مرشد پاک کی اولاد سے والہانہ عقیدت

حضرت پیرسباق بابا جی صاحب نورالله تعالى مرقده کو اپنے مرشد پاک کے ساتھ ساتھ ان کی اولاد سے بھی حد درجہ عقیدت و لگاؤ تھا۔ چنانچہ والدہ ماجدہ مدظلہا العالیہ بیان فرماتی ہیں کہ جب بھی مرشدِ کامل کے صاحبزادگان میں سے کوئی پیرسباق شریف تشریف لاتا، تو آپ کی خوشی دیدنی ہوتی اور آپ رحمہ اللہ فرطِ محبت و عقیدت سے بکھر بکھر جاتے۔
اسی عقیدت کا ایک ایمان افروز واقعہ مرشدِ گرامی قدر، عکسِ بابا جی دریوی ، قبلہ حضرت خواجہ حافظ محمد عبدالحق بابا جی صاحب (دامت برکاتہم العالیہ) نے کئی مرتبہ احقر کو یوں بیان فرمایا کہ :
"ایک دفعہ پیرسباق شریف گیا، تو حضرت پیرسباق بابا جی صاحب نورالله تعالى مرقده نے کمالِ نیاز مندی کا مظاہرہ فرمایا۔ آپ نے ایک چارپائی پر رضائی بچھا کر مجھے بٹھایا، اور میرے برابر میں دوسری چارپائی بچھائی اور اس پر میرے جوتوں کو نہایت ادب سے رکھ دیا۔"

ادبِ مرشد اور مخصوص لباس

حضرت پیرسباق بابا جی صاحب نورالله تعالى مرقده کے نزدیک مرشد کے آستانے کی حاضری کا ادب اس قدر تھا کہ راقم کی (والدہ ماجدہ مدظلہا) کے بقول، آپؒ نے لباس کا ایک مخصوص جوڑا صرف "دریائے رحمت شریف" کی حاضری کے لیے خاص کر رکھا تھا۔ جب کبھی مرشدِ کامل کی بارگاہ میں رختِ سفر باندھتے، تو وہی خاص لباس زیب تن فرماتے۔ یہ اس بات کی روشن دلیل تھی کہ آپ مرشد کی چوکھٹ کو دنیا کا معزز ترین دربار تصور کرتے تھے۔

نگاہِ مرشدِ کامل سے ہوتا ہے عشقِ مصطفیٰ ﷺ حاصل
خدا کا قرب دیتی ہے محبت پیر خانے کی

