Al Kahf Rohani Center

Al Kahf Rohani Center روحانیت، قرآن، اور سنت کے نورانی پیغام کو عام کرنے کے لیے وقف۔ ذکرِ الٰہی، علم، اور سکونِ قلب کے لیے ہمارے ساتھ جُڑیں!

13/12/2025

ھُوَ الشَّافِی

سونف + اجوائن دیسی + کلونجی + میتھی دانہ
(چاروں کو برابر مقدار میں ملا لیں، یہ تو آپ کے کچن میں برسوں سے موجود تھیں نا؟)

مکمل طاقتور نسخہ (۱۲ تا ۱۵ دن میں کمال)

رات کو سوتے وقت بس اتنا کرنا ہے:

سونف → ایک چٹکی
اجوائن دیسی → ایک چٹکی
کلونجی → ایک چٹکی
میتھی دانہ کو پیس کر چورن بنا لیں → ایک چٹکی

چاروں کو ملا کر ایک چھوٹا چمچ (نیم چٹکی سے تھوڑا زیادہ) بنا لیں۔
ایک گلاس ہلکا گرم پانی لیں، اس میں یہ چورن ڈال کر اچھی طرح ہلائیں اور آہستہ آہستہ پی لیں۔

(چبا کر بھی کھا سکتے ہیں، مگر پانی کے ساتھ زیادہ فائدہ ہوتا ہے)

بس ۱۲ سے ۱۵ دن لگاتار استعمال کریں، پھر دیکھیں کمال:

جوڑوں کا درد، کمر درد، گھٹنوں کا درد جیسے کبھی تھا ہی نہیں

ہاتھ پاؤں کی جلن، سن ہونا، سوئیاں چبھنے کا احساس ختم

رات کو ایسی نیند آئے کہ الارم بھی ناراض ہو جائے

گردے صاف، پتھری ٹوٹ ٹوٹ کر نکلے

پیشاب کی جلن، بار بار جانا، بدبو سب غائب

مردانہ طاقت میں ایسا اضافہ کہ گھر والے کہیں: “واہ بھائی! کیا بات ہے”

صبح اٹھیں تو جسم میں ایسی ہلکا پن ہو جیسے پر لگ گئے ہوں

یہ نسخہ پرانے بزرگوں، حکیموں اور لاکھوں گھروں میں آزمایا ہوا ہے،
کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں، بالکل مفت—بس لگاتار ۱۵ دن کریں۔

جو لوگ ابھی سے شروع کر رہے ہیں، آج رات ہی سے کریں،
کل آ کر ضرور بتائیں کیا فرق پڑا۔

شیئر ضرور کریں، ممکن ہے کسی کا بھلا ہو جائے، ان شاء اللہ۔

11/04/2025

*Eshaa Salah reminder*

اپنےنفس اور لوگوں کوخوش کرنےکیلئےکبھی بھی اپنےرب کوناراض مت کرو !

جس دنیا کو اور جس کےلوگوں کو خوش کرنے کیلئے تم اپنے رب کو ناراض کرتےھو
وہ تمہیں زیادہ سےزیادہ
قبرستان میں پنہچاکر
اپنے ہاتھ جھاڑ کر واپس آجائے گی۔
پھر تم ایسےھوجاؤگے جیسے
دنیامیں کبھی بستے ھی نہیں تھے!
ذرا سوچو !

لوگ اپنےماں باپ اور بچوں کو... دفن کرکے بھول جاتےھیں

تم کیاچیزھو !
اپنے اللّٰه سےمحبت کرو ، اسکی محبت اور عظمت سےاپنےدلوں کوروشن اورمعطررکھو!

