04/03/2026
مسلمانوں کا سارا فوکس ساری توجہ بس عمروں تک ھی رہ گٸی ھے۔۔ کہ کروڑوں کی تعداد میں جاکر رکارڈ بنارھے ھیں , اور پبلک موبائل فون پرتصاویر اور ویڈیوز بناتے نظر آتے ھیں , اور لاٸیو ویڈیوز بناکر گھروالوں اور دوستوں کو بتارھے ھوتے ھیں کہ ھم طواف کررھے ھیں اور اب مدینہ پہنچ گٸے ھیں اور پھر روضہء رسول پر پنہچکر لاٸیو ویڈیو کال کے زریعے گھر والوں کا سلام پیش کررھے ھوتے ھیں۔۔خوشوع خضوع یا تقوٰی کا تو شاٸبہ تک نظر نہیں آتا۔۔ یعنی دینی تعلیمات کا رنگ دیکھنے کو نہیں ملتا۔۔
سواۓ چند لوگوں کے کہ جنکی آنکھوں میں آنسو اور ندامت نظر آتی ھے۔۔
لیکن عمرہ اور حج کی جو کیفیت اور صورتحال ھے اسے دیکھ کر دکھ اور افسوس ھی ھوتا ھے۔۔ کہ ان دونوں مواقعوں پر ھم مسلمانوں کی جو کیفیت ھوتی ھے وہ بس۔۔ الامان الحفیظ۔۔
نہ اس دوران تقوٰی نظر آتا ھے نہ خوف خدا۔۔ ۔کہ نہ صبر نہ ایثار نہ خیر خواھی۔۔
رویوں میں ایک عجیب شیطانیت , نفسا نفسی دیکھنے کو ملتی ھے۔۔ کہ جہاز میں سوار ھونے سے لیکر اترنے اور پھر بسوں میں چڑھنے اترنے اور پھر لفٹس میں داخل ھونے پر بے صبری پھر حرمین شریفین میں بیٹھنے اور جگہ پر تنگدلی اور منہ نبانا ناگواری کا اظہار اور حرم جانے اور واپس ھوٹل آنے کے لٸے بسوں پر چڑھنے میں ایک جدال کی کیفیت۔۔۔
ھوٹلز میں کھانا لیتے ھوۓ بھی نہ اپنی باری کا انتظار نہ دوسرے کے حق کا لحاظ ۔۔
یہی کیفیت ھجر اسود کے مقام پر بوسے کی جدوجہد کا حال۔۔ کہ وھاں جنت کے حصول کے لٸے ایکدوسرے کو دھکے دینا اور اس سے بد تر صورتحال عورتوں کے ھجر اسود کو بوسے کی ھوتی ھے کہ جتنی بے حرمتی اس مقام پر صرف بوسے کے لٸے ھوتی ھے ایسی بے حرمتی کسی عام مقام پر نہیں ھوتی۔۔ کہ کسی کا دوپٹہ کسی کی چادر اتر کر گر جاتی ھے اور کتنی ھی عورتیں مردوں کے درمیان پس کر رہ جاتی ھیں واپسی کا رستہ بھی نہیں ملتا بعض اوقات تو مرد اپنے ھاتھوں سے اٹھاکر کندھوں کے اوپر سے باھر نکال کر پھینکتے ھیں۔۔ اور جب بوسے کی اس خوفناک اور شرمناک صورتحال سے باھر نکل کر آتی ھیں تو انکی طرف دیکھا نہیں جاتا۔۔ اتنی بری حالت ھوتی ھے۔۔ یہ ھے جنت کے حصول کا طریقہ۔۔
نجانے اس موقعے پر نبٸی مکرم کی وہ سننت کیوں بھول جاتے ھیں جو آپ نے حجة الوداع کے موقعے پر اختیا ر کی تھی اور امت کو یہ بتایا تھا کہ ھجوم زیادہ ھو تو اسطرح استلام کرلینا۔۔
(میرا مقصد محض تنقید نہیں یہ میرا کٸی سالوں کا تلخ مشاھدہ ھے۔)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، وَيَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قال : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قال : طَافَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ تَابَعَهُ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ .
نبی کریم ﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر اپنی اونٹنی پر طواف کیا تھا اور آپ حجر اسود کا استلام ایک چھڑی کے ذریعہ کر رہے تھے اور اس چھڑی کو چومتے تھے ۔ اور یونس کے ساتھ اس حدیث کو دراوردی نے زہری کے بھتیجے سے روایت کیا اور انہوں نے اپنے چچا ( زہری ) سے ۔
Sahih Bukhari #1607
کتاب حج کے مسائل کا بیان
Status: صحیح
یہی حال روضہء رسول اور ریاض الجنة کی حاضری کا ھے۔۔ گو کہ وھاں اب کافی منظم اور بہتر ھو گیا ھے ۔۔
یہ تو عمرے اور حج کا مختصر احوال۔۔
اسکے بعد ملک میں آکر وھی پرانا حال۔۔ کہ نمازوں میں غفلت,جھوٹ مکر و فریب کاروبار میں بے ایمانی ملاوٹ گالم گلوچ لڑاٸی جھگڑے خاندانی نا چاقیاں قطعہ تعلق ,ناجائز مال کی ھوس وراثت کے معاملات میں بد دیانتی۔۔
یعنی اتنے کثیر تعداد میں حج و عمروں کے باوجود ھماری عملی زندگی میں کوٸی تبدیلی واقع نہیں ھورھی۔۔ کیونکہ اب ھماری اکثریت کی یہ عبادات دکھاوے یعنی ریاکاری بن کے رہ گٸی ھیں۔۔
تحریر ، نامعلوم