Ilm Ki ROSHNi -MY

Ilm Ki ROSHNi -MY Peace for all by MUHAMMAD P. B. U. H

26/04/2026

اکثر لوگ کہتے ہیں جس کے پاس پیسہ ہے لوگ اسی کو بیٹی دیتے ہیں شادی کے لئے اور اسلام کے مطابق حلال کمائے اسے کوئی پوچھتا تک نہیں ۔
اسکی وجہ کیوں آج لڑکیاں کنواری گھروں میں بیٹھی اور عمر زیادہ ہو گئی ہے وجہ؟؟؟

About Mother. . . .
04/02/2025

About Mother. . . .

19/01/2025

Subhan allah

18/01/2025

القرآن - سورۃ نمبر 1 الفاتحة
آیت نمبر 7

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

صِرَاطَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ ۙ غَيۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا الضَّآلِّيۡنَ  ۞

لفظی ترجمہ:
صِرَاطَ : راستہ | الَّذِينَ : ان لوگوں کا | أَنْعَمْتَ : تونے انعام کیا | عَلَيْهِمْ : ان پر | غَيْرِ : نہ | الْمَغْضُوبِ : غضب کیا گیا | عَلَيْهِمْ : ان پر | وَلَا : اور نہ | الضَّالِّينَ : جو گمراہ ہوئے

ترجمہ:
ان لوگوں کے راستے کی جن پر تو نے انعام کیا نہ کہ ان لوگوں کے راستے کی جن پر غضب نازل ہوا ہے اور نہ ان کے راستے کی جو بھٹکے ہوئے ہیں۔ ؏

31/01/2023

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًا(5)فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا(6)وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا(7)ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا(8)ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًا(9)

ترجمۂ کنز العرفان

عرض کی: اے میرے رب!بیشک میں نے اپنی قوم کو رات دن دعوت دی۔تو میرے بلانے سے ان کے بھاگنے میں ہی اضافہ ہوا۔اوربیشک میں نے جتنی بار انہیں بلایاتا کہ توانہیں بخش دے توانہوں نے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ڈال لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے اوروہ ڈٹ گئے اور بڑا تکبر کیا۔پھر یقینا میں نے انہیں بلند آواز سے دعوت دی۔پھر یقینا میں نے ان سے اعلانیہ بھی کہا اور آہستہ خفیہ بھی کہا۔

تفسیر صراط الجنان

{ قَالَ رَبِّ: عرض کی: اے میرے رب!۔} یہاں سے حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف سے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کی گئی مُناجات بیان فرمائی گئی ہیں چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی چار آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم تک اللّٰہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا اوراس چیز سے ڈرایا جس سے ڈرانے کا اللّٰہ تعالیٰ نے حکم دیا تھاتو قوم نے ان کی بات نہ مانی اور حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے جو احکامات لے کر آئے تھے انہیں رد کر دیا،اس پر حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی: ’’اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، (تو جانتا ہے کہ) میں نے اپنی قوم کو رات دن تیری توحید اور تیری عبادت کی طرف بلایا،تیرے عذاب اور تیری قدرت سے ڈرایا لیکن (ان کے طبعی فتور کی بنا پر) میرے بلانے سے ان کے بھاگنے میں ہی اضافہ ہوا اور جتنی انہیں ایمان لانے کی ترغیب دی گئی اُتنی ہی اِن کی سرکشی بڑھتی گئی اور میں نے جتنی بار انہیں تیری وحدانیَّت کا اقرار کرنے، تیرے احکامات پر عمل کرنے اور تیرے علاوہ تمام معبودوں سے براء ت کا اظہار کرنے کی طرف بلایاتا کہ توانہیں بخش دے توانہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں تاکہ میری دعوت کو سن نہ سکیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے اور منہ چُھپالئے تاکہ مجھے دیکھ نہ سکیں کیونکہ انہیں اللّٰہ تعالیٰ کے دین کی طرف نصیحت کرنے والے کو دیکھنا بھی گوارا نہ تھا اور وہ اپنے شرک و کفر پر ڈٹ گئے اور بڑا تکبُّر کیا اور میری دعوت کو قبول کرنا اپنی شان کے خلاف جانا۔ پھر میں نے انہیں محفلوں میں ا س طرف بلند آواز سے ا علانیہ بلایا جس طرف بلانے کا تو نے مجھے حکم دیاتھا، پھر میں نے ان سے اعلانیہ بھی کہا اور اعلانیہ دعوت دینے کی تکرار بھی کی اور ایک ایک سے آہستہ اور خفیہ بھی کہا اور دعوت دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔( تفسیر طبری ، نوح ، تحت الآیۃ : ۵-۹ ، ۱۲ / ۲۴۷-۲۴۸، مدارک، نوح، تحت الآیۃ: ۵-۹، ص۱۲۸۳، خازن، نوح، تحت الآیۃ: ۵-۹، ۴ / ۳۱۲، ملتقطاً)