کیونکہ اسکی رحمت تمہیں کسی بھی جہان میں بےآسرااور اکیلا نہیں چھوڑے گا۔

عثمان عطاری قادری نوشاہی شاذلی

شب بخیر پیارے لوگو

تہجد کا الارم لگا لیں دعاؤں میں یاد رکھیئے گا فی امان اللّٰہ

07/04/2025

بادشاہ کو نصحیت

ملکِ کندہ کا بادشاہ بڑا عیاش تھا۔ ہر لمحہ عیش و عشرت میں گزارتا ایک دفعہ وہ شکار کے لیے محل سے نکلا لیکن جنگل میں اپنے لشکر سے جدا ہو گیا۔
جنگل میں چلتے چلتے اس نے ایک شخص کو دیکھا جو مردوں کی ہڈیوں سے کھیل رہا تھا۔
بادشاہ اس شخص کے قریب گیا اور اس سے کہا: اے اللہ کے بندے ! تیرے چہرے کا رنگ زرد ہو رہا ہے اور عجیب حالت تو نے اپنی بنا رکھی ہے اور تنِ تنہا اس جنگل میں بیٹھا ہوا ہے۔
اس شخص نے کہا:
بھائی کیا پوچھتے ہو میں دور کا مسافر ہوں اور مجھے دو سپاہی ایسے گھر کی طرف دھکیلتے جارہے ہیں جس گھر میں نہ کوئی ساتھی اور نہ کوئی آرام کے اسباب نہایت ہی ویرانہ اور سخت تاریک ماحول ، گہرا گڑھا کیڑے مکوڑوں کا ہجوم ہو گا ہڈیاں چور چور ہو جائیں گی اور مجھے نہیں معلوم کہ میرا حشر سعیدوں میں ہو گا یا بدبختوں میں ۔
پھر مجھے اس گھر سے نکال کر میدان محشر میں لے جایا جائے گا پھر مجھ سے زندگی کے بارے میں سوالات ہوں گے میرے گناہوں اور جرائم کی سزا مجھے سنائی جائے گی۔
اب آپ ہی بتائیے جو اس حال میں ہو اس کو سکون و قرار کیسے آسکتا ہے
بادشاہ اس کی گفتگو سے بڑا متاثر ہوا گھوڑے سے نیچے اتر کر آیا اور کہا:
آپ کی باتوں سے میرے رونگھٹے کھڑے ہو گئے ہیں اور میرے دل پر ان کا بڑا گہرا اثر ہوا ہے براہ کرم ! کچھ اور نصیحت کیجئے۔
اس شخص نے کہا کہ تمہیں معلوم ہے کہ یہ ہڈیاں کیسی ہیں؟
بادشاہ نے کہا کہ فرمائیے۔
اس شخص نے کہا کہ یہ ان بادشاہوں کی ہڈیاں ہیں جنہیں دنیا نے دھوکہ دیا اور اس کی رونقوں کے فریب میں آگئے اور ان کے دلوں کو دنیا نے رنگینی میں پھنسادیا اور موت کے جھٹکوں کو بالکل فراموش کر بیٹھے یہاں تک کہ ان پر موت نے حملہ کر دیا جس سے ان کی تمام آرزوئیں اور خواہشیں خاک میں مِل گئیں اور ان کی تمام شان و شوکت ملیامیٹ ہو گئی۔
اب کچھ روز کے بعد ان ہڈیوں کو دوبارہ جسم ملیں گے اور پھر ان سے انہی نعمتوں کا حساب ہو گا پھر انہیں انکے اعمال کے مطابق جنت یا جہنم آخری ٹھکانہ دیا جائے گا۔
یہ کہہ کر وہ شخص بادشاہ کی نظروں سے اوجھل ہو گیا اس کے بعد بادشاہ اپنے ساتھیوں سے مل گیا لیکن اس حال میں کہ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

اس کے بعد اس نے بادشاہت کو ترک کر دیا اور اللہ تعالٰی نے اسے ولایت کے مقام و مرتبہ سے نوازا۔
(بحوالہ:سنہری حکایات للاسماعیل بدایونی)

پیغامِ حکایت:

دنیا کی چمک دمک، بادشاہت، عیش و عشرت سب عارضی ہیں۔ انسان کو آخرکار ایک ایسے گھر (قبر) کا سامنا کرنا ہے جہاں نہ کوئی ساتھی ہوگا نہ سہولت، اور جہاں کے بعد ایک عظیم دن کا انتظار ہے — یومِ حساب۔
ایک درویش کی سچی باتیں ایک عیاش بادشاہ کو رُلا گئیں، حتیٰ کہ اس نے تخت و تاج کو خیر باد کہہ کر اللہ کی راہ اختیار کر لی۔
یہ حکایت ہمیں جھنجھوڑ کر یاد دلاتی ہے کہ:
“جو کل کی فکر کرتا ہے، وہ آج کی فریب دہ رنگینیوں میں نہیں کھوتا۔”
آئیے ہم بھی اپنے دل کے تخت سے دنیا کی محبت کو اتار کر، آخرت کی تیاری کو اپنا مقصد بنا لیں۔
کیونکہ اصل بادشاہی وہی ہے جو قبر میں سکون اور میدانِ محشر میں کامیابی دے