خدمتِ مرشد

حضرت پیرسباق بابا جی صاحب نورالله تعالى مرقده کی اپنے مرشدِ کامل حضرت دریا بابا جی صاحبؒ سے عقیدت محض زبانی نہ تھی، بلکہ آپ عملی طور پر "خادمِ درِ مرشد" بن کر رہتے تھے۔ مرشدِ گرامی قدر، جگر گوشہ بابا جی دریوی ولی کامل حضرت خواجہ حافظ محمد عبدالحق صاحب (زیدہ مجدہ) نے بارہا راقم الحروف (نصیر الحق) کو یہ ایمان افروز واقعہ سنایا کہ :" آپ کے نانا جان (حضرت پیرسباق بابا جی صاحب نورالله تعالى مرقده ) گندم کی کٹائی کے سیزن میں مرشد کے لنگر اور کھیتوں کی خدمت کے لیے خاص طور پر درانتیاں تیار کرواتے اور پیرسباق شریف سے عقیدت مندوں کی ایک بڑی جماعت لے کر دریا شریف حاضر ہوتے۔"
بقول ماموں جان، شیخِ طریقت حضرت قاری بشیر احمد مدنی صاحب دامت برکاتہم العالیہ حضرت پیر سباق بابا جى نورالله تعالى مرقده گندم کی کٹائی کے ایام میں دریائے رحمت شریف معمول سے زیادہ جلد جلد حاضری فرماتے مقصد یہ ہوتا کہ خود کھیتوں کا جائزہ لے لیں، اور دیکھیں کہ فصل کٹنے کے قابل ہوئی ہے یا ابھی کچھ انتظار باقی ہے اور جب درانتیاں بنواتے، تو صرف عام درانتیاں ہی نہیں بنواتے تھے ، بائیں ہاتھ سے کام کرنے والوں کے لیے علیحدہ درانتیاں بھی خاص طور پر تیار کرواتے، تاکہ کسی کو تکلیف نہ ہو اور ہر شخص اپنی سہولت سے فصل کاٹ سکے۔
اسی مہم میں شریک ہمارے محلے کے ایک بزرگ، زرتاج خان کاکا نے احقر کو چشم دید گواہی دیتے ہوئے بتایا کہ : "ہم لوگ جب درانتیوں سے گندم کی کٹائی کرتے، تو حضرت پیرسباق بابا جی صاحب نورالله تعالى مرقده ہمارے پیچھے پیچھے کٹی ہوئی پٹی میں چلتے جاتے۔ آپؒ کی نگاہیں مسلسل زمین پر ہوتیں اور جہاں کہیں گندم کا کوئی گرا ہوا سٹہ نظر آتا، فوراً اسے اٹھا کر اپنی جھولی میں جمع کر لیتے۔ آپؒ کی یہ احتیاط دیکھ کر ہم حیران رہ جاتے کہ آپ ایک ایک دانے کو ضائع ہونے سے بچا رہے ہیں۔" اسی بزرگ کے بقول ایک مرتبہ حضرت خواجہ دریا بابا جی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے پشتو زبان میں ہم خادموں کو مخاطب کر کے فرمایا :
"تم لوگ بڑے خوش نصیب ہو، تمہارے دو حصے ہیں۔ تم یہاں (دریا شریف) سے بھی فیض پا رہے ہو اور وہاں (پیرسباق شریف) سے بھی حصہ لے رہے ہو۔"
یہ جملہ درحقیقت حضرت پیرسباق بابا جی صاحب نورالله تعالى مرقده کی مقبولیت اور ان کے آستانے پر فیضِ مرشد کے منتقل ہونے کی غیبی گواہی تھی۔

تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں

پیرسباق شریف کی خوش نصیبی

محبتِ مرشد کا ایک رنگ یہ بھی ہے کہ محبوب کی زبان سے نکلنے والا اپنے شہر یا گاؤں کا نام بھی مرید کے لیے باعثِ صد اعزاز بن جاتا ہے۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپؒ اپنے مرشدِ گرامی، سلطان العارفین قبلہ عالم حضرت دریا بابا جی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ہمراہ گاڑی میں سفر فرما رہے تھے۔ جب گاڑی اس مقام پر پہنچی جہاں سے راستہ آپ کے گاؤں "پیرسباق شریف" کی طرف مڑتا ہے، تو حضرت دریا بابا جی صاحبؒ نے اس راستے کی طرف اپنے دستِ مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے دریافت فرمایا:
یہ راستہ آپ کے گاؤں کو جاتا ہے؟ آپؒ نے اثبات میں ہاں کردی ۔بظاہر یہ ایک مختصر سی گفتگو تھی، مگر عشق و مستی کی دنیا میں اس کی اہمیت بہت بلند تھی۔ حضرت پیرسباق بابا جی صاحب نورالله تعالى مرقده اس واقعے کو بعد میں اکثر بڑی خوشی اور والہانہ مسرت کے ساتھ یاد فرمایا کرتے اور اس بات پر نہال ہو جاتے کہ : میرے مرشدِ کامل کو میرے گاؤں کے راستے کا علم ہے اور انہوں نے خود اس طرف اشارہ فرمایا ہے۔ آپؒ اس بات کو اپنے اور اپنے گاؤں کے لیے باعثِ سعادت اور برکتِ عظیم سمجھتے تھے ۔