09/10/2022

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ(7)

ترجمۂ کنز الایمان

اے ایمان والو اگر تم دینِ خدا کی مدد کرو گے اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمادے گا۔

تفسیر صراط الجنان

{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ: اے ایمان والو! اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا۔} ارشاد فرمایا کہ اے ایمان والو!اگر تم اللہ تعالیٰ کے دین اور ا س کے پیارے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مدد کرو گے تو اللہ تعالیٰ دشمنوں کے مقابلے میں تمہاری مدد کرے گا اورتمہیں فتح وکامرانی نصیب فرمائے گا اور تمہیں میدانِ جنگ میں اور دینِ اسلام اورپُلِ صراط پر ثابت قدمی عطافرمائے گا۔( خازن، محمد، تحت الآیۃ: ۷، ۴ / ۱۳۵، مدارک، محمد، تحت الآیۃ: ۷، ص۱۱۳۴، ملتقطاً)

اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرنے کی7 صورتیں :

اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرنے کی بہت سی صورتیں ہیں ،ان میں سے 7صورتیں درج ذیل ہیں ۔

(1)…اللہ تعالیٰ کے دین کو غالب کرنے کیلئے دین کے دشمنوں کے ساتھ زبان،قلم اور تلوار سے جہاد کرنا۔

(2)… دین کے دلائل کو واضح کرنا،ان پر ہونے والے شبہات کو زائل کرنا،دین کے احکام ،فرائض،سُنَن،حلال اور حرام کی شرح بیان کرنا۔

(3)…نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا۔

(4)…دین ِاسلام کی تبلیغ و اشاعت میں کوشش اور جدو جہدکرنا۔

(5)…وہ قابل اور مستندعلماء جنہوں نے اپنی زندگیاں دین کی ترویج و اشاعت کے لئے وقف کی ہوئی ہیں ، ان کے نیک مقاصد میں ان کا ساتھ دینا۔

(6)…نیک اور جائز کاموں میں اپنا مال خرچ کرنا۔

(7)…علماء اور مبلغین کی مالی خیر خواہی کر کے انہیں دین کی خدمت کے لئے فارغ البال بنانا۔

نوٹ:ان سات صورتوں کے علاوہ اور بھی بہت سی صورتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرنے میں داخل ہیں ۔

بندوں سے مددمانگناشرک نہیں :

یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ غنی اور بے نیاز ہے ،اسے نہ بندوں کی مدد کی حاجت ہے اور نہ ہی وہ اپنے دین کی ترویج و اشاعت اور اسے غالب کرنے میں بندوں کی مدد کا محتاج ہے ،یہاں جوبندوں کو اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرنے کا فرمایا گیا یہ در اصل ان کے اپنے ہی فائدے کے لئے ہے کہ اس صورت میں انہیں اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہو گی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں ثابت قدمی نصیب ہو گی۔یہاں اسی حوالے سے مزید دو باتیں ملاحظہ ہوں ،

(1)… اللہ تعالیٰ کے دین کی مددخالص اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے کی جائے اس میں کوئی دنیاوی مقصد پیش نظرنہ ہو۔

