Dr. M. Ashraf Ali

Dr. M. Ashraf Ali Quran Ayat ka Tarjuma Rozana Sobha Sobha.

15/10/2026

ہر کافرکےلےعلیحدہ نشانی نہیں

14/10/2026

رحمت کی امید پر گناہ کرنا کیسا؟

13/10/2026

اللّٰہ تعالیٰ کے وجود کے دلائل

12/10/2026

11/10/2026

سورہ رعد کا تعارف،وجہ تسمیہ اور فضیلت مرنے والے کے لیے

10/10/2026

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ﳓ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا(79)

ترجمۂ کنز الایمان

اور رات کے کچھ حصہ میں تہجد کرو یہ خاص تمہارے لیے زیادہ ہے قریب ہے کہ تمہیں تمہارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمہاری حمد کریں ۔

تفسیر صراط الجنان

{وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ:اور رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھو ۔} نمازِ تہجد سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر فرض تھی، جمہور کا یہی قول ہے جبکہ حضورِاکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اُمت کے لئے یہ نماز سنت ہے۔( خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۷۹، ۳ / ۱۸۵-۱۸۶، خزائن العرفان، بنی اسرائیل، تحت الآیۃ: ۷۹، ص۵۴۱، ملتقطاً)

تہجد کے فضائل:

اِس آیت میں تہجد کا بطورِ خاص ذکر فرمایا گیا ہے، اس مناسبت سے نمازِ تہجد کی فضیلت پر مشتمل5اَحادیث درج ذیل ہیں ۔

(1)…حضرت ابو امامہ باہلی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’رات میں قیام کو اپنے اوپر لازم کر لو کہ یہ اگلے نیک لوگوں کا طریقہ ہے اور تمہارے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف قربت کا ذریعہ اور گناہوں کو مٹانے والا اور گناہ سے روکنے والا ہے۔( ترمذی، کتاب الدعوات، باب فی دعاء النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ۵ / ۳۲۳ الحدیث: ۳۵۶۰)

(2)…حضرت اسماء بنتِ یزید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسے روایت ہے ،حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’قیامت کے دن لوگ ایک میدان میں جمع کیے جائیں گے، اس وقت منادی پکارے گا، کہاں ہیں وہ جن کی کروٹیں خواب گاہوں سے جدا ہوتی تھیں ؟ وہ لوگ کھڑے ہوں گے اور تھوڑے ہوں گے یہ جنت میں بغیر حساب داخل ہوں گے پھر اور لوگوں کے لیے حساب کا حکم ہوگا۔( شعب الایمان، باب الحادی والعشرون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، تحسین الصلاۃ والاکثار منہا لیلاً ونہاراً۔۔۔ الخ، ۳ / ۱۶۹، الحدیث: ۳۲۴۴)

(3)…حضرت عبداللّٰہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے، حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’جنت میں ایک بالا خانہ ہے کہ باہر کا اندر سے دکھائی دیتا ہے اور اندر کا باہر سے۔ حضرت ابو مالک اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی، یا رسولَ اللّٰہ !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، وہ کس کے لیے ہے؟ ارشاد فرمایا ’’اُس کے لیے جو اچھی بات کرے اور کھانا کھلائے اور رات میں قیام کرے جب لوگ سوتے ہوں ۔( مستدرک، من کتاب صلاۃ التطوّع، صلاۃ الحاجۃ، ۱ / ۶۳۱، الحدیث: ۱۲۴۰)

(4)…حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جوشخص رات میں بیدار ہواور اپنے اہلِ خانہ کو جگائے پھر دونوں دو دو رکعت پڑھیں تو کثرت سے یاد کرنے والوں میں لکھے جائیں گے۔(مستدرک، من کتاب صلاۃ التطوّع، تودیع المنزل برکعتین، ۱ / ۶۲۴، الحدیث: ۱۲۳۰)

(5)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں’’میں نے عرض کی :یا رسولَ اللّٰہ!صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، مجھے کوئی ایسا کام ارشاد فرمائیے جسے میں اختیار کرو ں تو جنت میں داخل ہو جاؤں ۔ ارشاد فرمایا ’’سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، رشتہ داروں سے نیک سلوک کرو، رات میں نماز پڑھو جب لوگ سوتے ہوں توسلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔( مستدرک، کتاب الاطعمۃ، فضیلۃ اطعام الطعام، ۵ / ۱۷۹، الحدیث: ۷۲۵۶)

تہجد سے متعلق چند مسائل:

یہاں نمازِ تہجد کے بارے میں چند شرعی مسائل یاد رکھیں :

(1)…صَلَاۃُ اللَّیْل کی ایک قسم تہجد ہے کہ عشا کی نماز کے بعد رات میں سو کر اُٹھیں اور نوافل پڑھیں ، سونے سے قبل جو کچھ پڑھیں وہ تہجد نہیں ۔

(2)…تہجد نفل کا نام ہے اگر کوئی عشا کے بعد سو گیا پھر اٹھ کر قضا نماز پڑھی تو اُس کو تہجد نہ کہیں گے۔