خانقاہ پیرسباق شریف ، فجر سے عشاء تک

حضرت پیرسباق باباجی صاحب نورالله تعالى مرقده کے گلشن خانقاہِ پیرسباق شریف کے شب و روز سنتِ نبوی ﷺ کے سانچے میں ڈھلے ہوئے ہیں، جہاں وقت کی تقسیم کچھ اس طرح ہے کہ ہر لمحہ کسی نہ کسی نیک عمل کی نذر ہوتا ہے ۔ اس روحانی سفر کا آغاز نمازِ فجر کی باجماعت ادائیگی سے ہوتا ہے، جس کے فوراً بعد ختمِ القرآن الکریم کی نورانی محفل سجتی ہے۔ اس مجلس میں میزبان، مہمان اور طلبہ سب شریک ہوتے ہیں ۔ دعا کے بعد طلبہ کو درس دینا روزِ اول سے حضرت قاری بشیر احمد مدنی صاحب دامت برکاتہم العاليه کا معمول ہے۔ اس کے بعد اشراق کی ادائیگی اور ملاقاتوں کا سلسلہ رہتا ہے جس میں آنے والے عقیدت مند اپنی قلبی تسکین پاتے ہیں ۔ سورج کے بلند ہوتے ہی مہمانوں کی تواضع کے لیے دسترخوان بچھ جاتا ہے اور لنگر شریف کا یہ انتظام دوپہر تک جاری رہتا ہے۔ اسی دوران دارالعلوم کے اساتذہ و طلبہ تدریس و حفظِ قرآن کریم میں مشغول ہوتے ہیں، جبکہ لنگر شریف سے ضرورت مندوں کو طبِ یونانی کی ادویات، وظائف اور تعویذات کی صورت میں جسمانی و روحانی مسیحائی فراہم کی جاتی ہے۔ نمازِ ظہر کے بعد ایک مرتبہ پھر ختمِ قرآن مجید شریف کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس میں کثیر تعداد افراد شریک ہو کر فیض پاتے ہیں۔ دعا کے بعد بیعت و ارشاد، پند و نصیحت اور ذکر و اذکار کی نشست ہوتی ہے۔ ہر سائل کی بات سنی جاتی ہیں اور ان کے امراض کے مطابق وظیفہ یا دوا تجویز کیا جاتا ہیں۔ عصر کی نماز کے بعد ختمِ خواجگان کی مخصوص برکات حاصل کی جاتی ہیں ، ختم خواجگان کے بعد بھی اگر واردین ہو تو ان سے ملاقات ہوتی ہے ، نمازِ مغرب اور صلوٰۃِ اوابین کے بعد خانقاہ کا ماحول یکسر بدل جاتا ہے؛ روشنیاں مدھم کر دی جاتی ہیں ، حاضرین میں سے کوئی بھی قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے اور متصل ایک روح پرور اجتماعی مراقبہ منعقد ہوتا ہے جس میں سالکین دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو کر بارگاہِ ایزدی میں لو لگاتے ہیں۔ پھرعشاء تک تفسیر و ترجمہ کی علمی نشست ہوتی ہے، جس کے بعد لنگرِ شریف پیش کیا جاتا ہے۔ عشاء کی نماز کے فوراً بعد پھر ختمِ قرآن پاک ہوتا ہے اور اس کے بعد ذکرِ جہر کی وہ پُرکیف صدائیں بلند ہوتی ہیں جو دور دور تک سنائی دیتی ہیں اور فضاؤں کو معطر کر دیتی ہیں۔ آخر میں کچھ مہمان تسبیح و مناجات میں مصروف ہو جاتے ہیں تو کچھ آرام فرماتے ہیں تاکہ اللہ کے حضور تہجد کی حاضری کے لیے جلد بیدار ہو سکیں۔

حُسنِ معاشرت اور خانگی زندگی

حضرت پیرسباق بابا جی صاحب نورالله تعالى مرقده کی زندگی سنتِ نبوی ﷺ کا کامل نمونہ تھی، اور آپ اس فرمانِ رسول ﷺ کی عملی تصویر تھے کہ: "تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو۔"
میری والدہ ماجدہ مدظلہا بیان فرماتی ہیں کہ :
"ایک مرتبہ ہماری والدہ (حضرت بابا جی صاحبؒ کی اہلیہ محترمہ) بیمار تھیں اور ہم سب بہن بھائی ابھی چھوٹے تھے۔ ایسے میں حضرت بابا جی صاحبؒ نے کسی قسم کے تکلف یا بڑائی کو آڑے نہ آنے دیا، بلکہ خود شفقتِ پدری کے ساتھ ہمیں اپنے پاس بٹھایا۔ آپؒ نے خود اپنے دستِ مبارک سے ٹماٹر کاٹے اور انہیں توے پر ڈال کر پکایا، پھر خود بھی وہی زمین پر بیٹھ تناول فرمایا اور ہم بچوں کو بھی کھلاتے رہے۔"