(2)…اس آیت سے معلوم ہواکہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کی مد د لینا شرک نہیں ، کیونکہ جب بندوں کی مدد سے غنی اور بے نیاز رب تعالیٰ نے بندوں کو اپنے دین کی مدد کرنے کا فرما یا ہے تو عام بندے کا کسی سے مدد طلب کرنا کیوں شرک ہوگا؟

14/08/2022

وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ(1)الَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ(2)وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَ(3)اَلَا یَظُنُّ اُولٰٓىٕكَ اَنَّهُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ(4)لِیَوْمٍ عَظِیْمٍ(5)یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(6)

ترجمۂ کنز العرفان

کم تولنے والوں کے لئے خرابی ہے۔وہ لوگ کہ جب دوسرے لوگوں سے ناپ لیں توپورا وصول کریں ۔اور جب انہیں ناپ یا تول کردیں توکم کردیں ۔کیا یہ لوگ یقین نہیں رکھتے کہ انہیں (دوبارہ زندہ کر کے)اٹھایا جائے گا ۔ایک عظمت والے دن کے لیے۔جس دن سب لوگ رَبُّ العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے۔

تفسیر صراط الجنان

{وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ: کم تولنے والوں کے لئے خرابی ہے۔} جب رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی مدینہ منورہ میں تشریف آوری ہوئی تو اس وقت یہاں کے لوگوں کا حال یہ تھا کہ وہ ناپ تول میں خیانت کرتے تھے اور خاص طور پر ابوجُہَینہ ایک ایسا شخص تھا جس نے چیزیں لینے اور دینے کے لئے دو جدا جدا پیمانے رکھے ہوئے تھے ۔ان لوگوں کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں اور اس آیت اور ا س کے بعد والی5آیات میں فرمایا گیا کہ کم تولنے والوں کیلئے خرابی ہے اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جب دوسرے لوگوں سے ناپ لیں توپورا وصول کریں اور جب انہیں ناپ یا تول کردیں توکم کردیں ،کیا جو لوگ یہ کام کرتے ہیں وہ یقین نہیں رکھتے کہ انہیں ایک عظمت والے دن کے لیے اٹھایا جائے گا اوراس دن ان سے ذرے ذرے کا حساب کیا جائے گا،اگر انہیں اٹھائے جانے کا یقین ہوتا تو ناپ تول میں کمی کرنے سے باز رہتے اور عظمت والا دن وہ ہے جس دن سب لوگ اپنی قبروں سے نکل کر ربُّ العالَمین کے حضور حساب اور جزاء کے لئے کھڑے ہوں گے۔( خازن، المطفّفین، تحت الآیۃ: ۱-۶، ۴ / ۳۵۹-۳۶۰، مدارک، المطفّفین، تحت الآیۃ: ۱-۶، ص۱۳۲۹، ملتقطاً)

ناپ ،تول صحیح رکھنے کا فائدہ اور نہ رکھنے کا نقصان:

یاد رہے کہ ناپ تول ایک انتہائی اہم معاملہ ہے کیونکہ تقریباً تمام لوگوں کو اَشیاء بیچنے اور خریدنے سے واسطہ پڑتا ہے اور زیادہ تر چیزوں کا بیچنا اور خریدنا انہیں ناپنے اور تولنے پر ہی مَبنی ہے، اسی لئے اللّٰہ تعالیٰ نے اس کام کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’وَ السَّمَآءَ رَفَعَهَا وَ وَضَعَ الْمِیْزَانَۙ(۷) اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ(۸) وَ اَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ‘‘(الرحمٰن:۷۔۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور آسمان کو اللّٰہ نے بلند کیا اور ترازو رکھی۔ کہ تولنے میں نا انصافی نہ کرو۔اور انصاف کے ساتھ تول قائم کرو اور وزن نہ گھٹاؤ۔

اور ارشاد فرمایا: ’’لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ‘‘(حدید:۲۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور عدل کی ترازو اتاری تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں ۔

اور صحیح ناپنے تولنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا‘‘(بنی اسرائیل:۳۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب ماپ کرو تو پورا ماپ کرو اور بالکل صحیح ترازو سے وزن کرو ۔یہ بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے اچھا ہے۔