06/04/2025

*اصحابِ کہف کا واقعہ:*
مفسرین کے بیان کے مطابق اصحابِ کہف اُفْسُوس نامی ایک شہر کے شُرفاء و معززین میں سے ایماندار لوگ تھے۔ ان کے زمانے میں دقیانوس نامی ایک بڑا جابر بادشاہ تھا جو لوگوں کو بت پرستی پر مجبور کرتا اورجو شخص بھی بت پرستی پر راضی نہ ہوتا اسے قتل کر ڈالتا تھا۔ دقیانوس بادشاہ کے جَبر و ظلم سے اپنا ایمان بچانے کے لئے اصحابِ کہف بھاگے اور قریب کے پہاڑ میں غار کے اندر پناہ گزین ہوئے، وہاں سوگئے اور تین سوبرس سے زیادہ عرصہ تک اسی حال میں رہے ۔ بادشاہ کو جستجو سے معلوم ہوا کہ وہ ایک غار کے اندر ہیں تو اس نے حکم دیا کہ غار کو ایک سنگین دیوار کھینچ کر بند کردیا جائے تاکہ وہ اس میں مر کر رہ جائیں اور وہ ان کی قبر ہوجائے، یہی ان کی سزا ہے۔ حکومتی عملے میں سے یہ کام جس کے سپرد کیا گیا وہ نیک آدمی تھا، اس نے ان اصحاب کے نام، تعداد اور پورا واقعہ رانگ کی تختی پرکَنْدَہ کرا کرتا نبے کے صندوق میں دیوار کی بنیا د کے اندر محفوظ کردیا اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اسی طرح ایک تختی شاہی خزانہ میں بھی محفوظ کرا دی گئی۔ کچھ عرصہ بعد دقیانوس ہلاک ہوا ، زمانے گزرے ، سلطنتیں بدلیں یہاں تک کہ ایک نیک بادشاہ فرمانروا ہوا جس کا نام بیدروس تھا اور اس نے 68 سال حکومت کی ۔ اس کے دورِ حکومت میں ملک میں فرقہ بندی پیدا ہوئی اور بعض لوگ مرنے کے بعد اٹھنے اور قیامت آنے کے منکر ہوگئے ۔ بادشاہ ایک تنہا مکان میں بند ہوگیا اور اس نے گریہ وزاری سے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ یارب! کوئی ایسی نشانی ظاہر فرما جس سے مخلوق کو مُردوں کے اٹھنے اور قیامت آنے کا یقین حاصل ہو جائے۔ اسی زمانہ میں ایک شخص نے اپنی بکریوں کے لئے آرام کی جگہ حاصل کرنے کے واسطے اسی غار کو تجویز کیا اور (کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر) دیوار کوگرا دیا۔ دیوار گرنے کے بعد کچھ ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ گرانے والے بھاگ گئے ۔ اصحابِ کہف اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے فرحاں و شاداں اُٹھے ، چہرے شگفتہ ،طبیعتیں خوش ، زندگی کی ترو تازگی موجود۔ ایک نے دوسرے کو سلام کیا اور نماز کے لئے کھڑے ہوگئے ، نماز سے فارغ ہو کر یملیخاسے کہا کہ آپ جائیے اور بازار سے کچھ کھانے کو بھی لائیے اور یہ بھی خبر لائیے کہ دقیانوس بادشاہ کا ہم لوگوں کے بارے میں کیا ارادہ ہے۔ وہ بازار گئے تو انہوں نے شہر پناہ کے دروازے پر اسلامی علامت دیکھی اور وہاں نئے نئے لوگ پائے، یہ دیکھ کر انہیں تعجب ہوا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ کل تک تو کوئی شخص اپنا ایمان ظاہر نہیں کرسکتا تھا جبکہ آج اسلامی علامتیں شہر پناہ پر ظاہر ہیں ۔ پھر کچھ دیر بعد آپ تندور والے کی دوکان پر گئے اور کھانا خریدنے کے لئے اسے دقیانوسی سکے کا روپیہ دیا جس کارواج صدیوں سے ختم ہوگیا تھا اور اسے دیکھنے والا بھی کوئی باقی نہ رہا تھا۔ بازار والوں نے خیال کیا کہ کوئی پرانا خزانہ ان کے ہاتھ آگیا ہے، چنانچہ وہ انہیں پکڑ کر حاکم کے پاس لے گئے، وہ نیک شخص تھا ،اس نے بھی ان سے دریافت کیا کہ خزانہ کہاں ہے؟ انہوں نے کہا خزانہ کہیں نہیں ہے۔ یہ روپیہ ہمارا اپنا ہے۔ حاکم نے کہا :یہ بات کسی طرح قابلِ یقین نہیں ، کیونکہ اس میں جو سال لکھا ہوا ہے وہ تین سو برس سے زیادہ کا ہے اور آپ نوجوان ہیں ،ہم لوگ بوڑھے ہیں ، ہم نے تو کبھی یہ سکہ دیکھا ہی نہیں ۔ آپ نے فرمایا: میں جو دریافت کروں وہ ٹھیک ٹھیک بتاؤ تو عُقدہ حل ہوجائے گا۔ یہ بتاؤ کہ دقیانوس بادشاہ کس حال وخیال میں ہے ؟ حاکم نے کہا، آج روئے زمین پر اس نام کا کوئی بادشاہ نہیں ، سینکڑوں برس پہلے ایک بے ایمان بادشاہ اس نام کا گزرا ہے۔ آپ نے فرمایا: کل ہی تو ہم اس کے خوف سے جان بچا کر بھاگے ہیں اور میرے ساتھی قریب کے پہاڑ میں ایک غار کے اندر پناہ گزین ہیں ، چلو میں تمہیں ان سے ملادوں ، حاکم اور شہر کے سردار اور ایک کثیر مخلوق ان کے ہمراہ غار کے کنارے پہنچ گئے۔ اصحابِ کہف یملیخا کے انتظار میں تھے ، جب انہوں نے کثیر لوگوں کے آنے کی آواز سنی تو سمجھے کہ یملیخا پکڑے گئے اور دقیانوسی فوج ہماری جستجو میں آرہی ہے۔ چنانچہ وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حمدمیں مشغول ہوگئے۔ اتنے میں شہر کے لوگ پہنچ گئے اور یملیخا نے بقیہ حضرات کو تمام قصہ سنایا، ان حضرات نے سمجھ لیا کہ ہم اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے اتنا طویل زمانہ سوئے رہے اور اب اس لئے اٹھائے گئے ہیں کہ لوگوں کے لئے موت کے بعد زندہ کئے جانے کی دلیل اور نشانی بنیں ۔ جب حاکمِ شہر غار کے کنارے پہنچا تو اس نے تانبے کا صندوق دیکھا ، اس کو کھلوایا تو تختی برآمد ہوئی، اس تختی میں اُن اصحاب کے اَسماء اور اُن کے کتے کا نام لکھا تھا ، یہ بھی لکھا تھا کہ یہ جماعت اپنے دین کی حفاظت کے لئے دقیانوس کے ڈر سے اس غار میں پناہ گزین ہوئی، دقیانوس نے خبر پا کر ایک دیوار سے انہیں غار میں بند کردینے کا حکم دیا ، ہم یہ حال اس لئے لکھتے ہیں تاکہ جب کبھی یہ غار کھلے تو لوگ ان کے حال پر مطلع ہوجائیں ۔ یہ تختی پڑھ کر سب کو تعجب ہوا اور لوگ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد و ثناء بجالائے کہ اس نے ایسی نشانی ظاہر فرمادی جس سے موت کے بعد اٹھنے کا یقین حاصل ہوتا ہے۔ حاکمِ شہرنے اپنے بادشاہ بید روس کو واقعہ کی اطلاع دی ، چنانچہ بادشاہ بھی بقیہ معززین اور سرداروں کو لے کر حاضر ہوا اور شکرِ الٰہی کا سجدہ بجا لایا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول کی ۔اصحاب ِکہف نے بادشاہ سے مُعانقہ کیا اور فرمایا ہم تمہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کرتے ہیں ۔ والسلام علیک ورحمۃ اللّٰہ وبرکا تہ ،اللّٰہ تعالیٰ تیری اور تیرے ملک کی حفاظت فرمائے اور جن و اِنس کے شر سے بچائے ۔بادشاہ کھڑا ہی تھا کہ وہ حضرات اپنے خواب گاہوں کی طرف واپس ہو کر مصروفِ خواب ہوئے اور اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں وفات دیدی، بادشاہ نے سال کے صندوق میں ان کے اَجساد کو محفوظ کیا اور اللّٰہ تعالیٰ نے رُعب سے ان کی حفاظت فرمائی کہ کسی کی مجال نہیں کہ وہاں پہنچ سکے ۔ بادشاہ نے سرِغار مسجد بنانے کا حکم دیا اور ایک خوشی کا دن معین کردیا کہ ہر سال لوگ عید کی طرح وہاں آیا کریں ۔