(3)…کم سے کم تہجد کی دو رکعتیں ہیں اور حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے آٹھ تک ثابت ہیں ۔

(4)…جو شخص تہجد کا عادی ہو بلا عذر اُسے تہجد چھوڑنا مکروہ ہے کہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت عبداللّٰہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے ارشاد فرمایا: ’’اے عبداللّٰہ! رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ، تو فلاں کی طرح نہ ہونا کہ رات میں اُٹھا کرتا تھا پھر چھوڑ دیا۔( بخاری، کتاب التہجد، باب ما یکرہ من ترک قیام اللیل لمن کان یقومہ، ۱ / ۳۹۰، الحدیث: ۱۱۵۲)

{عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا:قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو ایسے مقام پر فائز فرمائے گا کہ جہاں سب تمہاری حمد کریں ۔} آیت میں مقامِ محمود کا ذکر ہے اور مقامِ محمود مقامِ شفاعت ہے کہ اس میں اوّلین و آخرین حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی حمد کریں گے، جیساکہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے عرض کی گئی :مقامِ محمود کیا چیز ہے؟ ارشاد فرمایا ’’وہ شفاعت ہے۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ بنی اسرائیل، ۵ / ۹۳، الحدیث: ۳۱۴۸)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فتاویٰ رضویہ میں ایک مقام پر یہ آیت اور مختلف کتب سے اوپر بیان کردہ حدیث پاک ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں’’اور شفاعت کی حدیثیں خود متواتر ومشہور اور صحاح وغیرہ میں مروی ومسطور ۔ اس دن آدم صفی اللّٰہ سے عیسیٰ کلمۃ اللّٰہ تک سب انبیاء اللّٰہ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نفسی نفسی فرمائیں گے اور حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ’’اَنَا لَھَا اَنَا لَھَا ‘‘میں ہوں شفاعت کے لئے ، میں ہوں شفاعت کے لئے (فرمائیں گے) انبیاء ومرسلین وملائکہ مقربین سب ساکت ہوں گے اور وہ متکلم ،سب سربگریبان ، وہ ساجد وقائم، سب محلِ خوف میں ، وہ آمن وناہم (یعنی خود امن میں اور امت کے امن کے خواہش مند)، سب اپنی فکر میں ، انہیں فکر ِعوالم ،سب زیرِ حکومت، وہ مالک وحاکم، بارگاہِ الٰہی میں سجدہ کرینگے ، ان کا رب انہیں فرمائے گا ’’یَا مُحَمَّدْ اِرْفَعْ رَأْسَکَ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَہْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ‘‘ اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ اور عرض کرو کہ تمہاری عرض سنی جائے گی، اور مانگو کہ تمہیں عطاہوگا ، اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول ہے ۔ اس وقت اولین وآخرین میں حضور(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) کی حمد وثناء کا غلغلہ پڑ جائے گا اور دوست ، دشمن ، موافق ، مخالف، ہر شخص حضور(صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ)کی افضلیت ِکُبریٰ وسیادتِ عظمیٰ پر ایمان لائے گا۔(فتاوی رضویہ، ۳۰ / ۱۷۰-۱۷۱)

حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے وسیلہ اور مقامِ محمود کی دعا مانگنے کی فضیلت:

حضرت جابر بن عبداللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو اذان سن کر یہ دعا کرے ’’اَللّٰہُمَّ رَبَّ ہَذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ وَالصَّلَاۃِ الْقَائِمَۃِ اٰتِ مُحَمَّدَانِ الْوَسِیلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدَانِ الَّذِیْ وَعَدْتَّہٗ‘‘یعنی اے اللّٰہ ! اس کامل دعوت اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمد مصطفٰی کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں مقامِ محمود پر کھڑے کرنا جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے۔‘‘ تو اس کے لئے قیامت کے دن میری شفاعت حلال ہو گئی۔( بخاری، کتاب الاذان، باب الدعاء عند النداء، ۱ / ۲۲۴، الحدیث: ۶۱۴)

اور مسلم شریف کی روایت میں اس دعا کے پڑھنے سے پہلے درود پڑھنے کا بھی فرمایا گیا ہے۔( مسلم، کتاب الصلاۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذّن لمن سمعہ ثمّ صلّی علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔۔۔ الخ،ص۲۰۳، الحدیث: ۱۱(۳۸۴))

یاد رہے کہ اللّٰہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یقینی طور پر وسیلہ اور مقامِ محمود عطا فرمائے گا ، چاہے مسلمان نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے لئے اس کی دعا کریں یا نہ کریں کیونکہ یہ اللّٰہ تعالیٰ کا اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے وعدہ ہے اور اللّٰہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں فرماتا، البتہ مسلمانوں کو اس کی دعا مانگنے کی جو ترغیب دی گئی ہے وہ اس لئے ہے کہ اس میں ان کا اپنا عظیم فائدہ ہے کہ اس عمل کے ذریعے انہیں سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شفاعت نصیب ہو گی۔

