07/06/2026
آج کی بات حقیقت
سوال
بے شک موت سب کو مقدر ہے لیکن اس سے پہلے تو زندگی ہے پھر آپ نے اسے موت سے مرکب کیوں کہا ؟ برائے مہربانی خالص حیات کی بھی وضاحت فرما دیں ۔
جواب
جو زندگی ہم گزار رہے ہیں اس کی صورت یہی ہے کہ وہ ہمیشہ موت سے بغلگیر یا اس کی ہمنشین یا ہم کنار یا اس کے ساتھ ساتھ رہتی ہے موت کہیں باہر سے نہیں آتی وہ اسی زندگی کی ایک خاصیت ہے جو ابھر کر سامنے آجاتی ہے
تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد بھوک لگنا پیاس لگنا تھکن کا احساس ہونا ، سُستی طاری ہونا اعضا کا مضمحل ہو جانا سردی لگنا گرمی لگنا اضطراب محسوس ہونا درد ہونا وغیرہ یہ سب مرنے کا عمل ہے جو شروع ہو جاتا ہے اور زندہ رہنا اسی کو کہتے ہیں کہ ہم مسلسل صبح تا شام اور شام تا صبح اس عمل کو روکتے اور اس کا تدارک کرتے رہتے ہیں گویا موت ہزار راستوں سے ہماری طرف بڑھتی ہے اور ہم مسلسل اسے دفع کرتے رہتے ہیں اسی کیفیت میں زندگی آگے بڑھتی ہے اور جب ہم دفع نہیں کر پاتے تو موت زندگی پر غالب آجاتی ہے
ہماری زندگی ہمیشہ موت کی طرف مائل رہتی ہے جیسے وہ اس کی منزل ہو شاید اسی لئے قرآنِ مجید میں موت کی تخلیق کا ذکر حیات سے پہلے آیا ہے (خلق الموت و الحیاة ۔۔۔ سورة الملک) کیونکہ ہدف یا منزل پہلے ہوتی ہے اور پھر اس کی طرف رخ کیا جاتا ہے موت کے ساتھ ہماری حیات کا رشتہ اتنا مضبوط ہے کہ جب تک ہم اپنے روز مرہ کا ایک بڑا حصہ "جزوی موت" (یعنی نیند) سے ہمکنار نہ ہو جائیں اس وقت تک نئی طاقت و توانائی حاصل نہیں ہوتی گویا موت سے حیات حاصل ہوتی اور قوت پکڑتی ہے یہ بہت عجیب و غریب تعلق ہے یہ سب اس بات کے شواہد ہیں کہ زندگی موت سے مرکب ہے ۔
خالص حیات کا تجربہ اِس دنیا میں مشکل ہے یہاں موت و حیات آپس میں مخلوط ہیں انہیں باہم شِیر و شکر سمجھئے یا دست و گریباں یہ آپ کی مرضی مگر ایک کے بغیر دوسرے کا تصور ممکن نہیں خالص حیات وہ ہوتی ہے جب زندگی موت سے مرکب نہ ہو نہ موت کی طرف مائل ہو جب وہ وجود کا جزوِ لا ینفک ہو جب زندگی کے لئے جتن نہ کرنے پڑتے ہوں جب جسم رو بہ زوال نہ ہو اور قلب و روح میں اضطراب نہ ہو مادی و معنوی نعمتوں کو بھی اندیشہء زوال نہ ہو جب کھانا اور پینا بھوک اور پیاس اور زندگی برقرار رکھنے کی وجہ سے نہ ہو بلکہ لذتِ کام و دہن کے لئے ہو ایسی خالص حیات تو جنت ہی میں میسر ہو گی ، جس کی نعمتوں کے بارے میں کہا گیا ہے "لا مقطوعة و لا ممنوعة" وہی حیاتِ خالص ہے یعنی زندگیءِ جاوید "ھم فیھا خالدون" ۔