06/04/2025

مجھے بھی کوئی دیکھ کر کہتا ہو گا
کاش یہ مل جائے اور کچھ نہیں چاہیے

05/04/2025

واحد اللّٰہ کا در ہے
جہاں بغیر بلاوے کے بھی چلے
جاؤ تو شرمندگی نہیں ہوتی
بلکہ سکون ملتا ہے

05/04/2025

ہو سکتا ہے وہ اللّٰہ کے زیادہ قریب ہو!

اگر کوئی آپ سے کہے کہ کیا پتہ یہ بے پردہ عورت اس باحجاب خاتون کی نسبت اللّٰہ کے زیادہ قریب ہو، تو آپ کہیں کہ *"ہمارے ذمے یہ نہیں لگایا گیا کہ ہم جانچیں اللّٰہ کے زیادہ قریب کون ہے۔ ہمیں تو نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا کہا گیا ہے۔

" یاد رکھیں ایسی بات کرنے والے امر بالمعروف ونھی عن المنکر کے فریضے کو ساقط اور گناہ کو جواز بخشنا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ اگر وہ واقعی اللّٰہ کے قریب ہوتے، تو اللّٰہ کے حکم پر اتنا چیں بہ جبیں نہ ہوتے۔

04/04/2025

کیا ہم بدنصیب ہیں ؟

حضور نبی کریم ﷺ کے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے
کچھ دعائیں کی جن پر نبی کریم ﷺ نے آمین کہا دعا کرنے والے افضل الملائکہ اور آمین کہنے والے سردار الانبیاء کوئی شک ہے دعا قبول ہونے میں ان میں ایک دعا یہ تھی کہ اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے
محبت سے درود پاک پڑھیں یہ واحد عبادت ہے جو ہر حال میں قبول ہوتی ہی ہوتی ہے ایک منٹ میں پڑھ سکتے ہیں کم ازکم تین دفعہ پڑھ دیں
دعاگو ایڈمن
اللّٰہ سے توبہ کیجئے ♥️💯

04/04/2025

خدا سے ملاقات کا حوالہ شائد ایسا نہ ہو جیسے بتایا جاتا ہے! شاید سوال صرف یہ نہ ہو ۔ کہ زندگی کیسے گزاری بلکہ خدا یہ بھی تو پوچھ سکتا ہے؟

کہ تم پر زندگی کیسے گزری ؟

04/04/2025

Eid Mubarik My Family🌸

جن لوگوں کے ماں، باپ، بہن، بھائی یا پیارے اس دنیا سے چلے گئے ہیں، یا جو آج کے دن اداس ہیں، ان سب کے ساتھ ہماری گہری ہمدردی ہے۔ زندگی ایک سفر ہے، اور ہر کسی نے ایک نہ ایک دن جانا ہے، اس لیے پریشان نہ ہوں۔ آج کا دن خوشی سے گزارنے کی کوشش کریں، اچھا کھائیں اور مسکرائیں۔ آپ اکیلے نہیں، ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔

*آج عید پر میں نے نئے کپڑے نہیں پہنے، کیونکہ میری ہمدردی آپ سب کے ساتھ ہے، اور ان فلسطینی بچوں کے ساتھ بھی جنہیں شاید کفن بھی نصیب نہیں ہوتا۔

*آپ سب سے گزارش ہے کہ اپنے آس پاس جو بھی اداس یا پریشان ہو، اس کا حوصلہ بنیں، اسے خوش کرنے کی کوشش کریں، اور پریشان نہ ہونے دیں۔ یہی اصل انسانیت ہے۔

Address

Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al Kahf Rohani Center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share