صحیح ناپنے اور تولنے کا انجام دنیا میں بھی بہتر ہوتا ہے کہ اس سے لوگوں کا اعتبار قائم رہتا ہے، تجارت میں خوب اضافہ ہوتا ہے اور رزق میں برکت ہوتی ہے اور آخرت میں بھی یقینا بہتر ہو گا کہ اِس حوالے سے لوگوں کا اُس پر کوئی حق نہیں ہوگا اور یوں لوگ اپناحق طلب کرنے کے لئے اسے نہیں پکڑیں گے ،یہ حرام رزق کھانے اور کھلانے کے عذاب سے بچ جائے گا اور ا س کے نیک اعمال محفوظ رہیں گے اور جو لوگ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں ان کے لئے زیرِ تفسیر آیات میں سخت وعید ہے اور ایسے لوگوں کے لئے درج ذیل حکایت میں بھی بڑی عبرت ہے،چنانچہ

حضرت مالک بن دینار رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’ میں اپنے ایک پڑوسی کے پاس اس کے انتقال کے وقت گیا تو ا س نے مجھے دیکھ کر کہا: ’’اے مالک بن دینار! رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ، اس وقت مجھے اپنے سامنے آگ کے دو پہاڑ نظر آ رہے ہیں اور مجھ سے کہا جا رہا ہے کہ ان پہاڑوں پر چڑھو لیکن ان پر چڑھنا میرے لئے دشوار ہے۔میں نے اس کے گھر والوں سے اس کے بارے میں پوچھا تو ان لوگوں نے بتایا کہ اس کے پاس غلہ ناپنے کے دو پیمانے ہیں ، ایک سے غلہ ناپ کر لیتا تھا اور دوسرے سے غلہ ناپ کر دیتا تھا۔حضرت مالک بن دینا ر رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’میں نے ان دونوں پیمانوں کو منگوایا اور انہیں ایک دوسرے پر رکھ کر توڑ دیا ،پھر میں نے اس شخص سے پوچھا کہ اب تمہارا کیا حال ہے؟اس نے جواب دیا میرے ساتھ ویسا ہی معاملہ ہے بلکہ اب پہلے سے زیادہ خراب ہو گیا ہے۔( منہاج العابدین،العقبۃ الخامسۃ، اصول سلوک طریق الخوف والرجاء، الاصل الثالث، ص۱۶۶)

اللّٰہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو صحیح ناپنے اور تولنے کی توفیق عطا فرمائے۔

{اَلَّذِیْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَى النَّاسِ یَسْتَوْفُوْنَ: وہ لوگ کہ جب دوسرے لوگوں سے ناپ لیں توپورا وصول کریں ۔} یہ ایک اَخلاقی تنبیہ ہے کہ جب یہ خود لیتے ہیں تو پورا وصول کرتے ہیں لیکن دوسروں کو دیتے ہوئے ڈنڈی مارتے ہیں جبکہ صحیح انسان وہ ہے جو دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرے جو اپنے ساتھ دوسرے کا چاہتاہے۔حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔(بخاری، کتاب الایمان، باب من الایمان ان یحبّ لاخیہ ما یحبّ لنفسہ، ۱ / ۱۶، الحدیث: ۱۳)

{وَ اِذَا كَالُوْهُمْ اَوْ وَّ زَنُوْهُمْ یُخْسِرُوْنَ: اور جب انہیں ناپ یا تول کردیں توکم کردیں ۔} ناپ تول میں کمی کرنے کی تمام صورتیں ا س آیت میں داخل ہیں جیسے کپڑا ناپتے وقت لچک دار کپڑے کو کھینچ کر ناپنا،الاسٹک کو کھینچ کر ناپنا،باٹ کم رکھنا، باٹ تو پورا ہو لیکن تولنے میں ڈنڈی مار دینا، چیز کو زور سے ترازو میں رکھ کر فوراً اٹھا لینا،ترازو کے پلڑوں میں فرق رکھنا،ترازو کے جس حصے میں باٹ رکھے جاتے ہیں ا س کے نیچے کوئی چیز لگا دینا ،وزن کرنے کے الیکٹرونک آلات کی سیٹنگ میں یا میٹر میں تبدیلی کر کے کم تول کے دینا وغیرہ۔

{یَوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ: جس دن سب لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے۔} یعنی جس دن سب لوگ اپنے اعمال کے حساب اور ان کی جز اکے لئے رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے اس دن ان لوگوں کا ناپ تول میں کمی کرنا اور ان کی جزا ظاہر ہو جائے گی۔( جلالین، المطفّفین، تحت الآیۃ: ۶، ص۴۹۳، روح البیان، المطفّفین، تحت الآیۃ: ۶، ۱۰ / ۳۶۵، ملتقطاً)

ربُّ العالَمین کی بارگاہ میں کھڑے ہوتے وقت لوگوں کا حال:

قیامت کے دن جب لوگ اپنی اپنی قبروں سے نکلیں گے اور حشر کے میدان میں جمع ہوں گے ،پھر اپنے اعمال کے حساب و کتاب اور ان کی جزاء کے لئے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے تو اس وقت ان کا حال کیا ہو گا،اس سے متعلق درج ذیل3اَحادیث ملاحظہ ہوں ،

(1)… حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ بشیر نام کا ایک آدمی نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی بارگاہ میں بیٹھا کرتا تھا،ایک مرتبہ وہ تین دن بعد بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تو حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ا س کی بدلی ہوئی رنگت دیکھ کر ارشاد فرمایا’’اے بشیر! تیرا رنگ کیسے تبدیل ہو گیا؟اس نے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، میں نے ایک اونٹ خریدا تھا، وہ مجھ سے بھاگ گیا تو میں تین دن تک اس کی تلاش میں لگا رہا اور میں نے ا س کے بارے میں کوئی شرط بھی نہیں رکھی تھی۔حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بھاگے ہوئے اونٹ کو تو واپس لوٹایا جا سکتا ہے،کیا اس کے علاوہ کسی اور چیز نے تیرا رنگ تو نہیں بدلا؟اس نے عرض کی :نہیں ۔ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ (آج تین دن تک اونٹ تلاش کرنے کی وجہ سے تیرا یہ حال ہو گیا ہے) تو اس دن تیرا کیا حال ہو گا جس کی مقدار 50,000سال ہے اور اس دن سب لوگ ربُّ العالَمین کے حضور کھڑے ہوں گے۔( کنز العمال، کتاب البیوع، قسم الافعال، الرّد بالعیب، ۲ / ۶۳، الجزء الرابع، الحدیث: ۹۹۵۰)

(2)…حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جس دن تمام انسان پروردگارِ عالَم کے حضور کھڑے ہوں گے تو کوئی اس حال تک پہنچا ہوا ہو گا کہ کانوں کی لَو تک اپنے پسینے میں غرق ہو گا۔(بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ ویل للمطفّفین، باب یوم یقوم الناس۔۔۔ الخ، ۳ / ۳۷۴، الحدیث: ۴۹۳۸)

(3)…حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کی:مجھے خبر دیجئے کہ قیامت کے اس دن کھڑے ہونے پر کون قدرت رکھے گا جس کے بارے میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا کہ ’’یَوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جس دن سب لوگ رب العالمین کےحضور کھڑے ہوں گے۔

رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ وہ دن مومن پر ہلکا کردیا جائے گا حتّٰی کہ اس پر ایک فرض نماز کی طرح ہوجائے گا ۔( مشکاۃ المصابیح ، کتاب احوال القیامۃ و بدء الخلق ، باب الحساب و القصاص والمیزان، الفصل الثالث، ۲ / ۳۱۷، الحدیث: ۵۵۶۳)

اللّٰہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو قیامت کے دن کی شدّتوں اور حساب کی سختیوں سے پناہ مانگنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

13/08/2022

ان آ نکھوں نے جو دیکھا ہے اس کی آ نکھوں میں
وہ چاہتا ہے کہ میرا ہر شاہین رضوی بن جائے
یاسر علی یاسر

Address

K
Karachi
92

Telephone

+923014639141

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ilm Ki ROSHNi -MY posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Place Of Worship

Send a message to Ilm Ki ROSHNi -MY:

Share