09/10/2026

https://youtu.be/6kXKRdPNQBM?si=wiopaD5XDa4zfhhy
لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِؕ-مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰـكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ (111)

ترجمۂ کنز الایمان

بے شک ان کی خبروں سے عقل مندوں کی آنکھیں کھلتی ہیں یہ کوئی بناوٹ کی بات نہیں لیکن اپنے سے اگلے کاموں کی تصدیق ہے اور ہر چیز کا مفصل بیان اور مسلمانوں کے لیے ہدایت و رحمت۔

تفسیر صراط الجنان

{لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ:بیشک ان رسولوں کی خبروں میں ۔} یعنی بے شک انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اور ان کی قوموں کی خبروں میں عقل مندوں کیلئے عبرت ہے جیسے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعہ سے بڑے بڑے نتائج نکلتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ صبر کا نتیجہ سلامت و کرامت ہے اور ایذا رسانی و بدخواہی کا انجام ندامت ہے اور اللّٰہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنے والا کامیاب ہوتا ہے ۔ بندے کوسختیوں کے پیش آنے سے مایوس نہ ہونا چاہئے ،ر حمت ِالٰہی دست گیری کرے تو کسی کی بد خواہی کچھ نہیں کرسکتی۔ اس کے بعد قرآنِ پاک کے بارے ارشاد ہوتا ہے کہ یہ قرآن کوئی ایسی بات نہیں کہ جسے کسی انسان نے اپنی طرف سے بنالیا ہو کیونکہ اس کا عاجز کر دینے والا ہونا اس کے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کو قطعی طور پر ثابت کرتا ہے البتہ یہ قرآن اللّٰہ تعالیٰ کی کتابوں توریت اور انجیل کی تصدیق کرنے والا ہے اور قرآن میں حلال، حرام، حدود و تعزیرات، واقعات، نصیحتوں اور مثالوں وغیرہ ہر چیز کا مفصل بیان ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے کیونکہ وہی اس سے نفع حاصل کرتے ہیں ۔ (مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۱۱، ص۵۴۸، خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۱۱، ۳ / ۵۰-۵۱، ملتقطاً)
https://vt.tiktok.com/ZSbs3X2cV/

07/10/2026

Rozana quran ka tarjuma

06/10/2026


وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ(103)وَ مَا تَسْــٴَـلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍؕ-اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ (104)

ترجمۂ کنز الایمان

اور اکثر آدمی تم کتنا ہی چاہو ایمان نہ لائیں گے۔ اور تم اس پر ان سے کچھ اجرت نہیں مانگتے یہ تو نہیں مگر سارے جہان کو نصیحت۔

تفسیر صراط الجنان

{اَكْثَرُ النَّاسِ:اکثر لوگ ۔} یہودیوں اور کفارِ قریش نے سرورِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قصہ دریافت کیا تھا، جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسی طرح حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قصہ ان کے سامنے بیان کر دیا جیسا تورات میں لکھاتھا تو بھی وہ ایمان نہ لائے، ان کے ایمان قبول نہ کرنے کی وجہ سے حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو بہت دکھ ہوا تو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے اگرچہ آپ کو ان کے ایمان کی کتنی ہی خواہش ہو۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۳، ۳ / ۴۸)
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ(105)وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ(106)

ترجمۂ کنز الایمان

اور کتنی نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں کہ لوگ ان پر گزرتے ہیں اور ان سے بے خبر رہتے ہیں ۔ اور ان میں اکثر وہ ہیں کہ اللہ پر یقین نہیں لاتے مگر شرک کرتے ہوئے۔

تفسیر صراط الجنان

{وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ:اور کتنی نشانیاں ہیں ۔} آسمانی نشانیوں سے مراد اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کی قوت و قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیاں یعنی آسمان کا وجود، سورج، چاند اور ستارے ہیں اور زمینی نشانیوں سے ہلاک شدہ امتوں کے آثار مراد ہیں ۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ان لوگوں کے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے منہ موڑنے پر آپ تعجب نہ کریں کیونکہ ان لوگوں کا اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیوں کا مشاہدہ کرنے کے باوجود ان سے منہ پھیرلینا اور غورو فکر کر کے عبرت حاصل نہ کرنازیادہ عجیب ہے۔ (مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ص۵۴۷، صاوی، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ۳ / ۹۸۴، ملتقطاً)

{وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ:اور ان میں اکثر وہ ہیں جو اللّٰہ پر یقین نہیں کرتے۔} جمہور مفسرین کے نزدیک یہ آیت مشرکین کے رد میں نازل ہوئی کیونکہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے خالق اور رازق ہونے کا اقرار کرنے کے باوجود بت پرستی کرکے غیروں کو عبادت میں اللّٰہ تعالیٰ کا شریک کرتے تھے۔ (مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ص۵۴۷)

Address

فیضان مدینہ سٹی، نزد حیدری کالونی عدالت علی شاہ روڈ چوہنگ لاہور
Lahore
53800

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. M. Ashraf Ali posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share