31/08/2026
سرد موسم میں بھی بزرگ نے وضو کیا ہوگا، نماز ادا کی ہوگی، اور اب اس تصویر میں قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے نظر آ رہے ہیں۔
پرانے وقتوں میں بستیوں کے اندر پڑھے لکھے لوگ بہت کم ہوتے تھے، لیکن بزرگوں کی کوشش ہوتی تھی کہ کم از کم انہیں قرآنِ مجید دیکھ کر پڑھنا ضرور آ جائے۔ اسی لیے وہ مسجد میں بنیادی دینی تعلیم حاصل کرتے تھے۔
ان کے دل میں یہ یقین ہوتا تھا کہ قرآن کے بغیر زندگی کا گزارا نہیں، اسی میں برکت ہے، اسی میں ہدایت ہے اور اسی میں دل کا سکون ہے۔
بزرگ صبح کی نماز کے بعد قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے، پھر اپنے روزمرہ کے کاموں میں مشغول ہو جاتے۔ قرآن ان کی زندگی کا معمول تھا، محض ایک رسم نہیں۔
اگر کبھی کسی دن تلاوت رہ جاتی تو سارا دن خود کو ملامت کرتے کہ آج قرآن نہیں پڑھ سکا۔
لیکن آج ذرا اپنے معاشرے پر نظر ڈالیں۔
بزرگوں کے بعد ہم نے قرآنِ مجید کی تلاوت کو اپنی زندگی کے معمول سے نکال دیا ہے۔ چند لوگ ہی ایسے ہیں جو باقاعدگی سے قرآن پڑھتے ہیں، ورنہ مسجد میں جائیں تو نوجوان کم اور بزرگ زیادہ نظر آتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ ہمارے بزرگ قرآن کیوں پڑھتے تھے، سوال یہ ہے کہ ہم نے قرآن پڑھنا کیوں چھوڑ دیا؟
ہم موبائل کے لیے وقت نکال لیتے ہیں، سوشل میڈیا کے لیے وقت نکال لیتے ہیں، لیکن اپنے رب کے کلام کے لیے چند منٹ بھی مشکل ہو گئے ہیں۔
آئیے، آج سے دوبارہ قرآن کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
روزانہ چند آیات ہی سہی، مگر قرآن سے تعلق نہ ٹوٹنے دیں۔
قرآن صرف پڑھنے کی کتاب نہیں، زندگی سنوارنے کی کتاب ہے۔ 🤍📖