شعائرِ اسلام کی قدر اور داڑھی کی اہمیت

حضرت پیرسباق بابا جی صاحب نورالله تعالى مرقده کی نظر میں سنتِ رسول ﷺ کی اہمیت اس قدر رفیع تھی کہ آپ کسی مسلمان کے چہرے پر سنت کی کمی برداشت نہ فرماتے، مگر سمجھانے کا انداز نہایت حکیمانہ اور مشفقانہ ہوتا۔
ایک مرتبہ ایک شخص کو دیکھا، جس کی داڑھی ایک مٹھی سے کم تھی۔ آپؒ نے کمالِ شفقت سے اسے مخاطب کر کے فرمایا : "اگر آپ نے داڑھی بڑھا کر ایک مشت (ایک مٹھی) کر دی، تو یہ (آپ کے چہرے پر) بہت مزا کرے گی۔" پھر آپؒ نے داڑھی منڈوانے یا کٹوانے والوں کی غفلت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک نہایت گہری بات ارشاد فرمائی: "لوگ دیوانے ہیں، ان کا دماغ خراب ہو گیا ہے کہ وہ اس مبارک سنت کو (اپنے ہاتھوں سے) کاٹ کر گندی نالیوں میں پھینک دیتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ کے نزدیک اور شریعت میں بہت قیمتی چیز ہے۔"

دنیاوی جاہ و منصب سے بے نیازی

حضرت پیرسباق بابا جی صاحب نورالله تعالى مرقده سالکینِ طریقت کی تربیت فرماتے ہوئے اکثر یہ نکتہ بیان فرماتے کہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ وحدہ لاشریک کے علاوہ انسان کے جتنے بھی دنیاوی تعلقات ہیں، وہ درحقیقت اللہ اور بندے کے درمیان "حجابات" (رکاوٹیں) ہیں۔ آپؒ ارشاد فرماتے کہ
اللہ کے علاوہ یہ جتنے بھی (دنیاوی) تعلقات ہیں، یہ سب اللہ اور سالک کے درمیان حجاب ہیں۔ جب تک یہ سب (تعلقاتِ جاہ و منصب) نہیں ٹوٹیں گے، تب تک اللہ تعالیٰ تک سچی رسائی حاصل نہیں ہو سکے گی ۔
خاص طور پر آپؒ سیاسی پارٹیوں اور عہدوں کے ساتھ تعلق سے منع فرماتے تھے۔ اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے آپؒ نے ارشاد فرمایا کہ: "یہ پارٹیاں اور سیاسی گروہ دراصل 'بڑائی' اور 'دنیاوی نام و نمود' کے طلبگار ہوتے ہیں، جبکہ حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے کہ: جو خود بڑائی چاہتا ہے، اسے بڑا مت بناؤ۔"

بری مجالس اور کثرتِ مزاح سے اجتناب

ایک مجلس میں آپؒ نے خاص طور پر اخلاق کی درستی پر زور دیتے ہوئے فرمایا :
بری اور غفلت کی مجالس سے خود کو بچاؤ، کیونکہ ایسی جگہوں پر فضول ہنسی مذاق اور غیبت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ آپؒ نے کثرت سے ہنسنے کے متعلق ایک جامع تنبیہ فرمائی کہ: "زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے (الضحک یمیت القلب)"۔ ایک سالک کے لیے ضروری ہے کہ اس کے دل میں اللہ کا خوف اور یادِ الٰہی کی سنجیدگی غالب رہے۔

اصلاحِ نفس اور غصہ کا علاج

تزکیۂ نفس کے دوران ایک طالب علم نے اپنی قلبی کیفیت بیان کرتے ہوئے عرض کیا: "ح

Address

Lakki Marwat
28420

Opening Hours

Monday 07:00 - 15:00
15:00 - 06:00
Tuesday 07:00 - 15:00
15:00 - 06:00
Wednesday 07:00 - 15:00
15:00 - 07:00
Thursday 07:00 - 15:00
15:00 - 07:00
Saturday 07:00 - 15:00
15:00 - 07:00
Sunday 07:00 - 15:00
15:00 - 07:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Marwat Public News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Marwat Public News:

Share