14/10/2025
الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ ۚ أُولَٰئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ ۖ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ
(سورۃ النور: 26)
ترجمہ:
"ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے ہیں، اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے، اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے ہیں، اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ان (جھوٹی) باتوں سے بری ٹھہرائے گئے، ان کے لیے مغفرت اور عمدہ رزق ہے۔"
مختصر پس منظر:
یہ آیت اُس وقت نازل ہوئی جب منافقین نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے ان کی پاکدامنی اور عزت کا اعلان فرمایا اور یہ اصول قائم کیا کہ پاکیزگی اور ناپاکی صرف جسمانی نہیں بلکہ ایمانی اور روحانی حقیقت بھی ہے۔
بحث:
اس آیت کے کئی جہات ہیں، اور ہر زاویہ ایک گہرا سبق دیتا ہے۔
ایمان ہی اصل پاکیزگی ہے:
پاکیزگی کا حقیقی سرچشمہ ایمان ہے، اعمال اس کے بعد کا درجہ رکھتے ہیں۔
جو ایمان سے نوازا گیا وہ دراصل پاک قرار پایا، اور جس کے دل سے ایمان چھن گیا وہ ناپاک ہوا — یعنی یہاں "پاک مرد و عورت" سے مراد مؤمن مرد و عورت ہیں، اور "ناپاک مرد و عورت" سے مراد کافر و مشرک۔
اسی لیے قرآن کے مطابق مؤمن مرد یا عورت کا نکاح کسی مشرک یا کافر سے جائز نہیں، کیونکہ ایمان دلوں کو پاک کر دیتا ہے۔
انسان کو وہی ملتا ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے:
اگر کوئی شخص پاکیزگی چاہتا ہے تو وہ اسی کی راہ پر محنت کرتا ہے — اپنے دل، نیت، اور اعمال کو اسی طرف موڑتا ہے — اور اللہ اس کے لیے پاک راستے، پاک لوگ، اور پاک انجام آسان کر دیتا ہے۔
یہ آیت اس اصول کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ انسان جس نیت سے چلتا ہے، اسی نتیجے تک پہنچتا ہے۔
اچھی باتیں اچھے دلوں پر اثر کرتی ہیں:
تفسیرِ ابنِ عباس کے مطابق "بھلی بات کے حق دار بھلے لوگ ہوتے ہیں"۔
جیسے نفاق کے زمانے میں منافقین کے ناپاک دلوں نے جھوٹے الزام کو قبول کیا،
ویسے ہی مؤمن دلوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاکیزگی کو دل سے مانا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیک کلام، نیک دلوں میں اترتا ہے اور گندی بات، ناپاک دلوں میں۔
اللہ پر بھروسہ کرنے کا پیغام:
اگر کوئی شخص پاک اور سچا ہے، مگر دنیا اس پر الزام لگائے،
تو اسے اپنے رب پر یقین رکھنا چاہیے — وہ دن ضرور آئے گا جب اللہ خود اس کی سچائی ظاہر کر دے گا،
جیسے اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاکدامنی کا اعلان فرمایا۔
یہ آیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ایمان انسان کو پاک کرتا ہے، نیت اس کے راستے بناتی ہے، اور اللہ تعالیٰ بالآخر سچائی کو ظاہر فرما دیتا ہے۔
پس پاکیزگی، ایمان، نیت اور بھروسہ — یہی ایک مؤمن کے سفرِ حیات کے اصل ستون ہیں۔ 🌿